Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23
دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔اللّہ کے واسطے تم کو معاف کیا ۔۔اللّہ کے رسول صلی اللّہ علیہ وسلم کے واسطے جو تکلیفیں جھیلی میں نے معاف کی ۔۔۔گل زریں آنسو پونچھتی مستحکم بولتی غزنوی کے بے جان وجود کو جان دے گئ ۔۔۔
زاور آفریدی نے بھی کہا ۔۔میں بھی اللّہ جل شانہ کے واسطے اور اس کے آخری نبی صلی اللّہ علیہ وسلم کے واسطے تم کو معاف کرتا ہوں ۔۔۔۔
اٹھو زمین سے اوپر بیٹھو ۔۔نڈھال سے غزنوی کو دیکھتے زاور نے کہا ۔۔ایک عجیب سی طمانیت محسوس ہوئ غزنوی کو معافی دے کر اور کیوں نہ ہوتی ۔۔جو کام اللّہ پاک کی رضا کے لیے کیا جائے وہ سکون بخش ہوتا ہے ۔۔۔
ایک درخواست اور تھی ۔۔غزنوی نے سر جھکائے کہا
بولو ۔۔زاور نے پو چھا ۔۔
میں لاروش سے مل کر بھی معافی مانگنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔دھیمے لہجے میں درخواست بتائ ۔۔
نہیں بالکل نہیں ۔۔ابھی کچھ دنوں پہلے ہی تو اس کی شادی کی ہے۔۔وہ خوش ہے اپنے گھر میں ۔۔۔اور ایسی حالت میں اس کا تم سے ملنا خطرے سے دوچار ہوگا ۔۔۔
میں ایک ماں تمہارے آگے التجا کرتی ہوں اس سے نہیں ملو گے تم وہ نظر بھی کہیں آئ تو تم سامنے نہیں آوگے ۔۔مہربانی ہوگی ۔۔گل زریں نے بوکھلا کر غزنوی کی التجا رد کی اور آگے ہاتھ جوڑے ۔۔
یہ کیا کررہی ہیں آپ ۔۔پلیز ہاتھ نہ جوڑیں ۔۔۔میں تو بس معافی مانگنا چاہتا تھا ۔۔۔میں اس کے سامنے نہیں آونگا جب تک آپ نہیں کہیں گی ۔۔۔غزنوی نے گل کے بندھے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا ۔۔اور حامی بھر لی ۔۔
میں چلتا ہوں آپ کا شکریہ ۔۔۔
غزنوی گھر آگیا ۔۔۔۔حشمت سے فون پر بات کی بہت خوش تھے ان کی بیٹی کی بے گناہی ثابت ہوگئ ۔۔اور ان لوگوں نے رشتہ مانگا جو حشمت نے قبول کیا ۔۔۔۔
اسلام علیکم کیسے ہیں آپ انکل ۔۔۔
وعلیکم السلام میں ٹھیک ہو اور پشاور آیا ہوں ۔۔
اوہ میں کل ہی گاوں آیا ۔۔تاسف سے بولا
کوئ نہیں جوان اچھا ہے گھر وقت پر ہی جانا چاہیے ۔۔ماں راہ تکتی ہیں ۔۔۔۔تم ہمارے گاوں چکر لگاو ۔۔ حشمت نے دلاسہ دیا آواز میں بشاشت کھنک رہی ہے ۔۔۔
آج تو موڈ اچھا لگ رہا ہے جیسے کوئ خوشی ملی ہو ۔ غزنوی نے ان کے لہجے سے اندازہ لگایا ۔۔۔
بہت خوب برخودار صحیح پہچانا آج میری بیٹی سرخرو ہوگئ ہے یہی بڑی خوشی مجھے آج ملی ہے ۔۔۔
اچھا انکل مبارک ہو ۔۔مجھے بھی بے حد خوشی ہوئ سن کر ۔۔۔
یار سب نے ہی معافی مانگی مینیزہ نے سب کو معاف کردیا ۔۔وجاہت نے معافی کے ساتھ رشتہ بھی دیا ہے ۔۔کیا کرنا چاہیے یہ سمجھ نہیں آرہا ہے ۔۔ہاں کرو یا نہ ۔۔۔۔سالوں بعد ہی سہی اس نے اعتراف کرکے سرخرو کیا ۔۔میری بیٹی اس کے نام سے بدنام ہوئ۔۔جس سبب ابھی تک اس کی شادی نہیں ہورہی تھی اس لیے اگر اسی سے ہی شادی ہوجائے تو بہتر ہے ۔۔اگر نہ کرو تو اس کی بھی وجہ ہے میری بیٹی نے اعلی ظرفی کا جو ثبوت دیا ہے معاف کرکے اگر اسی سے شادی ہوئ تو ماضی کی یادیں چین نہ لینے دے گی ۔۔چھپ جانے والی محبت بین کرے گی ۔۔۔حشمت الجھے
آپ فیصلے کا اختیار مینیزہ کو ہی دے دیں ۔۔کیا پتہ ظرف کے ساتھ ساتھ اس کا دل بھی وسعت والا ہوگیا ہو ۔۔۔۔اللّہ کی رضا کے لیے معاف کیا ،کیا پتہ یہ رشتہ بھی اللّہ کا انعام ہو ۔۔وہ قبول کرلے ۔۔۔غزنوی نے مشورہ دیا ۔۔۔
مینیزہ نے پہلے منع کردیا پھر میرے اختیار میں دے دیا اب ایساہے استخارہ کرونگا ۔۔۔۔۔میں نے ان کو آٹھ دن بعد جواب دینے کو کہا ہے ۔۔استخارہ کرنے میں وقت لگے گا ۔۔
کیسا وقت آجکل تو آسان ہوگیا ہے چند سیکنڈ میں ہی استخارہ ہوجاتا ہے ۔۔وہ میں نے اخبار میں اس کا ایڈ دیکھا تھا۔۔۔غزنوی کو حیرانگی ہوئ ۔۔۔غزنوی کو تجسس ہوا جب چند سیکنڈ میں استخارہ کی سہولت ہے تو ایسا کون سا استخارہ ہے جو سات دن ضروری ہے
استخارہ کیا ہے یہ پتہ ہے تم کو ۔۔حشمت اخبار ایڈ کا سن کر مسکرائے اور سوال پوچھ ڈالا ۔۔۔
غذنوی سوال پر شرمندہ ہوا ۔۔نہیں بس وہ نظروں سے اشتہار گزرا تھا وہ اشتہار بھی میں نے پورا نہیں پڑھا ۔۔۔
ہم۔مختصر بتاتا ہوں جب ملو گے تفصیل سے بتاوں گا انسانوں کو اپنی زندگی میں کئ زہنی ۔۔معاشرتی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے پتہ نہیں ہوتا ہم جو کرنے جا رہے ہیں ٹھیک ہے یا غلط ۔۔فائدہ ہوگا یا نقصان ۔۔۔ابھی کریں یا کچھ دنوں بعد ۔۔کئ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو کرلیتے ہیں اور اطمینان قلب حاصل نہیں ہوتا ۔۔اپنے سب جائز معاملات کے لیے ہی استخارہ کرنا سنت سے و حدیث سے ثابت ہے ۔۔۔۔ ۔۔استخارہ کا مطلب ہے کسی بھی جائز معاملے میں اللّہ پاک سے خیر وبھلائ طلب کرتے مشورہ کرنا ہے ۔پیارے نبی اور صحابہ کرام اللّہ پاک سے اپنے کاموں کو عافیت سے سرانجام دینے کے لیے استخارے کا اہتمام کرتے تھے ۔۔استخارہ ایک دعا ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے کام کے لیے اللّہ سے دعا کرتا ہے جو کام کررہا ہوں اس میں خیر ہو اور اس کام میں خیر نہیں تو نہیں کرنے دیجیے ۔۔۔۔حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔انسان کی سعادت اور نیک بختی ہے کہ وہ اپنے کاموں کے لیے استخارہ کرتا ہے ۔۔استخارہ ترک کرنا انسان کی بد نصیبی ہے ۔۔استخارے کے فیصلے پر ناراضگی ظاہر کرنا اس کی بد بختی ہے ۔۔
استخارے کی برکت سے دل ایک طرف مائل ہوجاتا ہے اور اگر تین دن میں مائل نہ ہو تو سات دن استخارہ کرنا بہتر ہے ۔۔بعض علماء کے نزدیک خواب میں سفید اور ہرا دیکھنا مثبت اور سرخ اور سیاہ دیکھنا منفی علامت ہوتی ہے ۔۔تاہم خواب میں رنگ آنا ضروری نہیں ہوتا ۔۔مختلف مختلف علامتیں بھی ہوتی ہیں جو کسی صاحب بزرگ کی رہنمائ سے سمجھ آتی ہیں ۔۔۔اور بعض علماء کے نزدیک یہ سب غلط ہے دل کا اطمینان ہی بہترین ہے ۔۔۔
اور مجھے بھی دل کا اطمینان ہی چاہیے ۔۔۔اور میں بھی اطمینان قلب کے لیے نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم کے مستند طریقہ سے ہی کرونگا ۔۔۔اور وہ طریقہ یہ ہے دو رکعت نفل استخارہ کی نیت کرنی ہے ۔۔جیسے باقی ساری نماز پڑھتے ہیں پھر اس کے بعد دعا ۔۔ہمارے پیارے نبی نے دعا بھی سیکھائ ہے ۔۔اور وہ دعا ہماری سہولتوں کے لیے مختلف کتابوں پنج سورہ میں نقل ہے ۔۔جسے بغیر دیکھے یاد ہے اور جسے یاد نہیں وہ دیکھ کر پڑھ کر مانگ لے ۔۔نماز کی ادائیگی کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے وقت نہ پڑھیں جب نماز پڑھنے کا مکروہ وقت ہو ۔۔۔تم کو بھی جب بھی پریشانی ہو تو خود سات دن نماز پڑھو جس بات پر اطمینان قلب ہوجائے وہی تمہارا جواب ہے ۔۔۔
________________________________۔
دوسال بعد ۔۔۔۔۔۔
وقت اپنا کام تندہی سے کر رہا ہے یعنی تیزی سے گزر رہا ہے ۔۔کسی کے لیے رک گیا اور کسی کے لیے بڑھ گیا ۔۔۔۔
تیری چاہت میں
اُریبہ سحر
قسط نمبر 31
ایک نیا دن اور ایک نئے عزم کے ساتھ شمروز اورنگ زئ حویلی میں صبح اتری ۔۔دھوپ کی تمازت ہر سو پہیلی درختوں پودوں پہاڑوں کو دلکش منظر دے رہی ہے ۔۔
ناشتے کی ٹیبل پر آج تقریباً سارے ہی موجود ہیں سب کی موجودگی ٹیبل کو رونق بخش رہی ہے ۔۔ کل ہی حویلی کی ایک چڑیا پلوشہ کو رخصت کیا ہے اور آج ہی سب نے چلے جانا ہے کیونکہ کل دوپہر میں رخصتی شام میں ولیمہ کی سنت اس کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ رات میں ہی کینیڈا چلی گئ ۔۔۔۔
گل جاناں آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے ۔۔بہروز نے اسپون سے آملیٹ کھاتے سوال پوچھا ۔۔۔
اپنی پلیٹ میں کھانے کے بجائے چمچے سے آملیٹ کو گھوماتی گل بہروز کے سوال پر چونکی ۔۔
جی میں چچا جان۔۔۔
میرے خیال سے اس پوری حویلی اور ٹیبل پر صرف تم ہی گل جاناں ہو ۔۔بہروز نے گھورتے بات کی ۔۔۔
چچا جان میں نے معاشیات میں ماسٹر کرنے کا سوچا ہے ۔۔۔ان شاء اللّہ لالہ کے ساتھ جاونگی کراچی یونی ورسٹی مجھے سمندر دیکھنے کا بہت شوق ہے ۔۔گل جاناں نے پڑھائ کابتاتے اپنی حسرت بھی بتادی ۔۔۔
ہممم گڈ ۔۔ بہروز نے سر ہلایا ناشتے کی طرف پھر توجہ کی ۔
گل کے ساتھ بیٹھی ورشہ کا دم نکلا جب بلال نے مشورہ نما حکم دے ڈالا ۔
ورشہ تم بھی گل کے ساتھ ایڈمیشن لے لو دوسال سے فارغ بیٹھی ہو اتنا آرام کافی ہے ۔۔۔
میں لالہ ۔۔مجھے کیا ضرورت ہے ۔۔۔ورشہ گھبرائ ۔۔
کیوں تمہارا شوہر گل شیر کو ڈگریاں جمع کرنے کا خبط چڑھا ہے اور تم صرف انٹر پاس مستقبل میں کم پڑھائ کا طعنہ نہ مل جائے شاباش پڑھ لو ۔۔۔۔بلال کے لہجے میں بہن کےلیے فکر اور محبت سب ہی افراد نے محسوس کی ۔۔
ٹھیک کہہ رہا ہے تم بھی گل کے ساتھ ایڈمیشن لے لو ۔۔اور تم کو چڑیا گھر دیکھنے کا شوق ہوگا ۔۔۔شہروز نے ہلکے پہلکے کہتے ساتھ ہی شگوفہ چھوڑا ۔۔۔
نہیں چاچا مجھے چڑیا گھر دیکھنے کا شوق نہیں ۔۔۔ورشہ نے منہ بنایا ۔۔
چاچا جانی آپ مجھ پر طنز کر رہے ہیں ۔۔۔جایے ہم نہیں آئیں گے آپ کے شہر ۔۔۔گل نے منہ بسورا ۔۔
ارے نہیں میری گڑ کی ڈلی ۔۔میں تو سچ ورشہ سے پوچھ رہا تھا ورشہ کو شوق ہے رنگ برنگی چڑیا پالنے کا اس لیے میرے ذہن میں آیا ۔۔۔
چاچا جی چڑیا گھر میں سچ میں رنگ برنگی چڑیا ہیں ۔۔ورشہ کو اشتیاق ہوا ۔۔۔
میرے خیال سے چڑیا گھر میں چڑیا کے علاوہ سب چرند پرند موجود ہیں بلکہ کئ پنجرے خالی ہیں ۔۔کہو تو ایک پنجرہ بک کرلیں تمہارے لیے ۔۔۔شہروز نے پھر بھتیجی سے شرارت کی ۔۔۔
خانا دیکھیے چاچا کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔ورشہ نے باپ کی جگہ شمروز سے بہروز کی شکایت کی ۔۔۔
شہروز کیا مسئلہ بچی کو کیوں پریشان کر رہے ہو ۔۔ویسے ورشہ ایک پنجرہ کم لگ رہا ہے تو دو پنجرے بک کرلیتے ہیں ۔۔شہروز کو مصنوعی ڈانٹتے خود بھی ورشہ سے مذاق کیا ۔۔۔
ٹیبل پر یک قدم سارے ہی ہنس پڑے ۔۔۔ یہ تو وہی بات ہوئ جن پتوں پر تکیہ تھا وہی ہوا دینے لگے ۔۔۔ورشہ شمروز کے مذاق پر پہکے ہونق ہوئ پھر مسکرادی ۔۔۔
بڑے ناشتہ کرنے کے بعد بیٹھک میں چلے گئے اور چھوٹے ناشتہ کرتے باتوں میں میں مگن رہے ۔۔اچانک سکندر کو خیال آیا غزنوی تو رات حویلی میں تھا ۔۔۔تو ٹیبل پر کیوں نہیں آیا ۔۔
یہ غزنوی ابھی تک سو ررہا ہے ۔۔۔ اسے اٹھایا کیوں نہیں ۔۔ہم بھی تو رات دیر سے سوئے تھے ہمیں تو اٹھا دیا سب کے ساتھ ناشتہ کرو ۔۔سکندر کو جلدی اٹھنے کا قلق ہوا ۔۔۔
لالہ تو کب سے اٹھ گئے ۔قبرستان گئے ہیں ۔۔گل جاناں اداسی سے بولی ۔۔
یہ خوب رہی تمہارا لالہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو مہینے کی سترہ تاریخ کو حاضری دینا نہیں بھولتا ۔۔۔۔اس کا بس نہیں چلے عر س کروایا کرے بلکے ہر مہینے عرس کروائے لوگ تو سالانہ کراتے ہیں ۔۔۔۔بلال نے غزنوی کی روش پر طنز کیا ۔۔
گل جاناں نے تیکھے تیور سے بلال کو گھورا پھر تڑخی ۔۔آپ کو کیا مسئلہ ہے۔۔۔ان کی مرضی جو کریں ۔۔
اگر پہلے ہی لگامیں کسی ہوتی مرضی کے بجائے اختیار ہوتا تو معاملات اس نہج کو نہ پہنچتے ۔۔۔یہ تو وہی مثل ہوئ نوسو چوہے کھا کر بلی چلی حج کو ۔۔بلال نے بھی ادھار نہ رکھا ۔۔
لالہ سے ایک غلطی ہوئ اس کا ازالہ انھوں نے دنیا میں ہی کردیا ۔۔آج کے دور میں کسی میں بھی اتنی ہمت نہیں ہوگی اپنی غلطی کا اعتراف کرے ۔۔۔میرے لالہ نے کیا ۔۔بس ایک غلطی کے تحت آپ ان کی باقی اچھائیوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔۔میرے لالہ بیسٹ ہیں ۔۔ان کے چہرے پر جو نور نظر آتا ہے وہ اس بات کا غمازی ہے اللّہ پاک نے بھی معاف کردیا ۔۔۔۔گل جاناں نے بلال کو منہ توڑ جواب دیا ۔۔
کیا ہوگیا تم دونوں ۔۔۔سکندر نے بات بڑھتی دیکھی تو مداخلت کی ۔۔
لالہ آپ سمجھا لیجے یہ نہ جانے کیوں لالہ سے خار کھاتا ہے جلتا ہے ۔۔گل نے سکندر کو شکایت کی ۔۔
گل پہلے تو آپ یہ دیکھیں کیسے بات کررہی ہے آپ سے بڑا ہے نہ ۔۔جو بھی مسئلہ ہو تمیز کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔۔سکندر نے سرعت سے گل کو ٹوکا ۔۔
سوری لالہ ۔۔۔گل شرمندہ ہوئ ۔۔لالہ کی محبت میں لہجہ بدتمیزانہ ہوگیا ۔
لالہ سے کیا مجھ سے کرو ۔۔۔بلال نے پھر ٹانگ اڑائ ۔۔
گل نے اس بار کچھ نہیں بولا ۔۔ہونہہ کیا اور ورشہ کی طرف مصروف ہوگئ ۔۔لیکن دل میں گالیاں بکنا نہ بھولی ۔۔۔اور سکندر بلال کے خار کھانے کی وجہ جانتے ہیں ۔۔۔دو بار بلال کا پرپوزل غزنوی نے ریجکیٹ کیا ہے ۔۔بڑوں نے فیصلہ کا اختیار غزنوی کو دیا تھا اس لیے منع کرنے پر رشتوں میں دراڑیں نہیں پڑیں ۔۔پیسے کی کمی تینوں میں سے کسی کو نہ تھی اس لیے جائداد باہر جائے یا گھر میں رہے اس بات کو مسئلہ نہیں بنایا گیا تھا ۔۔۔
بلال تم بھی بے پر کی باتیں کرتےہو ۔۔ایک زمانہ غزنوی کا فین ہے ۔۔۔تم غزنوی کو چھوڑو اپنا بتاو جاب تو ٹھیک ہے شادی کب کررہے ہو ۔۔۔سکندر نے سوال کیا ۔۔۔۔
ان شاء اللّہ بہت جلد ۔۔۔بلال نے ایک نظر گل جاناں کو دیکھ کر سکندر کو جواب دیا ۔۔
میں تو کرہی لونگا جلد ۔۔مجنوں کی بھی اب کرادو ۔۔موجود ہے نہ حشمت صاحب کی دو بیٹیاں ۔۔اگر مینیزہ. پسند نہیں تو شیریں سے کر لے ۔
کچھ خوف ِ خدا کریں وہ ابھی پندرہ کی ہے اور لالہ چھبیس کے ہونے والے ہیں ۔۔۔عمروں میں بڑا فرق ہے اور لالہ اسے بہنا کہتے ہیں ۔۔گل نے خفگی سے کہا ۔۔
عمر کا فرق اتنا نہیں ہے ۔۔خیر مرضی تمہارے لالہ کی ۔۔۔بلال نے بات ختم کی ۔۔
تمہارے بی اے میں معاشیات کے کتنے نبمر دے ۔۔۔بلال نے موضوع بدلہ ۔۔۔
گل جاناں نے پرجوش بتایا 95 …
ہمم اور تمہارے کتنے نمبر تھے ورشہ ۔۔۔آپ سوال کا رخ ورشہ کی طرف کیا ۔۔
۔40مری مری آواز میں بتایا ۔۔۔
بہت کم نمبر ہیں لیکن میں ہوں نہ اس لیے آسانی سے ایڈمیشن ہوجائے گا تم بھی اکنامکس میں ہی ماسٹر کرو ۔۔۔نیپکن سے ہاتھ صاف پونچھے ۔۔سب خواتین کا شکریہ اتنا لذیذ ناشتہ بنایا بہت دن بعد کھانا نصیب ہوا ۔۔۔کہتا اٹھ گیا
ادھر اکنامکس میں ماسٹر کا سن کر ور شہ کے ہوائیاں اڑی ۔۔
ورشہ کو دیکھ ہنسی ضبط کرتی بلال کے اٹھتے ہی گل قہقہ مار مار کر خوب ہنسی ۔۔۔
لو جس کے بی اے میں روتے دھوتے چالیس نمبر آئیں ہیں وہ ماسٹر کیسے پڑھے گی چچچ تمہارا لالہ ایک نمبر کا وہ ہے ۔۔۔وہ میں تم اپنی مرضی کا جملہ ڈال لو یقیناً اس وقت تمہارا دل بہترین جملہ فٹ کرے گا ۔۔ورشہ کے کان میں بولی ۔۔۔بلند بولتی تو ساتھ بیٹھی چاچی نے باتیں سنا دینی تھیں پہلے مردوں کے لحاظ سے خاموش رہ گئی تھیں لیکن اس بار موقع نہیں چھوڑتی گل نے کان میں کہنے ہی میں عافیت جانی ۔۔۔۔
ورشہ فق چہرے کے ساتھ سر ہلاگئ ۔۔
ایک ایک کرکے سارے مرد چلے گئے ٹیبل پر بس خواتین ہی بچی جو کہ ناشتے سے تو فارغ ہوگئ مگر باتوں سے نہیں ۔۔جب تک خاندان بھر کی برائیاں نہ کر لیں اٹھنا نہیں ۔۔۔
گل جاناں کراچی میں سنا ہے آلودگی بہت ہے یہ تمہارے چم چم کرتی اسکن ماند نہ پڑ جائے ۔۔۔مرجانہ شہزاد کی بیٹی اور عیسی کی بیوی نے کہا
سنا تو میں نے بھی ہے مگر میں نے خالص غذا کھائ اس لیے اثر نہیں کرے گی دوسرا میں یہاں سے کافی کھانے پینے کی سوغات لے جاونگی اور امو بھی مجھے بھیجتی رہیں گی ۔۔۔گل نے مسئلہ کا حل چٹکی میں بتایا ۔۔۔
یار تمہارے بال بھی کتنے پیارے ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔مرجانہ نے اپنی بہن جو کے سکندر کی بیوی اور شہزاد کی بڑی بیٹی ہے ۔۔
یہ تو تائ جان کی مہربانی ہے گل کے ساتھ ہمارے بالوں کا بھی خیال رکھتی ہیں ۔۔نیلم مسکرائ اور تعریف کی حقدار کی طرف اشارہ کیا ۔۔
سچ تائ میں آپ کو بہت یاد کرتی ہوں تلے اوپر کے تین بچوں نے مجھے بےحال کردیا ۔۔۔عیسی بھی غصہ کرنے لگے ہیں ۔۔مرجانہ اداس ہوئ ۔۔۔۔
بیٹا اللّہ پاک کا شکر ہے اس نے اتنی ساری نعمتیں دی جو کھانے کے ساتھ ہمیں لگانے سے بھی فائدہ ہے ۔ اور تم واقعی اپنا خیال نہیں رکھتی وزن بھی بڑھ رہا ہے بال بے رونق اور اسکن بھی اتنی خراب کر رکھی ہے تم تو گاوں میں ہو شہر میں تو نہیں ۔۔۔بیٹا عورت شہر میں ہو یا گاوں میں اسے اپنے شوہر کے لیے خود کا خیال رکھنا چاہیے ۔۔مرد جب تھکا ہاتا گھر آتا ہے تو اس کا دل چاہتا ہے وہ اپنی بیوی کو دیکھ کر سکون حاصل کرے ۔۔جب تم سر جھاڑ منہ پھاڑ حلیہ میں ملو گی تو اس کا دل بیزاری محسوس کرے گا ۔۔شوہر کے لیے بیوی کو سجنے سنورنے کا حکم ہےاس کی آمد سے پہلے جلد گھریلو کام سے فارغ ہوکر تیار ہوجایا کرو ۔۔باہر نامحرم کو بنا سنوارہ دیکھ جب گھر میں منہ بسوری عورت پائے گاتو اس کا دل باہر ہمکے گا ۔۔اکثر باہر توجہ دینے پر بیویاں ہی مجبور کرتی ہیں ۔۔وقت کو ہاتھ میں لو ۔۔۔
میں نہایت سمپل گھریلو کریم اور تیل بنا کردونگی ۔ اس کا ریگولر استمعال کرو اور آجکل تو اچھی کریمیں بھی بازار میں دستیاب ہیں ۔۔
چچی تیل وہی بنائیں گی جو آپ لگاتی ہیں آج بھی آپ کے بال کالے ہیں ۔۔مرجانہ نے فرمائش کی ۔۔
ہاں ایک ہی تو تیل ہے جو میں ان سب کو اور پہلے تمہیں بھی لگاتی تھیں ۔۔مجھ سے بھی غلطی ہوئ مجھے خیال رکھنا تھا ۔۔لیکن اب بھی دیر نہیں ہوئ ۔۔وزن کم کرو ۔۔۔صبح یا رات کا وقت تعین کرو جس میں عیسی کے ساتھ واک کرنا ۔۔شوہر کے ساتھ وقت بھی گزرے گا اور وزن بھی کم ہوگا ۔۔۔
خاموش بیٹھی بیگم شہروز بولیں مجھے تیل کی ترکیب بتانا اپنی بہن کی بچیوں کو دینا ہے ۔۔۔
ہاں ضرور ۔۔آملہ کا تیل کلونجی کا تیل اور کسٹرآئیل کا تیل برابر مقدار لیں ۔۔پھر آدھے تیل میں ایلویرہ کا ایک موٹا پتہ کاٹ کر اتنا پکائیں کہ وہ ایلویرہ جلے ہی نہیں ۔۔۔اگر ایلویرا جل گیا تو اس کے سارے فائدے بھی جل جائیں گے ۔۔پھر ٹھنڈاہونے پر اس کو چھان لیں. . باقی کا تیل مکس کرلیں ۔۔اور روزانہ یا پھر جیسے مناسب ہو لگایے ۔۔مہر بانو نے مکمل ترکیب بتائ ۔۔
شام میں سارے مسافر چلے گئے ۔۔۔بس حویلی کچھ مکینوں سے ہی آباد رہتی تھی ۔۔۔
غزنوی لالہ شیف گل جاناں کے ہاتھ کی دریائ فش کھایے ۔۔اور تعریف لازمی کیجیے. . .
غزنوی کا کھانا اس کے روم میں ہی لے آیے ۔۔۔
لالہ میں اور ورشہ کل شہر جائیں گے ۔ اففف کتنا اچھا لگے گا ۔۔۔گل جاناں کراچی جانے کے لیے پرجوش ہوئ. .
رہنا کہاں ہوگا ۔۔۔ شہزاد مینشن میں تو ہروقت سیاسی ماحول سرگرم رہتا ہے ۔۔۔وہاں پڑھائ متاثر رہے گی ۔۔۔میرا جو فلیٹ ہے وہ یونی سے دور ہے ۔ ۔۔اور پھر میں کبھی یہاں کبھی کہاں کچھ پتہ نہیں ہوتا ۔۔۔بلال کا فلیٹ ٹھیک رہے گا ورشہ ساتھ ہے تو بے فکری بھی پھر پرانی دو ملازمہ ساتھ لے جانا ۔۔۔ غزنوی بولا
ہاں یہ ٹھیک ہے یونی لیکچرار کے ساتھ جائیں گے تو ریکنگ سے بھی بچیں رہیں گے ۔۔۔۔۔گل نے بھائ کی ہاں میں ہاں ملائ ۔۔
آپ نے خود کو بہت مصروف کرلیا بزنس اور سیاست پھر تبلیغ ۔۔شادی کرلیں کب تک لاروش کو یاد کریں گے ۔۔جو ہوا بھول جائیں ۔امو جان بہت پریشان رہتی ہیں ۔۔گل جاناں فکرمندی سے بولی
کھانا کھاتے غزنوی کے ہاتھ روکے ۔۔۔گل جاناں کو دیکھا ۔۔
کیا بھولنا ممکن ہے ۔۔آخری سانس تک مجھے یاد رہ گی ۔۔پانا اتنا آسان ہوگیا تھا منزل پر پہنچ بھی گیا مگر خالی ہاتھ رہ گیا ۔۔دکھ سے غزنوی بولا ۔۔چہرے پر حزن نے جگہ لے لی ۔۔تھوڑی دیر پہلے کا مطمئن چہرہ ۔۔غم میں ڈوب گیا ۔.
غزنوی کے چہرے کی اداسی گل کو اچھی نہ لگی ۔۔دل ڈوبا لالہ کی حالت پر ۔۔۔خود کو ڈپٹتے غزنوی کو اپنی سمت متوجہ کیا ۔۔لالہ آپ نے ابھی تک کھانا ختم نہیں کیا ۔۔آپ اچھے بچے سے گندے بچے بن جاتے ہیں جلدی سے کھانا فنش کریں ۔۔اور تعریف بھی کریں ایک تو اس گھر میں مجال ہے جو بغیر کہے میر ےپکائے گئے کھانے کی تعریف کرے ۔۔۔کنجوسی کی حد ہوتی ہے۔۔۔
غزنوی نے گہری سانس لی پھر دقت سے مصنوعی مسکرایا ۔۔۔
بہت زبردست بنائ ہے ۔۔مختصر تعریف کی ۔۔اور کھانا شروع کیا ۔۔۔
غزنوی منہ بنانے پر ہنس دیا دوبارہ تعریف کی مگر کھانا کھانے کے بعد چائے کی فرمائش کرتے ۔۔۔
ورشہ نے آخری ایک کوشش اور کی کیا پتہ امو جانے سے روک دیں ۔۔امی جان مجھے نہیں جانا شہر ۔۔آپ نہیں جانتی شہر کا ماحول کتنا خراب ہوتا ہے ۔۔۔
ماحول انسان خود بناتا ہے اور بی بی تم کو شہر پڑھنے بھیج رہے ہیں مٹر گشت کرنے نہیں ۔۔بیگم شہروز نے لتاڑا ۔۔
پڑھ لو ورشہ آج شوہر کے برابر چلنا ہے تو پڑھو لکھو ۔۔مجھے دیکھو تیرے بابا جانے مانے وزیر ہیں لیکن مجھے کوئ نہیں جانتا بیگم بہروز کون ہے ۔۔یہ تو شمروز لالہ کی مہربانی ہے تیرے باپ کو دوسری شادی نہیں کرنے دی ورنہ کب کی مجھ پر سوکن آجاتی اور اسے ہی سب جانتے ۔۔اور تم کیا یہ چاہتی ہو گل شیر بھی ایسا کرے ۔۔اس کی آدھی عمر باہر گزری ہے اتنے ترلے منتوں کے بعد تو وہ پاکستان آیا ہے اور آکر بھی وہ پڑھائ کا جنونی پڑھ ہی رہا ہے ۔۔کہیں وہ بھی قدم کے ساتھ ملانے والی دوسری نہ سوچے ۔۔خیر مجھے غزنوی سے امید ہے وہ تم بہنوں کا خیال رکھے گا ۔۔ورشہ کو سمجھاتے بیگم بہروز پر یاسیت طاری ہوگئ ۔۔
ورشہ کی عقل میں بھی بات آگئ ۔۔۔
بلال نے اپنے فلیٹ کا منع کیا ہے کہہ رہا تھا دوستوں کو چابی دے رکھی ہے کوئ بھی کسی وقت آسکتا ہے ۔۔یونی سےکچھ مسافت پر ایک ہوسٹل میں انتظام کردیا ہے چند دن مینشن میں رہو ۔۔اب جاوں تیاری پکڑو.
جاری ہے
