Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20
بابا جلدی سے یہ سوپ پیے میں نے پہلی مرتبہ بنایا ہے اور آپ نے نہ صرف پینا ہے بلکے امو کے سامنے ڈھیر ساری تعریفیں بھی کرنی ہے ۔۔۔گل جاناں نے دھونس جمائ اور باول شمروز کو پکڑا کر ہاتھ پیھلا کر ڈھیر ساری کی حدود بیان کی ۔۔۔
اچھا اچھا کیا تھوڑی تعریف سے کام نہیں چل سکتا ۔۔دل نہ چاہتے ہوئے مجبوراً گل جاناں کے خاطر پینا پڑا ۔۔۔غزنوی کے نہ ہونے کا اثر سب کو ہی پڑا ۔۔۔ مہر بانو اور گل کے چہرے اداس تھے ۔۔آنکھوں کی سرخی رونے کا پتہ دیتے تھے ۔۔۔لیکن ایک دوسرے کے لیے ہشاش بشاش ہونے کی ناکام ادکاری جاری تھی ۔۔۔شمروز بھی اپنا کردار ادا کررہے تھے ۔۔اگر نہ کرتے تو غزنوی کے ساتھ ان کی فکر بھی ان کے پیاروں کو نڈھال کردیتی ۔۔۔اس لیے ضروری تھا ایک دوسرے کے لیے خود کا خیال رکھنا ۔۔۔
بالکل بھی نہیں تھوڑی نہیں خ چلے گی ۔۔زیادہ کرنی پڑے گی آخر شیف گل جاناں نے سوپ بنایا ہے آپ کی نک چڑی بھتیجی پلوشہ نے نہیں ۔۔۔اندر آتی پلوشہ کو دیکھتے گل نے ہانک لگائ ۔۔۔
ہو یہ وہی شیف ہے نہ جس نے رس ملائ میں چینی کی جگہ نمک استمعال کیا تھا ۔۔پلوشہ نے بھی جواب دینا لازم سمجھا تڑخ کر جوابی طنزیہ حملہ کیا ۔۔۔
اوہو وہ میری فرسٹ ریسپی تھی اور فرسٹ ٹائم تو چھوٹی موٹی غلطی ہو سکتی ہے ۔۔اور میٹھا صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا ۔۔اس لیے نمک ڈالا ۔۔گل نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اکڑی اور توجیح پیش کی ۔۔۔
ہاں ٹھیک کیا شوگر سے نہیں مرنا ہائ بلڈ پریشر سے مرنا ہے ۔۔یہی میسج ہے نا ۔۔۔پلوشہ نے مذاق اڑایا ۔۔۔
شمروز پلوشہ کے میسج والی بات پر قہقہ لگا کر ہنس پڑے ۔۔۔
گل نے ایک نظر تشکر سے پلوشہ کو دیکھا ۔۔پھر مصنوعی خفگی سے بولی ۔۔اب اتنا بھی نمک نہ تھا کہ بی پی ہائ ہوتا اور بابا جانی پلوشہ کی بات پر نہیں ہنسنا تھا دشمن کو موقع مل گیا میرا مذاق اڑانے کا ۔۔۔
نہیں میں کہاں پلوشہ کی بات پر ہنسا ۔۔پلوشہ اس غلط فہمی میں نہ پڑنا میں تمہاری بات پر ہنسا مجھے تو کوئ دوسری بات یاد آگئ تھی ۔۔میری شہزادی کا مذاق اڑایا تو پھر سزا میں تم کو گل کی بنی رس ملائ کھانی پڑے گی ۔۔۔۔شمروز نے جلدی سے گل کی خفگی کے ڈر سے پلوشہ کو ڈانٹا آخر میں خود بھی شرارت کردی ۔۔
بابا یعنی میری جیسی شیف کے ہاتھوں کا کھانا سزا ہے ۔۔۔صدمہ سے چیخی ۔۔
گل کے صدمے بھری آواز سن کر پلوشہ اور شمروز پھر ہنس دیے ۔۔۔
بابا آپ سے تو میں تھوڑی سی ناراض ہوگئ ۔ اور پلوشہ نکلو میرے بابا کو کیا میرے خلاف بھڑکانے آئ تھی ۔۔۔دونوں ہاتھ رکھے گل نے مصنوعی ناراضگی سے دیکھا ۔۔۔
نہیں مجھے ایسے شوق نہیں میں تو پوچھنے آئ تھیں تایا سے کہ اگر سوپ اچھا ہے تو میں بابا کو دے دوں ۔۔۔پتہ چلا میٹھا ہو تو تم کو تو تمہارے چچا نے کچھ نہیں کہنا مگر مجھ کو اپنی گھوری سے ہی فنا کردینا ہے ۔۔۔۔پلوشہ گھورنے کی ایکٹنگ کرتے بولی ۔۔
شمروز مسکرائے ۔۔سیاست کی وجہ سے بہروز سب ہی بچوں سے دور ہی رہے ۔۔ سوائے غزنوی کی حاکمیت پسندی کے سبب اسے اگنور نہ کیا ۔۔۔
سوپ بہت لاجواب بنا ہے شمروز ایک سپ لیتے بولے ۔۔۔
سچی یا جھوٹی پلوشہ جھٹ بولی ۔۔
گل نے خونخوار نظروں سے گھورا ۔۔ میرے بابا جھوٹ نہیں بولتے جب انہوں نے کہہ دیا لاجواب ہے تو پھر لاجواب ہے ، خبردار اگر میرا بنا سوپ اپنے نام سے دیا ۔۔
تایا جی آپ کے بھروسے دے رہی ہوں پلوشہ شمروز سے بولتی دروازے تک آئ اور پلٹ کر بولی میں تو بابا کو یہ بولو نگی بڑی محنت اور محبت سے ان کے لیے ، ان کے لیے میں نے بنایاہے منہ چڑاتی بھاگ گئ ۔۔۔
پیچھے پلوشہ کے الفاظ پر گل پیچ وتاب کھا کر رہ گئ ۔۔
دیکھا بابا کتناظلم ہوتا ہے آپ کی بیٹی پر اس کی محنت کو لوگ اپنے نام سے پیش کر کے واہ واہ سمیٹتے ہیں ۔۔منہ بسورتی نادیدہ آنسو پونچھے ۔۔۔
تم فکر نہ کرو میں خود بتاو گا بہروز کو میری بیٹی نے مزیدار سوپ بنایا ہے ۔۔
شکریہ بابا بس ابھی امو آتی ہیں ان کے سامنے بھی اس سوپ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے ہیں ۔۔تاکہ وہ میرے ہاتھ کا چکن سوپ پی لیں ۔۔مزید تعریف کی نصیحت کی ۔۔
ہاں ہاں ضرور آنے دو مگر میرے لیے فش اس کے لیے چکن ۔۔۔یہ کھلا تضاد نہیں ۔۔۔
ان کے لیے چکن ضروری ہے ۔۔اور فش کی اسمیل امو کو پسند نہیں اس لیے ان کے لیے چکن بنایا ہے اور آپ کے دل کی پیش نظر میں نے فش کا سوپ بنا یا ہے ۔۔۔گل نے سمجھایا ۔۔ اسی اثناء میں مہر بانو خاموشی سے آکر بیٹھ گئ ۔۔
میری پیاری بچی ۔۔شمروز کو پیار آیا اپنے ساتھ بٹھایا ۔۔
بہت خیال رکھنا پڑ رہا ہے میرے بیمار دل کا ۔۔۔شمروز افسردگی اور محبت سے ملے جلے انداز میں بولے ۔۔۔
کوئ دل بیمار نہیں،مجھے بس سردیوں کی وجہ سے فکر ہے میں خودبھی پی رہی ہوں فش سوپ ۔۔آپ کو پتہ ہے سردیوں میں خون کی نالیاں کسی حد تک سکڑ سکتی ہیں یا تنگ ہوجاتی ہیں جس کے نتیجے میں خون کی گردش متاثر ہوتی ہے اس موسم میں دل کو مناسب مقدار نہیں ملتی ۔۔اس لیے دل کو مناسب خوراک پہنچانے کا میں نے سوچا ۔۔سریاں بھی تو غضب کی پڑتی ہے خون جمانے والی ۔۔۔تو میں تھوڑی تھوڑی ڈاکٹر بھی ہوں ۔ اس لیے اس رو سے میں نے سردیوں کے پیش ِ نظر کچن میں ایمرجنسی نفاذ کردی ۔۔ایسے کھانے بنے گے جو دل کو فائدہ دے ۔۔
آپ کو پتہ مچھلی ۔۔زیتون اور مختلف دالیں دل کو بے حد فائدہ دیتی ہیں ۔۔۔میں نے ابھی اس سوپ میں لہسن ادرک کا پیسٹ ڈالا ساتھ ہی کالی مرچ اور دار چینی ڈالی ۔۔جب ابال آیا تو فش ڈال دی ۔۔تھوڑا نمک ڈالا ۔۔بس ایک مزیدار صحت بخش غزا تیار ہوگئ ۔۔اور اس میں جتنے بھی مصالحے ڈالے سب کے سب کلیسڑول کو قابو کرکے دل کو فٹ اور وزن کو کنڑول میں رکھتی ہے ۔۔۔
واو زبردست پھر تو میں روز پیوںگا ۔۔۔شمروز نے گل کے خاطر بہت خوشی کا اظہار کیا اور آئندہ کی فرمائش ۔۔
گڈ بوائے آپ ایک اچھے لڑکے ہیں پر آپ کی مسسز بہت نخرے کرتی ہیں ۔۔ان پر ذرا رعب ڈالیں ۔۔کمرے میں تھوڑی دیر قبل آئ مہر بانو کو شرارت سے دیکھتی گل نے باپ کے کان میں سرگوشی کی وہ الگ بات ہے سرگوشی کچھ زیادہ بلند تھی جو بآسانی مہر بانو نے سنی ۔۔اور سن کر ایک گھوری سے نوازا ۔۔گل نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی اور شمروز کے بازو میں چھپی ۔۔۔
مہر بانو آپ میری بچی کو ڈرا رہی ہیں ۔۔۔ایک تو وہ آپ کے لیے محنت سے سوپ بنائے ۔۔جو افادیت لیے ہوئے ہے اور آپ انعام دینے کے بجائے اسے گھور رہی ہیں ۔۔ رعب جمایا
جی میں تو چڑیل ہوں جس کی گھوری سے آپ کی بیٹی نے ڈر جانا ہے ۔۔۔مہربانو بیٹی کی حمایت لینے پر جل کر بولی ۔۔۔
آہ میرےپیارے بابا اتنے دنوں سے چڑیل کے ساتھ رہتے تھے اور میں کون ہوں کیا ایک چڑیل ۔۔۔گل جاناں نے دردناک لہجہ بنایا ۔۔
رک میری جوتی بتاتی ہے کون چڑیل ہے ۔۔مہر بانو نے چپل اٹھائ ۔۔
گل چپل اٹھا تے دیکھ فورا بیڈ پر چڑی دروازے کی طرف منہ کیے مدد کے لیے بے ساختہ غزنوی کو پکارا ۔۔لالہ لالہ بچاو ۔۔
لالہ سن کر مہربانو کے ہاتھ سے چپل گر گئ اور دونوں منہ ہاتھوں میں چھپائے رو پڑی ۔۔۔
گل ماں کو روتا دیکھ روکی جلد بازی میں اندازہ ہی نہ ہوسکا کہ انجانے میں درد جاگا گئ
__________
امو کو روتے دیکھ گل جاناں تیزی سے لپک کر ان کے پاس پہنچی امو پریشان نہ ہوں مت رویے دیکھیے بابا بھی رونے لگ جائیں گے ۔۔۔۔گل جاناں نے آنسو صاف کیے ۔۔
نہیں میں بری ہوں پہلے بچپن میں تین اولادیں گنوادی اب جوان بیٹا ، پتہ نہیں ۔۔نہیں پتہ زندہ بھی ہے یا ناراض ۔۔۔۔مہربا نو روتے بولی ۔۔آنسو تواتر بہہ رہے ہیں جنہیں گل خود بھی روتے ان کے چہرے سے صاف کر رہی ہے ۔۔
زندہ ہیں لالہ میرا دل بول رہا ہے اور دل جھوٹ نہیں بولتا۔مہربانو کو یقین دلایا ۔۔۔
آئیگا نہ میرا بیٹا آس سے پوچھا
ان شاء اللّہ ۔۔شمروز اور گل نے ایک ساتھ کہا ۔۔
چلیں اب جلدی سے میرے ہاتھ کا چکن سوپ پیے ۔۔باہر چل کر پیے گے نہیں تو بابا نے نظر لگانی ہے ۔ ۔۔۔گل نے کھلی فضا میں لیجانا چاہا ۔۔
میں کیوں نظر لگاوں گا مجھے تو خود میری بیٹی نے فش سوپ بنا کردیا ہے جو ۔۔۔۔۔
گل جاناں نے امو کے سامنے گردن اکڑائ ۔۔بابا تعریف جو کریں گے ۔۔
بس اس قابل ہے کہ پی لیں ۔۔۔شمروز نے منہ لٹکایا اور گل جاناں نے منہ پھیلایا ۔۔بابا گل جاناں چیخی ۔۔۔مہربانو ،گل کے منہ بنانے پر مسکرائ ۔۔
کیا بابا اوہ اچھا اچھا۔۔بھئ مہربانو یہ سوپ بہترین سوپ ہے میں نے آج تک ایسا قابل سوپ کبھی نہیں پیا۔۔یہ سوپ دنیا کا بہترین سوپ ہے ۔۔ ۔ تم نے بھی نہیں بنایا کبھی ۔۔۔شمروز نے مبالغہ آرائ سے کام لیا ۔شمروز نے گل جاناں کی طرف دیکھا ۔۔نظروں سے پوچھا. ۔۔اتنی تعریفیں ٹھیک ہیں ۔۔۔
گل جاناں نے نظروں میں ہی منع کیا نہیں کافی نہیں ہیں ۔۔
نظروں سے تسلی دی اور کرتا ہوں ۔۔
مہر بانو سوپ پی کر بڑا مزہ آیا ہے میرا دل ہشاش بشاش ہوگیا ہے اور مجھے ایسا لگ رہا ہے ۔۔
آئندہ ریس میں حصہ لے سکتا ہوں اور میڈل جیت کے لاوں گا ۔۔مہر بانو نے شمروز کی بات کاٹ کر جملہ خود مکمل کیا ۔۔۔
شمروز مسکرادیا ۔۔۔گل جاناں نے بھی مسکراہٹ چھپائ ۔۔۔
اب مجھے بھی سوپ دے دو تاکہ میں بھی تمہارے بابا سے ریس میں مقابلہ لگا کہ جیت جاوں ۔۔سپر سوپ ہے ۔۔۔میں کہا بنا سکتی ہوں ۔۔۔مہربانو نروٹھی ہوِئ ۔۔
واہ امو واہ کیا نام رکھا ہے میرے بنائے گا سوپ کا سپر سوپ ۔۔دل خوش کردیا امو ۔۔۔میں کس لیے ہوں میں سیکھاونگی آپ کو بنانا ہم باہر لان میں پیے گے ۔۔چلیے باباآپ بھی ۔۔
گل جاناں زبردستی باہر لے گئ ۔۔اور اپنی شرارتوں سے امو اور بابا کا دھیان بٹانے کی کوشش میں لگی ۔۔۔
____________________________۔
مسجد کے دروازے پر آکر غزنوی کے قدم لرزے ،ذہن میں فکر جاگی ۔۔۔۔یہ میرے قدم کیوں لرز گئے ۔میرے گناہوں کا بوجھ بھی تو اتنا ہے ۔۔۔لرزنے کے سبب جسم میں بھی کپکپاہٹ شروع ہوئ ۔۔ انکل ایسا لگا رہا ہے قدم ساتھ چھوڑ دیں گے غزنوی کی ڈری سہمی آواز نکلی ۔۔آواز اتنی آہستہ تھی کہ حشمت کی توجہ نہ ہوتی تو سن نہ پاتا
ہمت کرو یہاں تک آگئے ہو تو آگے بڑھو صرف ایک قدم اٹھاو ۔۔پھر دیکھنا اللّہ کتنے قدم آگے بڑھتا ہے ۔۔حشمت نے ہمت بندھائ
بہت کوشش سے مسجد کی دہلیز پار کی ۔۔ دروازے کے ساتھ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا ۔۔سانس پھولنے لگی ۔۔۔۔سانسیں ہموار کی ۔۔سامنے صفیں بچھی تھیں ۔۔
اگرکھڑے ہوکر پڑھنے کی طاقت نہیں تو بیٹھ کر پڑھو ۔۔۔دین اسلام میں بیماروں کے لیےسہولت ہے ۔۔شاباش بیٹا بیٹھ کر پڑھ لو ۔۔حشمت نے رہنمائ کی
غزنوی نے لرزتے قدموں کے سبب بیٹھ کر پڑھنے کو ترجیح دی نماز جمعہ کے خطبہ میں وقت تھا ۔۔حشمت صاحب تسبیح پڑھنے لگے اور غزنوی دل و دماغ کو یکسو کرنے لگا ۔۔اللّہ توبہ قبول کرے گا ۔۔۔کیا میں واقعی اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوں ۔۔کیا میں واقعی توبہ کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔کئ سوال ذہن میں گونجے ۔۔جن کے جواب دل نے دینے ہیں ۔۔۔
اللّہ کو معاف کرنا پسند ہے ۔۔دل سے معافی مانگو اور پختہ عزم رکھو یقینا فلاح ملے گی ۔۔۔یہ شرمندگی ہی ہے جو اللّہ کے سامنے جھکنے پر مجبور کرگئ ۔۔اور توبہ تو ضروری ہے ۔۔خلق کی تکلیف کا باعث بنا ہے تو خالق سے گڑگڑا کر توبہ کر ۔۔۔۔اور اب توبہ میں دیر نہ کر ۔۔
دل کی آواز پر بے ساختہ سجدے میں گیا ۔۔۔اللّہ اللّہ میرے اللّہ ۔۔۔۔اتنا دل سے رویا کہ ہچکیاں بندھ گئ ۔۔زبان سوائے اللّہ کے کچھ نہ کہہ سکی ۔۔
حشمت نے ہلتے وجود کو دیکھا ۔۔مسکرائے ۔۔آخر رب نے توبہ کی توفیق دے دی ۔۔دونوں ہاتھ پیھلائے دعا کی ۔۔۔
تیرا شکر ہے مولا تیرا ایک اور بندہ تیری طرف لوٹ آیا ۔۔اسے ہدایت عطا کردے ۔۔اسے اپنے اعمال کو نئے سرے سے بہترین کرنے کی توفیق عطا کردے ۔۔۔آمین ۔۔
صد شکر مسجد کے اس حصہ میں بیٹھے تھے کہ نئے آنے والے ان کی طرف متوجہ نہ ہوتے ۔۔آرام سے بچھی صف پر کھڑے ہوجاتے ۔۔۔
نماز سے فراغت کے بعد دونوں باہر آئے ۔۔آتے وقت لرزا تھا تو جاتے وقت مستحکم قدم ۔۔۔آتے وقت دھتکارے جانے کا خدشہ موجود تھا تو جاتے وقت معافی ملنے کا یقین تھا ۔۔۔
سب نمازوں کی ادائیگی کے بعد گھر واپس آئے ۔۔دوپہر کا کھانا اور شام کی چائے سیر کرتے ہوئے ایک ہوٹل میں پی ۔۔۔
علاقے کی خوبصورتی نے آج محسور نہ کیا آج تو گزشتہ زندگی پر ذہن میں حساب کتاب چلتا رہا ۔۔۔سوائے گناہوں کی لمبی فہرست کے کچھ نہ ملا ۔۔مضحمل دل ودماغ کے ساتھ حشمت صاحب کے خاطر سیر کی ۔۔۔
آج بہت دیر کردی بابا۔۔مینیزہ نے فکر مندی سے پوچھا ۔۔۔
ہاں بچہ سیر کرنے گیا تھا ۔۔۔جاو پہلے گرم قہوہ لاو پھر کھانا کھاتے ہیں ۔تین دن تک یہی روٹین رہی ۔۔۔دامت چور اللّہ کے گھر مسلسل حاضری دل کو تھوڑا سکون عطا کررہی ہے چوتھے دن حشمت نے پوچھا ۔۔کیسے گزرے یہ تین دن ۔۔۔
بڑے ہی سخت بڑے ہی کڑے مگر تھوڑاپرسکون ۔۔۔کیا مجھے معافی ملے گی ۔۔میں مجرم ہوں ۔۔مجھ سے آپ کو نفرت نہیں ہوئ ۔۔۔
ہاں نفرت تو ہونی چاہیے مگر نہیں ہوئ اس لیے مجھے لگتا ہے نفرت مجرم سے نہیں اس کے جرم سے کرنی چاہیے اب جب تم جرم دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرچکے ہو تو مجھے تمہاری مدد کرنی چاہیے کہ تاکہ تم دوبارہ اس قبیح فعل کے پیچھے نہ جاو ۔۔۔
چلو آج چھوٹی سے اپنی کہانی سناتا ہوں وہ بھی اسلیے مجھے لگتا ہے تمہیں حوصلہ ہوگا ۔۔۔
میری بیٹی مینیزہ بہت لاڈلی تھی مگر تھی تو ایک بشر ہی ۔۔بہک گئ ۔۔۔۔۔۔پوری کہانی سنا کر چپ ہوئے پھر بولے ۔۔۔اس وقت سب اس کے خلاف ہوگئے مجھے بھی سخت غصہ آیا تھا دل چاہا زندہ ہی زمین میں دفن کردوں میں اسے مارنے اس کی طرف جا رہا تھا جب میں نے سنا وہ گڑگڑائ میں نے نہیں کیا میری بیوی نے اسے مارا طعنہ دیا تب مجھے ہوش آیا مجھے پوری بات سن کر فیصلہ کرنا چاہیے ۔۔تب میں لپک کر اس کے پاس پہنچا سکینہ کو منع کیا ۔۔۔مینیزہ نے تشکر سے میری طرف دیکھا۔۔اس کا تشکر سے دیکھنا مجھے اندر تک ہلا گیا ۔۔میں رب کا شکر گزار ہوا اس نے بروقت مجھے درست فیصلہ کرنے کی قوت دی ۔۔اگر میں بھی باقی لوگوں کی طرح عمل کرتا تو پھر کیا ہوتا ۔۔بوڑھا لہجہ ماضی کو سوچ کر کانپا ۔۔۔
میری بیٹی نے اس پل پر مجھے اپنا سائبان سمجھ کر تشکر کیا ۔۔۔میں اس کا سائبان ہی تو ہوں جو اس کو سرد وگرم سے محفوظ رکھے ۔۔۔اگر میں بھی اس دن لعن طعن کرتا اپنے غصے کے سبب جان سے مار دیتا یا میری مار سے میری بچی معذور ہوجاتی ہونے کو کچھ بھی ہوسکتا تھا میرےاور دور ِ جاہلیت کے لوگوں میں پھر کیا فرق رہ جاتا ۔۔۔میں بھی ابو جہل کے قبیلے کا فرد بن جاتا ۔۔اللّہ کا بڑا شکر ہے ۔۔اس نے اس لمحے میرے اندر کے باپ کو جگایا ۔۔میں نے بیٹی کو سنا ۔۔۔اس نے اپنی محبت کا بتایا ۔۔میں اس معاملے میں بھی رب کا شکر گزار ہوں اس نے میری بیٹی کی آبرو کی حفاظت کی ۔۔اس کے بھٹکے قدموں کو روکا ۔۔تھوڑی سزا ملی اسے اپنوں کے طعنے ان کی نظروں سے گرنا ۔۔مگر وہ اپنی ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہے ۔۔۔
آپ اس سے نفرت کرتے تو پھر کیا ہوتا ۔۔۔غزنوی نے ذہن میں مچلتا سوال کیا ۔ آخر اس کی گڑ کی ڈلی بھی تو اس سے نفرت کرتی ہے ۔۔تو بابا نے کیوں نہیں کی ۔۔۔
حشمت مسکرائے ۔۔میں اس سے نفرت کرتا تو آج تم یہاں نے بیٹھے ہوتے ۔۔۔۔۔میری بیٹی کی عزت محفوظ رہی اس دن وہ درندہ اس پر حاوی نہیں ہوا ۔۔۔اگر میں نفرت کرتا تو شاید وہ خود کشی جیسا حرام کام سر انجام دیتی یا پھر گھر سے بھاگ جاتی تو نہ جانے باہر کی دنیا میں اس کا کیا حال ہوتا کچھ پتہ نہیں ۔۔یا پھر وہ ضد میں وہی کام کرتی جس کا اس پر الزام تھا ۔۔میں نے اس سے نفرت نہیں کی وہ تو پہلے ہی لوگوں کے عتاب کا شکار ہوگئ میری نفرت سے ٹوٹ جاتی ۔۔میں نے بھروسہ کیا اسے اپنی شفقت کے پروں میں لیا ۔۔آج میری بیٹی مثالی بیٹی ہے ۔۔۔جو روز قیامت مجھے جنت لے جائے میں مجرم سے نہیں جرم سے نفرت کرتا ہوں تاکہ مجرم کی اصلاح ہو ۔۔اور اس کے ساتھ دوسرے بھی اصلاح پا لیں ۔۔۔۔تم نے زنا کیا بلکہ زنا بالجبر کیا ۔۔۔تم اپنی درندگی میں مخالف پر حاوی ہو گئے تھے ۔۔لیکن اب تم کو ندامت ہے ۔جب تم کو ندامت ہورہی ہے تو بحیثیت مسلمان میں تمہاری رہنمائ کرکے تم کو آسانی دو یا تم سے نفرت کرکے تم کو مزید وہی کام کرنے دو ں ۔۔۔تمہارے چہرے پر صاف صاف پچھتاوا نظر آرہا ہے ۔۔یہ پچھتاوا کیسے ہوا ؟حشمت نے نرمی سے سوال کیا ۔۔
میری بہن نے مجھ پر شک کیا کہ میں اس کے ساتھ بھی وہی کرسکتا ہوں جو لاروش کے ساتھ کیا ۔۔۔اسے لگتا ہے میں نشہ کرتا ہوں ۔۔۔
وہ بچی اپنی جگہ ٹھیک ہے ۔۔غزنوی تڑپا ۔۔میں میں اس کے ساتھ کبھی ۔۔غزنوی بات ادھوری چھوڑ کر رو پڑا ۔۔۔
تواللّہ کے ساتھ ساتھ بہن کا شکر بھی ادا کرو جس کے ڈر نے تم کو احساس دیا ۔۔۔اگر وہ خوف نہ کرتی تو تم لڑکیوں کی عصمتوں سے کھیلنے والے پکے کھلاڑی بن جاتے ۔۔
چہرہ شرم سے مزید جھکا لیا ۔۔میں اس کا ڈر کیسے دور کرو ۔۔
وقت لگے گا وہ بھی بھروسہ کرے گی ۔۔ابھی وہ اپنے آپ کو صرف لڑکی تصور کررہی ہے جب خود کو بہن سمجھی گی تو پھر سے بھروسہ لوٹ آئے گا ۔۔۔بہنوں کے لیے حلال رشتے ان کے باپ بھائ شوہر اور بیٹا ہی اچھے اور سچے محفوظ ہوتے ہیں ۔۔۔۔حشمت نے غزنوی کے ڈولتے دل کو تسلی دی ۔۔۔
آپ زانی کہہ رہے تھے ۔۔یہ زانی کیا ہے ؟ اپنی سوچ میں در آنے والی سوچ کو پھر زبان دی ۔۔۔
پہلے زنا بتاتا ہوں ۔سورة بنی اسرائیل آیت 32
اللّہ فرماتا ہے ۔۔زنا کے قریب نہ جاو بلاشبہ وہ بے حیائ اور برا راستہ ہے ۔۔۔۔۔زنا کا اس طرح علیحدہ حکم دینا بتاتا ہے زنا بے حد برا گناہ ہے ۔۔۔
۔زنا شرک کے بعدسب سے بڑا گناہ ہے ۔۔زنا جنسی تقاضے کو اپنی بیوی کے بجائے کسی غیر عورت سے کرنے اور عورت کا اپنے شوہر کے بجائے کسی دوسرے سے پورا کرنے کا نام ہے ۔۔افسوس ہمارے یہاں یہ بے حیائ عام ہورہی ہے ۔۔۔۔بعض مسلم علماء کے نظریے میں اس لحاظ سے کوئ بھی فعل جو جس میں جنسی تسکین اللّہ اور اور اس کے رسول صلی اللّہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے خلاف حاصل کی جائے وہ زنا میں شمار ہوتا ہے جیسے بوسہ ۔۔مخالف کو چھونا وغیرہ
اسلام زنا کے سخت خلاف ہے ۔۔اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے ۔۔اسے سب جانداروں میں فوقیت بخشی ۔۔اس کے طرز زندگی کے پیارے اصول وضوابط بنائے ۔۔میاں بیوی کا خوبصورت رشتہ بنا یا ۔۔جانوروں میں بھی شہوت پیدا ہوتی ہے اور ہیجان پکڑتی ہے تو وہ جس طرح بھی چاہے اسے پورا کرے ۔۔آخر وہ جانور ہے ۔۔لیکن انسان نہ جانے کیوں جانوروں کی سطح پر پہنچ جاتا ہے ۔۔اپنے اوپر قابو کیوں نہیں کرسکتا ۔اسلام کے ضابطہ اخلاق سے باہر نکل کر کوئ فلاح نہیں پاسکتا ۔۔ آجکل معاشرے میں بے حیائ عام ہے مردو عورت میں شرم وحیا کی تفریق ختم ہوچکی ہے ۔ اپنے آپ پر قابو پانا سیکھو جانور نہ بنو ۔۔۔اور خود پر قابو رکھنے کے لیے نماز اور وضو کا سہارا لو ۔۔دیکھنا یہ دونوں کبھی بے سہارا نہیں کریگی ۔۔۔
اسلام زنا کے خلاف ہے تو یقیناً پھر زنا کی سزا بھی ہوگی ۔۔غزنوی نے دوبارہ سوال کیا ۔۔۔
بالکل سزا ہے ۔۔یہ ایسا جرم ہے جس کی سزا دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ہے ۔۔۔پہلے عبوری سزا آئ تھی ۔۔
اور جو تمہاری عورتیں زنا کریں تو ان پر چار گواہ کی گواہی طلب کرو اور پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند کردو تاوقتیکہ ان کو موت آجائے یا پھر اللّہ ان کے لیے کوئ راستہ بیان کردے ۔۔
اور تم میں سے جو مرد و عورت بد کاری کا ارتکاب کرتے ہوں ۔انھیں اذیت دو پھر اگر وہ توبہ اور اصلاح کرلیں تو ان سے درگزر کرو بے شک اللّہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے اللّہ پر انھی لوگوں کی توبہ قبول کرنا لازم ہے جو جذبات میں بہہ کر کوئ برائ کر بیٹھتے ہیں اور پھر جلد ہی توبہ کر لیتاہے اور اللّہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔ان لوگوں کے لیے توبہ کا کوئ موقع نہیں جو برابر برائیاں کرتے رہتے ہیں ۔۔یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اس طرح ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر کی حالت میں مرجاتے ہیں ۔۔ان کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔۔سورة النساء،۴ ١٨)
آپ کہہ رہے تھے معافی مل جائے گی لیکن آیت پاک میں سزا کا ذکر ہے ۔۔۔
تو تم نے صرف آخر میں ہی غور کیا شروع میں اللّہ نے کہا جو توبہ اصلاح کریں گے تو ان کی توبہ قبول ہوگی ۔۔۔۔میں کچھ تفصیل سے بتاتا ہوں پہلے آخرت کی سزا بتاونگا پھر دنیا کی ۔۔۔
سمرت بن جندب رضی اللّہ تعالی سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وسلم سے فرمایا ۔۔۔رات میرے پاس دو فرشتے آئے اور مجھے ساتھ لے گئے ۔۔۔۔نبی صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم۔اس سے آگے چلے تو تنور جسی چیز کے پاس آئے تو اس میں شوروغا اور آوازیں سی پیدا ہورہی تھیں ۔۔۔
اس میں جھانکا تو مرد وعورت دونوں ننگے تھے ۔۔ان کے نیچے آگ کے شعلے آتے اور ان کی شعلوں کے آنے سے وہ شور وغوغا کرتے ۔۔
نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔میں نے ان دونوں سے پوچھا یہ لوگ کون ہیں ۔۔وہ کہنے لگے وہ جو تنور جیسی چیز میں لوگ تھے وہ سب زنا کرنے والے مردوعورتیں ہیں ۔۔۔صحیح بخاری حدیث نمبر 6525
غزنوی کانپا اتنی سخت سزا لیکن کوئ سوال نہ کیا ۔۔۔بالکل دھیان سے حشمت کو سن رہا ہے ۔۔۔ادھر دوسرے کمرے میں مینیزہ بھی باپ کو سن رہی تھی اسے بھی اس کے باپ نے یہ سب سمجھایا تھا قرآن و حدیث کی روشنی میں ۔۔۔
سورہ نساء کی آیتوں کو لیکر کئ اختلاف و بحث سامنے آیا ۔۔اکثر کی رائے ہے ۔والتی یاتین الفاحشہ من نساء کم میں شادی شدہ خواتین کی سزا ہے ۔۔جبکہ وللذن یاتینہا میں کنوارے زانی کی سزا ۔۔۔نسا لفظ خواتین کے لیے استمعال ہوتا ہے اس لیے بحث کی وجہ بنا۔۔۔دوسری رائے میں وہ صورت درپیش ہے جس میں بدکاری کے چار گواہ میسر ہوں تو کاروائ کی جاسکے اور دوسری آیت میں اس صورت کا ہے جب گواہ نہ ہوں ۔۔زیادہ تر رائے میں پہلی آیت میں. . عادتا زنا بنا لینے والے جوڑے ہیں ۔۔۔۔۔یا طوائف اور ان کے یہاں جانے والے مستقل مرد ۔۔۔جو ہر وقت ان بری جگہوں پر جا کر زنا کی لذت لیتے تھے ۔۔۔
جاری ہے
