Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03
اگر آپ نے کارڈز نہیں لینا تو مت لیں لیکن آپ کو حق نہیں کے کسی کی انسلٹ کریں ۔۔۔۔تبریز کو برا لگا اس نے فورا ٹوکا
اس میں انسلٹ کیا ہے سچ کہہ رہی ہوں چند دن یہ نام نہاد سوشل کریں گی تو یونی میں نام الگ ہوگا اور جو پیسے ملیں گے تھوڑے ٹرسٹ کو دیں گی باقی خود شاپنگ پارٹیز میں خرچ کر دینگی ۔۔۔استھزا ہنستے رنم نے لاروش کے بارےمیں کہا ۔۔۔۔
غزنوی کو رنم کے طنز پر غصہ آیا ۔۔۔۔۔۔اس کو جواب دینے کے لیے زبان سے الفاظ نکلتے لاروش خود ہی بول پڑی ۔۔۔۔۔۔۔
جی نہیں ہم ایسے نہیں ہیں اور نہ ہی ایسا کوئ فضول خرچ کرنے والے، اللّہ کا کرم ہے اچھے سیٹلیٹڈ خاندان سے تعلق ہے ۔۔۔۔لاروش نے غصے سے وضاحت دی ۔۔۔۔
ؑبالوں کو ایک ادا سے رنم نے جھٹکا ۔۔۔۔
او اچھا ۔۔۔۔لیکن میں کیوں اپنا پیسہ ان کارڈز میں خرچ کروں ۔۔۔بھلا مجھے کیا فائدہ ہوگا ۔۔فضول میں میری رقم خرچ ہوگی۔۔۔
لاروش نے غصہ ضبط کیا ۔۔۔کنڑول کر خود کو لاروش ۔۔۔اس کو اصلاح کی ضرورت ہے ۔۔کارڈز سے پہلے یہ کام ضروری ہے ۔۔۔۔لاروش نے خود کو تسلی دی ۔۔۔۔ایک گہری سانس لی ۔۔۔
ہیلو کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ۔۔ ۔۔۔۔۔۔خاموش کھڑی لاروش کو دیکھا جس نے گہری سانس لی ۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔۔۔آپ اللّہ کے فضل سے مسلمان ہیں۔۔۔اور ہر مسلمان کو اللّہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محبت ہمدردی رواداری کا درس دیا ہے ۔۔۔۔اللّہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سب مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے مدد کا جزبہ رکھے ۔۔۔اگر کوئی شخص پریشان تکلیف مصیبت میں ہیں تو اپنی حیثیت کے مطابق اسے ہر ممکن جائز وسائل ذریعے نکالنے کی کوشش کریے۔ ۔اگر آپ کے پاس کمی ہو تو اپنے قرب و جوار کے صاحب حیثیت افراد کوآمادہ کرکے اس کا انتظام کریں
۔ حدیث سے پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لوگوں میں سے اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ وہ ہیں جو انسانوں کے لئے زیادہ نفع بخش ہوں ۔۔۔۔۔
اعمال میں اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ وہ ہیں جن سے مسلمانوں کو خوشیاں ملیں ۔۔۔۔۔۔اعمال میں اللّہ کے یہاں سب سے پسندیدہ وہ ہیں جن سے مسلمانوں کو خوشیاں ملیں یا ان سے تکلیف دور ہو یاان سے قرض کی ادائیگی ہویا ان سے بھوکوں کی بھوک دور ہو “
بہت خوبصورت انداز بیان۔ ۔لاروش کا لہجہ اثر کر رہا ہے آہستہ آہستہ کافی اسٹوڈنٹ خاموشی سے آکر کھڑے ہوگئے ۔۔ لاروش نے ایک نظر آس پاس دیکھا پھر بولنے لگی ۔۔۔
ایک اور حدیث میں سرور کائنات کےنزدیک کسی مسلمان بھائ کی ضرورت پوری کرنا ایک ماہ مسجدمیں اعتکاف بیٹھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔۔۔
رنم اگر آپ کسی ضرورت مند یا یتیم کی معاونت کرتی ہیں تو اللّہ آپ سے خوش ہوگا ۔۔۔ اللّہ کریم آپ کی کئ حاحتیں پوری کریگا ۔۔۔۔
مسلم ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے ابن آدم میں نے تجھے کھانا دیا اور جب میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا ۔۔۔بندہ کہے گا ۔۔۔تو رب العالمین میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا ۔۔۔میرا فلاں بندہ بھوکا تھا تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا
اللہ پوچھے گا اے ابن آدم میں بیمار تھا تو نے میری مزاج پرسی نہیں کی ۔۔۔بندہ کہے گا یا اللہ تو رب العالمین میں کیسے تیری مزاج پرسی کرتا ہوں ۔۔۔۔میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو نے اس کی عیادت نہیں کری تو اس کی مزاج پرسی کرتا تو مجھے اپنے پاس پاتا ۔۔۔
اللہ پوچھے گا میں نے تجھے پانی دیا تو جب میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا بندہ کہےگا یااللّہ تو تو رب ہے میں تجھے کیسے پانی پلاتا ۔۔۔میرا فلاں بندہ پیاسا تھا تو اسے پانی پلاتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ۔۔۔۔
بہت ہی حسین پرائے میں اللہ نے بندوں کو نیکی کی طرف راغب کیا ۔۔اگر اللہ کی مخلوق کی خدمت کی جائے ان کی مدد کی جائے تو اللہ اس کا آپ کو اجر دیتا ہے آپ کو دنیا میں بھی اس کا فائدہ ملے گا اور آخرت میں بھی ۔۔۔دوسروں کی مدد کرنے میں آپ کا اپنا ہی خود کا فائدہ ہے آپ کے دل کو سچی خوشی اور سکون ملے گا ۔۔۔ مستحقین کی روزمرہ کی اشیاء فراہم کرنا ۔۔۔بچوں کی اسکولنگ کرنا ۔۔۔تاکے آپ کے اس اچھے عمل سے انکی پرورش اچھی ہو وہ معاشرے میں اپنا مثبت حصہ ادا کرسکیں۔۔۔
ضرورت مندوں اور مستحقین کی مدد کا طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ انہیں مستقل روزگار فراہم کرنے میں مدد دیں اگر ہم ایسا کریں گے تو معاشرے کی فلاح بھی ہوگی اور بھیک مانگنے کی عملی مذمت بھی ۔۔۔۔۔۔
زور دار تالیوں سے کارویڈیر گونج اٹھا ۔۔۔ تالیوں کی گونج نے لاورش کو بتایا موجود کھڑے افراد کو اس کی بات اچھے سے سمجھ آگئ ۔۔ رنم شرمندہ ہوگئ ۔ ۔۔
اس ٹرسٹ کی میں نے چھان بین کروائ ہے یہ اچھا ٹرسٹ ہے آپ کا پیسہ ضائع نہیں ہوگا اور جس دن فنکشن ہے اسی دن وہاں ٹرسٹ میں موجود خواتین نے کچھ دستکاریاں بنائ ہیں جو وہ سیل کریں گی ۔۔جسے آپ خریدیں اور مزید آرڈر بھی کریں ۔ ۔۔۔لاروش نے ٹرسٹ کی معلومات دی ۔۔۔۔
سب ہی نے رنم سمیت کارڈ لیے ۔۔۔صرف چھ کارڈ بچے ۔۔۔۔تبریز ضروری کام کا کہ کر چلاگیا ۔۔۔چل ثنا تھک گئے ۔۔۔کینٹین چلیں ۔۔۔ان کے بڑھتے قدموں کو غزنوی نے روکا ۔۔۔۔جو کارڈز دیتے وقت رش کی وجہ سے سائیڈ میں کھڑا ہوگیا تھا ۔۔۔
منس لاروش مجھے بھی کارڈ چاہیے ۔۔غزنوی نے مسکرا کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔۔۔۔
جی کارڈز تو ختم ہوگئے ۔ ۔۔۔لاروش نے غیرارادی کارڈز کو اپنے پیچھے چھپایا ۔۔۔
تو یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہیں ۔۔۔۔۔۔غزنوی نے لاروش کی حرکت نوٹ کی ۔۔۔مسکراہٹ غزنوی کے ہونٹوں پر کھیلنے لگی ۔۔۔۔۔
یہ کارڈز تومیں ہوسٹل فرینڈ کے لیے رکھیں ہیں ۔۔۔
اوہو میں تھوڑا لیٹ ہوگیا سوچا تھا میں بھی کارڈز خرید کر بچوں کے فنکشن میں جاتا کچھ ڈونیشن دیتا اور کچھ خریدتا مزید آرڈر کر دیتا ۔۔۔غزنوی مصنوعی متسف ہوا ۔۔۔۔اور جانے کو پلٹا ۔۔۔۔۔
ایک منٹ رکیے ۔۔۔ثنا نے آواز دی ۔۔۔۔اور لاروش کا ہاتھ پکڑ کر تھوڑا سائیڈ پر ہوئ ۔۔۔۔۔۔گھامڑ لڑکی اتنی دیر سے آتے جاتے پوچھ رہی تہیں کارڈز لےلو ۔۔۔اب کوئ خود چل کر آیا ہے تو منع کررہی ہو ۔۔۔۔اس کو ہی دو ۔۔۔بلکے سارے دے دو ۔۔۔ثنا نے لتاڑا ۔۔۔۔
اچھا نہ ٹھیک ہے چلو لگتا ہے سن رہا ہے ۔۔۔۔۔
غزنوی جسے کان لگانے کی ضرورت ہی نہ تہی بآسانی آواز آ رہی ہے ۔۔۔۔
ایک لینگے یا سارے ۔۔۔۔۔
آپ کی جو چاہت ۔۔۔غزنوی نے دل پر ہاتھ رکھا۔ ۔
جو لاروش کو ایک آنکھ نہ بھایا۔۔
ہممم سارے لیں ۔۔۔ایک لاکھ کے ہیں یہ کارڈز ۔۔۔۔
ثنانے حیرت سے دیکھا ۔۔اور سوچا۔۔لگتا ہے آج گھورنے کا بدلہ لے رہی ہے
ٹھیک ہے۔۔۔۔کیش چلے گا یہ چیک ۔۔غزنوی نے شاہانہ فراخی دکھائ ۔۔۔۔۔۔۔غزنوی کے چہرے پر کھل کر مسکراہٹ آئ ۔۔۔۔
لاروش اس فراخ دلی پر گڑبڑ ائ ۔۔غزنوی کے فضول مسکرانے پر تاو آیا ۔۔۔۔
میرا مطلب ہیں ایک کارڈز ایک لاکھ کا ہے بادشاہ سلامت ۔۔۔
اس بار تو ثنا کا حیرت سےمنہ کھل گیا ۔۔۔
آپ منہ بند کر لیں مکھی چلی جائے گی غزنوی نے ثنا کو شائستگی سے ٹوکا اور پھر لاروش سے مخاطب ہوا ۔۔۔جی منس لاروش جتنے کے بھی ہیں میں لینے کو تیار ہوں ۔۔۔مگر فی الحال کیش نہیں ہے آپ میرے ساتھ گھر چلیں وہاں پر دے دونگا ۔۔۔۔۔۔۔مسکراہٹ نے تو آج ہونٹوں سے جدا نہ ہونے کی قسم کھالی۔ ۔۔۔
________________________________________________
بابا کل میرے فیورٹ مضمون کا پیپرز ہے دعا کیجیے گا میں اچھے نمبروں سے پاس ہوں ۔۔۔۔آگے میں کالج سے نہیں یونی سے پڑھونگی وہ بھی کراچی یونی سے گل جاناں نے لاڈ سے بابا کے کندھے پر سر رکھا ۔۔۔۔
کوئ نہیں بس تمہاری شادی ہوگی ۔جتنا پڑھنا تھا پڑھ لیا ۔۔۔
گل کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ۔۔۔
______
نہیں آپ کل دے دیجیے گا ۔چلو ثنا پریڈ شروع ہونے والا ہے ۔۔لاروش نے گھبرا کر منع کیا اور کلاس لینے چلیں۔ ۔۔۔۔
پرسنلی لاروش نے ٹرسٹ کے سلسلے میں کافی کام کیا ۔۔۔اگلے ہفتے توقعہ سے بڑھ کر فنکشن کامیاب ہوا ۔۔۔۔غزنوی نے جیسا کہا ویسا کیا ۔۔۔۔
شکر اللّہ کا خیریت سے ٹرسٹ کاکام ہوا ۔۔۔۔گھانس پر بیٹھی تنکہ توڑتے بولی ۔۔۔۔
یار گاوں جانے کا دل کر رہا ہے لالہ کا بھی فون نہیں آیا ۔۔۔۔
لاروش اداس ہوئ ۔۔۔
تو چلی جاو ۔۔۔ایک دن رک کر آجانا میں لیکچر نوٹ کر کے دےدونگی ۔۔۔ثنا نے جوس پیتے کہا ۔۔۔۔
نہیں اگلے مہینے لیلی کی بہن کی شادی ہے جب جاونگی اور پکا نہ تو میرا لیے نوٹس بنائ گی ۔۔۔یا پھر سر الیاس کے اسائمنٹ کی طرح میرے نوٹس پر بھی میک اپ کے فائدے لکھ دو گی ۔۔
لاروش کے بات پر ثنا نے ایک تھپڑ لگایا ۔۔
آہ ظالم لڑکی ہاتھ ہے یا ہتھوڑا ۔۔۔۔دیکھو بازو لال کردیا۔۔۔لاروش نے ایکٹینگ اور بے دھیانی میں آستین اوپر کر کے دیکھایا۔۔۔یہ منظر پرشوق نظروں سے دو لوگوں نے بغور دیکھا ۔۔۔گورے بازو کالے سوٹ میں ایک نرالی چھب دکھا رہے ہیں جیسے کالی رات میں چاند ۔۔۔۔ہاں دیکھو غور سے کہیں فریکچر تو نہیں آگیا آخر کو میں باکسر عامر کی جانشین ہوں ۔۔۔ثنا کلسی ۔۔۔
ہاہا لاروش ثنا کے کلسنے پر ہنسی اور ثنا لاروش کے ہنسنے پر ہنس پڑی ۔۔۔۔۔
غزنوی رنم کی آمد پر ہوش میں آیا ۔ جو لاروش سے تھوڑے فاصلے پر درخت کی آڑ میں کھڑا تھا۔۔لاروش کی بے فکر ہنسی اسے جھرنے کا بہتے پانی کی آواز لگی ۔۔۔۔۔
ہائے غزنوی کہاں ہوتے ہو آجکل ۔۔۔
کہیں نہیں بس تھوڑا مصروف ہوں تم سناو ۔۔۔۔
کل میری سسٹر کا برتھڈے ہے یہ تمہارے سارے دوستوں کاانویٹیشن ہے ۔۔۔ضرور آنا ۔۔۔۔
ہمم کارڈ پکڑا ۔۔۔اور اپنی کلاس کے علاوہ کسی اور کو بھی بلایا ہے ۔۔۔۔
نہیں کیا کسی کو بلانا تھا ۔۔۔تم۔ کہو اسپیشلی دعوت دے دونگی ۔۔۔آخر دوست کے لیے اتنا تو کرسکتی ہوں ۔۔۔رنم ادا سے مسکرائ ۔
نہیں رہنے دو ۔۔۔۔۔
ویسے مجھے پتہ ہے انفیکٹ مجھے کیا پوری یونی کو لگ رہا ہے کہ تم کہیں سیریس انولو ہو اور کس میں یہ بھی پتہ ہے ۔۔ اچھی ہے ۔۔۔رنم نے لاروش کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔ تعریف کےلیے منس رنم آپ کا شکریہ ۔۔
رنم ہنستے آگے بڑھ گئ جبکے غزنوی نے اپنا رخ لاروش کی طرف کیا ۔۔۔مگر ایک دم مسکراہٹ چہرے سے غائب ہوئ ۔۔۔
ابھی رنم کے بلانے پر اس نے سائیڈ میں کھڑے تبریز کودیکھا تھا اور اتنی جلدی وہ لاروش کے پاس بیٹھ کرباتیں کرنے لگا ۔۔غزنوی نے غصے سے مٹھیاں بھینچی ۔۔۔۔
غصہ سے کچھ دیر دیکھتارہا پھر کال ملا کر تبریز کی مصروفیت کا سامان کھڑا کیا ۔۔۔
کیسے ہو۔۔۔آجکل کیا الیکشن کیمپین نہیں چلانی ۔۔۔۔اگر ایسا ہی حال رہا تو دوسری پارٹی نے جلد جگہ بنا لی ہے ۔۔۔کوئ ورک کرو ۔۔۔کیا سارے نکموں کی طرح ادھر اُدھر پھر رہے ہو ۔۔۔غزنوی نے مقابل کے ہیلو کے جواب میں نصیحتیں شروع کردی ۔۔۔
سر آپ کا تعاون ساتھ رہا تو یقیناً اس بار بھی ہم الیکشن جیتے گے ۔۔۔انشاءاللّہ آج ہی میٹنگ بلا کر لائحہ عمل بناتے ہیں ۔۔۔ہارون نے غزنوی کی بات مان لی ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد تبریز کا موبائل بجا ۔۔۔
سلام کے بعد ۔۔جی سر ابھی ،اچھا ٹھیک ہے میں آتا ہوں ۔۔۔
کیا ہوا ثنا نے سوال کیا ۔۔۔۔
کچھ نہیں یونی میں الیکشن ہونے والے ہیں ۔۔۔ہماری پارٹی کے سر ہارون کا فون تھا ۔۔۔ہیں تو ہم کلاس فیلو اور دوست مگر چونکہ لیڈر ہے ہمارا اس لیے سر بولتے ہیں ۔۔۔۔آج سب کو میٹنگ کے لیے بلایا ہے چلتا ہوں لاروش آگے بھی کوئ بھی ہیلپ چاہیے تو بندہ حاضر ہے ۔۔۔ثنا کو تفصیل سے جواب دیا ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بیٹھ کر دونوں لاسٹ لیکچر لینے اٹھ گئ ۔۔۔اور غزنوی کینٹین روانہ ہوا ۔۔۔۔
________________________________________________
نہیں امو میں نے پڑھنا ہے ۔۔۔۔بابا سمجھائیں آپ اپنی بیوی کو ۔۔۔گل نے شکایتی نظروں سے بابا کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
ہاں ہاں سمجھاتا ہوں ۔۔۔کیوں ایسے بلیوں کی طرح میری بیٹی کو گھور رہی ہو۔ ۔۔۔وہ جتنا چاہے گی اسے پڑھائیں گے ۔۔۔اورنگ زئ نے مہربانو کو نرم لہجے میں کہا جو مسلسل گل کو گھور کر دیکھ رہی ہیں ۔۔۔۔
آپ زیادہ لاڈ نہ کرے اس کے دو رشتے موجود ہیں کسی ایک کو ہاں بولیں ۔۔۔مہر بانو کو اورنگ کا ٹوکنا اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔
کون سے دو رشتے ۔۔۔۔پھر دانتوں میں زبان دبا لی ۔۔۔جھٹ گل کے زبان سے نکلا ۔۔۔
دیکھ رہے ہیں آپ کتنی بے شرم ہوگئ ہے ۔پوچھتی ہےکون سے دو رشتے ۔۔۔لو اب اس سے مشورہ کرکے اس کی شادی کریں گے ۔۔مہر بانو بھڑک اٹھی ۔۔۔
آرام سے بیگم بچی ہے ۔۔اور بیگم فیصلہ نہ تمہارا چلنا ہے نہ ہمارا یہ تو غزنوی کا ہے ۔۔۔جب میں نے میڑک کے بعد بلال کے لیے کہا تھا اس نے صاف کہہ دیا تھا وقت آنے پر وہ خود فیصلہ لے گا اس کی گڑ کی ڈلی کس کے حوالے کرنی ہے ۔۔۔۔۔
اور لالہ وہی فیصلہ دیں گے جو مجھے پسند ہوگا ۔۔۔گل کو اطمینان ہوا۔ ۔۔
آپ پہلے باپ ہو جو بچوں کو فیصلہ کرنے دیتا ہے ۔۔۔مہر بانو کا موڈ مزید خراب ہوا اسے اپنی ببہن کا بیٹا اویس پسند ہے جو اپنی تعلیم مکمل کرکے جلد پاکستان آجائے گا ۔۔۔اور یہ باپ بیٹا نہ جانے کیا سوچے بیٹھے ہیں آپا اشاروں اشاروں میں شادی کی بات کرچکی ہیں ۔۔۔ بیگم جان کس سوچ میں گم ہوگئ ۔۔۔۔اورنگ زئ نے آواز لگائ ۔۔۔
شرم کریں ساتھ ہی جوان بیٹی بیٹھی ہے ۔۔۔جان کہنے پر مہر بانو شرم سے لال ہوئ ۔۔۔
گل ہنس پڑی ۔۔۔۔۔
یہ ایک مہینہ ہوگیا میرے بچہ نے چکر نہیں لگایا ۔۔۔گل بات کروا میری غزنوی سے ۔۔۔پوچھو آیا کیوں نہیں ۔۔۔۔
گل نے فون ملا کر پہلے خود بات کی پھر امو سے کروائ ۔۔۔
________________________________________________
یار میں آج گاوں جا رہا ہوں ۔۔ لالہ نے بلایا ہے ۔۔۔
آفتاب نے اطلاع دی ۔۔۔
کیوں خیریت ۔۔۔۔شہروز نے سینڈوچ منہ میں رکھتے پوچھا ۔۔
پتہ نہیں کچھ بتایا ہی نہیں بس کہا آجاو ۔ ۔۔۔مجھے فکر ہورہی ہے نہ جانے کیا مسئلہ ہے کبھی ایسا ایمرجنسی بلایا نہیں ۔۔۔۔۔
پریشان نہ ہو سب خیر ہوگی تو کہہ تو تیرے ساتھ چلیں کیا ؟ غزنوی نے آفتاب کا کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔اور تسلی دی ۔۔۔
نہیں یاروں ابھی تو میں خود جاوں گا ضرورت پڑی تو تم یاروں کو ہی بلاوں گا ۔ ۔
ٹھیک ہے ۔۔۔اور میرے لیے اپنے گاوں کی سوغات ضرور لانا ہاں اور بھابھی کے ہاتھ کا ڈرائ فوٹ حلوہ لازمی ہو ۔۔بلاول نے فرمائش کی ۔۔۔
ہاں حلوہ لینے تو جارہا ہوں بس یہ بتایے ایک من ٹھیک رہے گا یا دس من ۔۔۔۔فرمائش پر آفتاب سلگا ۔ ۔
ہاہا یارا جتنادل چاہے لے آختم ہوجائے گا خراب نہیں ۔۔۔۔
جانتا ہوں موٹے ، اور تو بھی جان لیں کسی دن کھا کھا کر موٹاپے سے مر جائے گا ۔۔۔۔اچھا میں نکلتا ہوں ۔۔۔یہاں سے سیدھے حویلی ہی جاونگا ۔ ۔۔
تم جیساجس کادوست ہو تو دشمن کی قطعی ضرورت نہیں ۔۔۔بلاول نے دہائ دی ۔۔۔
بلاول کے اندز ِشکوہ پر سارے دوست ہنس دیے ۔۔۔آفتاب ان سے مل کر رو انہ ہوا ۔۔
________________________________________________
تبریز پارٹی کوریج کے لیے یونی میں سر گرم ہوگیا ۔۔۔پورا ہفتہ انگلش ڈپارٹ میں نظر نہ آیا ۔۔
غزنوی کا سکون پھر درہم ہوا جب اس نے شاپنگ مال میں تبریز کو لاروش کے ساتھ دیکھا ۔۔۔۔
چل یار شاپنگ پر چلتے ہیں ۔۔۔۔۔آفتاب کی یاد آرہی ہے ۔۔۔شہروز نے بےچارگی سے کہا۔ ۔۔۔
آفتاب کی یاد سے شاپنگ کا کیا تعلق ۔۔مسجد بولتا تو سمجھ بھی آتی ۔۔۔۔۔۔۔ انس نے لگایا ۔۔۔
دل بہلانے کے لیے یار شاپنگ کا کہا ۔۔۔۔ شہروز نے دانت دکھائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جا پھر غزنوی کو اٹھا اس کو سوتے سے اٹھانا بڑا مشکل ہوتا ہےسارے ایک ہی بنگلے میں ایک ساتھ رہتے تھے ۔۔۔۔غزنوی کو زبردستی راضی کیا۔ ۔۔
ارے آپ یہاں کیا کررہی ہیں ۔۔۔تبریز نے ایک ہفتے بعد لاروش کو دیکھا تو خوشگوار انداز میں آگے بڑھا ۔۔۔۔
چچچ بھائ آپ کو یہ مسئلہ کب سے ہے ۔۔۔۔۔ثنا نے ہمدردی کی ۔۔۔
کون سا مسئلہ ۔۔۔تبریز حیران ہوا ۔ ۔ ۔ ۔
کوئ نہیں ہوجاتا ہے اس عمر میں اکثر لڑکے لڑکیوں کو پریشانی ہوجاتی ہے ۔۔اب نے ڈاکٹر سے کنسلٹ کیا اگر نہیں کیا تو میرا مشورہ ہے پہلے وہاں جائیں پھر شاپنگ کریں ۔ ۔
تبریز گھبراگیا ۔۔۔کون سی بیماری نظر آگئ اسے دل میں سوچا اور زبان سے پوچھا ، میں آپ کی بات سمجھ نہیں پا رہا پلیز وضاحت کردیں ۔۔۔عاجزی سے گویا ہوا ۔۔۔
لو جی مسئلہ انکو ہے اور ان صاحب کو ہی نہیں پتہ ۔۔۔ابھی آپ نے پوچھا یہاں کیا کررہی ہو؟ تو بھائ آپ کی نظر کمزور یے جب ہی آپ کو ہمارے ہاتھ میں شاپنگ بیگز دکھائ نہیں دیے ۔۔۔ثنا نےمعصومیت سے تبریز کی الجھن دور کی ۔۔۔اس پورے عرصے میں خاموش لاروش ثنا کے انداز سے کب سے اپنی مسکراہٹ روک رہی تہی کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔۔۔۔
ایک پل تبریز کو شدید غصہ آیا مگر لاروش کے ہنسنے پر خود بھی جبراً مسکرادیا ۔۔۔
ان سے کافی دور کھڑا غزنوی بمشکل خود کو روکے کھڑا ہے وہ لاروش کے سامنے کوئ ہنگامہ کرکے اپنی پوزیشن خراب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ ۔ بس جلد مجھے بتانا ہوگا لاروش کو اور اس تبریز کے بچے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
________________________________________________ کلاس ختم ہوتے ہی غزنوی تیزی سے کلاس روم سے نکلنے لگا ۔۔۔انس نے بازو پکڑ کر روکا ۔۔کیا شہزادے اتنی اسپیڈ کیوں ۔۔۔۔
غزنوی نے غصے سے گھورا ۔۔۔۔ تیری بھابھی کا فری پریڈ ختم ہونے والا ہے آج صبح سے دیدار ِ سجن نہیں ہوا ۔۔۔اب معلوم ہوگیا تیرے کلیجے کو ٹھنڈ پڑگئ تو میں جا سکتا ہوں ۔۔۔ایک ایک لفظ پر زور دے کہ بولا ۔۔۔
جا میرے یار جی لے اپنی زندگی ۔۔۔انس نے مسخرہ پن دکھایا ۔۔ ۔
غزنوی کو اتنی جلدی تہی پلٹ کر جواب بھی نہیں دیا اور تیزی سے دوڑا ۔ ۔ ۔ ۔
میرا یار تو عاشق بنتا جا رہا ہے ۔۔۔اگر ان کے بیچ کوئ ظالم ولن آگیا تو ۔۔۔۔انس کو فکر ہوئ ۔۔
کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔ہمارا یار تو پیدائشی فاتح ہے ۔۔۔چھین لے گا ولن سے ۔۔۔ شہروز کے لہجے میں دوست کے لیے محبت کے ساتھ غرور بھی نمایاں تھا ۔۔۔
غرور جس نے ایک دن ٹوٹنا ہوتا ہے ۔۔۔وقت دوستوں کی محبت پر مسکرایا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیزی سے آتا غزنوی یونی لان سے جاتا تبریز سے ٹکرایا ۔۔۔
سوری یار جلدی میں تھا سر ہارون کی کال آئ تہی ۔مجھے جانا ہے نہیں تو تم سے بات چیت کرتا ۔۔۔بس لاروش سے ملنے آیا تھا ۔۔۔؟ -جاتے جاتے غزنوی کو تپانا نہ بھولا ۔۔ ۔
تبریز کو غزنوی کی پسندیدگی کا پتہ تھا ۔۔۔۔وہ خود بھی لاروش کو پسند کرنے لگا ۔۔۔اور اس نے کافی حد تک لاروش کو غزنوی سے بد ظن کردیا تھا ۔۔۔۔
غزنوی نے غصے بھری نظر سے لان میں دیکھا جہاں آج لاروش اکیلی بیٹھی تہی ۔ ۔ لمبے ڈگ بھرتا لاروش کے پاس پہنچا ایک جھٹکے سے اسے کھڑا کیا اور گھسیٹتے ہوئے کلاس کے پیچھے لے گیا ۔۔۔لاروش تو اس افتاد پر حیران و پریشان ہی رہ گئ کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ذہن ماوف ہوگیا ۔۔۔ہوش تب آیا جب جارحانہ جھٹکے سے ہی کلاس کی دیوار کے پاس دھکیلا ۔۔۔۔
کیا بد تمیزی ہے ۔۔۔۔لاروش ساری طاقت لگا کر چیخی ۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئ مجھے چھونے کی۔ ۔۔یہاں لانے کی ۔۔۔
یہ تو کچھ بدتمیزی نہیں ہے اگر آج کے بعد دوبارہ تبریز کے ساتھ نظر آئ تو وہ حال کرونگا یاد رکھوگی ۔۔۔بد تمیزی کیا ہوتی ہے ۔۔۔غزنوی بولا نہیں غرایا ۔۔
کیوں تم میرے باپ ہو جو تمہارا کہا مانو ۔۔۔؟ تنک کر جواب دیا ۔۔۔۔
باپ تو ہوں تمہارے بچوں کو ۔۔۔برجستہ غزنوی نے کہا ۔۔۔۔غزنوی کی حرکت اور اب بےہودہ بات نے لاروش کا دماغ کو مزید گھمایا ۔۔۔اس کا ہاتھ اٹھا تھپڑ لگانے کے لیے ۔۔۔۔مگر راستے ہی میں غزنوی نے تھام لیا ۔۔۔۔اور فورا کلائ موڑ کر اس کا چہرہ کلاس کی دیوار سے لگایا اور پشت غزنوی کی طرف ہوگئ۔۔۔لاروش تو اس حرکت پر سن ہوگئ ۔۔۔مزاحمت بھی نہ کرسکی اگر مزاحمت کرتی تو یقیناً غزنوی سے ٹکراتی ۔۔۔ ۔ غزنوی نے۔۔۔مگر اس دوران فاصلہ برقرار رکھا ۔۔۔۔۔۔۔
نہ میری سانوریا جانو میں ابھی عشق میں اتنا نکما نہیں ہوا کہ تھپڑ کھا لوں ۔۔۔ایک بات کان کھول کر سن لو دماغ میں بیٹھالو تم مجھے پسند آگئ ہو ، تم سے محبت کرنے لگا ہوں ۔۔۔اگر اب تبریز تمہارے آس پاس بھی نظر آیا تو سانوریا تم کو تو نہیں مگر اس تبریز کو جان سے ضرور مار دونگا ۔۔۔۔تم میری ہو صرف میری ۔،۔جو چیز مجھے پسند آجائے وہ میری ہوتی ہے آسانی سے مل جائے ٹھیک ورنہ چھین لینے کی صلاحیت مجھ میں ہے ۔۔۔۔ہاتھ مڑنے کی تکلیف سے زیادہ لاروش کو غزنوی کی باتیں تکلیف دے رہی ہے ،رولا رہی ہے ۔۔۔غزنوی نے لاروش کے ہاتھ چھوڑا ۔۔۔۔لاروش تڑپ کر سیدھی ہوئ ۔۔۔ غزنوی کو لاروش کے آنسو اچھے نہ لگے ہاتھ بڑا کر آنسو صاف کرنا چاہا ۔۔۔تو لاروش تیزی سے سائیڈ میں ہوئ ۔۔۔
سانوریا ایسی احتیاط اپنے سجن سے۔۔۔۔۔خیر برداشت کی تمہاری یہ ادا بھی ۔۔۔۔غزنوی کا اظہار محبت جو کہ ٹارچر زیادہ تھا کرکے یکسر ہی لہجہ محبت بھرا ہوگیا ۔۔۔۔
بہت اچھی لگتی ہیں یہ کالی آنکھیں ۔۔۔۔یہ خوبصورت بھرے بھرے ہونٹ دل چاہتا ہے ۔۔۔۔۔اس غزنوی نے معنی خیزی سے دیکھا جملہ ادھورا چھوڑا ۔۔۔ ۔
لاروش نے دہل کر اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔۔
غزنوی مسکرایا ۔۔۔۔
نہ نہ میری سانوریا جانو ڈرو نہیں جب حق ہوگا تب ہی انھیں چومیں گے ۔۔۔بس ابھی تو دیدار کر کےہی دل کو بہلانا پڑے گا ۔۔۔
غصے وشرم سے لاروش کے گلابی پن میں سرخی چھلکنے لگی ۔۔۔۔
گلابی اور سرخ رنگ غزنوی کو بے خود دیوانہ بنا رہاہے ۔۔۔خود پر کنڑول کرناغزنوی کو مشکل لگ رہا ہے ۔۔۔۔اس سے پہلے کوئ شرارت بھری گستاخی ہو غزنوی نے جانا بہتر سمجھا ۔۔۔مگر جاتے جاتے ایک بار پھر یاد دہانی کروائ ۔۔۔
تم بہت خوبصورت پری ہو جو صرف میری ہے۔۔۔آئ لو یو سانوریا ۔۔۔۔میں جو کہتا ہوں کرتا ہوں ۔۔۔اس لیے سانوریا جانو کیئر فل ۔ ۔۔۔محبت سے ہاتھ اس کے بالوں میں پھیر کر چلا گیا ۔۔۔
غزنوی کے جاتے ہی بے دم ہوتے ہی لاروش وہیں بیٹھ گئ ۔
۔آنسو تیزی سےرخسار کو بھگونا شروع ہوگئے۔۔آہستہ آہستہ سسکیاں نکلنے لگی ۔۔۔۔۔لاروش کو اپنی بے بسی پر رونا آیا ۔۔۔وہ سوائے غصے کے کچھ نہ کرسکی ۔۔۔۔سب پیریڈ چھوڑ کر اکیلی ہوسٹل آگئ ۔۔۔۔ باربار منظر سوچ سوچ کے رونا آرہا ہے ۔۔۔دل چاہ رہاتھا اپنے بالوں کو ہاتھوں کو آگ لگا دے مگر سب کو پھر کیا جواز دیتی ۔۔۔۔ثنا کی آمد پر بھی لاروش خود کو سنبھال نہیں پائ ۔۔۔اس کے استفسار پر سب بتادیا ۔۔۔۔
آج مجھے یونی میں کیوں چھوڑ کر آگئ ۔۔بے حد تھک گئ لنچ روم میں لے آو ۔۔۔۔پیاری لادو روم میں آتے ہی ثنا باتیں کرنا شروع ہوگئ ۔۔۔۔۔
میں نہیں جا رہی لاروش نے اپنا رخ ثنا کی طرف کیا ۔۔۔۔
کیا ہوا ۔۔تم۔ رو رہی تہی۔ ۔۔بھرائ آواز پر ثنا کو تشویش ہوئ ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ثنا کے گلے لگ کر پھر رونا شروع ہوئ ۔۔۔
کیا ہوا یار بتاو مجھے پلیز ۔۔۔۔چپ کرو شاباش پانی پیو ۔۔۔ہاں اب بتاو کیا ہوا ۔۔۔سنجیدگی سے لاروش کو دیکھنے لگی ۔۔۔
آج یونی میں غزنوی نے میرا ہاتھ پکڑا اور ۔۔۔۔۔ ۔۔۔
یہ تو غلط کیا اسے تم پسند ہو ۔۔۔تم کو وہ پسند نہیں ، پھر وہ کیسے تم پر اپنا حکم چلا سکتا ہے ۔۔۔ثنا غصے سے بھڑکی ۔۔۔۔
اور تم رونا تو بند کرو ۔۔۔نکالتے ہیں کچھ اس مسئلے کا حل ۔۔۔۔شام سے رات ہوگئ ۔۔۔لیکن کوئ حل سامنے نہ آیا ۔۔۔تھک ہار کر ثنا ڈنر کے لیے ڈائننگ ہال لے گئ تاکہ تھوڑا مائنڈ فریش ہو ۔۔۔۔سونے سے پہلے لاروش نے مورے اور شادان سے باتیں کیں ۔۔جب جا کر ذہن تھوڑا پرسکون ہوا ۔۔۔۔
جاری ہے
