Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18

اسلام علیکم ۔۔۔کیسی ہو ۔۔محبت سے پوچھا
وعلیکم السلام ۔۔میں ٹھیک ہوں ۔۔آپ نے تو کہا تھا ایک مہینے میں آجاونگا ۔۔شجاع کی کال پر لاروش نے شکوہ کیا ۔۔۔
ہمم کیا کروں ملازمت پیشہ بندہ ہو ۔۔ میری کہاں چلتی ہے ۔۔۔
کیوں نہیں چلتی مطلب جب افسر نے کہہ دیا ایک ماہ بعد پوسٹنگ ہوگی تو ایک ماہ بعد ہی ہونی چاہیے نہ ۔۔۔لاروش نے حجت کی ۔۔۔
اوکے میں اپنے افسر سے کہونگا میری مسسز مجھے مس کررہی ہے ۔ پلیز جانے دیں ۔۔۔
نہیں تو ۔میں مس تو نہیں کررہی ۔۔۔لاروش سٹپٹائ ۔۔۔
تھوڑا سا بھی نہیں کررہی ۔۔شجاع نے مایوسانہ لہجہ اختیار کیا ۔۔۔
ہاں تھوڑا سا کر رہی ہوں۔۔لاروش کو شجاع کی مایوسی اچھی نہیں لگی فورا سچ بتایا ۔۔۔
ان شاء اللّہ وہ دن بھی آئیگا جب مجھے زیادہ مس کروگی ۔۔۔
جی۔۔۔اللّہ نہ کرے ۔۔بے ساختہ بولی
کیا مطلب تم مجھے کبھی مس نہیں کروگی شجاع حیران ہوا اور تاسف سے بولا ۔۔پل بھر میں مسرت سے چہکتا لہجہ، چہرہ مد ہم ہوا
نہیں میرا مطلب ہے کہ ہم ساتھ رہیں گے ان شاء اللّہ ۔۔جب ساتھ رہیں گے تو مس کرنے کا وقت کیوں ہوگا ۔لاروش نے جلدی صفائ دی کہیں بدگمانی جگہ نہ لے ۔۔۔
لاروش کے جواب پر اطمینان کی لہر رگ و پے میں سمائ ۔۔شجاع کا دل ملنے کو بے چین ہوا ذرا سا بھی صبر کرنا مشکل لگا
مجھے مورے سے بات کرنی ہے ذرا ان سے بات کرواو ۔۔
۔۔جی میں انکے پاس جاتی ہوں ۔۔آپ یہ بتائیے کب تک آرہے ہیں۔
جب تم دل سے بلاو آجاونگا ۔۔
آجائیں دل سے کہہ رہی ہوں ۔۔۔کہتے ہی دروازہ کھولا ۔۔
تم نے پکارا میں آگیا ۔۔۔
فون کے بجائے سامنے کھڑے شجاع نے لاروش کو کہا ۔۔
آپ ۔۔۔لاروش خوش ہوئ بے ساختہ آگے بڑھی ۔۔جھجک کر رک گئ۔۔
کیا ہوا مسسز آپ کا شوہر ہوں ۔۔گلے مل سکتی ہیں یار ۔۔۔گلے ملنے ہاتھ ملانے میں کوئ ہرج نہیں شجاع لاروش کی جھجک سمجھ گیا تھا ۔۔گل زریں سے فون پر بات ہوئ تھی انھوں نے اپنی اور لاروش کی گفتگو ڈھکے چھپے لفظوں میں بیان کردی تھی ۔۔
گلے ملیں گے تو طلب بڑھے گی ۔۔۔لاروش نے جھجک سے کہہ دیا ۔۔
بات ٹھیک ہے لیکن مجھے خود پر بھروسہ ہے ۔۔اور اپنی ملکیت ہے اس لیے آسانی سے انتظار ہوجائے گا اس اطمینان سے کہ تم میرے پاس ہو ۔خیر احتیاط بھی اچھی چیز ہے ۔۔چلو صرف ہاتھ ہی ملا لو ۔۔ لاروش نے شرماتے ہاتھ ملا یا ۔۔۔
شجاع کی پوسٹنگ ایبٹ آباد میں ہوئ ۔۔۔تین دن پشاور میں رہ کر ایبٹ آباد روانہ ہوگئے ۔۔۔بیگم اکبر اب چلنے پھرنے لگی تھیں ۔۔۔
________________________________۔
غزنوی تو ریپیسٹ ظاہر کرکے بے ہوش ہوگیا اور حشمت کو فکر میں مبتلا کر گیا ۔۔۔غزنوی کی حالت چیخ چیخ کر اعلان کر رہی تھی کہ وہ پشیمان ہے ۔۔لیکن کیا وہ دل سے حقیقی پشیمان ہے یا وقتی کیفیت ہے ۔۔یہ سمجھنا ہے ۔
سارا دن حشمت اور مینزہ مختلف کاموں میں مصروف رہ کر بھی شجاع کی بات میں الجھے رہے ۔۔۔سردیوں کے دن شروع ہوچکے تھے ۔۔ایسے میں غزنوی کو صحن میں رکھنا اس کی طبیعت مزید خراب کرنے کے مترادف تھا ۔۔۔
انسانیت کے خاطر اپنی رحمدلانہ طبیعت کے باعث غزنوی کو اندر کمرے میں شفٹ کردیا ۔۔چھوٹا کمرہ نفاست سے چند مختصر چیزوں سے سجا اچھا لگ رہا تھا دو کھڑکیاں ایک دروازے کی جانب تو دوسری دوسرے کمرے میں کھلتی ہے حشمت نے دو پلنگ لگا دیے ایک غزنوی دوسرا خود کا ۔۔۔۔۔
غزنوی اس انتظار میں تھا کب اسے اس گھر سے نکالیں ۔۔دوپہر سے شام اور شام سے رات ہوگئ ۔۔حشمت خاموشی سے دونوں ٹائم کی دوائ دے کر چلے گئے ۔۔۔
ام ٹینڈے گوشت نہیں کھاونگا۔۔۔
شیریں نے ناراضگی سے پلیٹ کھسکائ ۔۔
تم ٹینڈے گوشت میں سے ٹینڈے نکال کر کھاو اور تمیز کے دائرے میں سالن ڈالنا ۔۔اور آئندہ پلیٹ کھسکانے کی بد تمیزی نہیں کرنا ۔۔۔رزق کی بے حرمتی ہوتی ہے خوش قسمت ہو اچھا کھانا سکون سے بیٹھی کھا رہی ہو ۔۔بعض ایسے ہوتے ہیں جنہے گوشت کھائے عرصہ ہوجاتا ہے یا ایک وقت کھاتے ہیں دوسرے وقت بھوکے رہتے ہیں ۔تمہارے نخرے ختم نہیں ہوتے ۔جواباً مینزہ نے ناراضگی سے بولا
شیریں بنا ء جواب دیے کھانا شروع ہوگئ ۔۔۔
بابا دلیہ پک گیا ۔۔۔آپ دیں آئیں پھر کھانا آپ بھی کھائیں ۔۔
تھوڑی دیر بعد دینا ابھی اس کا دل نہیں ہے میں نے پوچھا تھا تم کھاو میں اس کے ساتھ کھالونگا ۔۔۔
جی ۔۔۔مینزہ نے بلند آواز سے بسم اللّہ الرحمن الرحیم پڑھ کر کھانا شروع کیا ۔۔۔
ام تو پڑھنا بھول گیا ۔۔شیریں نے سن کر کہا ۔۔۔چاولوں سے بھرا ہاتھ اپنے سر پر مارے ۔۔۔
آخر میں یاد سے پڑھ لینا ۔۔اکثر بے دھیانی میں بھول ہو جاتی ہے۔مینزہ نے اس بار نرمی سے کہا ۔۔۔لیکن شریں کے کھانے کے انداز اور منہ سے آتی آواز پر چہرے کی نرمی کرختگی میں بدلی ۔۔غصہ سے شیریں کے ہاتھ پر خالی گلاس مارا ۔۔۔
یہ کیا بد تہزیبی ہے ۔۔گیارہ سال کی ہوگئ ۔۔لیکن حرکتیں تین سال کے چھوٹے بچےجیسی ہیں ۔ اتنی بدتمیزی سے وہ بچہ بھی نہیں کھاتا جیسے تم کھا رہی ہو ۔۔ہمارا مذہب ۔۔۔
بس باجی جب دیکھو امارہ مذہب کی باتیں شروع کردیتی ہو ۔۔۔شیریں نے اپنا ہاتھ سہلایا بیچ میں ہی بات روکی بڑی بہن کا لحاظ کیے بنا جواب دیا ۔۔۔
اچھا نہیں کہتی ہمارا مذہب ۔۔مذہب کے نام سے اتنا چڑنے لگی ہو ۔۔انسان پیدا ہوگئے مگر انسان بننا نہیں ہے پتہ ہےدین اسلام کی باتیں سنے گے عمل کریں تو بہترین انسان بن جائیں گے ۔۔لیکن سننا ہی نہیں ہے جانور ہی ٹھیک ہیں ۔۔مینزہ کو غصہ آگیا مگر پھر تحمل سے بولی ۔۔مذہب رہنے دیتے ہیں معاشرتی بعد کرلیتے ہیں ٹھیک ہے ۔۔اگر ابھی اس طرح کسی محفل یا کسی کے گھر کھاوگی تو یہی سننے کو ملے گا شیریں کتنی ندیدی بھوکی ہے ایسے کھارہی تھی جیسے زندگی میں پہلی بار کھارہی ہو ۔۔ لگتا ہے اس کے گھر میں کبھی اچھا کھانا نہیں پکا جب ہی ایسے کھارہی تھی ، منہ سے آوازیں ایسے نکل رہی ہیں جیسے مشین چبارہی ہو ۔۔نوالے تو دیکھو اللّہ توبہ منہ سے بھی بڑے توبہ توبہ کوئ تمیز نہیں ۔۔چر چر چر کی آواز سے تو میرے سر میں درد ہوگیا میں تو کبھی اس کے ساتھ بیٹھ کر نہیں کھاونگی ۔۔
شیریں کا چہرہ فق ہوگیا ۔۔۔اتنی بے عزتی ہوگی ۔۔تصور میں دیکھا تو جھرجھری کے ساتھ رونا آگیا ۔۔۔
لیکن مینزہ نے بس نہ کیا۔۔
اگر سائنس پر زیادہ بھروسہ ہے تو سائنس کی بھی سن لو تمیز سے چبا چبا کر کھانے سے انسانی جسم میں ایسے خلیات پیدا ہوتے ہیں جو مختلف امراض کو ختم کرنے اور ان سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں ۔۔
اور چبا چبا کر کھانے سے نظام ہاضمہ بھی درست ہوتا ہےاور وزن بھی کم ہوتا ہے ۔۔۔یہ جو تم اتنی موٹی بھینس ہورہی ہو کون کہے گا گیارہ سال کی ہو. ۔اپنی عمر سے دوگنی لگتی ہو ۔۔
کافی دیر سے خاموش بیٹھے حشمت نے شیریں کی روہانسی ہوتی شکل دیکھ کر معاملہ رفع دفع کرنا چاہا ۔۔۔
بس کرو مینزہ وہ سمجھ گئ آئندہ تمیز سے کھائے گی۔۔۔
بابا یہ جو آپ اپنے بڑھاپے کی اولاد کی بے جا حمایت کرتے ہیں بڑا غلط کرتے ہیں ۔۔سن لیں میں نے اسے میٹرک کے بعد فوج میں بہیج دینا ہے ۔۔اور ڈسپلن جب ہی اس کی زندگی میں آئے گا ۔۔۔
کھڑکھی سے آتی آوازوں سے غزنوی بیزار ہورہا تھا ۔۔مگر بڑھاپے کی اولاد سے ایک بھولی سی مسکراہٹ آئ اور چلی گئ ۔۔
بابا جھینپ گئے ۔ بس کردو اور کیا بڑھاپا ۔۔میں ابھی جوان ہوں ۔۔حشمت نے شرارت سے کہا ۔۔۔
جی جوان ہیں میں کب کہہ رہی ہوں آپ بڈھے ہوگئے ۔۔مینزہ نے اپنا تھوڑی دیر قبل دیا بیان بدلہ ۔۔۔
ہیں ابھی تم نے شیریں کی بات پر کہا بڑھاپے کی اولاد ۔۔حشمت صاحب نے فوراً تصیح کی ۔۔
وہ تو سب کہتے ہیں اس لیے میں نے بھی کہہ دیا ۔۔۔لیکن آپ بات نہیں بدلے سمجھائیں اسے اپنے اطوار بدلے بہن کی باتیں تو دشمن کی باتیں لگتی ہیں ۔۔اسلام کی بھی نہیں سننی ۔۔۔جب کے اسلام تو ہمیں معاشرے میں رہنے کے واضح ڈھنگ سیکھاتا ہے ۔۔جو بات سائنس اب کہہ رہی ہے اسلام ہمیں پہلے ہی سیکھا چکا ہے ۔۔
آپا واقعی سب ایسے ہی کہتے ہونگے ۔۔۔شیریں نے بےعزتی کے خوف سے پوچھا ۔۔۔
ہاں اگر جنگلیوں کی طرح کھاوگی تو ایسے ہی بات کرتے ہیں سب کو چھوڑو ۔۔پچھلے ہفتے عقیقے کی تقریب میں انیسہ جلدی جلدی پلیٹیں بھر کر لا اور کھارہی تھی تو اس کے گھر جانے کے بعد سب نے کتنا مزاق اڑایا تھا ۔۔میرے سمجھانے پر بھی مذاق اڑاتے رہے ۔۔۔ابھی اس طرح جب گھر میں کھاوگی تو عادت ہوجائے گی محفلوں میں بھی پھر ایسے ہی کھاوگی بہتر ہے آپ گھر میں ہی تمیز سے کھائیں ۔۔اور رہ گئ مذاق کی تو تم کوسوچ کر شرمندگی بے عزتی اور برا لگ رہا ہے تو سوچوں جن کا مذاق سامنے اور پیچھے اڑاتے ہیں جب ان کو پتہ چلتا ہوگا تو کتنی دل آزاری ہوتی ہوگی ۔۔۔مینزہ نے پیار سے سمجھایا ۔۔۔
ام کوشش کرونگا تمیز سے کھاوں ۔۔عقیقہ کی تقریب میں اماری کسی دوست نے ام ساتھ کھانا نہیں کھایا جب ام کو پتہ نہیں تھا میں اتنا برا کھاتی ہوں ۔۔
حالانکہ میں تو تم کو کئ بار کھانا کھانے کے آداب سیکھا چکی ہو ۔۔تم عمل ہی نہیں کرتی ۔۔۔
پکا عمل کرونگی ام نہیں چاہتا کوئ ام کو نادیدہ اور بھکڑ کہے ۔۔۔شیریں نے جوش سے ارادہ کیا ۔۔کھانا پھر دونوں بہنوں نے سکون سے کھایا
شیریں شیریں جلدی آو میں نے آگ جلا لی ۔۔۔پڑوسن کے بلانے پر شیریں اس کے گھر چلی گئ
بابا آپ کھانے کا پوچھ لیں ۔۔۔شیریں کے جانے کے بعد بابا سے بولی
حشمت نے کھانے کا پوچھا تو دل اور بھوک نہ ہونے کے باوجود غزنوی نے کھانے کی حامی بھرلی ۔۔
جیسے ہی کھانا سامنے آیا ۔۔غزنوی نے بھی بسم اللّہ سے شروعات کی اور آرام سے کھانا کھایا ۔۔پہلے بھی تہزیب سے کھاتا تھا ۔۔۔۔
کھانے کے بعد قہوہ پیتے وقت حشمت نے غزنوی کو جانچا ۔۔
بیٹا ہمارے علاقے سے دور ایک گھر ہے جہاں ہر عمر کی عورت ہے ۔۔۔وہ مناسب پیسوں میں مل جاتی ہیں ۔۔اگر تم کو چاہیے تو بتا دینا میں لے جاونگا ۔۔مگر میرے گھر نقب زنی مت کرنا ۔۔۔
غزنوی تو حشمت کی بات سن کر طیش اور غم میں آگیا ۔۔۔
میں کوئ عادی نہیں ہوں عورتوں کا ،نفرت ہے مجھے ایسی عورتوں سے، آپ نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے ہاں بولیے بولیے ۔۔
میں یہ حرام کاری نہیں کرتا ٹھیک ہے میری لڑکیوں سے دوستی ہے مگر ایک لمٹ میں نے ہمیشہ رکھی ہے ۔۔۔جانتا ہوں گناہ ہے ۔۔
غزنوی غم وغصے میں اپنی صبح کی باتیں بھول چکا تھا ۔۔جب وہ باتیں کی تو اپنے آپے ہی میں نہ تھا ۔۔۔
تو پھر اس لڑکی کی عزت پر ڈاکہ کیوں ڈالا ۔۔مینزہ کھڑکھی کے پاس آکر بولی ۔۔۔
میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ۔۔غزنوی نے ایک نظر نقاب میں موجود مینزہ پر ڈالی ۔۔مزید بولا ۔۔میں تو محبت کرتا تھا مگر غصہ میں حیوان بن گیا ۔
اوہ تو محبت کے نام پر لوٹ لیا ۔۔تم جیسے نفس پرستوں کو چوک پر گولی مار دینی چاہیے ۔۔۔مینزہ چلائ ۔۔۔
نفس پرست نہیں ہوں میں ۔۔میرے پاس روپیہ پیسہ اسٹیٹس وجاہت اسٹائل سب ہیں میرے آگے پیچھے گھومتی ہیں ایک سے ایک لڑکیاں ۔۔۔مگر میں نے کبھی حد پار نہیں کی ۔۔۔غصے سے بھرپور تیز آواز میں بولا ۔۔حشمت نے بلند ہوتی آواز پر دروازہ بند کیا ۔۔تاکہ گھر سے باہر آواز نہ جائے ۔۔۔
ضدی ہوں گھمنڈی ہوں حاکمیت پسند ہوں ۔۔لیکن اتنا نہیں گرا بیٹیوں کی عزتوں سے کھیلوں میری بھی بیٹی ہے عزتوں کی حفاظت کرنی آتی ہے ۔۔مگر نہ جانے کیوں غصہ شدید آیا میرا سب کچھ بہا لے گیا ۔۔۔میری محبت ۔۔میرا اعتماد میری گڑ کی ڈلی ۔۔۔
شدید بے بسی سے غزنوی رو پڑا ۔کبھی بچپن میں بھی نہ رویا ۔۔ناکوں چنے چبوائے لوگوں کو مگر اب اپنی غلطی سے ضمیر کی چھبن اور اپنوں کی بے اعتبار نظریں بار بار رونے پر مجبور کررہی ہیں ۔۔۔
یہ سب تو جب سوچنا تھا نہ جب درندے بنے دوسرے کی خوشیوں کو گہن لگایا ۔۔۔
درندہ بنتے وقت کہاں ہوش رہتا ہے اگر ہوش ہی سلامت رہے تو درندہ کوئ نہیں بن سکتا ۔۔
رہنے دو تم مردوں کو درندہ بننے کے لیے ہوش کی ضرورت نہیں ۔۔۔با ہوش بھی درندے بنے دوسروں کی عزتوں سے کھلیتے ہو۔۔مینزہ نے طنز کیا ۔۔۔
مینزہ کے طنز پر غزنوی نے نم آنکھوں سے گھورا ۔۔
لگتا ہے تم کو بڑا تجربہ ہے ۔۔غزنوی نے جواباً طنز کیا ۔۔
غزنوی کی بات پر مینزہ کا چہرہ اترا ۔۔حواس جھنجھنائے ۔۔۔سارا قصور اس کا ہے ۔۔ممانی کی آواز کانوں میں گونجی ۔۔۔چہرے کا رنگ زرد ہونے لگا۔حشمت نے آگے بڑھ کر مینزہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا جو ماضی کے سفر میں جانے کو تھی ۔۔۔مینزہ بیٹا رات بہت ہوگئ آرام کرو ۔۔میں شریں کو بھی بلاتا ہوں ۔۔
مینزہ نے غضب ناک لال ہوتی آنکھوں سے غزنوی کو گھورا اور غصہ سے کھڑکھی کا پٹ زور سے بند کیا ۔۔۔چٹخنی بھی زور سے لگائ ۔
دروازے کی دھمک غزنوی کو کانوں میں دیر تک محسوس ہوئ ۔۔اپنے ایک بار غصہ میں کی گئ بات پر افسوس ہوا ۔۔کل معذرت کرلونگا سوچتا آنکھیں موند گیا ۔۔۔
__________
یار کیا ہوتا اگر ٹوئنز ہوتے ۔۔سچی مجھے بڑا شوق ہے ٹوئنز بے بیز کا ۔۔شجاع کار چلاتے افسوس سے بولا ۔۔۔ابھی اپنے دوست کی وائف سے لاروش کا چیک اپ اور الٹرا ساونڈ کروایا ۔۔ایک بچے کا سن کر شجاع کے ارمانوں پر اوس گری ۔۔۔
جی سنبھالنا مشکل ہوتے ہیں ۔۔لاروش شجاع کی افسردگی پر مسکرائ ۔۔
کوئ مشکل نہیں ہوتے ہم ملازمہ رکھ لیتے ۔۔اس کے باپ کی جیب اجازت نہیں دیتی تو کیا ہوا اس کے دادا کا بزنس کام آئے گا ۔۔
آپ اپنے بچوں کی آیا کی تنخواہ بابا سے لیں گے ۔۔۔لاروش حیران ہوئ ۔۔
تو اس کے دادا کے بزنس پر ان بچوں کے باپ کا حق ہے یار تیس پرسنٹ پارٹنر ہوں ۔۔تم فکر نہ کرو میری شہادت کے بعد بھی میرے بچوں کا مسقبل محفوظ ہے ۔۔ایک گھر میں نے بھی پشاور میں لے رکھا ہے ۔۔بچوں کے پڑھائ کے لیے اگر پشاور میں رہنا ہوا تو تم آرام سے رہ سکو ۔۔۔اور کوئ بھی پریشانی ہو تو ۔۔۔بات کرتے شجاع نے لاروش کی طرف دیکھا ۔۔۔جو منہ پر ہاتھ رکھے اپنے رونے کی آواز کو دبا رہی تھی ۔۔۔آنسو نے کافی دن بعد لاروش کی آنکھوں میں آنے کی خوشی منائ زارو قطار بہنے لگے ۔۔۔شجاع نے بوکھلا کر کار سائیڈ میں روکی ۔۔۔
ارے تم کیوں دریا بہا رہی ہو ۔۔مت ظلم کیا کرو ان آنکھوں پر شجاع نے کچھ نرمی کچھ برہمی سے بولا ۔۔۔
آپ شہا شہا سسکیوں کی وجہ سے جملہ پورا نکلا نہیں ۔۔
سر ہلاتے شجاع سمجھ گیا شہادت کہنا چاہ رہی ہے ۔۔
شہادت بول کر لاروش کی مشکل آسان کی ۔۔۔ساتھ ہی جوس کا ڈبہ پکڑایا اور ٹشو پیپر سے آنکھیں پونچھی ۔۔پہلے چپ کرو پھر بولو ۔۔۔
کیوں کہا شہادت اللّہ آپ کو میری عمر دے ۔۔لاروش نے شجاع کے ہاتھ سے ٹشو لیا آنسو پونچھتی نروٹھی بولی ۔۔۔۔۔
تمہاری عمر مجھے ملی تو اکیلا رہ کر میں نے کیا کرنا ہے خبردار آئندہ اس قسم کی دعا کی ۔۔اللّہ سب دعاوں کا سننے والا ہے اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ۔۔کیا مجھے عمر دیتے وقت یا پہلے یا پھر بعد میں اس کے خزانے ختم ہو جائے گے جو وہ تمہاری عمر مجھے عطا کردے گا ۔۔۔اللّہ کے خزانے نہ ختم ہونے والے ہیں ۔یہ ہم بندے ہی ہیں جو غلط گمان کرلیتے ہیں دعاوں میں اچھے الفاظ نہیں استمعال کرتے ۔۔خود ہی تصور کرلیتے ہیں اپنی عمر دیں گے تو اللّہ عمر بڑھائے گا ورنہ نہیں ۔۔۔یہ غلط سوچیں ٹھیک کرو۔۔۔دعا مانگنے کا سلیقہ سیکھو ۔اس کی رحمتوں کو خود پر تنگ نہ سمجھو وہ تو کہتا ہے مانگو دونگا ۔۔اتنا نواز دیا پھر بھی انسانوں کو یہ آفر دی مانگو جو مانگنا ہے ۔ ہم مانگتے نہیں ہیں ۔۔۔بعض کچھ ایسا بھی مانگ لیتے ہیں جو ہمارے حق میں اچھا نہ ہو ۔۔ہم۔اللّہ سے محبت کرے یا نہ کرے لیکن وہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے ۔ اس لیے وہ ہمیں وہ چیز نہیں دیتا جو ہمارے حق میں اچھی نہ ہو ،یا مل جانے کے بعد وہ چیز ہمیں دکھ دے نقصان پہنچائے ۔۔اللّہ نہیں چاہتا اس کا بندہ دکھ یا نقصان مانگیں ۔۔۔کبھی کسی ماں کو دیکھا ہے جب بچہ گھر کے پلگ میں بار بار اپنی انگلی ڈالنے لگتا ہے ماں اسے بار بار اسے اس حرکت سے روکتی ہے ۔۔کیوں روکتی ہے ؟بچہ تو اس حرکت سے خوش ہوتا ہے جب ہی بار بار وہاں بڑھتا ہے ۔۔چھوتا ہے ۔۔ماں کو چاہیے جانے دے یہ حرکت کرنے دے ۔لیکن ماں پھر بھی روکتی ہے ؟اس لیے اسے پتہ ہے ان پلگ میں کرنٹ ہے کرنٹ کا جھٹکا لگنے سے تکلیف ہوگی درد ہوگا ۔چند پل کے لیے اس بچہ کی ہستی ہل جائے گی ۔۔۔۔ خدانخواستہ موت بھی ہوسکتی ہے ۔۔یہ ایک ماں ہے ۔۔اور رب کریم ستر ماوں سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔۔ہم جھولی پھیلاتے گڑ گڑاتے ہیں ۔۔سجدے طویل کرتے ہیں ۔۔اس کے باوجود نہیں ملتا تو یقین رکھو وہ چیز کسی بھی طرح تمہارے لیے اچھی نہیں ،۔جب اللّہ سےمانگتے ہیں تو یقین بھی لازم رکھو کہ دینے والا بہترین دے گا ۔۔مل جائے تو خوب شکر کرو تاکہ برکت بھی ساتھ رہے ۔۔نہ ملے تو شکوہ نہ کرو ۔۔اس کا متبادل ملے گا جو تمہارے مانگے سے بہترین ہوگا ۔۔۔لاروش کی دعا پر شجاع کو غصہ آیا ۔۔اور پھر اس نے غصہ کرنے کے بجائے لاروش کو محبت سے سمجھایا ۔۔۔
آئندہ یہ دعا کرنا اللّہ مجھے بھی اور میرے شوہر کو بھی عافیت والی زندگی عطا فرما ۔۔۔آمین ۔۔شجاع نے آمین کہا اور لاروش نے بھی جھٹ سے سر ہلایا ۔۔
یااللّہ میرے غلط گمان کے لیے تیری رحمتوں کی تنگی کا سوچنے کے لیے مجھے معاف فرما ۔۔لاروش نے اللّہ پاک سے جھٹ اپنی غلطی کا اعتراف کرکے دعا مانگی ۔۔۔آمین ۔
رہ گئ شہادت ہر فوجی کا ارمان ہوتی ہے ۔۔ہم سر پر کفن باندھ کر میدان میں اترتے ہیں ۔۔یہ نہیں سوچتے واپس جانا ہے یہ سوچتے ہیں آگے بڑھ کر دشمن کو نیست ونابود کرنا ہے ۔۔نیست ونابود کرنے میں بھلے ہماری جان جائے پرواہ نہیں ۔۔ایک عزم شجاع کے لہجے میں تھا ۔۔
لیکن جن کی شادی ہوگئ ہے ان کو شہادت کی آرزو نہیں کرنی چاہیے ۔۔کنوارے کریں ۔۔لاروش نے مدبرانہ لہجہ اختیار کیا ۔۔
شجاع نے اس بات پر حیرت سے دیکھا جیسے لاروش کے سر پر سینگ آگئے یا سینگ چلے گئے ۔۔مسکرایا
یہ جو کنوارے ہوتے ہیں کیا آسمان سے ٹپکے ہوتے ہیں یا کسی درخت سے اگتے ہیں ۔۔۔شجاع نے سوال کیا ۔۔اور ساتھ ہی گاڑی اسٹارٹ کی ۔۔تاکہ گھر پہنچ سکیں ۔ ۔۔۔
شجاع کے سوال پر اب کے حیران ہونے کی باری لاروش کی تھی ۔۔
آپ کو نہیں پتہ ،پیدا ہوتے ہیں ۔۔۔ٹپکتے یا اگتے نہیں ہیں ۔۔نروٹھے پن سے بولی ۔۔۔
تو یار پھر تم نے فضول مشورہ دیا ۔۔ان کنواروں کی بھی فیملی ہوتی ہے ماں باپ بہن بھائ سارے رشتے ناطے ۔۔۔تو جب وہ شہید ہونگے تو ان کو دکھ درد نہیں ہوگا کیا ۔۔ہر فیملی کو اپنے فیملی ممبر سے محبت ہوتی ہے ۔۔کوئ بھی نہیں چاہتا اس کا پیارا اس دنیا سے جائے ۔۔تو کنواروں کی فیملی والے بھی دکھ درد محسوس کرنے کی صلاحیتیں رکھتے ہیں ۔۔
سوری واقعی میں کنوارے ہوں یا شادی شدہ فیملی کو تڑپ ہوتی ہے ۔۔لاروش نے اپنی غلطی تسلیم کی ۔۔۔
شجاع نے اداسی دور کرنے کے لیے پھر سے وہی موضوع شروع کیا جس سے بات کہاں سے کہاں نکل گئ ۔
بس یار نیکسٹ ٹائم ٹوئنز لائیں گے ۔۔۔
اچھا کون سی مارکیٹ میں ملتے ہیں ٹوئنز ۔۔لاروش نے آبرو اچکا کر پوچھا ۔۔۔
میرا مطلب کوشش کرے گے ۔۔
ہاں جی ہمارے اختیار میں تو ہے ۔۔یہ بتایے دو بیٹے چاہیے یا دو بیٹیاں یا پھر ایک بیٹی کے ساتھ بیٹا ۔۔گورے بچے ہوں یا کالے ۔۔نیلی آنکھیں ہوں یا براون۔۔میں مشین ہوں نہ جیسے چاہیں گے میٹریل ملے گا ۔۔۔لاروش شجاع کی فرمائش پر تپی نان اسٹاپ شروع ہوگئ ۔۔
شجاع نے ایک زبردست قہقہ لگایا ۔ اچھا لگا لاروش کا تپنا ۔۔۔
میرا مطلب یار ہم اللّہ سے دعا کریگے ۔ سچی میرا بڑا دل ہے ٹوئنز ہوں ۔۔ہمارے ایک میجر کے گھر ہوئے تھے بہت ہی پیارے بچے تھے ۔۔میں نے پکس دیکھی تھیں جب اس کی مسسز نے بہیجی تھیں ۔۔۔
کیوں وہ خود دیکھنے نہیں گئے ۔۔۔لاروش نے چونک کر پوچھا ۔۔۔
کہاں یار بارڈر پر نازک صورتحال تھی ایسے میں کیسے جا سکتے تھے ۔۔۔
پھر بھی کوئ ان کی جگہ ڈیوٹی دے دیتا ۔۔۔لاروش نے مشورہ دیا ۔۔
نہیں ہم لوگوں کو اپنے کام سے عشق ہے ۔۔اور عاشق کبھی اپنی محبوبہ کیسی کے حوالے کرتا ہے کیا؟
لاروش نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
جب سامنے دشمن ہو تو ہمارا جذبہ محبت وطن سے بڑھ جاتا ہے ۔۔دل چاہتا ہے کے سب کو ماردیں اپنے ارض وطن پر دشمن کی پرچھائ بھی نہ پڑھنے دے اس وقت صرف عشق یاد رہتا ہے فیملی نہیں ۔۔۔وطن کی محبت شجاع کی باتوں سے محسوس ہوئ ۔۔۔آخر شجاع کو بھی اپنی سرزمین سے عشق ہے ۔۔۔
فرض کریں آپ کے یہاں جب ٹوئنز کی آمد ہو اور آپ کی ڈیوٹی بھی بارڈر پر ہوتو آپ نہیں آئیں گے کیا جبکہ ٹوئنز تو آپ کی خواہش ہے ۔۔۔لاروش نے آس سے پوچھا ۔۔۔
نہیں میں نہیں آونگا اگر ایک طرف یہ خواہش ہے تو دوسری طرف میرا وطن مشکل میں ہو تو میں وطن کے ساتھ ہی رہونگا ۔۔۔میں یہ سوچ کر خوش ہوجاونگا کہ ہوسکتا ہے آج کسی اور شہری کے گھر میں بچوں کی ولادت ہے وہ خوشی منا رہا ہے ۔۔میں اس کی خوشی میں خوش ہوں ۔۔۔شجاع اطمینان سے بولا ۔۔۔
ہم فوجیوں کی زندگی بڑی مشکل ہوتی ہے. ۔۔۔اپنی فیملی سے دور رہتے ہیں نہ خوشیاں جی پاتے ہیں نہ غم میں پہنچ پاتے ہیں ۔۔لیکن یہ سکون ساتھ رہتا ہے کہ ہمارے سرحدوں پر موجود رہنے سے میرے سب بھائ بہن اپنی خوشیاں منا رہیں ہیں۔۔۔۔میں سیاچن پوسٹنگ پر تھا اپنی سسٹر کی شادی میں شریک نہیں ہوا ۔۔اور نانا کے انتقال پر بھی نہیں آ یا ۔۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *