Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19
پھر اکثر لوگ پاک فوج کو برا کیوں کہتے ہیں ۔۔۔لاروش نے ذہن میں چھپا ایک سوال کیا ۔۔۔۔
شجاع اس سوال پر بے ساختہ مسکرایا ۔۔۔
یار جو برا کہتے ہیں ان سے بھی پوچھنا ۔۔جو کرپشن کرکے مال و دولت جمع کرتے ہیں ۔۔تو کیا وہ بہت نیک ہیں ۔۔۔اور اطمینان سے اسی ملک میں رہتے ہیں کیوں ۔۔اس لیے نہ فوج جو اس ملک کی حفاظت کے لیے ۔نہ ان کے پیسوں کو کچھ ہوگا نہ انھیں ۔۔۔اس لیے ڈھیٹ بنے فوج کو برا کہتے ہیں ۔۔۔۔
یہ سچ ہے اچھے برے لوگ ہر فیلڈ میں ہوتے ہیں ۔۔ہمارے پاس بھی ہیں جن کا کورٹ مارشل ہوتا ہے فوری سزا دیتے ہیں ۔ کبھی کسی سیاستدان کو فوری سزا ملی ۔۔جیل میں بھی ٹھاٹ سے رہتے ہیں. ۔۔۔اور ضمانتوں پر رہا ہوجاتے ہیں اس بار شجاع کے لہجے میں لاروش کو بے پناہ تلخی لگی ۔۔
لیکن اس کے برعکس مجھے پتہ ہے جب بھی وطن پر مشکل آتی ہے یہی برا بولنے والے سب سے پہلے فوج کی طرف ہی دیکھتے ہیں ۔۔۔جتنا ہی برا بولیں مگر ان کے دلوں کو بھی یہ اطمینان ہے افواج پاکستان ہے ۔۔۔وہ باقی معرکوں کی طرح یہ معرکہ بھی سر کرلے گی ۔۔۔ اور اللّہ کا شکر افواج پاکستان مشکل حل کرلیتی ہے ۔۔۔۔۔اپنی فوج کے لیے فخر ہی فخر تھا ۔۔
شجاع کا موڈ تھوڑا بحال ہوا تو لاروش نے بات بدلی ۔
موسم کتنا اچھا ہورہا ہے ۔۔
شجاع نے ایک نظر لاروش کو دیکھا ۔۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے سرد جھونکے سے لاروش کی زلفیں اڑ رہی ہیں اور ٹھنڈک سے ناک سرخ ہوگئ ۔۔بہت خوبصورت منظر لگا ۔۔
شجاع کے اس طرح دیکھنے سے لاروش کنفیوز ہوِئ ۔۔۔۔پلیز جلدی کار چلائیں ۔۔۔دیکھیں ذرا یہ سائیکل والا بھی جیت گیا کتنا آگے ہے اور کہیں آپ اس پیدل چلنے والے سے بھی نہ ہار جائے ۔۔۔لاروش نے کار کے ایک طرف پیدل سوار کو دیکھ کر شجاع پر میٹھا طنز کیا ۔۔
آپ کی وجہ سے دھیمہ چلا رہا ہوں مسسز ۔۔ڈاکٹر نے احتیاط کا جو بولا ہے ۔۔ورنہ میں تو ان پہاڑوں پر بھی فائٹرطیارے جیسا کار چلاتا ہوں ۔۔۔۔بات کا موضوع ایسا تھا کہیں غصہ میں ایکسڈینٹ ہوسکتا تھا اس لیے رفتار کم کی احتیاط کرنا بہتر ہے ۔۔۔تم فکر نہ کرو اس پیدل سوار کو تو میں آرام سے ہراوں گا ۔۔۔تسلی دی ۔۔اور کار کی اسپیڈ نارمل کرتا گھر کی طرف بڑھے ۔۔۔
___________________________________۔
ابا اماں سے کہو سوٹ بنا دیں ۔۔۔تایا کے گھر پہلی شادی ہے اور مجھے وہاں نئے سوٹ پہننا ہے ۔۔۔
ٹھیک ہے میں پیسے دے دونگا تم لے آنا۔۔۔
اور مینزہ خوشی خوشی کمرے میں چل دی ۔
یہ بچیوں کو اتنا نہ بگاڑو ام کہتا ہے ام سوٹ نہیں بنانے دیگا ۔۔سکینہ نے کہا ۔۔۔
نیک بخت بچیوں کے دل نہ مارا کرو اگر امارے پاس ہے تو ضرور دو ۔۔یہی تو دن ہوتے ہیں شادی کے بعد کیسا سسرال ملے پتہ نہیں چلتا اپنے آنگن میں تو ام اپنی چڑیوں کو اچھا رکھیں ۔۔۔
ہوں کہتے تو کبیر کے ابا ٹھیک ہی ہو. ۔۔ام کو اس کی لاپرواہ طبیعت سے ڈر لگتا ہے اوپر سے اس کی ساس بھی سخت ہے ۔۔۔۔خدشہ جگا ۔۔۔
اللّہ خیر کرے گا اپنے چچا کے گھر ہی جائے گی ۔۔اپنا مارتا ہے تو چھاوں میں ہی ڈالے گا ۔۔۔حشمت نے بہلایا ۔
مارتا تو ہے نہ اپنا ۔۔۔۔سکینہ نے فکر سے کہا ۔۔جب مارہی کھانا ہے تو دھوپ یا چھاوں کو کیا دیکھنا ۔۔۔
دھوپ بہت سخت ہوتی ہے جو جھلسا دیتی ہے ۔۔اور چھاوں ٹھنڈی ہوتی ہے جو سکون میں رکھتی ہے ۔ یہ فرق ہے ۔۔۔میں باہر جا رہا ہوں تھوڑی دیر سے آونگا ۔۔
حشمت تدبر سے کہہ کر چلے گئے پیچھے سکینہ کو سوچوں کا جہاں دے گئے ۔۔
مینزہ نے فون کرکے اپنی دوست نما کزن کو بتایا کہ وہ بھی بارات کا سوٹ نیا لے گی ۔۔۔ایک جیسے رنگ پہنے گے ۔۔۔بات کر کے فون رکھا ہی تھا ۔۔ کہ پھر بجا ۔۔۔
سہیلی کے نام جگمگا رہا ہے ۔۔۔جھٹ. کال ریسیو کی اور فورا سے پیشتر کہا میں گھر پر ہوں ۔۔میسج پر بات کرتے ہیں اور کال بند کی ۔۔
مجھ سے بات کیے بنا چلی گئ ۔۔میں کب سے انتظار میں تھا ۔۔۔محبت سے شکوہ آیا ۔۔۔
بس ابا آگئے تھے میرے پیپر بھی ختم ہوگئے تھے اس لیے آنا تو تھا ۔۔۔۔جلدی سے ٹائپ کرکے میسج بہیجا ۔۔۔
ملنے کب آوگی ۔۔لوگ اپنے محبوب کی ہر جائز ناجائز مانتے ہیں تم تو مجھ سے ملنے کی بات نہیں مانتی ہو بس دور دور سے دیدار کرلو۔۔اسی پر ٹرخا دیتی ہو ۔۔
میں فون پر تو آپ سے بات کرتی ہوں آپ جب بھی کرتے ہیں بھلے آدھی رات ہی کیوں نہ ہو ۔۔لیکن میں ملنے نہیں آسکتی مجھے ڈر لگتا ہے کسی نے دیکھ لیا اور ابا کو بتادیا ان کا دل ٹوٹے گا برداری سے لڑ کر مجھے پڑھنے بہیجا ۔۔۔۔۔۔جلدی جلدی ٹائپ کرتی نظریں باہر صحن میں اماں کو بھی دیکھ رہی تھی ۔۔
اچھا ٹھیک مت ملو ۔۔مگر میں اب تمہیں دیکھو گا کیسے ۔۔
جواب میں بے تابانہ فکر جھلکی ۔۔
میرے کزن کی شادی ہے اگلے ہفتے میں آونگی ۔۔آپ وہاں آکر دیکھ لینا ۔۔۔مینزہ نے مسئلہ حل کیا یہ مشورہ دیتے اسے اندازہ بھی نہ تھا کتنی بڑی مصیبت مول لی ہے جو اسے زندہ درگور کردے گی حشمت خان کے دو بھائ اور دوبہنیں ہیں ۔۔بڑے بھائ برکت ڈرائ فروٹ کے کاروبار کرتے تھے ۔۔جس سے ان کے حالات بہتر ہوئے اور پشاور میں اپنا ایک گھر لے لیا ۔۔۔نعمت خان نے بھی چمڑے کا کاروبار شروع کیا وہ بھی ترقی پا گئے ۔۔۔حشمت خان ٹھہرے سرکاری استاد اپنے آبائ علاقے ہی میں گھر لے سکے اور وہیں زندگی بسر کری ۔۔۔دو بہنیں مختلف علاقوں میں بیاہی ۔۔۔
حشمت خان نے چچازاد سکینہ سے شادی کی سکینہ کے دو بھائ تھے ۔۔شادی کے بعد پہلوٹی کا بیٹا کبیر ہوا دو سال بعد مینزہ جب مینیزہ کی پیدائش کے چودہ سال بعد شیریں نے دنیا میں آکر ان کی فیملی کو کمپلیٹ کیا ۔۔۔
ماسٹر جی کے ایک شہری دوست مذاق میں بڑھاپے کی اولاد کہتے تھے ۔ان کے مذاق کو کئ لوگوں نے اپنا لیا ۔۔۔جبکہ قبائلی علاقے ہو یا شہر اکثر ساس بہو کے یہاں ایک ساتھ اولاد ہوتی ہے ۔۔۔لیکن مینیزہ کی پیدائش کے بعد لمبے گیپ کی وجہ سے دونوں میاں بیوی جھینپ جاتے تھے لوگوں کو ان کی جھینپ مزہ دیتی تھی ۔۔۔
حشمت نے نعمت کے رشتہ مانگنے پر اس کے اکلوتے بیٹے سے مینیزہ کی بات پکی کردی مگر یہ بات ابھی بڑوں کے درمیان ہی تھی ۔۔
حشمت نے برداری سے لڑ کر مینیزہ کو شہر اپنے بڑے بھائ کے گھر بہیجا. . جس کے دو بیٹے ایک بیٹی تھی ۔۔دونوں کو گرلز کالج میں ایڈمیشن دلایا ۔۔۔برکت کی اپنی سالی اور سالا سے ان بن تھی ۔۔سالی اور سالہ برکت سے زیادہ مالدار تھے ۔۔۔دونوں سے ملنا جلنا کم تھا ۔۔۔
روز کی طرح دونوں تیار ہوکر نقاب لگائے کالج روانہ ہوئ ۔۔
. مینیزہ میرا گول گپے کھانے کا من ہے ۔۔دیکھ یہاں تھوڑی دیر رکتے ہیں پھر کھالیں گے ۔۔بشری مینزہ کے کان میں ممنائ ۔۔
یہ وین والا خان کو شکایت لگائے گا ۔۔ایسا کریں گے لاسٹ پیریڈ چھوڑ کر کھانے آئیں گے خود مینیزہ کا دل للچایا اس لیے جھٹ پلان ترتیب دیا ۔۔۔
لاسٹ پیریڈ چھوڑ کر دو قدم کے لیے ٹیکسی لی تاکہ جلد آنا جانا ہو ۔۔مزے سے گول گپوں کی دو پلیٹ کھائی ۔۔کھلکھلاتے چہرے چھپ کر گول گپے کھانے کی خوشی سے تمتارہے تھے۔۔
تھوڑی دور کھڑے انسان کو یہ بے فکر یہ کھلکھلاہٹ متوجہ کر گئ ۔۔اس جگہ کھڑی خراب گاڑی نے کچھ دیر پہلے سخت موڈ آف کیا وہ غصہ سے ٹائر بدل کر کھڑا ہی ہوا تھا ہنسی کی جھنکار نے اپنی طرف مائل کیا ۔. اور ایسا مائل کیا اس نے ان کا پیچھا کرکے کالج اور اس کا نمبر حاصل کر لیا ۔ اور ایک نئ محبت کی داستان شروع ہوئ ۔۔کیا واقعی محبت تھی یہ تو وقت نے ہی بتانا تھا ۔۔
پہلے پہل تو مینیزہ نے نظرانداز کیا مگر سامنے والی کی مستقل مزاجی نے دل میں گھر کر لیا کچا زہن چاہے اور سراہے جانے کی آرزو کرنے لگا ۔۔۔روز مینیزہ فون پر بات کرتی کبھی ملنے نہیں گئ ۔۔کالج گیٹ پر آکر نقاب الٹ دیتی جس سے محبت دیدار سے فیض یاب ہوجاتی اور ملنے کے اصرار نہ کرتی ۔۔۔۔کچھ دن تو بشری سے چھپایا پھر اسے راز دار بنایا ۔۔دوستوں کو ہی راز دار بنایا جاتا ہے صرف دوست کو ہی ۔۔۔
شادی کی چہل پہل شروع ہوگئ ۔۔مرادنہ اور زنانہ انتظام الگ کیا گیا مگر گھر کے مرد آنا جانا کررہے تھے ۔۔برکت کے سالی کے بچے بھی آئے ۔خوب دھڑکے سے مہندی جارہی تھی ۔۔اندر مینیزہ کو ابٹن لینے بہجا اندر جاتی مینیزہسامنے سے آتے بندے سے ٹکرائ ۔۔
اللّہ میرا سر یہ دیوار کیوں سامنے آگئ ۔۔مینزہ نے سر سہلاتے ہوئے سر اٹھایا اور سکتہ ہوا ۔۔یہی کیفیت سامنے بھی تھی ۔۔۔آپ ۔۔۔تم بے ساختہ ایک ساتھ منہ سے نکلا ۔۔۔
یہ میرے تایا کا گھر ہے مینیزہ حیران ہوتے بولی
مقابل بھی مسکرایا یہ میری خالہ کا گھر ہے ۔۔ لیکن میں نے کبھی بشری کو ساتھ نہیں دیکھا ۔۔
میں ساتھ ہی ہوتی تھیں میں نے پہچان لیا تھا مگر سرپرائز کے لیے چپ رہی ۔۔۔پیچھے سے آتی بشری نے بات سن کر وضاحت دی ۔۔
کیا یار بتانا تھا ۔۔۔کہیں اور نہ سہی گھر پر تو ملاقات ہوجاتی ۔۔وہ مسکرایا ۔۔
مینیزہ بات سن کر شرمائ آپ بھی نہ بس ۔فون پر کرتے تو ہیں بات ۔۔۔
آدھی ملاقات سے تشنگی رہتی ہے ۔۔۔
چلیں کوئ نہیں اب مل لینا ۔۔بشری نے مداخلت کی ۔۔رات میں چھت پر ملنے آئے گی ایک بجے تک ۔۔۔اب چلو ابنٹن لگانا ہے ۔۔بشری نے خود ہی ملاقات کا وقت طے کردیا ۔۔مینیزہ کو انکار کی بھی مہلت نہ ملی گھسیٹتے ہی اندر لے گئ اور مقابل سرشار سا دیدار یار اور آنے والی ملاقات کا سوچ کر ہوا ۔۔۔
ایک بجے بشری کی سنگت پر ملاقات کی ۔۔جھجک کر باتیں کی اور جلد واپس آگئ ۔۔دوسرے دن بارات میں نظروں سے باتیں کیں اور پھر ایک بجے ہی ملاقات کی ۔۔اس مرتبہ جھجک ختم ہوئ ۔۔
تیسرے دن ولیمہ میں میرون شرارہ پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھیں ۔۔۔آج دو دن کی نسبت زیادہ مہمان تھے گاوں سے مینیزہ کی ساس سسر بھی آئے تھے جو برکت کے چچا زاد تھے ۔۔ان کے سونے کا انتظام چھت پر تھا اس لیے آج ملاقات اسٹور روم میں رکھی گئ آج ملنے سے بہت منع کیا مگر اصرار پر ملاقات کے لیے رضامند ہوئ ۔۔بھول گئ دو نامحرموں کے بیچ شیطان آہی جاتا ہے ۔۔۔
آج تو میرے دل کی ملکہ بہت حسین لگ رہی ہو دل چھا رہا تھا سب سے دور لے جاو ۔۔ہاتھ پکڑ کے دل کی بات بتائ ۔۔۔ میں صرف آج ہی اچھی لگی ۔۔۔مینیزہ دھیرے سے مسکائ اور آنکھیں پٹپٹاتے پوچھا ۔۔
یہ ادا اتنی اچھی لگی کہ بے ساختہ آنکھیں چوم لی ۔۔
مینیزہ حق دق رہے گئ ۔۔جلدی ہاتھ چھڑاکر پیچھے ہٹی ۔۔۔
چہرہ شرم سے سرخ ہوا ۔۔
نہیں یار تم مجھے ہر حال میں اچھی لگتی ہو بس دوری اب ممکن نہیں ، میں یہ فاصلے ختم کرنا چاہتا ہوں ۔۔ایک بار پھر ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دیا ۔اور مینیزہ سینے سے آکر لگی ۔۔
اس کے تو ہوش اڑے پہلے بات اب اس حرکت پر ۔۔۔
پلیز ابھی میں ایسا کچھ نہیں کرسکتی ۔۔جب ہماری شادی ہوگی ۔۔تب ابھی آپ میرے محرم نہیں ہیں ۔۔۔
یار شادی کرونگا کب منع کیا ہے لیکن ابھی تو تھوڑا حق دو ۔۔
پھر کھینچا ۔۔لیکن اس بار مینزہ جگہ سے ہلی گلے نہیں لگی ۔۔۔
مجھے جانا ہے چھوڑو اسے ڈر لگا ۔۔
بالکل نہیں جانے دونگا ۔۔پہلے اپنی پیاس بجھاونگا پھر جانا ۔۔یہ کہہ کر زبردستی گالوں پر کس کی ۔۔۔مینیزہ نے پوری قوت سے ہاتھ چھڑایا اور ایک زور دار تھپڑ لگایا ۔۔
تھپڑ کا لگنا تھا کہ شیطان پوری طرح حاوی ہوا ۔۔۔۔۔زور زبردستی شروع ہوگئ ۔۔مینیزہ نے مدد کے لیے آوازیں لگائ ۔۔چیخنے لگی ۔۔۔
منینزہ کی آوازوں پر جو جاگ رہے تھے وہ سب آگئے اسٹور کا دروازہ کھولا ۔۔
مینیزہ کا ہاتھ چھٹا ۔۔دونوں ہی بوکھلا کر پیچھے گرے اور اس طرح گرنے سے مجرم کو فائدہ ہوا۔۔۔
اچھا ہوا آپ آگئے یہ لڑکی بالکل پاگل ہے میرے ساتھ محبت کرنے کا دعوا کرنے لگی میرے گلے لگنے کی کوشش کی بہت ہی بے شرم ہے میرے منع کرنے پر بھی نہ منانی ۔۔۔سارا الزام مینیزہ کے سر رکھا ۔۔
سکینہ روتی آگے بڑھی ایک تھپڑ مینزہ کے لگایا ۔۔۔اس دن کے دیکھنے کے لیے پیدا کیا تھا روتی اور مارنے لگی ۔۔مینزہ محبت کے الزام پر سن ہوگئ ۔۔۔مار کا پتہ ہی نہیں چلا ۔۔
حشمت آگے بڑھے رکو سکینہ ۔۔پہلے مینیزہ سے پوچھو ۔۔۔
باپ کی بات پر تشکر سے دیکھا اتنے لوگوں میں کوئ تو سچا خیر خواہ ملا ۔۔۔
یہ جھوٹ بول رہا ۔۔۔بابا ۔۔یہ میرے ساتھ زبردستی کررہا تھا ۔۔روتی بولی ۔۔بشری سے پوچھ لیں میں ایسی نہیں ہوں ۔۔
کیوں جی مجھے تو کچھ نہیں پتہ مجھ سے جھوٹی گواہی کیوں مانگ رہی ہو ۔۔بشری نے رنگ بدلہ ۔۔۔وہ تو چاہتی یہی تھی ۔۔
بشری کے روپ نے مینیزہ کو تکلیف دی ۔۔۔
تم جھوٹ بول رہی ہو تائ آگے بڑھی میرا بھانجہ نیک ہے ۔۔
ہاں ٹھیک کہہ رہی ہے خانی تم جھوٹ بول رہی ہو اس اسٹور میں تم کیا کررہی ہو ۔۔اور اس نے اگر بلایا تو تم اتنی بچی تھیں پتہ نہیں چلا ایک مرد کیوں بلا رہا ہے سارا قصور اس کا ہی ہے ۔۔ممانی تنفر سے بولی ۔۔۔
میں یہ منگنی توڑتی ہوں اس کو بہو بنا کہ سر پر خاک نہیں ڈالنی ۔۔ایک ایک کرکے سارے ملامت کرکے چلے ۔۔تائ اپنے بھانجے کو لیے چلی گئ ۔۔۔
میں جھوٹ نہیں بول رہیں بابا گلے لگ کر بے ہوش ہوگئ ۔۔عزت تو بچ گئ ۔۔مگر سب کی نظروں میں ذلیل ہوگئ ۔۔۔
کیا سب بہرے تھے میرے شور سے ہی آئے تھے پھر بھی بھروسہ نہیں کیا ۔۔ممانی کو تو ویسے بھی بہانہ چاہیے تھا اور بشری دوست کی پیٹھ پر خنجر گھونپا ۔۔
وقت کا کام گزرنا تھا گزر رہا ہے۔پرائیوٹ پڑھا ۔۔اور مدرسہ سے تدریسی عمل شروع کیا ۔۔۔قرآن کی تفسیر آجکل پڑھ رہی ہے ۔لوگ مذاق بنانے لگے اگر صحیح غلط بتاو تو ۔۔۔
۔نم آنکھیں پوری رات ماضی کو سوچتی برستی رہیں ۔۔۔
___________
وادی میں سخت سردی میں ہلکی دھوپ ایک خوبصورت چمک دے رہی ہے ۔۔غزنوی کا خود کا علاقہ بھی جنت نظیر ہے ۔۔مگر اس وادی کی بات ہی الگ لگ رہی ہے شاید اپنوں سے دوری نے موسم ماحول میں دلچسپی لینے پر مجبور کیا ۔۔قدرت کے نظاروں کو توجہ سے دیکھا تو دل کو اچھا لگا ۔۔سات دن سے اس وادی کا مہمان تھا طبیعت کی خرابی کے سبب اس خطہ کے حسن سے انجان رہا ۔آج فجر کے بعد آنکھ کھلنے پر دراوزہ سے باہر نکلا ۔۔ہر طرف ہریالی اور اس پر پڑتی شبنم کی نمی نے محسور کیا ۔۔جب سے اب تک دروازے سے ٹیک لگائے حد نگاہ تک کے مناظر سے لطف اندوز ہوتا رہا۔اکا دکا لوگ ہی آ جا رہے تھے ۔۔چہل پہل بڑھی تو دروازے کے اندر آکر ہی نظارے کرنے لگا ۔۔۔برتن کی اٹھا پٹخ سے اندازہ ہوا ۔ باورچی خانہ اپنے مالکن سے آباد ہوگیا ..غزنوی اندر مڑا باروچی خانے کے سمت قدم بڑھائے تاکہ کل کی بات کی معافی مانگ سکے ۔۔لیکن اپنے بڑھتے قدم روک لیے ۔۔وہ اکیلی ہوگی بات انکل کے سامنے ہوئ ہے تو معافی بھی انہی کے سامنے مانگنی چاہیے ، اور کیا پتہ میرا جانا ناگوار لگے ۔۔یہ سوچ کر اپنے قدم واپس جائے پناہ میں بڑھالیے ۔۔
بابا ناشتہ کرلیں ۔۔۔مینیزہ کی سوجی آنکھیں اور زکام سے نکلی بھاری آواز نے بتا دیا رات یادوں میں کاٹی ۔۔ماضی کی پرچھائیوں نے سونے نہ دیا ۔۔۔
مینیزہ بیٹی رات بھر جاگتی رہی نہ ۔۔حشمت صاحب ناراضگی سے بولے
کیا کروں بابا جب بھیانک سوچیں جکڑ لیں تو ان کے سحر سے نکلا ہی نہیں جاتا ۔۔بابا لوگ طعنے کیوں دیتے ہیں ۔۔۔یہ طعنے دل پر کیوں لگتے ہیں ۔۔۔مینیزہ مضبوط سہارا پا کر بکھر گئ ۔۔
بچے غزنوی کا مقصد تمہاری دل آزاری نہ تھا اور دل جب دکھے ہوتے ہیں توتکلیف محسوس کرتے ہیں ۔تم۔میرا بہادر بچہ ہو ۔۔لوگوں کی باتوں پر دھیان دو ۔۔
پر بابا لوگ نہیں بھولتے نہ بھولنے دیتے ہیں اتنا وقت گزر گیا سات سال۔۔۔مگر ابھی تک طعنے دیتے ہیں ۔۔۔
حشمت صاحب سمجھ گئے بات کچھ اور ہی ہے ۔۔غزنوی کے طعنے سے بڑھ کر ۔۔۔
جو بات دل کی تکلیف کا سبب بنی وہ بھی بتاو ۔۔۔
نم آنکھوں سے اپنے باپ کے فکر مند چہرے کو دیکھا جو اس کے ساتھ ہر محاذ پر لڑا یہاں تک کبیر کو بھی گھر سے نکالا ۔۔اور آج بھی چہرے سے اندازہ لگا لیا کہ کوئ اور بات ہے ۔۔واقعی میں ماں باپ سے بڑھ کر دنیا میں کوئ رشتہ پرخلوص نہیں ہوتا ۔۔۔مجھے بابا کو نہیں بتانا چاہیے دکھ ہوگا ۔۔۔۔
رات میں غزنوی سے بحث کے بعد مینیزہ نے کبیر کو فون کیا لیکن کبیر کی جگہ خانی نے اٹھایا ۔۔سلام دعا کے بعد مینیزہ مدعے پر آئ ۔۔
خانی لالہ کب گاوں آیگا ۔۔اجنبی اپنے گھر جانا چاہتا ہے ۔۔مینیزہ نے جھوٹ کہا ۔۔
ارے اسے روکو وہ تو امارے لیا فرشتہ ہے ۔۔بڑے دل والا امیر بندہ ہے ۔۔ام دو دن بعد آئگی ۔۔اس کو کہنا کہ وہ رکے ہاں تم ڈورے نہ ڈال دینا ویسے بھی وہ نیک بچہ ہے اور تم زانی ۔۔۔
صدمے اور غم کے مارے مینیزہ کی آواز ہی نہ نکلی بس آنسو ہی نکلے ۔۔۔
کیا سو گئ اگر سونا ہی تھا تو فون ہی کیوں ۔۔بڑ بڑ کرتی خانی نے فون بند کردیا ۔۔۔
بولو بچہ کیا بات ہے ۔۔۔حشمت نے بازو ہلایا ۔۔
بازو ہلانے سے مینیزہ گڑ بڑائ ۔۔جو رات کے مناظر سوچنے لگی تھی ۔ہاں بابا ک کچھ نہیں ۔۔ہکلائ ۔۔
حشمت نے ایک نظر دیکھا بولے ۔۔لوگ چھٹنے کا غم ہے تو نہ کرو ۔۔۔اس دکھ سے تم نے اللّہ کو پانے کا در پکڑ لیا ۔۔اللّٰہ چاہیے یا لوگ ۔۔۔
اللّہ ۔جھٹ فیصلہ کیا ۔۔۔
ہممم تو پھر غم نہ کرو اللّہ کے بتائے رستے پر چلو لوگ خود آئیں گے ۔۔اللّہ راہیں ہموار کردے گا ۔۔۔تم پہلے کی زندگی دیکھو اور اب کی دیکھو ۔۔پہلے غفلت تھی ۔۔اب ہوش مندی ہے ۔۔پہلے عبادت سے دور دنیا سے نزدیک جہنم کے قریب تھیں ۔۔اب عبادت سے نزدیک تو جہنم سے دور ہو ۔۔انسان تو تھیں انسانیت نہ تھی مگر اب انسانیت آتی جا رہی ہے جب مکمل انسانیت آگئ تو سمجھ جانا اللّہ کو پالیا ۔۔۔معاف کرنا پہلے سیکھو پتہ ہے معاف کرنے سے میں ختم ہوتی ہے ۔۔۔جب میں ختم ہو اور ہم شروع ہو تو انسانیت فلاح پاتی ہے ۔۔۔۔۔
حشمت نے اپنے مخصوص انداز سے دل جوئ کی ۔۔جو مینیزہ کو بےحد سکون دے گئ ۔۔
بابا ناشتہ لے جاو ۔۔۔اجبنی کو دے دینا ۔۔اور ام شیریں سے بڑا تنگ ہے آج پھر چھٹی کرلی ۔۔چند دنوں میں ویسے بھی تعطیلات آنے والی ہے ۔۔۔
تمہاری اماں اپنے میکے سے آجائے تو خود بخود ٹھیک ہوجائے گی ۔۔حشمت مسکرائے اور ناشتے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئے جہاں غزنوی سوچوں میں گم تھا ۔۔۔۔
بر خودار ناشتہ کرلو ۔۔پھر نہانے کی تیاری کرو آج جمعہ ہے ۔۔تمہاری طبیعت بہتر ہے مسجد میں نماز پڑھنے چلیں گے ۔۔۔
آج جمعہ ہے ۔۔غزنوی نے حیرانگی سے پوچھا اسے یہاں آئے کتنے دن ہوئے یاد ہی نہیں تھا ،جمعہ کا ہی دن تھا جب وہ وہاں حویلی سے چلا تھا طبیعت کی خرابی کے سبب اس نے اس دن نماز نہیں پڑھی تھی ۔۔۔
کیوں جمعہ پتہ نہیں یا نماز پڑھنی نہیں آتی ۔۔۔اس کی حیرانگی پر حیران ہوئے۔۔۔
نہیں یہ بات نہیں ۔۔غزنوی شرمندہ ہوا ۔۔۔میرا مطلب تھا آج کے دن میں گھر سے نکلا تھا مجھے یہاں رہتے اتنے دن ہوگئے ۔۔
تو کیا ہوا تم مہمان ہو اور اللّہ کے فضل سے ہم۔پٹھان آج بھی مہمان کو رحمت سمجھ کر عزت دیتا ہے ۔۔حشمت نے غزنوی کو جواب دیا ۔۔۔
چلو ناشتہ کرو سردیوں میں گرم چیز بھی ٹھنڈی لگتی ہے ۔۔ناشتہ شروع کیا خاموشی سے ناشتہ کیا ۔۔ناشتہ کے بعد حشمت بولے ۔۔
تمہارا اور میرا سائز ملتا جلتا ہے میں تم کو سوٹ دیتا ہوں فکر نہ کرو نیا ہے اترن نہیں ۔۔۔
سوٹ پر غزنوی کے چہرے کے عجیب تاثر آنے پر انہوں نے وضاحت بھی دی ۔۔
غزنوی نے نظر جھکا لی ۔۔شکریہ ۔۔
شکریہ کی کوئ بات نہیں ۔۔تم نماز کے لیے پھر ساتھ چلو گے
غزنوی نے کوئ جواب نہیں دیا خاموشی اختیار رکھی
آتی ہے نہ نماز حشمت نے پھر سوال کیا ۔۔
جی مجھے آتی ہےجب گاوں ہوتا ہوں تو پانچوں وقت کی پڑھتا ہوں اور شہر میں صرف جمعہ کی ۔۔۔غزنوی شرمندگی سے بولا ۔۔۔
چلو جب توفیق ہوتی ہے پڑھ تو لیتے ہو حشمت نے بھی نصیحت کرنا مناسب نہ سمجھا چلو آج بھی پڑھو بلکے آج ساری نماز پڑھتے ہیں تم کو وادی بھی گھوماتےہیں ۔۔حشمت نے ہلکے پہلکے انداز میں نماز کے لیے آمادہ کیا ۔۔۔
کیا میں اللّہ کے گھر جانے کے قابل ہوں ۔۔۔غزنوی گومگو کیفیت میں بولا ۔۔
دوبارہ پھر سے کسی کا ریپ کرنا ہے ۔۔۔
نہیں کبھی بھی نہیں ۔۔غصہ میں بھی نہیں۔۔زوروشور سے غزنوی نے نفی کی ۔۔
تو پھر اس گناہ کی معافی نہیں مانگنی کیا ۔۔اللّہ کے بندے کو ستایا ہے تو اللّہ سے بھی تو مانگنی ہوگی معافی ۔۔۔حشمت نے غزنوی کے نفی پر سر ہلاتے پوچھا
کیا اللّہ معاف کردیگا میں نے سنا ہے وہ سخت گناہ دیتا ہے ۔۔ڈر سے غزنوی نے بولا ۔۔۔
جس نے بتایا اللّہ قھار ہے اس نے یہ نہیں بتایاغفار ہے غفور ہے وہ روف ہے عفو ہے رحمن ہے رحیم ہے تواب ہے کریم ہے اور ذولجلال اکرام ہے ۔۔
صرف قھار سن کر اپنی معافی مانگنے کی ہمت کھو بیٹھے عفو سن کر اس کے دربار میں جاو ۔۔۔پھر اپنے اور اللّہ کا معاملہ خود دیکھو ۔
اللّہ سبحانہ کا فرمان ہے ۔۔۔
مگر وہ جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرے تو اللّہ پاک ایسے لوگوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل ڈالتے ہیں اور بے شک اللّہ پاک بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے ۔۔۔
اور جو توبہ کرے اعمال صالحہ بھی کرے تو بلا شبہ وہ اللّہ کی طرف حقیقتاً اور سچا رجوع کرتا ہے ۔۔الفرقان آیت نمبر 70 _71
اللّہ رحمن نے توبہ کا در کھلا رکھا ہے ۔۔دل سے پیشمان ہوں تو آپ کے اور توبہ کے بیچ کوئ بھی حائل نہیں ہوسکتا ۔۔۔
اللّہ کے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وسلم کا فرمان ہے بلاشبہ اللّہ پاک اس وقت تک توبہ قبول کرتا ہے جب تک غرغرہ نہ (موت)نہ شروع ہوجائے ۔۔۔۔صحیح ترمذی ۔۔۔
چلو اعمال میں نماز سے شروعات کرو ۔۔نماز کی بابت تو روز قیامت بھی سوال ہوگا ۔۔نماز لازمی پڑھا کرو قبول کرنے والی ذات اللّہ کی ہے ۔۔اپنے وسوسات اور ابہام کے چکروں میں عبادت سے منہ موڑ لینے سے دل پر زنگ لگنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر مہر ہی لگ جاتی ہے ۔۔۔
اللّہ گناہ کرنے والے کو کئ بار اصلاح کا موقع دیتا ہے ۔۔اگر گناہ کرنے والا اصلاح نہیں کرتا تو اللّہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے ۔۔۔
تم نے زندگی میں یقیناً کوئ ایسی نیکی کی کی ہوگی جو اللّہ کو بہت پسند آئ ہوگی تب ہی تو تم کو جلد توبہ کا موقع مل گیا ۔۔اب یہ تمہارے ہاتھ میں موقع سے فائدہ اٹھا کر پرہیزگار بننا ہے ۔۔یا اور گناہ کر کے بدترین بننا ہے ۔۔۔
حشمت نے دھیمے انداز میں آسان لفظوں کا سحر پھونکا ۔۔۔غزنوی نے جانے کی حامی بھری ۔۔ندامت کے ساتھ ہی صحیح اس در پر جانا ہے مہر نہیں لگانی دل پر ۔۔۔۔
جاری ہے
