Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22
میں نے معاف کردیا ہے مینیزہ بولی ۔۔۔
غزنوی کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔۔۔بے یقینی آنکھوں میں پھیل گئ۔۔۔
کیا معاف کردیا جس کے سبب تذلیل ہوئ بد کرداری کاٹھپہ لگا ۔۔کیسے ۔کیا وہ تمہارے قدموں میں بیٹھ کر اس نے معافی مانگی تھی یا ہاتھ جوڑ کر بتاو مجھے میں بھی وہی طریقہ آزماونگا ۔۔غزنوی پُرامید ہوا ۔۔
نہ ہاتھ جوڑے نہ قدموں میں گرا نہ ہی معافی مانگی ۔۔لیکن مجھے معافی چاہیے تو میں نے معاف کردیا ۔۔
کس سے معافی چاہیے تھی جو اتنی دریا دلی کا ثبوت دیا ۔۔کم از کم اسے آنے تو دیا ہوتا. ۔. غزنوی کے لہجے میں برہمی در آئ
مینیزہ جو غزنوی کی برہمی پر ہنسی آئ ۔۔ہلکی ہنسی کی آواز پر غزنوی نے ناگواری سے بولا کیا لطیفہ سنایا تھا ۔۔۔
لطیفے سے کم بھی نہ تھا ۔۔ خیر مجھے بھی تو معافی چاہیے تھی۔۔۔اس کو اتنا موقع میں نے ہی تو فراہم کیا ۔۔۔نہ میں موقع دیتی نہ وہ مجھے بے عزت کرکے تہمت لگاتا ۔۔میں بھی تو اپنے رب کی بارگاہ میں خطا وار اور شرمسار ہوں ۔۔ مجھے اپنے رب سے امید ہے کہ مجھے معاف کردیگا تو اس کی رضا خوشنودی کے لیے میں اپنے ساتھ کی گئ اس شخص اور دوسروں کی غلطیاں معاف کرتی ہوں ۔۔مجھ سمیت سارے ہی انسان کوتاہیاں غلطیاں اور گناہ کر سکتے ہیں ہم فرشتے نہیں ہیں ۔۔بندے ہیں گنا ہ سے بچنے کی کوشش کے باوجود کوئ نہ کوئ خطا اور ایک دوسرے کی دل آزاری کا باعث بن جاتے ہیں ۔۔ہم اپنے اندر معاف کردینے کی صلاحیتیں پیدا کریں تو اللّہ ہم سے خوش ہوگا۔. بڑے سے بڑا گناہ کرکے بھی اللّہ سے امید لگائیں اور خود معاف نہ کریں ۔۔جب کے میں اپنی بے راہ روی کی معافی مانگ رہی ہوں میں نے بھی اللّہ کو دھوکہ دیا ۔۔میرے پاس میری محبت میری حیا کسی کی امانت تھی ۔امانت میں خیانت کرکے دھوکہ ہی تو دینا چاہا تھا شکر ہے رب کا بروقت ٹھوکر لگی ۔۔دنیا سے چھپ کر نامحرم سے دل لگا لیا لیکن اللّہ سے تو نہیں چھپی وہ تو دیکھ رہا تھا میرا دھوکہ ۔۔ٹھوکر لگی میں سنبھلی ۔۔تو یہ میرے رب کا احسان ہے ۔۔۔مجھے رب سے محبت ہے تو اس کی محبت کا تقاضہ ہے اس کی پسندیدہ صفات اپناوں اس کے بندوں سے اچھے سے پیش آوں ۔۔معاف کروں …..
اللّہ پاک قرآن میں فرماتا ہے اور چاہیے کہ (دوسروں کو )معاف کریں در گزر کریں کیا تم نہیں چاہتے کہ اللّہ تمہاری بخشش کرے اور اللّہ بخشننے والا مہربان ہے ۔۔۔سورہ النور آیت 22
حدیث پاک میں ہے ۔۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔۔صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کے معاف کردینے سے اللّہ پاک اس کی عزت بڑھا دیتا ہے ۔۔اور جو آدمی اللّہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللّہ اس کا درجہ بڑھا دیتا ہے ۔۔۔صحیح مسلم 2091۔۔۔ اللّہ پاک سے امید لگا رہیں کہ ہمیں معافی مل جائے اور خود ظالم بنے دوسرے کو سزا دلوانے کے چکر میں ہیں تو یہ پھر غلط ہے ۔۔ مینیزہ کی آواز کا ٹھراو بتا رہاہے وہ اب اللّہ کی رضا میں راضی رہنے والی بندی بنتی جارہی ہے ۔
کافی دیر سے دونوں کی بات سنتے حشمت نے بھی تائید کی ۔۔جانتے ہو تم دونوں اس آیت پاک کا کیا پس منظر ہے ۔دونوں نے نفی میں گردن ہلائ ۔۔
بابا ابھی تفسیر نہیں پڑھی ۔۔۔مینیزہ شرمندہ ہوئ ۔۔۔
ہممم ۔میں بتاتا ہوں ۔اس آیت کا پس منظر ہے کہ حضرت عائشہ پر کسی نے تہمت لگائ ان میں سے بعض تہمت لگانے والے حضرت ابو بکر ؓکے رشتے دار تھے جن کی مالی امداد آپ ؓ کرتے تھے ۔۔تہمت کے سبب آپ نے انہیں معاف نہ کیا اور مالی امداد بھی رک دی ۔۔اللّہ پاک کو گوارا نہ ہوا اس کے پیارے بندے کا پیاراایسا کرے تب آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کے ذریعہ مشورہ آیا ۔اگر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو معاف نہیں کرے گا تو پھر اللّہ سے معافی کی امید کیوں لگا رہا ہے ۔۔۔۔اللّہ کو پسند ہے کہ اس کے بندوں کو معاف کیا جائے ۔۔۔۔۔اللّہ کے بندے نے اللّہ کی پسند کے لیے ان کو معاف کیا اور امداد شروع کردی ۔۔
انکل آپ کا بھی شکریہ آپ بھی میری اصلاح کا ذریعہ بنےغزنوی نے عاجزی سے کہا
اللّہ کا کرم ہے اس نے موقع دیا ۔۔۔ اب تم جا رہے ہو آتے جاتے رہنا اور ایک نصیحت اپنے غصے کو قابو کرنا سیکھو اور معاف کرنا بھی ۔۔۔اس دن غصہ پر قابو کرتے اور لاروش کی بات کو معاف کرتے تو روح کے قتل سے بچ جاتے ۔۔۔
حضرت معاذ روایت کرتےہیں کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ جس شخص نے غصہ کو پی لیا حالنکہ وہ اسے نافذکرنے پر قادر تھا تو اللہ روز قیامت ساری مخلوقات کے سامنے اسے بلائیں گے اور اسے اختیار دیں گےجو حور تو چاہے پسند کرے صحیح بخاری ٣٠٢ ایک اور حدیث میں غصہ ضبط اور معاف کرنے کا انعام بیان ہے” اللّہ پاک روز ِ قیامت فرمائیں کریں گے وہ شخص کھڑا ہوجائے جس کا میرے اوپر کوئ حق ہو ۔۔۔۔پس کوئ شخص کھڑا نہیں ہوگا ، مگر وہ جس نے دنیا میں کسی کی خطاوں کو معاف کیا ہوگا ۔”۔ص ۵٨
شرمندگی سے غزنوی نے سر جھکا لیا ۔۔۔ اور سکون سے حشمت کی باتیں ذہن نشین کرنے لگا ۔۔۔
تو ضروری ہے اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور دوسروں کو بھی معاف کرنا سیکھو اگر اللّہ پاک سے انعام چاہیے ۔۔۔حشمت نے مشورہ دیا ۔۔۔غزنوی نے سر ہلایا اور ذہن میں موجود ڈر کو زبان دی ۔۔اللّہ معاف کردے اور لاروش نہ کرے تو ؟
اللّہ معاف فرمادے گا کیونکہ وہ بہت غفور و رحیم ہیں لیکن دوسرے فریق یعنی بندے کا معاف کرنا بھی ضروری ہے ۔۔قیامت کے دن وہ اپنا مقدمہ لیکر کھڑا ہوسکتا ہے ۔۔لہذا ایسے معاملات میں اللّہ سے معافی مانگنے کے ساتھ مظلوم کی تلافی بھی ضروری ہے ۔۔تلافی کے بغیر معافی بے معنی چیز ہے ۔۔۔تاہم۔کسی تلافی کی صورت نہ ہو مثال کے طور پر مظلوم دنیا سے رخصت ہوگیا ہے تو اس صورت میں اللّہ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے ہوسکتا ہے روز قیامت اللّہ پاک معافی کی سفارش کردیں اور وہ بندہ خدا کی محبت میں اس وقت ظالم کو معاف کردے ۔۔
میں ابھی سیدھا وہیں جاونگا پوری کوشش کرونگا تلافی کی ۔۔الوادع کے بعد کبیر کے ساتھ لاروش کی حویلی پہنچا ۔۔گاڑیوں کو قافلہ تھا جو کبیر کی مہران کے پاس سے گزرا ۔۔غزنوی نے گیٹ کے پاس جا کر کہا مجھے زاور آفریدی سے ملنا ہے ۔۔۔ بڑا سا لوہے کا دروازہ بند کرتے چوکیدار کے ہاتھ رکے ۔۔۔جواب دیا پھر دروازہ بند کرنے کی طرف دھیان دیا
صاحب تو ابھی شہر گیا ہے ان کی بیٹی لاروش کا آج ولیمہ ہے ۔۔۔
غزنوی پل میں پتھر ہوا اور تھوڑی دیر بعد آنکھ نم ہوئ دنیا ہی اجڑ گئ ۔۔یااللّہ تلافی کا موقع ہاتھ سے نکل گیا ۔۔آج میری محبت مجھ سے ہمیشہ چھوٹ گئ ۔۔۔شدت غم سے آنسو نکل آیا ۔۔
محبت کب کی تھی دل نے طنز کا موقع نہ چھوڑا
کی تھی کی تھی محبت ۔۔۔آنسو چھلکنے لگے ۔۔۔آنسووں نے جواب دیا ۔۔بس بہک گیا تھا کیوں صرف محبت تھی عشق نہیں کیا تھا ۔۔۔دروازے کے سامنے بت بنے غزنوی کو کار میں بیٹھے کبیر نے ہارن بجا کر متوجہ کیا غزنوی کی پیٹھ تھی اس لیے اسے غزنوی کا رونا نظر نہ آیا ۔۔
ہارن پر جلدی سے آنسو پونچھے ۔۔پلٹا اور کہنے لگا ۔۔۔
آپ جایے یہاں سے میرا گاوں قریب ہے چھوٹی پہاڑی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔ ملتے ملاتے لوگوں سے جاونگا ۔۔۔ان شاء اللّہ شہر آکر آپ سے ان بچوں سے پھر ملونگا ۔۔ محبت بھری نگاہ سے ماں کے ساتھ پیچھے بیٹھے دونوں معصوم کو دیکھا جو میٹھی نیند سو رہے تھے ۔۔۔
آپ اپنا خیال رکھیے گا لالہ ۔۔۔کبیر کی بیوی بولی ۔۔
جی بہن ضرور ۔۔۔اب جایے کبیر دن ہی دن میں سفر کرلو تو بہتر ہے ۔ اللّہ کی امان میں ۔۔
کار کے روانہ ہوتے آہستگی سے اپنی محبت بچھڑنے کا ماتم کرنے لگا ۔۔اب تو روگ لگ گیا نہ جانے کب تک دل سوگ منائے گا ۔۔
میں اس کے لائق نہیں تھا ۔۔جب ہی وہ مجھ سے دور ہوئ ۔۔میں اللّہ کریم کی نعمت کی ناقدری کری ۔۔مجھے میرا آئیڈیل مجسم اضافی خوبیوں کے ساتھ ملا میں نے کیا کیا زور زبردستی سے اسکے دل میں جگہ بنانی چاہی خود کو اس پر تھوپا اپنی من مانی شروع کردی اور پھر آخر میں لوٹ کر سب ختم کردیا ۔۔مجھ سے بڑا ناقدرا کوئ نہیں ہوگا ۔۔۔۔ دل و دماغ میں آہ وبکا جاری رہی سارا دن آہستہ چلتے تھکن زدہ بے حال بالاخر منزل پر پہنچ گیا ۔چوکیدار نے جانی پہچانی آواز پرفورا دروازہ کھولا
۔اپنی جنت کی طرف بے اختتیار قدم بڑھائے ۔۔۔مہر بانو حویلی کے لان میں ڈنر کے بعد چہل قدمی کر رہی تھیں ۔۔ساتھ ساتھ گل جاناں کی باتوں سے محظوظ بھی ہورہی تھیں ۔۔.
امو جان ۔۔۔ پیچھے پہنچ کر غزنوی نے بے تابانہ پکارا ۔۔۔
آواز پر دونوں کے قدم ٹھٹکے تیزی سے موڑیں ۔۔
مہر بانو نےلپک کر غزنوی کو اپنے کلیجہ سے لگایا ایک ماہ بعد ماں کی ممتا کو قرار آیا۔۔۔۔۔۔۔
گڑ کی ڈلی تو خوشی سے چیخ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی ۔۔۔
کیا اپنے لالہ سے ابھی تک بدگمان اور بے اعتبار ہو ۔۔ میں تمہارا محافظ ہوں ۔۔۔غزنوی جذباتی ہوا ۔۔
لالہ لالہ مجھے آپ پر اعتبار ہے ۔۔۔یہ کہہ کر گل جاناں غزنوی کے گلے لگی ۔۔۔ایک ماہ بعد غزنوی کے رگ و جان میں سکون کی لہر سرائیت ہوئ ۔۔پھر سے اعتبار پالیا ۔۔
حویلی میں خوشی کے شادیانے گونج اٹھے ۔ غزنوی سب ہی کزن سے محبت سے ملا ۔۔سب کو ہی غزنوی کا انداز جداگانہ لگا ۔۔۔۔۔چاروں دوست بھی ملے شکوے شکایتیں باز پرس کیا. . .
غزنوی کو انس اور ثنا کی انگجمینٹ ٹوٹنے کا بے حد افسوس ہوا ۔۔اس نے ثنا سے بات کرنے کا کہا تو انس نے صاف منع کردیا ۔
۔۔اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر غزنوی کے سامنے کیے ۔۔
یہ دیکھ میرے بھائ ۔۔۔تیرے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں تو کچھ نہیں کریگا جو کرونگا میں خود کرونگا۔۔۔اس کے غصہ ٹھنڈا ہونے کا انتظار ہے بس ۔ اور مجھے امید ہے جلد ختم۔ہوگا جب وہ لاروش کو خوش دیکھے گی ۔۔۔
لاروش کے نام پر غزنوی کا چہرہ پھیکا پڑا ۔۔۔ہمت مجتمع کرکے پوچھا ۔۔۔
تجھے کیسے پتہ لاروش خوش رہے گی ۔۔۔
ثنا کو پہلے ہی شجاع پسند تھا اتنا سب لاروش کے ساتھ ہونے کے بعد بھی شجاع نے لاروش کو اپنایا ہے ثنا کی چہکار نے بتایا لاروش کے لیے شجاع اچھا ہے اور اچھے کے ساتھ ہر کوئ خوش رہتا ہے ۔۔آہستگی سے اپنی بات مکمل کرکے غزنوی کی سمت نظر جمائ کیا پتہ ہھر اگلا کوئ سوال ہو اور جواب دینا پڑے ۔۔لیکن غزنوی کی بات نےحیرت کا شدید جھٹکا دیا وہ سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ غزنوی یہ کہے گا وہ تو یہ سوچ رہے تھے لاروش کو تنگ کرنے کی بات کریگا تو اسے یہ سب سمجھائیں گے مگر الٹا دریا بہہ گیا ۔۔
اللّہ پاک لاروش پر کرم کرے اسے بہت زیادہ خوشیوں سے نوازے اور اعلی ظرف بنائے ۔۔آمین بھرائی آواز میں دعا دی
، پھر دھیان بٹانے کے لیے ادھر اُدھر کی باتیں کی ۔۔فائنل ایگزام کی تیاری کی بابت بات چلی تو پھر ان سب کے ذہن الجھے ہی رہے غزنوی کی پرسکونی نے ان کو بے سکون کیا ۔۔۔دوسرے دن دونوں چچا نے غزنوی کو سیاست میں آنے کو کہا ۔۔
ابھی تو نہیں چچا جان لیکن اگلی بار ضرور الیکشن میں حصہ لونگا ۔۔اس وقت تک خان صاحب کی پارٹی کا بھی ٹیسٹ ہوجائے گا ۔۔۔اگر اچھا کام کیا تو ان ہی کو جوائن کرونگا ۔۔۔فی الحال ابھی کچھ اور مصروفیت لینی ہیں ۔۔۔کچھ دین کے کام کرنا ہے ۔۔بزنس پڑھا ہے اسے بھی کارآمد کرنا ہے ان شاء اللّہ اگلا الیکشن میرا ہدف ہے ۔۔اور اچھا لگا آپ نے اپنی پارٹی چینج کرلی ۔۔۔غزنوی کے دوٹوک منا کرنے پر دونوں وقتی خاموش ہوگئے ۔۔یہ نہ سہی ضمنی الیکشن کبھی ہوا تو اس میں لے آئیں گے ۔۔۔
مہربانو بیٹے کی نئ روش سے بہت خوش تھیں کل سے کئ بار صدقہ نکال چکی ہیں
_________________________________۔
السلام علیکم کیا حال ہیں
وعلیکم السلام بھائ میں ٹھیک ہوں اور ناراض ۔۔
کیوں بھئ جوان کیوں ناراض ہو ۔۔۔
آپ مما کو کیوں تنگ کررہے ہیں شادی کریں تاکہ وہ گاوں شفٹ ہوسکیں ۔۔آپ کی وجہ سے اکیلی ہیں ۔ بابا بھی اب بزنس کو خیر باد کرنا چاہتےہیں مگر آپ کی وجہ سے نہیں کررہے ۔۔.
یار میں نے منع نہیں کیا مما اور پاپا کو ۔۔اس بار جھنجلائ آواز آئ
تو شادی بھی تو نہیں کر رہے ہیں ۔۔مجھے وجہ بتا دیں میں اصرار نہیں کرونگا ۔۔۔
کچھ دیر خاموشی چھائ رہی صرف سانسوں کی آواز نے بتائے رکھا دونوں طرف موجودگی ہے ۔۔
کسی بددعا کے حصار میں ہوں ۔۔کسی کا دل دکھایا ہے ۔۔محبت کے نام پر لوٹنے کی کوشش کی ۔۔۔تہمت لگایاروتے بولا
اور سامنے والا بے یقین ہوا اسے یہ سب سننے کی تو امید ہی نہ تھی ۔۔تو آپ کا بویا لاروش نے کاٹا مدہم سرگوشی ابھری ۔۔
مجھے ٹھیک اول آخر سب بتائیں۔۔شجاع کے لہجے میں ادب کے ساتھ برہمی عود آئ ۔۔
اس کے سرد لہجے پر وجاہت کو احساس ہوا شاید اب شجاع بھی اس کی عزت نہ کرے اور کیوں کرے وہ عزت ,میں نے بھی تو کسی کی عزت سر عام اچھالی تھی ۔۔۔
کیا ہوا سانپ کیوں سونگھ اب بتادیجیے ۔۔۔شجاع دیر تک کی خاموشی سے جنھجلایا ۔۔۔۔
کیا ہوا سب خیریت تو ہے ۔۔شجاع کی بات تو نہیں لیکن چہرے کی سرخی سے لاروش نے اندازہ لگایا مسئلہ سنگین ہے ۔۔
نہیں یار کوئ بات نہیں ۔۔میرا دوست ہے ۔۔تم آرام کرو میں باہر جا کر بات کرلیتا ہو ۔۔لاروش کو بولتا خود سے سوچتا قدم باہر بڑھائے ۔۔ویسے بھی بھائ لگ رہا ہے مراقبے میں چلا گیا ۔۔بوجھل سانس خارج کی اور صحن میں رکھی چیئر پر بیٹھ گیا ۔۔
بھائ اس سے پہلے میری برداشت جواب دے جائے مجھے آپ پوری بات بتایے ۔۔۔شجاع نے وجاہت کو پھر کہا ۔۔۔
ایر پیس میں سے جب لاروش کی آواز سنی تو وجاہت ڈر گیا اب اس کا راز فاش نہ ہوجائے ۔۔لیکن شجاع کے بہانے نے اطمینان عطا کیا ۔۔۔اپنے بھائ کی اچھائیوں سے واقفیت کے بعد بھی ڈر اس بات کی دلیل تھا جن کو برے کام کے بعد اپنے کیے کا احساس ہو اپنی برائ کا پتہ ہوتا ہےبرائ عیاں ہونے کا خوف ان کو دلی طور بے حد کمزور کردیتاہے ۔۔ ۔۔خود کی رسوائ کاخوف ان کو چین نہیں لینے دیتا ۔۔۔۔۔مداوا کرنے کی کوشش کریں خود کو ٹھیک کرنے کے بجائے صرف عزت جانے کا خوف خود پر طاری کرلیتے ہیں ۔۔
کچھ سال پہلے جب میں نے یونی کو خیر باد کیا تھا ڈگری کے پرابلم کی وجہ سے یونی جانا ہوا واپسی میں میری گاڑی خراب ہوگئ ۔۔اور وہیں میری قسمت بھی خراب ہوئ ۔ ایک لڑکی مینیزہ سے میری دوستی کی ابتداء ہوئ اس کی ہنسی نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا میں اس کے جال میں خود جکڑ گیا ۔۔آہستہ آہستہ دوستی محبت میں بدلی ۔۔لیکن دوستوں کی گرل فرینڈز محبتوں کا سن سن کر میرابھی دل چاہا میں اس سے ملو ۔۔جیسے میرے دوست وقت گزارتے ہیں شادی سے پہلے ہی وہ سب کرلیتے ہیں جو شادی کے بعد جائز ہوتا ہے ۔۔لیکن مینیزہ ہر بار مجھے ملنے سے ٹال دیتی اور میں بھی مان جاتا تھا لیکن دل میں کسک موجود تھی ۔۔خالہ کے گھر شادی میں ملاقاتیں کی پہلی ملاقات اور دوسری ملاقات بہت اچھے سے رہی وقت کم ملا لیکن مجھے اچھا لگا ۔۔۔لیکن بات وہی میں تو اپنے دوستوں کی باتیں سن کر ان جیسا وقت بھی گزارنا چاہتا ۔۔۔لیکن پہلے دن تو یہ خیال نہ آیا دوسرے دن البتہ آیا سوچا کل بات کرتا ہوں کسی دن فلیٹ کے لیے راضی کرونگا مگر اس کی نوبت ہی نہیں آئ ذہن میں پہلی ہی فتور بھرا تھا اس لیے تیسرے دن شیطان حاوی ہوگیا ۔۔۔
میں نے اس سے ہی شادی کرنی تھی اس لیے اگر پہلے ہی ملاپ ہوجاتا اس میں کوئ ہرج نہ تھا مگر وہ نہ مانی ۔۔پھر اس کے تھپڑ پرشیطان نے مغلوب کرلیا ۔۔اس کی چیخ وپکار پر لوگ آنے پر میں بوکھلاگیا غیر ارادی طور پر سارا الزام اس کے سر کردیا ۔۔۔لوگوں کی لعنت و ملامت سب اس کی طرف ہوگئ اور میں خاموشی سے بچ جانے کی خوشی میں باہر آگیا یہ خوشی وقتی تھی ۔۔مجھے اس سے محبت تھی میری محبت کمزور ہی سہی مجبت تھی ۔وجاہت بتا کر چپ ہوا شجاع کا بھائ کی بات سن کر دل کیا کاش وہ بڑا ہوتا کس کس کر دوتھپڑ لگاتا کہ حواس ٹھکانے ہوجاتے ۔۔صبر کا گھونٹ پیا اور بے حد ناراضگی غصہ لہجے میں در آیا
غلط محبت نہیں تھیں بس اٹریکشن تھی بعد میں ضرورت بن گئ ۔۔جانتے ہیں نکاح سے پہلےتعلق زنا میں آتا ہے ۔۔اگر اتنی تڑپ جاگ رہی تھی تو شادی ہی کرلیتے ۔ یہ تو وہی بات ہوئ سفر کرنا ہے لیکن ٹکٹ نہیں لینا بغیر ٹکٹ کے سفر کرنا ہے پھر چھپتے رہو بچتے رہو ۔۔۔۔بے حد ناراضگی سے شجاع بولا ۔۔
پھر شادی کے بعد سناتے اپنے دوستوں کو اپنی خلوت کے قصے ۔۔۔
شٹ اپ شجاع تمہاری ہمت کیسے ہوئ ایسی گھٹیا بات کہنے کی بے غیرت پٹھان نہیں ہوں ۔جو اپنے پرسنل دوستوں کو بتاو ۔۔۔شجاع کے مشورہ کوڑے کی طرح لگا ۔۔
یہ خوب کہی بیوی عزت ہے دوسرے کی بیٹی جسے خود ورغلاتے ہیں جھوٹے قصے فضول دعوے کر کے سنہرے خواب جگاتے ہیں ان کی باتیں دوستوں کو کرتے غیرت کہاں مرجاتی ہے ۔۔صرف پٹھان ہی نہیں ہر ذی ہوش مرد اپنی عورتوں کے قصے دوسروں کو نہیں سناتے ۔۔۔۔بیوی نہیں دوسروں کی بہنوں بیٹیوں اور بیویوں کو لذت کا موضوع بنا نا سخت گناہ اور غیر اخلاقی فعل ہے ۔۔۔جیسا آپ غیرت محسوس کرہے ہیں غصہ آیا ویسا ہی سامنے والے کے باپ بھائ کو بھی غصہ آتا ہوگا ۔۔اور شادی سے پہلے اگر سچی محبت ہو ہی جائے تو نکاح کرکے اسے حلال بنانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ۔۔
سرد سانس خارج کرتا شجاع رکا جس کے ایک ایک لفظ سے تاسف ابھر رہا تھا۔۔۔ پھر پوچھا آپ کو اپنی غلطی کا احساس جب ہوا آپ نے اس معافی مانگی ۔۔
نہیں ، شرمندگی وجاہت کے لہجے میں گھلی ۔۔
آپ بھائ میرے پاس تو آپ کے لیے الفاظ ہی ختم ہوگئے ۔۔کیا کہوں آپ نے چھوٹے بچے کو بھی مات دےدی آج چھوٹا بچہ غلطی کرتا ہے تو فورا سوری کہتا ہے ۔۔آپ نے کبیرہ گناہ کیا ۔۔اس کا احساس کرنے میں اتنے سال لگا دیے ۔۔نہ جانے وہ ہستی اب ہوگی بھی یا نہیں ، خاندان والوں نے نہ کیا سلوک روا کر رکھا ہوا ہوگا ۔۔کہیں غیرت کے نام پر مار تو نہیں دیا ۔۔
اللّہ نہ کرے اسے کچھ ہو ۔۔وجاہت نے بیچ میں بات کاٹی. . اس کا دل مینیزہ کی موت کا سن کر کانپا ۔۔رات کو روز مینیزہ کاخیال سوچ کر ندامت محسوس کرکے سوتا تھا ۔۔۔سوچ سوچ کے محبت پختہ تو ہوگئ مگر ابھی بھی کمزور ہی ہے ۔۔۔
میں نے بشری سے پوچھا تھا اس نے بتایا میرے جانے کے بعد اس کی انگجیمنٹ ٹوٹ گئ اور ابھی تک شادی نہیں ہوئ ۔۔۔۔وجاہت نے حالیہ اطلاعات بتائ ۔۔۔
۔اب ایک ہی حل ہے بشری کی شادی میں سب آئیں گے وہاں سب کے سامنے آپ نے صرف سچ بولنا ہے ۔۔اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے سنا آپ نے ،آپ نے تلافی کرنی ہے۔۔۔۔
کوشش کرونگا وجاہت نے کہا ۔۔
اب بھی کوشش ہی کریں گے ۔۔۔ایسا نہ کرے بھائ خود پر رحم کریے ۔۔۔زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں ہوتا جتنی جلد ہو تلافی کی کوشش کریں ۔ ۔
کچھ دیر اور سمجھایا ہمت بندھائ جب اطمینان ہوگیا وجاہت معافی مانگے گا تو شجاع نے فون آف کیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزنوی کی واپسی پر کسی نے بھی لاروش کا قصہ نہ چھیڑا انہیں غزنوی کے برتاو کا پتہ تھا ۔۔لیکن یونی والوں نے بھی نئے غزنوی کو دیکھا ۔۔جو زیادہ تر اپنے کام سے کام رکھتا ۔۔سب پیریڈ لیتا ۔۔۔ٹیچر سے عزت سے پیش آتا اور لڑکیوں سے صرف سلام تک بعد رکھی ۔۔اگر کسی نے بات کرنے کی کوشش کی تو اپنی سرد آنکھوں سے گھور کر سامنے والی کی ہمت ختم کر دیتا ۔۔۔
لاروش کے سمجھا نے پر ثنا نے بھی پیپرز دیے ۔۔اور انس کو اگنور کیے رکھا ۔۔انس نے بھی فی الحال خاموشی اختیار کی ۔۔۔
ایگزام کے بعد واپس گاوں آیا ۔۔۔لیکن جانے سے پہلے زاور آفریدی کی حویلی پہنچا ۔۔۔ اور بیگم زاور اور زاور سے ملنے کی استدعا کی ۔۔گارڈز نے اندر پیغام بہیجا ۔۔۔جہاں زاور آفریدی غزنوی کی آمد پر حیران اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے سامنے گئے ۔۔
کیوں آئے ۔۔بحیثیت مسلمان گھر آئے مہمان کو عزت دینی چاہیے ۔۔۔تو میں بھی مجبور ہوکر تم کو اپنے روبرو بلالیا ۔۔۔۔۔زاور آفریدی اپنا غصہ ضبط کرنے کے چکر میں لال ہوگئے ۔۔۔
مجھے اپنے کیے کی معافی مانگنی ہے ۔۔شرمندگی سے بولا نظریں نیچے جھکائے رکھی ۔۔۔
اوہ اس گناہ کی معافی مانگ رہے ہو بقول تمہارے تم نے تو کیا ہی نہیں ۔۔۔زاور نے طنز کیا ۔۔۔
میں شرمندہ ہوں ندامت محسوس ہوتی ہے ۔۔۔میں بہت برا ہوں پلیز معاف کردیں ۔۔غزنوی گڑ گڑایا ۔۔ہاتھ جوڑے زاور کے قدموں جا بیٹھا ۔۔۔۔
زاور نے تیزی سے اپنے قدم پیچھے کیے ۔۔۔۔نہیں کرسکتا معاف تمہارے یہ آنسو میرے غم کو ان لمحات میں محسوس کی جانے میری بسی کو کم نہیں کرسکتے ۔۔۔زاور دھاڑا ۔۔۔
آرام سے ملازمین سن لیں گے ۔۔گل زریں روتے بولیں ۔۔۔
بیگم اس کو چائے پلا کر رخصت کر دیجیے گا ۔۔۔گل زریں کی بات سن کر زاور حکم دیتے آگے بڑھنے لگے ہی تھے غزنوی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر روکا ۔۔۔اور چہرہ گل زریں کی طرف کیے بولا
پلیز آنٹی اللّہ پاک کے واسطے ہی معاف کردیں ۔۔۔اللّہ تو معاف کرنے والے کو گناہ سے پشیمان ہونے والے کو معاف کردیتا ہے ۔۔پلیز
ہمیں دین نہ سیکھاو ۔۔سب پتہ ہے ۔۔مگر کہاں سے ایسا ظرف لائیں جو تمہیں معاف کردیں ۔۔تم۔اندازہ نہیں کرسکتے اس ماں کی حالت کا جب اس کی اولاد بے حال ہوجائے ۔۔ تو وہ ماں بھی بے حال ہوجاتی ۔۔تم اندازہ نہیں لگا سکتے اس ماں کا جس کو پتہ چلے اس کی بیٹی کی عصمت لٹ گئ تب اس ماں کو لگتا ہے وہ بھی لوٹ گئ ۔۔تم اس ماں کے دکھ کا بھی اندازہ نہیں لگا سکتے جسے پتہ چلے اس کی اولاد اپنا سب گنوا کر اپنی جان بھی گنوانے چلی ہے تو اس ماں کو بھی اپنی روح نکلتی محسوس ہوتی ہے بڑا جان کنی کا وقت ہوتا ہے ۔۔۔۔جس کی بیٹی کی عزت پامال ہوجائے تواس کی ماں کا آنچل پر بھی سوراخ آجاتے ہیں وہ اسے چھپا ہی نہیں پاتی ۔۔۔اسے زمانوں کی سرد وگرم سے نہ بچا پائے تو اس ماں کا دل کرتا ہے وہ اپنی بیٹی کے ساتھ خود بھی مرجائے ۔۔۔سوراخ سمجھتے ہو لوگوں کے طنز جگر چھلنی کرتی باتیں ۔۔اپنی تربیت پر انگلی ۔۔۔گل زریں بھرائ آواز سے بولتی
غزنوی کا سر پھر جھکا گئ جو ہمت کرکے کھڑا ہوا تھا بڑے دھڑلے سے زاور کا ہاتھ پکڑا تھا اور عاجزی سے گل سے التجا کی تھی ۔۔مگر گل زریں کے رونے سے پھر سر جھکا لیا ۔۔ہاتھ چھوڑا ۔۔۔۔
بے دم زمین پر بیٹھا ۔۔اللّہ پاک جانتے ہیں ۔۔اس دن میں غصے میں جانور بن گیا تھا ۔۔۔لیکن اب مجھے اپنے کرتوت پر بڑی شرمندگی ہے ۔۔مجھے معاف کردیں یا سزا دے دیں ۔۔۔۔لیکن منہ نہ پھیرے ۔۔اللّہ کا واسطہ ۔۔اس کے پیارے رسول صلی اللّہ علیہ وسلم کا واسطہ ۔۔غزنوی نے آہستہ اپنے گناہ کا اقرار کیا پھر سے اپنی عرضی لگادی ۔۔
جاری ہے
