Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33

چلیں جس میں آپ کی خوشی وہی کریں ۔۔
میرا دل نہ آئس کریم کھانے کی دہائیاں دے رہا ہے ۔۔الہ دین انکل کے گھر جا کر جھولنے کا کررہا ہے ۔۔ آپ کتنے اچھے ہو بھائ لالہ. میری خوشی کی بات کی میں بس پانچ منٹ میں تیار ہوتی ہو۔۔۔نشاء خوشدلی سے بولی
غزنوی بوکھلایا ۔۔یہ کیا ناگہانی آفت آگئ ۔۔
میرا مطلب کچھ اور تھا ۔۔میں یہ کہہ رہا تھا کہ آپ کی مرضی ہے مجھےجس بھی نام سے پکاریں ۔۔۔
اوہ سوری ۔۔نشاء بجھی ۔۔
غزنوی کو اس کی اداسی اچھی نہ لگی ۔۔
میں آپ کو شام آئس کریم کھلانے لے چلو نگا ۔۔لیکن الہ دین انکل کے پاس نہیں ۔۔۔۔مجھے ابھی گل جاناں سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔۔غزنوی نے نشاء کو منالیا ۔۔وہ تینوں مسکراتی باہر نکل گئ ۔۔
اب کیسی طبیعت ہے ۔۔گل سے محبت سے پوچھا
بالکل ٹھیک ہوں ۔۔لالہ کیا بات کرنی ہے ۔۔۔گل نے ے چینی سے سوال کیا.
اگر آپ کا لالہ آپ کے لیے کوئ فیصلہ لے تو آپ قبول کروگی ۔۔۔
بالکل کرونگی اللّہ کے بعد بابا جانی اور آپ پر پورا بھروسہ ہے ۔۔پرتقین لہجہ ۔۔۔
ہوں اس دن جب نکاح ہوا آپ کی رضامندی شامل تھی کیا ۔۔
نہیں لالہ میں نے تب بھی بتایاتھا مجھے تو اس منحوس غنڈے نے گن پوائنٹ پر نکاح کے لیے راضی کیا ۔ اب گن کے آگے تو اچھے اچھے ڈاون ہوجاتے ہیں اور میں ٹھہری ایک نازک سی گڑیا ۔۔۔۔گل جاناں نے آنکھیں پٹپٹائ ۔۔ہلکے پھلکے انداز سے باور کیا مجھے منظور نہ تھا ۔۔۔
ہممم ٹھیک ۔۔۔ویسےشادان کیسا ہے ۔۔۔
ایک نمبر کا گھٹیا کم ظرف انسان ۔۔جس نے بدلہ لیا ۔۔۔میں کبھی معاف نہیں کرونگی ۔۔۔گل روہانسی ہوئ ۔۔۔دل شدت سے تڑپا ۔۔محبوب کی عداوت پر ابھی تک نوح کناں ہے ۔۔بظاہر نشاء کی باتوں اور مینشن میں موجود افراد کے خاطر لبوں پر مسکراہٹ اور لہجے میں بناوٹی شوخی اور پرسکون چہرہ کرلیا ۔۔۔لیکن دل مسلسل تکلیف میں ہے. . بہل نہیں رہا ۔۔۔۔رات کو آنکھیں برسنے لگتی۔۔۔
بیٹا وہ حق رکھتا تھا بدلہ لے ۔۔۔۔
آپ نے جو کیا اس کی معافی مانگی ۔جتنا ہوسکتا تھا کیا ۔۔جب سب ہوگیا تو پھر سے بدلہ ۔۔۔یہ بدلہ نہیں ہے ۔۔یہ تو پھر دشمنی ہوئ جو نسل در نسل چلے گی ۔۔۔۔۔غزنوی کی بات کی منافی کی ۔۔
لیکن میں نے تو فیصلہ لیا ہے کہ آپ کی شادی شادان سے ہوگی ۔۔غزنوی آرام سے بولا ۔۔۔
گل جاناں کو بے یقینی کی گہری ضرب لگی ۔۔۔خاموش نظروں سے کچھ پل دیکھتی رہی ۔۔
لالہ اس دن سچ میں زبردستی نکاح ہوا اور زبردستی نکاح کی کوئ اہمیت نہیں ہوتی ۔۔آپ تو اب ماشاء اللّہ سے عالم کا کورس کررہے ہیں ۔پتہ کریں ۔۔۔میں قطعی شادان سے شادی کرونگی ۔۔۔
ہاں میں جانتا ہوں یہ نکاح نہیں ہوا ۔۔۔لیکن میں نے کہا تھا جب مجھے کوئ بیسٹ لگے تو میں اس سے کردونگا ۔۔وہ لاروش ۔۔۔۔
کیا لاروش اگر لاروش اچھی تو لاروش کا بھائ بھی اچھا ہوگا ۔۔۔گل نے بات کاٹی ۔۔۔۔۔آپ لاروش کی محبت سے نکل کر اپنی بہن کا سوچیں ۔۔اس نے ابھی بدلہ لینے کا کھیل کیا تو نہ جانے آگے کیا کیا کرے ۔ ماردے یا طلاق دے ۔۔کچھ پتہ نہیں ۔۔حد درجہ بدگمانی شادان کے لیے گل جاناں کے لہجہ میں صاف محسوس ہوئ ۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں صرف لاروش کی محبت میں یہ قدم اٹھا رہا ہوں ۔۔۔اس کا یہ مطلب ہوا تمہیں مجھ پر بھروسہ ہی نہیں ۔۔گل کے منہ سے لاروش کا سن کر غزنوی کو غصہ آیا ۔۔ایک دم اس کا لہجہ سرد ہوا ۔۔
نہیں میرا یہ مطلب نہیں ہے لالہ گل نے ہاتھ پکڑا ۔۔۔
میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں وہ اچھا انسان نہیں ہے آپ بلال سے کردو یا اس گھر کے چوکیدار سے کردو میں اف نہیں کرونگی ۔۔۔گل کو اپنی بات کا احساس ہوا فورا خود پر ضبط کیا ۔۔۔
گل کی بات سن کر غزنوی کا دل چاہا دو تھپڑ تو لگا ہی دے ۔۔یہاں ملکہ بنانے کی بات کررہا ہے اور وہ غلام بننے کی ۔۔۔۔۔
گل میں نے اسے لاروش کی کیر کرتے دیکھا ہے وہ بہت اچھا ہے ۔۔جب میں نے لاروش کے ساتھ برا کیا تو وہ تب وہ بدلہ لے لیتا مگر اس سمیت ان کے پورے خاندان نے صبر و برداشت سے کام لیا ۔۔۔صرف شادان نہیں اس کا پورا گھرانہ اچھا ہےاور میں نے تحقیق کی ہے شادان بے قصور ہے ۔۔اصل قصور وار نے خود آکر تسلیم کیا ہے ۔۔۔ کیا شادان بے قصور ہے ۔۔۔گل نے آدھی بات پر ہی بات کاٹی اور بے تابی سے سوال پوچھا ۔۔۔آنکھوں کی بجھی جوت جلی ۔۔۔ غزنوی نے باغور دیکھا اور کہا وہی بتارہا ہوں ۔۔ہاں وہ مجرم نہیں ہے اس نے تو صرف لفٹ دی تھی ۔۔سوچوں تم تو بلال کے ساتھ آتی اور بلال کی گاڑی جس نے پنکچر کی شاید وہی مجرم ہو ۔۔۔۔ بلال کی گاڑی تو ہم نے پنکچر کی تھی ۔۔بے ساختہ زبان پھسلی ۔۔ گھورا ۔۔۔غزنوی کے گھورنے پر سوری بولا ۔۔ خیر بڑا اچھا ہوا اللّہ پاک نے کرم کیا اس دن جانے انجانے میں تم ہی اپنی مدد کا ذریعہ بنی اگر اس دن شادان کی جگہ کسی اور سے نکاح ہوجاتا اور وہ تم کو چھپا لیتا تو گڑ کی ڈلی ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے ۔۔۔ مجرم کون ہے ۔۔۔گل نے پوچھا بتایے میں اس کا کچومر نکالو گی اس کی ہمت کیسے ہوئ یہ پلاننگ کرنے کی اور میرے شادان کو میری نظروں میں برا کرنے کی لالہ بس ایک دفعہ پتہ چلے اس انسان کا نانی کی پرنانی کے پاس نا بھیج دیا تو میں بھی گڑ کی ڈلی نہیں ۔۔۔۔۔۔زبان فراٹے بھرتی رکی ۔۔غزنوی کو دیکھا جس کا چہرہ حیران لگا یا پتہ نہیں پریشان ۔۔۔ یہ بتی کیوں فیوز لگی لالہ کے چہرے کی ۔۔اپنی آنکھیں بند کرکے سوچنے لگی ۔۔۔۔کیا بولا میں نے ۔۔میرے شادان افف اللّہ جی یہ کیا نکل گیا منہ سے ۔۔زبان دانت میں دبائ ۔۔اور چپکے سے ایک آنکھ کھولی ۔۔جھری سے دیکھا تو غزنوی دونوں ہاتھ باندھے ۔۔گھور رہا ہے ۔۔۔۔ گل مجھ سے چھپایا ۔۔افسوس ہوا ۔۔میں نے کہا تھا مجھے ہر حال میں تمہاری خوشی عزیز ہے پھر کیوں بھروسہ نہ کیا۔۔۔۔غزنوی افسردگی سے بولا ۔۔ مجھے لگا کہ گھر والے یا پھر شادان نہیں مانیں گے تو میں سچ میں بھول گئ تھیں ۔۔مگر پھر سے یونی میں دیکھا تو بھلا نہ سکی ۔۔گل ہولے سےبولی آنکھیں نم ہوئ ۔۔ کیوں نہیں مانتے تم انمول ہو ۔۔اگر وہ انمول کے لیے نہ مانتا تو وہ عمر بھر غریب رہتا ۔۔۔۔۔۔مجھے اس کے قدموں میں بھی بیٹھنا پڑتا تو میں بیٹھ جاتا ۔۔۔۔ پھر میں مرجاتی ۔۔۔میرا لالہ بھی پارس ہے۔۔۔۔اور جو پارس کھو دے تو پھر وہ جی نہیں سکتا ۔۔ گل جاناں نے فورا عقیدت و محبت سے کہا ۔۔۔میرا لالہ پہلے بعد میں کوئ اور ۔۔۔۔۔۔۔ غزنوی نے محبت سے گلے لگایا ۔۔بس اب خوشی سے شادی کی تیاری کرو ۔۔ لیکن لالہ میری ایجوکیشن ۔۔۔۔۔نئ فکر جاگی ۔۔۔ شادان خود پڑھا لے گا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیاری ہوگئ ۔۔لاونج میں بیٹھے اکبر صاحب نے تھکن زدہ چہرہ لیے بیگم اکبر سے پوچھا ۔۔۔۔ جی سب ہوگئ ۔۔۔۔بیگم اکبر نے جواب دیا ۔۔۔ بھائ میں نے بھی فیصلہ لیا ہے اس سال ریٹارمنٹ کے بعد میں گاوں میں شجاع ہوسپٹل کے برابر ہی شجاع بوائز کالج بناو گا ۔۔۔بہت رہ لیا اپنے آبائ گاوں سے دور ۔۔ یعنی آرام نہیں کروگے کام کروگے ۔۔زاور نے کہا ۔۔ بالکل بھائ کام کریں گے فٹ رہیں گے ۔۔اکبر لالہ کی طرح نہیں جو بڑھاپے کو سوار کر بیٹھے ۔۔۔شگفتہ طنز کا تیر اکبر پر پھینکا جو مزے سے چائے کا سپ لے رہے تھے ۔۔ اکبر بڑھاپے کے مذاق پر تڑپ گئے ۔۔ اوہ بوڑھے ہوگے تم ۔۔میں جوان ہوں ۔۔اور آرام کیسا جب وجاہت ملک سے باہر جاتا ہے تو پھر آفیس اور پاکستان کی میٹنگز میں ہی کرتا ہوں ۔۔۔۔تمہاری طرح نہیں مخصوص وقت کی ڈیوٹی بھگتائ اور گھر آگئے اور سو گئے الو کی طرح ۔۔۔اکبر نے بھی ادھار نہ رکھا ۔۔۔ کیا مطلب جج بننا آسان ہوتا ہے کیا ،کئ بار دل ڈرتا ہے کوئ غلط فیصلہ نہ ہوجائے ۔۔اور سوتا کون ہے ۔۔وہ تو فیصلے کے چکر میں رات فکر میں کٹتی ہے تو یوں دن میں سوتا ہوں ۔۔اور الو مغرب میں بڑا سمجھدار پرندہ ہے اس لیے برا نہیں مانا۔۔۔۔ورنہ میں ابھی بچوں کو بتاتا آپ کو خان جی ان بچو کے دادا کیا کہتے تھے ۔۔۔داور نے درِ پردہ دھمکایا ۔۔ بتایے نہ چچا جان ۔۔وجاہت نے لاڈ سے کہا ۔۔ او خرہ کا بچہ تجھےبڑا جاننے کا شوق ہورہا ہے ۔۔۔اکبر نے لتاڑا ۔۔مگر داور اور زاور ہنس پڑھے ۔۔۔اکبر نے کھسیا کر رہ گئے زبان سے کیا نکلا ۔۔۔۔کھوتہ ہی تو کہتے تھے دا جی ۔۔۔ جو پلاننگ کررہے تھے وہی کرو ۔میرے ماضی پر غور وفکر کی ضرورت نہیں ۔۔اکبر نروٹھے پن سے بولے ۔۔پھر چائے کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔وش بیٹا چائے ٹھنڈی ہوگئ گرم کردو ۔۔۔ جی وش کپ لیے کچن کی طرف بڑھ گئ ۔۔۔۔ کالج کا آئیڈیا اچھا ہے میں بھی آپ کو جوائن کر لونگا ۔۔جاناں کی تعلیم مکمل ہوجانے کے بعد شاید وہ بھی وہیں تدریسی عمل شروع کرے ۔۔۔۔ شکر اللّہ کا حویلی میں کوئ جوان تو آئے گا ورنہ مجھے ڈرتھا کہ ہم بوڑھے ہی وہاں رہیں گے ۔۔۔گل زریں شکر بجا لائ ۔۔ یہ بالکل ٹھیک ہے مجھے اور شہیر کو اتنی دور آنے سے بچت ہوگی ۔۔پشاور سے چند گھنٹوں کی مسافت بری نہیں لگتی ۔۔۔وجاہت بھی شفٹنگ کے فیصلے سے خوش ہوا ۔۔ آفریدی حویلی کے سارے مکین دو سال بعد پھر حویلی کو آباد کرنے چل دیے ۔۔۔طے پایا ۔۔نئ نسل بھی واپس لوٹے گی ۔۔۔۔۔
ی ۔۔۔شمروز نے سچی ندامت دیکھتے ہوئے معاف کیا ۔۔چند افراد کو بلال کی سازش کا علم ہوا باقی جاناں سمیت سب کو لاعلم رکھا گیا تاکہ دل و رویوں میں فرق نہ آئے ۔۔۔
گاوں پہنچتے ہی زاور نے شمروز کو اپنے آنے کی اطلاع دی۔۔۔
جب سے فون آیا شمروز سوچ میں گم ڈرائنگ روم میں بیٹھے رہے غزنوی اور مہر بانو کی آمد میں سوچوں کے تخیل سے باہر آئے ۔۔
کیا ہوا بابا ۔۔ایسے گم سم کیوں ہیں ۔۔۔۔غزنوی نے پاس صوفے پر بیٹھتے باپ کو مخاطب کیا ۔۔۔
زاور آفریدی کی کال آئ تھی شام میں آنا چاہ رہے تھے میں نے اجازت دے دی ۔۔۔
کیوں آرہے ہیں ۔۔۔مہربانو نے سوال کیا ۔۔
مجھے کچھ کچھ اندازہ ہوا ہے گل کے رشتے کے لیے آرہے ہیں ۔۔
میں اپنی بیٹی کی شادی وہاں نہیں کرونگی ۔۔مہر بانو کے دل میں بھی اندیشے جاگے. ۔۔فی الفور منع کیا ۔۔۔
امو جان شادان ایک اچھی سوچ اور کردار کا مالک ہے میں نے ہر طریقہ سے جانچ پڑتال کی ہے ۔۔ہماری جاناں اس کے ساتھ خوش باش زندگی گزارے کی مجھے پورا یقین ہے ۔۔
ہمارے اپنوں میں اتنے رشتے ہیں غزنوی ان میں سے کوئ دیکھ لو ۔۔
امو ان میں سے ایک بھی میری جاناں کے جوڑ کا نہیں ہے ۔۔۔بلال کی حرکت کے بعد بھروسہ نہیں ۔۔۔اویس سے چھوٹا کیا نام ہے ہاں عمیس وہ ڈاکٹر ہے جاناں کو ڈاکٹر پسند نہیں ۔۔پھپو کے یہاں صرف سکندر لالہ اچھے ہیں باقی دونوں اپنے ددھیال پر گئے ہیں ۔ چھوٹی سوچوں کے مالک ہیں ۔۔۔آپ فکر نہ کرے بڑا بول نہیں کہہ رہا میرادعوا ہے گل شادان کے ساتھ خوش رہے گی ۔۔۔
سب خدشے نکال کر دعاوں کے سنگ گل کو رخصت کی تیاری کریں ۔۔ویسے بھی اس سال ہم حج کی سعادت کے لیے جارہے ہیں ۔۔بیٹی کا فرض ادا ہوجائے تو بہترین ہے ۔۔۔
۔غزنوی نے بہن کی پسندیدگی چھپائ ۔۔۔اور قطعیت سے کہتا چلا گیا ۔۔۔
یہ قطعیت بھرا انداز دیکھ کر مہر بانو کو اس رات کی یاد دلاگیا ۔۔ماضی
زاور کی فون پر گونجتی آواز خاموش ہوگئ ۔. مہر بانو کا دل جکڑ گیا ۔۔انھوں نے ڈرتے ڈرتے سب کے چہرے باری باری دیکھے ۔۔لیکن سارے ہی سوچ میں گم ہوگئے ۔
سب سے پہلے بہروز ہی بولے ۔۔۔میرے خیال سے غزنوی تم لاروش کو بھول جاو تو زیادہ بہتر ہے ۔۔بچے آگے بڑھو ۔۔۔تمہاری پرسنالٹی اور تمہارے کردار کو دیکھ کر کتنے ہی لوگوں نے میرے آگے رشتے پیش کیے میں بس تمہاری لاروش کی محبت اور سنبھلنے تک کے لیے خاموش رہا ۔۔۔اب تم کو میں ان لوگوں کی لسٹ بھیج دونگا جو تمہیں داماد بنانے کے خواہشمند ہیں ۔۔۔۔
ببہروز کہہ کر چپ ہوا ۔۔لیکن غزنوی کے لبوں میں جنبش بھی نہیں ہوئ ۔۔اس نے سنا ہی نہیں ۔۔وہ تو ابھی تک لاروش کی ڈیمانڈ پر ہی جامد ہے ۔۔لاروش نے معاف نہ کیا تو آخرت کی بدترین سزا کیا وہ جھیل پائے گا ۔۔ جسم میں آخرت کا سوچ کر لرزش ہوئ ۔۔۔شادی ہو یا نہ ہو ۔۔بس زہن جم گیا معافی پر ۔۔۔
شمروز نے غزنوی کو پکارا ۔۔۔غزنوی بہروز کیا کہہ رہا ہے ۔۔
غزنوی چونکا ۔۔ کیا ،کیا کہہ رہے ہیں چچا جان ۔۔کمرے میں اے سی کی ٹھنڈک کے باوجود پسینے کے قطرے ماتھے پر آگئے ۔۔کمرے میں بس گل جاناں ہی تھی جو خاموش رو رہی تھی زاور آفریدی نے بولتی ہی بند کردی ۔۔۔۔رونے پر مجبور کردیا ۔۔اگر یہ سزا اور اس کا مطالبہ ایک سال پہلے ہوجاتا تو اس سزا کی سب سے بڑی حامی گل ہی ہوتی ۔۔جو اپنی نسل کو مکافات سے بچانا چاہتی تھی ۔۔۔ مگر اب جب اس کا لالہ ہر برائ سے منہ موڑ کر صالح بننے کی طرف گامزن ہے ایسے میں سزا کہاں اچھی لگتی ۔۔
کچھ بولو غزنوی بہروز کی بات کا جواب دو ۔۔۔شمروز نے پھر کہا
میں نے چچا جان سنا نہیں ۔۔۔غزنوی نے کہا تو بہروز نے اپنی بات دہرائ ۔۔۔۔۔
بابا میں لاروش کی شرط پوری کرونگا ۔۔۔ غزنوی کی حامی شمروز بہروز کو ہتھوڑے کی طرح لگی ۔۔۔۔
پاگل ہوگئے دماغ خراب ہے کیا ۔۔۔دنیا کو کیا جواب دوگے ۔۔خاندان کو کیا جواب دو گے ۔۔اور میں ابھی الیکشن جیتا ہوں ۔۔اسمبلی میں یہ بات آگئ ۔۔پریس میں خبر چلی گئ تو مرچ مصا لحہ لگا بتائیں گے ۔۔۔دو کوڑی کےہو کر رہ جائیں گے ۔۔۔۔تمہارے سر پر محبت کا بھوت سوار ہے اتارو اسے ۔۔۔بہروز بھڑکے ۔۔۔
محبت کی بات نہیں ہے ۔۔بات ہے معافی کی ۔۔۔اگر لاروش نے معاف نہ کیا تو میں اللّہ پاک کو کیا جواب دے پاوں گا ۔۔میری قبر میں سوال ہوگیا تو میرےپاس کیاجواب ہوگا ۔۔۔۔غزنوی نے بھی تیزی سے کہا ۔۔۔آواز جذبات میں بلند ہوگئ ۔۔۔۔
لالہ سمجھالیں اسے یہ ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش نہ کرے ۔۔ بہروز لا جواب ہوئے ۔ کوئ جواب نہ بنا تو شمروز کے سر ڈال کر کمرے سے باہر چلے گئے ۔۔۔۔
مہربانو نے کوشش کی ۔۔
بیٹا کل کو جاناں کی شادی ہوگی اس کے سسرال والے کیا سوچیں گے اس کے لالہ کا ماضی اتنا برا ہے بیٹا بھول جاو ۔۔۔اور تم نیک کام کر رہے ہو اور زیادہ کرلو ۔تاکہ عمل ِ صالح سے بخشے جاو ۔۔۔
امو اللّہ کے کرم سے میں اللّہ کے لیے عبادت کرتا ہوں ۔۔اب چاہتی ہیں ساری زندگی میں صرف خوف خدا کے بجائے خوف ِ لاروش رکھو ۔۔اپنا ہر اچھاعمل اس لیے کروں کہ میرا یہ عمل مجھےلاروش سے بچالیں گے ۔۔۔میں نماز پڑھو رب سے کچھ اور نہ مانگو صرف لاروش سے بچنے کی دعا کو محور بنا لو ۔۔۔یہ نہیں میں اس گناہ کی معافی نہیں مانگو گا ۔۔میں مانگو کیوں کے میں ندامت محسوس کرتا ہوں ۔۔اس لیے بھی مانگو میں نے اللّہ پاک کی بندی کو بلاوجہ ستایا اپنی حدود کو پار کیا ۔۔۔
میری ساری زندگی کی نیکیاں لاروش سے بچنے کی نظر ہوگئ ۔۔میں نے اپنے اللّہ پاک کی رضا کے لیے کیا ۔۔میں نے اس کے پیارے رسول کی اطاعت کے لیے کیا کیا ۔۔۔
لاروش مجھ سے بھلے شادی نہ کرے ۔۔لیکن میں اب سزا پاونگا ۔۔۔تاکہ مجھ سے بھی لوگ عبرت و نصیحت لیں ۔۔۔ زناکتنا سخت گناہ ہے یہ بات عام ہو ۔۔میری تبدیلی پر صرف چند روزبتاتے ہونگی پھر لوگ خاموش ہوجائیں گے ۔۔اللّہ پاک مجھے اکیلا نہیں چھوڑے گا ۔۔۔ان شاء اللّہ ۔۔اور چلاگیا ۔۔۔۔
امو کیا کررہی ہیں ۔۔۔۔۔گل جاناں نے آکر کندھا ہلایا ۔۔
ہل چلا رہی ہوں ۔۔تم بھی چلا لو ۔۔مہر بانو سوچوں سے باہر نکلنے پر چڑی ۔۔۔
آنٹی بغیر بیل گاڑی اور ٹریکٹر کے آپ ہل چلا رہی ہیں ۔۔نشاء کی حیرت بھری آواز گونجی ۔۔۔ساتھ ہی ڈرائنگ روم کو گھوم گھوم اور گھور گھور کر دیکھنے لگی ۔۔۔
گھوم کیوں رہی ہو بسمہ نے روک کے پوچھا جو دوسرا سرکل پورا کرنے لگی تھی ۔۔۔
وہ میں یہاں فصل ڈھونڈ رہی ہوں جس پر آنٹی ہل چلا رہی ہیں ۔۔معصومیت سے بول کر بسمہ کا خون جلایا اور مہر بانو کے چہرے پر مسکراہٹ لائ ۔۔۔
بڑا ہی ٹھنڈا جوک تھا ۔۔ورشہ نے منہ بنایا ۔۔۔ورشہ کے بولنے پر گل سے بولی ۔۔مجھے بھی جوک سناو ۔۔میں بسمہ سے بات کررہی تھیں اس لیے نہیں سنا ۔۔۔
او میری پیاری وہ تمہارے فصل ڈھونڈنے کو جوک کہہ رہی ہے ۔۔بسمہ کوفت سے بولی ۔۔
مت تنگ کرو ۔۔اتنی پیاری بیٹی ہے ۔۔۔مہر بانو نے محبت سے کہا ۔۔۔
شکریہ آنٹی ۔۔پر ہل کیوں چلا رہی تھیں ۔۔۔نشاء کی سوئ ہل پر ہی ٹکی ۔۔۔
میں سوچ میں مگن تھیں جاناں کی آمد سے سوچ ٹوٹی تو طنزیہ کیا ۔۔۔۔مہر بانو ہی نے مطمئن کیا ۔۔
یہ دونوں بھی گل جاناں کا گاوں دیکھنے آئ ۔۔جب ورشہ نے سنا تو وہ بھی پھر سے ساتھ آگئ
۔……. …….. ۔………
آفریدی حویلی سے مردوں میں اکبر زاور اور خواتین میں بیگم داور. اور گل زریں مٹھائ کے ٹوکرے اور فروٹس کے ساتھ تشریف لائے ۔۔۔
غزنوی اور شمروز نے خیر مقدم کیا ۔۔
بہت خوبصورت پیرائے میں زاور نے مدعا پیش کیا ۔۔۔۔
شمروز نے رشتہ قبول کرلیا ۔۔۔
گل جاناں کو لایا گیا ۔۔گلابی سوٹ میں گلاب ہی لگی ۔۔محبت سے گل زریں نے گلے لگایا ۔۔ مہر بانو نے گلے لگنے کے منظر کو باخوبی جانچا ۔۔دونوں کے چہرے پر سکون اور آنکھو ں کی چمک نے مہر بانو کو اطمینان دیا ۔۔چہرہ دھوکہ دے سکتے ہیں مگر آنکھوں کی چمک نہیں ۔۔۔۔ایک دوسرے کو مٹھائ کھلائ گئ ۔۔گل زریں نے سرخ دوپٹہ اوڑھا کر رسم پوری کی ۔۔
۔سب ہی اس نئے رشتے سے خوش تھے ۔۔۔سوائے بلال کے جو اپنی شرمناک حرکت کی بنا ءپر بہروز اور شمروز کے سامنے سخت شرمندہ ہوا ۔۔۔گل شیر نے چھوٹا ہو کر خوب باتیں سنائ اور غزنوی نے وارننگ دیتے معاف کیا ۔۔۔۔
میراخیال سے شادی کی تاریخ بھی طے کرلی جائے تو بہتر ابھی شادان ایکسڈینٹ کے بعد چھٹیوں پر ہے ۔۔۔دوماہ کی لے لی ہے ۔۔۔
گل زریں نے وضاحت کے ساتھ تاریخ کا تقاضہ پیش کیا ۔۔۔
کیوں نہیں آنٹی ضرور ۔۔۔۔۔میرے خیال سے بیس دن بعد آپ بارات ۔۔۔
ایک منٹ ۔۔۔۔۔۔مہر بانو نے غزنوی کو بات مکمل کرنے نہ دی ۔۔۔
آپ رشتہ لائے ۔۔ہم نےقبول بھی کرلیا ۔۔لیکن شادی تب ہی ہوگی جب غزنوی شادی کے لیے مانے گا ۔۔ورنہ نہ گل کی ہوگی نہ غزنوی کی ۔۔۔۔
یہ کیا منطق ہے۔۔۔۔غزنوی اتنے لوگوں کے بیچ اپنی شادی کا معاملہ بیچ آنے پر سرد ہوا ۔۔لہجہ گستاخانہ نہ تھا احترام موجود ہے ۔۔
اپنے گھر کی چڑیا بھیج کر اپنا آنگن سونا کر لو ۔۔۔۔۔ایک جائے گی تو دوسری آئے گی ۔۔۔۔
بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں اور اس فیصلے میں گل اپنی امو جان کے ساتھ ہے ۔۔۔ گل جاناں نے تائید کردی ۔۔۔۔آپ شادی نہیں کریں گے میں بھی نہیں کرونگی ۔اور شادان اپنی منگ کا کب تک انتظار کرے گا بالاخر تنگ آکر مجھ پر سوتن لے آئے گا ۔۔۔۔آپ چاہتے ہیں شادان مجھ پر سوتن لائے ۔۔آنکھیں پٹپٹاتی معصوم نظر آئ ۔۔وہ الگ بات ہے کہ اپنی بات کہہ کر امو کو غصہ دلاگئ ۔۔
اللّہ نہ کرے جو سوتن آئے ۔۔ناراضگی سے گل کو مہر بانو نے گھورا ۔۔
بیٹا شادی کی عمر ہے ماں باپ کی خواہش پوری کرو ۔۔۔گل زریں نے بھی سمجھایا ۔۔۔
روگ سے جان چھوٹے گی تو کرے گا ۔۔ایک سے ایک رشتہ موجود ہے ہاں کہے تولائن لگ جائے ۔۔ بہروز نے کلس کر کہا ۔ایک وفاقی وزراء نے بہروز سے کہا تھا مگر غزنوی نے صاف منع کردیا ۔۔
روگ پر زاور اور گل زریں کے چمکتے چہرے مدہم ہوئے ۔.
بھول جاو لاروش کو زندگی میں آگے بڑھو ماضی کی بھول بھلیاں سوائے تکلیف کے کچھ نہیں دیتی ۔۔جوان ہو نئ یاد بناو ۔۔۔۔زاور نے ٹھرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔
مہر بانو رونے لگیں ۔۔۔بچہ جب پیدا ہوتا ہے ماں تب ہی سے اس کے لیے سپنے بننے لگتی ہے چاند سی دلہن لانے کا ارمان ہوتا ہے ۔۔مجھے تو لگتا ہے میں یہ ارمان لیے قبر میں چلی جاونگی ۔۔۔
اللّہ نہ کرے امو ۔۔۔۔خوشی کے موقع پر ایسی باتیں نہ کریں ۔۔۔غزنوی نے تھکے لہجے میں التجا کی ۔۔۔
کیسا خوشی کا موقع ۔۔آج تاریخ ہونی نہیں ہے ۔۔پھر ایک سال دو سال تین سال پانچ سال گزر جائیں گے ۔۔اور پھر شادان اپنی مورے سے کہہ دیں گے ۔۔۔میں کون سا گل کے عشق میں پاگل ہو ں ۔۔اگر میرا ہونے والا سالا شادی نہیں کر رہا تو میں کیا کرو ں ۔۔میرے لیے لڑکیوں کی کوئ کمی نہیں ہے جایے مورے کہیں اور رشتہ دیکھیں میں اس سال شادی کر کے رہونگا ۔۔رکھے اپنی بہن کو سنبھال کر ۔۔ ڈرامائ انداز میں بولتی ایک نظر سامعین پر ڈالی کچھ کے چہروں متبسم اور کچھ کے چہرے خود کو گھورتے پاکر نظرانداز کرتی پھر بولی ۔۔۔۔پھر دھوم دھڑکے سے شادی ہوگی اور لوگ باتیں بنائیں گے ۔۔دیکھو شمروز۔۔۔سوری بابا آپ کا نام لے رہی ہوں ۔۔ دیکھو بچاری شمروز کی بیٹی منگ نے شادی کرلی ۔۔شادی میں بلایا بھی نہیں ۔گڑ بڑائ گل کیا بکواس کررہی ایموشنل کر خود کو جلدی گھرکا ۔۔چچ ضرور کوئ عیب ہوگا ۔۔ضرور باپ نے جہیز دینے سے منع کیا ہوگا ۔۔اب دیکھنا ساری عمر بیٹھی رہے گی ۔۔۔ان طعنوں سے تنگ آکر میں پھر خود کشی کرلونگی ۔۔۔۔۔۔
گل ۔۔۔۔۔۔غزنوی دہاڑا ۔۔۔ایکٹنگ کرتی گل ڈر کر خاموش ہوئ ۔۔
بس ۔۔۔خود پر ضبط کرتا اسے روکا ۔۔۔گہری سانس لی ۔۔۔
میں شادی کے لیے تیار ہوں ۔ ۔لیکن پہلے گل جاناں کی ہوگی ۔۔اب تاریخ کر لیں ۔۔ورشہ گل کو لیکر جاو ۔۔۔کیا پتہ مزید ڈرامہ شروع ہوجاتا ۔۔۔گل تو لالہ کے اقرار پر خوشی سے نہال ہوگئ ۔۔۔
ورشہ نے ہاتھ پکڑا، اس کا ہاتھ جھٹکا ۔لالہ کے گلے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ رونا کی کیا تک ہے جاو الگ مٹھائ لاو ۔۔۔بہروز نے مسکرا کر گل کو ہٹایا ۔۔۔
لیکن گل جاتے جاتے فرمائش کر گئ اسی ہی ہفتے لالہ کی ہوگی جس ہفتے اس کی ہوگی ۔۔۔۔۔
پھر بیس دن بعد کی تاریخ طے ہوئ ۔۔۔ خوشگوار ماحول میں ڈنر ہوا ۔۔۔بظاہر غزنوی ہنستا مسکراتا پرسکون نظر آرہا ہے مگر اضطراب کی لہریں دل و دماغ میں مسلسل ہچکولے بھر رہی ہیں ۔۔مہمانوں کے جاتے ہی گھر والوں کا موڈ تھا غزنوی شادی کی مزید بات ہو ۔۔۔لیکن اپنے لالہ کے دل کا حال سمجھتی سب کے چنگل سے نکال کر لے گئ ۔۔۔
لالہ میں بہت خوش ہوں آپ کے فیصلے سے ۔۔۔۔گل جاناں غزنوی کی ہمراہی میں چلتے خوشی سے چہکتے موڈ میں بولی ۔۔
ہوں ۔۔ہوں کے سوا غزنوی کچھ نہ بولا ۔۔گل مزید باتیں کرتی رہی . . ۔یہ لیجیے جناب آپ کا کمرہ آگیا ۔۔اور میں جانتی ہوں ۔۔آپ اللّہ سے شکوہ نہیں کرے گے بلکہ اپنا سکون مانگیں گے ۔۔۔جایے سکون مانگنے میں دیر نہ کیجیے ۔۔۔۔۔
غزنوی نے محبت سے بہن کو دیکھا ۔۔جو اس کی بے چینی سمجھ گئ ۔۔۔جزاک اللّہ کہتے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی ۔۔اور کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔وضو کیا ۔۔وضو کرتے بار بار آنکھ نم ہوئ ۔۔۔
ہمت باندھاتا خود کو نفل حاجت پڑھی۔۔۔نمازپڑھتے زار وقطار آنسو بہہے ۔۔۔سمجھ ہی نہیں آئ یہ آنسو. کیوں ۔۔۔
کیا شادی کرنے کا فیصلہ لیا اسلیے ۔۔یا لاروش سے بے وفائ ہوئ اس لیے ۔۔۔
نماز پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ پھیلائے ۔۔الفاظ نکالنے کی ضرورت نہ پڑھی ۔۔آنکھوں نے اپنا کام کیا ۔۔۔جو بہہ بہہ کر فریاد کر رہے ہیں ۔۔یارب کریم مجھ میں بے وفائ کی سکت نہیں ۔۔۔لیکن مجھے یہ بوجھ اٹھانا پڑے گا ۔۔
مجھے یہ بوجھ اٹھانے کی ہمت و طاقت عطا کیجیے ۔۔۔ میری کوتاہیوں نے میرا یہ حال کیا ۔۔۔تونے تو مجھ پر احسان کردیا تھا میری پسند مجھے عطا کی لیکن میں احسان فراموش نکلا ۔۔شکر کے بجائے تکبر میں پڑھا بالاخر شیطان کے نرغے میں پھنس گیا ۔۔۔۔وہ غلطی کردی جو نہیں کرنی تھی ۔۔تیرے فضل کی قدر ہونی تھی لیکن ٹھکرا دیا تیرا فضل ۔۔۔۔اور جب احساس ہوا تو وقت ختم ہوگیا ۔۔۔لاروش میرے ہاتھ سے نکل گئ ۔۔میں گناہ کی تلافی کرنے میں دیر کرگیا ۔۔جب سے میرا دل میرے اختیار میں نہیں ۔۔یا اللّہ سکون دے ۔۔میرے مالک نامحرم کی محبت میں میرا دل تڑپتا ہے ۔۔اسے چین عطا کردے ۔۔۔۔۔میں نامحرم کی محبت میں عرصے سے اپنی ماں کی خواہش پوری نہ کرسکا ۔۔میرے اس گناہ کو بھی معاف کردے ۔۔آمین
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *