Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27
واو زبردست میں نے نیٹ پر دیکھا تھا کتنی پیاری آواز اور مسکراہٹ ہے ۔۔۔میں تو دل ہار گئ تھیں ۔۔اور پھر سوچا کہاں وہ سوہنا سا اور کہاں میں کوجی ۔۔۔نشاء پرجوش سی ہوئ ۔۔۔۔اور پھر چاروں غزنوی کے بارے میں گفتگو کرنے بیٹھ گئ ۔
آفیس میں توجہ سے سنتا شادان سن ہوگیا دل کو ابھی تو شک ہوا اور اتنی جلدی تصدیق ہوگئ ۔۔۔بڑی مشکل سے دل کو بہلایا تھا ۔۔جو دماغ کے طعنوں پر تنگ تھا ۔۔گل اور شادان کے بیچ استاد شاگرد کا تکریم والا رشتہ ہے ۔۔۔دل نے دماغ کو بتایا گل جاناں کو دل وہ پہلی ملاقات میں ہی دے بیٹھا تھا بعد میں یہ مقدس رشتہ آیا لیکن استاد نا محرم ہوتا ہے اور دوسرا شادی ابھی نہیں گل کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کرنی ہے تب اس پیشے کی پاکیزگی پر بھی کوئ حرف نہیں آئے گا ۔۔۔دل نے دماغ کو سمجھا لیا تھا مطمئن تھے دونوں مگر اب کیا ہوگا ایک بڑا سوالیہ نشان شادان کے سامنے آگیا ۔۔اگرچہ غزنوی نے معافی اور تلافی سزا کی صورت میں بھگت لی مگر پھر بھی دونوں گھرانے اس تعلق کو بنھا پائیں گے ۔۔یا اللّہ رحم کر. . شادان کے لب بے ساختہ اللّہ سے دعا کر بیٙھٹے ۔۔۔
______________________________۔
عالمگیر لالہ کے بیٹے کی سالگرہ ہے ۔۔امو جان اور بابا بھی آئیں گے تم دونوں بھی چلو ۔۔۔ورشہ نے اصرار کیا ۔۔۔۔۔
نہیں یار فیملی فنکشن ہے بقول بس گھر ہی گھر کے لوگ ہونگے تو اچھا نہیں لگے گا اگر باہر سے بھی ہوتے تو پھر ہم چلتے پھر تم تین دن رکو گی ۔۔۔بسمہ نے سنجیدگی سے منع کیا اور سوال کیا ۔۔۔جبکہ نشاء کا دل کررہا تھا جانے کا وہ بے چارگی سے بسمہ کی طرف دیکھنے لگی جس نے بے لچک منع کیا دل مسوس کر رہ گئ ۔۔
ہاں امو جان آئیں ہیں اس لیے رکنا ہے ۔۔۔نشاء میں تمہارے لیے کیک لاونگی ۔گل جاناں نے بسمہ کے انکار پر نشاء کے چہرے پر اترتی اداسی دیکھی تو پچکارا
سچی ۔۔۔اور ڈنر میں بھی جو بنا ہو وہ بھی لانا ،
تین دن میں تو وہ باسا ہوجائے گا یار ڈرائیور کے ہاتھ بہیج دینا ۔۔۔نشاء پھیلی ۔۔۔
دونوں مختصر وقت شہروز مینشن گزارنے گئ ۔۔۔امو جان جان اور بابا سے مل کر دونوں خوش ہوئ ۔۔اس بار بیگم بہروز بھی آئیں تھیں ۔۔۔
مرد حضرات ایک جانب بیٹھے باتوں سے لطف اندوز ہوئے ۔۔اسی دوران عالمگیر بولے غزنوی میرا ایک دوست ہے اس نے اپنے چھوٹے بھائ کے لیے گل جاناں کی بات کی ہے ۔۔۔
ماشاء اللّہ حافظ قرآن ہے اور اپنا خود کا علیحدہ بزنس شروع کیا بڑاہی محنتیاور خوش اخلاق بچہ ہے ۔۔میرا تو دل خوش ہوا تم بولو تو میٹنگ کرلیتے ہیں ۔۔
ابھی تو انس کے کام سے آیا ہوں ۔۔۔کل دوپہر میں چلا جاونگا ایسا کرتے ہیں نیکسٹ سنڈے بلا لیں ۔۔۔غزنوی بولا۔۔۔
دونوں کے صوفے کے پیچھے بیٹھے بلال کے کان کھڑے ہوئے ۔۔عالمگیر کی بات پر سکون درہم برہم ہوا ۔۔۔پھر بچی کچی کسر غزنوی کے جواب نے پوری کی ۔۔اٹھ کر باہر آیا ۔۔خود کو پرسکون کیا ۔۔۔لگتا گھی ٹیھڑی انگلی سے ہی نکلا نا پڑے گا ۔۔کچھ کر بلال ۔۔اپنے سر پر ہاتھ مارنے لگا ۔۔۔
کیا ہوا لالہ ۔۔ورشہ اور گل جاناں پورچ میں آئ تھیں ٹفن لیکر ڈرائیور کے ہاتھ ڈنر بہیج دیا ۔۔۔گل جاناں واپس اندر اور ورشہ لان میں کھڑے اپنے لالہ سے بات کرنے پہنچ گئ ۔۔۔
کچھ نہیں بس ہلکادرد ہے ۔۔اور پڑھائ کیسی جارہی ہے ۔۔بلال نے جواب دیتے ہی سوال کردیا ۔۔۔
جی اچھی جارہی ہے بس شادان سر کا سبجیکٹ مشکل ہے یا پھر وہ ہم سے سو فیصد چاہتے ہیں ۔۔ان کے سبجیکٹ میں تھوڑی پرابلم ہے ۔۔۔ورشہ نے تفصیل سے بتایا ۔۔۔
ُپہلے بتانا تھا اپنا اچھا دوست ہے ۔۔ہم شام میں ایک ساتھ جم جاتے ہیں ۔۔۔
خود ہی پہلے پوچھ لیتے ۔۔ورشہ نے دل میں کہا ایسا اگر منہ پر کہہ دیتی تو جس کام سے آئ تھی وہ نہ ہو پاتا ۔۔۔۔
لالہ میری دوست کی شادی ہے مجھے امو کے ساتھ جانا ہے بس تین دن کی چھٹی اور کرلو کیا ۔۔۔۔گل جاناں کو نہیں جانا صرف مجھے جانا ہے پلیز ۔۔ورشہ نے منتی انداز اپنایا ۔۔۔
ہمم ٹھیک ہے جاو ۔۔۔میں مینج کر لوں گا اور نوٹس کے لیے تو گل تو ہے ہی ۔۔۔بے فکر جاو ۔۔۔۔
شکریہ لالہ ۔۔ورشہ خوشی سے اندر بھاگی اور مسکراہٹ بلال کے چہرے پر بھی آگئ ۔۔
چل بلال قدرت نے موقع دے دیا فائدہ اٹھا صرف یہی تین دن ہونگے جب تجھے گل سے نکاح کرنا ہوگا ۔۔۔اس سلسلے میں کوئ تدبیرکر ۔۔۔
قسمت بلال کی پلاننگ پر مسکرائ ۔۔۔
________________________
یہ ورشہ بھی نہ خود چلی گئ میرے پیچھے دم چھلا لگاگئ ۔۔۔گل جاناں بڑ بڑائ ۔۔۔
کیا ہوا آج صبح سے موڈ آف ہے اور مجھے تو تیرے پیچھے تو دم نظر نہیں آرہی ہے لگتا سستی گوند سے چپکائ ہوگی جبہی گر گئ ۔۔کیا ڈھونڈیں ۔۔نشاء نے گل کے آگ لگائ ۔۔
کاش سستی ہوتی مگر ایلفی سے چپکائ ہے ۔۔اتنی جلدی جان نہیں چھوڑے گی ۔۔گل تپی ۔۔۔
یار ہوا کیا بتا کچھ ۔۔بسمہ جلدی بولی اور نشاء نے اگلا سوال پوچھنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا بسمہ کی بات پر بند کیا ۔۔۔
ورشہ کے جانے سے ورشہ کے لالہ نے میری ہوسٹل سے پک اپ کی ذمہ داری لے لی ۔۔۔منہ بنا کر بتایا ۔۔۔
کیا ورشہ کا لالہ بھی ہے ۔۔ مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔نشاء چیخی
آرام سے یار اس میں چیخنا کیا بنتا ہے لالہ ہے بل گیٹس نہیں ۔۔۔بسمہ بولی اس کے برعکس گل گھورتی رہی ۔۔۔
ہاں تو ورشہ کا لالہ غزنوی لالہ جیسا ہینڈسم ہوگا ۔۔اب غزنوی کو مجبوری ہی میں سہی میں نے اپنا لالہ تسلیم کرلیا لیکن ورشہ کے لالے سے تو میرا چانس بن سکتا ہے ۔۔۔نشاء شرمائ
اوہ شرمیلی تو یہاں پڑھنے آئ ہے یا رشتہ ڈھونڈنے ۔۔اس بار بسمہ کا بھی میٹر گھوما ۔۔۔جب دیکھو پرپوزل ہاتھ میں لیے پھرتی ہے ۔۔
تو کیا ہوا یار جان پہچان میں تیرا بہنوئ مل جائے اچھا شادی تو کرنی ہے یا مجھے ساری عمر کنوارا رکھنا ہے ۔۔۔نشاء چمکی
تو بی بی بر ڈھونڈنے کی زحمت تم نہ کرو بی جان اور تمہارے اماں ابا ابھی زندہ ہیں ۔۔۔بسمہ نے لتاڑا ۔۔
ہاں اماں کو مامو اور خالہ اور ابا کو چچا اورپھوپھو کا پتر ہی پسند آئے گا مودی کی شکل والے ۔۔۔ مجھے نہیں کرنی خاندان میں گل کے کزن دیکھ کتنے ہینڈسم اور خوبصورت ٹام کروز فر فر انگلش بولتے پٹھان کم انگریز زیادہ لگتے ہیں ۔۔۔۔۔
بے حیا بے شرم تجھے گل کے کزن ٹام کروز اور اپنے کزن مودی لگتے ہیں رک تجھے چھترول کی سخت ضرورت ہے یہ کہہ کر بسمہ نے چپل اتاری مارنے کے لیے اٹھایا ہی تھا بت بن گئ ۔۔
کیا ہوا ۔۔۔یہ چپل اٹھا کر اسٹیچو کیوں بن گئ لگا اسے تین چار ۔۔گل جاناں نے ساکت کھڑی بسمہ کی حوصلہ افزائ کی ۔۔۔
ہم یہاں کیوں آکر بیٹھتے ہیں ۔۔بسمہ ہولے سے بولی ۔۔۔اور چپل زمین پر پھینکی ۔
چپل زمین پر پھینکنے سے گل بدمزہ ہوئ اور بینچ پر چڑھی نشاء پرسکون ہو کر بیٹھی
یہاں کا ماحول اچھا لگتا ہے پرسکون سا ۔۔۔یہ رات کی رانی اور دن کے راجہ کا کپل جو لائن سے اطراف میں لگیں ہیں بہت محسور کن منظر لگتا ہے اس کی خوشبو اعصاب پر بہترین اثر کرتی ہے میری ساری تھکن اتر جاتی ہے ۔۔گل جاناں جزب سے بولی
گلاجاناں کی بات سن کر شادان کے لب مسکرائے ۔ایک جیسی پسند ۔۔یہاں یہ پودے اسی نے لگوائے تھے ۔۔۔تھوڑی دیر قبل ہی وہ لیکچر دینے کے لیے آفیس سے باہر آیا تو بسمہ چپل اٹھا کر مارنے ہی والی تھی شادان پر نظر پڑتے ساکت ہوئ ۔۔پھر کچھ دھیرے سے بولی ۔۔۔پاس کھڑا شادان سن نہ پایا لیکن دھیرے کے جواب میں گل باآواز بولی اور اس کی بات شادان کو سرشار کر گئ ۔۔وہ خاموشی سے کلاس کی جانب چلا ۔۔۔
شادان کے جاتے ہی ہاتھ جھاڑتی بسمہ بینچ پر بیٹھی اور بولی ۔۔ابھی پیچھے آفیس سے شادان سر نکلے تھے ۔۔۔
کیا ۔۔اس بار گل کی چیخ نکلی ۔۔۔
آرام سے یار آج میرے کان کے پردے پھاڑ کے ہی دم لو گے ۔۔بسمہ بیزاری سے بولی ۔۔۔
بسمہ کو جواب دینے کے بجائے پاس سے گزرتے اسٹوڈنٹ سے پوچھا یہ کس کا آفیس ہے ۔۔۔
اسٹوڈنٹ جواب دیے بنا طنز کرکے یہ جا وہ جا ۔۔۔کیوں نظر اتنی کمزور ہوگئ یا انگلش پڑھنی نہیں آتی ۔۔یہ باہر نیم پلیٹ کس لیے لگی ہے ۔۔
نشاء تلملا کر رہ گئ اس کی اتنی ہمت ہم پر طنز کرے ۔۔اللّہ کرے اس کی گرل فرینڈ اس کو دوسری سے بات کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے اور اس کی شادی پھوپھو کی بیٹی سے ہو ۔۔۔آمین ۔۔تم دونوں بھی آمین بولو ۔۔۔نشاء نے دونوں کو کہا ۔۔جو گردن موڑے نیم پلیٹ دیکھ کر بے جان ہوئیں ۔۔۔جہاں خوبصورتی سے لکھا شادان آفریدی خوب پیارا لگا رہا تھا مگر ان دونوں کو فی الحال زہر میں بجھا تیر لگا ۔۔۔جو ڈائریکٹ پیوست ہوا اور سوچنے پر مجبور کرگیا ۔۔اتنے عرصے یہاں بیٹھ کر اپنے جو بے تکے مسئلے سلجھائے سر شادان نے کیا سنا ہوگا یا نہیں ۔۔۔اس بات کا اثر دونوں نے لیا ان کے برعکس نشاء نے تھوڑا غم کیا پھر لاپرواہ ہو کر چپس کھانے لگی ۔۔۔
مجھے لگتا ہے یہ دنیا میں صرف چپس کھانے آئ ہے ۔۔گل جاناں جو ابھی تازہ تازہ ملنے والے صدمے کے زیر ِ اثر تھی چپس کی کچر کچر کی آواز پر غصہ ہوئ اور کہتے ہی دو زور دار مکے نشاء کے مارے ۔۔
ہائے اماں جی ۔۔۔رسگلے کوئ اپنی ہونے والی بھابھی کو ایسے مارتا ہے کیا ۔۔۔نشاء نے دہائ دی لیکن پھر گل کو عملی اقدام پر آمادہ دیکھ کر تیزی سے پیچھے دوڑی ۔۔۔
بھابھی پر جمی نشاء کی بات پر گل سلگی ۔ تیری تو ۔۔۔اپنی چپل اتاری ، بسمہ کا چھوڑا کام سرانجام دیا اور بے پرواہ بھاگتی نشاء پر میزائل داغا ۔۔پھر رو پڑی ۔۔۔
بچارہ شادان حق دق کھڑا رہ گیا وہ تو اپنا موبائل لینے آیا تھا مگر یہ کیا۔۔ایک خوبصورت نسوانی چپل گولی کی طرح پیٹ میں ٹھا کر کے لگی ۔۔۔۔ سب سے پہلے آس پاس دیکھا ۔۔کوئ چشم دید گواہ تو نہیں پھر تسلی سے تینوں کو گھورا ۔۔مگر لمبی سانس بھینچتے خود پر ضبط کیا ضبط تو کرنا ہی تھا سامنے مقابل آواز کے ساتھ راگ بھیرو شروع کرچکی تھی ۔۔۔نقاب کی وجہ سے آواز زیادہ بھاری ہوئ ۔۔۔اٹس اوکے کہہ کر جانا پڑا ۔۔
آج کا دن ہی برا ہے سڑ سڑ کرتی گل جاں بولی ۔۔۔
ہاں میری جان ۔پریشان سا نشاء بولی ۔۔۔
مجھے لگتا ہے پلوشہ کی بدعا لگی ہے ۔۔آنسو صاف کرتی نروٹھی بولی ۔۔
کیسی بدعا ۔۔۔بسمہ نے تعجب سے ہوچھا ۔۔اس سارے واقع میں بددعا کا کیا عمل دخل ۔۔۔
کہتی تم میری اچھی دوست نما بہن نہیں ہو دیکھنا سوتیلی دوست ملے گی ۔اور یہ نشاء نے آج جو سوتیلا پن دیکھایا ہے نہ مرتے دم تک نہیں بھولوں گی کیا تھا ایک ذرا سی چپل کھا لیتی یہی سکون سے کھڑی ہوکر ۔۔گل جاناں نے شکوہ کیا
بسمہ قہقہ لگا کر ہنس پڑی ۔۔ہنسی تو بہت دیر سے آرہی تھی لیکن گل رو رہی تھی اس لیے برادشت کرنا پڑا مگر اب ممکن نہیں ۔۔جبڑے اتنی دیر بھینچے رکھنے سے درد ہوسکتا ہے ۔۔۔سو دل کھول کر ہنسی ۔۔
جبکے سوتیلی پر اب زور وشور سے نشاء رو رہی ہیں ۔۔
میں سوتیلی نہیں سگی ہوں اپنے الفاظ واپس لو ۔۔۔۔
تم بھلے میرا سر پھاڑ دو یا جان سے مار دو لیکن الفاظ واپس نہیں لونگی ۔۔گل جاناں بھی اپنے موقف پر ڈٹی ۔۔
ایسا ہے تو پھر ایسا ہی ۔۔۔میں اپنے بچوں کو کیا قصہ سناوگی میری دوست مجھے سگی نہیں سوتیلی سمجھتی ہیں میں تیرا سر پھاڑتی ہوں تیری یاداشت چلی جائے گی تو تجھے سب بھول جائے گا ۔۔ان رجسٹر سے ہی سر پھاڑوں گی ۔۔نشاء نے رونا بند کیا ۔۔رجسٹر اٹھایا ۔۔
گل حیرت سے دیکھتی رہی پھر نشاء کی اگلی بات پر دوڑی ۔۔آگے گل پیچھے نشاء اور درمیان میں ہنسی کنٹرول کرتی بسمہ ۔۔۔
گل کے معافی مانگنے پر نشاء نے بخشا ۔۔۔ورنہ نشاء سے بعید نہ تھا موقع ملتے ہی سر پھاڑ دیتی ۔۔
دوسرا دن گل جاناں کی زندگی بدلنے کی اہلیت رکھتا نمودار ہوا ۔۔ نہ جانے کیوں دل گھبرایا تیار ہوتے ہی مہر بانو سے بات کی ان سے دعا لی پھر غزنوی سے بات کی لالہ سے دعا لی ۔۔۔۔دو چاہنے والوں کی دعا کا حصار لیکر نکلی ۔۔۔ ہونی کو ٹالنا ان دعاوں سے ممکن تھا یہ ہونی کو ہو کر رہنا ہے ۔۔۔
گل جاناں نے اپنے ساتھ جانے کے لیے بسمہ اور نشاء کو بھی رضامند کیا ۔۔اور نشاء تو دل وجان سے تیار آخر ورشہ کے لالہ کا برد دکھوا بھی تو کرنا ہے ۔۔۔۔نک سک سے تیار ہوئ ۔۔۔عبایا پہنا اور صرف ابھی دونوں شرعی پردے تک ہی آئ تھی ۔ گل نے بھی زیادہ ضرور نہیں دیا ۔۔پھتر پر سوراخ کرنا ہو تو دھیرے دھیرے قطرہ ڈالوں ۔۔دھیرے دھیرے سے ہی سوارخ ہوتا ہے پھر ایک دم کنکر کی صورت ٹوٹ جاتا ہے بغیر نقصان کے ۔۔اگر ایک دم توڑو تو خود کا نقصان، زور دار ضرب سے پھتر کے بجائے خود کو تکلیف پہنچے گی پھتر تو اڑ جائے گا یا صرف جگہ چھوڑ دے گا ۔۔۔لیکن جو درد اس کو ضرب دینے میں آپ کو ہوگا وہ دیرپا اذیت ناک ہوگا ۔۔۔۔اس کے برعکس پھتر آرام سے ٹوٹے گا تو اس کو نہایت آرام سے سمیٹ کر اپنی راہ سے ہٹا دیں ۔۔۔شدت پسندی یا عجلت پسندی نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتی جبکہ تحمل مزاجی اور صبر سکون اور اطمینان عطا کرتا ہے ۔۔۔آج دونوں شرعی پر آئ ہیں ان شاء اللّہ آہستہ آہستہ سنت کے مطابق باپردہ ہوجائیں گی وہ دن دور نہیں ہے بس تھوڑا تحمل سے انتظار کرنا ہے ۔۔۔
بلال نے دوست کی مدد سے فلمی اسٹائل کا پلان تیار کر لیا جس کے سبب گل جاناں آرام سے اس کی ہوجائے گی ۔۔اور اس پر کسی کو شک بھی نہیں ہوگا ۔۔۔۔
بلال لالہ یہ میری دوست نشاء اور بسمہ ۔۔۔
خوش اخلاقی سے سلام دعا کا مرحلہ حل ہوا ۔۔مسکراتے ہونٹ تب سکڑے جب تینوں لائن سے پیچھے بیھٹنے لگی خود پر قابو کیا مسکرایا اگر یہ سب ساتھ ہونگی تو اور اچھا ہیرو بن جاونگا ۔۔اس سوچ کے آتے ہی مزید خوش اخلاقی دکھائ ۔۔فون آنے پر موبائل کی طرف توجہ دی ۔۔تو تینوں نے آپس میں ہلکے ہلکے بات شروع کی ۔۔پہل نشاء نے کی ۔۔۔۔
یار مجھے پسند ہے بتاو پھر کس دن رشتہ لا رہی ہو ۔۔۔ نشاء نے اشتیاق سے سوال کیا
ورشہ آجائے پھر مل کر بات چیت کرکے وقت بتادیں گے ۔۔گل جاناں نے ٹالا ۔۔۔
ہاں یار بناہی لے تو اسے اپنی بھابھی کے پی کے سے ہمارا رشتہ بھی جڑ جائے گا ۔۔خان کے دھرنے میں آنا جانا آسان ہوگا ۔۔۔۔ بسمہ نے بھی اپنی پگلی کی حمایت کرہی دی ۔۔۔۔۔
معمول کی طرح ہر کلاس میں بہترین رہی اور اب شادان کی کلاس کی طرف مردہ دلی سے قدم بڑھائے ۔۔۔
کیا خیال ہے کل کی بے عزتی کے بعد آج احتجاجاً کلاس بنک کرتے ہیں ۔۔حسب معمول چپس سے کھاتی نشاء نے مشورہ دیا ۔۔۔
اور یہ احتجاج کیا رنگ لائے گا آپ اس پر روشنی ڈالیں گی ۔۔بسمہ نے استھزاء پوچھا ۔۔۔
احساس ہوگا جب فور گروپ کی خالی چار سیٹیں ملیں گی ۔۔کلاس بے رونق ہوجائے گی ۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک کہا ہم وہاں بیٹھ کر جوکر کا کام کرتے ہیں اس لیے کلاس کی رونق تو لازمی ختم۔ہوگی ۔۔۔سیدھے سے کلاس میں چلو بڑی آئ احتجاج والی ۔۔۔گل جاناں نے جلی کٹی سنائ ۔۔ خاموشی سے کلاس میں داخل ہوئیں مخصوص جگہ بیٹھ گئیں ۔۔۔
کلاس میں آکر شادان نے نیو ٹاپک پڑھانا شروع کیا ۔۔۔۔نشاء نے گل جاناں سے سرگوشی کی ۔۔
تونے یہ نہیں بتایا کہ ورشہ کب آئے گی ۔۔۔نشاء نے سرگوشی کی ۔۔
میں نے بتایا تھا ورشہ ہفتہ کو آئے گی ۔۔۔۔۔۔گل جاناں نے آہستہ بولا ۔۔
بات سن تیری امو کے ہاتھ کے چپلی کباب مانگوانا ۔۔۔فرمائش کی ۔
ہاں سچی امو بہت اچھے بناتی ہیں خاص کر اس کے ساتھ پودینے کی چٹنی مزہ دوبالا کردیتی ہے ۔۔گل نے امو کے ذکر پر خوشی سے بتایا ۔۔۔
شادان کی زیرک حس نے پرکھ لیا یہ بھن بھن آوازیں کہاں سے آ سکتی ہیں ۔۔۔سیدھا دونوں کے سر پر پہنچا ۔۔بسمہ کو موقع بھی نہ ملا کہ خبردار کرتی ۔۔منس جاناں اور نشاء اسٹینڈاپ ۔۔
شادان کہ اچانک بولنے پر دونوں چونکی ۔۔پھر بسمہ کو گھورتے کھڑی ہوئیں ۔۔۔
سر یہ غلط بات ہے ۔۔۔نشاء ممنائ
جی بالکل غلط بات ہے کلاس میں پڑھائ چھوڑ کر غیر ضروری امور پر گفتگو کرنا ۔۔۔۔شادان نے تائید کی
نہیں یہ بات تو غلط نہیں ہم بات تھوڑی کر رہےتھے آپ جو پڑھا رہے تھے اس کے حوالے سے میں گل سے پوچھ رہی تھیں ۔۔۔غلط یہ ہےآپ نے جاناں کو منس کہا اور مجھے خالی نشاء کہا ۔۔میں بھی ابھی تک منس ہی ہوں ۔۔نشاء منس پر زور دے کر بولی اور معصومیت میں گل جاناں کو پھنسا بیٹھی
غلطی ہوگئ منس نشاء ۔۔اور گل جاناں بتایےمیں نے ابھی جس موضوع کو پڑھایا اس کے حوالے سے آپ نشاء کو کیا سمجھارہی تھیں ۔۔
اللّہ یہ میرے کن گناہوں کی سزا ہے خشمگین نگاہوں سے نشاء کو گھورا ۔
وہ وہ وہ تین بار وہ کی گردان لگادی مگر کوئ جواب نہ بن پڑا ۔۔
اوہ وہ کیا ہے ۔۔۔شادان نے مسکراہٹ دبائ ۔۔
سر بھول گئ گل نے آہستگی بولا ۔۔۔
اتنی خراب یاداشت ہے ابھی چند لمحوں کا پڑھایا بھول گئ ۔۔۔اوکے آج ایسا کرتے ہیں نئے کو رہنے دیتے ہیں پھر سے پرانا شروع کرتے ہیں ۔۔پتہ چلے آپ لوگ بیسک یادرکھے ہوئے ہیں یا نہیں کیوں کلاس ۔۔۔شادان نے سب سے پوچھا
یس سر ۔۔یادیں تازہ ہوجائیں گی جی آر نے زور وشور دکھایا ۔۔
شروعات منس نشاء اور گل جاناں سے کرتے ہیں ۔۔شادان مہبم مسکرایا ۔۔
منس نشاء بتایے در آمدت اور برآمدت کیا ہے۔۔منس پر زور دیتا شادان نے نشاء کا امتحان لیا ۔۔اور اپنے دماغ کا فالودہ کرنے کا چارج فور گروپ کو سونپا ۔۔وہ الگ بات ہے آج فور گروپ کی ایک ممبر غائب ہے ۔۔۔
سر اتنا آسان سوال مجھے پتہ ہے ۔۔۔نشاء نے چٹکی بجائ
سنیے در کہتے ہیں دروازے کو آمد کہتے ہیں آنے کو ۔۔۔در آمد کا مفہوم ہوا دروازے سے کوئ اندر آیا ۔۔۔اب بر تو شادی کے لیے ڈھونڈتے ہیں ۔۔بر مذکر بھی ہوتا ہے اور مونث بھی لڑکا اور لڑکی ۔۔توبرآمد کا مفہوم ہوا کسی کے رشتے کی آمد ۔۔۔ نشاء نے فخر سے شادان کی طرف دیکھا جو برآمد اور درآمد کے شاندار مطلب و مفہوم سے اب تک ناآشنا تھا ۔۔۔
کلاس میں دبی دبی ہنسی گونجی ۔۔۔گل جاناں کا دل کیا کاش کوئ جادو کی چھڑی ہوتی تو اس وقت اپنے گروپ کے ساتھ غائب ہوجاتی ۔۔۔اچھا بھلا مشورہ دیا تھا کلاس بنک کا اب پچھتانے کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔
میری سمجھ نہیں آرہا ہے میں اب تک درآمدت کے مفہوم سے آگاہ کیوں نہیں ہوا ۔۔نشاء کے جواب پر خود پر ترس وطنز کرتا گل کی سمت دیکھا ۔۔۔
آپ بتایے زر کیا ہے ۔۔۔
جی زر پیسو ں کو کہتے ہیں ۔۔۔معاشیات کی رو زر ایسا وسیلہ مبادلہ جو معروف اور معیاری قدر کا حامل ہو ذخیرہ قدر کا کام دے مثلاً کرنسی ڈالر سکے سونا چاندی ۔۔
گل جاناں چپ ہوتے ہی سوچنے لگی لگتا ہے چچا سے کہہ کر مائیگریشن کروانا پڑے گا نہیں تو میں ماسٹرز کبھی نہیں کر پاونگی آج ہی چچا سے بات کرتی ہوں چچا ۔۔
شکر ہے کچھ تو یادہے ۔۔ایک سوال کا اور جواب دیجیے الفریڈ مارشل کون ہے ۔۔۔۔
گل جو سوچنے میں مصروف تھی بسمہ کے کہنی مارنے پر شادان کی طرف دیکھا ۔۔
بتایے کون ہے ۔۔۔
میرے چچا ۔۔۔گل جاناں کی سوئ کہنی مارنے سے پہلے چچا پر رکی تھی اس لیے جواب میں چچا ہی نکلا جو پوری کلاس کو دبی دبی ہنسی سے آزاد قہقے لگانے پر مجبور کرگئ ۔۔
شکر ہے الفریڈ مارشل طبعی موت مر گئے ورنہ آپ جیسی نکمی بھتیجی کے سبب خودکشی کر کے مرتے ۔۔شادان بے تکے جواب پر زچ ہوا ۔۔
سر ان کے نقاب لگانے کی وجہ یہی ہے یہ ایک عدد بوڑھی خاتون ہیں.۔۔۔۔کلاس کی ہنسی اور شادان کے طنز نے گل کی آنکھوں میں آنسو بھر دیے ۔اور جی آر کے مذاق نے ان آنسو وں کو باہر نکلنے کا راستہ دیا ۔۔
شادان نے نیلی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اپنے طنز پر افسوس ہوا ۔۔
شٹ اپ لڑکیوں کا نقاب کرنا ایک بے حد خوبصورت اور پیاری عادت ہے ۔۔اس لیے آئندہ کسی کے نقاب پر میں مذاق کرنے پر کلاس سے باہر نکال دونگا ۔۔
نقاب کے حق میں بولنے پر تشکر سے شادان کی طرف دیکھا ۔۔۔
اور یہ تشکر فکر میں ڈھل گیا جب نشاء پھر بول پڑی. .
سر پھر غلط کیا ۔گل جاناں سے دو سوال اور مجھ سے ایک سوال ۔۔میں نے تو تفصیل سے جواب دیا تھا مجھ سے اور پوچھیے ۔۔
جی آپ ہی بتا دیجیے الفریڈ مارشل کون ہیں ۔۔۔بے چارگی سے نشاء سے سوال کیا ۔۔
سر آپ کی بھی یاداشت کمزور ہوگئ ۔اخروٹ کا حلوہ کھائیے ۔۔۔اخروٹ کا ڈائزن ہمارے دماغ کے ڈائزن سے ملتا ہے جو صاف اشارہ ہے اخروٹ زہن کو چستی اور پھرتی دے گا ۔۔۔یہ مجھے ورشہ نےبتایا تھا ۔۔میں نے اس سے منگوائیں ہیں 5 کلو اخروٹ جب وہ لائے گی تو میں آپ کو دو اخروٹ دونگی ۔۔نشاء نے حاتم طائ کو رونے پر مجبور کیا ۔۔۔اور دو انگلیوں کا اشارہ دیا ۔۔
5 کلو میں سے دواخروٹ دیں گی تو آپ کے اخروٹ کم ہوجائیں گے اس لیے رہنے دیں میں خود خرید لونگا ۔۔متانت سے طنز کیا ۔۔
مرضی آپ کی میں تو ٹیچر سمجھ کر نیکی کر رہی تھیں کہ کچھ آپ کی بچت ہوجائے نہیں لینے تو نہ لیں میں خود کھا لو نگی ۔۔نشاء نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے ۔۔
میرے سوال سے یاداشت کا کیا تعلق ہے ۔۔۔پھر اپنے پاوں پر کلہاڑی ماری ۔۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے گل جاناں پر یاداشت جانے کا طنز کیا تکبر کیا اس لیے آپ کی یاداشت چلی گئ آپ بھول گئے سر الفریڈ مارشل گل جاناں کے چچا ہیں ۔۔۔ جزبات سے لبریز تیز آواز میں نشاء نے شادان کو آئینہ دکھانا چاہا ۔۔۔مگر یہ کیا ۔۔ایک ساتھ گل جاناں اور شادان نے ہاتھ اٹھایا ۔۔شادان نے اپنے سر پر مارنے کے لیے اور گل جاناں نے نشاء کومارنے کے لیے ۔۔۔۔
اور بسمہ گل کے متوقع غصے کا سوچ کر پریشان ہوئ ۔۔کل رات تک اسے ملال تھا سر نے آج تک انکی کتنی بے تکی بات سنی ہوگی ۔۔اب یہ نئ سچویشن ۔۔۔
اگر فور گروپ کی یہی حالت رہی تو منس جاناں میں پاگل ہوجاونگا ۔۔۔۔۔آج کے لیے یہاں تک ہی برداشت کرسکتا ہوں برائے مہربانی آپ تینوں باہر تشریف لیجائیں اور اپنے چچا کے جانشینوں سے اکنامکس کا لیکچر لیں جایے ۔۔۔مہزب طریقے سے تینوں کو کلاس بدد کیا ۔۔۔
جاری ہے
