Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07

ہوسکے تو میرا ایک کام کرو
شام کا اک پہر میرے نام کرو
ہوسکے تو میرا ایک کا کرو ۔۔۔ہو ہو ہےہےہے لالا ۔
غزنوی کی لو دیتی آنکھیں بار بار لاروش کی سمت اٹھتی ۔۔۔اپنی دل کی ترجمانی کرتی زبان کا ساتھ دیتی ۔۔۔
لاروش بس شام کی فرمائش پر نظریں جھکا گئ ۔۔۔بد تمیز انسان کوئ تہذیب نہیں ۔۔۔کسے دھڑلے سے سب کے سامنے بکواس شروع کردی ۔۔۔اور باقی ایسے سن رہے ہیں کہ تان سین گا رہا ہے ۔۔ہوننہہ ۔۔۔نخوت سے دل میں سوچا۔۔
دل تو پہلی نظر میں تمہارا ہوا
تم ہوجیتے ہوئے اور میں ہارا ہوا
میرے جذبات کا احترام کرو ، میرے جذبات کا احترام کرو
شام کا ایک پہر میرے نام کرو ۔۔
لاروش کا کلسنا جاری و ساری ہے ۔۔اللہ سب لڑکیوں کو پہلی نظر سے بچانا ۔۔۔ٹھرکی کے جذبات نہ ہوئے قائد اعظم کے چودہ نکات ہوئے جن کا احترام کیا جائے ۔۔۔۔اب کہ دل کڑا کر کے گھورنا چاہا ۔۔غزنوی نے لاروش کو اپنی جانب دیکھتے ہی آنکھ ماری ۔۔۔سٹپٹا کر جلدی نظریں جھکائ ۔۔۔
میری شانوں پر زلفیں بکھیروں کبھی
دل کی دھڑکن کے بھی تار چھیڑوں کبھی
پاس بیٹھو نظر سے کلام کرو ۔۔۔۔پاس بیٹھو نظر سے کلام کرو
شام کا ایک پہر میرے نام کرو ۔۔۔۔
اف بے ہودہ انسان ۔۔۔۔لگتا شرم کبھی پاس سے بھی نہ گزری ہو ۔
آگئے تم ،تمہارا بہت شکریہ
کرلی زحمت گوارا بہت شکریہ
میری بانہوں کے گھر میں قیام کرو ۔۔میری بانہوں کے گھر میں قیام کرو
شام کا ایک پہر میرے نام کرو ۔۔۔
ہوسکے تو میرا ایک کام کرو ۔۔۔
بانہوں کا سن کر غصے اور حیا سے لال ہوئ ۔۔۔۔لاروش کا سرخ اور گلابی روپ غزنوی کو بے حد بھاتا ۔۔اسوقت بھی غزنوی کادل کیا لاروش کا ہاتھ پکڑ کر کہیں دور چلا جائے ۔۔۔۔۔جہاں بس وہ ہو اور لاروش ۔ ۔۔۔مگر ابھی صرف سوچ ہی سکتا ہے عمل نہیں ۔۔۔۔۔دھیان لوگوں کی طرف گیا ۔ جو تالیاں بجا کر ، وسل مار کر داد دے رہے ہیں ۔۔۔۔
ہاتھ ہلا کر جواب دیا
۔۔ساتھ ہی گٹار پر میرے رشک قمر بجایا ۔۔۔
ایمیزنگ یار کتنی زبردست آواز ہے سنگر بنے گا تو یقینا راحت اور عاطف کو پیچھے چھوڑ دے گا ۔۔۔
ثنا کو حد سے زیادہ پسند آیا ۔ ۔ ۔گویا ثنا کی تعریف نے لاروش کو جلتے توے پر بٹھایا ۔۔۔
تم فضول متاثرین کی وجہ سے ایسے بے سرے سنگر مارکیٹ میں آتے ہیں ۔۔۔۔لاروش جل کر بولی ۔۔۔۔
بے سرے تو نہ کہو ۔۔۔خیر تم کو بھی جواب دینا چاہیے ۔۔۔۔یہی گا دو میرے سانوریہ بانسری بجائے جا ۔۔۔۔۔ثنا مزید جلایا ۔۔۔۔
شٹ اپ ۔۔۔اگر ایک قتل کرنا جائز ہوتا تو میں کب کا اس بندے کو قتل کردیتی ۔۔۔۔
پاس سے گزرتی سمایہ نے بات پکڑی ۔۔۔کس کا قتل کرتی اور کہیں تم قتل کر ہی نہ دیتی ۔۔۔آج صبح کافی بہادری دیکھی ۔۔۔۔سمایہ نے طنز کیا ۔۔۔۔
ہاں تو وہ بھی تو بغیر بتائے روم میں آگیا تھا ۔۔۔۔۔
کون کون روم میں آگیا ۔۔۔اچانک رنم نے بھی آکر حصہ ڈالا۔ ۔۔۔
تم کو چاہیے تھا فورا پولیس کمپلین کرتی ۔۔۔۔ساتھ ہی مشورہ بھی دے ڈالا ۔۔۔
ہاں کمپلین تو ہونی چاہیے یہ کیا صبح ہی صبح اچانک آکر ہم نازک دل والی لڑکیوں کو ڈرائے ۔۔۔۔لاروش نے رنم کی ہاں میں ہاں ملائ ۔۔۔۔
اتنی سی بات کے لیے پولیس بلائے ۔۔۔۔سمایہ کو دھچکا لگا ۔۔۔
اسے دیکھ کر مجھے ہارٹ اٹیک ہوسکتا تھا ۔۔۔لاروش تڑخی ۔۔۔۔
ٹھہرو میں ابھی غزنوی کو بتاتی ہوں کہتے ہی کسی کی ہاں سنے بغیر غزنوی کوآواز دے ڈالی ۔۔۔۔اور غزنوی جس کی نظریں وہیں پر تہی 15 پولیس سے بھی زیادہ کی تیزی سے آیا۔۔۔۔
ارے ارے رنم اسے کیوں بلا رہی ہو رہنے دو ثنا نے منع کیا مگر جب تک غزنوی آچکا ۔۔۔۔۔۔
۔اس سب کے دوران سمایہ حیران سی سب دیکھ رہی ہے وہ تو ابھی پولیس پر ہی حیرت کا غوطہ کھارہی تھی اب غزنوی کی شمولیت ۔۔۔۔
تمہیں کچھ خبر ہے آج وہ لاروش کے روم میں آیا اسے ڈرایا دھمکایا ۔۔۔۔اگر اس کی وجہ سے لاروش کو اٹیک بھی پڑھ سکتا تھا ۔۔۔رنم نے بڑھا چڑھا کر بتایا اور باقی تینوں تو بس فراٹے بھرتی رنم کے زبان کے جوہر ہی دیکھ رہی ہیں ۔۔۔۔
کون ہے وہ اور مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔۔رنم کی بات سن کر غزنوی کے ماتھے کی تیوری چڑھی ۔۔۔غصے سے چہرہ سرخ ہوا ۔۔۔مٹھیاں بھینچے ۔میری لاروش کو کیسی نے ڈرایا دھمکایا ذہن پر بھی غصہ حاوی ہوا ۔۔غصے سےپوچھا۔ ۔۔
لاروش اس کے تیور سے گھبراکر بولی ۔۔۔۔لال بیگ ۔۔۔۔
اسکی ہمت تم کو آکر ڈرائے میں اس لال بیگ کے بچے کی ساری نسل تباہ کردوں گا میں اس لال بیگ کو جان سے مار دونگا ۔۔۔میں اس لال بیگ ۔۔۔ایک دم رکا ۔۔۔۔واٹ لال بیگ ۔۔۔۔بے یقینی سے لاروش کو دیکھا ۔۔۔
معصوم چہرہ ہلایا ۔۔۔۔
لال بیگ غزنوی نے پھر تائید چاہی ۔۔۔کہیں غصے کے مارے اس نے غلط تو نہیں سنا ۔۔
لیکن اس بار سمایہ چبا چبا کر بولی جسے رنم لاروش اس کے منہ میں ہے ۔۔۔جی بھائ لال بیگ ۔۔۔اور مجھ ناچیز نے آج صبح ہی اس دہشتگرد کو اپنے باٹا میزائل سے دےمارا ۔۔۔
سیریسلی تم لال بیگ سے ڈر رہی تہیں ۔۔۔اب کے غزنوی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئ ۔۔۔
لاروش نے رنم کو گھورا ۔۔۔۔پوری بات سن لیتی رنم کی بچی ۔۔۔۔رنم۔ گڑبڑائ
ہاں ۔۔۔ہم لڑکیوں کا حق ہے لال بیگ سے ڈرنا ۔۔۔۔لاروش نے اکڑ دکھائ ۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے لال بیگ بھی اپنافرض ادا کرنے آئےگا ۔۔۔وہ بچارہ کیوں اپنے فرض سے کوتاہی کرے ۔۔۔لاروش کے انداز سے غزنوی محظوظ ہوا اور برجستگی دکھائ ۔۔۔۔
چلو ڈنر کریں ۔۔۔غزنوی کی بات کا جواب دینے کے بجائے کب سے دانت نکالتی ثنا کا ہاتھ پکڑ کر بوفے کی جانب چلی ۔۔۔۔
_______
ہوسٹل واپسی پر لاروش کا موڈ بدستور آف ۔۔۔اس کے برعکس غزنوی سرشار آج صرف دیدار یار ہی نہیں بات بھی ہوئ اور اب سفر بھی ۔۔۔دل کہہ رہا ہے یہ پل ٹھہر جائے سفر لمبا ہوجائے ۔۔۔کاش ہوسٹل دوسرے شہر میں ہوتا مرر سے دیکھتے غزنوی نے دل میں سوچا ۔۔۔۔
آپ کافی اچھی ڈرائیونگ کرتے ہیں ۔۔سوال کرنے کی جرات ثنا میں ہی تہی ۔۔۔لاروش تو منہ میں ٹیپ لگائے جیسا تاثر پیش کررہی تہی ۔۔
غزنوی نے مرر سے مسکرا کر دیکھا ۔۔۔شکریہ
ارے شکریہ کی کیا بات آپ کچھوے سے تو کچھ بہتر ہی چلا رہے ہیں۔۔۔اس لیے ایپریشٹ کرنا تو بنتا ہے ۔۔۔ظنز کا تیر پھینکا ۔۔۔
غزنوی نے طنز انجوئے کیا ۔۔فلک شگاف قہقہ لگایا ۔قہقہہ
پر بھی ثنا کچھ کہتی لاروش کی موبائل بجنے نے زبان کو لگام دی ۔۔۔
اسلام علیکم مورے ۔۔۔میں ٹھیک ہوں ۔۔۔جی انشاءاللّہ اگلے ہفتے میں آتی ہوں جی جی ۔۔۔۔مورے سے بات چیت کے بعد کال بند کی۔۔۔سکون سے بیک سے ٹیک لگائ
ہممم ساس صاحبہ کا فون تھا ۔۔۔۔غزنوی نے سکون پر ایک کنکر پھینکا ۔۔۔
جی ۔۔۔۔مختصر جواب دیا ۔۔۔۔
کیا کہہ رہی تہیں ۔۔۔۔
میری فرینڈ کی سسٹر کی شادی میں جانا ہے ۔۔۔یاد دہانی کے لیے فون کیا ۔۔۔تفصیل سے جواب دیا تاکہ اگلا سوال نہ ہو مگر ۔۔۔
کب ہے ۔۔۔کب جانا اور آنا ہے ۔۔۔۔سنجیدگی لہجے میں نمایاں ۔۔۔
بدھ کو اور بدھ کو واپس آنا ہے ۔۔۔لاروش نے جانے آنے کا شیڈول بتایا۔ ۔۔
اتنے دن ۔۔۔۔غزنوی نے جھٹکے سے کار روکی ۔۔۔۔دونوں اٹینشن نہ تہی اس لیے ہلکا جھٹکا لگا ۔۔۔
شکر ہے تیز نہیں چلا رہا تھا ورنہ ماتھے پر گومڑا بن جاتا ۔۔۔آئ ہیٹ گومڑا ۔۔۔۔ثنا آہستہ بڑبڑائ ۔۔۔۔
غزنوی پورا پیچھے کی طرف مڑا ۔۔۔اتنے دن جانے کی کیا تک ہے بس برات اٹینڈ کرو ۔۔۔میں کیسے رہوں گا ۔۔۔۔
محبوب شوہر کی طرح حکم چلایا ۔۔۔۔۔
ثنا تو ثنا لاروش کا منہ بھی حیرت سے کھل گیا ۔۔۔اب یہ نوبت آگئ گھر جانے کے لیے اس منحوس سے اجازت لینی ہوگی ۔۔۔ذہن میں ابھرتی سوچ سے ایک دم۔ جھرجھرلی ۔۔۔
تم پر بھی اس کا اثر ہوگیا ۔۔۔ایسا کیا بول دیا ۔۔۔غزنوی نے ثنا کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
سانوریا میں اتنے دن کی دوری بالکل برداشت نہیں کرسکتا ۔۔۔۔۔
دیکھیے ۔۔۔۔لاروش بے چارگی سے
دیکھ تو رہا ہوں دل ہی نہیں بھر رہا سوچ رہا ہوں آج تم کو گھر لے چلو ۔۔۔ساری رات بٹھا کر دیکھتا رہوں ۔۔۔شرارت سے لاروش کو کہا ۔۔۔
لاروش بدک کر تھوڑی سائیڈ میں ہوئ ۔۔۔دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ لیا ۔ ۔۔اگر غزنوی نے کار چلائ تو وہ کار سے کود جائے گی ۔۔۔
آٹومیٹک لوک لگاہے ۔۔لاروش کی حرکت غزنوی سے مخفی نہ رہی ۔۔مسکراہٹ دبا کر اطلاع فراہم کی ۔۔۔
لاروش نے بے بسی سے ہینڈل لوک سے ہاتھ ہٹایا ۔۔۔آنکھیں نم ہونے لگی ۔۔۔۔۔ پلیز سمجھیے میرا جانا بہت ضروری ہے میں نے وعدہ کیا تھا ۔۔۔۔آواز بھرائ ۔۔۔سانوریا آنسو نہیں ۔۔ٹھیک ہے اس بار تو اجازت دے رہا ہوں نیکسٹ ٹائم کسی سے وعدہ نہیں کرو گی میرے سوا ۔۔۔۔غزنوی نے پرامس کےلیے ہاتھ پہیلایا ۔۔۔۔
ہاتھ پکڑنے کے بجائے زبان سے بولی ٹھیک ہے ۔۔۔۔آنسو آنکھ سے ٹپک گیا ۔۔۔
غزنوی کا دل ان نینوں میں آنسو دیکھ کر اداس ہوا، ناچاہتے ہوئے دل کے خاطر ہی زبردستی کرنی پڑھتی ہے ۔۔۔۔۔
ہوسٹل آکر لاروش پھوٹ پھوٹ کر رو دی ثنا خاموشی سے پیٹھ سہلانے لگی ۔۔۔۔
دیکھا تم، تم نے اسے بے شرم کو ۔۔۔۔ہچکی بند گئ اٹک کر رک رک بات منہ سے نکلی ۔۔۔۔پانی پیو پھر بات کرتے ہیں ۔۔۔ثنا نے تسلی دی ۔۔۔
اب میں اس کے حکم کے تابع چلو گی ۔۔۔۔جیسا وہ میرا باپ ہے یا بھائ ۔۔۔
صبر کرو ۔۔۔عقلمندی سے فیز کرو صرف سات ماہ بچے ہیں ۔۔۔انکو یونی سے جانے میں ۔۔۔۔یونی چھوڑ دیں گے تو سب بھول بھال جائیں ۔۔۔۔
ایسا ہی ہوگا نہ ثنا ۔۔۔لارو ش نے آس سے پوچھا ۔۔۔۔
ہمممم اب چینج کرو اور سوتے ہیں کل مارکیٹ چلنا ہے ۔۔ہماری مدد کرنے پر سمایہ کو پزا کھلانا بھی ہے ۔۔۔۔ثنا نے لاروش کے ذہن کو فریش کرنے کے لیے جھوٹی تسلی دی اور دھیان دوسری طرف موڑا ۔۔۔۔۔جس میں کامیاب ہوئ ۔۔
۔وقت مسکرایا۔۔۔لاروش کی آزمائش شروع ہے ۔۔ قسمت میں جو لکھاہے وہ ہوکر رہنا ہے تسلی دعوے دھرے رہ جاتے ہیں آزمائش آئے تو جھیلنا ہی ہے چاہے ہنس کے یا رو کے ۔۔۔۔صبر سے یا واویلے سے ۔۔۔نجات صرف اس کی ہی جو آزمائش کے آگے سرنڈر نہ ہوا ،رب پر جس کا بھروسہ ختم نہ ہوا ۔۔جو رب کی حکمتوں کو تسلیم کرتا ہو ۔۔۔فلاح اسی کا مقدر ہے ۔۔۔
منڈے کو وہی روٹین اسٹارٹ ۔۔۔۔معمول کے پیریڈ لیکر لاروش اور ثنا کینٹین آئے اور حسب ِ معمول غزنو ی کی بیک سائیڈ ٹیبل پکڑی ۔۔۔
غزنوی یار بل تو پے کرےگا ۔۔۔انس نے کہا ۔۔۔
ہرگز نہیں ۔۔۔صاف انکار کیا ۔۔۔۔
میں بل پے کردیتا ہوں ۔۔۔۔آفتاب نے کہا ۔۔۔
جمائیاں لیتے بلاول نے گھورا ۔۔۔او بھائ پارٹی دینا اتنے سستے میں چھوٹنا چاہتے ہو میں ایسا نہیں ہونے دونگا ۔۔۔
اس نیستی کو بھی اٹھالوں ۔۔
بچارے کی نیند پوری نہیں ہوئ ۔۔پرسوں کےپارٹی ڈریس میں ہی یونی تشریف لے آیا ۔۔شہروز کی طرف اشارہ کیا جو ہیڈ ڈاون کیے بیٹھا تھا ۔۔ ۔نفاست پسند غزنوی نے چڑ کر کہا ۔۔۔
ابھی اٹھاتا ہوں پہلے بل پے کردوں۔۔اس کی جیب بڑی بھاری لگ رہی ہے ۔۔۔یہ کہہ کر بلاول نے شہروز کی جیب میں ہاتھ ڈالا ۔۔۔۔
لو یہ بم نکلا ہے پرسوں آتش بازی کے دوران لگ رہا ہے اس نے رکھ لیا ہوگا ۔۔۔بلاول بڑ بڑایا ۔۔۔
چل اسی کو پھاڑ کر اٹھاتے ہیں شریر لہجے میں انس نے بلاول کو اکسایا ۔۔۔۔
دے پھر ماچس ۔۔۔۔بلاول نے ہاتھ پہیلایا ۔۔۔
تینوں نے ایک ساتھ ماچس دی ۔۔۔۔سارے ہی سگرہٹ پینے کی لت میں مبتلا تھے ۔۔۔۔
بلاول نے بم پھاڑا ۔۔آواز زور سے آئ پاس بیٹھے افراد چونکےلیکن قریب آواز سے بوکھلا کر شہروز باہر بھا گا یونی میں بم بلاسٹ ۔۔۔تخریب کاری ۔۔۔شہروز کارد ِ عمل دیکھ کر سارے اسٹوڈینٹ ہنس پڑے ۔۔لاروش نے بھی باہر جانے میں تیزی دکھائ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل مال میں چل چل کر میں تھک گئ قسم سے تھکن نہیں اتری ۔۔جا ذرا فریش جوس لے آ ۔۔۔۔ثنا نے لاروش کے آگے فریاد کی ۔۔۔
جی میں تو پیروں میں پہیے لگا کر گھو رہی تہیں ۔۔۔میں نہیں جارہی ۔۔لاروش نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔۔۔
یہ بلاول نے ماچس کیوں جلائ ۔۔۔۔۔اور یہ دوسرےہاتھ سے کیا اٹھایا ۔۔ثنا نے کمینڑی کی ۔۔۔یہ بم لگ رہا ہے لاروش پہچان کر اٹھنے لگی مگر دیر ہوگئ بم نہ صرف پھٹا بلکہ اس کے سبب تیزی سے بدبو دار دھواں نکلا جو بیک پر بیٹھی لاروش کی ناک میں سیدھا پہنچا ۔۔۔۔لاروش بم الرجی سے نچنے کی کوشش میں تیزی سے باہر نکلی ۔۔۔کینٹین کی سائیڈ رہداری تک پہنچتے ہی سانس کو سنبھالتی بے قابو ہوئ ۔۔۔سائیڈ راہداری عموما سنسان رہتی تہی ۔۔۔اکا دکا اسٹوڈینٹ کا گزر رہتا تھا ۔۔۔۔لاروش کی سانس اکھڑنے لگی ۔۔۔چلنا محال ہوا ۔۔۔دیوار سے ٹیک لگائ ۔۔۔۔۔لاروش کو لگا آخری وقت آگیا ۔۔۔پیچھے سے آتی ثنا لاروش کی بگڑی کیفیت سے پریشان ہوئ ۔۔۔
کیا ہوا لاروش ۔۔۔کیا سانس پرابلم کررہی ہے ۔۔۔ثنا نے کمر سینہ سہلایا مگر فرق نہ پڑاطبیعت بدستور بگڑتی جاری ہے میں بلاتی ہوں کسی کو ۔۔۔۔ ۔۔ہوسپٹل جانا پڑے گا تم گھبراو نہیں ۔۔۔
واپس کینٹین آئ زور سےبولی ۔۔۔ہیلپ ہیلپ۔۔۔۔
کینٹین میں ہیلپ کی آواز سے تھوڑا سناٹا چھایا ۔۔۔لیکن کچھ اسٹوڈینٹ نے بےحسی کا مظاہرہ کرکے ان سنا کیا ۔۔۔جبکہ کچھ غزنوی کے گروپ کو اٹھتا دیکھ واپس بیٹھ گئے ۔۔۔
تبریز جو ابھی کسی کام سے کینٹین میں داخل ہوا ہیلپ کی پکار پر ثنا کے پاس پلٹا ۔۔۔غزنوی اورانس بھی تیزی سے ثنا کے جانب دوڑے جو تبریز کے ساتھ لارو ش کی سمت بڑھی ۔۔۔۔آگے پیچھے وہاں پہنچے جہاں لاروش نیم بے ہوشی کی کیفیت میں تہی ۔۔۔سانسوں کے مدہم پڑنے سے پسینہ سے شرابور تہی ۔۔۔آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔۔۔
صرف چند پل لگے غزنوی کو لاروش کی کنڈیشن سمجھنے میں۔ ۔
جبکے تبریز ثناہی سےپوچھ چکا تھا ۔۔۔ہوسپٹل لےجانے سےپہلے تھوڑا مصنوعی تنفس دینا ہوگا ۔۔۔تبریز نے ثنا کی طرف دیکھ کر اجازت لینی چاہی مگر اس سے پہلے ہی غزنوی کیفیت سمجھ کر لاروش کو بانہوں میں لے چکا تھا ۔۔۔اور دیر تک مصنوعی تنفس دینے سے لاروش سنبھلی ۔۔۔مصنوعی تنفس دینے سے غزنوی کو خنک بھرے موسم میں بھی پسینے چھوٹے ۔۔۔۔
۔ تبریز غصہ بھری نگاہوں سے غزنوی کو گھور رہاہے ۔۔۔اسے بالکل اچھا نہیں لگا ۔۔۔ٹیپکل سوچ اپنی ملکیت پر دوسرے کا سایہ نہ پڑے ۔۔۔آج لاروش تبریز کے دل سے نکلی ۔۔۔وہ غصہ سے مٹھیاں بھینچتے رہداری سے باہر چلا گیا ۔ ۔۔ لاروش کی سانس بہتر ہوئ ۔۔۔مگر وہ اذیت سے بے ہوش ہوچکی تہی ۔۔۔
غزنوی نے اسے گود میں اٹھایا ۔۔ اور پارکنگ کی طرف بڑھا ۔۔
چہرے پر حد سے زیادہ سنجیدگی ۔۔۔سرد لہجے میں بولا ۔۔ ہوسپٹل چلو ۔۔۔۔۔۔
اسپیڈ سے کار چلائ۔۔۔ثنا کے دل میں آیا بول دے بادشاہ جی صرف لاروش کو ٹریمنٹ دینی ہے ۔۔۔۔اگر اسی اسپیڈ سے چلائ تو ہم سب کو ہی لینی پڑےگی ۔۔۔۔مگر سرد تاثرات کے سبب نہ بولی ۔۔۔۔ ہوسپٹل جا کر فوری ٹریمنٹ دی ۔۔۔اس ہوسپٹل کو اورنگ زئ خاندان سے ہر ماہ باقاعدگی سے ڈونیشن دیے جاتے ہیں ۔۔۔۔سارا اسٹاف غزنوی شمریز اورنگ زئ کو جانتا ہے ۔۔۔۔
بلاول میں نے ساری انفارمیشن مانگی تہی ۔۔۔بیماری کا کیوں نہیں بتا یا ۔۔۔سرد غصیلہ لہجہ برقرار رکھا
یار میں نے یونی کمپیوٹر میں جو انفارمیشن ملی ۔۔جو وارڈن سے ملی وہ سب بتائ ۔۔۔۔اس کے گھر بھی بہیج کر ملی وہ بھی تجھے بتادی ۔۔۔۔میں پوچھتا ہوں ۔۔حویلی کے ملازم سے ٹھیک معلومات کیوں نہ لی ۔۔۔
ہونہہ۔ ۔۔ہنکارہ بھرا ۔۔۔ثنا کی سمت دیکھا جو ان کی باتیں سن رہی تہی ۔۔۔پرس میں ان ہیلر کیوں نہیں تھا ۔۔۔اگر تنفس نہ مل پاتا تو دم گھٹنے سے مر بھی سکتی تہی ۔۔۔بتاو ۔۔۔۔۔دھاڑا ۔۔۔
اسکی دھاڑ سے ثناڈر کے دور ہوئ ۔۔۔روہانسی بولی ۔۔۔۔
ان ہیلر دوسرے پرس میں ۔۔۔اسے بیماری نہیں ہے ۔۔کبھی الرجی ہوجاتی ہے ۔۔۔بم دھواں سے الرجی ہوئ ۔۔۔ڈر سے اٹک اٹک کر بتایا ۔۔۔انس کا دل ثنا کو ڈرا دیکھ کر اس کے پاس جانے کومچلا۔ ۔
سوری یار مجھے پتہ نہیں تھا ۔۔۔ورنہ میں بم نہیں پھوڑتا ۔۔۔۔بلاول شرمندہ ہوا ۔۔۔اسکی شرمندگی اگنور کرکے ثناسے پوچھا ۔۔۔
کتنے پرس ہے تمہارے اور لاروش کے پاس ۔۔۔۔
جی میرے پاس چھ اور لاروش کے پاس چار ۔۔۔۔جلدی سے ذہن دوڑایا ۔۔۔۔
سن کر باہر گیا ۔۔۔تھوڑی دیر میں واپس آیا پورے دس انہیلر ہاتھ میں ہیں ۔۔۔ان کو ثنا کی جانب بڑھایا ۔۔۔اور تنبیہ کی ۔۔۔انہیں ہر پرس میں رکھو جو بچے مختلف جگہوں پر رکھوں ۔۔۔
کبھی کبھی کچھ بھی ہوسکتا ہے میں بالکل رسک نہی لے سکتا ۔۔۔۔
سر مریضہ کو ہوش آگیا ۔۔۔۔ثنا اندر جانے لگی اسے روکا
پہلے میں ملو نگا ۔۔۔۔روم میں داخل ہوا ۔۔۔بروقت ٹریٹمنٹ سے لاروش کے چہرے کی رونق بہتر ہوئ ۔۔۔۔
غزنوی کو دیکھتے ہی لاروش کو اپنے اوپر غزنوی کا جھکنا ۔۔ہونٹوں کو چھونا یاد آیا ۔۔۔غصہ کی لہر دماغ میں چڑھی ۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئ مجھے چھونے کی مرنے دیا ہوتا ۔۔۔
شٹ اپ آج یہ فضول بات کہہ دی آئندہ نہ سنو ۔۔۔اور دماغ کو ٹھنڈا رکھو ۔۔۔۔میرا مقصد تمہیں تنفس دینے کا تھا ۔۔۔تمہارے ہونٹوں کی نرمی لینے کا نہ تھا ۔۔۔۔مجھے اپنی حد اچھے سے پتہ ہے مجھے غصہ مت دلانا انسان سے حیوان بننے میں وقت نہیں لگے گا ۔۔۔انگلی اٹھا کر سرد لہجے میں بولا ۔۔۔لاروش سے بات کرتے وقت کی نرمی غائب ہے ۔۔۔۔آج تو میں تھا اس لیے کچھ نہیں کہہ رہا مگر کبھی دوبارہ یہ صورتحال ہوئ کسی اور نے تنفس دیا تو میں اس شخص کو جان سے مار دونگا ۔۔۔۔غزنوی کے کانوں میں تبریز کی آواز گونج۔رہی تہی جب وہ تنفس دینے لاروش کے پاس بیٹھ رہا تھا ۔۔۔۔اس الرجی کا علاج کرواو اگر پاکستان میں نہیں ہے تو کسی دوسرے ملک ۔۔۔۔جب تک علاج نہیں ہورہا تب تک احتیاط کرو ۔۔۔۔غزنوی نے حکم دیا ۔۔۔
لاروش اپنا غصہ بھول بھال غزنوی کو حق دق سن رہی ہے جو نہ جانے کیوں غصہ ہے ۔۔۔۔
غصہ تو غزنوی کو بے حدہے تبریز کی بات کا غصہ ۔۔۔بم پھاڑنے کی حمایت کا خود پر غصہ ۔۔۔۔معلومات ادھوری ملنے کا غصہ ۔۔۔سب سے بڑھ کر یہ ڈر کا غصہ دیر ہونے پر لارو ش کو کچھ ہوجاتا تو ۔۔۔۔
شام تک لاروش کو ڈسچارج کردیا ۔۔۔خاموشی سے غزنوی نے ہوسٹل ڈراپ کیا ۔۔۔
_______________________________________________
_ کیاہوا امو جانی کیوں رو رہی ہیں ۔۔۔کل ریسیو کرنے پر غزنوی کی فکر مند آواز ایر پیس پر ابھری
میرے بہن اور اسکی بیٹی کا ایکسڈینٹ ہوگیا ۔۔۔بہن کی کمر کی ہڈی ٹوٹ گئ اور نشاط کی ہاتھوں کی ۔۔۔۔چپ ہو کر ماں کی بات سنی ۔۔۔
اللّہ خیر کرے گا ۔۔۔آپ فکر نہ کرے ۔۔۔یہاں شہر لے آئے ۔۔۔آپ ابھی کہاں ہیں ۔۔۔
تیری خالہ کے گھر ہوں ۔۔۔اب بہتر ہیں دونوں ۔۔۔
گہری سانس لی یہ خواتین بھی بس رونے کے بہانے چاہیے ۔۔۔۔
جب بہتر ہیں تو آپ کیوں رو کر اپنی انرجی ختم کررہی ہیں ۔۔۔
لو بہن کی حالت بتاتے ہوئے رونا آجائے تو روئیں بھی نہیں ۔۔۔امو نے ناراضگی کا اظہار ہوا ۔۔۔ماں کے اس انداز سے غزنوی ہنس دیا ۔۔
غزنوی بعض آجاو ۔۔۔۔خالہ سے ملنے آو ۔۔۔
جی آج ایک ضروری کام ہے انشاءاللّہ کل خالہ کے دربار میں آتے ہیں ۔۔۔امو کو ٹالہ ۔۔آج لاروش نے جانا ہے ۔۔۔یونی بھی نہیں آئ تہی ۔۔غزنوی کا ارادہ ہوسٹل جا کر ملنے کا ہوا ۔۔۔نکلتے ہوئے امو کی کال آگئ ۔۔ان سے باتوں میں لگ گیا ۔۔۔
مجھے کچھ نہیں پتا تمہاری خالہ کادل بڑا اداس ہے اس لئے آج ہی آکر ملو ۔۔۔۔
میں کونسا ان کی پکی سہیلی ہوں جن سے وہ خاندان کی برائی کر کر اپنا جی ہلکا کریں گی ، نہ ہی میں نے لطیفوں پر پی ایچ ڈی کر رکھی جو خالہ کو سنا کےان کا دل بہلاو نگا گا۔۔۔ بیزاری سے بولا اب دھیان سارا گھڑی کی طرف ہے جو احساس دلا رہا ہے لاروش جانے والی ہے ۔۔۔۔
غزنوی میں نے ناراض ہوجانا ہے میرا پیارابچہ ۔۔۔آج ہی آ۔ ۔۔۔
اچھا آرہا ہوں ۔۔ بے دلی سے حامی بھری اور فون رکھ دیا ۔۔پارکنگ سے لیموزین نکالی اور اسپیڈ سے ہوسٹل روانہ ہوا ۔۔۔۔مگر لاروش نے ثنا کے ذریعے غلط ٹائم بتایا تھا وہ صبح سویرے روانہ ہوگئ تہی ۔۔۔۔
غزنوی سوائے غصہ کرنے کے اور کچھ نہ کرسکا ریش ڈرائیونگ کرتا ۔۔۔خالہ کے گھر سوات کی جانب روانہ ہوا ۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *