Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02
گل جاناں میرا یہ سوٹ تو سی دو ۔۔۔ تم بہت خوبصورت سوٹ سیتی ہو ۔۔۔۔۔پلوشہ نے مسکا لگایا ۔۔۔۔۔
کیوں جی ۔۔۔ورشہ کو بولو فیشن ڈائزینر کی ماسٹر سمجھتی ہے خود کو ۔۔۔۔پرسوں میرا فسٹ پیپر ہے تم بہن بھائیوں نے قسم ہی کھا لی مجھے پڑھنے نہ دینا ۔۔۔کل بلو کو کباب کھانے تھے، آج تم کو سوٹ سلا نے کا دورہ پڑ گیا ۔۔۔گل جاناں کو زبردست غصہ آیا ۔۔۔لحاظ کیا بنا سنا دی ۔۔۔۔
نہیں سینا تو نہ سیو ۔۔کاٹ کھانے کو کیوں دوڑ رہی ہو ۔۔۔۔ورشہ نے برا منایا ۔۔۔۔۔ ۔
ہونہہ ۔۔۔جاو مجھے پڑھنا ہے ۔۔۔بے مروتی کی حد پار کی۔ ۔۔ورشہ پاوں پٹخ کر چلی گئ ۔۔۔
________________________________________________
واہ غزنوی تو کتنا لکی ہے تیرا آئڈیل مجسم موجود ہے ۔۔۔۔بلاول نے تعریف کی۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ہاں یار تیری خوش قسمتی پر شک نہیں ۔۔۔آفتاب نے بھی تائید کرنے میں دیر نہ کی ۔۔۔
شکر ہے اللّہ کا ۔۔۔۔۔مولوی کسی پیج پر تو ہم ایک ہوِئے۔شہروز کیسے پیچھے رہتا ۔۔۔۔
دوستوں کی ان سب باتوں سے بے پرواہ غزنوی یک ٹک دیکھنے میں مصروف ۔۔۔کون کیا کہہ رہا ہے پرواہ نہیں ۔۔۔بس وہ خوبصورت مورت جسے ذہن نے کئ بار تراشا ، اتنی آسانی سے سامنے آجائے گی ۔۔۔۔۔۔اسے انتظار کی ،تلاشنے کی کوشش ہی نہ کرنی پڑی ۔۔۔۔۔
سکتہ جب ٹوٹاجب وہ حسین چہرہ نگاہوں سے اوجھل ہوا ۔۔۔۔
کیا ہوا یقین نہیں آیا ۔۔۔۔انس مسکرایا ۔۔۔۔
کہاں گئ یار ۔۔۔۔حد درجہ بے چینی لب و لہجے میں اتری ۔۔۔۔
کہاں جاسکتی ہے، نیو اسٹوڈنٹ ہے ۔۔۔کلاس لینے گئ ہوگی ۔۔۔شہروز نے لاپرواہی دکھائ ۔۔۔
ہمم مجھے معلوم کرکے بتاو بلاول ۔۔۔۔کس ایر کی ہے اور تیری بھابھی کا کیا نام ہے ۔۔۔۔
ثانیہ ہے کیوں تجھے میری بھابھی سے کیا کام ہے ۔۔۔بلاول نے نا سمجھی سے پوچھا ۔۔۔
اس بار غزنوی نے سخت نظروں سے گھورا ۔۔۔۔
تیری گھر والی بھابھی نہیں۔ ۔۔۔یہ جسے ابھی دیکھا اُس بھابھی کی بات کررہا ہوں ۔۔میری والی تم لوگوں کی بھابھی ہے ۔۔سمجھے ۔۔۔غزنوی نے ایک ایک لفظ چبا کر بولا
۔۔۔۔بلاول نے ڈر کر حامی بھری کہیں غزنوی اسےکچا ہی نہ کھا جائے ۔۔۔بس یوں گیا اور آدھے گھنٹے میں انفارمیشن لایا آخر یونی ڈی کا بھتیجا ہوں اتنا تو کام کرسکتا ہوں ۔۔۔۔بلاول اترایا ۔۔۔۔
چلو کلاس چلتے ہیں ۔۔۔۔۔آفتاب نے یاددلایا ۔۔۔۔
ہاں چلو ۔۔بلاول بولا ۔۔۔
تم کدھر جو کام دیا ہے وہ کرو ، میں لیکچر نوٹس کرکے دے دوگا ۔۔غزنوی نے احسان جتاتے کہا ۔۔۔
اوہو آج غزنوی لیکچر نوٹ کریں گے ۔۔۔بلاول نے چھیڑا۔ ۔
کیوں اس پہلے تیرے چاچو لیکچر لکھ کر دیتے تھے۔۔۔غزنوی نے طنز کیا ۔۔۔
اوئے چاچو کو بیچ میں نہ لا ابھی انفارمیشن تو ان کی سورس سے ہی ملے گی ۔۔۔۔اور انفارمیشن لینے چل پڑا باقی سب کلاس کے جانب بڑھے ۔۔۔۔۔
________________________________________________ اللّہ کا شکر ہے ریکنگ سے بچ گئے ۔۔۔آج تو کافی تھکن ہوگئ ۔۔۔ہوسٹل واپس آکر اپنی روم میٹ ثنا سے بولی جو اتفاق سے سیم کلاس میں ہی تھی ۔۔۔۔
ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو ۔۔۔۔ریکنگ کو قانونی طور پر بند ہونا چاہیے ۔کبھی بے عزتی ۔۔۔۔۔۔۔توکبھی کافی نقصان ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ثنا نے پیر دباتے کہا ۔۔۔
آج لنچ میں کیا ہے سچی بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔کلاسیس دیکھنے اور انٹرو کے چکر میں کچھ نہیں کھایا ۔۔۔۔لاروش نے معصوم شکل بنائ ۔۔۔۔
۔۔میری کزن نے بتایا تھا ہوسٹل کھانا اچھا نہیں ہوتا ۔۔۔میں تو چپکے سے ایک چھوٹا اوون لے آئ اور کچھ برتن ۔۔۔۔دل کرے گا تو خود بنا کر کھا لیں گے ۔۔۔ ثنا نے ہوسٹل کی حالت بتاکر اپنا کارنامہ فخریہ بتایا ۔۔۔
شاباش ۔۔۔۔گڈ ۔۔۔کافی سمجھداری کا کام کیا پر ابھی تو چلو جو پکا ہے صبر کرکے کھالیں گے ۔۔۔۔
ہاں ایک منٹ میں لپ اسٹک لگا لوں ۔۔۔۔مجھے میک اپ کا بہت شوق ہے ۔۔۔۔لاروش کی حیرت بھری نظریں دیکھ کر جلدی سے وضاحت دی ۔۔۔۔
سارا دن ساتھ رہنے سے دونوں ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھ گئ ۔۔
_______________________________________________
اٹھو ۔۔۔مجھے لیٹ ہونا پسند نہیں ۔۔۔۔ثنا نے گہری نیند سوتی لاروش کو زبردستی اٹھایا ۔۔۔۔
کیا ہے مورے سونے دیں ۔۔۔۔نیند میں دھیان دیے بنا بولی ۔۔۔۔
ثنا مورے سن کر بھنائ اور پانی کا گلاس بھر کر لاروش پر ڈالا اور شروع ہوگئ
غضب خدا کا مجھ جیسی نازک اندام لڑکی تم کو مورے دیکھائ دیتی ہے اور بیبی مجھے اتنی بڑی بچی ہرگز نہیں چاہیے ۔۔۔۔
بچاری لاروش بوکھلا کر اٹھی اور ثنا کا ایک لفظ بھی جو سمجھ آیا ۔۔۔لاروش نے غصے سے دیکھا ۔۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔
بد تمیزی تو وہ ہے جو تم نے مجھ جیسی خوبصورت دوشیزہ کو مورے کہا ۔۔۔۔میں تمہاری خانی بننے کو تیار ہوں مگر مورے نہیں ۔۔۔
لاحول ولا قوۃ میں کیوں تمہیں مورے کہنے لگی میری مورے تو اتنی پیاری ہے ۔۔۔اور نہ بیبی میک اپ کی دکان کو خانی بنا کر میں اپنے بھائ سے دشمنی کیوں کروں۔ ۔۔ لاروش کو سمجھ آگیا جگہ بدلنے کی وجہ سے رات بھر نیند نہیں آئی اور نماز فجر کے بعد ہی آنکھ لگی اور گہری نیند میں ہونے کی وجہ سے شاید خود کو گھر میں سمجھی اور مورےکہہ دیا ۔۔۔۔اور اب نک سک سے تیار ثنا کو تنگ کرنے لگی ۔۔۔۔۔
کیا میں میک اپ کی دکان ہوں ۔۔۔۔بس ذرا سی اسٹک ، پاوڈر اور نینوں میں کاجل ، لائیٹ آئ لینر اور مسکارا کیا لگا لیا تم کو میں دوکان لگ رہی ہوں ۔۔۔ثنا کوصدمہ ہی لگ گیا ۔۔دھپ سے بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔
اوئے موٹی اگر بیڈ ٹوٹ گیا نہ تو میں ایک پیسہ وارڈن کو نہیں دونگی اور آپ نے شاید صبح ہی صبح خون پی لیا ان ہونٹوں سے جبھی بچارے لپ اسٹک کے بغیر ہی لال لگ رہے ہیں ۔۔۔۔لاروش نے پھر طنز کا تیر پھینکا ۔۔۔۔۔۔۔
زیادہ جلیس ہونے کی کوشش مت کرو یہ نیچرل رنگ ہے ۔۔۔
میری آنکھیں ابھی تک ٹھیک دیکھ رہی ہیں ۔۔۔۔اندھی ہرگز نہیں ہوئ، جو نیچرل کو پہچان نہ سکو اور صبح ہی صبح جھوٹ بولنے سے رنگ کالا ہوجاتا ہے ۔۔۔لاروش نے کہا
نہیں میں مذاق کررہی تہی میڈورا لگائ ہے ۔۔۔جلدی سے صفائ دی اور دعا کی یا اللّہ میرے پر پوتے ہونے تک میرا رنگ گورا ہی رکھنا ۔۔۔آمین ۔۔
لاروش مسکائ ۔۔عجیب دعا ہے لوگ کہتے ہیں بوڑھاپے میں چلتا پھرتا رکھنا تم کو رنگ کی فکر ہے ۔۔۔۔
ہاں وقت کے ساتھ یہ بھی مانگ لونگی ۔۔۔اللّہ مہربان ہے دعاوں کا سننے والا ہے ۔۔۔۔جلدی اٹھو دیر ہورہی ہے ثنا نے جلدی مچائ ۔۔۔۔
لگاتار چار پریڈ سے دونوں ہی تھک گئ ۔۔۔کیا تھا ہر پریڈ کے بعد بریک ملتا ۔۔۔۔ اگر اسی طرح روز پریڈ ہوئے تو میں کچھ نہیں پڑھ پاوں گی ۔۔۔ بھوک سے برا حال ہے۔ ۔
ثنا نے دہائ دی ۔۔۔۔۔۔۔
کینٹین چلتے ہیں ۔۔۔۔لاروش بولی ۔۔۔۔
دونوں کیٹین میں داخل ہوئ اور سائیٹ میں رکھی پانچ چیئر پر مشتمل خوبصورت ٹیبل پر بیٹھی ۔۔۔۔کینٹین میں رنگ برنگی ٹیبل اور چیئرز رکھی گئ تہیں ۔۔۔۔
یار یہ ٹیبل پوری کینٹین میں سب سے اچھی لگ رہی ہے ۔۔۔
جا بہن لے آ سچی بھوک سے پاوں کام نہیں کررہے ثنا نے جانے سے منع کیا نا چار لاروش جا کر لے آئ ۔۔۔۔
جیو میری دوست تم کو کیسے پتہ مجھے بریانی پسند ہے ۔۔۔۔بھر کر چمچ منہ میں ڈالا ۔ ۔
پاکستان کی آدھی سےزیادہ آبادی کو بریانی پسند ہے۔۔۔مجھے لگا تم کو بھی ہوگی ۔۔لاروش نے اپنی عقلمندی بتائ ۔۔۔
اس پہلے مزید بات ہوتی ۔۔۔
تم یہاں کیسے بیٹھ گئ ۔۔۔۔بزنس ڈپاٹ کی نک چڑی حسینا رنم نے دونوں کو ٹوکا ۔۔۔۔
لو بیٹھنا کون سا مشکل کام ہے ۔۔۔۔دیکھو کھڑے بندے کو چاہیے پہلے کرسی کھسکائے ، پھر اس کے سامنے آئے ۔۔۔ٹانگو کو تھوڑا جھکائیں آرام سے تشریف رکھیں ، زیادہ آرام دہ ہونا ہے تو کمر کو کرسی کی بیک سے ٹیکا دو ۔۔۔بریانی کھانے کے بیچ ان دو لڑکیوں کا آنا لاروش کو سخت برا لگا ۔۔۔اس لیے طنزیہ بیٹھنے کا طریقہ سیکھایا ۔۔۔۔
رنم اور شہزین دونوں پہلے تو ہونق ہوئ پھر غصہ لیے لاروش کو گھورنے لگی ۔۔۔۔۔مجھے بیٹھنا آتا ہے ۔۔۔۔میں تمہارے ساتھ نیکی کرنا چاہ رہی تہی لیکن شاید تم اس قابل نہیں ۔۔۔رنم نے نخوت سے منہ بنایا اور دوسری ٹیبل کی جانب بڑھ گئ ۔۔۔۔۔
کافی دیر سے چپ ثنا بولی ۔۔۔۔نیکی سے اس کا کیا مطلب تھا ۔۔۔۔۔
مجھے کیا پتہ ۔۔۔یار کھانے دے ۔۔۔۔بلکے کولڈ ۔ ڈرنک منگوا لو دیکھو وہ لڑکا سرو کررہا ۔۔۔۔
او بھائ لالہ ۔۔۔ذرا ہمارا آرڈر سن لو ۔۔۔۔ثنا نے پکارا ۔۔۔کینٹین والا تیزی سے ان کی طرف آیا ۔۔۔باجی آپ یہاں کیوں بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔
پھر سے اس سوال پر لاروش کا میٹر گھوما ۔۔۔۔
کیا یہ پرائم منسٹر کی سیٹ ہے ؟کیا یہ جادوکی سیٹ ہے جس پر بیٹھتے ہی وزیراعظم بن جانا ہے ۔؟۔۔کیا یہ گولڈ سے بنی ہے؟ ۔۔۔بولو جواب دو ۔۔۔
اسے پرائم منسٹر کی ہی کرسی سمجھو ۔۔۔یہ بادشاہ سلامت کی کرسی ہے اس کے گروپ کے سوا یہ ٹیبل کوئ استمعال نہیں کرسکتا ۔۔۔جو کرتا ہے تو وہ سخت سزا پاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ان کا پریڈ آف ہوگیا ہے اب آپ جلدی دوسری ٹیبل پر بیٹھ جائیں ۔۔۔۔۔میرا مخلص مشورہ ہے ۔۔۔کینٹین بوائے نے کہا اور آرڈر پورا کرنے چلا گیا ۔۔۔۔
چل لاروش نہ جانے یہ بادشاہ کون سا ڈان ہے ۔۔۔ابھی دو سال یہاں پڑھنا ہے دشمنی نہیں مول سکتے ۔۔۔۔ثنا فکرمند ہوئ ۔۔۔
کہہ تو تم ٹھیک رہی ہواتنی مشکل سے مورے نے اجازت دی ہے ۔۔۔۔کوئ مسئلہ سر نہیں لینا ۔۔۔پر یہ بریانی تو پوری کھا لیں ۔۔۔آئندہ نہیں بیٹھیں گے ۔۔۔۔اور جلدی کھانے لگی۔۔۔
اسکیوز می یہ ٹیبل ہماری ہے ۔۔۔شائستہ لہجے میں بلاول نے کہا ۔۔۔۔
مگن کھاتی دونوں کے ہاتھ رکے ، جھٹکے سے دونوں ہی نے سر اٹھایا ۔۔۔۔
جی بس اٹھ رہے ہیں ۔۔۔۔سوری پتہ نہیں تھا ریزرو سیٹ ہے ۔۔ثنا نے لاعلمی کا مظاہرہ کیا ۔۔۔چل لاروش دوسری ٹیبل پر بیٹھتے ہیں ۔۔۔
ارے آپ کو بتانے کا یہ مقصد نہ تھا کہ آپ اٹھ جائیں ۔۔۔بیٹھے رہیے ۔۔ اور ہمیں بھی بیٹھنے کی اجازت دیجیے ۔۔بڑی ٹیبل ہے ۔۔۔۔۔۔
نہیں آپ بیٹھیے ، یہ سن کر دونوں گھبرا کر اٹھی ۔۔۔۔اپنی پلیٹس اٹھائ ۔۔۔۔
اچھا نہیں لگتا آپ اس طرح اٹھیں ۔۔۔۔تم لوگ سب برابر ٹیبل پر بیٹھ جاو ۔۔۔۔ہاں آپ روز اس ٹیبل پر بیٹھ سکتی ہیں ۔۔۔غزنوی نے دوستوں کو ہدایت کے ساتھ شائستگی سےلاروش کو آفر کردی ۔۔۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ، آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کیے ۔۔۔پھر خاموشی سے بیٹھ کر کھانے لگی ۔۔۔لیکن اب ٹیبل پر بیٹھے غزنوی کے سامنے کھانا مشکل ہورہا ہے ۔۔ ۔ثنا نے ڈرتے تجسس سے بھرپور لہجے میں غزنوی سے پوچھا آپ سب میں بادشاہ سلامت کون ہے ۔۔۔
میرا نام غزنوی ہے اس لیے اکثر پیٹھ پیچھے لوگ بادشاہ سلامت کہہ دیتے ہیں ۔۔۔۔غزنوی نے لاپرواہی دکھائ ۔۔ ۔
آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیے ۔۔۔
۔میرا نام ثنا ہے اور یہ لاروش ہے ہم دونوں اتفاق سے روم میٹ اور ایک ہی ڈپارٹ سے ہیں ۔۔اس کا تعلق ۔۔۔۔۔
چلیں ثنا لیکچر شروع ہونے والا ہے ۔۔۔۔لاروش نے ثنا کی بات کاٹی ۔۔۔۔
ہاں چلو ۔۔۔۔وہ جلدی اٹھی اور شکریہ کہہ کر نکلی ۔۔۔
گدھی ۔۔الو ۔۔۔کیا اس بادشاہ کے بچے کو ساری انفارمیشن دینے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔
یار اسی نے پوچھا تھا اس لیے ۔۔۔لاروش کا غصہ دیکھ کر ثنا ممنائ ۔۔۔
ہاں تیری پھپو کا لڑکا تھا اسلیے اس کی بات مان کرشجر نصب بتانا بے حد ضروری تھا ۔۔۔۔۔۔۔طنز کیا ۔۔۔۔
غلطی ہوگئ معاف کردو ۔۔۔کتنا ڈانٹ رہی ہو ۔۔۔اتنا تو کبھی میری اماں جان نے بھی نہیں ڈانٹا ۔۔۔۔ثنا نے زچ ہو کر کہا ۔۔۔
ڈانتی تو شاید کچھ عقل وقل آجاتی ۔۔لاروش نے کلس کر کہا ۔۔۔۔۔
لاروش کو پتہ ہی نہیں کل ہی اس کے بارے میں انفارمیشن مل گئ ۔۔۔۔۔۔
ادھر کینٹین میں سارے ہی حیران تھے کہ غزنوی نے کوئ ہنگامہ نہیں کیا ۔۔۔۔مگر یہ بھی علم ہے کہ موڈی شخص ہے اس لیے کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔۔
اچھا اب دوستوں کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکالے گا ۔۔۔۔انس نے غزنوی کو آنکھیں دکھائ ۔۔۔۔۔
سچ کہتے ہیں دنیا والے لڑکی کے آتے ہی دوست کی ویلیو ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔دوست دوست نہیں رہتا ۔۔۔بلاول نے نادیدہ آنسو پونچھے ۔۔۔۔۔۔
یار ڈرامے بازی نہ کرو،تم سب جانتے ہودوستوں کے لیے جان دینے والا بندہ ہوں ۔۔۔تمہاری بھابھی انکمفرٹیبل تہی ۔۔۔۔اس لیے ایسا کیا ۔۔۔چلو آج باہر اسپیشل لنچ کرواتا ہوں ۔۔۔۔آج میں خوش ہوں روبرو یار جو ہوا ۔۔۔غزنوی نے انس کو جواب دیا ۔۔۔۔
جیو میرے شیر بلاول نے خوشی سے نعرہ لگایا پارکنگ کیطرف باتیں کرتے روانہ ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔
________________________________________________
یار پتہ نہیں یہ وقت کب گزرے گا ۔۔۔اسا ئمنٹ بنا بنا کر میں تو پاگل ہوگیا ۔۔اویس نے دہائ دی ۔۔۔۔
شادان مسکرایا ۔۔۔۔بہت جلد ختم ہوگا ۔۔۔۔ویسے پاکستان جا کر کیا کرے گا ۔۔۔۔
کرنا کیا ۔اویس نے آنکھ ماری ۔۔۔۔۔بھائ خوب عیش کرنے ہیں۔۔خدمتیں کروانی ہیں ۔۔۔لاڈ اٹھوانے ہیں ۔۔۔۔پھر شادی کرنی ہے ۔۔۔بچے پیدا ہونگے ان کے نخرے اٹھانے ہیں ۔۔مستقبل کا لائحہ عمل بتایا ۔۔۔
زبردست یار ، لیکن موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ کمائیں گے کیسے ۔۔عیش کرنے کے پیسے کون دیگا۔۔۔۔۔بیوی اور بچوں کا خرچہ کہاں سے کریں گے ۔۔۔۔ کییں تیرا گھر داماد بننے کا ارادہ تو نہیں ۔۔۔۔
اللْہ نہ کرے ۔۔اویس نے جلدی سے بولا ۔۔۔۔یار مانا کہ تیری شکل اچھی ہے تو کیا بات اچھی نہیں کرےگا ۔۔۔
آپ نے جو ابھی کچھ دیر قبل فیوچر کا نقشہ کھینچا تھا اس کا نتیجہ تو یہی نکلتا ہے ۔۔۔عیش کریگا ۔۔۔لاڈ اٹھوائے گا ۔یہاں تیرے پر بڑا ہی ظلم ہورہا ہے ۔۔۔نواب کو ہر چیز بیٹھے بیٹھائے مل جاتی ہے پھر بھی حسرتیں ہی ختم نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔شادان نے دانت پیسے ۔۔۔۔
شادان کے طعنے پر اویس تلملاگیا اور اپنے کام گنوانے لگا۔ ۔
آج ناشتہ کیا بنا دیا اس سے میں نواب ہوگیا ۔۔۔اور جو کل میں نے تیرے کپڑے پریس کیا اسکا کیا ۔۔۔اور تو اور تیری لیے آنے والی گرلز کال اٹینڈ کرتا ہوں نت نئے بہانے بناتا ہوں تاکہ کسی گوری کی دل آزاری نہ ہو یہ کیا کام نہیں۔ ۔۔
تیرا یہ بڑا ہی احسان ہے مجھ پر ۔۔بتا اس کا قرض کیسے چکاوں گا ۔۔۔دو جوتے تجھے مارنے سے اترے گا یا تیری مورے کو بتانے سے ۔۔۔۔شان نے پھر اویس پر طنز کا اٹیک کیا
خوف خدا کر یار کیوں مورے کے ہاتھوں مجھے شہید کروائے گا ۔۔۔پہلے ہی وہ اکثر جلال سے فون کرکے معلومات لیتی رہتی ہیں ۔۔۔۔
میرے ہوتے تجھے شہادت کا رتبہ نہیں ملے گا بیٹا تونے قتل ہی ہونا ہے ۔۔۔۔شاید میرے ہی ہاتھوں ہونا ہے ۔۔۔جلد ٹینا کویہ بتا دے فون پر گپیں میں نہیں تو لگاتا ہے ۔۔۔۔۔
میرے یار اویس آپ سے عاجزانہ گزارش کرتا ہے اسے بتانے سے پہلے تو ہی مجھے قتل کردے تو اپنا ہے مار کر چھاوں میں تو ڈالے گا ۔۔۔اویس شرارتی مسکرایا ۔۔۔۔
نہیں بیٹا تجھے مار کر میں نے جیل نہیں جانا ۔۔۔تم کو تو ٹینا ہی نے سبق دینا ہے ۔۔۔اب جلدی اٹھو ۔۔۔جلال کے ٹیسٹ کروانے ہیں دو دن ہوگئے فیور ختم نہیں ہوا ۔۔۔ایک دم شادان فکرمند ہوا ۔۔۔۔
ہاں یار جلدی سے جلال ٹھیک ہو تاکے کام سے میری جان چھٹے ۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے تیری ۔۔۔۔شادان کے گھورنے پر جلدی سے اپنا جملہ ٹھیک کیا
_________
اللّہ جی مجھ سے جتنا یاد ہوسکا میں نے کیا ۔۔۔اور جو سمجھ آیا لکھ ڈالا ۔۔۔پلیز اللّہ جی انگلش میں پاسنگ مارکس ہی دے دینا ۔ ۔۔اللّہ جی میں نے نقل بھی نہیں کی ۔۔۔اس کا صلہ دےدینا ۔۔۔۔اللّہ جی جو بندہ یا بندی میراانگلش کا پیپرز چیک کرے میرے پیپرز کی چیکنگ کے ٹائم اس کو ضروری کام یاد آجائے۔۔۔۔اس کے گھر کے بچے اس خوب تنگ کرے ۔۔۔۔ وہ بنا دیکھے پیپرزچیک کردے ۔فل مارکس دے دے۔۔۔یہ کیا مانگ رہی ہے جاناں ۔۔۔۔دوسرے بندے کے گناہ کرنے کی دعا کررہی ہے وہ ایمانداری سے کام نہ کرے ۔انگلش کا پیپر اچھا نہ ہونے کے سبب دعا میں مگن جاناں کےاچانک ذہن میں آیا۔۔۔اللّہ میری توبہ مجھے معاف کرنا ۔۔۔اللّہ جی میں نے پیپرز پر دم بھی کیا تھا اس کی برکت سے میرے سارے سوال کسی بھی فرشتے سے ٹھیک کروادیں ۔ ۔۔۔اللّہ جی میں بس انگلش میں ہی نکمی ہوں باقی میں تو تیرے کرم سے اچھی ہوں میرا بیڑہ پار کردے آمین ۔۔دورد پڑھ کر چہرہ پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔۔اللّہ سے مانگ کر مطمئن ہوئ اور اگلے مضمون کی تیاری کے لیے بکس اٹھالی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
________________________________________________
یونی میں ایک ہفتہ آسانی سے گزر گیا ۔۔۔بس غزنوی کی نظروں نے لاروش کو بہت پریشان کیا ۔ فری پریڈز گزارنا مشکل کردیا ۔۔۔۔
میری سمجھ نہیں آتا یہ بندہ پڑھتا بھی یا بس لڑکیوں کو تاڑنے یونی آتا ہے ۔۔۔خود کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے غزنوی کو بیزاری سے دیکھا ۔ ۔
ہاں محسوس تو یہی ہوتا ہے ۔۔۔ثنا نے چیونگم چباتے ہوئے ببل پھلایا ۔ ۔ ۔
تم تو یہ چھچوری حرکت ختم کرو ۔۔
چیونگم کھانے میں کہاں سے چھچورا پن آیا حیرت لہجے میں اتری ۔۔۔۔
چیونگم کے بعد جو غبارہ بناتی ہوں یہ چھچورا پن ہے خواہمخواہ لوگ متوجہ ہوتے ہیں دانت پیستے بولی۔ ۔۔
اچھا ۔۔۔۔۔آئندہ احتیاط کرونگی ۔۔۔۔۔۔
چلو لائبریری چلیں ۔۔ورنہ آج اس بادشاہ نے مجھے آنکھوں ہی آنکھوں سے کھا جانا ہے ۔۔۔۔لاروش نے کلس کر کہا ۔۔۔
_______________________________________________
کیا ہے یار آج سر آفاق بھی تیرا پوچھ رہے تھے آج کل کلاس کیوں بنک کررہا ہے غزنوی ۔۔۔۔۔۔۔۔ انس نےغزنوی کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔جو لاروش کو جاتا دیکھنے میں مصروف ہے ۔۔۔۔
لگتا ہے اظہار ِمحبت کرنا ہوگا تاکے ملاقات کا سلسلہ رہے کل نہیں دیکھا تھا تو دن گزرانا مشکل ہوگیا تھا ۔۔آج دیکھا تو سکون ملا ۔۔۔۔غزنوی نے دل پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
میرا مشورہ ہے بھابھی کے گھر رشتہ بہیج دو ۔۔۔آفتاب نے مشورہ دیا ۔۔۔
مولوی تو نہ اپنے مشورے پاس رکھ ۔۔۔اظہار محبت کے بعد محبوب سے چھپ کر ملنے کا اپنا ہی مزہ ہے ۔۔۔بلاول نے مشورہ رد کیا ۔۔۔۔
تم لوگ بحث مت شروع کرو مجھے جیسامناسب لگے گا میں کرونگا ۔۔۔۔مجھے اس کے ساتھ پوری زندگی گزارنی ہے ۔۔۔۔ٹائم پاس نہیں کرناہے ۔۔۔۔غزنوی نے بات سمیٹی اور آگے بڑھ گیا ۔۔سب نے تقلید کی ۔۔۔۔
________________________________________________
باجی یہ خرید لیں ۔۔۔ایک بچہ ہاتھ میں کچھ کارڈز لیے بولا۔ ۔۔۔ لاروش جلدی سے یونی گیٹ کی جانب جا تی رکی ۔
کیا ہے بیٹا۔ ۔۔لاروش نے پوچھا۔۔۔۔
باجی یہ ہمارے” اچھی زندگی ” ٹرسٹ کے سالانہ فنکشن کارڈز ہیں ۔۔۔آپ اس کو خرید کر ہمارے فنکشن میں آئیں گی تو آپ کو اچھا لگے گا ۔۔۔ہم بچوں نے کچھ ٹیبلو رکھیں ہیں ۔۔۔ہماری امیوں نے دستکاری بنائ ہے آپ وہ خریدے گی تو ہمارا ٹرسٹ ترقی کرے گا ۔۔۔ہمیں اچھا کھانا ۔۔۔اچھے کپڑے اور اچھی تعلیم ملے گی ۔۔۔۔بچے نے تیزی سے فر فر لاروش کو بتایا ۔۔۔۔۔
اور آپ کو یہ بات کس نے بتائ ثنا بچے کے گال کو تھپکا ۔۔۔
بچہ شرما گیا ۔۔۔۔اور معصومیت سے بولا ۔۔سر نے بولا تھا ۔۔۔۔۔باجی ام کو بھی معلوم ہے ۔۔۔امارہ ابا نہیں ہے ۔۔۔اماں سلائ کرکے سر کو دیتی ہے ۔۔۔ہم سب بچے جن کے ابا نہیں ہوتے وہاں رہتے ہیں ۔۔ بچہ روہانسی ہوا ۔۔۔۔
اچھے بچے نہیں روتے وہ اسٹرونگ ہوتے ہیں ۔۔۔آپ ایسا کرو یہ سارے پاس مجھے دے دو کتنے کے ہیں سب ۔۔۔۔لاروش تو ویسے ہی حساس تہی اس نے سارے پاس لینے کا فیصلہ کرلیا ۔۔۔
باجی ہزار روپے کے ہیں سب ۔۔۔۔۔
لو اور اپنا نام بتاو ۔۔۔آج سے ہم دوست ہیں ۔۔۔لاروش نے پیسے بچے کو دیا اور اپنا دوسرا ہاتھ دوستی کے لیے پہیلایا ۔۔۔۔
بچے نے خوشی سے پیسے لیے اور شرما کر ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔موسی نام ہے شرمیلے لہجے میں بولا ۔۔۔۔
میں لاروش اور یہ ثنا آپی ۔۔ ۔ ۔ہم فنکشن میں ضرور آئیں گے ۔ ۔
میں انتظار کرونگا باجی ۔۔۔وہاں سے خوشی خوشی چلاگیا
کتنا پیارا بچہ ہے ۔۔۔۔اور اب اتنے سارے پاس کا ہم کیا کرے گے ثنا پریشان ہوئ ۔۔۔۔کچھ نہیں یونی میں یہ کارڈ ہم سیل کریں گے جو پیسے آئیں گے وہ ٹرسٹ کو دیں گے مگر ٹرسٹ کی معلومات کریں گے کہ بھروسہ مند ہے یا نہیں ۔۔لاروش نے پریشانی کا حل بتایا ۔۔۔
اور یہ معلومات کون لے کے دیگا ۔۔۔۔ثنا مطمئن نہ ہوئ ۔۔۔۔
یار شرمیلا اس دن بتارہی تہی اس کا کزن تبریز سیاسیات کا جو اسٹوڈنٹ ہے وہ سوشل کام بہت کرتا ہے اس سے مدد لینگے ۔۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔ثنا کو تھوڑی تسلی ہوئ ۔۔۔۔
_______________________________________________
تو یہاں بیٹھا چائے نوش کررہا ہے وہاں تبریز بھابھی کے ساتھ گھوم رہا ہے ۔۔۔۔
شہروز نے کینٹین میں بیٹھے غزنوی کو لتاڑا ۔۔۔
کیا بکواس ہے ۔۔۔۔غزنوی نے منٹ لگائے بغیر دھاڑا ۔۔۔۔
آرام سے یار ۔۔۔انس نے رکا ۔۔۔۔غزنوی کی دھاڑ پر کینٹین میں موجود اسٹوڈنٹ ایک دم دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔
غزنوی سوالیہ نظروں سے شہروز کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
یار ابھی میں گیٹ سے اندر آرہا تھا تو بھابھی تبریز کے ساتھ کھڑی باتیں کرتی نظر آئ ۔۔۔میں نے آفتاب کو بیھجا ہے معملہ جاچنے کے لیے ۔۔۔آفتاب کی سلام دعا ہر ہی اسٹوڈنٹ سے ہے ۔۔۔۔
ٹھیک ہے چلو میں خود دیکھتا ہوں۔۔۔غزنوی اس سے پہلے خود اٹھتا آفتاب چلا آیا ۔۔۔۔
بھابھی کچھ ٹرسٹی کام کررہی ہیں ۔۔۔۔آفتاب نے معلومات دی
اس پوری یونی میں تبریز کو لاروش ہی ملی تہی کیا ۔۔۔غزنوی نےغصے کا اظہار کیا ۔۔۔۔
جملہ صحیح کرلے ۔۔۔آفتاب نے بولا ۔ ۔۔۔
کیا مطلب غزنوی نے تیکھے تیور سے دیکھا
اس پوری یونی میں بھابھی کو سوشل کام کے لیے تبریز ملا ۔۔۔۔
یہ بھابھی سوشل کام کررہی ہیں ۔۔۔اور میں نے یہ کارڈ لیا ہے ۔۔۔آفتاب نے ایک چھوٹا کارڈ دیکھایا ۔ ۔۔
تم سب بھی لے لو۔ ۔۔۔
وہ مجھ سے بھی مدد لے سکتی تہی ۔۔غزنوی کا غصہ مزید بڑھا چلو ۔۔۔کارڈز لو ۔۔۔کارویڈیر میں لاروش نظر آئ جس نے رنم۔ کو آواز دی ۔۔۔۔
لائیٹ اورنج سوٹ میں ملبوس لاروش بہار کا ایک خوبصورت منظر لگی ۔۔۔اسے دیکھتے ہی غزنوی کا غصہ اڑن چھو ہوا ۔۔وہ لپک کر لاروش کے پاس پہنچا اور چند قدم کی دوری پر رک کر بات سننے لگا ۔۔۔جہاں رنم لاروش کا مذاق اڑانا شروع ہوچکی تہی ۔۔۔
اوہو اب یونی میں پبلسٹی کے لیے منس لاروش چندہ جمع کریں گی ۔۔۔۔
جاری ہے
