Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13
گل۔ جاناں کو ہوش آیا ۔۔۔رونے لگی ۔۔۔
امو میرا خواب سچ ہوا لالہ نے چڑیا کو مار دیا ۔۔۔۔
نہیں بیٹی وہ زندہ ہے ۔۔۔۔امو نے تسلی دی ۔۔۔۔
آپ کہہ رہی ہیں وہ زندہ ہے نہیں وہ مر گئیں ۔۔۔جس لڑکی کی حیا اس سے چھین لی جائے وہ زندہ کیسے ہوسکتی ہے ۔۔۔امو ۔۔آپ کو پتہ نہیں کیا موسی چچا مالی کی بیٹی کی عزت جب چلی گئ تو لوگوں کے طعنوں سے تنگ ہوکر اس نے خود کشی کر لی ۔۔چچا غم میں پاگل ہوگئے ۔۔۔ گل روتے روتے سسکیا ں لینی لگی ۔۔۔حویلی میں رہنے والی ننھی کلیاں وقت سے پہلے سمجھدار ہوجاتی ہیں ۔۔حیا عزت کا مطلب جلد پتہ چل جاتا ہے وجہ ملکیت حکمیت کانشہ ان کے مردوں پر اس طرح سر چڑھتا ہے حلال حرام کی تفریق ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔لیکن اورنگ زئ حویلی میں ابھی کچھ انسانیت زندہ ہے ۔۔۔
میں بھائ کو بلاتی ہوں ۔۔۔وہ تمہاری بے ہوشی سے فکر مند تھا ۔۔۔امو نے گل کی سسکیاں رکنے کے بعد کہا ۔۔۔۔
نہیں مجھے نہیں ملنا ۔۔۔مجھے ان سے نہیں ملنا ۔۔۔آپ کہہ دیجیےگل کو نہہں ملنا ۔۔۔ہٹ دھرمی سے بولی ۔۔۔۔
امو میں یہاں سو جاو ۔۔۔۔گل نے ملنے سے انکار کردیا ۔۔۔
امو نے مناسب لفظوں میں غزنوی کو ابھی ملنے سے منع کیا اور سو جانے کی تلقین کی۔ ۔۔۔
غزنوی کو افسوس ہوا اس کی گڑ کی ڈلی کو کیوں پتہ چلا ۔۔۔۔آپ اس کو کیسے منائے ۔۔۔کیسے اس کا سامنا کریگا ۔۔۔۔
________________________________
صبح ناشتے کے بعد غزنوی نے پھر ملنا چاہا لیکن گل سو رہی تھی
امو جان میں دوپہر میں واپس جارہا ہوں ۔۔۔گل اٹھے تو بتایے گا ۔۔۔۔امو نے حامی بھری ۔۔۔۔۔
گل اٹھ جاو بیٹا ۔۔۔پھر رات میں نیند نہیں آئ گی چندہ ۔۔۔امو نے بالو ں میں ہاتھ پھیرتے محبت سے جگایا ۔۔
صبح بخیر امو ۔۔۔گل آہستگی سے بول کر اٹھ گئ ۔۔۔صرف چند گھنٹوں میں لہجے کی شوخی کھو گئ ۔۔۔
تم ناشتہ کرلو ۔۔۔پھر لالہ سے مل لینا وہ جا رہا ہے یہ کہہ کر مہر بانو ناشتہ لینے چلی گئ ۔۔۔
لالہ کے نام پر باتھ روم میں جاتی گل کے قدم ٹھٹکے ۔۔۔پھر سر جھٹک کر آگے بڑھی ۔۔۔۔
ناشتہ کے بعد غزنوی خود سے چلا آیا ۔۔۔
میری گڑ کی ڈلی کیا کررہی ہے شرمندگی کو پس پشت رکھ کر بشاشت سے بولا ۔۔۔۔
گل غزنوی کی آواز سے دور ہوئ ۔۔۔اپنی چادر ٹھیک کی ۔ سہمی نظروں سے دیکھا ۔۔۔چہرے پر غم غصہ ۔۔اور ڈر بکھرا گیا ۔۔جایے جا یے ۔۔۔رونے لگی ۔۔۔۔
گل کے ڈر سے امو اور غزنوی دونوں بد حواس ہوئے ۔۔۔
گل کی حالت دیکھ کر امو نے غزنوی کو باہر جانے کااشارہ کیا ۔۔۔غزنوی گل کو دیکھتا الٹے قدموں گیا مگر باہر دروازے کی آڑ میں روکا ۔۔۔
میری بیٹی کیوں رو رہی ہے ہو ۔۔۔۔امو نے دلاسہ دیا ۔۔۔
امو لالہ نے اس لڑکی کی عزت پر حملہ کیا ، اس کا ریپ کیا ، لالہ نے کہا تھا انھوں نےشراب پی لی تھی اس لیے یہ گناہ سرزد ہوا کیا پتہ ابھی بھی پی لی ہو اور میرا ساتھ بھی وہی کریں ۔ ۔۔۔۔میں بھی تو لڑکی ہوں ۔۔میرا ریپ کردیں گے ۔گل رونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
باہر کھڑا غزنوی تو بہن کے ڈر سے سناٹے میں آگیا ۔۔۔کیا وہ اس قدر گھٹیا ہے کہ اپنی نازوں پلی بہن کاہی ۔۔۔۔پسینے میں نہا گیا ۔۔۔مزید سننے کی تاب نہیں ہوئ ڈر اورگھبرا کر دوڑتے ہوئے اپنے کمرے میں گیا گھبراہٹ سے کئ مرتبہ لڑکھڑایا ۔۔ذہن میں گل کی بات گونجتی رہی میرا ریپ کردیں گے۔ ۔۔۔بدحواسی سے روم میں داخل ہوا زمین پر دو زانوں بیٹھا ۔۔۔۔نہیں نہیں میں اتنا کمینہ نہیں ہوں ۔۔۔دل بند محسوس ہونے لگا ۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو ۔۔۔مہر بانو لرزی
ام الخبائث پینے کے بعد تو تمیز ختم ہوجاتی یے منس کہہ رہی ہیں
شراب انسان کی عقل کو کھا جاتی ہے ۔۔کون اپنا کون پرایا ۔سوچ سمجھ سب سلب ہوجاتی ہے ۔۔مدہوشی اس قدر ہوتی ہیں نظروں کے آگے نافرمانی کا جالا آجاتا ہے ۔۔۔اور جالا میں کوئ بھی پرندہ آسانی سے پھنس جاتا ہے ۔۔۔۔
۔۔۔اللّہ نے قرآن میں ارشاد کیا ۔۔۔
اے ایمان والوں ۔۔۔بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پھانسے سب گندی باتیں ، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو ۔۔۔سورة المائدہ آیت ٩٠
اللّہ کے رسول صلی اللّہ علیہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس طرح کے افراد پر لعنت کی بددعا کی ۔۔۔1 شراب نچوڑنے والا 2شراب بنانے والا 3پینے والا 4پلانے والے5 لاکر دینے والا 6جسکے لیے لایا جائے7 شراب بیچنے والا 8خریدنے والا9 شراب کو ھبہ کرنے والا10 شراب کی آمدنی کھانے والا ۔۔۔۔اتنی سخت وعید ہے ۔۔۔۔کرب سے بولتی چند پل رکی ۔۔۔پھر بولی
کیا لالہ نے پڑھا نہیں ۔۔۔۔ڈبل ماسٹرز کررہے ہیں کیا فائدہ دین کو پڑھ لیتے ۔۔۔کیوں امو دینی تعلیم کیوں نہیں دی ۔۔۔دینی تعلیم حاصل کرنے سے لالہ کو پتہ ہوتا عبادت ۔۔۔رواداری خدمت خلق اور عورتوں کا احترام کتنا ضروری ہے ۔۔۔ ہم اپنے بچوں کو بڑے فخر سے دنیاوی تعلیم دیتے ہیں لیکن اخلاقیات کیا ہوتی ہے یہ نہیں سیکھاتے ۔۔۔یہ نہیں بتاتے لڑکیوں کی عزت کرنا ضروری ہے ۔۔یہ نہیں سیکھاتے دوسروں کی بہنیں بھی بہنوں جیسی ہوتی ہیں انکی عزت کرنا چاہیے ۔۔بھرے بازار میں رسوا نہیں کرتے۔۔۔یہ نہیں سیکھاتے اگر غلطی ہوجائے تو معافی مانگتے ہیں اکڑتے نہیں ۔۔۔۔کیوں امو لالہ کو اتنا پیار دیا کہ وہ گھمنڈی ہوگئے اور اپنے تکبر میں حوا کی بیٹی کو پامال کر بیٹھے ۔۔۔شراب کتنی بڑی لعنت ہے
میرا لالہ وہ ہے جس پر لعنت ہوئ ۔۔۔بلکے وہ تو زانی بھی ہوگیا ۔۔زانی جس کی سزا دونوں جگہ سخت ہے ۔۔۔۔گل کرلائ ۔۔۔امو یہ لالہ نے کیا کیا ۔۔۔۔تڑپ تڑپ کر رو ئ ۔۔۔۔۔۔۔
مہر بانو بھی لب بھینچے آنسو بہاتی خاموشی سے سن رہی ہیں ۔بیٹی کی حساس طبعیت کا پتہ تھا مگر اتنی حسا س ہوگی اندازہ نہ تھا ۔۔۔جاناں کو چپ کراتی ۔۔۔خیال آیا غزنوی جانے والا ہے ایک کوشش اور کرلیں سمجھانے کی کل سے شمروز اورنگ زئ سے بھی سامنا نہ ہوا ۔۔۔
غزنوی میرے بچے کیا ہوا ۔۔۔۔بوکھلا کر غزنوی کی طرف بڑھی جو سامنے نظریں ٹکائیں آنسو بہانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
ماں کی آواز پر متوحش سا ہو کر دیکھنے لگا ۔۔۔۔
امو میں بے غیرت نہیں ۔۔۔میں گھٹیا نہیں گل میری بہن ہے میں مر کر بھی یہ نہیں سوچ سکتا ۔۔۔امو میں برا نہیں ۔۔۔۔روتے ہوئے آہستہ آہستہ غزنوی کے اعصاب جواب دینے لگے اور پھر حواس مختل ہوگئے ۔۔۔
میرا بچہ ۔۔۔۔امو گھبرائ ۔۔۔۔پہلے جاناں اب غزنوی کے ہوش سے بیگانہ وجود نے مہر بانو کو حواس باختہ کیا ۔۔۔۔
مہر بانو نے نوکروں کی مدد سے بیڈ پر لیٹایا روتے ملازم کے ذریعے شمروز کو بلایا ۔۔۔۔۔شمروز غزنوی کی حرکت پر اس سے نالاں تھے مگر جب اکلوتے لاڈلے بیٹے کی حالت سنی تو حویلی آئے ساتھ ہی ڈاکٹر کو بھی لائے ۔۔۔۔
اسٹریس کی وجہ سے بے ہوش ہیں تھوڑی دیر میں ہوش آجائے گا ۔۔ میں کچھ دوائیاں لکھ دیتا ہوں منگوا لیں ۔۔۔ٹینشن فری رکھیں ۔۔۔ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں نصیحت کر کے چلا گیا ۔۔
سارے حویلی میں حیران ٹینشن دینے والے کو کیا ٹینشن ۔۔۔۔بہروز نے سب خواتین کو ان کے روم میں جانے کا کہا وہ نہیں چاہتے تھے غزنوی کا راز کسی کو پتہ چلے ۔۔۔۔آخر مستقبل میں انکی سیٹ غزنوی نے سنبھالنی ہے انکی خود کی اولاد میں سیاست کے جراثیم ہی نہیں ہے ۔۔۔۔بہروز خود بھی آرام کی غرض سے چلے گئے
ایسا کیا ہوا جو یہ بے ہوش ہوگیا ۔۔۔فکرمندی اور غصہ کا اظہار کیا ۔۔۔
اپنی اور گل کی باتیں بتائیں جو غزنوی نے سن لی ۔۔۔۔سر جھکائے برہم مزاجی خدا کو بتایا ۔۔۔۔
میرے اللّہ کل سے کیسے برا وقت گزر رہا ہے میرے مالک خیر کر ۔۔۔بے ساختہ شمروز نے رب کو یاد کیا ۔۔۔۔
گل کی طبعیت خراب تھی آپ نے مجھے بتانا ضروری نہ سمجھا یہ دونوں ہی میرے جگر گوشے ہیں ۔۔۔شمروز نے خفگی سے شکوہ کیا ۔۔۔
مجھے لگا میں گل کو سنبھال لونگی سمجھاو گی جس طرح میری ماں میرے بھائیوں کے کرتوت چھپا کر ہمیں سنبھالتی تھیں ۔۔۔لیکن میری گل اتنی حساس ہوگی مجھے اندازہ نہ تھا ۔۔۔مہربانو ۔ سسکنے لگی کل سے وہ بھی چکی کی طرح پیس رہی ہیں تھک گئ ۔۔۔
دونوں بہن بھائ کو ایک دوسرے سےکتنی محبت ہے ہم جانتے ہیں ۔۔گل غزنوی کو مجھ سے بھی زیادہ محبت کرتی ہے مجھے کبھی کبھی ایسا لگتا تھا ۔۔۔اور یہ غلط بھی نہیں ہے ۔۔۔غزنوی کی حرکت نے اسے دکھ دیا ۔۔۔اچھے لالہ کا مان ٹوٹا ۔۔۔مان ٹوٹنے سے تکلیف ہوتی ہے جو گل برداشت نہ کرسکی ۔۔۔۔جو زہریلی سوچیں ذہن میں آئ وہ بھی غلط نہیں ۔۔۔۔میری بہن کے ساتھ کیا ہوا تھا یاد تو ہوگا ۔۔۔۔امجد نے نشے میں زہرہ کو سیڑھیوں سے دھکا دے دیا تھا بچاری نے اپنا آنے والا بچہ تو کھو یا ہی آئندہ بھی ماں بننے کی نعمت سے محروم ہوگئ اور اس غم میں چل بسی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے جب ہی پابندی لگا دی تھی کہ حویلی کا کوئ بھی مرد نشہ کی حالت میں گھر نہ آئے ڈیرے پر ہی رہے ۔۔۔ ۔ میں منع کرتا پینے سے تو تب بھی چھپ کر پیتے میں نے مصالحت اختیار کی ۔۔۔کاش کوئ فیصلہ تب لیا ہوتا ۔۔۔۔۔لیکن مجھ سے غزنوی نے نشے کا ذکر نہیں کیا ۔۔۔۔میں مانتا ہوں ہمارا بچہ ضدی ہے ۔۔۔مگر اتنا برا نہیں ۔لڑکیوں سے دوستی ایک حد میں رکھی ۔۔۔۔۔پہلے کبھی شراب نوشی کانہ سنا ۔۔۔نہ جانے اس بار ایسی بھیانک غلطی کیو ں کی ۔۔غزنوی کی طرف اشارہ کیا
۔ایسے اپنی بہن کی بےاعتبار ی اور شک نے تکلیف دی تمہارے بیٹے کی حالت بتا رہی ہے اس میں کچھ انسانیت زندہ ہے کوشش کرو اسے سمجھاو جس بچی کی زندگی برباد کی ہے اسے آباد کرکے ازالہ کردے ۔۔۔۔۔شمروز نے بیوی کو کہا ۔۔۔۔
جی مہر بانو نے آہستہ سے کہہ کر پھر غزنوی پر نظریں جمالی ۔۔۔
اگر جاناں بولے گی تو غزنوی لازماً اس لڑکی سے شادی کرلے گا ، مگر جاناں تو خود سہمی ہوئ ہے ۔۔شاید آگے جا کر جاناں سنبھل جائے ۔۔۔تو میرے کہنے سے پہلے خود ہی بات کر لے گی ۔۔۔۔مہر بانو نے خود کو اطمینان دلانے کی کوشش کی ۔۔۔۔
اب میں آفریدی سے کیسے نظریں ملاوں گا لگتا ہے جرگے کی ذمہ داری چھوڑنی پڑے گی ۔۔۔میں اپنے بیٹے سےکسی کو انصاف نہ دلا سکا کیا فائدہ میری سربراہی کا ۔۔۔شمروز سوچوں میں غرق ہوئے ۔۔۔چہرے پر تفکر کا سایہ پھیل گیا ۔۔۔
گل کو بھی غزنوی کی بے ہوشی کا علم ہوا ۔۔۔دوڑتی ہوئ آئ دروازے سے جھانکا ۔۔۔دور سے ہی دیکھا ۔۔۔۔پھر مغموم والدین پر نگاہ ڈالی ۔۔۔۔۔
وہیں رروازے کی سائیڈ میں ٹیک لگا کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔
میں جانتی ہوں لالہ تم نے سب سنا ۔۔۔میں نے جان بوجھ کر سب کہا ۔۔ ۔ آپ دنیا کے لیے درندے ہوسکتے ہو مگر میرے لیے چھتنار درخت ہو ۔ ۔۔۔اپنے سائے میں رکھ کر دھوپ کی تمازت سے بچانے والے ۔۔۔۔۔لیکن میں چاہتی ہو آپ دوسروں کے لیے بھی درخت بنے ۔۔۔جو خزاں میں پت جھڑ کے باوجود بھی لوگوں کو اپنی سوکھی شاخوں سے سایہ دینے کے لیے کھڑا رہتا ہے ۔۔۔میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔آپ پر جان بھی وار دوں تو کم ہے ۔۔۔پر مجھ میں مکافات عمل جھیلنے کی سکت نہیں ہے ۔۔۔۔میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ آپ کا کیا آپ کی بیٹی کے آگے آئے ۔۔۔آپ نے گناہ کیا ہے تو آپ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سوچتے بھی ڈر لگتا ہے میں تو سزا لفظ میں ہی ڈر رہی ہوں ۔۔۔جب ملے گی تو کیا ہوگا ۔۔۔اللّہ آپ کو ہدایت دے ۔۔۔گناہ معاف کردے ۔۔آپ دل سے توبہ کریں گے تو سزا نہیں ملے گی ۔۔صدق دل سے توبہ ہوتی ہے لالہ میں دعا کرتی ہوں اللّہ سچی توبہ نصیب کرے ۔۔۔۔اللّہ میرے لالہ کو معاف کردے ۔۔۔ان کو سزا نہ دینا ۔۔۔۔پلیز مہربان رب احسان کردے ۔۔۔۔معاف کردے معاف کردے اللّہ تو معافی کو پسند کرنے والا ہے تجھے تیری اسی صفت کا واسطہ معاف کردے ۔۔ اصلاح کردے سزا نہ دیجیے آمین ۔۔۔بے آواز روتی دعا گو ہوئ ۔۔دل کی گہرائیوں سے ایک ایک لفظ نکل رہا تھا ۔۔۔۔جو عرش پر اپنی جگہ بنا رہا ہے ۔۔۔مگر نہ جانے کب دعا کے ثمرات ملے ۔۔۔گل نے بیٹھے بیٹھے پھر روم میں جھانکا ۔۔۔
غزنوی کی آنکھ کھلی ۔۔۔دماغ میں چھناکا سا ہوا ۔گل کی بات پھر یاد آئ ۔۔۔امو امو زور سے چلانے لگا ۔۔۔ماں کو بے ساختگی سے پکارا
۔۔۔تیزی سے بیٹھا ۔۔۔۔۔
امو اور بابا غزنوی کے چیخنے پر اس کے قریب آئے ۔۔۔۔
بابا بابا میں بے غیرت نہیں ۔۔۔میں برا نہیں ۔۔۔۔۔روہنسا بولا
ہاں میرا بچہ اچھا ہے ۔۔۔شمروز نے دلاسہ دیا ۔۔
بابا گل کو بلائیں میری گڑ کی ڈلی ہے ۔۔۔ شمروز کو غزنوی کی کیفیت چھوٹے بچے جیسی لگی ۔۔۔۔دھڑکا لگا ۔۔۔
__________
شجاع کے اقرار نے زاور آفریدی اور گل زریں کو فکر کے طوفان سے باہر نکالا ۔۔۔شادان بھی اطمینان سے اپنا سفر مکمل کرنے چلا گیا ۔۔۔۔
رہ گئ لاروش تو اس کو تو عمر بھر کا غم ہے مندمل ہونے میں وقت لگے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزنوی میرے بچے گل کچھ نہیں کہہ رہی ہے ۔۔۔بیٹا وہ مذاق کررہی تھی ۔۔۔۔۔مہر بانو نے بہلایا
کوئ مذاق نہیں کر رہی ہوں میں ۔۔۔مجھے ان سے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔
گل اندر آکر بولی ۔۔۔
کیا اتنی سنجیدہ بات مذاق ہوسکتی ہے مجھے شرم آرہی ہے آپ کو اپنا لالہ کہتے ہوئے ۔۔۔لالہ ایسے ہوتے ہیں کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے ۔۔۔گل نے سفاکی سے کہا ۔۔۔
غزنوی یک ٹک دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔بیٹی جیسی چھوٹی بہن کے منہ سے اپنی سچائ سن کر دل کیا زمین پٹھے اور اس میں سما جائے
امو میں گھر کی سب لڑکیوں کو کہوں گی چھپ جائیں ۔۔۔لالہ ہیں گھر میں اور ان پر بھروسہ کرنا آستین میں سانپ پالنا ہے ۔۔۔۔گل نے سفاکی کی حد پار کی ۔۔۔
گل ۔۔۔۔ایک تھپڑ لگایا ۔۔۔مہر بانو نے ۔۔۔۔
امو ۔۔حیرانگی سے بولی ۔۔۔۔واہ امو واہ ، گل نے تالیاں بجائ
امو اس کو تو اس کی حرکت پر مارا نہیں اور مجھے سچ کہنے پر مار دیا ۔۔۔لالہ کو بگاڑنے میں آپ سب کا ہاتھ ہے ۔۔۔گل جاناں نفرت سے بولتی روتی کمرے سے نکل گئ ۔۔۔نفرت میں تمیز بھی ختم ہوگئ ۔۔۔لالہ سے اس ہوگیا ۔۔۔
غزنوی ایک بار پھر بہن کی صاف گوئ پر ساکت رہ گیا ۔۔۔کیا وہ ایسا برا ہے اپنی کزنز کو بری نظر سے دیکھے ۔۔۔
غزنوی گل کے پیچھے تیزی سے بھاگا ۔۔۔لیکن گل نے کمرے میں جاتے ہی دروازے کو لوک کردیا تھا ۔۔۔۔
گل پلیز دروازہ کھولو ۔۔۔۔غزنوی دروازہ زور زور سے پیٹنے لگا ۔۔۔
گل نے اپنے کانوں کو سختی سے دونوں ہاتھ رکھ کر بند کیا ۔۔۔آنسو رخسار کو بگھورہے ہیں ۔۔۔دل لالہ کی بات سننے پر آمادہ ہے مگر دماغ نہیں نہیں کی تکرار میں ہے ۔۔۔۔
میں سمجھاونگا ۔۔۔گل کو تم کمرے میں چلو شمروز نے غزنوی کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی روم لے گئے ۔
۔۔پلوشہ نے صورتحال دیکھی ۔۔اگنور کیا ۔۔۔ہوگئ ہونگی نوابزادی ناراض ۔۔۔منا ہی لے گا غزنوی اصل بات سے انجان ۔۔۔۔انجان رہنا ہی بہتر ہے ۔۔۔
میں ٹھیک ہوں بابا آپ لوگ آرام کریں ، میری خطا نے مجھے بھی تکلیف دی اگر علم ہوتا میری گڑ کی ڈلی مجھ سے ڈر جائے گی باخدا کبھی لاروش کو بے عزت نہ کرتا ، غزنوی نڈھال سا بے بس بولا ۔۔۔
دونوں نے ابھی کچھ بھی بولنا مناسب نہ سمجھ ۔۔۔جیسے ہی سہی غزنوی کو احساس تو ہوا ۔۔۔۔دونوں آرام کی تلقین کرتے کمرے سے چلے گئے ۔۔
غزنوی نے آنکھیں بند کی ۔۔۔لیکن سکون ندارد ۔ ذہن کے پردے میں میں آج پانچ دن بعد لاروش کی پرچھائیں آئ ۔۔۔سسکتی فریاد کرتی معافی مانگتی ۔۔۔۔۔۔
پلیز غزنوی چھوڑ دو ۔۔۔میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں چھوڑ دو ۔۔۔
لیکن وہ تو جب بہرہ ہوگیا تھا آج سماعتیں کیوں جاگ گئ ۔۔۔شاید جب احساس نہ تھا ۔۔۔۔۔ آج خود تکلیف میں ہیں ہےگھبرا کر آنکھیں کھولی ۔۔۔
میں نے غلط کیاشاید ۔۔۔۔ذہن میں خیال آیا
تباہ کردی زندگی اور شاید، دل نے دہائ دی ۔۔۔
ذہن کو خیالات سے جھٹکا۔۔۔دوبارہ سونے کی کوشش کی ۔۔
۔کانوں میں پھر صدا گونجی لالہ میرا ریپ کردیں گے ۔۔۔جھٹ سے آنکھیں کھولی ۔۔۔
ایک بار پھر پسینہ نکلا غزنوی کو گھٹن محسوس ہوئ ۔۔۔پانی کا گلاس منہ کو لگایا آدھا پانی منہ میں آدھا باہر گرتا رہا ۔۔۔عجیب کیفیت ۔۔۔۔مجھے ایک بار گل کو سمجھانا چاہیے ۔۔۔۔یہ سوچ کر کمرے سے نکلا ۔۔۔بہروز ڈیرے سے آکر اپنے روم میں جا رہے تھے ۔۔۔
چاچا پلیز ذرا گل سے روم کھلوایے ۔۔۔مجھ سے ناراض ہے ۔۔۔۔
یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے بےترتیب لباس تھا بکھرے بال سُتا چہرہ ۔۔۔
طبعیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔غزنوی نے سپاٹ بولا ۔۔۔
بہروز کی دستک پر گل نے پوچھا کون ۔۔۔بہروز کے جواب پر بولی ۔۔۔ابھی آئ ۔۔۔مگر دروازے پر آواز لگا کر بہروز سائیٹ ہوئے فون پر بات کرنے لگے غزنوی سامنے کھڑا ہوا ۔۔۔
گل نے دروازہ کھولا ۔۔۔آپ لالہ ۔۔۔آپ نے چاچا جانی کی جھوٹی آواز نکالی ۔۔۔
نہیں چاچا یہ ہیں ۔۔۔غزنوی جلدی بولا کہیں گل کوئ غلط گمان نہ کرلے ۔۔۔۔
مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ۔۔۔گل نے غزنوی کے اشارے کو اندیکھا کیا ۔۔۔کیا کرے لالہ کو انکی بدترین گناہ کا احساس اور اس کی معافی کے لیے کیسے راغب کرے ۔۔۔گل تمہارے ڈر نے لالہ کو ہلادیا ہے تم۔مزید یہی کرو ۔۔۔۔۔۔ذہن کو دوڑایا پھر اپنی ایکٹینگ شروع کی ۔۔۔چیخ ماری ۔۔۔۔امو امو ۔۔۔۔
بہروز کے ہاتھ سے موبائل گرا ۔۔۔غزنوی الگ بوکھلایا ۔۔۔غزنوی کے لیے دودھ کا گلاس لاتی مہر بانو گلاس پھینکتی جلدی سے گل کے روم آئی۔۔۔۔جہاں غزنوی گل گل کررہا تھا ۔۔۔اور بہروز بھی حیرانگی سے گل کا چیخنا دیکھ رہے تھے ۔۔۔
گل گل کیوں چیخ رہی ہو ۔۔۔۔غزنوی نے چپ کرانے کی ناکام کوشش کی ۔۔
کیا ہوا امو لالہ جھوٹ بول کر آئیں ہیں ۔ ۔۔امو نے غصیلی نظروں سے دیکھا کہ منع کیا تھا ابھی بات نہ کرو میں خود کرلو نگی مگر باز نہ آیا ۔۔۔۔۔اور غزنوی جو بوکھلایا، ڈرا ہوا تھا ماں کی نظروں کا مفہوم غلط سمجھ بیٹھا ۔۔۔
امو میں نے جھوٹ نہیں بولا ۔۔۔غزنوی نے صفائ دی ۔۔۔اس غزنوی اور کل کے غزنوی میں فرق تھا کل کا غزنوی ڈرتا نہیں تھا ۔۔۔وضاحت نہیں دیتا تھا اور آج کا غزنوی ڈر کر صفائ پیش کررہا ہے
چپ گل چپ کراتے جس بے یقینی سے اسے دیکھا ۔۔۔غزنوی کا دل بے ساختہ مرجانے کاہوا ۔۔۔بہن تو بہن ماں بھی بے اعتبار ہوئیں ۔۔۔
الٹے قدموں باہر بھاگا ۔۔۔
کیا جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔میں نےآواز دی تھی ۔۔۔بہروز کوفت سے بولے ۔۔۔گل جاناں کو غصے سے گھورا ۔۔۔
معافی چاچا مجھے لگا کہ ۔۔۔۔گل نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔۔۔
بہروز غصے سے گھورتے روم سے چلے گئے۔۔۔۔
امو جان میں ۔۔۔۔
مہربانو بات کو مکمل نہ کرنے دیا ۔۔۔۔
سوجاو گل بہت رات ہوگئ ۔۔۔۔میں غزنوی کو دیکھو ۔۔۔مہر بانو کی
تھکن سے چور آنکھیں ۔۔سرخ ہورہی تہیں ۔۔۔غزنوی کے روم میں گئیں وہ نہ تھا ۔۔دل نے خطرے کا سائرن بجایا ۔۔۔۔بھاگ کر حویلی کی ہر ممکن جگہ جہاں غزنوی کے امکان ہوسکتے تھے دیکھا ۔۔۔مگر نہیں ملا ۔۔۔اپنے روم آئیں جہاں شمروز تھوڑی دیر قبل ہی زوئے تھے ۔۔۔
شمروز اٹھیے غزنوی نہیں مل رہا ۔۔۔
سو جاو مہر وہ کوئ چھوٹا بچہ ہے جو گم گیا ۔۔۔یہہں کہیں ہوگا نیند میں بولتے کروٹ بدلی ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ہے میں نے دیکھا آپ بس اٹھیں باہر دیکھ کر آئیں ۔۔۔۔ضدی لہجے میں شمروز کے بازو کو ہلایا ۔۔۔۔مگر وہ ٹس سے مس نہ ہو ئے
سن لیں بات ۔۔۔۔مہر بانو روہانسی ہوئیں
مسئلہ کیا تم عورتوں کے ساتھ ایک بات کے پیچھے لگ جاتی ہو ۔۔۔شمروز آفریدی بیزاریت سے بڑ بڑاتے اٹھے ۔۔۔۔مہر بانو نے چادر ٹھیک کی اور ساتھ چلنے لگی ۔۔۔
تم کہاں جارہی ہو ۔۔۔شمروز نے گھورا ۔۔۔
آپ کے ساتھ چل رہی ہوں ۔۔۔لے چلیے ۔۔نہیں تو کمرے میں ہولتی رہونگی ۔۔۔مہربانو التجانہ کہا
ہمم سر ہلا کر رضامندی دی ۔۔۔باہر نکل کر حویلی کے چوکیدار اور گارڈز کو بلا کر غزنوی کا دریافت کیا ۔۔۔
خان جی چھوٹے صاحب ابھی گاڑی لیکر باہر نکلیں ہیں ۔۔چھوٹے خانا نے کہا تھا رات میں جو بھی حویلی سے جائے گارڈز لیکر جائے لیکن چھوٹے صاحب نے سنانہیں اور مجھے انکی طبعیت خراب لگی تو میں نے بندے پیچھے بیھجے ہیں ۔۔۔ہیڈ مکرم نے ادب سے جواب دیا ۔۔۔
ہوں پوچھو فون کر کے کہاں تک ہیں ۔۔۔شمروز نے ہدایت دی ۔۔مہر بانو کو گارڈ کا سن کر تھوڑا سا بھی قرار نہ آیا ۔۔۔دل ہولنا شروع ہوگیا ۔۔۔۔
کیا اچھا ۔۔۔گارڈ کی یکطرفہ بات سمجھ نہیں آئ دھک دھک دل سے سنتے رہے ۔۔۔
جی وہ گارڈز کی گاڑی پنکچر ہوگئ ۔۔۔تھی لیکن وہ شہر جانے والی سڑک پر ہی گئے ہیں ۔پنکچر ٹھیک ہوتے ہی پھر پیچھیں جائیں ۔۔مکرم نے مودب ہو کر بتایا ۔۔۔
آفریدی نے گردن ہلائ ۔ ۔ مہربانو کی طرف سوالیہ نگاہ کی ۔۔۔آنکھوں میں سوال تھا اندر چلیں یہاں رکیں ۔۔۔
مہر بانو نے جواب دینے کے بجائے عمل کیا ۔۔۔
پورچ کے گرد بنی منڈیر پر بیٹھ گئ ۔۔۔
غزنوی صدمے کی حالت میں گھر سے نکلا ۔۔۔ذہن میں لاروش اور گل جاناں کی آوازیں گڈ مڈ ہورہی تہیں ۔۔۔
ذہن جھٹکنا مشکل تھا ۔۔۔خطرناک پر پیچ راستوں پر گاڑی دھیان سے چلانا ضروری ہوتا ہے ۔۔۔خیالوں کی کشمکش ۔۔۔لاروش کا آہ بکا کرتا روپ۔۔۔گل جان کی سہما چہرہ ماں کی بے اعتبار نظریں ۔۔۔پتہ ہی نہ چلا روڈ یک طرفہ ہوگیا دھیان کا دھاگہ الجھا تو سلجھا ہی نہیں ۔۔۔اور ٹوٹ گیا سوچ کا دھاگہ ۔۔۔۔
ٹائر چرچرا کر رکے ۔۔۔اور کچھ دیر بعد اورنگ زئ کی حویلی پر ماتم چھانے کا موسم چھا گیا ۔۔۔۔
جاری ہے
