Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32

آخر کب جواب دیں گے ۔۔۔امو جان بتایے نہ ۔۔گل جاناں جواب کے انتظار میں تھک کر بے چین بولی ۔۔
لڑکی کچھ صبر نام کی چیز ہے تمہارے اندر ۔۔۔ابھی پرسوں ہی تو رشتہ دیا ہے ۔۔سوچ ،سمجھ کر ۔۔لاروش سے پوچھیں گے۔پھر جواب دیں گے ۔۔
تو کتنے دن لگیں گے ۔۔اداسی لہجے میں در آئ ۔۔
ایک ہفتہ تو کم از کم ۔۔امو نے سوچ کر جواب دیا ۔۔
کیا ایک ہفتہ ۔۔۔گل جاناں چیخی ۔
آرام سے گل نہیں تو میں نے چپل سے خاطر کردینی ہے ۔۔۔
دنیا کی مائیں ہوتی ہیں جو بچوں کی خاطر دنیا بھر کی غذائیت بھری چیزوں سے کرتی ہیں ۔۔ایک آپ ہیں جو ہر وقت چپل کا سوچتی ہیں ۔۔گل جاناں نے منہ بسورا ۔۔
تو ان ماوں کی اولادیں بھی اپنے ماں کی فرمانبردار ہوتی ہیں ۔۔مہربانو نے بھی لٹ ماری
ہیں میں نے کب نافرمانی کی ۔۔۔گل جاناں کو شاک لگا ۔۔
کیوں میرے بھانجے کا رشتہ منع کیا پھر ابھی تک بلال کے لیے ہاں نہ کی ۔۔مہربانو کا لہجہ ملال لیے ہوا ۔۔
بس یہی نافرمانی ہے نہ اور تو کوئ نہیں ۔۔گل جاناں کو اطمینان ہوا ۔۔
مہر بانو چپ رہی لیکن آنکھیں گھورنے سے باز نہ رہی ۔۔
گل جاناں گڑ بڑائ ۔۔۔میرا مطلب ہے امو آپ کی بیٹی شہزادی ہے ۔ اور یہ اویس اور بلال تو شہزادے کے دربان بھی نہیں لگتے ۔۔آپ فکر نہ کریں آپ کی شہزادی کے لیے کوئ شہزادہ آئے گا ۔۔
توبہ توبہ اتنے پیارے بچے ہیں دربان کیوں ہونگے ۔۔۔مجھے لگتا ہے گل جاناں تم کو چپلوں کی خوراک کی ضرورت لگ رہی ہے ۔۔مہر بانو نے ڈانتے طنز کیا ۔۔
اوہ ہو امو ابھی لالہ کی عمر ہے شادی کی ان کی کریں لالہ نہ کہا ہے وہ میرے لیے اپنے جیسا خیال رکھنے والا بندہ لائیں گے ۔۔گل جاناں نے تسلی دی یہ نہیں پتہ تھا یہ تسلی نہیں ہے ۔۔۔
ہاں بیٹا دولہا پرچون کی دکان پر ملتا ہے اپنی پسند سے لے لو اپنی مرضی سے اس میں خوبیاں بھرو ۔۔۔۔مہر بانو کلسی ۔۔
امو آپ نے طنز کی ڈگری کون سے اسکول سے لی ۔۔گل نے آنکھیں پٹپٹاتے معصومیت سے پوچھا اور مہر بانو کو چپل اٹھاتے دیکھ فورا بھاگی اور اندر آتے غزنوی سے ٹکرائ ۔۔لالہ بچاو ۔۔کہتی پیچھے چھپی ۔۔
ہٹو غزنوی سامنے سے ۔۔اسے بتاتی ہوں کونسا اسکول تھا ۔۔۔
چھوڑیں امو بچی ہے ۔۔معاف کردیں ۔غزنوی نے امو کے ہاتھ میں چپل دیکھی تو سمجھ گیا ۔۔گل جاناں نے غزنوی کے پیچھے سے منہ باہر نکالا اور معصومیت سے بولی ۔۔
سنا آپ نے میں بچی ہوں اور بچیوں کی شادی نہیں کرتے ۔۔ان کے کھلینے کودنے کے دن ہوتے ہیں ۔۔تو میں جاوں کھیلنے ۔۔۔
مہر بانو ہنس دی ۔۔۔جاو ۔۔۔غزنوی تم نہ ہمیشہ غلط وقت پر آتے ہو کسی دن مجھے مارنے بھی دیا کرو ۔۔۔
سنا آپ نے لالہ ۔۔یہ میرے لیے کیسا سوچتی ہیں ۔۔افف جب آپ نہیں ہوتے تو میں خودڈرتی رہتی ہو کب امو کی چپل ایف سکسٹین بن کر مجھ پر گولے برسائے. ہول ہول کے دیکھیں میرا قد بھی رک گیا ورنہ اب تک میں نے آپ جتنا ہوجانا تھا ۔۔۔
۔۔ہاں بھئ ہم نے تو تمہارے سر پر اینٹیں رکھی ہیں تاکہ قد نہ بڑھے ۔۔۔۔آئندہ گولے نہیں برساونگی بلکہ پاک فوج سے درخواست کرونگی تمہارے لیے مجھے غوری میزائل دیں ۔۔۔مہر بانو جلتی بولی
امو ۔۔صدمے سے آواز نکلی ۔۔
غزنوی کھلکھلا کر ہنسا ۔۔۔۔اتنے دنوں بعد ہنسی دیکھی مہر بانو نے صدقے واری نظروں سے دیکھا ۔۔۔گل جاناں نے بھی نظروں سے بلائیں لیں ۔۔۔
غزنوی نے ہنسنا بند کیا ۔۔اور بڑے لاڈ سے آنے کا مقصد بیان کیا ۔۔
امو جانی کیا لاروش کے گھر سے جواب آیا ۔۔۔۔
کیا اتنی جلدی جواب آسکتا ہے ۔۔۔۔مہر بانو نے الٹا سوال کیا
نہیں لیکن آپ ان کو فون کے ذریعے یاد دہانی کراوتے رہیے ۔۔۔مانتا ہوں اتنی جلدی ہاں نہ ہوگی اور ہوسکتا ہے نہ ہی ہو ۔۔۔
اللّہ نہ کرے لالہ ۔۔ایسی بات نہ کریں اچھا سوچیں ۔۔۔گل جاناں نے تڑپ کر بولی ۔۔۔
بھئ بیٹی والے ہیں ہر ایرے غیرے کو تو نہیں تھاما دیں گے ان کا حق ہے اپنی بیٹی کے لیے اچھا ہی ڈھونڈے گے ۔۔غزنوی ماضی کی اذیت سے مسکرایا ۔۔۔
آپ بیسٹ لالہ ہیں وہ چراغ لیکر بھی ڈھونڈیں تو آپ جیسا نہیں ملے گا ۔۔اترائ ۔۔لہجے میں غزنوی کے لیے محبت مان غرور
اگلی رات فون آگیا جسمیں معذرت کرلی گئ ۔۔۔
شمروز آفریدی بے قرار ہوئے ۔۔جب سے رشتہ لے گئے ہیں اکلوتے بیٹے کی انتظار کی حالت سامنے ہے ۔۔اب انکار کا بتا ئیں کیسے ۔۔۔مدد کے لیے بہروز کو روم سے بلوایا اس سے بات کی ۔۔بہروز نے مشورہ دیا آج ہی بتا دو ۔۔غزنوی ویسے بھی تبلیغ کے سلسلے میں حشمت صاحب کے ساتھ جارہا ہے تو صبر آجائے گا ۔ وہاں اللّہ کی عبادت میں دل پر سکون ہو جائے گا ۔۔۔اور حشمت صاحب بھی سمجھالیں گے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاور نے فون کردیا. . شمروز نے کوئ سوال نہ پوچھا ۔۔۔بس خاموش ہوگئے ۔۔۔
بی بی جان لاروش بی بی کھانا نہیں کھا رہی صبح بس تھوڑا ناشتہ کیا تھا ۔۔بتایے کیا کروں میں ۔۔۔لیلی کمرے میں دستک دے کر آئ ۔۔۔
ایک تو یہ لڑکی ۔۔کچھ بھی ہو سب سے پہلے کھانا چھوڑتی ہے ۔۔گلزریں پریشانی سے بولی ۔۔۔
لاو یہ ٹرے مجھے دو ۔۔میں کھلا دونگا ۔۔ مورے آپ فکر نہ کریں ۔۔ان شاء اللّہ بہتر ہوجائے گی ۔۔۔شادان نے لیلی سے ٹرے لی۔۔مورے کو دلاسہ دے کر لاروش کے روم کی طرف بڑھا ۔۔
دستک دے کر اندر آیا ۔۔لاروش گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی ۔۔۔
لاروش چندا کھانا کھاو ۔۔
شادان کی آواز پر سر اٹھائے بنا چپکے سے آنسو پونچھے ۔۔ لیکن شادان نے دیکھ لیا تھا ۔۔۔
کیوں رو رہی ہو ۔۔۔
آپ کو نہیں پتہ کیا، میرے شجاع کے جاتے ہی سب نے آنکھیں بدل لی ۔۔میں بتاو نگی شجاع کو جا کر سب نے مجھے بڑا تنگ کیا ۔۔۔ شجاع نے کہا تھا اگر ماضی کی یاد میں کھوتی بتانے لگی
شجاع آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں ۔۔لاروش نے سیب کی قاش کھاتے پوچھا ۔۔۔
جان ِ شجاع محبت کا کوئ پیمانہ نہیں ہوتا ۔۔۔ورنہ میں پیمائش کرتا اور تم کو بتاتا ۔۔بس یہ یقین رکھو تم میری پہلی اور آخری محبت ہو ۔۔
تم کتنی کرتی ہوں ۔۔۔یہ بتاو ۔۔
پیارے شجاع جان لیجیے میری بھی آپ پہلی اور آخری اکلوتی محبت ہیں ۔۔
تو تم ہمارے بچوں سے محبت نہیں کروگی ۔۔۔شجاع مصنوعی حیرانگی سے بولا ۔۔
کیوں نہیں کرونگی ۔۔۔کرونگی بہت زیادہ ۔۔لاروش سچ میں حیران ہوئ ۔۔
تو پھر میں اکلوتی محبت تو نہ ہوا ۔۔تمہاری محبت کے حقدار زیادہ ہوگئے ۔۔شرارت سے کہا
ؐلاروش نے گھورا ۔۔آپ سے محبت اور ان سے محبت میں فرق ہوگا ۔۔۔
لیکن میں یار برابری سے محبت کرونگا۔۔۔شاید بچوں سے زیادہ کرو ۔۔۔۔شجاع کی بات پر لاروش نے منہ بنایا ۔۔۔
جی نہیں آپ مجھ سے زیادہ کریں گے ۔۔۔میرا یقین ہے آپ مجھ سے مجھ سے زیادہ محبت کریں گے ۔۔۔
جب پتہ ہے میری دیوانگی کا تو سوال کیوں کیا تھا ۔۔شجاع نے لاروش کا پر یقین انداز ملاحضہ کیا اور پوچھا ۔۔
بس ایسی ۔۔۔لاروش نے کندھے اچکائے ۔۔
میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ۔ میں اگر شہادت پا کر پہلے چلاگیا اور وہاں دل نہیں لگا تو میں تم کو بلالونگا۔۔۔کیا اپنا بےبی مورے خان سب کو چھوڑ کر آجاوگی میرے پاس ۔۔۔شجاع نے چھیڑا ۔۔۔
ہاں بالکل ۔آجاونگی ۔ آپ بلا کر دیکھنا اگر آپ نہیں بھی بلائیں گے تو میں خود آپ کے پیچھے آجاونگی ۔۔۔۔
اللّہ نہ کرے لاروش ۔۔۔ہمارے بچوں کی اچھی پرورش کرنی ہے کسی ایک بچے کو میری فیلڈ میں بھیجنا ہے ۔۔بہت خوش رہنا ہے یار ۔۔لاروش کے جواب پر شجاع نے بے ساختہ کہا ۔۔
آپ کے بنا میں نہیں رہ پاونگی شجاع ۔۔۔اور مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں کہ اپنی اولاد کو بھی فوج میں بھیجو ۔۔شوہر ہے یہی کافی ہے ۔۔مما حوصلہ مند خاتون ہیں جب ہی آپ فوج میں ہیں اور میں ایک بزدل لڑکی ہوں ۔ شجاع کی گھوری کو نظر انداز کرتی بولی میں آپ کے بنا نہیں رہ پاونگی بزدل ہوں اور میرا بزدل رہنا ہی اچھا ہے ۔
عکس دھندلہ ہوا ۔۔میں آپ کے بنا نہیں رہ سکتی شجاع ۔۔سسکتے ہاتھوں میں منہ چھپایا ۔۔۔
لاروش کی باتیں سن کر شادان نے گہری سانس لی ۔۔
پلیز نہ رو ۔۔مان تو لی تمہاری بات غزنوی کو منع کردیا ہے ۔۔۔اب سکون سے کھانا کھاو اپنا خیال رکھو ورنہ ۔۔وجاہت یا شہیر کا اوپشن ابھی باقی ہے ۔۔۔نصیحت کے ساتھ لاروش کو دھمکانا بھی ضروری تھا ۔۔۔
ہاں لالہ کیوں نہیں۔۔میں اپنا ڈھیر سارا خیال رکھونگی ۔۔لایے دیجیے مجھے کب سے بھوک لگ رہی تھی مگر یہ لیلی کی بچی ہے نہ لے کر ہی نہیں آئ ۔۔۔
شادان لاروش کے تیزی سے اور لیلی پر الزام دھرنے پر مسکرایا ۔.
میں کھلاتا ہوں ۔۔۔شادان نوالے بنا کر کھلانے لگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
غزنوی کے ساتھ گل جاناں بھی آئ ۔۔آو بیٹا بیٹھو ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔بہروز نے غزنوی کو پاس بیٹھایا
جی چچا جان میں بتادوں ابھی میں ضمنی الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا ۔۔۔
ہاں الیکشن کی بات نہیں ہے ۔۔۔زاور آفریدی کا فون آیا تھا ۔۔
کیا کہا انہوں نے ۔۔گل جاناں بیچ میں بولی ۔۔
بہروز نے گھورا ۔۔۔۔
مہر بانو نے سرزنش کی ۔۔گل جب بڑے بات کررہے ہوں تو چھوٹوں کا بیچ میں بات کرنا یا ٹوکنا بد تہزیبی کی علامت ہے ۔۔
سوری چچا جانی ۔۔بتایے بتایے ۔۔۔مطلب لالہ سے بات کریں میں چپ ہوں ۔۔لیکن اگلی بات سن کر چپ نہ رہ سکی ۔۔
زاور نے لاروش کا رشتہ دینے سے انکار کردیا ۔۔ناچار بہروز کو یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا ، تمہید کے بغیر سیدھی بات کی ۔۔
غزنوی کا چہرہ فق ہوا ۔۔دل سکڑا ۔۔بے ساختہ لبوں نے اللّہ پکارا ۔۔اللّہ سے حوصلہ مانگا ۔۔۔
کیوں منع کردیا ۔۔میرے اتنے اچھے لالہ کے لیے ۔۔۔گل جاناں روہانسی ہوئ ۔۔
منع کردیا تو کردیا کیوں کا کیا سوال ۔۔۔۔۔بہروز اچھنبے سے بولے
نہیں پتہ کریں کیا ریزن دیا ۔۔۔گل جاناں بضد ہوئ ۔۔بالاخر شمروز نے فون کیا جہاں سے جو وجہ ملی گل جاناں کے ساتھ سب کو ہی چپ لگ گئ ۔۔۔
انکار کرنا آپ کا حق تھا آپ کا فیصلہ قبول ہے لیکن میں یہ جاننا چاہتا ہوں انکار کی وجہ کیا ہے ۔۔۔
زاور آفریدی کو پھر مجبورا بتانا پڑا ۔۔۔اور لاروش کا مدعا سامنے رکھ دیا ۔۔۔
ماضی ۔۔۔۔اسپیکر کے زریعے حرف با حرف سب سن رہے تھے چونکے
لیکن مجھے تو غزنوی نے کہا تھا آپ نے معاف کردیا ۔۔شمروز حیران ہوئے۔۔
میں نے معاف کیا تھا لاروش نے نہیں ۔۔۔۔زاور بولے
غزنوی نے جھکا سر اٹھایا ۔۔۔۔اور باپ کی طرف اشارہ کیا ۔۔میں بات کرو ۔۔۔
شمروز نے گردن ہلا کر منع کیا ۔۔اور خود بات جاری کی ۔۔
آپ کہیں تو غزنوی لاروش سے معافی مانگ لیتا ہے ۔۔۔
اس کی ضرورت نہیں ۔۔لاروش شادی کے لیے مان گئ مگر مشروط شرط پر ۔۔۔زاور رکے ۔۔
بے چینی سے غزنوی نے پہلو بدلا ۔۔جب کہ گل جاناں شرط سننے شمروز کے کندھے پر لٹک ہی گئ ۔۔۔مہر بانو کا دل دھڑکنیں لگا ۔۔نہ جانے کیسی شرط ۔۔البتہ بہروز اور شمروز الجھے ۔
کیا شرط ہے ۔۔۔شمروز نے زاور کو کہا ۔۔
زنا کی سزا ۔۔۔غزنوی اپنا جرم کی سزا پائے اس کے بعد ہی لاروش شادی کرے گی ۔۔اور یہ شرط سخت ہے میں جانتا ہوں ناممکن بات ہے ۔۔اس لیے رشتے کے لیے منع کیا ۔۔۔
شرط سن کر سانپ سونگھ گیا جیسا ماحول ہوا ۔۔
زاور نے سامنے سے کوئ بھی آواز نہ پا کر فون رکھ دیا ۔۔۔
حال
مورے میں ٹھیک ہوں ۔۔۔مت رویے ۔۔آپ کارونا مجھے تکلیف دے رہا ۔۔بہت دیر سے روتی گل زریں کو شادان نے چپ ہونے کو کہا ۔۔۔
کیا ضرورت تھی بتانے کی ۔۔دو تین دن چھپا لیتے ۔۔شادان چپ ہوتے نہ دیکھ وجاہت پر جنھجھلایا ۔۔۔
ان لوگوں کے ہاتھ نہیں ٹوٹے ۔۔۔کتنے سنگدل لوگ تھے ۔۔ماں کے کلیجے پر وار کرتے اپنی ماں کا خیال نہیں آیا ۔چھپایا تو ہے کل سے بے چین ہوں ۔۔دل ہول رہا تھا ۔۔بس جھوٹ بول کا سب ٹھیک کا لارا دیتے رہے ۔۔مورے شادان کو جھنجلاتے پاکر روتے سے چپ ہوئ تو شکوہ کرنے لگی ۔۔
ارے تائ جی لالہ فٹ ہیں ایک گولی نے لالہ کاکچھ نہیں بگاڑا ۔۔شہیر داور نے تسلی دی ۔۔اور وجاہت سے ایک تھپڑ کھایا ۔۔
تیرا مطلب ہے شادان کو زیادہ گولی لگنی تھیں ۔۔۔تو یار کتنی ۔۔
برو یہ جو آپ نے ہتھوڑے جیسا تھپڑ مارا ہے نہ میں نہیں بھولوں گا ۔۔۔اور سوال جتنی گولیا ں تو کم از کم دو تو لگنی تھیں ۔۔گل زریں فق چہرے سے یہ بے پر باتیں سنتی ہولتی رہیں ۔۔۔
توبہ توبہ تم دونوں بھائ ہو یا دشمن ۔۔اللّہ نہ کرے میرے بچے کو کچھ ہو ۔۔۔۔۔گل زریں رونا دھونا بھول کر غصہ ہوئیں ۔۔۔
شادان ممتا کی محبت پر مسکرایا ۔۔۔
ویسے ہی یار زندگی ڈل گزر رہی تھی اگر زندگی میں ہنگامہ لانا تھا تو شادی ہی کرلیتا ۔۔۔وجاہت نے مشورہ دیا ۔۔
ہاں سوچ لیا اس مہینے کرلونگا۔۔شادان نے نے تینوں کو چونکایا نہیں سو ڈائریکٹ جھٹکا دیا ۔۔۔۔
ماں صدقے کون ہے وہ کہاں ہے وہ کدھر رہتی جلدی بتاو میں اپنے چاند کی دلہن لاونگی ۔۔۔ورافتہ بولی ۔۔
کیا لالے کوئ ڈاکٹرنی پسند آگئ یا کسی نرس پر دل پھڑک گیا ابھی پرسوں تو بولے تھے ۔۔دو سال تک میرا شادی کا ارادہ نہیں ۔۔ شہیر ۔۔جھٹکے سے سنبھل کر بولا ۔۔
یوشع کو مجھے دو ۔۔وجاہت کی گود میں سوتے یوشع کو مانگا ۔
وش نہیں آئ ۔۔۔ساتھ ہی سوال پوچھا ۔۔
نہیں وش کو بتایا نہیں آج اس کے مدرسے میں میلاد ہے تو مما اور یسری بھی ساتھ گئ ہیں ۔میں نے صرف تائ جان کو بتایا تھا اور لے آیا ۔۔
ہاں اچھا کیا کل تک چھٹی ہوجائے گی ۔ صرف ٹانگ پر ہی گولی ہے ۔۔شادان نے یوشع کو پیار کرتے لاپرواہی سے کہا ۔۔۔
بتاو نہ کون ہے لڑکی ۔۔مورے نے بے چینی سے سوال کیا ۔۔
مورے گھر چل کر بتادونگا ۔۔
یار لالہ مجھے بتادیں سچی میں گھر تک انتظار نہیں کرسکتا ۔۔۔شہیر نے ڈرامہ کیا ۔۔
جب وہ کہہ رہا ہے بتادے گا دماغ نہ چاٹو ۔۔ وجاہت نے گھرکا ۔۔
_________________ ۔
گل جاناں کی شام رات نیند میں گزری ۔۔صبح آنکھ کھلتے ہی غزنوی پر نظر پڑی ۔۔۔۔
لالہ مجھ سے بدلہ لیا ۔۔۔روتے غزنوی کو بتایا ۔
گڑ کی ڈلی پریشان نہ ہو ۔۔۔میں نے پوچھا تھا ۔۔اس نے منع کیا ہے ۔۔۔
اس نے منع کیا اور آپ مان گئے ۔۔۔گل جاناں تڑخی
اس بدمعاش نے خود کہا تھا میرے ان کانوں نے باخوبی سنا ۔۔۔اور میری دوستوں نے بھی ۔۔۔۔دوستیں۔۔۔
کہاں ہیں میری دوستیں ۔۔وہ بھی میرے ساتھ تھیں ۔۔۔گل جاناں نے گواہی کے لیے جیسے ہی دوستوں کا ذکر کیا تو نشاء اور بسمہ کی یاد آگئ ۔۔بے تابی سے پوچھا ۔۔
اللّہ کے کرم سے وہ بھی ٹھیک ہیں ۔۔۔یہی ہوسپٹل میں ہیں ۔۔ڈاکٹر راونڈ پر آجائے پھر گھر چلتے ہیں ۔۔۔
______________________
یسری نے چائے لا کر لاونج میں سب کو دی ۔۔۔
اس ناگہانی کے بعد سے سارے شہر کراچی آگئے ۔۔صرف وجاہت پشاور میں تھا ۔۔اور حویلی ملازموں سے تو بھری رہی اپنے مکینوں سے خالی ہوگئ ۔ یہ طے پایا سال میں رمضان اور عید گاوں میں کریں گے تاکہ ناطہ برقرار رہے ۔۔۔
وش کہاں ہے ۔۔شہیر نے یسری سے کپ لیتے پوچھا ۔۔
باہر لان میں ہے ۔۔سلائیڈ لگوائ ہے یوشع کے ساتھ اسی کے مزے لے رہی ہے ۔۔ یسری نے بیگم اکبر کو چائے کا کپ تھماتے جواب دیا ۔۔۔
ماشاء اللّہ دو سال کا ہوگیا یوشع میں سوچ رہا ہوں اسکولنگ اسٹارٹ کردیں ۔۔وجاہت نے شادان کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔
نہیں بھئ ۔۔چار سال سے پہلے اسکول نہیں بھیجونگی ۔۔۔گل زریں بولی ۔۔
چائے پیتے شہیر کو اچھو لگا ۔۔۔
آرام سے یار ۔۔۔۔قریب بیٹھے زاور نے پیٹھ سہلائ ۔۔۔
چار سال کی عمر میں کروائیں گی شہیر نے کھانسی رکنے پر حیرت دکھائ ۔۔
تم تو چار سال ایسے بول رہے ہو جیسے میں نے چالیس سال کہہ دیا ۔۔۔اتنی کم عمری میں بچوں کو اسکول بھیج کر ان کا بچپن خراب نہیں کرونگی آجکل بستے دیکھیں ہیں ۔الا بلا نہ جانے کیا پڑھا رہے ہیں ۔۔بستے اتنے بھاری اور بچے تہذیب سے خالی ، یہ حساب چل رہاہے ۔۔گل زریں طنزیہ بولیں ۔
چار سال کی عمر ہوگی جب تک ہم کچھ سیکھائیں گے پھر وہ اسکول سے بھی سیکھ لے گا ۔۔ڈائریکٹ اسکول بھیجا بچہ بس اسکول کتابوں کا ہوگیا ۔۔اسکول کا کام ہوم ورک پھر اسکول کاکام ۔۔یہی زندگانی ہوجاتی ہے ۔۔اخلاقی تربیت چھپ جاتی ہے ۔اماں ابا بھی اسکول اور ہوم ورک کی ہی بانسری بجاتے رہتے ہیں ۔۔اگر دعوت دو تو جواب آئے گا ۔۔ کل بچے کا اسکول میں میتھ کا ٹیسٹ ہیں آ نہیں سکیں گے سوری ۔۔۔لو ٹیسٹ بچوں کا ہیں پریشان اماں ابا ہیں ۔۔ایسا بھی پڑھائ کو ہوا کیا بنانا ۔۔تعلیم ضروری ہے ۔۔لیکن ساتھ میں اخلاقی اور اسلامی تربیت بھی ضروری ہے صرف میتھ انگلش نہ پڑھاو ۔۔خاص کر چھوٹے بچوں پر اتنا بوجھ نہ ڈالو ۔۔۔۔ان کو چند سال دینی اسلامی اصلاحی تربیت دو ۔۔اور ۔۔۔۔بیگم تم چار سال میں ہی اسکول بھیجنا ۔۔اگلا الیکشن لڑنا جیت کر وزیر تعلیم بن جانا ۔۔زاور نے مزاق کیا
شہیرکے سوال پر گل زریں جو شروع ہوئیں تو چپ نہ ہوئ مجبورا زاور کو مداخلت کرنی پڑی
شادان یار اب بتا بھی بھابھی کا نام ۔۔شہیر نے بے تکلفی سے کہا
برخودار ابھی ابھی تہذیب کا رونا رویا گیا ہے تم پھر شروع ہوگئے ۔داور نے شگفتگی سے کہا ۔۔۔
میں نے کیا شہیر حیران ہوا ۔۔۔
ابھی کہا شادان یار ۔۔جبکہ یہ تمہارا بڑا لالہ ہے ۔۔۔داور نے مسکراتے کہا ۔۔
اوہ ہو بابا یار آپ بھی نہ ۔۔سب چھوڑیں مبارک ہو شادان لالہ نے لڑکی پسند کرلی ۔۔۔۔
واہ بھائ واہ اتنی اچھی خبر بغیر مٹھائ کے ۔۔داور خوش ہوئے ۔۔
جی اس لیے ابھی صرف لڑکی پسند کی ہے رشتہ پکا نہیں کیا. . شہیر نے ہی جواب دیا
ارے وہ بھی ہوجائے گا ہمارے بچے میں کوئ کمی نہیں ۔۔بیگم اکبر نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
جاو یسری مٹھائ لاو سمجھو بات پکی ۔۔۔گل زریں نے جلدی مچائ ۔۔
رکیں خانی ۔۔مورے اور آپ سب پہلے لڑکی کے بارے میں سب سن لیں پھر مٹھائ لانا ۔۔۔۔۔۔گل جاناں شمروز اورنگ زئ ۔۔دھیرے سے نام بتادیا ۔۔۔لیکن آواز اتنی تھی باخوبی سنی۔۔۔
لاونج میں بیٹھے افراد کی مسکراہٹ اڑی ۔۔۔
کہاں ملی تمہیں وہ ۔ زاور نے سنجیدگی سے ہوچھا
میری یونی اسٹوڈنٹ ہے تین دن پہلے ۔۔۔شادان نے سنسر کے ساتھ غزنوی سے ملاقات تک کے پوری کہانی سنائ ۔۔
ہمممم ٹھیک ہے اگر بچے نے کہا ہے آو تو پھر ہم ضرور جائیں گے نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے ۔۔۔
کیا وہ ہمیں اپنی بچی کا ہاتھ دیں گے ۔۔۔۔گل زریں ڈری ۔۔
ہاں کیوں جو کچھ ماضی میں ہوا اس کی معافی تلافی ماضی میں ہی ہوگئ ۔۔میری ایک دو بار اس کے بعد شمروز اور بہروز سے ملاقات نارمل ہوئ ۔۔۔اس لیے مجھے امید ہے وہ مان جائیں گے ۔۔۔۔اکبر پرامید ہوئے ۔۔۔
__________________
گل جاناں دونوں سہیلیوں کے ساتھ شہزاد مینشن میں تھی ۔۔بسمہ نے بدلے والی بات پوچھی تو گل جاناں نے سب بتادیا ۔۔دونوں کو غزنوی سے ہمدردی اور شادان پر غصہ آیا ۔۔نشاء نے تو عزم کرلیا تھااحتجا جاً سر کے پیریڈ میں وہ شاندار نبمروں سے فیل ہوگی ۔۔بڑی مشکلوں سے سمجھایا اس میں سر کا نہیں خود کا نقصان ہے ۔
نشاء کو تو مینشن بڑا ہی پسند آیا ۔۔۔ورشہ کی آمد پر بولی ۔۔۔یار تو اپنے لالہ چھوڑ یہی کسی دیور سے ہی میری شادی کروادے ۔۔۔
او بی بی میرا کوئ دیور نہیں ۔۔دو جیٹھ ہیں ۔۔اور اللّہ کا شکر شادی شدہ ہیں ۔۔ایک خانی لندن میں ہے تو دوسری فی الحال میکے میں ہے ۔۔اور تجھ سے کس نے کہا میں اپنے لالہ سے تیری شادی کراونگی ۔۔۔ورشہ نے نشاء کی فرمائش پر تنک کر تفصیلی جواب دیا ۔۔۔۔
مجھے گل جاناں نے کہا ہے اور اب کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔میں نے اپنے پپا کو بھی بتا دیا ۔۔
کیا ؟ ایک ساتھ تینوں کی چیخ نکلی ۔۔۔
اس میں گلا پھاڑنے والی کیا بات تھی ہاں ۔۔کل کو میں تیرے لالہ کے ساتھ لنچ پر جاتی کوئ دیکھ لیتا شکایت کرتا اس سے پہلے میں نے خود بتادیا ۔۔۔۔نشاء کے انداز میں خود اعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری نظر آئ ۔۔
چچا جانی نے کیا کہا یہ بتائیں گی آپ ۔۔بسمہ نے خونخوار نظروں سے گھورا ۔۔۔گل جاناں اور ورشہ کو رشک آیا ۔۔۔
کچھ نہیں بولے بس یہی کہامجھ پر یہ احسان کون کر رہا ہے ۔۔۔لیکن مجھے ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئ ۔۔نشاء الجھی ۔۔
جبکہ تینوں کے منہ سے فلک شگاف قہقہ نکلے۔۔۔۔باہر روم کے باہر کھڑے غزنوی نے بات تو نہیں سنی مگر گڑ کی ڈلی کی ہنسی نے پرسکون کیا ۔۔دروازے پر دستک دی ۔۔آپ سب خیریت سے ہیں ۔۔اجازت ملنے پر غزنوی اندر آیا ، شائستہ لہجہ میں پوچھا ۔ اس چھوٹی سی بات پر کئ بار نظرکں زمین کے رخ پر رکھی ۔۔
جی اللّہ کا شکر بھائ لالہ ۔۔نشاء نے احترام سے جواب. دیا ۔۔
غزنوی مسکرایا ۔۔بھائ اور لالہ کا مطلب ایک ہی ہے. . . ۔
ہاں پتہ تو ہے مگر مجھے خالی لالہ کہنا عجیب لگا ۔ نشاء کی بے تکی منطق ۔۔
جاری ہے`

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *