Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26
وجہ کیا تھی کن انکھیوں سے دیکھتے گل جاناں نے ورشہ کو دیکھتے سوال کیا ۔۔۔ورشہ کا چہرہ سرخ ہورہا تھا شرم سے نہیں غصے سے
کیا کہنا وہ کہہ رہی گل میرا ہے دوسری کہہ رہی تھیں میرا ہے پھر گل شیر کو بلوایا ۔۔۔پہلے تو اس نے کہا میں ان کو نہیں جانتا ۔۔لڑکیوں سے پوچھا تو وہ بھی کہنے لگی یہ ہمیں نہیں جانتے لیکن ہمارا کرش ہیں ۔۔ان لڑکیوں کی ڈھٹائ دیکھو سب کے سامنے ہی گل شیر کو پرپوز کیا اور کہنے لگی گل شیر دونوں میں سے کس کا ہے ۔۔۔بسمہ پل بھر رکی ۔۔۔ورشہ کا چہرہ رونے والا ہوا ۔۔
گل شیر نے کیا کہا ۔۔۔؟ نشاء نے فوراً پوچھا
میں اپنی بیوی کا ہوں میری شادی ہوچکی ہے ۔۔اللّہ پاک کے فضل سے میں اپنی بیوی سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔یہ کہہ کر چلا گیا دونوں شرمندہ ہوگئ بات ختم ۔۔۔۔۔۔۔بسمہ نے بات ختم کی ۔۔
سچ میں گل شیر نے یہ کہا ورشہ کا چہرہ آنافاناً خوشی سے بھر گیا ۔۔۔
ہاں یہی کہا لیکن تو اتنی خوش کیوں ہورہی ہے ۔۔بسمہ نے مشکوک نگاہوں سے گھورا ۔۔۔
وہ میرے ہی تو ہیں ۔۔۔ورشہ شرمائ
کیا ۔۔۔بسمہ اور نشاء کی چیخ نکلی ۔۔چڑیل تونے ہم سے چھپایا ۔۔۔
موقع ہی نہیں ملا اب ملا تو بتادیا ۔۔۔ورشہ نے بتیسی دکھائ ۔۔
چلو بس بہت باتیں ہوگئ ۔۔۔اب سونے کی تیاری پکڑو ۔۔۔
یہ ہفتے پڑھائ اور اسی روٹین میں گزرتے جارہے ہیں ۔۔
ہم کب تک اس ہوسٹل میں قید رہیں گے ۔۔۔کب آئے گا کوئ شہزادہ مجھے اس قید سے رہائ دلانے آہ میں کب تک رہونگی بتادو مجھے خدارا بتادو ۔۔ نشاء نے لہرا کر ماتھے پر ہاتھ رکھ مصنوعی آنسو صاف کرتےسامنے دونوں ہاتھ جوڑے ۔۔
کینز حدادب تہمہیں کوئ حق نہیں پہنچتا ملکہ سے سوال کر نے کا ورشہ نے سرزش کی ۔۔
شکریہ ورشہ ہم تمہاری کینزی سے خوش ہوئے آج ہی گل شیر لالہ کو حکم دیں گے ہمیں کراچی گھومانے لے جائیں ۔۔۔گل جاناں نے ادا سے ورشہ کا کندھا تھپکا ۔۔جسے زور سے ورشہ نے جھٹکا اور تنکی
دفعہ ہو ملکہ میں نے خود کو کہا ہے ۔۔۔
تم ملکہ مسور تو ہو سکتی ہو لیکن ملکہ نہیں ۔۔گل جاناں بھی کیوں پیچھے رہتی ۔۔۔
نشاء تم خود بتاو ہم دونوں میں سے ملکہ کون ہے ورشہ نے گیند نشاءکے کورٹ میں پھینکی ۔۔۔جو دونوں کی جوابی منتظر نظروں سے گھبرائ ۔۔وہ ایک دن گل جاناں ایک دن ورشہ برابر ملکہ ہو ۔۔۔
یہ کیسا جواب ہے ۔؟ ایسا جواب آنسہ نشاء ہی دیں سکتی ہیں ۔۔گل جاناں نے طنز کیا ۔۔
اب تینوں نے بسمہ کی طرف دیکھا ۔۔۔وہ بتائے ملکہ کون ۔۔
نہایت شان سے اپنی طرف تکتے بسمہ مسکرائ ۔۔ہاتھ ہوا میں لہرا کر خود تک لائ ۔۔اور نہایت مصنوعی شریں آواز میں بولی ۔۔۔میں کینزوں سے بات نہیں کرتی ملکہ ہوں آخر ۔۔۔
لو جی قصہ ہی مک گیا تیسری دعوے دار سامنے آگئ ۔۔۔
اوہ یہاں کونسا تخت و تاج یا بادشاہ موجود ہے جو تم لوگ ملکہ کے پیچھے ہی پڑ گئ ۔۔نشاء کو غصہ آیا ۔۔۔ہم چاروں شہزادیاں ہیں بس اب کوئ کچھ نہ کہے بتاو کہاں جانا ہے ۔۔۔نشاء دہاڑی
ہاں بتا رہے ہیں تم کو بھی غصہ آتا ہے ۔۔۔ورشہ نے سہمنے کی ایکٹنگ کی ۔۔۔
نشاء نے برا منہ بنایا ۔۔۔جی میں بھی انسان ہوں ۔۔۔
اچھا بتایا ورنہ ہم تو اب تک سوچ رہے تھے تم کونسی مخلوق ہو ۔۔بسمہ نے طنز کیا ۔۔
بس یار تم سب چونچیں بند کرو ۔۔۔میں گل شیر لالہ سے بات کرلو ۔۔
تھوڑی دیر بات کرکے فون رکھ دیا ۔۔اور دوستوں کی جانب دیکھا جو ہلکی آواز میں کھسر پھسر کرنے میں مصروف ہیں۔۔بات کم بھن بھن زیادہ سنائ دے رہی تھی ۔۔۔
ہہہہمممم گل نے گلا کنکھارا ۔۔۔گل کی جانب تینوں نے دیکھا ۔۔
ہاں جلدی بتا کہاں جارہے ہیں ورشہ بولی ۔۔۔
لالہ منع کررہے ہیں ابھی ان کے پاس وقت نہیں نیکسٹ ویک لے چلیں گے ۔ ابھی ہم صرف الہ دین پارک جاسکتے ہیں وہ قریب ہے ۔۔۔
الہ دین یہ وہی ہے نہ جس کے پاس چراغ تھا اس نے اپنا پارک بنالیا ۔۔کیوں چراغ کے جن نے اس کی ضرورتیں پوری کرنی بند کردی تھی کیا؟ نشاء بول پڑی ۔۔
ہاں کیوں کہ الہ دین کے جن نے شادی کرلی ۔۔۔۔
اوہ چچ چچ ایساہوگیا جنات کی بیویاں بھی ہماری بھابھیوں کی طرح ہیں فساد ڈالا دیا اور الگ کردیا ۔۔نشاء اداس ہوئ ۔۔۔
بچارہ الہ دین اسے تو اتنی عادت ہوگئ ہوگی بیٹھے بیٹھائے ہر کام کرنے کی اب پارک کیسے چلا رہا ہوگا ۔۔۔الہ دین کی فکر ہی کم نہیں ہورہی بچاری تینوں کو مجبوراً الہ دین کا سپاس سننا پڑ رہاتھا ۔۔
ہم جارہے ہیں نہ تم پوچھ لینا ۔۔شاباش اب چلو تیار ہوتے ہیں ۔۔گل نے پچکارا
اب تو الہ دین انکل کی عمر ہوگئ ہوگی اونچا سنتے ہونگے ۔۔ہائے مجھے ان سے اونچا بولنا پڑے گا ۔۔۔پریشانی سے پھر بولی ۔۔
نہیں ان کے کان اب تک ٹھیک ہیں پرانی غذا کھائ ہے ہماری دادو کی طرح وہ باتیں بھی سن لیتے ہیں جو دیوار پار کی ہو ۔۔بسمہ نے چبا چبا کر کہا بس نہ چلے نشاء کو ہی چبا جائے ۔۔تینوں کو بیک وقت خود پر ترس اور نشاء پر غصہ آیا دل تو یہی چاہا رہا تھا چبا جائیں مگر کیا کرے حرام کھاتے نہیں ورنہ اب تک نشاء کا نام ونشان مٹ چکا ہوتا ۔۔۔۔اللّہ اللّہ کرکے چاروں تیار ہوئ ۔۔بسمہ نے البتہ عبایا کی جگہ چادر لی ۔۔اور پینٹ اور ساتھ ٹوپ پہنا جس کی آستین ہاف تھیں ۔
ہمم کہاں جارہے ہیں بسمہ ۔۔۔گل جاناں نے پوچھا ۔۔
الہ دین پارک ۔۔۔بسمہ نے حیرانگی سے جواب دیا اتنی جلدی بھول گئ ۔۔ابھی تو ہم نے ڈیسائیڈ کیا ۔۔۔
اچھا مجھے لگا ہم برطانیہ جا رہے اور تم جیسا دیس ویسا بھیس پر عمل کررہی ہو۔
نہیں یار یہ تو فیشن ہے ۔۔۔ گھومنے جا رہے ہیں سیلفیاں لیں گے ۔۔۔یونی تو میں عبایا پہنتی ہوں کبھی کبھی فیشن کر لینا چاہیے بسمہ نے کہا ۔۔
فیشن کے نام پر جو بڑے شوق سے انگریزوں کی نقل کی ہے کبھی ان انگریزوں نے شلوار قمیض کو اہمیت دی بلکہ کئ ممالک میں عبایا اور حجاب پر پابندی عائد ہے اس لباس پر پابندی جو آپ کو ڈھانپ رہا ہے ۔۔حیرت کا مقام ہے ۔۔اور ایسے لباس پہننے پر زور کہ سب دکھائ دے ۔۔ لباس انسان کی پہچان ہوتا ہے ۔۔یہ لباس سامنے والے کو بتا رہا ہے تم کافی حد تک آ زاد خیال لڑکی ہو ۔۔تم آزادی کے نام پر کوئ بھی برا کام کرنے پر صرف چند پل ہی دیر کروگی ۔۔اور وہ کام کر گزروگی جو آزادی کے نام پر انسانیت کے درجے سے گرا دے ۔۔۔لڑکیوں کو باوقار لباس پہنناچاہیے تاکہ اس کے سامنے آنے والاہر نامحرم اس سے بات کرنے سے پہلے سو بار سوچے ۔۔تمہارے اس پینٹ میں تہاری ٹانگیں صاف واضح ہیں کہ یہ کتنی پتلی ہیں ۔۔باہر موجود نامحرم با خوبی واقف ہونگے ۔۔۔اس کی مثال یوں ہے جیسے باہر گندگی کا ڈھیر ہے اس پر موجود مکھیاں اور جراثیم موجود ہے ۔۔۔تمہارا لباس گندگی اور اس پر نامحرموں کی نظر مکھی اور جراثیم سے ہے ۔۔
اگر تم نے شلوار قمیض اور عبایا کا استمعال کیا ہوتا تو تم چھپ جاتی نامحرموں کی ایکسرا کرتی نگاہوں سے ۔۔۔
اگر ایسے کپڑے پہننے کا شوق ہے تو گھر کی چار دیواری میں یہ شوق ضرور پورا کرو ۔۔۔تمہارا گھر تمہارا محل جس کی تم ملکہ ہو کسی کی مجال نہیں ہوگی تمہاری طرف بری نظر سے دیکھے ۔۔۔اسلام میں سختی ہے لیکن اتنی بھی نہیں ۔۔اپنے محرم کے لیے سجنے سنورنے کا حکم ہے ۔۔۔اپنے شوق شادی کے بعد محرم کے سامنے پورے کرو ۔۔۔
یہاں بیٹھو ۔۔ہاتھ پکڑ کر گل نے بسمہ کو بیڈ پر بیٹھایا ۔۔۔پھر کہنے لگی ۔۔اسلام تمہارا دین تمہارا خیرخواہ ہے تمہیں پردے کی تلقین گندی نظروں بدخواہوں اور حسد سے بچانے کے لیے کرتا ہے ۔مذہب اسلام کو تمہارے بننے سجنے کی بھی پرواہ ہے اس لیے اپنے شوہر کے لیے تم ہر لحاظ سے سج سکتی ہو اس کی تعریف و توصیف پر تمہارا حق رکھ دیا گیا ۔۔۔مجھے لالہ کی دوست مینیزہ نے بتایا تھا میں تم کو مذہب کی رو سے ہی بتاتی ہوں ہوسکتا میری بات تمہارے دل میں نہیں اتری لیکن کامل قرآن کی بات دل میں اتر جائے ۔۔
اے بنی آدم ! ہم نے تم پر لباس نازل کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو ڈھانپتا ہے اور زینت بھی ہے اور لباس تقوی ہی کا بہتر ہے یہ اللّہ پاک کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے شاید لوگ نصیحت حاصل کریں ۔۔اے بنی آدم !ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں فتنے میں مبتلا کردے جیسا کہ اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوادیا تھا اور ان سے ان کے لباس اتروادیے تھے ۔۔تاکہ انہیں شرم گاہیں دکھائے ۔۔شیطان اور اس کاٹولہ تمہیں دیکھ رہا ہے اس طرح سے کہ تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ، ہم۔نے شیاطین کو ان کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے اور جب یہ لوگ فحاشی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباو اجداد کو ایسا کرتے پایا ہے اور اللّہ ہی نے اس کا حکم دیا ہے ان سے کہو کہ اللّہ فحش کاموں کا حکم نہیں دیتا اللّہ سے وہ بات منسوب کرتے ہو جس کا تمہارے پاس کوئ ثبوت نہیں ہے ۔۔سورة العراف آیت نمبر26’28
لباس وہ نعمت ہے جو اللّہ پاک نے اولادآدم کو خصوصی عطا کیا اور دنیا کی دوسری مخلوق کے لیے نہیں ٹھرایا گیا ۔۔لباس جیسی نعمت کا مقصد جسم قابل ستر جگہوں کو یعنی کے ان حصوں ڈھانپنا ہے جن کو برہنہ رکھنا باعث ِ شرم ہے ۔۔لباس تقوی ہے ۔۔ اللّہ پاک کے خوف سے ان امور کو چھوڑ دینا جس کو اللّہ پاک نے منع کیا ہو ۔۔اور جن امورکو اللّہ پاک نے پسندیدہ قرار دیا یا حکم دیا اسے ماننا تقوی ہے ۔۔
اللّہ نے حضرت آدم اور حضرت حوا کو جنتی لباس عطا کیا اور ایک درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا ۔۔مگرشیطان کے ورغلا نے پر اللّہ کے منع کردے درخت کا پھل چکھ لیا جس سے دونوں کے جسم پر موجود جنتی لباس اتر گیا اور وہ پورے برہنہ ہوگئے ۔۔ دونوں اپنے آپ کو برہنہ دیکھ کر حیا کی فطری صفت نے اپنی برہنگی کو چھپانے کے لیے درختوں کے پتوں کا سہارا لیا ۔۔۔یوں جنت سے دنیا میں نکلوائے گئے ۔۔اگرچہ پیدا دنیا میں سکونت کے لیے ہی کیا گیا تھا مگرامتحان تھا ۔۔۔شیطان مردود کا انسان پریہ پہلا حملہ تھا جس کا مقصد انسان کو برہنہ اور بے حیا بنانا تھا ۔۔۔شیطان روز اول سے اسی مقصد کی کوششوں میں مصروف ہے اور مختلف طریقوں سے اپنی پر فریب چالیں چل رہا ہے ۔۔اور مختلف لوگوں پر حملہ ور ہوئے ایسے فیشن دنیا میں متعارف کروا رہاہے جس میں ستر پوشی سے زیادہ عریانیت ہے ۔۔ایسا لباس جو تقوی کی بجائے بے ہودگی کی صف میں ہے ۔۔
فتنہ برہنگی کے لیے اس نے عورت کو اپنا آلہء کار بنایا ہے ۔۔عورت بنی سنوری غیر مناسب لباس میں مرد کے سامنے آتی ہے تو مرد متقی ہونے کے باوجود عورت کی خواہش میں گرفتار ہوجاتا ہے ۔۔۔
یہ ستر کیا ہے ۔۔اکھتر سے پہلے جو آتا ہے ۔۔نشاء نے سوال کیا ۔۔
گل جاناں نشاء کے سوال پر سر پکڑ بیٹھی۔تم جب سے ستر پر اٹکی ہو ۔۔میری باقی بات نہیں سنی ۔۔۔
نہیں سب سنی اور سمجھ بھی لی ۔۔جو سمجھ نہیں آیا اسی کا پوچھا ہے ۔۔۔نشاء معصومیت سے بولی ۔۔
بتاتی ہوں ۔۔۔ستر ایک شرعی اصطلاح ہے جس سے مراد ہے بدن کے اعضاء کے ان حصوں کو دوسرے سےچھپانا جنہیں ننگا رکھنا حیا کے منافی ہیں ۔۔البتہ مجبوری کی حالت اس سے مستثنی ہے ۔۔
اب ستر کو لیکر مختلف محدثین اور فقھا نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جو سمجھا ہے ان میں سے کچھ کا بتاتی ہوں نشاء جو بات سمجھ نہ آئے پلیز اسی وقت پوچھنا تاکہ یکسوئ سے سمجھ آجائے ۔۔۔امام مالکی فقھاءکی رائے میں عورت کا ستر پورا جسم ہے سوائے چہرے سر گردن دونوں ہاتھ اور دونوں پیر کے ۔۔۔
حنبلی فقھا کے نزدیک عورت کے ستر کی حد چہرہ گردن سر دونوں ہاتھ دونوں پیر اور پنڈلیوں کے سوا پورا جسم ہے ۔
حنفی علماء کی رائے ہےشرعی محرم کے سامنے ناف سے زانو تک اور کمر سے لیکر پیٹ کھولنا حرام ہے سر چہرہ بازو پیر کھولنا گناہ نہیں ہے ۔۔
شرعی محرم باپ بھائ چچا تایا دادا نانا ماموں ہیں ۔۔۔سب فقھا کے نزدیک یہی ہے عورت کا سر ہاتھ گردن چہرہ محرم۔کے سامنے کھل جانا حرام نہیں ہے لیکن بلا ضرورت کھلا رکھنا ممنوع ہے ۔۔یعنی عورت ایسا لباس نہیں پہنے گی جس سے سر چہرہ بازو اور گردن اور پیر محرموں کے سامنے ہوں ۔۔اگر کسی وقت یہ کھل جائیں تو حرام نہیں کیوں کہ ایک ہی گھر میں رہتے کام کرتے وقت ایسا ہونا ممکن ہوتا ہے نظر پڑ جائے ۔۔
تو ہمیں کیسا لباس پہننا چاہیے ۔۔بسمہ نے پوچھا ۔۔
لباس لیتے وقت خیال رکھو کہ اتنا باریک نہ ہو جسم کا رنگ چھلکے یا نظرآئے ۔۔
جب سلواو تو اتنا تنگ نہ ہو جسم کے عضو نمایاں ہوں۔۔
اتنا چھوٹا نہ ہو کہ پنڈلیاں بازو گردن سینہ ڈھانپنے سے قاصر رہے ۔۔
ان تین اوصاف کو دھیان میں نہ رکھا جائے تو ان عورتوں کا شمار ان عورت میں ہوگا جو کپڑے پہننے کے باوجود برہنہ ہوتی ہیں ۔۔اور حدیث پاک میں بھی لباس کی بے حد اہمیت ہے ۔حدیث پاک میں آیا ہے ۔۔۔
ان مردوں پر لعنت ہے جو عورتوں جیسا لباس پہنتے ہیں اور ان عورتوں پر بھی لعنت ہے جو مردوں جیسا لباس پہنے ۔۔۔سنن ابی داور ۴٠٩٨ بخاری ۵٨٨۵
حضرت عائشہ سے روایت ہے ایک مرتبہ حضرت اسما باریک لباس پہن کر آئیں تو آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا ۔۔اور ارشاد کیا اے اسما جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے بدن کاکوئ حصہ دکھائ نہ دے سوائے منہ اور ہتھیلی کے ۔۔سنن ابی داود ۴١٠۴۔۔اور یوں سمجھ لو ہر وہ لباس جو ستر پوشی کرے زیب اور زینت دے اور موسمی اثرات سے محفوظ رکھے وہ شریعت اسلامی پر پورا اترتا ہے ۔۔ہمارے مذہب نے کسی خاص وردی کو اسلامی لباس نہیں دیا بلکہ وہ لباس جو اصولوں پر اترے وہ لباس اسلامی ہے ۔۔چاہے مرد کا لباس ہو یا عورت کا ۔۔۔یہ ضرور تنبیہ ہے ہم مختلف ضرور لگیں یعنی مسلم اور غیر مسلم کا فرق نمایاں رہے ۔۔۔۔۔
۔افسوس آجکل لباس سے بے حیائ عام ہے ۔۔خواتین اتنے فٹ پہنتی ہیں لگتا ہے کپڑا پہن کر سلوائیں ہیں گلے اتنےبڑے ہوتے ہیں مجھے شرم آجاتی ہے اور باریک بھی اور باریک نہ بھی ہوں تو گردن بازو دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے گوری ہے یا کالی ہے ۔۔۔ورشہ نے بھی تبصرہ کیا ۔۔
عورتوں کے پردے کے احکامات پھر کبھی بتاونگی ابھی الہ دین چلیں اور تم جلدی سے عبایا اوڑھ لو کپڑے بدلنے میں وقت لگے گا ۔۔
الہ دین پہنچ کر خوب انجوائے کیا اور جھولوں کو دیکھ کر نشاء بچوں کی طرح خوش ہوئ الہ دین سے احوال پوچھنے کے بجائے جھولے جھلنے کو ترجیح دی ۔ہوسٹل آکر یاد آیا چچا الہ دین سے تو ملی ہی نہیں ۔۔
بسمہ الہ دین چچا سے ملاقات کرنا بھول گئے ہم غنودگی میں جاتی بسمہ کے گال تھپتھپاتے پوچھا ۔۔
میری بہن دیکھ سوجا بسمہ نے کروٹ لی ۔۔۔
ہاں تو سونا ہی ہے مگر الہ دین سے کب ملیں گے ۔۔۔
بسمہ نے گھورا ۔۔لیٹے سے اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔تکیہ کے پاس پڑا موبائل اٹھایا اور عاجزی سے بولی ۔۔یہ موبائل لو گوگل خالہ سے پوچھ گچھ کرو ۔۔الہ دین کا جن ایک فرضی الف لیلی اسٹوری ہے ۔۔جو رائٹر نے خود کردار تخلیق کیا ۔۔
کیا ۔۔نشاء چیخی ۔۔۔
تم لوگوں کو شرم نہیں آئ مجھ معصوم کو الہ دین کی فکر میں مبتلا دیکھ کر جب ہی بتا دیتی سارا دن الہ دین کا غم مانتے گزرا میں ٹھیک سے انجوائے بھی نہیں کرپائ ۔۔نشاء تنکی ۔۔۔
ہیں انجوائے نہیں کیا ۔۔کیسے انجوائے کرتے ہیں ذرا مجھے بھی تو بتانا ۔۔بندریاکی طرح ایک جھولے سے دوسرے جھولے کی طرف دوڑ لگاتی رہیں یہاں تک بچوں کے جھولوں تک کو نہ چھوڑا ۔برگر، پیزا ،دہی بھلے اور نہ جانے کیا الا بلا ٹھونسا اور ہر ٹھیلہ، اسٹال اور دکان میں جانا اپنا فرض سمجھا شاپنگ کروں نہ کروں رس گلے دیکھنی ہر شاپ ہے بسمہ نے نشاء کے جملے دہرائے ۔۔تمہارا بس نہیں چلا ورنہ تم نے واپس آنا ہی نہ تھا ۔۔زبردستی تو کریم میں بیٹھایا اور محترمہ فرماتی ہیں انجوائے نہیں کیا سوجا نہیں تو سب کو صبح تک مرحوم ملی گی ۔۔۔بسمہ خونخوار لہجے میں غرائ
ہاں سو رہی ہوں دیکھو ۔۔میری آنکھیں بند ہیں ۔۔میں نیند میں ہوں اور میں سو گئ ۔۔نشاء چادر میں دبکی آنکھیں موند کر بسمہ کو سونے کا یقین دلایا ۔۔یاللّہ مرحوم بننے سے بچا لے ۔۔۔۔آمین دہل کر دل میں دعا کی ۔۔
نشاء کے اس عمل پر بسمہ کو ہنسی آئ مگر دبا گئ ۔۔دوبارہ اس پگلی روح کو چھیڑنا خود کے پاوں پر کلہاڑی مارنا ہے ۔۔اور چادر تان خود بھی سونے کے لیے لیٹ گئ ۔۔۔
یونی میں فرسٹ سمسٹر اسٹارٹ ہوئے اور حیرت انگیز طور پر فور گروپ اکنامکس میں پاس ہو ہی گیا ۔۔۔
سر مجھے یقین نہیں آرہا میں پاس ہوگئ ۔۔نشاء کھلکھلائ ۔
واقعی میں یقین تو مجھے بھی نہیں آیا کہ پاسنگ مارکس کیسے حاصل کیے ۔۔بہت ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہوگا نہ پاسنگ مارکس لینے کے لیے ۔۔شادان نے بھی نشاء کی بات پر شگفتہ طنز کیا ۔۔
نہیں تو سر ایڑی چوٹی پرزور کیوں لگانا چوٹی تو میں باندھتی ہی نہیں اور ایڑی اتنی نازک ہیں سردیوں میں پھٹ جاتی ہیں ان کا مجھے بڑا خیال رکھنا پڑتا ہے ۔۔پنجے کا کہہ سکتے ہیں کیوں کہ یادکرتے یوئے میں چار دفعہ پنجوں کے بل ٹہلی تھیں وہ بھی اس لیے کہ میرے پیر سن ہورہے تھے ۔۔ لیکن پاس ہونے کے لیےتو یاد کرنا پڑتا ہے اور اسکے لیے پاوں نہیں ذہن ہونا چاہیے ۔
جو کے تمہارے پاس بالکل نہیں ہے۔۔۔شادان ایڑی چوٹی محاورہ بول کر پچھتایا ۔۔۔
یہ بتایے آپ نے بی اے میں کتنے نبمر لیے تھے شادان نے پھر سوال کیا اور ایک اور غلطی کر بیٹھا ۔۔۔
کیا بتاو سر جس جگہ بورڈ پڑا وہاں کے سر بے حد اچھے تھے صرف پانچ سو روپے نوٹس بک دی اور کہا بیٹا بے فکری سے پیپر کرو میں ہوں نہ ۔۔سر کیا اسٹائل سے کہا تھا میں ہوں نہ شاہ رخ خان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔۔پھر تو میں نے زبردست پیپر لکھا ہاتھ دکھ گئے تھے ۔۔پورے اسی نمبر آئے تھے ۔۔میرے پاپا بہت خوش ہوئے ۔۔کہنے لگے تم اکنامکس میں ماسٹرز کرو ۔۔ماہر معیشت بنو ۔۔تمہارے بھائ نے بزنس میں ٹاپ کیا تم معیشت پڑھ کر کمپنی میں آو ۔میری کمپنی کی معیشت تم کو ہی دیکھنا ہے اور میں اپنے بابا کا خواب پورا کرنے آگئ ۔۔۔۔
بچارہ شادان کو قطعی امید نہ تھی اس قدر نقل سے پاس ہونے اور مزے سے اعتراف کرنے پر اور حیران بھی ہوا ۔۔معیشت بی اے میں اسطرح پڑھ کر اور اب پاسنگ مارکس حاصل کرکے کمپنی کی معیشت بھی نشاء کے کندھوں پر ہے ۔۔ایسا ہی حال بچاری گل جاناں کا بھی تھا اسے نشاء کے اتنے نکمے پن کی امید نہ تھی ۔۔۔جبکے بسمہ اور ورشہ نشاء کی بات پر زیر لب مسکراتی رہی باقی کلاس نے بھی تکلف سے کام نہ لیا ۔۔۔۔
سر مجھے لگتا ہے پاکستان کی معیشت کی جانچ پڑتال کے لیے نشاء جیسے ہی لوگ ہی ہیں جب ہی ملک کا بیڑہ غرق ہورہا ہے اور اللّہ توکل چل رہا ہے ۔۔۔
پیچھے سے جی آر نے تبصرہ کیا ۔۔۔
شادان نے اقرار میں سر ہلایا ۔۔۔اور پھر دوبارہ بولا
میرے سر میں درد کردیا ۔۔۔اللّہ کا شکر ہے کلاس ٹائم ختم ہوا ۔۔شادان نے برملا اظہار کیا اور چلاگیا ۔۔بچاری گل جاناں شرمندہ ہوئ ۔۔مگر جسے شرمندہ ہونا تھا وہ تو پاسنگ مارکس کی خوشی سے ہی نہال ہے ۔۔
گل جاناں کا گروپ اپنی مخصوص جگہ آیا ۔۔۔
گل جاناں نے نشاء کو لتاڑا ۔۔تجھے شرم نہیں آئ کیسے سر کے سامنے نقل کا اعتراف کیا ۔۔کچھ تو عزت رکھ لیتی ۔۔چھپالیتی بات ۔۔۔اب سر یہی سمجھیں گے ہم سب ایسے ہی ہیں ۔۔۔
تو یہ تمہاری کزن ورشہ اس نے بھی تو 40 نمبر لیے تھے تونے ایسے تو کچھ نہیں کہا جس دن بتا رہی تھی یہ بھی تو نقل سے ہی پاس ہوئ تم نے ہی خوشی خوشی بتایا میری مکھن کی ملائ مجھے تم ڈانٹ رہی ہو ۔۔تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے ۔۔نشاء روہانسی ہوئ
کرتی تو ہوں محبت تم کو جھیل تو رہے ہیں کیا اب گود میں اٹھا کر پھروں ۔۔۔جواب میں گل جاناں تڑخی
نہیں مکھن ملائ تم مجھے گرادوگی ۔۔۔نشاء نے ڈر کر ایسے منع کیا کہ جیسے گل جاناں گود میں اٹھا رہی ہے ۔۔
نشاء میرا نام گل جاناں ہے اور لالہ مجھے گڑ کی ڈلی کہتے ہیں یہ تم مجھے فضول ناموں سے نہ پکارا کرو ۔۔۔اور تم کو مجھ سے بڑی محبت ہے اگر ابھی کوئ چیتا آجائے تو تم نے مجھے بھول کر اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ جانا ہے ۔۔۔گل جاناں بیزاری سے بولی ۔۔
وہ چیتا ہے میرا مامو ں کاپتر ہے یا میرا سجن نہیں ۔۔۔ جو اس کی راہ میں پلکیں بچھا کربیٹھ جاوں۔ ۔۔اور نہ ہی میں جنگل کی رانی ہوں وہ مجھ سے مذکرات یا مشورہ کرنے آرہا ہے ۔۔بہنا چیتے کسی کےنہیں ہوتے گوشت کھانے آئے ہیں گوشت ہی کھائیں گے تو کیا چاہتی ہے میں اپنی ننھنی جان نہ بچاو اس کا لقمہ ء اجل بن جاو ۔۔۔نشاء تڑخی ۔۔۔۔
چھوڑو یار اب جو بے عزتی کلاس میں ہونی تھی وہ ہوگئ آئندہ کا لائحہ عمل بنا لو ۔۔بسمہ ان کی نوک جھونک سے تنگ آئ ۔۔۔
اگلی دفعہ کونسا معاشیات نے بدل جانا ہے وہی رہے گابس حل یہی ہے دل لگا کر پڑھو ۔۔اور نشاء محترمہ میں نے ابھی محنت سے پڑھا ہے ماضی میں نقل کی تھی ۔۔۔ورشہ نے نشاء کو کچھ دیر اپنے کم نمبروں اور نقل کا سن کر وضاحت دی ۔۔۔
تو میں نے بھی پنجوں کے بل زور دے کر محنت کی ہے نشاء نے پلٹ کر جواب دیا ۔۔
تو ٹھیک ہے لالہ کہتے ہیں محنت کروگے تو اس کا اچھا پھل پاوں گے ۔۔۔۔۔گل جاناں نے غزنوی کی بات بتائ ۔۔
تیرے لالہ باتیں اچھی کرتے ہیں اور تیرا نک نیم بھی کتنا اچھا ہے ایک بار پھر سوچ لے میں تیرے لیے اچھی بھابھی بنو گی ۔۔نشاء نے پھر پرپوزل رکھا ۔۔۔
میرے لالہ کی پسند بہت اعلی ہے ۔۔ان کو کالی بڑی آنکھیں ۔۔لمبا قد ایک گال پر ڈمپل خوبصورت گول چہرہ ۔۔گلابی رنگت ۔۔لمبے گھنے بال پسند ہیں ۔۔
آفیس کے اندر بیٹھے شادان سر درد سے بے حال تھا اس کا دل چاہا ان سے ریکویسٹ کرے اپنی آج کی نشست برخاست کردے ۔۔پھر اٹھا ہی تھا لیکن اگلی بات پر قدم زمین پر ہی جم گئے ۔ جو خبصورت نقشہ گل نے کھینچا شادان کے تصور کے پردے پر ایک چہرہ لہرایا ۔۔۔
شادان الٹے قدم واپس چیر پر بیٹھا ۔۔۔دل پریشان ہوا ۔پھر دوبارہ توجہ گل کی طرف کی ۔۔
اوہ یہ نقشہ تیرے لالہ نے کنویس پر بنایا ہوگا ۔۔یہ مجسمہ روئے زمین پر مل ہی نہ جائے ۔۔۔آئیڈیل کبھی نہیں ملتا ۔۔۔بسمہ نے طنز کیا ۔۔۔
روئے زمین پر ہی مل گیا تھا بہت خوبصورت تھیں ۔۔مگر قسمت گل جاناں کھوئ کھوئ بولی ۔۔۔ورشہ بھی اداس ہوئ ۔
مطلب کیا ظالم سماج آگیا تھا ۔جو تم نے تھیں بولا نشاء نے بے چینی سے پوچھا ۔۔۔
خود ظالم بن گئے تھے لیکن جب ہوش آیا تو ان کی شادی ہوگئ تھی ۔۔گل جاناں کی آنکھ نم ہوئ ۔۔۔
اوہ محبت پا نہ سکے ۔۔۔مجھے بڑا افسوس ہوا تیرا لالہ کا نمبر دے میں ان کو تسلی دونگی جو گزر گیا اسے بھول جائیں اور شادی کرلیں ۔بسمہ نے گل جاناں کا کندھے پر سر رکھا ۔۔۔
لو نمبر مانگ رہی ہو ابھی تک اس نے اپنے لالہ کا نام نہیں بتایا یہ نبمر کیا خاک دے گی ۔۔۔نشاء بیچ میں بول پڑی ۔۔
تم لوگ شاید جانتی ہو ابھی حالیہ انٹرنیشنل لیول پر قرات کا مقابلہ ہوا تھا اس میں لالہ پہلے نمبر پر آئے تھے غزنوی شمروز اورنگ زئ ۔۔فخریہ نام لیا ۔۔۔۔
جاری ہے
