Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16
صبح سویرے شجاع اور لاروش نے مل کر سب کے ساتھ ناشتہ کیا ۔۔اور روانگی کی تیاری شروع کی ۔۔۔
ارے میں تو بھول گئ ناشتہ کرتی ثنا نے سب کے بیچ پریشانی سے بولا ۔۔۔
کیا بھول گئ ۔۔۔مورے نہ پوچھا
دودھ پلائ کی رسم ۔۔۔۔ثنا غمگین بولی
اللّہ کاشکر ہے میں مہنگا دودھ پینے سے بچ گیا ۔۔شجاع نے اطمینان سے چائے کا سپ لیتے ثنا کو چڑایا ۔۔۔۔
ہاں تو کیا ہوا ہم وہ رسم ابھی کریں گے ۔۔۔ثنا نے عزم کا اظہار کیا ۔۔اور فاتحانہ نظروں سے شجاع کو دیکھا
اچھامجھے تو اس ٹیبل پر تو کہیں نظر نہیں آرہا ۔۔۔۔شجاع ٹیبل پر پڑی انواع قسم کی نعمتوں پر نظر ڈال کر ثنا سےمصنوعی فکر مندی ظاہر کی ۔۔۔
ٹیبل پر نہیں ہے تو کیا ہوا ۔۔کچن میں تو ہے ۔۔۔۔ثنا نے بھی مصنوعی تیوری چڑھائ
جب تک تم لاو گی میں جاچکا ہوگا ۔۔شجاع نے دھمکایا
۔۔ایسے کیسے جائیں گے ۔۔میں آپ کو لاروش کی قسم دے دونگی ۔۔۔ثنا نے دھونس جمائ ۔۔۔
میں تو چلا سامان گاڑی میں رکھنے ۔۔۔۔یہ کہتے ہی شجاع کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
ثنا نے شجاع کو کھڑا دیکھ کر فوراً کہا ۔۔شجاع لالہ آپ یہاں نہیں جائیں گے آپ کو لاروش کی قسم ۔۔۔
شجاع نے تاسف سے سر ہلایا اور رخ موڑ کر جانے لگا ۔۔
ثنا شجاع کو جاتا دیکھ حیران ہوئ ۔۔ اسے لگا تھا شجاع قسم سے رک جائے گا اور بغیر دودھ پیے پیسے دے گا ۔۔۔لیکن اس کی توقع کر برعکس ہوا ۔۔۔اس نے چور نظروں سے لاروش کو دیکھا ۔
لاروش کا چہرہ پل میں متغیر ہوا ۔۔۔
ؐلاروش کو بھی امید نہ تھی شجاع اس کا مان نہیں رکھے گا
یارب میں اس قابل بھی نہیں کہ میرا شوہر میری قسم کی لاج رکھتا ۔۔۔لاروش سنبھل سب تجھے ہی دیکھ رہیں ۔ ۔آنسو باہر نہ نکل ۔۔۔۔۔۔رات میں شجاع نے میرے دل بہلانے کو اظہار محبت کیا ہوگا ۔۔۔شاید ۔۔۔بد گمانی کا ناگ پھن پہیلانے لگا۔ ۔لاروش نے خود کو ڈپٹا ۔۔۔
لیلی گرم چائے لاو ۔۔برادشت کرتے بھی آواز بھرائ ۔۔
۔بہت مشکل سے آنسو کو روکا ۔۔۔اس کے آنسو دیکھ کر مورے خان پریشان ہوجاتے وہ اپنی ذات سے اب کوئ دکھ اپنے ماں باپ کو نہیں دینا چاہتی ۔۔۔خود کو لاپرواہ ظاہر کرتی ٹیبل سائیڈ کھڑی لیلی سے چائے گرم کرکے لانے کا کہا ۔۔۔
ثنا کے علاوہ ٹیبل پر بیٹھے تقریباً سارے افراد حیران اور پریشان تھے ۔کچھ دیر قبل خوش خوشی اور چہل پہل ٹیبل پر موجود تھی اور ایکدم سناٹا چھا گیا اب صرف چمچے اور کانٹوں کی ہی آواز گونجنے لگی ۔۔۔۔۔اکبر نے ایک نظر سب پر ڈال کر شجاع کو آواز لگائ جس کے قدم ڈائننگ کی دہلیز پار کرنے والے ہی تھے ۔۔۔
شجاع یہاں آیے ۔۔۔اکبر نے باوقار انداز میں بلایا ۔۔۔
جی بابا ۔۔۔۔۔شجاع مسکرا پلٹا ۔۔۔۔
لاروش جلدی جلدی ناشتہ ختم کرنے لگی تا کہ اپنے روم میں جا کر دل تھوڑا ہلکا کرسکے ۔۔۔
آپ کو لاروش کی قسم دی گئ اور آپ رکے نہیں چلے گئے ایسا کیوں ۔۔۔۔؟ کیا آپ کے نزدیک لاروش کی کوئ وقعت ہے یا نہیں ۔۔آپ نے یہ بھی نہ سوچا اس طرح نظرانداز کرکے جانے سے زاور اور خانی کے دل میں اندیشے جاگ سکتے ہیں ۔۔۔۔اکبر آفریدی نے پے در پے سوال کیے ۔۔۔
رہنے دو اکبر بچے ہیں۔۔زاور کو شجاع کا چلے جانا بھلے کتنا ہی برا لگا ہو لیکن وہ داماد کو شرمندہ بھی دیکھنا نہیں چاہتے ۔۔۔اس لیے اکبر کو منع کرنے لگے ۔۔۔
شجاع کی مسکراہٹ سمٹی ۔۔ایک طائرانہ نظر ٹیبل پر ڈالی ۔جہاں سب ہی ناشتہ چھوڑ شجاع کے جواب کے منتظر شجاع کو دیکھ رہے تھے ۔۔بس لاروش ہی ناشتے میں مگن تھی ۔۔جسے پہلی بار ناشتہ کر رہی ہو ۔۔یا ناشتہ جلد ختم ہونے کی ریس لگی ہو اور جیتنا ضروری ہے ۔۔۔۔شجاع نے لاروش کے تیزی سے چلتے کپکپاتے ہاتھوں کو دیکھا ۔۔۔اور مسکرادیا ۔۔۔
جی بابا جب ثنا نے مجھے قسم دی تو میں نے اقرار نہیں کیا تھا کے میں قسم کھاتا ہوں ۔۔جب میں نے اقرار نہیں کیا تو مجھ پر قسم واجب نہیں۔ ۔۔۔ہاں ثنا واسطہ دیتی یا صدقہ کہتی تو میں رک جاتا ۔۔۔
اللّہ نہ کرے میں جو صدقہ لوں ۔۔۔ثنا نے دہل کر دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھے ۔۔ جھٹ جواب دیا ۔۔مبادا شجاع دینے ہی نہ بیٹھ جائے ۔۔۔
ثنا میری بات مکمل نہیں ہوئ تھی ۔۔۔شجاع نے ہلکا ناگواری کااظہار کیا ۔۔۔۔پھر گویا ہوا
جی اللّہ کے فضل سے ان محترمہ کو صدقے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔اس لیے صدقے کا حوالہ نہیں بنتا ۔۔۔اور اگر یہ کہتی شجاع لالہ لاروش کا واسطہ تو میں احتراماً لاروش کی محبت کے سبب رک جاتا ۔۔کیوں کہ رشتوں کو مان دینا بے حد ضروری ہے ۔۔اور محبتوں کے واسطے تو بڑے سے بڑے پہاڑ سر کرلیے جاتے ہیں ۔۔۔۔میں بھی خوشدلی سے رکتا ۔۔۔۔سارے ہی دلچسپی سے شجاع کو سن رہے تھے ۔۔لاروش نے بھی ناشتے سے ہاتھ روک کر شجاع کی بات سنی ۔۔لیکن دل ابھی تک مطمئن نہیں ہوا ۔۔۔بد گمانی ہنوز قائم ہے ۔۔۔
میں لاروش سے محبت کرتا ہوں اس کی عزت بھی کرتا ہوں میرے نزدیک لاروش کی بے انتہا اہمیت ہے ۔۔۔اگر لاروش کہتی ثنا کو دودھ پلائ کی رسم میں اپنا سر کاٹ کر دے دو تو میں یہ کر گزرتا ۔۔۔میں نے لاروش سے مقدس بندھن بندھا اونچ نیچ ہر رشتے میں ہوجاتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں آپ اہمیت نہیں دیتے ۔۔۔یا وہ رشتہ وقعت نہیں رکھتا ۔۔۔اور خان اور مورے جانتے ہیں میں انکی لاڈلی کا خیال اچھے سے رکھونگا ۔۔۔اس لیے ان کے دلوں میں اندیشہ نہیں جاگے گا ۔۔۔شجاع نے مسکرا کر اپنا وضاحتی بیان دیا ۔۔۔
لیکن قسم کی بھی اہمیت ہوتی ہے ۔۔میری دوستیں تو مجھے اپنی قسمیں دے دے کر نہ جانے کتنے کام کروالیتی ہیں ۔۔ثنا نے نروٹھے پن سے کہا ۔۔۔
جب آپ کو وہ قسم دیتی ہیں تو آپ اس قسم کا اقرار کرتی ہونگی ۔۔۔جب ہی پوری کرتی ہیں ۔اور آپ سب ناشتہ تو جلد کریں ۔۔۔۔۔شجاع نے ثنا سے سوال پوچھ کر باقیوں کی توجہ ناشتے کی طرف مبذول کی ۔۔
میں سمجھی نہیں ۔جب وہ کہتی ہیں ثنا تجھے میرے سر کی قسم مجھے یہ سوٹ پہننے کے لیے دےدو ۔۔تو میں غصہ کرکے دے دیتی ہوں۔۔قسم کااقرار تو نہیں کرتی ۔۔ثنا نے مثال دی
کسی کوقسم دینے سے قسم نہیں ہوتی جب تک وہ قسم دینے والے کی قسم پر خود قسم نہ کھائے ۔۔۔یا اس کی قسم پر ہاں نہ کہے ۔۔تب تک قسم واجب نہیں ۔۔۔۔شجاع نے دینی نقطہ ء نظر واضح کیا۔
کیا مطلب شجاع لالہ ۔۔۔۔ثنا نے ناسمجھی سے کہا ۔۔۔
ارے بہن جب تمہاری دوست نے کہا سوٹ دو اور تم جواب میں کہتی میں تم کو سوٹ دینے کی قسم کھاتی ہوں ۔۔تب تمہارے اس اقرار پر تم پر قسم واجب ہوتی اور محض ہامی بھی بھر لی تو تب ضروری ہوتا کہ تم سوٹ دے دیتی ۔۔۔لیکن نہ ہاں کی تو پھر تم سوٹ نہیں بھی دیتی تو تمہاری دوست کے سر کو کچھ نہیں ہونا تھا ۔۔۔
اچھا ۔۔۔اب میں سمجھی ارے واہ یہ تو بہت اچھا ایویں دوستیں قسمیں دے دے کر میرا بہترین سوٹ لے جاتی ہیں اب تو نہ دو میں ۔۔۔ثنا نے شوخی سے اپنا ارادہ ظاہر کیا ۔۔۔
لاروش سمیت سب مسکرادیے ۔۔۔۔
لیکن قسم کی اہمیت اپنی جگہ ہے تو ۔برو ۔شہیر دوار نے بھی سوال کیا ۔۔۔
جی ہاں جب آپ نے کسی ٹھوس وجہ پر کھائ ہو ۔۔۔۔شجاع نے بھی لمحہ لگائے بنا جواب دیا
مطلب ۔۔۔
بتاتا ہوں ۔۔۔تفصیل سے ہی بتاتاہوں ۔۔قسم کو عربی میں زبان میں یمین کہتے ہیں جس کا مطلب داہنا ہاتھ ہے اہل عرب سیدھا ہاتھ ملا کر قسم لیتے تھے اور یمیں یُمن سے نکلا ہے جس کے معنی برکت اور قوت کے ہیں ۔۔اور شرعی اعتبار سے قسم اس عقدعہد کو کہتے ہیں جس کے ذریعے قسم کھانے والاکسی کام کو کرنے کا ارادہ کرے ۔۔۔قسم کی تین قسمیں ہیں ۔۔ پہلی لغو ۔۔جو کسی غلط فہمی کے سبب کھائ گئ ہو ،اس پر کفارہ نہیں ۔۔۔دوسری غموس جو جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائ گئ ہو ،اس پر توبہ فرض ہے ۔۔۔تیسری ہے منعقدہ جس میں آئندہ آنے والے وقت میں کام کرنے کی کھائ ہو اور وقت گزر گیا کام نہ کیا تو اس کا کفارہ ادا کرنا ہوگا ۔۔۔اور آپ کفارہ پوچھیں گے تو وہ بھی بتاتاہوں ۔۔۔سارے دلچسپی اور توجہ سے شجاع کو سن رہے تھے توجہ کا رو یہ عالم تھا کہ ناشتےسے ہاتھ روکے منتظر تھے ۔۔۔پلیز ناشتہ کرے ہمیں جانا بھی ہے ۔۔۔میں بتا رہا ہوں آپ کان میری طرف رکھیے اور ناشتہ مکمل کریے ۔۔۔۔۔۔اور مزید بتانے لگا
اللّہ تمہاری بے مقصد قسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرماتا لیکن تمہاری ان سنجیدہ قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم ارادی طورپر مضبوط کرلو ۔۔اگر تم ایسی قسم کو توڑ ڈالو تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط کھانا کھلانا ہے ۔۔۔جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا اسی طرح ان مسکینوں کو کپڑے دینا ہے یا ایک گردن غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے ۔۔پھر جسے (یہ سب میسر نہ ہو تو تین دن روزہ رکھنا ہے ۔۔۔یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کھالو (اور پھر توڑ بیٹھو )اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو ۔۔اسی طرح اللّہ تمہارے لیے اپنی آیتیں خوب واضح فرماتا ہے ۔۔۔سورةالمائدہ 85 89 ۔۔۔۔۔
اور ایک بات قسم کھاتے وقت خیال رکھو غیراللّہ کی قسم نہ کھاو ۔۔جیسے میری قسم تمہاری قسم ماں باپ مذہب دین کعبہ یا رسول اللّہ کی قسم نہ کھائ جائے ۔۔قسم معتبر ہوگی اللہ اور اسکے صفاتی نام کی کھانے یا کلام ِ پاک کی کھانے سے ۔۔۔
پیارے نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم سے ارشاد ہے صحیح بخاری حدیث نمبر 286۔ ۔۔۔حضرت سیدنا فاروق سواری پر چلتے ہوئے باپ کی قسم کھارہے تھے ۔۔۔۔آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللّہ عزوجل باپ کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے ۔۔۔جو شخص قسم کھائے تو اللّہ کریم کی قسم کھائے یا چپ رہے ۔۔۔
قرآن و حدیث میں وضاحت سے موجود ہے ۔۔۔قسم کھانے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے بلاضرورت یا غیر ضروری باتوں کے لیے قسم نہیں کھانی چاہیے ۔۔۔معقول وجہ یا پھر کوئ اہم کام سرانجام دینا کی یقین دہانی کے لیے قسم کھائ جاسکتی ہے ۔۔۔۔
ماشاء اللّہ آپ کی نالج بہت اچھی ہے برو ۔۔۔
اللّہ کا کرم ہے ۔۔۔تم بھی قرآن پاک حفظ کرچکے ہو ترجمہ پڑھو ۔ اللّہ نے دنیا کا علم رسول صل اللّہ علیہ وسلم پر مکمل کردیا ۔۔طرز زندگی قرآن میں موجود ہے ۔۔۔کہیں بہت وضاحت سے بتایا گیا ۔۔۔اور کہیں تھوڑا لیکن مدلل بتایا گیا ۔۔۔جسے اور مزید وضاحت نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے حدیثوں میں بھی بیان کیا ۔۔اور عملی طور پر عمل کرکے سنت بھی بنادیا ۔۔۔۔تفسیر پڑھو ۔۔قرآن کریم کا ترجمہ بھی پڑھو قرآن حفظ کرنے کا مزہ دوبالا ہوجائے گا ۔آج کل فرقوں میں پڑ کر سوائے اختلاف کرنے کے ہم دین سے دور ہوگئے ۔۔اپنے مسئلے لیے در در بھٹکتے ہیں اور کبھی غلط ہاتھوں میں پڑ کر ایمان گنوا بیٹھتے ہیں ۔۔۔۔ہمارے پاس تو قرآن اور حدیث کی صورت میں نمایاں احکامات ہیں ۔ضروری نہیں ہے ہر بات کے لیے کسی مولوی کی طرف بھاگیں ۔۔۔پہلے اپنا مسئلہ خود قرآن میں دیکھو ۔۔۔اگر جہاں بات گھمبیر لگے ۔، جہاں. کھبی بات سمجھ میں نہ آرہی ہو توکیوںکہ عام انسانی عقل ہے کوئ ولی یا امام نہیں تو تھوڑی سی دقت تو ہوگی ۔ تو اس صورت میں کسی بڑے عالم کے پاس جاو ۔۔۔مختلف کاتب فکر کو بھی ریسرچ کرلینی چاہیے ۔۔۔یہ نہ دیکھو اہل تشیع ہے یا سنّی ۔۔دیو بند ہے یا اہل حدیث ۔۔۔بات کیا کررہا ہے یہ سنو ۔۔پھر جس مکاتب ِفکر پر دل و دماغ متفق ہو مطمئن ہو اسے فلو کرو ۔۔۔۔۔۔لیکن دل و دماغ دونوں کا ایک ہونا ضروری ہے ۔۔۔
لیکن دل ودماغ ایک پر متفق کب ہوتا ہے ۔۔لاروش نے سوال کیا ۔۔۔
کیوں نہیں ہوتا ۔۔۔۔اللّہ ایک ہے ۔۔۔
بے شک سب نے یک زبان کہا ۔۔۔شجاع مسکرایا ۔۔۔
یہی اللّہ پاک ایک ہے قرآن حکیم آخری الہامی کتاب ہے رسول کریم صلی اللّہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں ۔۔۔ان سب پر ہمارا دل ہی نہیں دماغ بھی یقین رکھتا ہے ۔اور یقین ہی سکون ہے، امن ہے فلاح ہے ،زندگی ہے، مجبت ہے،ایمان ہے ، اجر ہے ،
بہت خوب برخودار دل خوش ہوگیا ۔۔ان شاء اللّہ ضرور قرآن کریم کا ترجمہ پڑھیں گے ۔ چلو جلدی شہر چلیں ۔۔۔افراتفری مچ گئ ۔۔۔لائن سے لینڈ کروزر کا قافلہ نکلا ۔۔۔۔
چوکیدار نے حویلی کا دروازہ بند کرنے لگا تو ایک شخص نے آکر چوکیدار سے پوچھا ۔۔۔۔
مجھے زاور آفریدی سے ملنا ہے ۔۔۔
صاحب تو ابھی شہر گیا صاحب کی بیٹی لاروش بی بی کا آج ولیمہ ہے ۔۔۔۔
چوکیدار کے بتانے پر سامنے والے پر پہاڑ ٹوٹا ۔۔۔آنکھیں نم ہوگئ ۔۔۔
ولیمے کی تقریب کا انتظام بہت اچھا تھا شہر کے کافی امراء نے شرکت کی ۔۔بزنس کی دنیا میں آخر اکبر کے بعد وجاہت نے بھی مضبوط قدم جمالیے تھے۔۔۔جانپہچان کی کمی نہ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کب تک سوگ میں رہنے کا ارادہ ہےفٹا فٹ تیار ہوجاو آج وجاہت کے بیٹے کا ولیمہ ہے ۔۔جا کر شکل سنوارو ۔۔۔
میرا دل نہیں کررہا آپ جائیں ۔۔
انس پیٹنے والے کام نہ کرو ۔۔۔اتنے دن سے ادھر اُدھر مارے مارے پھر رہے ہو ۔۔میں نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔اس لڑکی نے انگجمینٹ توڑ دی تم نے اس کے گھر والوں سے بات کرنے سے روک دیا ۔۔میں نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔لیکن اب سدھر جاو اپنا حلیہ ٹھیک کرو مجنوں کی اولاد نہ بنو میں تمہارے لیے بہترین لڑکی ڈھونڈو نگی ۔ بس اسی سال تمہاری شادی کرنی ہے ۔۔۔۔۔
مما مجھے ثنا کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرنی ۔۔میں اسے منا لونگا ۔۔وہ ناراض ہے ۔۔۔غزنوی مل جائے پتہ نہیں کہا گھم ہے ۔۔ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے آپ کو میری شادی کی لگی ہے ۔۔۔انس جنجھلایا ۔۔۔
ماں کے گھورنے پر پیر پٹختا تیار ہونے گیا اور ساتھ ہی بلاول کو بلالیا ۔۔۔آفتاب اپنے گاوں اور شہروز غزنوی کے گاوں میں تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولیمہ میں دولہا اور دلہن کی جوڑی خوب صورت لگ رہی تھی ۔۔لاروش کے چہرے پر اطمینان گل زریں کو بے حد مسرور کررہا تھا ۔۔۔۔شجاع جیسا داماد قسمت والوں کو ملتا ہے ۔۔۔گل زریں کو خوش دیکھ کر شادان بھی خوش تھا ۔۔۔
انس بلاول نے شیر زمان کی معیت میں ہال میں قدم رکھا ۔۔۔اکبر سے ملنے کے بعد ہال میں لگی ٹیبل پر بیٹھنے کے لیے انس نے نظریں دوڑائ اور ایک جگہ آکر نظر ٹھر گئ نظر پلٹنے سے انکاری ہوگئ
۔خوش باش ثنا شہیر سے باتوں میں مصروف تھی نظروں کی تپش کے ارتکاز پر بے چین سامنے دیکھا تو حیران رہ گئ ۔۔یہ یہاں کہاں ۔۔اللّہ میرے کیا کرو۔۔ثنا روک ایسے کہیں لاروش دیکھ کو اپ سیٹ نہ ہوجائے ۔۔اپنے معاملات بھولے بوکھلا کر انس کے پاس آئ ۔۔۔
تم تمہاری ہمت کیسے ہوئ یہاں آنے کی فوراسے پیشتر نکلو ۔۔۔
ثنا کو اپنے پاس آتا دیکھ انس خوش فہم ہوا مگر ثنا کی غرائ مدہم آواز نے اسے بے چین کیا ۔۔۔
میں اپنے والدین کے ساتھ انوائیٹ ہوں ۔۔انس نے تحمل سے جواب دیا ۔۔۔
انوائیٹ ہو ۔۔۔ثنا چپ ہوگئ ۔۔اچھا لیکن پلیز چلے جاو لاروش تمہیں دیکھے گی تو اپ سیٹ ہوجائ گی ۔۔۔اسی اثنا میں بلاول انس کو پکڑ کر اسٹیج کے قریب رہ گیا ۔۔ثنا کی منت ،کوشش دھری رہ گئ ۔۔انس اور بلاول گم سم لاروش کو دیکھتے رہے اپنے یار کی بھابھی کی حیثیت سے لاروش کو ہمیشہ عزت دی ۔اب کسی اور کی دلہن بنی ان کو بری لگی ۔۔۔
انس اور بلاول کو دیکھتے ہی لاروش کی مسکراہٹ سکڑی ۔۔متوحش نظروں سے آس پاس دیکھا کہیں غزنوی تو نہیں ہے ۔۔
لاروش کا دل ڈوبا لیکن شجاع کی موجودگی پر دل ابھرا ۔۔۔میرے ساتھ شجاع ہیں ۔۔جلدی سے لاروش نے شجاع کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔
کیا ہوا لاروش ۔۔۔یہ ہاتھ کیوں ٹھنڈے ہورہے ہیں ۔۔۔
بس ایسے ہی میں تھک گئ ۔۔۔لاروش نے بات بنائ ۔۔۔
ہمم بس تھوڑی دیر اور گیسٹ تو سارے ہی آگئے ہیں بس ہم ڈنر شروع ہوتے ہی چلیں جائیں گے ۔۔۔
کیا دیکھ رہے ہو ۔۔۔میری دوست کو نظر مت لگا دینا ۔۔۔ثنا نے انس کو گھورتے بولا ۔۔۔
یہ سب کیسے کیوں ہوا ۔۔۔انس نے بوکھلا کر پو چھا. ۔۔
کیوں تمہارے دوست کا زخم کھا کر لاروش کو مرجانا تھا یہی پوچھ رہے ہو نہ ۔۔ثنا نے غصے مدہم بولی
نہیں میرا مقصد یہ نہ تھا ۔۔۔ہم غزنوی سے اس کی شادی کردیتے تھوڑا انتظار تو کرنا تھا ۔۔۔
واقعی عظیم غلطی ہوگئ ۔۔ایسا کرتے ہیں تم گن لاوشجاع لالہ کو مار دو ۔۔پہلے ایک دوست نے عزت اجاڑی دوسرا سہاگ اجاڑ دے ۔لاروش کو مکمل برباد کرکے ٹھنڈ پے جائے تم دوستوں کے کلیجوں میں ۔۔۔۔۔ثنا گھورتی نظروں سے دیکھتی بولی ۔۔نظریں ایسی تھی کہ نظروں سے ہی جلا کر بھسم کردے ۔۔۔مگر سامنے بھی ڈھیٹ دیدہ دلیری سے کھڑا تھا ۔۔
اب تم زیادہ کہہ رہی ہو ۔۔۔انس نے ناگواری سے کہا ۔۔۔
میں تو کہنا ہی نہیں چاہ رہی کچھ ۔۔۔اچھا خاصہ موڈ تھا اپنی شکل دکھا کہ برباد کردی ۔۔۔جواباثنا نے بیزاری سے کہا
ہاں اندازہ ہورہا تھا مجھے تمہارے موڈ کا ۔۔۔۔انس نے شہیر کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
ثنا جواب میں پھر کچھ کہتی مگر اگلے پل بلاول انس کے گلے لگا جو ثنا کے پاس آتے ہی تھوڑا دور ہوگہا تھا پھر کال آنے پر سن کر انس کے پاس آیا ۔۔۔
کیا سچ ۔۔۔انس کی خوشی سے بھر پور آواز ثنا کے حواس مختل کرگئ
_____
بابا بچی پانی مانگتی ہے ۔۔۔شریں جا کر لانے کے بجائے وہیں اپنے شغل میں مگن ہوگئ. .
مقابل کو لگا پانی نہ ملا تو وہ مرجائے گا ۔۔۔۔
ہانپتا ہوا ایک وجود سامنے آیا جس نے چارپائ کے پاس رکھے اسٹول پر پانی کا گلاس رکھا پھر اپنے سخت کھدرے ہاتھوں سے مقابل کا سینہ سہلایا پھر اس کے ہونٹوں سے پانی کا گلاس لگایا ۔۔۔
غٹاغٹ پانی چھڑایا ۔اور دیں ۔۔۔پانی پی کر حلق سے نحیف آواز نکلی ۔۔۔ نہ جانے کتنے دنوں کی پیاس تھی ۔۔۔۔
مینزہ پانی لاو ۔۔۔۔
جی بابا ۔۔۔
چادر سے چہرہ چھپائے مینزہ پانی لائ حالا نکہ وہ اجنبی تو ابھی آنکھیں بند کیے نڈھال ہے ۔۔۔اسمیں اتنا بھی دم نہیں خود سے گلاس لیے پانی پی لے مینزہ کو خاک دیکھے گا مگر احتیاط کرنا منیزہ نے بہتر سمجھا ۔۔
شیریں چلو کمرے میں لیکن یہ سب پہیلاوہ سمیٹنے کے بعد ۔۔۔نرم مگر سخت لہجے میں شیریں کو تنبیہ کرتی اندر کمرے کی جانب چلی۔۔۔
ام پورا کھائے گا ۔۔۔ابھی تو دو مالٹے باقی ہیں ۔۔۔پھر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔شیریں نے اپنا شغل مکمل کرنے ارادہ کیا
اللّہ کا شکر ہے ہوش آیا دو دن سے تم پر بے ہوشی طاری تھی ۔۔۔حشمت نے غزنوی کی نیم وا آنکھوں کو دیکھتے کہا ۔۔۔
میں کہاں ہو ۔۔۔
تم وادی بونیر میں ہو ۔۔سڑک کنارے میرے بیٹے کو ملے تھے ۔۔اس نے بتایا تم بہت نیک بچے ہو ۔۔۔تمہارا خیال رکھو ۔۔۔ہماری وادی کو دہشت گرد طالبان نے بے حد نقصان پہنچایا ۔۔۔اس لیے کسی اجنبی کو دیکھتے ہی پوچھ گچھ شروع ہوجاتی ہے ۔۔کیا پتہ وہ طالبان کا مخبر ہو یا ساتھی ۔۔۔ تمہارے بارے جانتے نہیں اس لیے چھپایا یہی وجہ ہے تمہارے لیے ڈاکٹر نہیں بلا سکے حکیم کے نسخے ہی استمعال کرلیے ۔۔آج بخار کا زور ٹوٹا ہے ۔۔کچھ اپنے بارے میں بتاو ۔۔میرے بیٹے کو جانے کی جلدی تھی اس لیے روکا نہیں کبیر نام ہے ۔۔۔اسے بھی تمہارے بارے میں کچھ خاص نہیں پتہ تھا ۔۔۔اب تم اتنے ہوش میں آگئے ہو اپنا بتا سکو ۔۔۔حشمت نے ٹھرے لہجے میں زخمی کو دیکھتے بات مکمل کی
لیکن زخمی تو لفظ نیک میں ہی الجھ گیا باقی کیا کہا کچھ پتہ نہیں ۔۔۔
میں کہاں سے نیک ۔۔۔مجھے تو نیک کا معنی ہی پتہ ہونگے بس ۔۔۔
بولو بیٹا ہمت کرو کچھ بتاو ۔۔تاکہ میں ڈاکٹر کو تو بلا ہی لوں حشمت نے بازو ہلایا ۔۔۔
نقاہت کی سبب مشکل سے آواز نکلی جس میں صرف نام ہی بتایا ۔۔۔
چونکا ۔۔۔۔غزنوی ۔۔۔۔
پھر چپ آنکھیں موند لی ۔۔۔
کیا بتاو ریپیسٹ ہوں ۔۔اپنی محبت کا مجرم ۔۔۔یا اب اپنی بہن کی نظروں میں بے اعتبار ۔۔۔آہ کیوں ہوگیا مجھ سے لاروش پر ظلم ۔۔۔میں کیوں انا کے زعم میں آیا ۔۔۔مجھ پر تھوکا ہی جائے تو ٹھیک ہے ۔۔۔منتشر سوچوں میں زہن کھوگیا ۔۔۔۔
حشمت نے کچھ دیر تو انتظار کیا غزنوی کچھ مزید بتائے لیکن وہ تو صرف نام بتائے آنکھیں موند گیا ۔۔۔
بابا ان کو اتنا تو ہوش آگیا ہے کوئ ان کی بابت معلومات لیں تو یہ بتا سکیں گے ۔۔۔آپ ڈاکٹر کو لے آیے ۔۔۔بیزاری سے مینزہ نے آکر مشورہ دیا ۔۔۔۔
دو دن سے بابا کو اس اجنبی کی دیکھ بھال میں پریشان دیکھ سخت کوفت کا شکار ہوئ ۔۔بابا مہمان نواز طبیعت سے مجبور تھے ۔۔۔بس اجنبی ٹھیک ہو اور جائے یہاں سے۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے ٹریٹمنٹ کی ۔۔اور گھر پر ہی ڈرپ لگادی ۔۔۔
ڈاکٹر نے غزنوی کو بخار کی تشخیص کے لیے ایڈمٹ ہونے کا مشورہ دیا جسے غزنوی نے خود رد کیا ۔۔۔۔۔بخار تو کم ہی نکلا پھر تشخیص کی کیا ضرورت ۔۔جان لیوا ہوتا تو اب تک مر چکا ہوتا ۔۔۔غزنوی نے سنجیدگی سے ڈاکٹر کو جواب دیا ۔۔۔
حشمت کے گھر ڈاکٹر کی آمد سے پڑوسیوں کو فکر میں ڈالا کیا اس کی بیٹی کی وجہ سے ڈاکٹر آیا ۔۔۔
لیکن حشمت نے اپنے بیٹے کے دوست کا کہہ کر غزنوی کا غائبانہ تعارف کرایا ۔۔۔۔
غزنوی دوائیوں اور انجکیشن کے زیر اثر پھر غنودگی میں چلا گیا ۔۔۔
________________________________________
غزنوی کم بیک ۔۔۔شہروز نے گلے لگتے انس سے خوشی سے کہا ۔۔
کیا ۔۔غزنوی گھر آگیا ۔۔۔انس کی پرجوش آواز گونجی ۔۔۔
ثنا کے حواس اڑے ۔۔۔یہ عفریت اتنی جلدی واپس آگیا ۔ابھی تو لاروش تھوڑی پرسکون ہوئ ۔۔۔۔کیا تھا اللّہ پاک دو تین سال بعد بہیج دیتے ۔۔۔ثنا نے رب سے بے ساختہ شکوہ کیا ۔۔۔
انس اور شہروز اسی وقت غزنوی کے گاوں جانے کے لیے نکلے ۔۔۔۔۔
ان کو باہر جاتے لاروش نے بھی دیکھا اور سکھ کا سانس لیا ۔۔۔دعوت ولیمہ ختم ہی دوسرے دن سب ہی اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے ۔۔رات میں شجاع نے بھی واپس جانا ہے ۔۔۔
بالکل دل نہیں چاہ رہا اپنی دلہن کو چھوڑ کے جانے کا مگر مجبوری ہے جانا پڑے گا ۔۔ صبح سے تیسری مرتبہ جانے کا غم کرتے شجاع نے منہ بسورا ۔۔۔
لاروش ہنس پڑی ۔۔۔نہ جائیں پھر ۔۔۔۔
جانا تو پڑے گا تم کو میری جاب سے دوستی کرنی پڑے گی ۔ ۔
۔۔چند دنوں کی بات ہے میری وقتی پوسٹنگ ہے ۔۔ان شاءاللّہ ایک مہینے بعد میری پوسٹنگ ایبٹ آباد یا منگورہ میں ہونا کے چانس ہے ۔۔میں تم کو اپنے ساتھ لے جاونگا پھر خود تمہارا خیال رکھونگا ۔۔پلیز جب تک بے حد بہت زیادہ اپنا خیال رکھنا ۔۔۔۔شجاع نے لاروش کاہاتھ پکڑ کر محبت سے التجا کی ۔۔
جی لیکن میں تو حویلی رہونگی نہ ۔۔۔لاروش نے ساتھ رہنے کی بات پر ہاتھ چھڑاتے الجھن سے کہا ۔۔۔
سوچا تو یہی تھا ۔۔۔لیکن مجھے لگتا ہے تمہارا میرے ساتھ رہنا ابھی بہتر ہے ۔۔۔شجاع نے بچے کی طرف اشارتاً بات کی ۔۔۔
لاروش اپنے دونوں ہاتھوں کو مسلنے لگی ۔۔۔شجاع نے بغور دیکھا ۔۔کچھ کہنا چاہتی ہو ۔۔بلاجھجک کہو ۔۔شجاع نے ایک بار پھر ہاتھ پکڑ لیے ۔۔۔
ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔وہ آپ سے کہنا تھا میں پہلے ہی آپ کی امانت میں خیانت کی مرتکب ہوچکی تھی اب آپ کو آپ کا حق نہ دینے پر میں گناہ گار نہیں ہونا چاہتی ۔۔۔نظریں جھکائے اپنا مدعا بیان کیا ۔۔۔
جاری ہے
