Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31

ایسا ہے تمہارے بابا نے مجھے منع کردیا ہے ۔۔مہر بانو پریشان سی بولی ۔۔
آپ کو کیا ہے نہ مجھے تو نہیں میں بات کرونگی ابھی اور اسی وقت نیک کام میں دیر نہیں ہونی چاہیے ۔۔گل جاناں چہکتے باہر کی جانب بھاگی ۔۔۔
اور غزنوی سے کہہ دیا ۔اسے حیرت زدہ کردیا ۔۔
اس نہج پر تو میں نے سوچا ہی نہیں ۔۔۔ایسا بالکل ممکن ہے ۔مجھے تلافی کے ساتھ میری محبت بھی واپس مل جائے گی ۔۔جیو گل جاناں ۔۔میں آج ہی امو اور بابا سے بات کرتا ہوں ۔۔۔غزنوی خوشی سے بھرپور بولا۔۔
امو کو چھوڑیں وہ راضی ہیں ۔۔بس بابا سے بات کریں ۔۔۔گل جاناں نے اتنے عرصے بعد بھائ کے چہرے پر خوشی دیکھی تو دل کو یہ منظر بے حدبھایا اس لیے ماں کی رضامندی بھی بتادی ۔۔۔لیکن بابا کی بات نہیں ۔۔
____________________________۔
شجاع کی شہادت کو کئ روز گزر گئے سب زندگی کی طرف گامزن ہوئے مگر لاروش رک گئ ۔۔نہ کھاتی نہ پیتی نہ ہی بچے کی طرف دھیان دیتی نہ ہی کسی سے بات کرتی ۔۔اگر کوئ بات کرنا چاہے تو چیخ چیخ کر رونا شروع کردیتی ۔۔۔یا پھر بس سر لیپٹے رونا رہتا یا گم سم رہنا ۔۔۔۔۔شجاع کے ساتھ گزارے چند دن کی یادوں میں کھوئے رہنا ۔۔۔
جاو لیلی لاروش کو لاونج میں ہی لے آو ۔۔آج پاس کے گاوں کی کچھ خواتین اپنے گھریلو مسائل لیکر آئیں گی ۔۔۔ان کو سمجھانا آسان ہے اپنے گھر کے فرد کو کیسے سمجھائیں کچھ کھا بھی نہیں رہی ۔۔۔۔۔بیگم اکبر افسردہ ہوئ ۔۔۔
ام کہتا ہے لاروش بی بی کو ڈاکٹر کو دکھاو ۔۔۔کچھ نہیں کھاتا ڈاکٹر وہ شربت دیگا جس سے بھوک بڑھے گا تو لاروش بی بی کھانا کھائے گا ۔۔لیلی نے مشورہ دینے کے بعد غور سے دیکھا تو بیگم اکبر تیوریاں چڑھائیں گھورنے میں مصروف ہیں ۔۔لیلی گڑ بڑائ ۔۔ معافی دے دو پتہ نہیں کیابولا ام نے ۔۔۔
معافی تو میں دونگی مشورہ ٹھیک دیا لیکن۔لیلی اپنا تی تا صحیح کرلو ۔ بیگم اکبر نے غصے سے کہا ۔۔
ویسے تو مسائل کے لیے حویلی کے ایک حصے کو مخصوص کردیا تھا ۔۔مگر لاروش کی وجہ سے چند دنوں سے تو بیٹھک نہیں ہوئ ۔۔لیکن اب برابر گاوں کی خواتین نے آنا چاہا تو مہر بانو منع نہ کرسکی ۔۔اور حویلی کے لاونج میں ہی بلالیا ۔۔
ایک کرکے خواتین اپنا مسئلہ کہتی گئ اور کبھی گل زریں تو کبھی بیگم اکبر مشورہ دیتی ۔۔لاروش بس خاموشی سے سنتی رہی ۔۔لیلی بڑی مشکلوں سے لاروش کو اس کے حجرے سے لانے میں کامیاب ہوئ ۔۔۔
وجاہت کو جائیداد کے لیے کچھ پیپرز پر لاروش کے سائن چاہیے تھے ۔ان پیپرز میں بچے کا برتھ سرٹیفیکٹ کی تیاری کا پیپرز تھا ۔۔وجاہت لاونج میں آیا تو موجود خواتین نے اپنے چہرے ڈھانپ لیے ۔۔
مما مجھے لاروش کے سائنز چاہیے ۔۔وجاہت اتنی خواتین کو دیکھ کے جھجکا ۔۔۔
ہاں بیٹا لے لو ۔۔مما نے اجازت دی ۔۔لیلی نے ایک خالی کرسی لاروش کے برابر میں رکھی ۔۔۔لاروش شال میں مکمل چھپی تھی بس چہرہ ہی ظاہر تھا ۔۔۔
لاروش چندا ان پیپرز پر سائن کرو ۔۔۔سوچوں میں گم لاروش جانی پہچانی آواز پر چونکی ۔۔۔۔
وہاں موجود خواتین بھی حیرت سے ماجرہ تکنے لگی ۔۔
جی لالہ ۔۔خاموشی سے جہاں جہاں بولے پیپرز پر سائن کرتے ایک جگہ رکی ۔۔اور سوالیہ نظر اٹھائ. ۔جو پوچھ رہی ہیں یہ کیا ہے ۔۔۔
وجاہت نظروں کو مفہوم سمجھ کر بولا ۔۔
زارون شجاع ۔۔شادان نے یہ نام رکھا ہے ۔۔ وجاہت نے مسکراتے کہا ۔۔
کیوں لالہ نے رکھا ۔۔میرے شجاع نام بتا گئے ہیں ۔۔یوشع وہی رکھیں۔۔دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر رونے لگی ۔۔۔
ہائے ہائے بیبی اپنی بییٹی کو سنبھالو ۔۔عدت میں بیٹھاو ۔۔نامحرم سے بات کر رہی ہے ۔۔۔گاوں سے آئ ایک خاتون جو بہت دیر سے دیکھ رہی تھیں سارا لحاظ ایک طرف کیے بول پڑی ۔۔
ہاں دیکھو کتنی بے حیائ ہے ۔۔شوہر کے مرنے کے بعد مردوں کے سامنے نہیں آتے ۔۔۔دوسری بھی بولی پھر تیسری بھی
گل زریں اور بیگم اکبر خواتین کو بھانت بھانت کی بولیاں سن کر گھبرائ ۔۔
وجاہت نے سب ناگواری سے سنا ۔۔کچھ بولنا چاہتا تھا لیکن پھر بیگم اکبر کے اشارے پر رکا ۔۔۔
لاروش سب سنتی خاموش آنسو بہانے لگی ۔۔
کیا شور ہورہا ہے ۔۔زاور آفریدی نے بھی سب سنا اور پھر زور سے دھاڑا ۔۔۔
زاور جی بیٹی کو عدت کرانی چاہیے ۔۔۔پہلی خاتون نے ہمت کرکے کہا ۔۔۔
آپ بتائیں گی یا میں بتاو ۔۔۔رہنے دیں میں بتاتا ہوں ۔۔
آپ میں سے پہلے کوئ یہ بتائے عدت کیاہے ۔۔زاور نے گل زریں سے کہہ کر خود ہی جواب دینے کا فیصلہ کیا
لوگوں سے چھپ کر رہنا ۔۔۔ایک بزرگ خاتون نے جواب دیا ۔۔۔
کافی حد تک ٹھیک کہا لیکن میں تفصیل سے بتاتا ہوں تاکہ کوئ ابہام نہ رہے عدت کے معنی شمار کرنے کے ہیں ۔شریعت میں عدت اسے کہتے ہیں جسمیں شوہر کی موت ۔۔طلاق یا خلع کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان جدائ ہونے پر عورت پر کچھ شرعی پابندیاں لاحق ہوجاتی ہیں ۔۔۔عورت کے لیے عدت واجب ہے ۔۔۔
قرآن کریم میں اللّہ پاک فرماتا ہے ۔۔۔
اور تم سے جو فوت ہوجائیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جائیں تو بیویاں اپنے آپ کو چارماہ دس دن انتظار میں روکے رکھیں ۔۔پھر جب وہ اپنی عدت پوری ہونے کو آ پہنچیں تو پھر جو کچھ شرعی دستور کے مطابق اپنے حق میں کریں تو تم پر اس معاملے میں کوئ موءخذہ نہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو اللّہ اس سے اچھی طرح خبردار ہے ۔۔۔سورة البقرہ ۔۔234
جیسا کے شوہر کے مرنے کے بعد اس سورة میں واضح عدت کا شمار بتایا ہے ۔۔عدت کی حدود طلاق یافتہ اور بیوہ کی الگ الگ ہے ۔۔۔اگر طلاق یافتہ اور بیوہ حاملہ ہوں تو ایک ہی عدت کا حدود کا تعین ہے ۔۔۔
پھر ارشاد ربانی ہے کہ
اور حاملہ عورتیں تو ان کی عدت ان کا وضع حمل ہے اور جو شخص اللّہ سے ڈرتا ہے تو اللّہ اس کے کام میں آسانی فرماتا ہے ۔۔۔سوةالطلاق 6
اس آیت کا واضح مطلب ہے ۔۔بیوہ ہو یا طلاق یافتہ اگر حاملہ عورت ہے تو اس کی عدت تب تک کی ہے جب تک بچہ دنیا میں نہیں آجاتا چاہے شوہر کے مرنے کے دوسرے دن ہو یا آٹھ ماہ ہو ۔۔۔
اور لاروش کی عدت بچے کی پیدائش کی وجہ سے اختتام ہوگئ ہے ۔۔اور میری بچی کہاں سے بے حیا دیکھ رہی ہے یہ دس گز کی چادر لپٹے اجڑے حال میں تو ہے ۔۔اور یہ بچہ اس کا چچا کا بیٹا اور جیٹھ ہے ۔۔اکیلے میں نہیں سب کے سامنے بات کررہا ہے ۔۔آپ خواتین تہمت لگانے سے پرہیز کیا کرے فورا جاہلانہ الزام تراشی شروع کردیتی ہیں ۔۔۔زاور اپنی بات مکمل کرکے جانے کے لیے پلٹے ہی تھے بزرگ عورت کی بات پر پھر قدم رکے ۔۔
معافی چاہتے ہیں عدت کا بارے میں زیادہ نہیں جانتے ۔۔اور بچی آپ کی جوان ہے دوسری شادی کردیں ۔۔اسلام نے اسکی اجازت دی ہوگی ۔۔اس بچے سے ہی کردیں ۔۔۔۔
خواتین کے لیے شربت لاتی یسری کے ہاتھ سے کانچ کے گلاس گر گئے ۔۔۔۔
وجاہت کو جھٹکا لگا ۔۔زاور اور گل زریں کو بزرگ خاتون کی بات سے نئ راہ ملی ۔۔یہ خیال تو آیا ہی نہیں ابھی تک ۔۔آتا بھی کیسے دن ہی کتنے ہوئے ۔۔۔
بیگم اکبر کے دل کو یہ بات خوب بھائ ۔۔ایسا اکثر ہوتا ہے ۔۔اس میں کوئ ہرج نہیں ۔۔وجاہت بچے کو باپ کاپیار دے سکتا ہے ۔۔۔۔
لاروش کا دل چاہا اس بات پر خاتون کا منہ نوچ لے اسے دھکے دے کر باہر نکال دے ۔۔غصے سے بھڑکی ۔۔
کیا بکواس کررہی ہیں آپ اگر میں خاموش ہوں تو الٹا سیدھا بولتی جائیں گی ۔۔
میں نے کیا غلط بولا ۔۔آگے نہ جانے کتنی زندگی ہو ۔۔کیا ساری عمر ماں باپ کے پلو سے باندھی رہوگی ۔۔ بزرگ خاتون نے بھی فورا جواب دیا ۔۔۔
لاروش چلو اوپر جاو ۔۔زاور نے کہا صرف کہا ہی نہیں اپنے حصار میں لیے چلے ۔۔جبکے باقی سب خواتین سے معذرت کرکے رخصت کیا ۔۔
ایک نئ سوچ زاور آفریدی کی حویلی میں پھیل گئ ۔۔۔
بیگم اکبر نے اکبر سے بات کی ان کو بھی ٹھیک لگی ۔۔آفریدی سے بات کرنے سے پہلے وجاہت سے بات کرنے کا سوچا پھر وجاہت کو بلالیا
پپا آپ گاوں آکر گاوں کے رنگ میں رنگ گئے ۔۔لیکن میں یسری کے ساتھ نانصافی نہیں کرسکتا ۔۔
ہاں ماں باپ کی نافرمانی کرسکتے ہو ۔۔ دل چاہ رہا ہے کس کس کے دو تھپڑ لگاوں لیکن بات منوانی ہے اسلیے صبر سےکام لینا ہوگا ۔۔بیگم اکبر نے دل میں سوچا اور اداسی سے شکوہ کیا ۔
ابھی میں شجاع کو حکم دیتی کوئ فورا مان لیتا ۔۔شجاع کی بات کرتے بیگم اکبر رونے لگی ۔۔
وجاہت پست ہوا ۔۔مما آپ مجھے کوئ اور حکم دیں لیں میں مانوں گا مگر دوسری شادی یہ ظلم ہے ۔۔لاروش میری بہن جیسی ہے ۔میں نے اسے ہمیشہ بہن سمجھا ہے ۔۔اگر میں لاروش کو بہن نہیں سمجھتا تو پہلا حق میرا ہی تھا ۔۔شجاع نہ کرتا ۔۔۔۔
سوچوں بیٹا اگر لاروش کی شادی باہر ہوجاتی ہے تو وہ ہمارے شجاع کی نشانی لے جائے گی ۔۔میری ممتا تڑپ جائے گی ۔۔بیگم اکبر نے ایک اور مسئلہ رکھا ۔۔
مما ہم بچہ نہیں لے جانے دیں گے میں پالونگا ۔۔۔وجاہت نے تسلی دی
بہت اچھا ۔۔میں اپنی ممتاکے سکون کے لیے دوسری ممتا کو ترسا دوں ۔۔مجھ کو اتنا ظالم سمجھا ہے۔۔۔بیگم اکبر رونا بھول اب غصہ ہوئ۔۔
چپ کرو تم دونو۔۔تمہاری ماں کا فیصلہ ٹھیک ہے تم انوکھے ہر گز نہیں ہو جو بھائ کی بیوی سے شادی کروگے ۔۔ہم پٹھانوں کی غیرت گورا نہیں کرتی اپنی بیوہ کو رلنے دیں ۔۔۔تم بھی اچھے سے سب سمجھ لو ۔۔۔یوشع کے لیے ہی سہی یہ شادی لازمی ہوگی ۔۔اکبر نے قطعیت سے کہا ۔۔۔
وجاہت چپ ہوگیا ۔۔۔
دیکھ میں تیرے آگے ہاتھ جوڑ رہی ہوں مان جا ۔۔۔
اور ماں کے جوڑے ہاتھ وہ کام کرگئے جو وجاہت مر کر بھی کبھی نہ کرتا ۔۔۔
ٹھیک میں راضی ہوں لاروش سے پوچھ لیں ۔۔۔وجاہت ہتھیار ڈالتا باہر چلا گیا ۔۔۔
شکر ایک مرحلہ سر ہوا ۔۔اکبر نے طمانیت سے کہا ۔۔
آپ کب بات کریں گے بیگم اکبر بولی ۔۔
ابھی لاروش کو سنبھلنے دو ۔۔پھر بات کرتے ہیں ۔۔۔۔
تین ماہ پورے ہوگئے ۔۔
لاروش کی حالت جوں کی توں رہی ۔۔ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئ ۔۔نماز کی پابندی شروع کردی ۔۔اور شجاع کی یاد میں رہنا مرکز بنا لیا ۔۔دل ہوتا تو یوشع کو سنبھال لیتی ۔۔اور کبھی بالکل نظرانداز کردیتی ۔۔۔
لاروش کا دل آج پھر بے چین ہے ۔۔۔
اب کیوں بے چین ہو ،چلا تو گیا میرا دل ۔۔۔لاروش نے دل کوڈپٹا ۔۔
پھر بے چینی کا راز کھلا ۔۔۔۔
ہم لاروش کی شادی وجاہت سے کرنا چاہتے ہیں ۔اکبر صاحب نے سب کی موجودگی میں رشتہ ڈالا ۔۔۔
شادان نے حیرت سے دیکھا اور بولا چچا جان ۔۔
وجاہت تو شادی شدہ ہے ۔
تو کیا ہوا تم بھول رہے ہو لاروش بھی بیوہ ہے ۔۔اکبر نے تلخ کہا
شادان چپ ہوا اس حقیقت کو تو وہ لمحے بھر فراموش کر گیا ۔۔
ہاں دوار نے بھی لاروش کی حالت کو دیکھتے شادی کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔۔اور اپنے بیٹے کا رشتہ دیا ۔۔
شادان کو جھٹکا لگا ۔۔۔
کیا وہ تو عمر میں لاروش سے ایک سال چھوٹا ہے ۔۔
اس بار زاور نے گھورا ۔۔۔
برخودار باہر رہ کر بھول گئے ہو سب کیا ۔۔۔شادی کے لیے بالغ ہونا ضروری ہے عمر کا فرق معنی نہیں رکھتا ۔۔۔اور اب دو رشتہ ہوگئے ہیں جو بھی بہتر ہو فیصلہ کرلو ۔۔ہمیں قبول ہے اکبر نے کہا ۔۔
صاحب باہر شمروزاورنگ زئ آئے ہیں ۔۔۔ملازم نے بتایا ۔
ہوں بیٹھک میں بیٹھاو ۔۔۔زاور نے کہا ۔۔
صاحب خواتین بھی ہیں ۔۔۔ملازم نے پھر کہا
خواتین ہیں یہی لے آو ۔۔۔۔زاور نے حویلی کے اندر ہی بلالیا ۔۔
شمروز اور بہروز اور ان کی بیگمات نے ملازم کی معیت میں ڈرائنگ روم میں قدم رکھا جہاں پہلے سے ہی لاروش کے سوا سب ہی موجودتھے ۔۔سلام دعا اور افسوس کے بعد چند لمحے خاموشی رہی ۔۔۔
بھائ صاحب ہم آپ سے کچھ مانگنے آئے ہیں ۔۔۔
جی اگر بس میں ہوا تو ضرور دیں گے زاور آفریدی نے مہمان نوازی نبھاتے مروت و لحاظ سے کہا ۔۔
اپنے بیٹے غزنوی کے لیے لاروش کا ساتھ مانگنے آئیں ہیں ۔۔
شمروز کی بات سے کچھ دیر خاموشی چھا گئ ۔۔
زاور کو بالکل اندازہ نہ تھا شمروز اس مقصد سے آئے ہونگے ۔۔۔
شمروز نے ہی چھائ خاموشی کو توڑا ۔۔۔۔آپ جانتے ہیں غزنوی کو ۔۔آپ بہت بدل گیا۔۔۔لاروش سے محبت کرتا ہے ۔۔۔
کیا کہہ رہے ہیں آپ لاروش میرے بیٹے کی بیوی ہے ۔۔آپ کا بیٹااس سے کیسے محبت کرسکتا ہے ۔۔۔بیگم اکبر محبت کی بات برداشت نہ کرسکی ۔بیچ میں ہی شمروز کی بات کاٹ دی ۔۔۔
گل زریں اور زاور کے چہرے فق ہوئے ۔۔جو راز بیگم اکبر اور وجاہت سے چھپا تھا کیا آپ سامنےآجائے گا ۔۔کرب سے زاور نے آنکھ بندکی ۔۔دل ہی دل میں رب کو پکارا ۔۔۔
مہر بانو کو بیگم اکبر کے تیور سے لگا انہیں لاروش کا ماضی نہیں بتایا ۔۔۔جھٹ خود مداخلت کی اور بات سنبھالی ۔۔۔
بہن برا نہ مانیے گا ۔۔۔دراصل یونی ورسٹی میں میرے بیٹے کو آپ کی بہو پسند آئ ہم جب رشتہ لائے تو پتہ چلا زاور صاحب نے آپ کے بیٹے سے بات پکی کردی ۔۔تو ہم مایوس ہوگئے۔۔۔۔میرے بیٹے نے دھمکی دے دی تھی کہ وہ لاروش کو اغواہ کرکے شادی کرے گا ۔۔اس پہلے وہ کچھ غلط کرتا لاروش کی شادی شجاع بیٹے سے ہوئ ۔۔
گل زریں نے مشکور نظروں سے مہر بانو کو دیکھا ۔۔
اکبر اور زاور نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔۔
اس بات پر مہر بانو کو یاد آیا ۔۔شجاع نے شادی کی جلدی کیوں مچائ ۔۔۔
ممامجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا آپ کے بنا شادی کرنا ۔۔میں انتظار کرلیتا ۔آپ جانتی ہیں مجھے لاروش سے محبت ہے مگر مجھے ڈر ہے مما کوئ لاروش کو مجھ سے چھین نہ لے ۔۔۔شجاع نے اداسی سے مما کو بتایا ۔۔۔بھلے فون پر شجاع دکھائ نہ دیا ۔۔لیکن اس کے آواز سے معاملے کی سنگینی آرام سے جانچی جا سکتی ہے ۔۔۔
اللّہ نہ کرے تمہارا سکون کوئ چھینے ۔۔تمہارا ڈر میرا ڈر ہے ۔۔اور بالکل میں اپنا ڈر دور کرونگی ۔۔۔۔میری فکر نہ کرو ان شاء اللّہ ولیمہ میں شرکت کرونگی ۔۔دھوم دھام سے ولیمہ کریں گے ۔۔
بہت شکریہ میری جنت ان شاء اللّہ ہفتہ کو آپ کی بہو کے ساتھ حاضر ہونگا ۔۔۔ماں کی اجازت ملتے ہی لہجہ میں سکون اترا ۔۔۔شجاع کی یاد سے آنکھ نم ہوئ ۔۔۔
زاور تو نہ کچھ بول سکے اکبر نے کہا
سوچ سمجھ کر جواب دیں گے بیٹی کا معاملہ ہے ۔۔مہمان نوازی کے بعدرخصت ہوئے ۔۔
لاروش سے بات کرنے کی ذمہ داری شادان اور زاور نے لی ۔۔پہلے شادان نے بات کی ۔۔اور اسی رات بات کی ۔۔
لالہ مجھ پر ظلم نہ کریں میں شجاع کے بنا نہیں رہ سکتی ۔۔۔
یہ ظلم نہیں ہے ۔۔اور شجاع کہاں ہے ۔۔اگر وہ ہوتا تو میں ایسی بات ہی نہ ہوتی ۔۔۔شادان تاسف سے بولا ۔۔
میری یادوں میں زندہ ہیں ۔۔ان کی یادیں میرا قیمتی سرمایہ ہیں میں ان یادوں کے ساتھ خوش ہوں ۔۔اور آپ کو شرم آنی چاہیے میرے شجاع کو گئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں جو آپ مجھے بے وفائ پر اکسا رہے ہیں ۔۔۔۔اگر آپ کو بوجھ لگتی ہوں تو میں یہ حویلی چھوڑ کر چلی جاتی ہوں ۔۔منتیں کرتے آخر میں دھمکی دی ۔۔
دو تھپڑ لگاوں گا اگر فضول باتیں کیں ۔۔یہ حویلی مجھ سے زیادہ تمہاری ہے۔۔۔۔الٹی سیدھی بات نہ کرو۔۔۔تم حالت دیکھو اپنی نہ زندہ مردہ جیسی تو کیفیت ہے آئے دن تمہیں ہوسپٹل لے جانا پڑتا ہے ۔دھیان بٹانا ضروری ہے تمہارا ، زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں ۔۔۔۔
یہی تو زندگی کا بھروسہ نہیں ہوسکتا ہے میں اگلے ماہ ہی مر جاو۔۔مجھے شجاع کی ہی بیوہ رہنے دیں ۔میرے دھیان باٹنے کی کوئ ضرورت نہیں جایے آپ یہاں سے ۔۔پلیز لالہ ۔۔سسک کر خوب روئ ۔۔۔شادان کے لاکھ سمجھانے پر بھی نہ مانی۔۔اور روتے بے ہوش ہوئ ۔۔۔
دو دن بعد زاور نے بات کرنے کی ٹھانی ۔۔ان دو دنوں میں لاروش کی حالت اور بد تر ہوئ ۔۔۔کھانے کا ایک نوالہ منہ میں نہ ڈالا ۔۔
میری جان کیا کررہی ہے ۔۔زاور آفریدی لاروش کے کمرے میں کھانا لائے ۔۔ آج تو میں تمہارے ساتھ ہی لنچ کرونگا ۔۔
بابا مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔لاروش نے اٹھ کر آہستگی سے کہا
اوہ اب کیا ہوگا مجھے تو سخت بھوک لگی ہے اور باقی سب نے کھانا کھالیا ۔۔اس کا مطلب ہے اب مجھے بھوکا رہنا پڑے گا ۔۔زاور نے مصنوعی افسردگی دکھائ ۔۔۔
لاروش کو سمجھ تو آگئ بابا اسے کھانا کھلانا چاہتے ہیں جب ہی یہاں لائے ۔۔
چلیں کھاتے ہیں آپ بھوکے نہیں رہیں گے
ہلکی پھلکی باتوں میں کھانا کھایا ۔۔کھانے کے بعد آفریدی نے گھوما پھرا کر بات کرنے کے بجائے براہ راست بات کی ۔۔
لاروش تم میرا مان ہو ۔۔اور میری فرمانبردار بچی ہو ۔۔اس لیے میں نے تمہارے لیے ایک فیصلہ لیا ہے ۔۔تمہاری شادی کا ۔۔۔
لاروش کا چہرہ لھٹے کی طرح سفید ہوا ۔۔اگر بابا نے فیصلہ کیا ہے تو عمل ہوکر ہی رہے گا ۔۔اور اسے قربان ہونا پڑے گا ۔۔۔۔۔
کچھ دیر توقف کے بعد پھر بولے ۔۔بیٹا یوشع کو باپ کی شفقت کی ضرورت ہے ۔۔۔تین رشتے ہیں ۔۔وجاہت کا ۔۔۔کبیر کا اور غزنوی شمروز کا
دو ناموں پر تو کچھ ریکشن نہ دیا لیکن غزنوی کا سن کر چونک گئ ۔۔۔
بتاو کس کے لیے ہاں کریں تم ان تینوں میں سے جس کو بھی کہو گی ہم ہاں کردے گے ۔۔تین دن ہے تمہارے پاس سوچ لو ۔۔اگر منع کیا تو میرا مرا ہوا چہرہ دیکھو گی ۔۔میں تم کو ساری زندگی اکیلا نہیں دیکھ سکتا ۔ایک نظر بلکتی لاروش پرڈالی سر پر ہاتھ رکھ کمرے سے باہر نکلے بے دردی سے خود اپنی آنکھیں رگڑی جو آنسو بہانا شروع ہوچکی ہیں ۔۔کتنا کھٹن مرحلہ لگتا ہے لاڈلی بیٹی کا رونا ۔۔۔رونا بھی اس چیز کے لیے جو بس سے باہر ہوچکی ہو ۔۔۔نہ خواہش پوری کرسکنے کی لاچاری دل کو بے بس کردیتی ہے ۔۔۔۔
ہر باپ کی طرح لاروش کی بچپن سے ہر جائز اور ناجائز آرزو پوری کی ۔۔غزنوی کیے دیے دکھ کو شجاع کے ذریعے کم کیا ۔۔اب شجاع کا دکھ کیسا پورا کریں ۔۔۔لاڈلی کا رونا بے حال انداز چیخ چیخ کر کہتا کچھ بھی کرلو بابا ۔۔۔میں اب خوش نہیں رہ سکتی ۔۔۔
نڈھال قدموں سے اپنے کمرے میں آکر بند ہوگئے ۔۔۔
ادھر دوسرے کمرے میں لاروش کی ہچکیاں بند گئ ۔۔کیوں چلے گئے شجاع ۔۔۔میرا کیوں نہ سوچا ۔۔۔۔۔۔۔۔ہچکی لیتی شجاع کی تصویر سے فریاد کی ۔۔۔۔۔
دوسرا دن بھی سوچ کر رو کر گزر گیا ۔۔رات میں شجاع کی تصویر سے بتاتے کرتے کرتے خیال آگیا کیسے جان چھڑاو ۔۔۔
شادان کو بلایا ۔۔۔میں نے سوچ لیا ۔۔۔۔۔وجاہت میرے لیے شادان لالہ آپ جیسے ہیں ۔۔اور کبیر عمر میں مجھ سے چھوٹا ہے ۔۔اس کے اپنے کچھ سپنے اور پسند ہوگی ۔۔۔وہ صرف سمجھوتہ کرے گا ۔۔آپ چاہیں گے آپ کی بہن سمجھوتہ کرے ۔۔
ہر گز نہیں میں تم کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔شادان نے بھی قطعیت سے کہا ۔۔۔
تو میں خوش ہوں ۔۔پکا میں وقت پر کھاونگی پیونگی ۔۔میں گاوں کی لڑکیوں کو پڑھاونگی ۔۔۔شادی ضروری نہیں ہے ۔۔
تم نہیں سمجھو گی ۔۔لاروش ابھی تم تئیس سال کی ہو کم عمر ابھی شجاع کا غم ہے اس لیے نامناسب لگ رہا ہے ۔۔۔میری نظر میں وجاہت بیسٹ ہے ۔۔وہ تمہارا خیال رکھے گا ۔سب سے بڑھ کر یوشع کے لیے وہ باپ ہوگا ۔۔۔اس کے بھائ کا خون ہے وہ خیال رکھے گا ۔۔
کیا واقعی اس کے بھائ کا خون ہے وہ ۔۔۔لاروش نے طنز کیا ۔
شادان چپ ہوا ۔۔۔پھر بولا
تو جس کا خون ہے اس کا بھی تو رشتہ آیا ہے ۔۔وہ تم سے محبت کا دعویدار بھی ہے ۔۔جہاں محبتیں ہوں وہاں سمجھوتے میں بھی خوشی و راحت ہوتی ہے ۔۔
ہوں ٹھیک ہے پھر میں غزنوی سے شادی کرونگی ۔۔۔۔لیکن اس کو میری بات ماننا پڑے گی ۔۔مجھے ایسے شخص سے شادی نہیں کرنی جو کبھی بھی مکافات عمل سے گزر سکتا ہے ۔۔غزنوی نے جو گناہ کیا ہے اس کی سزا پائے ۔۔
بہت خوب ۔۔اس کا یہ مطلب ہوا تم کو شادی نہیں کرنی ۔۔۔شادان نے غزنوی کے لیے حامی بھرتی شرط پر کلس کر کہا ۔۔
میں نے آپ کو بتا دیا ۔۔۔باقی آپ کی اور اس کی مرضی ۔۔۔۔
شادان نے زاور آفریدی اور اکبر آفریدی کو لاروش کا پیغام دے دیا ۔۔
میں کہتی ہوں اس کی مرضی نہ پوچھیں زبردستی وجاہت سے کردیں وہ یہی ہماری آنکھوں کے سامنے رہے گی ۔۔۔شادان کی بات سن کر گل زریں بولی
نہیں ہم زبردستی نہیں کرسکتے ۔۔حدیث پاک میں ہے ۔۔۔کنواری کا نکاح نہ کرو جب تک کہ اس کی رضامندی نہ لے لو ۔۔اور بیوہ کا نکاح نہ کرو جب تک اس سے اجازت نہ لے لو ۔.
تو میں جبر نہیں کرسکتا ۔۔لیکن باپ کی حیثیت سے حکم دے آیا ۔۔۔اگر مان لیتی تو احسان ہوتا ۔۔۔
میرے خیال سے ابھی چنددن رک جاتے ہیں ۔۔شمروز کو منع کردو ۔۔
وہ ہمارے لیے کیوں اپنے بیٹے کی بدنامی کروائیں ۔۔کون اپنا عیب دوسرے کو دیکھاتا ہے اور زنا کی سزا تو کھلے عام دی جاتی ہے ۔۔۔ویسے بھی وہ بچہ اب نیک ہوگیا ہے ۔۔ ہمارے درد کا مداوا اللّہ نے شجاع کے روپ میں کردیا تھا ۔اس لیے اب سزا نہیں بنتی ۔۔
لیکن بابا لاروش نے اسے ابھی تک معاف نہیں کیا اور میں نے بھی ۔۔شادان نے مداخلت کی ۔۔
ٹھیک کہتے ہو ۔۔میں کوشش کرتا ہوں لاروش معاف کردے ۔۔زاور نے شادان کی بات پر سر ہلایا ۔۔۔
کرہی نہ دے اس نے ہی تو سزا کا کہا ہے ۔۔گل زریں مرجھائ ۔۔۔
میں فون کردوں ۔۔خوامخواہ میں کیوں کسی کو آس میں رکھیں ۔۔۔زاور نے بات کرنے کے لیے کال کی ۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *