Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34

رو رو کے آنسو دعا مانگتے گئے اور غزنوی کا دل سکون پاتا گیا ۔۔پہلی بار تو نامحرم کی محبت سے نجات مانگی، کچھ انسانوں کے دل میں جو محبت رب سے ہونی چاہیے ۔۔اس میں شدت نہیں ہوتی
اور جس سے نہیں ہونی چاہیے اس سے شدت سے محبت ہوجاتی ہے ۔ ۔۔ کیوں رکھے ایسی شدید محبت جس کے بارے میں روز قیامت سوال اٹھے ۔۔کیا حق تھا ایک انجان لڑکی سے محبت کرنے کا ۔۔۔جب اللّہ نے حلال رشتہ بیوی کا عطا کردیا تو ساری محبتیں اس کی ہی ہونی چاہیے ۔۔۔اس لیے صرف عورت کو ہی نہیں مردوں کو بھی نظروں میں حیا کا کہا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔اور اللّہ ہی کے اختیار میں ہے تمہاری محبت کو تمہارے لیے حلال بنانا ۔۔تو بہترین یہی ہے جب کسی سے محبت ہوجائے تو اللّہ پاک کے آگےدامن پھیلا لو ۔۔اسی سے اسکے بندے کی محبت مانگو مل جائے تو شکر ادا کرو نہ ملے تو صبر سے بہترین کا انتظار کرو ۔۔آخر رب کائنات سے مانگا ۔۔بہترنہیں بہترین دے گا ۔۔۔۔صرف اللّہ پاک کی ذات پر بھروسہ رکھو۔۔۔
غزنوی نے بھی اپنے دل کا سکون مانگ کر غلط نہ کیا ۔۔غزنوی کو بعد میں جو سچی محبت ہوئ ۔اس کی کسک اسے اب تک سکون نہیں دیتی ۔۔غزنوی کو لاروش کی کسک نہیں سکون چاہیے ۔۔۔اور یہ کسک خود ساختہ ہوتی ہے جب آپ کا ذہن و دل ایک ہی بات پر ٹھہر جائے ۔غزنوی کا دل ٹھہر گیا ۔۔۔زندگی چلتے رہنے کا کانام ہے ایسے روکیے نہیں بہتے رہنے دیں ۔۔۔لاروش کو بھولنا ناممکن ہے مگر زندگی میں نئ جہد ضروری ہے ۔۔۔لاروش سے غزنوی کی محبت پہلے خوبصورتی کی وجہ سے تھی مگر اب
لاروش سے غزنوی کی ایک محبت کی وجہ یہ بھی تو ہے اپنے بھیانک گناہ کے سبب وہ اللّہ کی طرف رجوع کرنے والا بنا ۔۔۔کفر سے دل بیزار ہوا ۔۔ابو جہل کا پیروکار نہ بنا اصلاح کے بعد آنے والے اسلام کے مومنین کے قافلے میں شامل ہوگیا ۔۔۔
_______________________
,_ لالہ بیٹھ جایے آپ کی ٹک ٹک سے سر میں درد ہوگیا ۔۔وش بے چارگی سے بولی ۔۔جو کب سے شادان کو اسٹک پکڑے لاونج پر سے حویلی کے صدر دروازے پر بار بار نظریں ڈالے چکراتے دیکھ رہی ہے ۔۔۔
تم سے کون کہہ رہا ہے یہاں بیٹھو ۔۔جاو اپنے بچے کو دیکھو ۔
۔۔۔شادان نے خفگی سے کہا
واہ لالہ واہ ابھی خانی آئ نہیں یہ بہن کھٹکنے لگی ۔۔لیکن سن لیں یہ حویلی میری بھی ہے ۔۔۔جواباً وہ بھی تڑخی ۔
میرا مطلب یہ نہیں تھا فورا وضاحت دی ۔۔۔الزام سے بوکھلایا ۔۔۔۔
بی بی یوشع بابا یہ فیڈر نہیں پی رہے ہیں ۔۔۔۔ملازمہ نے بروقت آکر شادان کی جان بچائ ۔۔۔
میں پہلے اپنا بچہ دیکھ لو پھر اس کے مامو کی خبر لیتی ہوں ۔۔۔جو طوطا چشم بن گئے ۔۔۔
کہہ کر وش اوپر کمرے کی طرف بڑھی ۔۔۔
وش کے جاتے ہی شادان نے جان خلاصی پر اللّہ کا شکر ادا کیا ۔۔۔تھوڑی دیر بعد شادان کا انتظار ختم ہوا ۔۔۔
مورے کیا کہا ۔۔بے تابی سے پوچھا ۔۔۔
کیا کہنا تھا منع کردیا ۔۔۔گل زریں افسردگی سے بولیں ۔۔۔
منع کردیا بیٹا لڑکی کی گز بھر زبان ہے صاف کہہ دیا مجھے نہیں کرنی ۔۔۔اس کے بھائ نے کہا ہے سوچ کر جواب دیں گے ۔۔۔گل زریں نے منہ بنایا ۔۔
شادان کا چہرہ مرجھا گیا ۔۔سر تھام کر بیٹھ گیا ۔۔کیسے سمجھاوں گل میں نہیں تھا ۔۔۔۔۔
میں تو کہہ رہی ہوں شادان چھوڑو لڑکی منہ پھٹ ہے ۔۔۔گل زریں نے مشورہ دیا ۔۔۔
نہیں مورے انکار کیا ہے اس لیے لگ رہی ہے ورنہ تھوڑی شرارتی ہے اپنی لاروش کی طرح ہے ۔۔۔میں غزنوی سے بات کرتا ہوں ۔۔کہتے ہی فون نکالا۔۔۔
گل بہت مذاق ہوگیا ۔۔۔ہاں ہوگئ ہے ۔۔۔بیس دن بعد بارات فکس ہوئ ہے ۔۔۔زاور نے تنبیہ کی ۔۔اور خوش خبری سنائ. .
مورے ڈرا دیا تھا ۔۔۔شادان پرسکون ہوا ۔۔۔
ہاں بیٹا جی ڈر تو ہم بھی گئےتھے وہ تو بھلا ہو غزنوی راضی ہوا ۔۔۔باقی داستان تمہیں گل سنائے گی ۔۔زاور بولے آرام۔کی غرض سے چلے گئے
پھر وہاں ہوئ ساری کاروائ سنائ ۔۔
شکر اللّہ کا سب معاملات طے ہوئے ۔۔شادان نے بھی سن کر شکر ادا کیا ۔۔۔
بالکل ہاں ہونے اللّہ کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔۔وش واپس آتےہی بولی ۔۔۔۔
پیاری مورے آپ کو پتہ ہے لالہ نے مجھ سے کہا جاو ۔۔۔بھلا میں کہاں جاوں کیا یہ گھر میرا نہیں ۔۔۔۔وش نے مصنوعی آنسو بہائے ۔۔
شادان آج کہہ دیا میری بیٹی کو اگر آئندہ کہا تو تمہاری گل کو کان سے پکڑ کر باہر نکالونگی ۔۔گل زریں سمجھ گئ ۔۔وش ڈرامہ کر رہی ہے ۔۔
مورے یہ جھوٹ بول رہی ہے اور آپ خود کو کان سے پکڑ کے کیسے نکالیں گی بھلا ۔۔شادان بھی معصوم بنا ۔۔
مطلب ۔۔۔۔۔گل زریں الجھی ۔۔۔بھئ آپ بھی میری گل ہیں گل زریں زاور ۔۔۔شادان نے وضاحت دی ۔۔
اوہ لالہ کتنا مسئلہ ہوجائے گا مورے بھی گل خانی بھی گل ۔۔۔وش نے کہا ۔۔۔
ہاں تو کیا ہوا ویسے بھی میں مورے کہتا ہے گل نہیں ۔۔اور گل کوسوچ رہا جانو کہہ کر بلاو ۔۔کیا خیال ہے مورے ۔۔۔۔۔
شادان ۔۔بے حیا بننے کی ضرورت نہیں ۔۔میں تو یہ سوچ رہی ہوں اپنے دادا پردادا کی روایات پھر سے زندہ کرو
کیسی روایات ۔مورے
۔۔بیوی کا شوہر سے پردہ ۔۔ہر وقت گھونگھٹ ڈالے رکھا جائے ۔۔مصنوعی رعب سے کہا ۔۔۔
میری پیاری مورے ۔۔یہ دیکھیں میرے بندے ہاتھ خدارا ظالم ساس نہ بنیے ۔۔کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے شوہر کا بیوی سے پردہ ۔۔۔۔۔شادان نے ہاتھ جوڑ دیے۔۔۔۔۔کہیں مذاق مذاق میں قانون نافذہی نہ ہوجائے ۔۔۔
اچھا اچھا نہیں سوچتی ایسا ۔۔۔
کیوں نہیں سوچتی سوچیں مورے آئیڈیا تو بہت اچھا ہے ۔۔۔
تو ایسا کرو تم کرلو اپنے شوہر سے پردہ ۔۔ زیادہ کوئ آگ لگانے والا کام نہیں کر رہی تم ۔۔۔۔شادان کلسا ۔۔
مورے ۔۔وش چیخی ۔۔۔
تم اور شادان خود ہی معاملات نبٹاو میں چلی سونے ۔۔کل سے بہت کام شروع کرنے ہیں ۔۔اللّہ پاک کا شکر اس حویلی میں ایک اور نٹ کھٹ کا اضافہ ہو رہا ہے ۔۔۔ابھی سے ان چٹ پٹی لڑائیوں کی عادت ڈال لو ۔۔۔۔
جی ۔۔شادان اور وش مشورے پر حیران ہوئے ۔۔۔
یہ کیا بات ہوئ مورے ۔۔ وش نئ بحث شروع کرتی مورے کے پیچھے چل دی ۔۔شادان نے آسودہ ہوکر آنکھیں موندلی ۔.
_____________________
غزنوی بیٹا ۔۔۔ماسٹر حشمت کی طبیعت اچانک خراب ہوگئ ۔۔شمروز نے کمرے پر دستک دی ۔۔۔۔کل رات سے غزنوی روم میں بند ہوا تو آج شام ہوگئ باہر نہ آیا ۔۔باقیوں نے بھی اسے خود آپ سنبھلنے کا موقع دیا ۔۔۔حشمت صاحب کو پچھلے سال ریٹائرمنٹ ملی تو غزنوی نے بچوں کی اصلاح کے لیے دینی مدرسہ بنایا تو معقول سہولتوں پر حشمت صاحب کو مدرسہ کی ذمہ داری دے دی ۔۔۔۔مینیزہ کو بھی گاوں کے گرلز اسکول میں پرنسپل بنا دیا ۔۔۔۔
آپ کا شاید موبائل آف ہے اس لیے میرے نمبر پر کال کی ۔۔گاڑی اسٹارٹ کرتے غزنوی کو بتایا ۔۔۔
ہوسپٹل کے کارویڈیر میں مینیزہ روتی شیریں کو سنبھال رہی تھیں ۔۔بیگم حشمت مسلسل وارڈ کی جانب نگاہ کیے تسبیح پڑھ رہی ہیں ۔۔آنسو آنکھوں سے جاری ہیں ۔۔اس عمر میں بڑے نقصان کا خوف دل میں تیزی سے جگہ بنا رہا ہے ۔۔۔
دل کا اٹیک معمولی نہیں ہوتا ۔۔رات ہوگئ ۔۔ طبعیت کچھ بہتر ہوئ تو غزنوی کو روم میں بلوایا ۔۔۔ڈاکٹر روم سے باہر آیا ۔۔
سر ابھی کنڈیشن کر ٹیکل ہی ہے ۔۔صرف ایک فرد پیشنٹ سے مل لے ۔۔۔اور وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں تو آپ ہی مل لیں ۔۔۔۔
شیریں نے ناراض نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھا ۔۔۔۔۔
غزنوی شیریں کی شاکی نظروں کو نظرانداز کرتا ایمرجنسی میں داخل ہوا ۔۔۔
غزنوی کی پکار پر حشمت نے کہا ۔۔۔
مجھے ۔۔مینیزہ کی فکر ہے ۔۔۔ابھی اپنے کسی رشتے دار سے اس کی شادی کردو ۔۔بلال بِھی تو ہے ۔۔۔۔
آپ ٹھیک ہوجائیں پھر دھوم سے کریں گے ۔۔ تسلی سے سر پر ہاتھ پھیرا اور ایک ہاتھ محبت سے پکڑا ۔۔۔۔
نہیں مجھے تکلیف ہے زندگی کا بھروسہ نہیں جاو ۔۔انتظامات کرو ۔۔۔۔۔
جیسے آپ کی مرضی ۔۔۔۔
باہر آکر فون پر بلال سے پوچھا اس سے ریکویسٹ کی مگر اس نے صاف منع کردیا ۔۔۔نشاء کا نام لیا ۔۔پھر فون ملایا وہاں سے بھی انکار ۔۔۔جس پر غزنوی خاموش ہوگیا ۔۔ماتھے پر تفکر کے سائے بکھرے ۔۔۔کیا جواب دے ۔۔۔ایک بیمار بوڑھے کو کیسے غمزدہ کردے ۔۔۔۔کیسے مان سے بلا کر ایک کام سونپا اور وہ نہیں کرپا رہا ۔۔۔اور وہ بے بس ۔۔۔کہاں سے لائے بہترین رشتہ کس کے ہاتھ جوڑے ۔۔بے چینی سے سر مسلنے لگا۔کارویڈیر میں حبس سا محسوس ہوا ۔۔کھلی ہوا کے لیے باہر آیا ۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا کیسی طبیعت ہے ۔۔مہر بانو بھی ڈرائیور کے ساتھ آگئ ۔۔۔
ابھی ٹریمنٹ جاری ہے ۔۔ہارٹ اٹیک ہے ۔ ڈاکٹر نے کوشش کی ہے باقی اللّہ مالک ہے ۔آپ اندر جائیے ۔۔آنٹی کو تسلی دیں ۔۔غزنوی نے جواب دیا ۔۔۔
کب سے دیکھ رہا ہوں کیا سر میں درد ہے ۔۔مہر بانو کے اندر جاتے زاور پاس آکر پوچھنے لگے ۔۔
بابا انکل نےکہا مینیزہ کے نکاح آج رات ہی کیسی سے کرواں ۔۔ابھی بلال سے پوچھا منع کردیا ۔۔ایک دوست سے بات کی تو اس نے بتایا اس کی والدہ نے اسکا بھی رشتہ پکا کردیا ۔۔اب میں کہاں سے اچھا ڈھونڈو۔۔۔
تم کہو تو گلبدئ سے بات کرو ۔۔شمروز نے بہن کا نام لیا
رہنے دیں ۔۔۔جو رشتہ مجھے گل جاناں کے لیے پسند نہیں وہ اپنے محسنوں کے لیے بھی پسند نہیں ۔۔۔ماشاء اللّہ مینیزہ پڑھی لکھی ۔۔خوبصورت و خوب سیرت ہے ۔۔اس کے لیے بہترین ہونا چاہیے ۔۔۔
ٹھیک ہے تم قاضی اور گواہان کو بلاو ۔۔میری نظر میں ہے ایک ایسا رشتہ اور وہ میرا کہا بالکل نہیں ٹالے گا ۔۔ جاو عیسی ہے سکندر کو بلالو ۔۔۔شمروز نے بات مکمل کی اور اندر کی جانب بڑھے ۔۔جبکے غزنوی حیران ہوا ایسا کو نسا بندہ ہے ۔۔۔
اور سنو گل جاناں کو بھی بلالینا مینیزہ کو ڈھارس ملے گی ۔۔شمروز پلٹے اور کہا ۔۔
کچھ دیر میں سارے ہی آگئے ۔۔گل کے ساتھ ورشہ نشاء اور بسمہ بھی نکاح کا سنتے ہی آگئ ۔۔ اف میں بہت مینیزہ کے نکاح سے خوش ہوں ۔۔نشاء چہکی
کیوں ۔۔ورشہ حیران ہوئ ۔۔نشاء کی تو ابھی تک ملاقات ہی نہیں ہوئ ۔۔۔پھر خوشی کیوں ہوئ ۔۔۔
میں نے اتنی فلموں ڈراموں میں نکاح ہوسپٹل میں دیکھیں ہیں آپ اپنی آنکھوں سے دیکھوں گی ۔۔۔نرالی خوشی
اللّہ میرے لالہ کو اسے جھیلنے کی توفیق عطاکرنا ۔۔۔ ورشہ نے باقاعدہ ہاتھ اٹھائے دعا مانگی ۔۔۔
اللّہ نہ کرے کبھی کسی لڑکی کو ایسے حالت سے گزرنا پڑے ۔۔باپ زندگی موت کے دہانے پر کھڑا ہے اور وہ اپنی نئ زندگی کی بہتری کی فکرکرےیا باپ کی ۔۔۔بے حد کھٹن مرحلہ ہوتا ہے ۔۔اللّہ رب العزت سب باپ کو خیریت و عافیت سے اپنی لاڈلیوں کی شادی کرنے کی توفیق دے ۔۔آمین ۔۔گل نے نشاء کو سمجھایا ۔۔
بابا قاضی آگئے ۔۔۔غزنوی نے اطلاع دی ۔۔ہاں گواہ اور دلہن کو لیکر روم میں آجاو ۔۔
گل اپنے ساتھ ایک سرخ دوپٹہ لائ تھی جو کہ بالکل سادہ مگر نیا ۔۔۔جھٹ پھٹ اوڑھایا ۔۔۔
کیا کررہی ہو مینیزہ نے اتارنا چاہا ۔۔۔
پہنو رہو ۔۔۔تمہارے بابا کی خواہش ہے کہ تمہارے فرض سے آج آزاد ہوجائیں ۔۔۔بیماروں کو تنگ نہیں کرتے ۔۔۔ان کا دل بیمار ہے تمہاری فکر میں مبتلارہ کر کیا تم چاہتی ہووہ بالکل ہی بند ہوجائے ۔۔۔گل جاناں نے عقلمندی دکھائ ۔۔۔
اللّہ نہ کرے ۔۔۔۔مینیزہ دل کا سن کرکانپا ۔۔۔بابا کی خوشی جس میں میری خوشی اس میں ۔۔۔۔۔مینیزہ نے حامی بھری ۔۔
بی بی اگر پہلے مان جاتی تو انکل ٹھیک ہوتے ۔۔۔نشاء چمکی ۔۔۔
مینیزہ نے چونکی اور شرمندگی سے سر جھکالیا ۔۔نشاء کی بات تیر لگی ۔۔کیا میری ہی وجہ سے ہوئ طبیعت خراب ۔۔آنسو جو اب تک صبر کا مظاہرہ کر رہے تھے نکل پڑے ۔۔۔
بسمہ نے نشاء کے کہنی ماری ۔۔چپ رہے اب تیری آواز نہ نکلے نہیں تو بڑا سا انجکیشن گھونپ دونگی ۔۔۔ڈرایا ۔۔۔مینیزہ نشاء کی بات کا برا نہیں مناو ۔۔میں معافی مانگتی ہوں ۔۔بسمہ نے سوری کی ۔۔
سچ ہی تو کہہ رہی ہے ۔ اور سچ ہی تو کڑوا لگتا ہے ۔۔۔مینیزہ آنسو پونچھتی کہنے لگی ۔۔۔۔۔نشاء تم پریشان نہ ہو مجھے تھوڑی تکلیف ہوئ ۔۔۔بس ۔۔۔۔مینیزہ نشاء کی اتری شکل دیکھ کر بولی ۔۔۔
تم۔بہت اچھی ہو مینیزہ ۔۔سوری ۔۔نشاء نے جھٹ گلے لگایا اور سوری بولی۔۔
نشاء ہر شے کا وقت مقرر ہے ۔۔جس کو جب ملنا ہوگا تب ہی سبب بنے گے ۔۔اور سبب تو کیسا بھی ہوسکتا ہے ۔۔۔۔مینیزہ کو تھامے گل آہستہ سے سمجھاتی آگے کمرے کی طرف بڑھی ۔۔۔جہاں مورے بیگم حشمت ایک طرف پہلے سے بیٹھی تھیں دوسری طرف عیسی سکندر غزنوی کھڑے اور شمروز اور قاضی صاحب بیٹھے تھے ۔۔
شمروز صاحب ،دولہا کہاں ہے کس کا نام رجسٹرڈ کروں ۔۔۔حشمت صاحب غزنوی سے پتہ چلا مینیزہ کو خوبسیرت ہے اس کے لیے میرے بیٹے کو بہترین چاہیے تھا تو میں نے بھی بہترین ہی ڈھونڈا اجازت ہوتو نکاح شروع کریں ۔۔۔
حشمت نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا ۔
۔۔وہ بہترین کیا سیلمانی ٹوپی پہنے کھڑا ہے جو مجھے نظر نہیں آرہا ہے ۔۔کہاں ہے کیا نام ہے ۔۔۔۔۔غزنوی جھنجھلایا ۔۔۔
میرا بیٹا غزنوی شمروز اورنگ زئ ۔۔بہترین ہے ۔۔کیا تم کو یہ رشتہ مینیزہ کے لیے قبول ہے ۔۔۔۔شمروز کی بات کمرے میں گہرا سکوت طاری کرگئ ۔۔
بے یقین نظروں سے شمروز کو دیکھا ۔۔چہرے کی رنگت اڑ گئ ۔۔۔آنکھیں وحشت سے بھر گئ ۔۔۔۔اتنی جلدی ۔۔ابھی تو اس نے لاروش کو بھولنے کا ارادہ باندھا تھا کچھ تو سنبھلنے کا موقع ملتا ۔۔۔بابا ۔۔۔ہولے سے نکلا ۔۔
کیا ہے ابھی پرسوں ہی میرے بیٹے نے شادی کے لیے ہاں کی ہے ۔۔تو سوچا جلدی پار لگادوں اس پہلے وہ انکار کرجائے ۔۔جلدی جواب دو ۔۔میرے بیٹے کا رشتہ منظور ہے یا نہیں ۔۔۔۔شمروز اطمینان سے بولے غزنوی کو کچھ سمجھ نہیں آیا کیا کرے ہاں یا نہ ۔۔۔حشمت کیطرف دیکھا جو چہرہ چند منٹ پہلے پر سکون تھا اب بجھ گیا ۔۔شاید انہے میرے جواب کا اندازہ تھا ۔۔۔۔
آپ پہلے حشمت انکل سے پوچھیے انہیں میں ان کی فرزندگی میں قبول ہو ں یا نہیں ۔۔غزنوی نے آرام سے کہا ۔۔کچھ دیر پہلے کی سب شدتیں سوچیں مفقود ہوئ ۔۔۔
حشمت صاحب کا چہرہ کھل گئ ۔ غزنوی کی آواز زندگی لگی ۔۔۔
_________________________
ماضی ۔۔۔
لاروش غزنوی تم سے فون پر بات کرنا چاہتا ہے ۔۔اس کی بات سن لو پلیز ۔۔۔۔شادان دستک دینے کے بعد لاروش سے مخاطب ہوا ۔۔جو آئینے کے آگے کھڑی اپنے بال سلجھا رہی تھی ۔۔۔۔اسکی دوسری شادی کی بلا ٹل جانے کے بعد سے بہتر نظر آنے کی تگ ودو میں مصروف ہوگئ ۔۔اور آج گاوں کے اسکول جانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔
غزنوی نے کیا بات کرنی ہے ۔۔۔غزنوی کے نام سے چہرے پر ڈر جاگا ۔۔۔
مجھے نہیں معلوم تم سن لو میں اسپیکر اون کر رہا ہو ں ۔۔۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔۔غزنوی کی سنجیدہ آواز سے سلامتی گونجی ۔۔۔لاروش نے جواب نہیں دیا ۔۔چند منٹ بعد ۔۔۔۔
میں نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا اس کے لیے میں تم سے سخت شرمندہ ہوں ۔۔مجھے معاف کردو دونوں جہاں میں ۔۔۔۔اعتراف جرم سے آواز میں واضح لرزش لاروش اور شادان نے محسوس کی ۔۔۔
نہیں معاف کرونگی نہ یہاں نہ وہاں ۔۔تمہارے یہ الفاظ میری اذیت کا مداوا نہیں کرسکتے ۔۔تمہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے ۔اگر مجھے دوبارہ کال کی تو میں پولیس میں رپوٹ کردونگی ۔۔۔۔لاروش رو دی ۔۔۔فون بند ہوا ۔۔۔۔جو بھیانک پل بھول گئ تھی پھر سے یاد آگئے ۔۔۔۔ان کی، اپنوں کی ،اور شجاع کی اذیت یاد آگئ ۔۔صرف جب لاروش ہی پر ستم نہ تھا اس کے پیارے بھی اس ستم کی وار جھیل رہے تھے ۔
لاروش جو ہوگیا اسے بھول جاو ۔۔ہوسکے تو معاف کردو معاف کردینے سے تم کو سکون ملے گا ۔۔۔۔۔
نہیں کرونگی معاف۔۔۔
کیسے معاف کردو اگر معاف کردیا تو پھر میرا رشتہ کرنے کا سوچیں گے ۔۔سزا غزنوی لے گا نہیں ۔۔اس کی وجہ سے میں شجاع کی حق زوجیت ادا نہ کرسکی ۔۔۔میں معاف اگر اس شرط پر کرسکتی ہوں جب غزنوی مجھ سے شادی سے انکار کرے ہاں یہ ٹھیک ہے ۔۔۔اگر دوبارہ کال کی تو یہی بولونگی ۔۔لاروش روتے روتے سوچوں میں گم ہوگئ ۔۔۔
کیا ہوا لاروش میں کیا بول رہا ہوں اورتم پتہ نہیں کہاں گم ہو ۔۔شادان نے پیار سے سر پر چپت لگائ ۔۔
لاروش نے ناراضگی سے دیکھا ۔۔۔۔
اچھا سوری ۔۔۔میں چلتا ہوں روم سے باہر نکلا بھی نہ تھا موبائل کی رنگ بجی ۔۔۔۔شہیر کالنگ ۔۔۔سلام دعا کے بعد لاروش سے بات کرنے کی استدعا کی ۔۔شادان حیرت میں پڑا ۔۔۔مگر واپس پلٹ کر لاروش کی جانب موبائل بڑھایا ۔۔۔۔ شہیر بات کرنا چاہتا ہے ۔۔۔لاروش کی سوالیہ نظروں پر جواب دیا ۔۔ لاروش آپی آج شجاع لالہ کی بہت یاد آرہی ہے ۔۔مجھے ایک سمجھدار ہمدرد کی سخت ضرورت ہے ۔۔مجھے لگا آپ بھی تو شجاع لالہ کی سنگت میں وقت گزارا ہے آپ سے بات کرلوں کیا پتہ مجھے میرے درد کی دوا مل جائے ۔۔۔۔
ہاں بے جھجک کہو ۔۔۔
آپی میں نے آپ کو بتایا تھا میری خالہ کی بیٹی کا ۔۔۔میں کورس کے سلسلے میں چھ ماہ کے لیے باہر گیا تب چار ماہ ہم بات چیت کرلیتے تھے لیکن پھر اچانک رابطہ ختم ہوگیا ۔۔میں نے کوشش کی خالہ نے کہا کے اس نے بھی مختلف کورسز میں ایک ساتھ داخلہ لے لیا بہت مصروف ہوگئ ہے اس لیے بات نہیں ہوپارہی ۔۔میں تھوڑا مطئن ہوا کہ چند عرصے کی بعد ہے پھر میں پاکستان ہونگا لیکن جب آیا تو شجاع لالہ کا سانحہ ہوا ۔۔کچھ دن وہ مصروف رہے جب خالہ کے گھر آیا ۔۔کزن روڈ رہی تو میں نے چھوٹی کزن سے بات کی تو پھر اس نے بتایا تین ماہ پہلے حادثہ ہوا جس میں وہ ماں بننے کی صلاحیت سے محروم ہوگئ اور مجھ سے اس لیے رابطہ ختم کردیا ۔۔اب بتایے میں کیا کرو ۔۔۔اسے سمجھا سمجھا کہ تھک گیا مان ہی نہیں رہی ادھر گھر والے بھی سپورٹ نہیں کر رہے ۔۔۔آخر میں شہیر روہانسا ہوا ۔۔۔۔
یہ تو بڑی بات نہیں ۔۔حادثے شادی کے بعد بھی ہوجاتے ہیں ۔۔اپنوں کے زخموں پر مرہم اپنے ہی رکھتے ہیں ۔۔میں چچا جانی سے بات کرونگی ۔۔تم فکر نہ کرو ۔۔۔رہ گیا بچہ تو کسی یتیم خانے سے ایڈاپ کرلینا ۔ بچے کو ماں باپ اور تم کو اولاد مل جائے گی ۔۔۔۔تمہاری فیملی مکمل ہوجائے گی ۔۔۔کیا پتہ اللّہ پاک نے تمہارے نصیب میں کسی یتیم کی سر پرستی لکھی ہو ۔۔یتیم کی سرپرستی کرنا بے حد ثواب کا کام ہے ۔۔۔کچھ دیر لاروش نے اور سمجھایا ۔۔شادان دروازے ٹیک لگائے بہن کی سمجھداری دیکھ رہا ہے ۔۔۔بس اپنے ہی معاملے سمجھداری کسی کو ادھار دے دی ۔۔۔۔شادان کلسا ۔۔۔۔
شکریہ سسٹر تم سے بات کی سکون ملا اچھا دوست بھی بڑی نعمت ہوتا ہے ۔۔۔اپنا خیال رکھیے اور جلد ہی پپا سے بات کیجیے گا ۔۔اللّہ حافظ ۔۔۔۔
لاروش کے سمجھانے پر داور راضی ہوگئے ۔۔۔
______________________________
غزنوی نے فون پر لاروش سے بات کی ۔۔لاروش کا ڈرنا پھر رونا غزنوی کو تڑپا گیا ۔۔۔۔غزنوی نے آخرت کی سزا سے بچنے کے لیے دنیا ہی میں سزا قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔۔۔۔گھر والوں کی پریشانی کے سبب اس نے حشمت صاحب کو انکے گاوں سے بلوایا تاکہ وہ سمجھا سکیں ۔۔۔۔
کمرے میں بہروز اور ان کی فیملی ۔۔شہروز ان کی فیلی گل بدئ ان کی فیملی اور خاندان کے دیگر معززین کو بلایا گیا ۔۔اعتماد میں لیا گیا ۔۔۔۔غزنوی کا چہرہ ندامت سے جھکا رہا ۔۔۔۔ساری بات بتائ بس یہ نہیں بتایا لڑکی کون ہے ۔۔۔۔جب مرد اپنے زنا کا ہوش وحواس میں اقرار کر رہا ہے ۔۔ تو پھر یہ جاننے کی ضرورت محسوس نہ کی لڑکی کون ۔سارے یہی سمجھے کہ یونی کی یا شہر کی لڑکی ہوگی ۔۔چونکہ غزنوی اب نیک پنج وقتہ نمازی بن گیا اور آخرت کے خوف سے دنیاوی سزا قبول کر رہا ہے تو معززین نے حوصلہ افزائ کی ۔۔۔مگر شہزاد اور بہروز اپنے سیاست کو لیکر فکر مند تھے ۔۔۔۔اور مہربانو اور شمروز لاڈلے کے جسم پر پڑھنے والے زخموں کو لیکر غمزدہ ہورہے ہیں ۔۔جیسے پھول سے بھی نہ مارا وہ اب کوڑے سے مار کھائے ۔۔۔ماں کا کلیجہ تڑپ اٹھا ۔۔
حشمت کی آمد پر خواتین نے پردہ کرلیا ۔۔سلام دعا کے بعد حشمت نے ان کو زنا اور اس کی سزائیں سمجھائ ۔۔۔
( قسط نمبر 28میں تفصیل موجود ہے )
سب باتیں موجود لوگوں نے باغور سنی ۔۔مرد حضرات بھی سزا کا سن کر کانپ اٹھے۔۔۔۔
مہربانو نے سوال کیا ۔۔کوڑے سے مارنا ضروری ہے ۔۔۔۔وہ تو بار بار پڑھنے سے گوشت نکال دے گا ۔۔۔۔
حشمت مسکرائے ماں کا دل شاید قبول نہیں کرپارہے مزید اطمینان دلانے کی ضرورت ہے ۔۔۔
میں آپ کو قرآنی لفظ سے بتاتا ہوں ۔۔۔ضرب تازیانہ کی کیفیت کے متعلق پہلا اشارہ خود قرآن پاک کے الفاظ ۔۔فاجلو وا میں ملتا ہے ۔۔۔جس کے معنی جلد یعنی کھال ہے ۔۔۔اس سے تمام اہل لغت اور فقھہائے اور علمائے تفسیر یہی معنی لیے ہیں مار ایسی ہونی چاہیے جس کا اثر جلد تک رہے ، گوشت تک نہ پہنچھے ۔۔۔کھال پھٹ کر اندر تک زخم پڑ جائے یا گوشت کے ٹکڑے اڑ جائے۔. قرآن کے خلاف ہے ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *