Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15

کیا شجاع اب بھی لاروش کو اپنائے گا ۔۔یا نہیں ۔۔۔اس فکر نے رات بھر زاور کو بے چین رکھا صبح اٹھتے ہی آفریدی نے شجاع کو بتایا ۔۔چند لمحے خاموش رہنے کے بعد شجاع نے آفریدی کو زندگی دے ڈالی ۔۔
خانا اب دیر کرنا مناسب نہیں ایسی جمعے کو نکاح اور رخصتی کردیجیے ۔۔میں بالکل نہیں چاہتا لاروش کو کسی بھی قسم کی تکلیف دہ صورتحال سے گزرنا پڑے ۔۔۔میرے بارڈر پر ہونے کی وجہ سے مجھے امید ہےمیری مورے بھی راضی ہونگی ۔۔یہ راز راز ہی رہے گا ۔۔پلیز
شجاع کی تدبیر سے زاور آفریدی مطمئن ہوگئے ۔ان کے چہرہ پر خوشی کا عنصر واضح ہوا ۔۔۔اور آفریدی کے خوش چہرے کو دیکھ کر گل زریں کا اپنا چہرہ بھی خوشی سے دمک گیا ۔۔۔۔ٹھیک پرسوں پھر سب تیاری ہوجائے گی ۔۔تم بارات لے آنا ۔۔۔
آفریدی کی زبانی بارات کا سن کر گل زریں اللّہ کا شکر ادا کر نے کھڑی ہوئیں ۔۔اب شکر میں دیر نہیں کرنی تھی ۔۔۔اللّہ نے وسیلہ بنا دیا شکرانہ تو لازم تھا ۔۔جائے نماز بچھائے خشوع خضوع سے اللّہ کی بارگاہ میں سجدے شروع کیے ۔۔۔
زاور آفریدی اب اطمینان سے ملکی حالات پر شجاع سے باتوں میں مصروف ہوگئے ۔۔۔شجاع کے بعد یہ خوشی شادان اور داور سے بھی بانٹی ۔۔۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد فون کر کے اکبر نے باقاعدہ تاریخ طے کی ۔۔۔
لاروش مورے کے سمجھانے پر گناہ سے باز رہ گئ ۔۔ثنا چند دن لاروش کی دل جوئ کے لیے روک گئ ۔
_______________________________۔
جمعرات کی رات ہی داور فیملی کے ساتھ آگئے ۔۔حویلی کے صحن میں ڈھولکی رکھ دی گئ ۔۔لیلی اور ثنا کی خوشی دیدنی تھی ثنا کا بس نہیں چلتا وہ بھنگڑے اور گانےکے سارے جوہر آج ہی ختم کردے ۔۔۔شجاع تو اسے پہلے ہی پسند تھا اب تو فین ہوگئ ۔۔۔۔
اکبر وجاہت اور شجاع نے صبح صادق آنا ہے ۔۔۔کچھ دیر آرام کے بعد نماز جمعہ نکاح اور رخصتی طے ہوئی ۔۔اور رات میں ہی ولیمے کی تقریب گاوں میں کرکے صبح واپس روانہ ہونے کا پروگرام طے ہوا ۔۔۔شجاع کو صرف چار دن کی چھٹی ملی تھی ۔۔۔اکبر کی بیگم بیڈ ریسٹ پر تھیں سفر منع تھا اور ایمرجنسی شادی کے سبب بیٹی بھی دبئ سے نہ آسکی ۔۔۔۔
جمعہ کا مبارک دن آگیا ۔۔۔یہ مبارک دن آفریدی خاندان اور لاروش کے لیے واقعی مبارک ہے ۔۔۔سانحے کے بعد اب رونق لگی حویلی میں ۔۔۔چہروں کی روشنی جگمگ کررہی ہے ۔۔ مصنوعی برقموں کی ضرورت ہی نہ تھی ۔۔چہرے کی روشنی ہی ماحول کو خوبصورت بنانے کی اہل تھی ۔آج دل سے زاور آفریدی کے قہقہ نکل رہیں تو گل زریں مہمانوں کو جوڑے گفٹ کرتے مسکراتے نہیں تھک رہی ۔۔۔
ایسے میں شادان کی آمد نے خوشی میں چار چاند لگا دیے ۔۔۔
یہ تمہارا جوڑا آیا ہے ۔۔۔سسرال سے جلدی نہا کر پہن لو ۔۔میں پھر میک اپ کرتی ہوں ۔۔۔۔بھاری مردانہ آواز پر لاروش مسکرائ ۔۔۔
اگر کچھ گانے باقی رہ گئے ہوں تو میری بہن وہ بھی گا لو ورنہ کسک رہ جائے گی تمہیں ۔۔۔۔لاروش نے ثنا کو چھیڑا ۔۔۔۔
ثنا نے جیولری سیٹ کرتے ہاتھ روکے ۔۔۔آنکھوں میں کچھ پل حیرت اتری ۔۔اتنے دنوں میں آج لاروش کا موڈ بہتر لگا ۔۔۔شاید شجاع سے شادی کی وجہ سےہے ۔۔۔
ہاں نہ گاونگی تیری رخصتی پر پھر ولیمہ پر تو خوش ہے نہ لاروش ۔۔۔۔ثنا فکر مند ہوئ ۔۔۔
میں مطمئن ہوں ۔۔میں اپنے مورے اور بابا کے خوشی سے دمکتے چہرے دیکھ کر ۔۔۔اللّہ نے ان کے فرض کی ادائیگی میں مدد دی ۔۔۔میں ان کی خوشی میں خوش ہوں ۔۔۔ورنہ مجھ جیسی لڑکی سے کون شادی کرتا ۔۔۔۔ لاروش استھزا مسکرائ ۔۔۔
ایسے نہ بول یار تو بہت اچھی ہے جب ہی تو تجھے شجاع لالہ جیسے بندے سے تیری شادی ہورہی ہے ۔۔۔۔شجاع لالہ تجھے بہت خوش رکھیں گے ۔۔۔۔
او میرے خدا یہ کیا ہوگیامیری شادی شجاع سے ۔۔۔شجاع سے شادی کا سن کر لاروش دنگ رہ گئ ۔۔۔اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا وہ تو سمجھی تھی بابا نے کسی کو لالچ دیا ہوگا تو بندہ مجبورا اس سے شادی کرےگا
۔۔میں شجاع سے شادی نہیں کرونگی ۔۔۔۔لاروش نے شجاع کی تعریف میں رطب للسان ثنا کو روکا ۔۔۔
ثنا کا انکار سن کر حیرت سے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔اندر آتی لیلی وہیں روکی یہ بات سن کر واپس الٹے قدم مورے کے پاس گئ جو برابر کمرے میں شجاع سے مل رہی تھیں ۔۔۔۔
بیٹا میں ساری زندگی تمہاری احسان مند رہونگی ۔۔۔گل زریں احسان مندی سے بولی ۔۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔یہاں بیٹھیں ۔۔۔شجاع نے ہاتھ پکڑ کر مورے کو بیڈ پر بیٹھایا۔۔اور خود ان کے قدموں میں دوزانو بیٹھا ۔۔گل کے دونوں ہاتھ تھام کر مسکرا کر محبت سے بولا ۔۔۔
آپ لاروش کی وجہ سے ہی نہیں خانا کی وجہ سے بھی میری مورے ہیں ۔۔۔آپ کا احسان مند تو میں رہونگا ۔۔۔اتنی پیاری بیٹی آپ مجھے سونپ رہی ہیں ۔۔۔یقین کریں میں ایک گڑیا کی طرح اس کا خیال رکھونگا ۔۔۔بلند بانگ دعوے نہیں کرونگا مورے ۔۔فوجی ہوں زبان کا پکا ہوں ۔۔۔جتنی میری زندگی نے وفا کی میں لاروش کو بہتر خوشگوار زندگی دینے کی کوشش کرونگا ۔۔۔آپ اطمینان رکھیں ۔۔۔
اللّہ تم کو بہت خوشیاں دیں ۔۔۔مورے کی آنکھیں خوشی سے بہنے لگی ۔۔۔
آپ خواتین کے پاس اتناآنسووں کا ذخیرہ کہاں سے آتا ہے ۔۔۔ہم ناحق روتے ہیں ۔۔۔پانی کم ہے ۔۔. چند خواتین کو نہر کنارے بیٹھا دیں تو آنسو سے ہی نہر بھر دیں گی ۔۔۔شجاع شرارت سے بولا ۔۔۔
گل زریں کھل کھلا کر ہنسی ۔۔۔۔۔۔۔لیکن لیلی نے اس ہنسی کو بریک لگائے ۔۔۔
بی بی لاروش بی بی شادی کرنے سے منع کرتا ہے ۔۔۔۔لیلی نے بدحواسی کہا ۔۔۔
ہائے میرے اللّہ ۔۔۔گل نے دل پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
البتہ شجاع نے کوئ ردِعمل نہ کیا صرف چونکا ۔۔۔پھر گل زریں سے بولا آپ تسلی رکھیں میں خود بات کرتا ہوں ۔۔۔۔
گل نے اجازت میں سر ہلایا ۔۔آواز تو فکر سے بند ہوگئ ۔۔۔۔اجازت ملنے پر شجاع لاروش کے کمرے کے جانب گیا دروازہ کھولتے ہی لاروش کی آواز پر روکا۔۔۔۔
کیا پاگل ہوگئ ہو ۔۔۔یہاں لوگ شجاع جیسا بندہ پانے کے لیے منتیں لیتے ہیں آہیں بھرتے ہیں ۔۔تجھے مل رہا ہے تو نخرے کررہی کہیں کی مہارانی ہے تو ۔۔۔ ثنا کچھ دیر تک لاروش کے انکار پر چپ رہے گئ پھر غصہ آیا ۔۔تو لاروش کو سنا دیا ۔۔۔
وہی تو میں کہیں کی مہا رانی ہوں کیا ۔۔ارے میری جیسی لڑکی شجاع کے قابل نہیں ہے ۔۔لاروش تلخی سے مسکرائ ۔۔
شکر ہے تم نے خود قبو لا کے شجاع کے لائق کوئ مہارانی ہو جو اسے ڈیزرو کرتی ہو۔۔میرے جیسی نہیں جو پہلے پامال ہو چکی ہو اور کسی کا گنا ہ اب پال رہی ہو ۔۔۔ لاروش کی بات میں انداز میں
زہر ہی زہر تھا ۔۔۔۔خود ترسی بھی تھی ۔۔۔
میرا مطلب یہ تھا ۔۔بلکے میں سمجھی کہ تجھے شجاع کو لیکر کوئ اعتراض ہے ۔۔پلیز معاف کردے جلد تیار ہو ۔۔فضول باتیں نہیں کر ۔۔۔۔
میں شجاع سے شادی نہیں کرونگی ۔۔لاروش کی آواز بھرائ ۔۔۔اندر آتے شجاع کے قدم رکے ۔۔۔
لاروش تو اچھی ہے پیاری ہے ۔۔۔تیری جوڑی شجاع کے ساتھ اچھی لگے گی ۔۔۔ثنا بھی منت کرتے رو دی ۔۔۔
نہیں لگے گی ۔ لاروش نے بے دردی سے آنسو صاف کیے ۔۔۔مگر ان آنسو نے نہ رکنے کی قسم کھائ تھی ۔بولتے وقت سانس بھی پھول رہی تھیں ۔۔
تو ایسا کر مورے کوبلا میں بات کرتی ہوں ۔۔تم شجاع سے شادی کرلو ۔۔۔ میں شادی سے منع تھوڑی کررہی ہوں ۔۔۔مجھ جیسی کے لیےکوئ گاوں میں معزور شخص ہوگا اس سے شادی کردیں یا پھر کسی کی بیوی مر گئ ہوگی اسکےبچوں کو سنبھالنے کا مسئلہ ہوگاتو اس سے کردیں میں سوتیلی ماں بن جاتی ہوں ۔۔اگر ایسا بھی نہیں ہوگا تو گاوں میں یا آس پاس کوئ ونی کی جارہی ہو تو مجھے ونی میں دے دیں ۔۔۔میں اس میں بھی خوش ہوں یا پھر کوئ ایسا مریض جسے ڈاکٹر نے کہہ دیا تم جلد مرنے والے ہو یا کینسر کا کوئ مریض اس میری شادی کردیں ۔۔جاو نہ ثنا مورے کو بلاو۔۔۔
ثنا کا منہ حیرت سے پھر کھولا ۔۔۔ تو کھولا ہی رہ گیا لاروش کی باتیں سن کر رونا بھول یک ٹک سنتی رہی اسے لگا لاروش چپ نہ ہوئ تو اس نے ضرور بے ہوش ہوجانا ہے ۔۔وہ مورے کو کیسے بلاتی اسکی سٹّی تو لاروش نے گم کردی ۔۔۔۔
شجاع تاسف سے سر ہلاتا اندر آیا ۔۔پہلے لاروش کو گھورا جومنہ ہاتھوں میں چھپائے رونے میں مصروف ہوگئ ۔۔۔پھر ثنا کو دیکھا جو حیرت کا مجسمہ بنے لاروش کو گھورنے میں مصروف تھی ۔۔سچو یشن ہنسنے والی نہ تھی۔۔۔مگر شجاع کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ ۔۔۔وہ لاروش کا مسئلہ سمجھ گیا ۔۔۔اس لیے اطمینان سے اندر کمرے میں آیا تھا ۔۔۔
ثنا آپ کو مورے بلا رہی ہیں ۔۔۔
ثنا جو لاروش کے سبب ہونق تھی شجاع کی آواز پر ڈر کر ہلکی چیخ ماری ۔۔۔لاروش نے بھی ہاتھ چہرے سے ہٹایا ۔۔۔
اچھا ہوا آپ آگئے ۔۔۔ورنہ اس نے خود تو پاگل بننا تھا ساتھ مجھے بھی کردینا تھا ۔۔۔ثنا نے سکون کا گہرا سانس لیا ۔۔۔ بول کر باہر بھاگی ۔۔
ہاں تو آپ کو بہت شوق ہورہا نیک پری ہونے کا جو ونی ہو کر قربانی دینا چاہتی ہیں ۔۔۔مدر ٹریسا بن کر کسی معزور کی یا مریض کی خدمت کرنا چاہتی ہیں ۔۔۔یا سوتیلی ماں کی تاریخ میں ایک اچھی سوتیلی ماں کا رول کر کے تاریخ بدلنا چاہتی ہیں ۔۔۔چہرہ سنجیدہ مگر الفاظ میں شگفتہ طنز تھا ۔۔۔
میں نہیں آپ نام کرنا چاہتے ہونگے جو مجھ جیسی گری پڑی سے شادی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بے خوفی سے تڑخ کر جواب دیا ۔۔۔
شٹ اپ ۔۔۔کیا مجھ جیسی کی رٹ لگائ ہوئ ۔۔۔شجاع بہت کول مائنڈ تھا مگر دوسری مرتبہ لاروش کے مجھ جیسی کہنے پر غصہ آگیا ۔۔۔۔۔تم لولی لنگڑی معزور ہو کیا جو میں تم سے شادی کر کے نام کما لونگا ۔۔۔
آپ بھول گئے تو میں یاد دلا دیتی ہوں میں وہ ہوں جس کو ایک مرد نے اپنی انا کی تسکین کا نشانہ بنا کر چھوڑ دیا ۔۔۔لاروش چبا چبا کر ایک ایک لفظ بولی ۔۔۔دونوں آمنے سامنے نظریں ملائے کھڑے ہیں ۔۔۔
اور میں وہ مرد ہوں جو عزتوں کی حفاظت کے لیے اپنی انا اور جان قربان کردے ۔۔۔۔۔۔۔
شجاع کی بات پر دل میں احترام اور بڑھ گیا ۔۔۔میں آپ سے شادی ہر گز نہیں کرونگی ۔۔
کہہ کر بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔
میں ہرگز تم سے ہی شادی کرونگا ۔۔چاہے زبردستی کرنی پڑے ۔۔ویسے بھی تمہارے ولی راضی ہیں ۔۔شجاع نے دوبدو جواب دیا ۔۔۔اور برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔
لاروش نے زبردستی کہنے پر شجاع کو گھورا ۔۔۔
آگئے نہ زبردستی پر ۔۔لاروش نے طنز کیا ۔۔
۔
جی ہاں اگر آپ حماقت پر اتر آئ تو میرا کیا قصور ۔۔۔میں تو بارات لے آیا ۔۔۔دلہن تولیکر جاونگا ۔۔۔۔شجاع مسکرایا ۔۔۔
آپ ثنا سے کر لیں ۔۔۔۔لاروش جھٹ بولی ۔۔
شجاع نے ایک مرتبہ پھر گھوری سے لاروش کو نوازا ۔۔۔بارڈر پر جنگ لڑنا زیادہ آسان ہے شجاع کسی لڑکی کی بانسبت ۔۔۔۔اللّہ مدد کر ۔۔۔شجاع نے گہرا سانس لیا ۔۔۔لاروش کا رخ اپنی طرف موڑا ۔۔۔
ہاتھ لگانے پر لاروش بدک کر پیچھے ہوئ ۔۔۔دل میں خوف جاگا ۔۔۔۔
لاروش کی نظروں سے شجاع کا دل چاہا ابھی غزنوی کے پاس جائے اپنی پسٹل کی ساری گولیاں اس کے سینے میں اتار دے ۔۔۔نہ جانے لاروش کا بھروسہ جیتنے میں کتنے دل لگیں ۔۔۔
سوری میرا مقصد تم کو ہراس کرنا نہیں تھا ۔۔ٹیک اٹ ایزی ۔۔۔مجھے تم سے محبت ہے ۔۔۔محب میں کتنے بھی کیوں نہ عیب ہوں محبت اپنے پروں سے اسے ڈھانپ دیتی ہے ۔۔۔ان کے زخموں کو دنیا کی نظروں سے چھپا لیتی ہے اپنی محبت کے مرہم سے ہر زخم بھر دیتی ہے ۔۔۔میری محبت بھی ایسے ہی پاک ہے ۔۔۔میں تم سے کبھی زبردستی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔۔لیکن اپنی محبت کا مرہم تمہیں دینا چاہتا ہوں ۔۔۔۔دنیا کے طعنوں سے بچانا چاہتا ہوں ۔۔تمہاری محبت چاہتا ہوں ۔۔۔اپنی زندگی کے سارے دن تم سنگ گزارنا چاہتا ہوں اور یہ سب تمہاری رضا سے چاہتا ہوں ۔۔۔۔
تمہارے ساتھ ہوئے حادثے میں تمہارا کوئ قصور نہیں تھا ۔۔۔تم آج بھی معصوم ہو ۔۔جیسے کل تھیں ۔۔۔مجھے بہت افسوس تھا خود پر میں تمہاری حفاظت نہ کرسکا ۔میں دن رات وطن دشمنوں سے لڑتا ہوں ۔۔اپنے ملک کی بہنوں ماوں کی حفاظت کے لیے ۔۔۔لیکن میں اپنے گھر کی حفاظت نہ کرسکا مجھے اس کا افسوس زندگی بھر رہے گا ۔۔۔۔۔یہ مت سمجھنا کے ہمدردی میں تم سے شادی کررہا ہوں ۔۔۔اگر تم میری محبت نہ بھی ہوتی تو میں تم سے تب بھی شادی کرتا ۔۔۔میرا ظرف کہتا ہے تم کودربدر ہونے کے لیے ہر گز نہیں چھوڑنا ۔معصوم ہو ۔۔بے قصور تو پھر کیوں تمہیں ۔۔۔اس غلطی کی سزا ملے جو تمہاری نہیں ہے ۔۔۔۔تم بہت اچھاپیارا لڑکا ڈیزرو کرتی ہو ۔۔۔
مجھے تم سے محبت ہے ۔۔۔اور میں وعدہ کرتا ہوں کبھی کبھی تم کو تمہارے ساتھ ہوئے سانحہ کا طعنہ نہ دونگا نہ ہی اس بارے میں بات ہوگی ۔۔۔۔مجھ سے شادی کے بعد یہ بچہ دنیا میں میرے نام سے جانا جائے گا ۔۔۔مجھے تو ابھی سے ہی اس بچے سے محبت ہوگئ کیونکہ یہ میری لاروش کا بچہ ہے ۔۔۔۔شجاع نے پراعتماد محبت بھرے لہجے میں کہا ۔
آپ مورے کو بہیجیں ۔۔لاروش نے سر جھکایا ۔۔۔
کیوں ۔۔۔جھکے سر سے شجاع کو لاروش کے تاثرات پتہ ہی نہ چلے کہ وہ راضی ہوئ یا نہیں ۔۔۔
مورے نے مجھ سے وعدہ کیا تھا وہ مجھے دلہن خود بنائیں گی ۔۔۔سر جھکائے ہی جواب دیا
لاروش کو شجاع کی باتیں اچھی لگی۔۔۔وہ تو پہلےہی جانتی تھی شجاع ذہنی طور پر بھی خوبصورت ہے ۔۔۔۔اگر ایک مرد نے عزت چہین لی تو اللّہ نے اس کے نصیب میں اتنا پیارا مرد بھی لکھا ہے جو اس کو عزت دے رہا ساتھ محبت بھی تو اسے ناشکراپن نہیں کرنا ۔۔۔۔۔آگے بڑھ کر اپنے حصے کی خوشیاں اب لینی ہیں ۔۔۔
لاروش کے جواب سے طمانیت کی لہر شجاع کے رگ وپے میں سرائیت کرگئ ۔. دل بے ساختہ اللّہ کا شکر بجا لایا ۔۔۔۔۔
ہممم کیا میں مدد کروں آخر مجھے ہی تو دیکھنا ہے ۔۔۔شجاع نے شرارت سے آفر کی ۔۔۔
نہ نہ نہیں میں خود ہوجاونگی ۔۔۔۔بوکھلا کر کپڑے لیے جلدی سے باتھ روم بھاگی ۔۔
ایک جاندار مسکراہٹ شجاع کے لبوں کے ساتھ چہرے پر بھی احاطہ بنا گئ ۔۔کمرے میں آتی مورے اور ثنا کو شجاع کے چہرے کی مسکراہٹ نے دلی خوشی سے نوازا ۔۔۔۔مورے نے بے ساختہ شجاع کو گلے لگایا رو دی ۔۔۔
ارے میری پیاری کوئین ایسے کیوں رو رہی ہیں میک اپ خراب ہوجائے گا تو خان بابا ناراض ہونگے ۔۔۔۔وہ ناراض ہوگئے تو ان کو منانا کتنا خطرناک ہوتا ہے ۔۔۔یہ مجھے آپ کی لاڈلی کو مناتے اندازہ ہوگیا آخر مزاج میں آپ کے سرتاج پر ہی گئ ہیں ۔۔۔شجاع کی شگفتہ مزاجی سے مورے کا دل پرسکون ہوگیا ۔۔
مطلع صاف ہوگیا ۔۔۔مبارک ہو کڑی مان گئ ۔۔۔ثنا نے خوشدلی سے مبارک دی ۔
شکریہ خوبصورت لیڈی ۔۔۔شجاع نے سر خم کیا ۔۔۔
اب میں بھی جلدی سے تیار ہوجاو اس سے پہلے تمہاری دوست کوئ نیا شوشہ چھوڑے نکاح جلد ہوجائے تو بہترین ہے ۔۔۔
ثنا کے ساتھ مورے بھی ہنس دی ۔۔۔
نکاح کے فوراً بعد رخصتی کی رسم ہوئ ۔۔۔حویلی کی مہمان خانے میں شجاع کے لیے روم تیار کروایا گیا ۔۔۔رات کو ولیمہ کی تقریب بھی احسن طریقے سے انجام پائ ۔۔۔۔ صبح ہی شہر کے لیے روانہ ہونا تھا پھر رات میں وہاں بھی ایک ولیمہ کی تقریب رکھی گئ ۔۔جس میں حویلی سے سب نے ہی جانا تھا ۔۔۔ولیمہ کی تقریب کے بعد سب نے جلد آرام کرنے کو ترجیح دی ۔۔۔۔
میں جانتا ہوں تم کو ابھی اس نئے رشتے کے لیے وقت چاہیے ۔۔۔جو میں تمہیں ضرور دونگا ۔۔۔مگر زیادہ انتظار مت کروانا ۔۔۔محبت پاس ہو ، شرعی حق ہو پھر بھی انتظار رہے کافی مشکل ہوتا جذبات کو کنٹرول کرنا ۔۔۔۔
شجاع نے لاروش کے ہاتھوں میں خوبصورت کنگن پہناتے ہوئے محبت سے اسے سہولت دی ۔۔۔
جاو چینج کرلو تھک گئ ہوگی ۔۔۔شجاع کے انداز و الفاظ سے لاروش کو سکون ملا ۔۔۔۔واقعی اتنی جلدی وہ نیا رشتہ نہیں چاہتی تھی مگر اپنے ساتھ ہوئے حادثے کے ثمرات نے اس کو بھی مجبور کیا ۔۔۔
لاروش چینج کرتے جھجھکتے بیڈ تک آئ ۔۔اور اپنی تکیہ اور بلینک کیٹ ٹھیک کیا ۔۔۔۔اور ایک سائیٹ لیٹ گئ ۔۔
تم پوچھو گی نہیں مجھے تم سے محبت کب ہوئ ۔۔لاروش کی طرف لیٹے شجاع نے کہا ۔۔۔۔
لاروش نے بھی شجاع کی سمت کروٹ لی ۔۔۔دونوں کے بیچ کافی فاصلہ تھا ۔۔۔
بتایے کب ہوئ ۔۔۔لاروش مسکرائ ۔۔اس کا دل بھی چاہا وہ اپنے محرم کو سنے ۔۔سمجھے ۔۔محبت کرے ۔۔۔
شجاع مسکرایا ۔۔۔۔جب تم دس سال کی تھیں تب ہوئ ۔۔
کیا ۔۔۔لاروش حیران ہوئ ۔۔۔
ہاں نہ یار دادی کے سوئم میں تم روتی میرے پاس آئ اور پوچھ رہی تھیں شجاع جی دادی قبرستان سے کب آئیں گی ۔۔وہ آنسو بھری کالی آنکھیں مجھے ڈوبا لے گئ ۔۔۔میرا دل تمہاری ان آنکھوں کا اسیر ہوا ۔۔۔پھر تو ماشاء اللّہ بہت ہی پیاری ہوگئ ۔۔۔اللّہ کا شکر ہے تم مجھے ملی ۔۔۔چلو اٹھو سونے سے پہلے ایک ساتھ مل کر شکرانہ ادا کریں ۔۔۔۔۔شجاع فورا بیٹھا ۔۔۔شکرانہ ادا کرنا
تم اس لیے کرلینا مجھے میری محبت رب نے دے دی ۔۔۔اور میں تو اس لیے ہی کرونگا مجھے میرے رب نے میری محبت دے دی ۔۔۔بات کو گھوما کر شجاع نے لاروش کو اٹھانا چاہا ۔۔۔
لیکن میں اس لیے نہیں کرونگی ۔۔۔لاروش نے منع کیا ۔۔۔
ہمم کوئ بات نہیں تم آرام کرو مجھ پر تو واجب ہے شجاع نے مسکرا کر کہا ۔۔۔اسے لاروش کی بات کا برا نیں لگا ۔۔۔
میں نے یہ تو نہیں کہا مجھے کرنا نہیں میں تو وجہ کا کہہ رہی ہوں ۔۔۔میں کرونگی اپنے رب کا شکرانہ ادا جس نے مجھے آپ جیسے بہترین ہمسفر سے نوازا ۔۔۔
دونوں نے جائے نماز بچھائ لگن سے شکرانے کی ادائیگی کرنے لگے ۔۔۔
______________________________۔
جیسے ہی باڈی باہر نکلی ۔۔۔گل جاناں نے اپنی چیخ کا گلا گھونٹا ۔۔۔لیکن باڈی کے باہر نکلتے ہی زور دار چیخ ماری۔۔۔اور پھر بچوں کی طرح اچھل اچھل کر چیخیں مارنے لگی ۔۔۔۔
گل کے بری طرح چیخنے پر سارے پریشان ہوگئے ۔۔بلال غصہ سے آگے بڑھا اور کودتی گل کاہاتھ پکڑ کر روکا ۔۔۔اور منہ پر تیزی سے ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلا دبایا ۔۔۔گل پاگل ہوگئ ہو کیا ۔۔گل نے اطراف میں نظر ڈالی سب اسے رحم بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔۔۔
ہہہنہہہن گل نے عجیب آوازیں نکالی ۔۔۔
بلال نے منہ پر سے ہاتھ ہلایا ۔۔۔
امو یہ لالہ نہیں ہیں ۔۔۔چہکتی آواز میں بولتی مہر بانو میں نئ روح پھونک دی ۔۔۔
جو ایمبولنس کے آنے پر حوصلے سے آگے تو بڑھی مگر ایمبولنس کا دروازہ کھولتے ہی سر جھکا گئ ۔۔۔۔
تم۔کیسے کہہ سکتی ہو۔۔۔یہ غزنوی نہیں چہرہ پہچان کے قابل نہیں رہا جھاڑیوں میں لگے کانٹوں اور کیڑوں نے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا کہ پہچانا جائے۔۔۔۔
________
تم کیسے اتنے وثوق سے کہہ رہی ہو یہ غزنوی نہیں ۔۔اس کی حالت اس قابل تو نہیں کہ پہچان سکیں ۔۔۔بلال نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔۔
لاش واقعی قابل ناشناخت تھی ۔۔۔کیچڑ کے سبب کپڑے لت پت تھے ۔۔چہرہ مسخ تھا ۔۔ڈیل ڈول غزنوی جیسا تھا ۔۔۔
گل نے ناگواری سے بلال کو گھورا۔ ۔۔بلال کی جگہ امو سے چہکی ۔۔۔
امو اس بندے کے پیر غور سے دیکھیں ۔۔اور ۔۔۔
کیا ہے اس کے پیروں میں ۔۔۔بلال الجھن سے بولا
اندھا کہیں کا ۔۔بیچ میں بولنا ضروری ہے کیا ۔۔۔ہونہہہہ۔
گل دل ہی دل میں بڑبڑائ لالہ کے زندہ ہونے کے احساس نے توانا کردیا ۔۔۔۔۔
میں سمجھی نہیں ۔۔امو نے بھی پیروں کی طرف ایک نظر کی اور پھر گل سے بولی ۔۔۔
اوہو امو لالہ کی چھنگلی تھی جب کے اس بندے کے پاوں میں نہیں ہے ۔۔۔
مہر بانو نے رات سے روتی سوجی آنکھیں وا کی دھندلی نظریں ۔۔۔غم سے نظریں مدہم ہوئ ، کپکپاتے ہاتھوں سے مردہ وجود کا پیڑ پکڑا ۔۔۔دائیں پیر کی انگلیاں اپنی تسلی کے لیے گننی شروع کی ۔
لرزتی مدہم ڈری آواز میں انگوٹھا پکڑا ایک ۔۔۔دو تین چار ۔۔۔گنتی گنتے تنفس تیز ہوا آواز قدرے بہتر ۔۔۔پانچ چھ چھ نہیں ہے ۔۔خوشی کی تاب نہ لا سکی وہیں دوبارہ بے ہوش ہوگئ ۔۔۔
گل جاناں نے سنبھالا ۔۔۔بے ہوش ماں کے گلے رو پڑی ۔۔۔
ساروں میں ایک آس جاگ گئ ۔۔بہروز نے پھر تحیقیت کرتی ٹیم کو روکا جو سارا سامان سیٹ کیے رخصت ہونے کو تھے ۔.
شمروز نے دل میں شدت سے پکارا یارب میرا بیٹا زندہ بہیج دے ۔۔۔بے شک تیری امانت ہے اس سے انکار نہیں ۔۔۔تجھ سے التجا ہے میرا جنازہ میرے بیٹا پڑھے ۔۔۔یارب محمد صلی اللّہ علیہ وسلم کے صدقہ عطا کردے۔ میں نے کبھی تو کوئ ایسی نیکی کی ہوگی جس کا ثمر میرے بیٹے کی زندگی کی صورت دے دے ۔۔مالک ِ دو جہاں رحم ۔۔۔آمین ۔۔۔میں شرمسار ہوں رب اپنی نیکی کا ثمر مانگ بیٹھا مجھ بوڑھے لا چار باپ کو تو حضرت یعقوب کے صدقے معاف کردے ۔۔آمین ۔۔۔زارو قطار ہچکیوں سے شمروز کا جسم کپکپانے لگا ۔۔۔۔ شہزاد نے گلے لگایا ۔۔۔۔امید دلائ ۔۔۔
لالہ اللّہ نے کرم کیا ۔۔۔ان شاء اللّہ غزنوی ٹھیک ہوگا ۔۔۔۔ گل بدئ بھی آگے بڑھ کر تسلی دی ۔۔۔۔۔
فلموں ڈراموں اور ناولز میں ایسا ہوتا ہے ہیرو کی کار گن پوائنٹ پر چھین لی جاتی ہے ۔۔۔پھر اس کار کا ایکسڈینٹ ہوتا ہے ہیرو بعد میں زندہ آجاتا ہے کیا پتہ غزنوی لالہ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہو ۔۔۔ناولز اور فلموں کی دلداہ پلوشہ بھی خوشی سے چہک کر اپنا انداہ بتانے لگی ۔۔۔بہروز نے گھورا لیکن دل میں سراہا ۔۔۔۔
سب کے ہی دل کو بات بھلی لگی ۔۔۔
پلوشہ بہروز کی گھوری پر سہم کر اندر تائ کے پیچھے چلی جہاں سکندر بے ہوش وجود کو گود میں لیکر روم کی طرف بڑھے ۔۔۔۔
ماموں آپ بھی اندر چلیں ۔۔۔
دوبارہ کاروائ کرنے پر بھی غز نوی نہ ملا ۔۔۔۔ اس کے زندہ رہنے کی امید کا دامن تھاما ۔۔۔آخر غزنوی کہاں چلا گیا زمین کھا گئ یا آسمان ۔۔۔۔۔لیکن امید بہرحال زندہ ہے ۔۔۔۔
کب تک سب حویلی رہتے ۔۔۔کام تو کرنا ہے ۔۔۔ایک ہفتہ غزنوی کا انتظار کیا پھر اپنے ٹھکانوں پر لوٹ گئے ۔۔آس پاس کے تھانوں میں رپورٹ درج کروائ جاچکی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہ ایک ہلکی سی کراہ زبان سے نکلی ۔۔۔پانی کی شدید طلب بیدار ہوئ ۔۔گلا سخت سوکھا لگا ۔وجود سن اور گرم تھا قریب سےآتی بھن بھن کی آواز کانوں کو بری لگی ۔آنکھیں کھلی مگر دھوپ کی چمک برداشت نہ کر سکی ۔۔۔فوراً بند ہوئ ۔۔۔پپوٹے سوجن زدہ تھے ۔۔۔۔حلق سےآواز تو نہ نکلی لیکن سوکھے گلے میں کھانسی کا پھندہ لگا جو سر سے پیر تک درد کی ایک لہر بھی دے گیا ۔۔۔۔۔مگر فائدہ بھی دے گیا
پاس ہی پلنگ پر دھوپ کے مزے لیتی شیرین مالٹے سے بھرپور لطف اندوز ہوتی ہولے ہولے بی بی شیریں گا رہی تھی اچانک پھندے پر چونکی ۔۔۔بابا بچی کو ہوش آگئ ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *