Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21

اب آتے ہیں دوسرے حتمی حکم کی طرف ارشاد باری تعالی ہے
زنا کار مردوعورت میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاو ان پر اللّہ پاک کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہر گز ترس نہیں کھانا چاہیے اگر تم اللّہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو ، اور ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔۔سورة نور
سورہ ء نور کی اس آیت میں جو حکم ظاہر ہورہا ہے ۔۔۔یہاں حکم زنا کی ان مخصوص صورتوں تک نہیں رہا جو عبوری سزا کا موضوع تھیں ۔۔یہ حکم زنا کی ہر صورت چاہے ایک بار ہو یا بار بار ہو زنا ہی رہے گی سزا ملے گی ۔۔شادی شدہ ہو یا کنوارے مرد ہو یا عورت سب کے لیے یکسا سزا آئ ہے ۔۔۔
سورہ نساءکی آیت میں میں زنا کے جن عادی مجرموں کے لیے عبوری سزا آئ ان کا جرم چونکہ زنا کے عام مجرموں کے مقابلے میں زیادہ سنگین تھا اور ان میں بالخصوص یاری آشنائ کا تعلق رکھنے والے بدکار جوڑے اس عرصے میں توبہ واصلاح کا موقع دیے جانے کے باوجود اپنی روش سے باز نہیں آئے تھے ، اس لیے عام مجرموں کے مقابلے میں اضافی سزاوں کے بھی مستحق تھے ۔۔۔چنانچہ ان کے بارے میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللّہ کی طرف سے ہدایت کی گی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں نافذ کی جائے ۔۔۔
آخرت میں ملنی والی سزا سن لی اور دنیا میں دینے والی سزاواضح ہوئ ۔۔۔حشمت صاحب رکے ۔۔
کیسے پتہ چلے لوگوں کو یہ زانی یا زانیہ ہے ۔یا زنا ہوا ہے ۔۔۔غزنوی نے الجھن سے کہا ۔۔۔
دو صورتیں ہیں کہ زانی اور زانیہ اقرار کرے اور دوسری صورت گواہ ہیں ۔۔۔سورہ ء بقرہ میں ارشاد ہے ۔۔
اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنالو پھر اگر وہ دو نہ ہو تو تو تمھارے قابل اعتماد گواہ میں سے ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بن جائیں ۔۔یہ اس لیے اگر ایک عورت الجھے تو دوسری اس کو یاد کرادے ۔۔
یہ تو سارے معاملات کے گواہ بتایا ہے ۔۔مگر زنا کےلیے قرآن میں اربعة شہداء کی گواہی یعنی چار کو ضروری قرار دیا ہے ۔۔بعض علماء نے چار گواہ مرد کہا ہے تو بعض نے خواتین یا پھر چار میں سے دو مرد اور دو خواتین ہوں ۔۔
گواہی دینے کے لیے ضروری ہے کہ ان گواہوں نے زنا مکمل اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوں ۔۔۔تب ان کی گواہی معتبر مانی جائے گی ورنہ ابہام کی صورت میں قاضی کو دقت ہوگی ۔۔۔۔اب اس دور میں نہ شرعی عدالتیں ہیں نہ قاضی ۔۔۔لیکن سنا ہے میںنے زنا کا حدود آرڈی نیس جاری ہوگیا ہے ۔۔مگر مسئلہ اب یہی ہے ثبوت اور گواہ جھوٹے ہوجاتے ہیں ۔۔۔اور جرگہ میں اگر فیصلہ دیا جائے تو مجھے واقعی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے جرگہ میں بھی جھوٹا الزام لگا کر مار دیا جاتا ہے ۔۔۔۔حشمت نے گہرا افسوس بھرا سانس خارج کیا ۔۔۔ایک گلاس پانی پی کر بات پھر سے شروع کی جہاں سے چھوڑی تھی ۔۔اسلام کی رو سے جھوٹی گواہی دینا بھی بدترین گناہ ہے ۔۔۔جرگہ میں کچھ قوانین بے حد غلط ہیں ۔ کسی پر بھی بدکاری کا الزام لگا کر جھوٹے گواہ کھڑے کر رجم کی سزا دیتے ہیں ۔۔۔جب کہ رجم کی سزا کا اطلاق سب زانی پر نہیں ہوتا اور دوسرے قرآن میں رجم کا تزکرہ نہیں ۔۔۔ بعض فقہا کے نزدیک
قرآن نے جس سزا کے بیان پر اکتفا کی ہے وہی اصل سزا ہے اور اس پر کوئ اضافہ کرنا قرآن کے نسخ کو مستلزم کرنا ہے ۔۔۔لیکن وہ زانی کو جلا وطنی کی سزا صواب دیدی سزا کے طور پر قبول کرتے ہیں ۔۔ان کے نزدیک اگر قاضی کسی مجرم کی آوارہ منشی کو دیکھتے ہوئے اس کو اس کے علاقے میں رہنے کو خطرے کا باعث سمجھے یا مزید تنبیہ کی غرض سے اسے گھر دربدر اور اقرباء کی حمایت سے محروم کرنے کو بھی مصلحت کے تحت سو کوڑے کے بعد جلا وطن کر سکتا ہے ۔۔۔۔نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم اور خکفاء راشدین سے اس کا نفاذ ثابت ہوا ہے ۔شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا شہرت اور تواتر سے ثابت ہونے کی بنیاد پر قرآن مجید کے ناسخ کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں ۔۔
امام مالک اوراوزاعی کے نزدیک مرد کےلیے سو کوڑےاور جلاوطنی عورت کو صرف کوڑے۔۔۔امام شافعی امام احمد ،اسحاق ،داود ظاہری ، سفیان ثوری ، ابن ابی لیلی اور حسن بن صالح کے نزدیک مردو عورت کے لیے یکساں سو کوڑے اور جلاوطنی ۔۔۔امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف ،امام زفر اور امام محمد کے نزدیک سو کوڑے اور قاضی کی صوابدی پر قید یا جلاوطنی ۔۔۔۔
اللّہ اور اس کے رسول صلی اللّہ علیہ وسلم کے احکامات کے پیچھے ہمیشہ ایک وجہ اور منطق ہوتی ہے ۔اس لیے یہ سزائیں بھی ضروری ہیں کہ دوسرے عبرت لیں ۔۔۔
آپ کچھ حدیث کی رو سے بتاتا ہو
ایک دن نبی کریم کی پر وحی نازل ہوئ ۔۔آپ کے چہرے پر شدت سے سختی آجاتی تھی ۔۔جب یہ کیفیت ختم ہوئ تو آپ نے فرمایا ۔۔۔
مجھ سے بات لے لو ۔۔اللّہ تعالی نے ان عورتوں کے لیے راہ پیدا کردی ہے شادی شدہ زانی شادی شدہ زانیہ کے ساتھ جب کے کنوارا زانی کنواری زانی کے ساتھ ۔۔۔شادی شدہ کو سو کوڑے اور رجم کیا جائے ۔جبکہ کنوارے کو سو کوڑے مارنے کے بعد جلا وطن کیا جائے ۔۔۔۔۔۔
رجم کیا ہے ۔۔غزنوی کے ذہن کی پٹاری سے ایک اور سوال برآمد ہوا ۔۔۔
رجم کے معنی پتھر پھینکنے کے آتے ہیں ۔۔اور اصطلاح سے مراد ایسی سزا کے ہیں جس میں زنا کرنے والا مجرم کا دھڑ زمین میں گاڑھ کر اس کا سر باہر رہنے دیں اور ان پر پتھر برسائے جائیں ۔۔۔لیکن اس سزا کا ذکر قرآن میں نہیں ہے ۔۔مسلم محققین کا کہنا ہے شریعت میں قرآن کا درجہ اول ہے اگر کوئ بات متصادم ہوں تو قرآن کو ترجیح دی جائے. قرآن کامل ہے ۔ اس میں کوئ ترمیم ممکن نہیں ہے ۔۔۔
اگر قرآن میں ثابت نہیں تو پھر رجم کیوں ؟ غزنوی نے ایک اور الجھن سامنے رکھی ۔۔۔۔سنن ابن ماجہ میں حضرت عائشہ سے حدیث بیان ہے کہ رجم کی آیت نازل ہوئ جس صحیفے پر لکھی تھی وہ میرے بستر کے نیچے رکھی تھیں ۔۔جب رسول اللّہ کی وفات ہوئ تو اور ہم صدمے میں تھے تب ایک گھریلو جانور اسے کھا گیا
مسلم محقیقن اس بات کی وضاحت نسخ قرآن کے نظریے سے کرتے ہیں ۔۔اس کی تین اقسام ہیں ایک آیت اور اس کی ہدایت کی منسوخی ۔۔۔دوسری آیت کی منسوخی پر اس کی ہدایت کی بقا اور تیسری آیت باقی پر اس کی ہدایت کی منسوخی
قرآن کریم متعدد افراد کے پاس صحیفوں کی شکل میں نقل میں تھا ۔۔اور حفظ بھی تھا ۔۔اور رجم کی آیت کی منسوخی کے بعد کیونکہ یہ حضرت عائشہ کے پاس تھا اسی وجہ سے حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان سے نہیں ملتا یوں موجودہ قرآن میں شامل نہیں ۔۔شریعت کی رو سے مسلم علماء اور محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کی جانب سے کیے گئے اعمال بھی وحی کا حصہ ہوتے ہیں اور اس سلسلے میں قرآن بھی کہتا ہے ۔۔
اس کے بعد اے نبی قائم کیا ہے تمہیں شریعت پر دینی معاملہ میں _سو تم اسی پر چلو اور نہ اتباع کرو ان لوگوں کی خواہشات کا جو علم نہیں رکھتے ۔۔۔۔
شریعت کی فقہی تعریف کے مطابق قرآن حدیث اور سنت سے مل کر بنتی ہے ۔۔۔اور خالی سنت کو شریعت نہیں کہا جاسکتا ۔۔بہرحال بعض علماء رجم کے حق میں اور بعض نہیں ہیں ۔لیکن نبی کریم کے زمانے میں رجم ہوا یہ تحقیق حتمی ہے ۔۔۔۔
کنوارے ہو یا شادی شدہ دونوں کے لیے جو سزا ہے وہ میں نے بیان کردی ۔۔۔
اسلام کی سزائیں بڑی سخت ہیں ۔۔غزنوی نے کپکپاتے کہا سو کوڑے سوچ کر ہی دم نکلا ۔۔۔
اگر اسلام یہ سزائیں نہ دیتا زنا عام ہوتا ہر گھر میں زانی اور زانیہ ہوتے ہے ۔۔ہمارا آج کا معاشرہ دیکھ لو اگر شرعی طور پر سزاوار کو سزا دی جاتی تو آج زنا کے گناہ کم ہوتے تم خود بھی زنا نہیں کرتے بے شک کتنے ہی غصے میں کیوں نہ ہوتے ۔۔۔۔
ایک سوال اور ذہن میں آیا ۔۔اگر گواہ نہ ہو تو تب ؟ غزنوی نے پوچھا ۔۔
شہادت کے سوا دوسری چیز جس سے جرم زنا ثابت ہوتا ہے تو مجرم کا اپنا اقرار جرم ہے ٠ایسی عورت جو اس کے لیے حرام تھی اس کے ساتھ زنا کیا ۔۔۔اور قاضی یا عدالت یا جرگہ کو یہ اطمینان کرنا چاہیے کہ مجرم کسی دباو کے بطور ہوش میں یہ اقرار کررہا ہے ۔اور بعض فقہا کہتے ہیں کہ الگ الگ چار بار اقرار کرنا ضروری ہے یہ امام ابو حنیفہ ، امام احمد، ابن ابی لیلی، اسحاق بن رہوایہ اور حسن بن سالک کا مسلک ہے ۔۔۔اور بعض کہتے ہیں ایک ہی اقرار کافی ہے ۔۔یہ امام مالک ، شافعی ، عثمان البتی اور حسن بصری اس کے قائل ہیں ۔۔۔ثبوت کی بجائے اگر اقرار پر سزا دی جارہی ہو اور عین سزا کے وقت مجرم مکر جائے تو سزا روک دی جانی چاہیے ۔۔۔۔
سو کوڑے کھانے سے پہلے ہی بندہ مرجائے گا ۔۔غزنوی نے پھر سوال اٹھایا ۔۔۔
حشمت مسکرائے ۔۔ایسا نہیں ہے ہمارا دین سزا ضرور دیتا ہے مگر اس کا خیال رکھتا ہے ۔۔اگر سو کوڑے بولیں ہیں تو تمیز کے دائرے میں ہی اتنی سختی سے مارنے چاہے جو برداشت کرسکے ۔۔اللّہ نے سختی کا حکم دیا مگر سو کوڑے بھی کہے ۔۔
جو بات تم نے کہی اللّہ کو بھی پتہ ہے اس کا بندہ تو سو سے پہلے مر سکتا ہے تو پھر اس نے سو کا حکم کیوں دیا ۔۔۔۔
اس لیے مارنے والا انسانیت کے دائرے میں مارے ۔۔۔تاکہ سو پورے کرسکے۔۔اللّہ نے کوڑے مارنے کا حکم دیا ہے اگر موت مقصود ہوتی تو قتل کا واضح حکم اترتا ۔۔۔ یعنی رجم کا ہی صرف حکم آتا کوڑے یا پہلے عبوری حکم میں قید اور توبہ کرنے کا حکم نہیں ملتا ۔۔۔ سزا اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ آئندہ جرم نہ کرے ۔۔اور دوسرے بھی نصیحت پکڑے ۔.
اگر وہ مر گیا تو ۔۔۔پھر غزنوی نے ٹوکا ۔۔۔
میں بتا رہا تھا بچے ۔۔۔۔پہلے تمہارے سوال کا جواب دے دوں ۔۔۔تو کوڑے نہیں مارے جائیں گے ۔۔اللّہ نے لاش کی حرمت کی بھی ہدایت دی ہے ۔۔دین اسلام میں کسی بھی لاش کے ساتھ برا سلوک منع ہے ۔۔۔۔اب دوبارہ بات پر آتے ہیں ۔۔۔۔
ابن القیم نے زاد المعاد میں لکھا ہے کہ ۔۔
حضرت محمد کے زمانے میں حضرت علی حضرت زیبر ، مقداد بن عمرو، محمدبن مسلمہ، عاصم بن ثابت اور ضحاک بن سفیان سے جیسے صلحاء و معززین سے جلادی کی خدمت لی جاتی تھی ۔۔
حضرت عبداللّہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس امت میں ننگا کرکے اور باندھ کر مارنا حلال نہیں ۔۔۔
فقہا کے نزدیک روزانہ بیس بیس کوڑے مارے جائیں ۔۔لیکن اولی یہی ہے کہ بیک وقت پوری سزا دی جائے ۔۔۔
مار کا کام اجڈ جلادوں سے نہیں لیا جائے بلکہ صاحب علم وبصیرت آدمیوں کو یہ خدمت انجام دینی چاہیے ۔۔جو جانتے ہوں کہ شریعت کا تقاضہ پورا کرنے کے لیے کس طرح مناسب ہے ۔۔۔
۔اگر مجرم مریض ہو تو تو صحت یابی تک روکا جاتا تھا اگر صحت یاب نہ ہونے کی امید ہو یا بے حد بوڑھا ہو تو شاخوں والی ایک ٹہنی یا جھاڑو لیکر مارنا چاہیے تاکہ قانون کا تقاضہ پورا ہو ۔۔
عمران بن حصین کی روایت ہے کہ حضرت عمر نے غامدیہ کی نماز جنازہ کے موقع پر عرض کیا ہے یا رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کیا اب اس زانیہ کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی. ۔۔آپ ؐ نے فرمایا کہ ” اس نے وہ توبہ کی ہے کہ اگر تمام اہل مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو سب کے لیے کافی ہے ۔۔غامدیہ کے بارے میں مختصر بتاتا ہوں غامدیہ نے خود آکر اقرار جرم چار بار کیا تھا سزا مانگی تھی ۔۔حاملہ کی وجہ سے نہ دی پھر بچے کے پیدائش پر دودھ پلانے کی رعایت دی گئ ۔۔جب بچے کا دودھ پینا بند ہوا تو پھر سزا دی گئ تھی ۔۔۔۔۔غامدیہ شادی شدہ تھی ۔۔۔
بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے ایک شخص کو شراب نوشی کے جرم میں سزا دی جارہی تھی ۔۔کسی کی زبان سے نکلا ۔۔خدا تجھے رسوا کرے ” اس پر نبی کریم صل اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح نہ کہو ۔اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو ” اور ابو داود میں اس پر اضافہ ہے حضور ؐ نے فرمایا خدایا اسے معاف کردے خدایا اس پر رحم کر “
یہ ہے اسلام میں سزا کی اصل روح اسلام کسی بڑے بڑےمجرم کو بھی دشمنی کے جذبے سے سزانہیں دیتا بلکہ خیر خواہی کے جذبے سے دیتا ہے اور جب سزا دیتا ہے تو پھر اپنی شفقت کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔۔۔سزا اصلاح کے لیے دی جاتی ہے ۔۔۔
ہمارے علاقے میں دو الگ جماعتوں کے لوگ آئیں ہیں کچھ دن ان کی صحبت میں گزارو ۔۔۔۔دیکھو پرکھو ۔۔۔
آپ نے اپنا نہیں بتایا آپ کس مسلک سے ہیں ۔۔۔
حشمت غزنوی کی بات پر پھر مسکرادیے ۔۔یارا میں کسی مسلک سے نہیں ۔۔میں ایک اللّہ اور آخری رسول اللّہ کو مانتا ہوں ۔قرآن سے ہدایت لیتا ہوں ۔سنت اور حدیث پر عمل پیرا ہوں جہاں کوئ بات سمجھ سے باہر ہوئ ہر فرقے کو جانچتا ہوں ۔۔ کہ وہ اس معاملے کو کس پیرا میں لیتا ہے کیا وضاحتیں دیتا ہے ۔کس کی مثال رکھتا ہے ۔۔کیا اس کی پیروی خلفاء رشداین نے کی ۔۔۔اور پھر جس کی بات پر دل مطمئن ہوجائے اس پر عمل کرلیتا ہوں ۔۔۔
تو آپ مجھے کیوں جانے کا بول رہیں ۔۔غزنوی نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔
اچھی صحبت ضروری ہے ۔۔کچھ دن ایک جماعت کچھ دن دوسری جماعت کے ساتھ رہو۔۔کچھ اچھی باتیں ایک سے سیکھو کچھ دوسری سے ۔۔جہاں اختلاف آئے وہاں پر پہلے خود قرآن دیکھو حدیث دیکھو سنت دیکھو پھر بھی سمجھ میں کمی محسوس ہو تو دیگر مکاتب فکر کو پڑھو کہ انہوں نے یہ گھتی کیسے سلجائ اور جس پر دل مطمئن ہو اس کو بہتر سمجھو ۔۔۔۔۔۔جی بہتر
ایک اور آخری سوال پوچھ لوں ۔۔غزنوی نے اجازت مانگی ۔۔
رات بہت ہوگئ ہے لیکن تم پوچھ لو اس کے بعد اگر کوئ سوال تو وہ پھر کل ۔۔۔
جی پھر کل ہی ۔۔آپ نے مجھے زنا کے بارے میں جمعہ کو کیوں نہیں بتایا ۔۔۔
ہمم اس لیے میں چاہتا تھا تم اللّہ کے ڈر سے ندامت میں معافی مانگو نہ کہ سزا کے ڈر سے ۔۔۔ندامت میں مانگی گئ معافی جلد قبول ہونے کی خبر ہے ۔۔۔سزا کے ڈر سے اب یہ ہوگا تم آگے کوئ زنا نہیں کروگے ۔۔۔۔پھر تم نے بتایا تھا اس بچی کےباپ نے جرگہ اور عدالت میں جانے سے منع کردیا تھا فیصلہ اللّہ کو دیا تھا تو پھر جلد از جلد اللّہ کو راضی کرلو ۔۔
اگر اللّہ کسی کے گناہ کی پردہ پوشی کرتا ہے اور اس کا گناہ قاضی کے سامنے نہیں آتا تو اسے خود بھی چاہیے کہ وہ اپنے گناہ کو چھپائے اور اللّہ سے انتہائ توبہ کرے تاکہ قیامت کو جب کامل انصاف کے لیے سب مقدمے اللّہ کی عدالت میں لگیں گے اور ہر گناہ کو دیکھاجائے تو اس وقت شخص جہنم کی سزا سے بچ جائے ۔۔۔تمہارے پاس موقع ہے فائدہ اٹھا لو ۔۔جوانی کی گئ عبادت اللّہ کے یہاں بے حد مقبول ہے ۔۔۔۔ان شاء اللّہ اب صبح ملیں گے ۔۔
یہ کہہ کر سونے لیٹ گئے ۔۔۔مینیزہ نے بھی کھڑکھی بند کی ۔۔۔۔۔
رات بھر غزنوی اللّہ سے توبہ کرتا رہا روتا رہا ۔۔دل میں پکا ارادہ کیا لاروش کے قدموں میں گر کر معافی مانگے گا اور اسے اپنائے گا ۔۔۔
دوسرے دن کبیر اور اس کی ببوی بچوں کی آمد ہوئ ۔۔۔کبیر کو دیکھ کر غزنوی کو وہ دن پوری جزیت سے یاد آیا ۔۔۔۔چیریٹی شو کے دن بچوں کو ڈھیر سارا ڈونیشن دینے کے بعد ایک پیاری سی کیوٹ بے بی اپنا ڈونیشن فنڈ بکس لائ ۔۔۔
انکل آپ اس میں ڈونیشن دیں اس بکس میں ڈونیشن ڈالنے سے آپ کو بہت پیاری سی پری ملے گی ۔۔۔
غزنوی کو بچی کی بات اچھی لگی دوزانو بیٹھا ۔۔لٹل ڈول سوری یار میں نے سب دے دیا اب میرا پرس خالی ہے یہ کریڈٹ کارڈ بچا ہے کیا ہے اگر میں یہ دونگا اور رستے میں مجھے ضرورت پڑ گئ تو پھر مجھے لوگوں سے مانگنا پڑ جائے یو نو بھکاری بننا پڑے گا ۔۔۔
نو انکل پہلے تو میں ڈول نہیں ہانی ہوں ۔۔دوسری بات یار نہیں بولتے وہ جو لمبے والوں والی آنٹی (لاروش کی طرف اشارہ کیا ) ہیں کہتی ہیں یار لفظ برا ہوتا ہے دوست بولو ۔۔تیسری بات ہٹے کٹے ہو کر مانگنا گناہ ہے ۔۔۔بچی نے اپنی عمر سے بڑھ کر سمجھداری دکھائ ۔۔۔اور میں کارڈ تھوڑی پیسوں کا چندہ مانگ رہی ہوں ۔۔آپ کے پاس سارے ختم ہوگئے ہیں او یہ تو غلط ہوا رکیں ۔۔۔بچی نے اپنی ،فراک کی جیب میں ہاتھ ڈالا ۔۔اس میں سے پچاس کا نوٹ نکلا ۔۔۔
انکل آپ یہ رکھ لیں ۔۔یہ میرے پیسے ہیں میں نے ڈرائنگ بنائ تھی وہ آج بیچی ہے اس کے پیسے ہیں ۔۔۔
تو آپ کیا کریں گی ۔۔غزنوی بچی کی فکر پر ششدر ہوا ۔۔
کوئ بات نہیں۔۔پھر ڈرائنگ بنالو نگی اور آج میں آپ کی مدد کرونگی کل اللّہ میری مدد کریں گے ۔۔بچی معصومیت سے بولی ۔۔۔
بچی کی معصومیت پر اسے بے ساختہ پیار آیا ۔۔اس نے آگے بڑھ کر اس کے ایک گال پر پیار کیا دوسرے پر کرنے لگا ۔۔۔تو بچی پیچھے ہوگئ ۔۔۔اور گھورنے لگی ۔۔۔آنافانا بچی کے خدوخال کرخت ہوئے ۔۔
کیا ہوا ڈول غزنوی کی آنکھوں میں حیرانی اتری ۔۔۔
غیر بچیوں کو پیار کرنا بری بات ہے ۔۔میں آپ کی شکایت کرونگی ۔۔بچی غصے سے بولی ۔۔
ارے میں تو محبت سے کررہا ہوں مطلب آپ کی اچھی بات پر ۔۔غزنوی بوکھلایا جلدی وضاحت دی کہیں یہ ڈول پٹوا نہ دے ۔۔۔
مجھے وہ اسکارف والی آنٹی نے کہا تھا اگر کوئ بھی بوائے یا انکل پیار کرے فورا شور مچانا ۔۔اس کی شکایت لگانا ۔۔۔گندے انکل پیار کرتے ہیں ۔۔۔اچھے انکل سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دیتے ہیں ۔۔۔
اوہو میری غلطی مجھے معاف کردو پلیز آئندہ نہیں کرونگا ۔۔کسی بھی ڈول کے پیار ۔۔سوائے اپنی ایلڈر ڈول کے بقیہ بات دل میں کہتا مجبت بھری ایک نظر لاروش کو دیکھا جو نہ جانے کس آنٹی سے خوش گفتاری میں مصروف دکھائ دی ۔۔نظر واپس لٹل ڈول پر ڈالی ۔۔۔اور ساتھ ہی کان پکڑے ۔۔
اوکے ۔۔۔لٹل ڈول نے حامی بھری ۔۔
اچھا اب یہ نوٹ مجھے ادھار دے دو میں کل یہ بھی واپس کردونگا اور اس بکس کے لیے بھی ڈونیشن دونگا آخر مجھے پری جو چاہیے ۔۔ہانیہ مسکرا پیسے دیتی واپس مڑ گئ ۔۔۔
بچ گئے غزنوی ۔۔سکھ بھری سانس خارج کی ۔۔اور لاروش کی سمت بڑھا ان کو ہوسٹل چھوڑ گھر آیا دوسرے دن وعدہ پورا کرنے پہنچا تو ایک نیا مسئلہ کھڑا تھا ۔۔دو جڑواں بچے تھے جن کو لینے کے لیے دو خاندان میں بحث چل رہی تھی دونوں کو بیٹا چاہیے تھا ۔۔چھینا جھپٹی شور سے یا پھر بھوک سے یا بچھڑنے کے خوف سے وہ بچے رو رہے تھے اس فضول بحث کے پیچھے مینجر بھی بیزار کھڑا تھا ۔۔۔غزنوی کے پوچھنے پر پتہ چلا کہ سوا مہینے کے دو بچے ہیں جن کے ماں باپ مرگئے رشتے دار یہاں چھوڑ گئے ۔۔اور اب یہ دونوں صرف لڑکا مانگ رہے ہیں اس پر تکرار ختم نہیں ہورہی ۔۔غزنوی نے بچی دیکھی چھم سے اپنی گڑ کی ڈلی کا خیال آیا کتنی خوبصورت بچی ہے ۔۔اس کی گل جاناں کی طرح گل جاناں جیسے غزنوی سے محبت کرتی ہے ایسے ہی یہ بھی اپنے بھائ سے کرے گی لیکن کیسے لڑکا تو دونوں میں سے ایک لے جائے گا اس سوچ کے بعد صرف ایک پل لگا غزنوی نے فیصلہ کیا وہ ان کو جدا نہیں ہونے دیگا ۔۔مینجر صاحب میں دونوں بچوں کی کفالت اپنے ذمہ لیتا ہوں ان کو پلیز الگ نہ کریں ۔۔
میں کل ساری فارمیلٹیز پوری کرونگا ابھی مجھے اپنے ایک عزیزہ سے ملنے ہوسپٹل جانا ہے ۔۔ان شاء اللّہ کل آتا ہوں ۔۔۔
واپسی میں یہ خیال دامن گیر رہا بچے سنبھالونگا کیسے ۔۔۔گاوں لے جاونگا ۔۔یا کسی کو دے دونگا اللّہ مالک ہے ۔۔
بے شک اللّہ مالک ہے وہ دونوں بچے ایک محبت کرنے والے بے اولاد جوڑے کے حوالے ہوئے ۔۔۔ہوسپٹل میں عزیزہ کی عیادت کے لیے ہوسپٹل ریسپشن سے روم پوچھنے کھڑا ہوا تو وہاں پہلے سے موجود کھڑا مرد بل کم کرنے کی فریاد کررہا تھا ۔۔ غزنوی نے بیزاری سے پوچھ لیا. کہ بھائ کیا ہوا ۔۔تو مرد نے بتایا اس کی بیوی ماں بننے والی تھی سیڑھیوں سے گر کر بچے کی موت ہوگئ اور آئندہ ماں بننے سے محروم بھی ۔۔بیوی کے چکر میں ہوسپٹل میں آنے سے دکان کا خیال نہ رکھ سکا تو وہاں کا پورا صفایا ہوگیا. ۔۔باپ سے ناراضگی تھی ان سے بھی مدد لینا مشکل تھا ۔۔۔اب لاکھ کا بل کیسے بھروں ۔۔آپ سمجھایے کچھ دن بعد دے جاونگا ۔۔شرمندگی سے مرد بولا ۔۔۔
میں دیتا ہوں بل ۔۔۔یہ تیسری نیکی تھی جو لاروش کو متاثر کرنے کے بجائے دل کے کہنے پر کی ۔۔۔بل پے کرتے ہی غزنوی کو خیال آیا بچوں کے بارے میں پوچھو ۔۔غزنوی نہ صرف بچے ان کو دیے بلکے ان کی دکان میں پھر سے مال بھی بھراویا اور بچوں کی تعلیم کے نام خطیر رقم بینک میں جمع کروائ ۔۔دونوں میاں بیوی رب کے بعد غزنوی کے شکر گزار ہوئے ۔۔اور غزنوی جھمیلوں میں الجھ کر بھول گیا ۔۔لیکن اللّہ نہیں بھولا ۔۔دو مسلمان بچوں کو جدا کرنے سے بچایا پھر کفالت کی اس نیکی کا صلہ اللّہ نے غزنوی کی سوچ سے بڑھ کردیا اسے فوری ہدایت عطا کرکے معافی کے لیے اپنے در پر بلا کے ۔۔۔بے شک اللّہ کسی انسان کا احسان نہیں رکھتا اس کے احسان سے بڑھ کر نوازتا ہے ۔۔
_________
کبیر خوشدلی سے غزنوی کے گلے لگا ۔۔غزنوی بھی محبت سے ملا ۔۔ میں شہر سے ایمرجنسی آرہا تھا اماں کو لینے آپ پر نظر پڑی بے سدھ ایک پتھر پر بیٹھے تھے پاس پہنچ کر آپ کو آواز دی آپ نے نہیں سنی کندھا ہلایا تو آپ بے ہوش ہوگئے ۔۔۔پھر آپ کو بابا کے حوالے کیا شہر چلا گیا ۔۔معافی چاہتا ہوں اب آیا ہوں ۔۔کبیر معذرت خواہ ہوا ۔۔
کوئ بات نہیں ۔۔مجھے انکل سے مل کر اچھا لگا اس کے لیے شکریہ آپ جو مجھے یہاں لے آئے اگر واپس شہر لے جاتے تو میں پھر انکل کی پر شفقت رفاقت سے محروم رہتا ۔۔غزنوی نے عاجزی سے جواب دیا ۔۔
چند دن یہی رہا دینی جماعتوں کے سنگ اچھا وقت گزارکر حشمت سے رخصت لی جاتے جاتے مینیزہ سے بھی معافی مانگی ۔۔
معافی کا طلب گار ہوں انجانے میں غصے کے سبب دل آزاری کا باعث بنا ۔۔۔
مینیزہ نے صرف ایک پل نقاب سے نگاہیں اٹھائیں اور اگلے پل جھکا کر دھیمہ پرسکون لہجے میں بولی ۔۔۔
ایک طرح سے کڑوا سچ ہی کہا تھا لیکن آپ معافی مانگ رہیں تو میں معاف کردیتی ہوں ۔۔پر یہ تو لفظی گھاو تھے آپ کی معافی سے دور ہوگئے مگر جس کی روح تک گھائل کر آئے اس سے بھی لازمی معافی مانگیے گا ۔۔مینیزہ نے نصیحت کرنا ضروری سمجھی ۔۔
کیا آپ نے اپنے مجرم کو معاف کردیا ۔۔۔غزنوی نے سوال کیا ۔۔۔
مینیزہ چونکی زخمی مسکرائ ۔۔۔غزنوی کو مینیزہ کے پلکوں کی لرزش سے اندازہ ہوا کافی سخت سوال کردیا ۔۔۔
آپ کی خاموشی بتا رہی ہے ۔۔نہیں کیا ۔۔۔مجھے فکر ہے لاروش بھی نہیں کرے گی میں اس قابل تو نہیں لیکن اس کے در جا کر معافی مانگنےکی کوشش کرو نگا اس سے معافی حاصل کرلو ۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *