Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24

صبح فجر کے بعد گل جاناں نے پیکنگ کی ۔۔اور پھر لالہ سے ملنے چلی ۔۔کمرے میں جھانکا ۔۔۔غزنوی سجدے میں تھا ۔۔۔
اوہ لالہ تو نماز پڑھ رہے ہیں ایسا کرتی ہوں سہلیوں سے مل آو پھر دوپہر میں تو نکلنا ہے ۔۔۔
بغیر ناشتہ کیا سہیلیوں سے ملنے گئ اور جلد آگئ ۔۔۔ناشتے کرکے سیدھا امو جان کے پاس آئ ۔۔۔
امو ڈھیر ساری دعا کرنا ۔۔گلے لگتی بولی ۔۔۔
ضرور بیٹا ہر نماز میں اپنی اولاد کے لیے دعا ہر ماں باپ کرتے ہیں میں بھی کرتی ہوں ۔۔۔
شکریہ میری پیاری امو لاڈ سے ماں کے ماتھے کا بوسہ لیا ۔۔۔
بڑا پیار ہو رہا ہے اور مجھے چھوڑ دیا ۔۔کمرے میں داخل ہوتے غزنوی نے افسردگی سے کہا ۔۔۔
میرا پیارا لالہ دوڑ کر آئ اور بازو تھام کر سر کندھے پر ٹکا دیا اور رونے لگی ۔۔
کیا ہوا گل ۔۔چندا میں مذاق کررہا تھا ۔۔۔غزنوی نے سر ہلایا
لالہ مجھے حویلی امو سب یاد آئیں گے اس لیے رو رہی ہوں ۔۔روتی معصومیت سے رونے کی وجہ بتائ ۔۔
اچھا اچھا ۔۔تو سمپل ہے مت جاو ۔۔غزنوی نے لاپرواہی سے مشورہ دیا ۔۔
کیوں کیوں نہیں جاوں ۔۔دیکھیں میں کیا اب رو رہی ہوں ۔۔جلدی جلدی آنسو پونچھے ۔۔۔رونے سے چہرہ سرخ ہوگیا ۔۔خفگی سے بولی
میری بچی میں آونگی تم سے ملنے اسی بہانے میں بھی سمندر دیکھ لونگی ۔۔۔۔مہر بانو نے سر تھپکتے کہا ۔
اور مل آئ سب سے ۔۔۔
جی سب کو وقتی الوداع کہہ دیا ۔۔۔آپ نے مجھے کھانے پینے کا سامان تو باندھ دیں ۔۔۔گل نےیاد دلایا ۔۔
ارے بھول گئ تم بیٹھو میں پیک کرتی ہوں رات سب تیار کردیا تھا ۔۔چچی کو بھی دینا پرسوں ایسی ہی چلی گئ ۔۔۔
جی امو جان ۔گل سعادت مندی سے بولی ۔۔
لالہ رات دیر سے سوئے تھے جب ہی فجر کی نماز قضا پڑھی میں نے کل سمجھایا تھا ۔پلیز سمجھ جائیں ۔۔۔
پہلی بات میری گڑ کی ڈلی نے سمجھایا میں کافی سمجھ گیا دوسرا میں قضا نہیں اشراق پڑھ رہا تھا ۔۔۔غزنوی نے مسکرا کر وضاحت دی ۔۔
لالہ آپ کیسے پڑھ لیتے ہیں اتنی نمازیں ۔۔فجر پڑھ تو لیتے ہیں کیا کافی نہیں ہے ۔۔میں تو بس فجر ہی پڑھتی ہوں ۔۔۔۔۔
پانچ وقت کی نماز کی افادیت اور افضلیت میں کوئ شک نہیں ہے ۔۔اگر ہم اس کے علاوہ بھی عبادت کریں تو اللّہ پاک کو خوشی ہوتی ہے اس کا بندہ فرض کے علاوہ بھی اس کے آگے جھکتا ہے ۔۔
چلو آسان بتاتا ہوں ۔۔ہم منہ دھو لیتے ہیں ۔۔۔بلکہ ایسے آسان ہوگا تم لڑکیاں منہ دھو لیتی ہو ۔۔چہرہ صاف ستھرا ہوجاتا ہے مگر کریم لگاتی ہو آنکھوں میں کاجل لگاتی ۔۔ہو لپ اسٹک لگاتی ہو ۔کیوں چہرہ تو صاف ہوگیا تو باقی کام کیوں اس لیے نہ ہم اچھے لگیں ۔۔پیارے لگیں ۔۔۔۔۔ہمارے اپنے ہمارے اچھے لگنے کو اہمیت دیں ۔تو اسی طرح یہ باقی نمازیں بھی مومن اس لیے ہی پڑھتا ہے کہ ہم اللّہ پاک کو اچھے لگے ۔۔اللّہ پاک کی یاد میں کچھ اور وقت گزرے ۔۔ایسا وقت جو اللّہ کو پسندیدہ ہو ۔۔اور نماز اللّہ کو بے حد پسند ہے ۔اللّہ پاک اپنے فرشتوں کوبتائیں دیکھو یہ میرا فلاں بندہ صرف فرض سنت ہی نہیں پڑھتا میرے لیے الگ سے وقت نکال کر باقی نماز پڑھتا ہے اس کا خیال رکھو ۔۔۔
اور حدیث پاک میں بھی رسول کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نماز فجر باجماعت ادائیگی کے بعد ذکر اللّہ میں مشغول رہا یہاں تک کہ آفتاب بلند ہوگیا پھر دو رکعتیں پڑھیں تو اسے پورے حج عمرے کا ثواب ملے گا ۔۔۔سنن ِ ترمذی ۵٨٦ ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔نماز اشراق کی صرف اوّاب ہی(رجوع کرنے والا ۔اللّہ سے ڈرنے والا ۔۔توبہ کرنے والا )ہی پابندی کرتا ہے ۔۔۔
جو شخص نماز فجر سے فارغ ہونے کے بعد اپنے مصلے پر بیٹھا رہا حتی کے اشراق کے نفل پڑھ لے صرف خیر ہی بولے تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ سے بھی زیادہ ہوں ۔۔سنن ابی داود 1287
نبی کریم کی اس بات پر سب ہی صحابہ عمل کرنے لگے ۔۔صحیح بخاری 1178 اور مسلم 720 میں ابو ہریرہ سے مروی ہے مجھے میرے خلیل نے تین چیزوں کے لیے وصیت کی کہ میں انہیں مرتے دم تک نہیں چھوڑونگا ہر ماہ تین دن کے روزے ، اشراق کی نماز اور وتر پڑھ کے سونا ۔۔۔
جب اس کے فوائد اس قدر ہیں تو کوشش کرنی چاہیے پڑھ لیں ۔۔۔اور خواتین اور اسٹوڈینٹ تو آرام سے پڑھ سکتے ہیں ۔۔
کیسے لالہ ۔۔گل جاناں نے پوچھا ۔۔۔
بھئ جب فجر کی نماز کے لیے اٹھتے ہو تو اگر مسلسل نہیں بیٹھ سکتے مصلے پر تو اپنی ایجوکیشن کی تیاری ۔۔خواتین کچن میں ناشتے کی تیاری کا کام سر انجام دیں لیں ۔۔پھر نماز کی ادائیگی کر لیں ۔۔بہترین عمل تو ہے مسلسل فجر کے بعد عبادت میں مصروف رہ کر لی جائے اگر وقت کی کمی کا مسئلہ ہے تو بہترین کی بجائے پھر بہتر کرلیا جائے یعنی صرف نماز ۔۔۔
ان شاء اللّہ لالہ میں کوشش کرونگی پڑھو روزانہ نہیں تو جمعہ کے دن تو لازمی ۔۔گل جاناں نے پڑھنے کی نیت کی ۔۔۔
اپنا بہت خیال رکھنا جاو ورشہ سے پوچھو سب تیاری مکمل ہے تو پھر چلیں کیا ۔۔میں خود اپنی بہن کو کراچی چھوڑنے جاونگا ۔۔غزنوی نے محبت سے بھرپور لہجے میں کہا ۔۔
،________________________ ۔
یاہو ہم فائنلی کراچی آگئے ۔۔مینشن میں قدم رکھتے ہی گل جاناں چیخی ۔۔
آہستہ کیا کان کے پردے پھاڑنا ہے ۔۔بلال نے ڈانٹا ۔۔
نہیں تو ڈانٹ پر گل ممنائ ۔۔۔
اب اتنی زور سے بھی نہیں چیخا بچی نے جو تم ڈانٹ دو ۔۔غزنوی خفگی سے بولا ۔۔
ہاں ٹھیک کہہ رہے اگلی بار کے لیے مائیک دلادو ۔۔بلال نے کلس کے جواب دیا اور غزنوی کی سنے بغیر ہی تیزی سے لاونج کی طرف تیز قدم بڑھائے ۔۔۔بچی بچی کہہ کر سر پر چڑھایا ہوا ہے بس ایک بار نکاح ہوجائے پھر سارے کس بل نکالوگا ۔۔۔ہمیشہ کی طرح غصہ دل میں دبائے اپنے پرانے عزم کو دہرایا ۔۔اور مصنوعی خوش اخلاقی کاظاہرہ کرتے عالمگیر سے ملا ۔۔۔
کیسے ہو اور جاب کیسی چل رہی ہے ۔۔اب تھوڑا بزنس کو بھی ٹائم دو کافی جاب کرلی ۔۔۔
ایک قدم فرسٹ کلاس جاب چل رہی ہے ۔۔ان شاء اللّہ نیکسٹ ویک سے پراپر ٹائم دینے کی کوشش کرونگا ۔۔۔
چھوڑو یار بلال تو ہے ہی بدتمیز تم کو یونی میں بھی کوئ مسئلہ ہو تو گل شیر کو بتانا ۔۔موصوف وہیں ہوتے ہیں ۔۔۔
جی لالہ ۔۔باتیں کرتے لاونج پہنچے جہاں عالمگیر اور بلال مصروف تھے ۔۔۔
السلام علیکم عالمگیر لالہ۔۔۔۔۔کیسے ہیں گل جاناں چہکی ۔۔
وعلیکم السلام۔۔ٹھیک ہوں ۔۔تم سناو آگئ کراچی کو تباہ کرنے ۔۔
ہاں میں کوئ دہشت گرد ہوں نہ جو آپ کے کراچی کو تباہ کرونگی ۔۔لالہ دیکھ لیں عالم گیر لالہ کو ۔۔۔
بھئ تم اور تمہارے لالہ جانے میں زرا فریش ہو جاوں ۔۔پھر ڈنر کرتے ہیں ۔۔۔غزنوی نے مداخلت سے منع کیا اور نماز عشاء کی ادائیگی کرنی تھی جو بہت لیٹ ہوگئ ۔۔۔
بالکل گل نے باتوں میں الجھا دیا اور میں آداب ِ میزبانی بھول گیا ۔۔میں نے بھی تم لوگوں کے انتظار میں ڈنر نہیں کیا جایے سب پہلے فریش ہوجایے ۔۔۔
ایک تو ہم مہمان نہیں ہیں اس لیے میزبانی کی فکر نہیں کریں ۔۔اور لالہ تو شاید پہلے نماز پڑھیں گے اس لیے آپ کھانا لگایے ہم جہاز سے آئے ہیں پیدل نہیں ۔۔۔گاوں سے آئیں ہیں صحرا سے نہیں ۔گل نے شرارت سے فریش ہونے کا مشورہ رد کیا ۔۔
سچی بہت بھوک لگی ہے آپ کھانا ہی لگوایے ۔۔میرے پیٹ کے چوہے مر گئے نہ بھوکے تو لالہ آپ پر کیس کرونگی ۔۔میرے ایک چچا وفاقی وزیر اور دوسرے صوبائ وزیر ہیں ۔یوں آپ کو اندر کرواں گی ۔۔گل جاناں نے یوں پر چٹکی بجائ ۔۔۔
ہاں۔میں ڈر گیا ۔۔پلیز نہیں مجھے پولیس سے ڈر لگتا ہے ۔۔ان چوہوں سے کہو صرف دس منٹ برداشت کرلیں ۔۔عالمگیر نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی ۔۔بلال ان کی باتوں پر محظوظ ہونے کہ برعکس غصہ ہوا ۔۔مجھ سے تو بات کرتے زبان سے زہر ہی نکلتا ہے ۔۔۔غصہ سے بلال نے سوچا ۔۔
اور میری پیاری بہو کی بولتی کیوں بند ہے کیا ناراض ہو ۔۔۔عالمگیر نے ملازم کو کھانے کی ٹیبل پر کھانا سرو کرنے کو کہا اور اپنی بات کا رخ اب ورشہ کی طرف کیا ۔۔رشتہ میں عالمگیر جیٹھ لگتے ہیں ۔۔۔
نہیں بس ایسے ہی تھک گئ ۔۔ورشہ زبردستی مسکرائ ۔۔
جی اصل میں لالہ جہاز کا فیول ختم ہوگیا تھا پائلیٹ نے ریکویسٹ کی کوئ دھکا لگا دے سب نے منع کردیا لیکن ورشہ مروتاً منع نہ کرسکی اوراکیلی جہاز کو دھکا لگاتے آئ ہے اس لیے تھک گئ ۔۔گل نے شگوفہ چھوڑا ۔۔
گل کے مذاق پر بلال بھی مسکرادیا عالمگیر نے باقاعدہ قہقہ لگانا فرض سمجھا ۔۔
پرتکلف ڈنر کے بعد سب سونے چلے گئے غزنوی کو کل واپس جانا تھا چند نصیتحیں کی اور اپنے روم میں چلا گیا ۔۔دونوں ایک ہی روم میں تھیں ۔۔۔۔دوسرے دن بلال نے یونی لے جانے سے منع کردیا ایڈمیشن کی فارمیلٹی اس نے اپنے ذمہ لی ۔۔۔تین دن انتظار میں ہی گزر گئے ۔۔شہروز نے بھی بچیوں کو اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کردیا ۔ چوتھے دن ہوسٹل جانے کا حکم جاری ہوا ۔۔تاکہ یونی جانے کا باقاعدہ آغاز ہوسکے ۔۔اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہوسٹل اچھی شہرت کا حامل ہو ۔۔آجکل برے کاموں کی سبب کئ ہوسٹل بدنام ہورہے تھے ۔۔۔
آج چوتھے دن ناشتے کی ٹیبل پر گل شیر سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔۔۔
ورشہ اور گل جاناں چادر نما دوپٹہ پھیلائے ورشہ جھجکتی شرمائ اور گل جاناں اعتماد سے ٹیبل پر بیٹھی اور مشترکہ سلام کیا ۔۔
آپ لوگ ناشتہ کرکے سامان لے آیے گا گل شیر آپ کو ہوسٹل ڈراپ کردے گا ۔۔
واو گل شیر لالہ کے پاس ٹائم نکل آیا ۔۔گل جاناں نے میٹھا طنز کیا ۔۔۔
گل شیر مسکرادیا ۔۔۔میں یہاں نہیں تھا سمینار اٹینڈ کرنے گیا تھا رات کو ہی آیا ہوں ۔۔۔
جی پتہ تھا مجھے لیکن کم از کم فون کرکے تو ویلکم کردیتے ہے ۔۔شکوہ پھر کیا گیا ۔
سوری غلطی ہوگئ ۔ازالہ کردونگا ۔۔یہ بتاو چڑیا گھر گھوم آئے ۔۔شرارت سے پوچھا ۔۔
خاموشی سے کھانا کھاتی ورشہ کے ہاتھ تھامے بے یقینی سے شیر کی طرف دیکھا لیکن وہ جاناں ہی کی طرف متوجہ تھا ۔۔۔
دوبارہ نظریں جھکالی مطمئن ہوگئ ۔۔چچا نے میرا نہیں بتایا ہوگا ۔۔مگر پھر اگلے پل سکون غارت ہوا جب گل نے ہنستے منع کیا سوائے جاناں کو دل میں کوسنے اور کچھ نہ کرسکی جبکہ شدت سے دل چاہا حیا بن جائے اور سیلش کا گلاس کے بجائے یہ جگ ہی اٹھ کر دونوں کو دے مارے ۔۔افسوس ساس صاحبہ بھی ٹیبل پر بیٹھی تھی جسرت پر دل مسوس کر کے رہ گئ. ۔
میں نہیں آپ کی زوجہ کو شوق ہے ۔ پھر کب لیں جائیں گے اسے ۔گل جاناں نے پوچھا ۔۔
ابھی تو نہیں ۔۔لیکن جلد لے جاو نگا سنا ہے نئے پنجرے بن رہے ہیں ۔۔تو نیو پنجرہ ہی ٹھیک رہے گا ۔۔۔کیوں ورشہ ہونق بنی ورشہ کو گل شیر نے مخاطب کیا ۔۔
جی جی جیسے آپ کی مرضی ۔۔بوکھلا کر تابعداری کا مظاہرہ کیا یہ نہ سوچاکس بات پر حامی بھری ۔۔مگر سب کے قہقہوں نے سوچنے پر مجبور کردیا غلط حامی بھری ۔۔۔ورشہ شرمندہ ہوک ر سر جھکا گئ ۔۔
گل شیر بری بات پریشان نہ کرو میری بیٹی کو ۔۔بیگم شہروز نے ڈانٹا ۔۔
جی حکم والدہ صاحبہ ۔۔۔۔گل شیر چپ کرکے ناشتہ کھانے لگا ۔۔۔
سامان لینے کمرے میں آئیں تو ورشہ نے گل سے ناراضگی کا اظہار کیا ۔۔
کیا ضروت تھی میرا بولنے کی ۔۔کہہ دیتی نہیں گئے ۔ گل شیر کو بھی کوئ اور سوال نہ ملا ۔۔
کیا تم چاہتی ہو وہ تم سے باتیں کرے بے شرم ۔۔نامحرموں سے گفتگو کا شوق لگ گیا ابھی تو شہر کی آزاد فضا میں رچی بھی نہیں ۔۔
بکواس نہ کرو ۔۔ورشہ نے جاناں کے بازو پر چٹکی کاٹی۔
سی ۔۔کی ہلکی آواز جاناں کے نکلی جاناں نے بازو سہلایا ۔۔اور ورشہ کو سننے لگی جس کے منہ کے زاویہ بگڑے ہوئے تھے ۔۔
خوب کہی تم نے نامحرم ۔۔گھامڑ اصل چیز نکاح ہوتا ہے جو والی کی اجازت سے میرا گل شیر سے ہوگیا ۔۔اس لیے وہ میرا محرم ہے دنیا کےناکح اپنی منکوحہ سے خوش کن باتیں کرتے ہیں ۔۔ایک میرے ناکح پوچھا بھی تو کیا پوچھا ۔۔۔صدمہ لگ گیا ۔۔۔
مجھے پتہ ہے ۔۔لیکن رخصتی نہیں ہوئ تب تک کے لیے نامحرم ہی سمجھو ۔۔آجکل بغیر رخصتی بھی ۔۔ذومعنی بات کہی اور رک گئ گل جاناں
اس بار چٹکی نہیں پورا بازو ہی مروڑ ڈالا بد تمیز ۔۔۔چہرہ شرم سے سرخ ہوا ۔۔کچھ بھی فضول نہ بولو ۔۔۔۔چلو اب اس سے پہلے موصوف خود آجائیں بلانے ۔سارا سامان کار میں رکھ کر دونوں پیچھے بیٹھ گئ اور چہرے ڈھک لیے ۔۔۔
گل شیر نے آگے بیٹھنے کو نہ کہا اور مرر پیچھے سیٹ کیے گل جاناں سے بات چیت شروع کی ۔۔
کوشش کرنا یونی میں کسی کو پتہ نہ ہو تم کن کی بھتیجی ہو۔تاکہ سیکورٹی رہے اور کوئ اور کوئ ٹریپ کرنے کی کوشش بھی نہ کرے۔۔اگر زیادہ پریشانی ہو تو مجھے کال کرنا ۔۔میں نے بلال سے بھی کہہ دیا کہ کوشش کرے رشتہ ظاہر نہ کرے ۔۔۔
جی ۔۔گل جاناں نے سعادت سے کہا ۔۔
ہوں اور پردے میں رہنا یونی کا ماحول ایڈوانس بھی ہے اور نہیں بھی ہے آپ احتیاط سے رہیں تو کوئ مشکل نہیں ہوتی ۔۔۔لیکن اگر کبھی کوئ بھی تنگ کرے تو بغیر ڈرے اور جھجکے مجھے یا غزنوی لالہ کو بتانا ۔ اور پردہ لازمی کرنا ۔بغیر نقاب کے مجھے کبھی نظر نہ آنا ۔۔۔
ویسے لالہ آپ کی باتیں سن کر لگ نہیں رہا آپ کی آدھی زندگی آسٹریلیا میں گزری ۔۔ ۔ ورشہ کے دل میں آئے خیال کو جاناں نے زبان دی ۔۔
مسلمانوں کو اپنی اقدار اور روایتیں کہیں بھی نہیں بھولنی چاہیے جہاں بھول شروع ہوئ وہیں بگاڑ تیزی سے شروع ہوتا ہے ۔۔میں نہیں بھولا پھر لاسٹ ایر غزنوی لالہ بزنس کے سلسلے میں آئے تھے ان سے بہت کچھ مزید سیکھنے کو ملا ۔ اپنی الہامی کتاب قرآن مجید کی کئ آیتیں ترجمے اور تفسیر سے پڑھی ۔۔بہترین وقت گزرا بہت کچھ سیکھا ۔۔میں ابھی شروع سے تفسیر پڑھ رہا ہوں ۔۔
گل شیر نے وضاحت دی ۔
پردہ کرنے کامطلب سمجھتی ہو ۔۔گل شیر نے مرر سےباری باری دونوں کو دیکھتے پوچھا ۔۔
جی ۔۔جواب گل جاناں نے دیا ۔۔۔
لالہ نے سمجھایا تھا ۔۔عورت کا پردہ کرنا اپنی حفاظت کرنا ہے ۔۔جیسے ہم اپنی قیمتی سامان اور قیمتی چیزیں احتیاط کے ساتھ چھپاتے ہیں کہ کوئ رہزان ان کو چرا نہ لے ۔۔یا چوری کا خوف نہ بھی ہو تب بھی نظر بد کا خطرہ ہوتا ہے یا پھر کوئ ہماری قیمتی چیزوں کو دیکھ کر للچا کر حریص نہ بن جائے اور ہماری قیمتی چیز محفوظ رہے اور اس نے دوسرے کی قیمتی چیز چرالی تو دوسرے کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے ۔۔ایسے ہی ہم لڑکیا ں بے حد قیمتی ہوتی ہیں ۔اور پردہ ہمارا حصار ہوتا ہے ۔۔جو ہمیں نامحرموں سے بے خوف کرتا ہے ان کی للچائ بدنیت نظروں سے بچاتا ہے اور ہمارے ساتھ ساتھ دوسری خواتین کی بھی تکریم کرواتا ہے ۔۔
بہت آسان بہترین سمجھایا میں تو فین ہوتا جا رہا ہوں غزنوی لالہ کا ۔۔گل شیر کے لہجے میں غزنوی کے لیے واضح ستائش محسوس ہوئ ۔۔جاناں نے فخر سےگردن اکڑائ آخر اس کے ہی تو لالہ ہیں ۔۔۔
ہوسٹل میں ان کے ساتھ کوئ تیسری نہ تھی ۔۔آرام دہ کمرہ اٹیچ باتھ کی سہولت کے ساتھ ۔۔۔سائیڈ میں اوپن کچن کی سہولت بھی تھی بلکہ کچن کے نام پر مذاق تھا ایک سلیپ پر ایک سنگل چولہا رکھا ہوا تھا اور یہ مذاق بھی سفارش پر رکھا گیا بچیوں کو کچھ پسند نہ آئے تو اپنے لیے خود بنا لیں اور یہ سہولت کافی تھی ان کو ہوسٹل میں اسپیشل بنانے کے لیے لیکن ہوسٹل اونر کے سوا کسی کو معلوم نہ ہوا وہ دونوں عام ہیں یا خاص ۔۔
پڑوس میں بھی اتفاقاً دو کزن پنجاب سے آئ تھی بسمہ اور نشا اور ان ہی کی فیلڈ میں ایڈمیشن تھا ۔۔چاروں ایک دوسرے سے مل کر خوش ہوئیں اور گروپ بنا ڈالا ۔۔۔
چاروں فرسٹ ڈے خوب دل سے یونی جانے کو نکلی ۔۔ریکنگ کا ڈر نہ تھا ۔کیونکہ بلال نے ان کی سب کلاس اور ان تک جانےکےرستے کی ویڈیو جاناں اور ورشہ کو واٹس اپ کردی تھی تاکہ کوئ بھی مسئلہ نہ ہو ۔۔۔۔وین بسمہ اور نشا کی الگ تھیں ۔۔۔اس لیے آگے پیچھے پہنچی ۔۔۔
دیکھ لو اگر ایک ہی وین ہوتی تو اب تک ہم ساتھ کلاس میں جاچکے ہوتے اتنی دیر کردی ۔۔ورشہ پریشانی سے بولی ۔۔
ہمم ۔۔کرتے ہیں اس کا کچھ ۔۔تم ان کا ویٹ کرو میں ذرا آگے تک یونی دیکھ آوں ۔۔۔ورشہ کو وہاں کھڑا کیا اور خود آگے بڑھی ادھر اُدھر دیکھتے کافی آگے نکل آئ احساس ہونے پر پلٹی اور تیز قدم اٹھائے ۔۔اور ان ہی تیز قدموں سے چلتے سامنے فون پر باتیں کرتے ایک بندے سے ٹکرائ ۔۔اور یہ ٹکرانا طبق روشن کرگیا اور سامنے والے کا موبائل گرگیا ۔۔۔
اندھے ہوگئے ہیں آنکھیں کسی کے پاس گروی رکھ دی کیا ؟ غصے سے بولتی سر سہلایا اور پھر نظر اٹھائ ۔۔نظر نے پلٹنے سے انکار کردیا ۔۔دل دھک سے رہ گیا ۔۔۔بے یقینی سے پلک جھپکی ۔۔آج تیسری بار دیکھا ۔۔
_________
گل جاناں نے خود کو دل کو نظر کو سنبھالا ۔۔۔
ایم سوری غلطی سے ہوگیا
مقابل ٹکرانے والی محترمہ کی صلواتیں سنتے اگنور کیے جھک کر موبائل اٹھانے لگا اچانک ایم سوری پر چونکا۔۔اچانک ٹریک کیسے بدلا ۔۔۔ موبائل اٹھا کر سیدھا ہوا اور دیکھا۔۔توپھر نظر جم ہی گئ ۔۔۔پلٹنے سے انکاری ہوئ
گل نظر کے ارتکاز پر پریشان ہوئ ۔۔جو سوری پر مقابل سے جواب اٹس اوکے سننے کھڑی ہوئ ۔۔اٹس اوکے پر دو حرف بھیجتی تیزی سے مڑی اس بار تیزی سے ورشہ سے ہی ٹکرائ اور زواردار ٹکرائ دونوں ہی زمین بوس ہوئیں ۔۔ارگرد گزرتے اسٹوڈنٹ ہسننے لگے ۔۔ ورشہ جو دونوں کو ساتھ لیے گل کو تلاشنے نکلی تھی اس اچانک تصادم سے وہ بھی نہ سنبھل سکی اور گل کے ساتھ یونی کی زمین کو سلامی دی ۔۔ہسننے پر دونوں ہی شرمندہ ہوئیں ۔۔بسمہ اور نشا نے دونوں کی مدد کی ۔۔۔
کیا پیچھے بھوت لگا تھا جو بھاگتی آرہی تھیں ۔۔۔ورشہ کو اسٹوڈنٹ کے ہسننے پر غصہ آیا اور اس کا زبانی اظہار کیا ۔۔۔
نہیں یار مجھے لگا دیر ہوگئ ۔۔سوری چلو کلاس میں چلیں ۔۔۔کوئ اور وقت ہوتا تو پانی پت کی عظیم لڑائ کرتی اور ٹیپو سلطان کی جانشین بننتے گل جاناں ہار نہ مانتی چاہے موت آجاتی ۔۔۔مگر شادان سے ہوئے تازہ ٹکرانے نے ہمت کھودی ناچار صلح کا سفید پرچم تھامے ورشہ کو لیے کلاس کی جانب بڑھی ۔۔۔
شادان ان گزرے سالوں میں نیلی آنکھوں کی نشیلی سحر انگیزی سے نکل ہی نہیں پایا تھا ۔۔۔اس کا دل اکثر یادکرلیتا تھا ۔۔مگر بھولا نہیں تھا ۔۔اب ٹکراو جو ہوا کیا رنگ لائے گا دل مسکرادیا ۔۔۔شادان نے زہن کے خیالات کو نظر انداز کیا اور اپنے آفیس روم بڑھا ۔۔شادان نے شاندار رزلٹ آنے پر کچھ عرصہ یونی میں لیکچر شپ جوائن کی ۔۔۔بزنس کے ساتھ ساتھ اپنا پروفیسر بننے کا خواب پورا کیا ۔۔۔زندگی کو مصروف بنا لیا ۔۔۔۔
میں تھک گئ اپنا انٹرو دے دے کر ۔۔یہ بھی کوئ تک ہے ۔۔ہر آنے والے ٹیچر کو اپنا مقصد بتاو ۔۔۔ورشہ کوفت سے بولی ۔
ہم فارم کس لیے بھرتے ہیں ۔۔اتنی فیس دیتے ہیں پھر بھی یونی والے ادھورا کام کرتے ہیں ۔۔۔یہ نہیں فارم کی فوٹو کاپی ہر ٹیچر کو دے دیں ۔۔ورشہ کی تائید ضرور وشور سے بسمہ نے کی ۔۔۔
ہاں جی صدیوں سے چلا آیا انٹرو پروگرام اب آنسہ ورشہ بسمہ کے لیے بدلہ جائے گا ۔۔۔گل جاناں نے طنز کیا ۔۔
چلو کینٹین چلو خالی پیٹ اس گھمبیر مسئلے پر بات نہیں ہوسکتی ۔۔ بسمہ بولی ۔۔
ہاں چلتے ہیں لیکن پہلے یہ بتاو آنسہ کون ہے ۔۔کل ڈیسائیڈ ہوا تھا ہم فور گروپ ہیں ۔۔۔تو یہ پانچویں کب شریک ہوئ میں کہاں تھیں ۔۔۔نشاء پریشانی سے بولی ۔
پگلی تم اسکول گئ تھیں ۔۔بسمہ نے کامیڈی کی ۔۔۔
ہاہا ہا مجھے ہنسی آگئ ۔۔تم بتاو گل ۔۔۔نشاء نے کہا ۔۔۔
آنسہ اردو زبان کا لفظ ہے ۔۔۔جس کا مطلب دوشیزہ ہوتا ہے ۔۔یعنی انگلش میں منس ۔۔۔اگر تسلی ہوگئ تو چلیں ۔۔۔۔
تم کو اتنی اردو کیسے آتی ہے تم تو پٹھان ہو نہ ۔۔۔نشاء نے تسلی ہونے پر معصوم سا سوال پوچھ لیا ۔۔۔
تو بی بی پٹھان ہیں تو کیا مطلب اردو نہیں بول سکتے ۔۔۔اردو ہماری قومی زبان ہے ۔۔پاکستان کے ہر فرد کو آنی چاہیے ۔. انگریزی زبان ہماری ہے نہیں مگر آدھے پاکستان کو آتی ہے اردو پوچھ لو تو تناسب پچاس ہی نکلے گا اردو زبان نے پاکستان بننے میں مدد دی ۔۔سرسید نے اس زمانے میں اردو کی نشوونما کے لیے کام کیا ۔۔۔۔۔ہم سے اچھے تو ابھی ہندو اور یہودی ہیں جو اپنی نئ نسلوں کو ہندی اور عبرانی زبان میں ہی تعلیم دے رہے ہیں اور ترقی کی طرف گامزن ہیں ۔۔۔۔اسی وجہ سے ہم پیچھے ہیں ۔۔حکومتی چینل حکومتی افراد انگلش اردو میں بات کرتے ہیں سادہ لوح گاوں والے اردو سے نابلد ہونے کی بنا پر کبھی بھی کسی بات کے اصل کو سمجھ نہیں پاتے جو ان کے علاقے کے سیاسی فرد سچ جھوٹ اپنی زبان میں بتادیا بس وہی حرف آخر ہوگیا ان کے لیے ۔۔حق کیا ہے غلط کیا ہے کچھ پتہ نہیں ۔۔بس لکیر کے فقیر بنے صدیوں سے الو بنےگنتی کے چند مسائل میں الجھیں ہیں ۔۔اگر کچھ جانے گے نہیں تو آگے کیسے بڑھیں گے ۔۔اب سندھ کی عوام کو ہی دیکھ لو کالا باغ ڈیم کس قدر ضروری ہے مگر وہی زبان سے نابلد لوگوں کو سمجھایا گیا کالا باغ ڈیم نہیں کالا ناگ ہے جو سندھ سمیت باقی سب صوبوں کو ڈس لے گا ۔۔۔۔اگر کالا باغ ڈیم بن جاتا تو آج بے پناہ ترقی ہوتی بجلی کی قلت ختم ہوتی پانی کا ذخیرہ اچھا ہوجاتا ۔۔زرعی صنعتیں ترقی کرتی ۔۔لیکن نہیں ناسمجھ لوگ اردو انگلش آتی تو اخبار خبروں کے ذریعے روشن ممکنات بھی جان لیتے تو آج ڈیم بن چکا ہوتا اور ترقی کا کارواں جاری رہتا ۔۔۔لیکن نہ بنا ترقی کیا ہونی تھی آئے دن قحط ہوجاتا ہے سندھ میں۔سزا ۔۔یوں ہماری آنے والی نسل پانی کے لیے ترسے گی ۔۔۔اب چلو کینٹین میرے حلق میں بھی کانٹےپڑ گئے ۔۔تمہیں اردو کے معنی بتاتے ۔۔۔۔
معصوم سا سوال گل جاناں کو بندوق کی گولی لگی ۔۔جب بولی تو پھر نہ رکی ۔۔۔چند دن پہلے چچا جان کے ساتھ جو نشست لگائ اس سے حاصل ہوئ کالا باغ ڈیمم نہ بننے کی ذمہ داری بھی اردو نہ آنے پر ڈال دی ۔۔جبکہ یہ تو سیدھا سیدھا سیاسی مفادات کا کیس تھا ۔۔جوش خطابت میں تینوں کی سٹی گم کی ۔۔۔۔اردو کی افادیت پر ایسے روشنی بھی پڑ سکتی تھی تینوں حیران کھڑی رہ گئ۔۔
پھر زہن کو جھٹک کر گل جاناں کی تقلید میں آگے بڑھیں چند قدم پر تینوں کو احساس ہوا نشاء نہیں ہے تو پلٹ کر دیکھا تو گم سم نشاء کھڑی ہے ۔۔صرف ورشہ پلٹی ۔۔۔
نشاء کو غم لگا آنسہ کا مطلب گوگل انکل سے بھی پوچھا جاسکتا تھا ۔۔۔مگر اب کاہے پچھتانا لمبی تقریر تو سن لی ۔۔۔نشاء اردو سیکھ لو غالب چچا والی ۔۔۔نشاءنے خودکومشورہ دیا ۔۔جب تک ورشہ پاس آ گئ ۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *