Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14

Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14

لارو ش کے ساتھ ہوئے سانحے کو چھ دن ہوگئے ۔۔ظاہری زخم توٹھیک ہونا شروع ہوگئے ۔۔۔مگر باطن میں جو ناسور بن گیا وہ تو شاید موت کے ساتھ ہی ختم ہوگا ۔۔۔کل ہی شادان سے مل کر خوب روئ ۔۔۔۔۔۔ساتھ سب کو رولا ڈالا ۔۔۔۔
شادان نے محبت سے تسلی دی ۔۔۔اللّہ پر بھروسہ کرنے کی نصیحت کی ۔۔۔۔
بھیا میں نے اپنے خوابوں کو پورا کرنا چاہا ۔۔۔اتنی بھیانک تعبیر ملی کاش مجھے علم ہوتا میں نہیں پڑھنے جاتی ۔۔۔۔
میں نے تو روکا تھا لاروش تو نہ مانی ۔۔۔اچھا کرتے ہیں جو بیٹیوں کو نہیں پڑھاتے ۔۔۔اس سے ان کے آنگن کی چڑیائیں سلامت تو رہتی ہیں ۔۔۔مورے دل برداشتہ ہوئیں ۔۔۔۔
ایسا نہیں ہے ۔۔۔بچیوں کو پڑھانا چاہیے ۔ہمارا مذہب تعلیم کے حق میں ہے ۔۔ہمارا قرآن تو شروع ہی پڑھ کے حکم سے ہے ۔۔۔بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کا پورا حق ہوتا ہے پڑھنا اور ماں باپ کی ذمہ داری کہ بچوں میں فرق نہ رکھتے ہوئے ان کو تعلیم کے زیور سے آشنا کریں ۔۔۔خرابی ہمارے سسٹم میں ہے زاور آفریدی بیوی کی غلط بات کی تصیح کی ۔۔ہمارا نظام تعلیم ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔کہنے کو اسلام کے نام پر یہ ملک حاصل کیا مگر نظام انگریزوں کا ہی چل رہا ہے ۔۔۔مخلوط نظام ِ تعلیم ۔۔۔پورے ملک میں تعلیم کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ہر فیلڈ میں الگ کالج اور یونی ہونی چاہیے ۔۔اگر ادارے الگ بنانا مشکل ہے تو کم از کم لباس ہی ایک جیسا یونی فارم کی صورت میں ہو ۔۔۔لڑکیوں کا پردہ لازم ہو ۔۔۔بچیاں پردہ کریں تو پتہ ہی نہیں چلے گے پردے کے پیچھے کون ہے ۔۔۔کسی بھی نامحرم کی بری نظر اس بچی کو بچائے رکھے گی ۔۔۔ماڈرن ازم کی جو فضول لہر چل پڑی ہے اس میں مردوزن دونوں ہی کی تباہی ہے ۔۔۔آزادی کے نام پر بگاڑ پیدا ہورہا ہے ۔۔۔یہی معاشرہ پہلے بھی تھا مگر جب ریپ کا اکا دکا سننے میں آتا تھا ۔۔۔لبرزم نے بے حیائ کو نمایاں کیا تو مردو کے نفس بھی بے لگام ہوگئے ۔۔۔۔۔۔قصور وار دونوں فریق ہوئے ۔۔۔
یہاں لاروش کا قصور ہے کیوں بھروسہ نہیں کیا اس نے ہم پر ۔۔۔ہم نے اپنی روایت کو ختم کرکے تعلیم کا دیا روشن کیا ۔۔۔لاروش کو بتانا تھا جب غزنوی اسے تنگ کرہا تھا ۔۔۔مجھ سے ڈر تھا مگر شادان وہ تو دوست جیسا تھا نہ پھر کیوں نہیں بتایا ۔۔۔غم وغصے سے چور زاور آخر شکوہ کرگئے ۔۔۔دل کا شور بلند ہورہا تھا ۔۔کب تک دل میں شکوہ رکھتے ۔۔کچھ شکوے انسانوں کے آپس میں ایسے ہوتے ہیں جو گھر میں بھونچال لے آتے ہیں ۔۔دلوں میں نفرتیں قائم ہوجاتیں ہیں ، رشتوں کا تقدس ختم ہوجاتا ہے اور بعض مرتبہ انسان کا انسان سے شکوہ کرنا بہتر ہوتا ہے ۔۔۔اس شکوے میں اپنائیت کے ساتھ آئندہ بھروسہ کرنے کا مان قائم ہوجاتا ہے ۔۔۔یہی شکوہ زاور نے کیا ۔۔۔۔
لاروش کے پاس جواب بھی نہ تھا ۔۔۔۔کیا دیتی ۔۔۔۔
غلطی ہم سے بھی ہوئ ایسے پردے کا نہ بولا ۔۔۔برقعہ پہناتے تو شاید غزنوی کی نظر میرے ہیرے پر نہ پڑتی نہ وہ چراتا نہ ہی توڑتا ۔۔۔آفریدی کو اپنے خزانہ لوٹنے کا غم اندر ہی اندر کھا رہا ہے ان کا دل چاہ چیخ چیخ کر روئیں مگر پھر گل زریں کے خیال سے چپ ہوگئے جو ان چند دنوں میں کمزور ہو کر بوڑھی لگنے لگی ۔
تم پریشان نہ ہو لاروش تمہارے خواب پورے ہونگے .یہ تم پر اللّہ کی آزمائش تھی ۔۔۔تم شور کرکے، شکوہ کرکے ملال کرکے آزمائش سے نہ گزرو ۔۔۔بلکہ حوصلے سے سب جھیلو ۔۔۔ تم پڑھو گی ۔تمہارے خواب پورے ہونگے ۔۔۔۔جو حادثہ ہونا تھا ہوگیا ۔۔مانتا ہوں ۔۔سنگین حادثہ تھا ۔۔جسے کے نقش مٹنا مشکل ہے ۔۔۔لیکن اگر رب کائنات چاہے تو سب مٹ جائے ۔۔۔جو گزر گیا اس کے لیے صبر کرو ۔۔۔صبر بہترین دوا ہے ۔۔۔۔تمہارے زخموں کو بھرنے میں مدد دے گی ۔۔۔شادان نے ہمت مجتمع کرکے لاروش کو نصیحت کی
کوشش کرونگی لاروش نے روتے روتے حامی بھری. . . . .
میں آج جا رہاہوں دو دن ہوگئے مجھے آئے ہوئے تم کہو گی تو نہیں جاو نگا ۔۔۔
کیوں نہیں جاوں گے ۔۔۔پرسوں تمہارا پیپر ہے تم کو کل رات تک وہاں لازمی پہنچنا ہے ۔۔۔لاروش کے جواب دینے سے قبل ہی مورے بولی ۔۔۔۔
جی لالہ آپ جاو ۔۔۔پلیز اپنے خواب پورے کرو ۔۔۔۔دونوں بہن بھائیوں کے خواب ایک جیسے ہی تھے ۔۔۔ایجوکیشن پھیلانا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شادان کے جانے کے بعد گل موقعہ تلاشنے لگی کیسے نکاح اور رخصتی کی بات کریں ۔۔۔اس کڑے وقت میں کسی مہربان کا ساتھ ہونا لاروش کے لیے بہت اچھا ہے ۔۔۔۔لاروش کے حویلی آنے کے بعد گل کو زیادہ تر وقت لاروش کے ساتھ گزرتا تھا ۔۔۔لاروش کی دوائیاں ۔زخموں پر مرہم لگانا ۔۔۔اس کی سوچوں سے بگڑتی بار بار حالت یہ سب گل زریں ہی سنبھال رہی تھیں ۔۔۔اور ساتھ ساتھ خود کو بھی ۔۔۔۔
ایسے میں اگر شجاع کا بھی ساتھ ہوجاتا تو ان کو آسانی ہوجاتی ۔۔۔۔۔
________
ماحول میں سکوت طاری تھا ۔۔کبھی کبھی جھینگر کے بولنےکی آواز آرہی ہے ۔۔۔۔رات ہونے کی بنا پر گاوں میں سناٹاہی تھا ۔تھکے ہارے صبح پرندوں کے ساتھ جاگے لوگ نیند کی میٹھی آغوش میں تھے ۔۔یہی حال حویلی کا بھی تھا ۔۔۔۔۔پورچ کی منڈیر پر بیٹھی مہر بانو دل ہی دل میں اللّہ کے حضور دعا کررہی تھیں ۔۔۔شمروزفکر سے ٹہلنے میں مصروف تھے ۔۔۔
مہر بانوکی آواز نے ساکت ماحول میں ارتعاش ڈالا ۔۔۔
دوبارہ فون کروائیں مہر بانو نے چکراتے شمروز سے التجا کی۔ ۔
ہاں فکر نہ کرو ۔۔مکرم کال ملاو ۔۔۔کہاں تک پہنچے ۔۔۔۔شمروز نے مکرم۔ کو حکم دیا ۔۔۔۔
جی خانا ۔۔۔مکرم نے مودبانہ کہہ کر کال ملائ ۔۔۔
کیا ۔۔۔مکرم۔ کے چہرے پرننھی ننھی بوندیں پسینہ کی نمودار ہوئ ۔۔۔موسم میں خنکی کے باوجود پسینہ آنا خطرے کی علامت تھی ۔۔۔شمروز کا دل انہونی کا سوچ کا لرزہ ۔۔۔
کیا ہوا بتایے نہ مکرم لالہ ۔ممتا کے ہاتھوں مجبور ۔۔سارا لحاظ ایک طرف کر کے مہر بانو نے مکرم کو خود ہی مخاطب کیا ۔۔۔شمروز کا سہارے کا انتظار نہ ہوسکا۔۔مہر بانو نے احترامااپنے چھوٹے مکرم کو لالہ کہا ۔۔
وہ جی غزنوی صاحب کی گاڑی کا ۔۔۔مکرم نے چہرے سے پسینہ صاف کیا ۔۔۔شمروز اور مہربانو کی سماعتیں بے تابی سے مکرم کی آواز سننے کو محو تھیں ۔۔۔
گاڑی کا ایکسِڈینٹ ہوگیا ۔۔۔گاڑی چھوٹی کھائ میں جا گری ۔۔مہر بانو ساکت نگاہوں سے سن کھڑی رہ گئ ۔۔۔۔۔۔کیا ان کی رعا رائیگاں گئ ۔۔۔۔
۔اکلوتے لخت ِجگر کا ایکسڈینٹ سن کر شمروز نے دل پکڑا ۔۔۔مکرم نے تیزی سے ان کو تھاما دوسرے گارڈ کی مدد سے حویلی میں خبر دی ۔۔۔آناًفاناً پوری حویلی کو پتہ چل گیا ۔۔۔ورشہ نے گل جاناں کو بتایا
گل جاناں کو بھی شدید جھٹکا لگا ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو لالہ سے لڑ رہی تھی ۔۔۔۔ایسا کیسا ہوسکتا ہے ۔۔۔ورشہ مذاق کررہی ہو نہ آس بھری نظروں سے دیکھاکہ شاید ابھی ہنستے کہہ دے میں نے فلا بات کا بدلہ لیا ہے ۔۔۔۔۔لیکن ورشہ کے رونے پر ننگے سر باہر بھاگی۔۔۔۔جسےبہروز نے راستے میں ہی پکڑ لیا میرا لالہ چاچا ۔۔۔یہ ورشہ بول رہی ہے ۔۔۔۔۔مجھے لالہ کے پاس جانا ہے ۔۔۔۔بد حواسی سے روتے بولی ۔۔۔۔۔
جانے دو چاچا ۔۔۔۔امو میرا لالہ ۔۔۔۔۔بہروز کا ہاتھ چھوڑ کر امو کے گلے لگی لیکن گل کا سہارا پاتے ہی بے ہوش ہوگئ ۔۔۔۔
پلوشہ اور ورشہ نے تائ کو پکڑا جبکہ گل تو روتے اپنی جنت کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔خاموشی سے روتی مہر بانو کے ساتھ ہی لاونج کی زمین پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔۔
بیٹا میں جارہا ہوں دعا کرو اللّہ عزوجل رحم کرے ۔۔۔بہروز سر پر ہاتھ رکھ کر باہر نکلے ۔۔۔۔۔مکرم سکندر کے ساتھ شمروز کو لیکر علاقے کے ہوسپٹل نکلے ۔۔۔۔راستے ہی میں عیسی خان کو اطلاع کردی ایمرجنسی کی۔۔۔۔وہاں پہنچتے ہی فورا ٹریٹمنٹ کی ۔۔انجائنہ کا اٹیک ہے ۔۔۔۔عیسی نے کہا ۔۔۔میں نے امو کو بتادیا غزنوی کا وہ بھی حویلی پہنچ گئ ہونگی ۔۔۔۔۔۔عیسی گل بدئ کا بیٹا اور شہزاد کا دامادہے ۔۔۔ بہروز نے حویلی سے شہزاد کو جائے حادثہ پہنچنے کا کہا ۔۔۔. . عیسی نے شمروز کی ذمہ داری لی ۔۔۔ہوش آنے پر شمروز نے حویلی جانے کی ضد کی تو طبعیت نہ بگڑے اس لیے ان کو حویلی لے گئے ۔۔۔۔
بہروز اور ان کا بیٹا سکندر جائے حادثہ پر پہنچے ۔۔اثر ورسوخ کی بنا پر ماہر ٹیم جلد حاضر ہوئ ۔۔رات کے باعث غزنوی کو ڈھونڈنے میں مشکل ہورہی تھی ۔۔۔کچھ دیر امدادی کام روکا گیا ۔۔۔کرین کی مدد سے کار باہر نکلی جو نہایت بری حالت میں تھی ۔۔دروازے کھلے ہونے کے سبب خدشہ تھا غزنوی کھائ کی تہہ تک نہ چلا گیا ہو ۔۔۔رات کے باعث غزنوی کو ڈھونڈنے میں۔مشکل ہورہی تھی ۔۔۔کچھ دیر بعد صبح ہونے والی تھی توفیصلہ کیا گیا امدادی کام فی الوقت روک دیا جائے ۔۔۔سحر ہوتے ہی کام شروع کردیں گے ۔۔۔
وہیں کھڑے کھڑے بہروز نے خاندان کے دیگر مردوں کو اطلاع دی جن میں اس کے دو بیٹے اور شہزاد جو کہ صوبائ اسمبلی کی سیٹ سے الیکشن لڑنے کے لیے کاغزات میں ہوئ گڑبڑ ٹھیک کروانے اسلام آباد میں تھے اور بلال جو کے سیٹ کا اہل نہ ہوتے ہوئے بھی کراچی یونی میں بزنس کے سبجیکٹ کا لیکچرار بن گیا ۔۔اسے یہ نوکری باپ کی سفارش سے ملی تھی ۔۔۔اطلاع دی ۔۔۔۔
شہزاد کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ۔۔ دو غزنوی سے بڑ ے ایک چھوٹا تھا ۔۔عالم گیر ۔۔۔کمشنر کی پوسٹ پر تھے ۔۔۔جہانگیر بزنس کررہا تھا ۔۔جبکے گل شیر تعلیم کے لیے آسڑیلیا میں مامو کے گھر تھا ۔۔۔دو بیٹیاں ایک پھپو کے گھر اور دوسری سکندر سے بیاہ دی تھیں ۔۔۔
بہروز کے دو بیٹے دو بیٹیاں تھیں ۔۔۔ورشہ اور پلوشہ ٹوئنز اور سکندر بڑا بزنس سنبھا رہا تھا اس کی شادی شہزادکی بیٹی سے ہوئ اسکے بھی دو بچے ہیں ۔۔۔آخر میں بلال تھا جو گل جاناں سے شادی کا خواہشمند ہے ۔۔۔۔
صبح ہوتے ہی گل جاناں نے حادثے کی جگہ پر جانے کی ضد کی ۔۔۔پر شہزاد کی حویلی آمد پر رک گئ ۔۔۔۔جو اسلام آباد سے سیدھے پہلے بھائ کے پاس آئے ۔۔آخر شمروز دونوں بھائیوں کے لیے باپ سی حیثیت رکھتا ہے ۔۔۔
بھائ حوصلہ کریں ۔۔ان شاء اللّہ غزنوی ٹھیک ہوگا ۔۔۔ ضبط سے نم آنکھوں سے شہزاد نے جھوٹی تسلی دی ۔۔۔۔۔تھوڑی دیر قبل فون پر بہروز سے بات ہوئ ۔۔بہروز نے صورت حال خراب ہی بتائ ۔۔۔درختوں کے جھنڈ اور جھاڑیاں تو مسئلہ کررہی تھیں کے بارش کی وجہ سے پھر امدادی کام روکا گیا ۔۔۔اتنا وقت گزر گیا غزنوی کے زندہ بچنے کے چانس کم سے کم ہوتے جارہے تھے ۔۔
حویلی میں شام تک سارے پہنچ گئے ۔۔۔
بلال کو بھی دکھ ہوا ۔۔عدوات نفرت اپنی جگہ ۔۔۔لیکن کبھی اس نے غزنوی کی موت کا نہ سوچا تھا ۔۔۔۔۔۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے ہمت امید دم توڑ رہی ہے ساتھ وسوسات اوہام بڑھ رہے ہیں ۔۔۔گل کو غش پر غش آرہے ہیں ۔۔تو مہر بانو کی خاموشی ختم نہیں ہورہی ۔۔۔۔
بالاخر شام کے چھ بجے جب اندھیرا چھا نے لگا تو غزنوی کا مسخ جسم مل گیا ۔۔۔جس میں سانس لینے کی ذرا سی بھی رمق نہ تھیں ۔۔۔
حویلی میں خبر پہنچتے ہی صف ماتم بچھ گیا ۔۔۔باڈی کو ہوسپٹل کے بجائے پہلے گھر لایا گیا ۔۔۔
مہربانو دوڑتی ایمبولنس کے پاس پہنچی ۔۔۔گل جاناں نے بھی ورشہ اور پلوشہ کا حصار توڑ کر امو کے ساتھ کھڑی ہوئ ۔۔۔
شمعوز میں تو سر اٹھانے کی طاقت نہ تھیں ۔۔وہ وہیں نڈھال بیٹھے آنسو بہارہے تھے ۔۔۔باڈی کو ایمبولینس سے باہر نکالا ۔۔۔۔۔گل نے منہ پر ہاتھ رکھ کر چیخ کا گلہ گھونٹا ۔۔۔روتی دیکھنے لگی ۔۔پھر زور دار چیخ ماری ۔۔۔۔
آفریدی کو بھی حادثے کی اطلاع ملی ۔۔۔ان کو بھی صرف اکلوتا ہونے کا سوچ کر غزنوی کے ماں باپ سے ہمدردی ہوئ ۔۔۔غزنوی کا یہ ایکسڈینٹ مکافات عمل لگا ۔۔۔۔
لاروش کی طبعیت ظاہری طور پر ٹھیک ہو نےلگی ۔۔۔لیکن ذہن پرسوچ رہتا ۔۔۔ کمرے تک محدود ہوکر رہ گئ ۔مورے ابھی تک ہمت ہی نہیں کر پائ ۔۔۔ادھر شجاع کی پوسٹنگ افغان بارڈر پر ہوگئ ۔۔۔۔۔گل زریں نے آفریدی سے اصرار کیا کہ وہ لاروش سے شادی کی بات کرے ۔۔۔انھیں امید تھی انکو لاروش انکار نہیں کر سکیں گی ۔۔۔۔
کیسی طبیعت ہے لاروش بیٹا ۔۔۔آفریدی نے محبت سے چور لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔۔
جی بابا ٹھیک ہوں ۔۔۔لاروش نے جھکے سر سے جواب دیا ۔۔۔باپ سے نظریں ملانے کی ہمت ختم ہوچکی تھی آفریدی کے شکوے کے بعد سے لاروش شرمندہ ہوجاتی ۔۔۔۔
بیٹا جی درخواست لیکر آیا ہوں ۔۔قبول کر لونگی تو احسان مند رہونگا ۔۔۔۔۔بے چارگی انداز ِ بیان میں آگئ ۔۔
لاروش نے تڑپ کر جھکی نظر اٹھائ ۔۔۔ آج بیس دن بعد لاروش نے غور سے دیکھا اسے اپنے باپ اور ماں دونوں کمزور لگے ۔۔۔اس کے ساتھ ہوئے سانحہ نے اس کے مورے اور خان بابا کو بڑھاپا دے دیا ۔۔۔
آپ حکم دیں ۔۔درخواست نہ دیں ۔۔۔۔۔۔لاروش روہانسی ہوئ ۔۔
نہ میری بچی رونا نہیں ۔۔۔گل نے تسلی دی ۔۔۔۔
خان بابا نے لاروش کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔ہم تو درخواست کرنا چاہتے تھے لیکن تم نے فرمانبرداری ظاہر کی تو پھر یہ حکم ہی سمجھو جس سے تم کو انکار ممکن نہیں ۔۔۔۔۔۔میں نے تمہاری شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جلد تمہاری شادی ہوگی۔۔۔۔زاور آفریدی بتا کر چلے گئے ۔۔۔۔۔ساتھ گل کو بھی لے گئے اکیلے میں وہ جی ہلکا کرلے ۔۔۔
لاروش دنگ رہ گئ ۔۔۔کون ہے وہ اتنے ظرف والا جو مجھ جیسی لڑکی کو اپنائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ضرور خان بابا نے جائیداد دینے کا وعدہ کیا ہوگا جو مجھ جیسی عیب شدہ سے سے شادی کرے گا ۔ورنہ مردوں میں اتنا ظرف کہاں ہے ۔۔۔پچاس سالہ مرد بھی اترن سے شادی نہیں کرتا ۔۔۔۔۔زہریلی سوچوں نے ایکدم لاروش کے ذہن پر حملہ کیا۔۔۔۔۔۔لاروش سسکنے لگی ۔۔۔۔۔
دوسرے دن ثنا لاروش سے ملنے آئ ۔۔۔۔۔۔
یار میں بہت منس کررہی ہوں تجھے ۔۔۔۔ثنا لاروش کے گلے لگی ۔۔ دونوں سہلیاں مل کر روئی ۔۔۔ان کی دوستی کا دورنیہ لمبا نہیں تھا ۔۔مگر چند دننوں میں مضبوط ہوگیا تھا ۔۔
کیسی ہے لاروش ۔۔۔۔بتا مجھے ۔۔۔ثنا نے فکر سے پوچھا
بہت بری ہوں میں ۔۔۔سب کو پریشان کیا ۔۔آنسو صاف کرتی لاروش نے جواب دیا ۔۔۔۔
مجھے چھوڑو اب تو تم صبح لیٹ تو نہیں ہوتی۔۔۔لاروش۔۔لہجے میں زبردستی بشاشت لائ ۔۔۔
۔۔میں تیرے بعد یونی گئ نہیں ۔۔۔لاہور چلی گئ ۔۔۔نہیں پڑھنا مجھے اب ۔۔۔بددلی سے بولی ۔۔۔
میری وجہ سے اپنا نقصان نہ کرو ۔۔۔پلیز تم ایجوکیشن کمپلیٹ کرو ۔۔۔لاروش نے عاجزی سے بولا ۔۔۔
میرا دل نہیں کررہا ہے اور میں نے انس سے منگنی توڑ دی ۔۔۔ثنا نے اسے دوسری اطلاع دے کر حیران کیا ۔۔۔
کیوں ۔۔۔وہ تو گھر والوں کی مرضی سے رشتہ ہوا تھا ۔۔۔تم سے محبت کرتا تھا ۔۔۔۔لاروش نے سوال کیا
وہ غزنوی کا دوست ہے تم بھول رہی ہو یہ بات ۔۔۔۔غزنوی بھی محبت کا دعوے دار تھا کیا کیا اس نے تیرے ساتھ ۔۔۔انس بھی اس کا دوست ہے وہ بھی غزنوی سے برائ میں کم نہ ہوگا ۔۔۔ثنا نے تنفر سے کہا ۔۔۔
تم غلط کہہ رہی ہو ۔۔۔انس میں برائیاں ہونگی انکار نہیں ۔۔مگر وہ تم سے محبت کرتا ہے جب ہی اس نے تیرے گھر رشتہ بہیجا ۔۔۔تیرے گھر والوں کو راضی کیا پھر منگنی ہوئ ۔۔۔۔جبکے غزنوی کو مجھ سے محبت نہیں تھی ۔۔وہ مجھے جھکانا چاہتا تھا میری انا کو اپنے قدموں میں رکھنے کا خواہشمند تھا ۔۔۔دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ میرا آئیڈیل مجسم میرے پاس ہے میں جس چیز کی خواہش کروں وہ مجھے مل جاتی ہے میں اس کی حاکمیت کی تسکین تھیں ۔۔۔میرے انکار پر اس نے مجھے روند دیا ۔۔۔بکھیر دیا ۔۔۔لاروش پھر تڑپ کر دوبارہ روئ ۔۔۔
ثنا نے بمشکل سنبھالا ۔۔۔۔چپ کرایا ۔۔۔
تو کتنی بری میزبان ہے میں اتنی دور سے ہڈیوں کا آنچر پنچر کرواں کر تیرے پاس آئ ہوں تونے ابھی تک مجھے کھانا تو دور چائے پانی کا نہیں پوچھا ۔۔ ثنا نے منہ بسورہ ۔۔۔
لاروش اس کے انداز پر پھیکا مسکرائ ۔۔۔میں لیلی سے کہتی ہوں ۔۔
لیلی کی آمد پر ثنا نے لیلی سے کہا ۔۔۔اور لیلی بی بی مجنوں کہاں ہے
جی کیا پوچھتا ہے تم ۔۔۔لیلی نے ناسمجھی سے کہا
بچارے مجنوں کو محبت کا لارا دے کر صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود یہاں ملازمہ بن گئ ۔۔۔ تم۔ کو شرم نہیں آئ ثنانے شرارت سے کہا
اللّہ معافی ۔۔۔بی بی تم ہم کو الزام دیتا ہےکسی مجنوں کے بچے کو نہیں جانتا ۔۔۔لیلی نے اپنے گال پیٹے ۔۔۔
رہنے دور یار پہلے ہی سرخ ہورہے ہیں میں جیلس ہورہی ہوں اور تم مار کر انار بنادوگی ان گالوں کو کیا ۔۔۔۔
اچھا تو پھر وہ صحرا میں۔ لیلی لیلی کیوں پکار رہا ہے ۔۔۔شرارتی آنکھیں ۔۔۔لیکن چہرہ مدبر بنائے لیلی کو مزید چھیڑا
تم ہم کو بتاؤ وہ خبیث کون سے صحرا میں ہیں ہم بابا کو بولے گا وو اسکا کچومر نکالے گی . . پھر اس کو پتہ چلے گی ۔۔لیلی کو پکارنے کا انجام کیا ہوتا ہے ۔۔۔ ۔۔لیلی کوغصہ آیا ۔۔۔۔
اف ابا سے زیادہ لگ رہا ہے تم ہی اسکا دم نکال دوگی ۔۔۔میں تو نہیں بتاو گی تم کو ۔۔۔ثنا نے مزید تنگ کیا ۔۔۔ثنا کے تنگ کرنے پر لاروش کے چہرے پر مسکراہٹ کی چھب آئ ۔۔ثنا نے کن اکھیوں سے دیکھا ۔۔۔
ہم ابا کو بلاتی ہے ۔۔۔لیلی اٹھ کر سنجیدگی سے جانے لگی ۔۔۔
ارے لاروش روکو ایسے ۔۔۔ثنا بوکھلائ ۔۔۔
کس نے کہا تھا اس معصوم سے پنگا لو ۔۔لاروش نے مدد کرنے سے انکار کردیا ۔۔۔۔
لیکن لیلی خود ہی واپس آگئ ۔۔۔ام بھول گیا تھا ۔۔۔آپ کھانا یہاں کھاوگی یا باہر ۔۔۔لیلی نے خفگی سے گھورتے کہا ۔۔
میری پیاری دوست کی معصوم گائے میں مذاق کر رہی تھیں ۔۔۔تم کسی کو کچھ نہیں بتانا ۔۔۔ثنا نے خفگی بھری نظروں پر معزرت کی ۔۔۔
گائے کہاں سے آگئ اور تم گائے سے مذاق کرتی ہو ۔۔لیلی نے حیرانگی سے آنکھیں کھولی ۔۔۔۔
ثنا نے اپنا سر پیٹا ۔۔بے وقوفی کی انتہا ہے ۔۔۔ثنا نے بے چارگی سے لاروش کی سمت نگاہ کی ۔۔۔
لاروش کھلکھلا کر ہنسی ۔۔۔
ماشاء اللّہ لاروش باجی اتنے دن بعد ہنسی ہو ۔۔اچھی لگ رہی ہو ۔۔۔
لیلی بے ساختہ بولی ۔۔۔
لاروش کے مسکراتے لب بھینچے ۔۔۔مجھے مسکرانے کا حق نہیں ۔۔۔لاروش نے اپنی مسکراہٹ سمیٹ دی ۔۔۔
بری بات لاروش ایسا نہیں کہتے تمہارے ماں باپ کے لیے خود کو سنبھالو ۔۔۔۔ہنسو بولو ۔۔۔۔خود کو گم نہیں کرو ۔۔پلیز ۔۔۔
اور یہ کتنے گندے کپڑے پہنے ہیں ۔۔۔چلو جلدی سے تیار ہو ۔۔مجھے اپنے گاوں کی سیر کراو ۔۔۔
ثنا کی ضد پر لاروش نے تین دن پرانے کپڑے نہا کر چینج کیے ۔۔۔لیکن کمرے سے جانے سے صاف منع کردیا ۔۔۔کھانا مورے نے کمرے ہی میں لگوایا ۔۔۔۔
کھانا کھاتے لاروش کا دل گوشت کی اشتہا انگیز خوشبو سے گھبرایا مگر دوست کی خاطر بندھے بیٹھی رہ گئ بامشکل چند نوالے لیے ۔۔
ثنا کے اصرارپر میٹھا کھایا ہی تھا کہ وومنٹ شروع آگئ منہ پر ہاتھ رکھ کر تیزی سے دوڑ کر باتھ روم گئ ۔۔۔مورے کادل سکڑا ۔۔یہ بے سبب الٹی ۔۔۔دماغ سائیں سائیں کرنے لگا ۔۔۔یا اللّہ کیا نیا امتحان شروع ہونے والا ہے اے تمام جہانوں کے خالق خیر کر ۔۔۔۔گل زریں کی ہمت نہ ہوئ لاروش کے پیچھے جانے کی ۔۔چہرے کا رنگ اڑا گیا ۔۔۔
ثنا اور لیلی لاروش کے پیچھے گئ ۔۔۔وومنٹ کے بعد کمزوری سے وہیں بے ہوش ہوگئ ۔۔۔دونوں گھسیٹ کر اسےروم میں لائ ۔۔۔
ثنا نے گل زریں کو دیکھا جو سب دیکھ رہی ہیں مگر مدد نہیں کررہی ، جن کے چہرے پر تفکر اور ڈر کی پرچھائیں چھا گئ ۔۔ثنا کو ان پر ترس آیا ۔۔۔
آنٹی پریشان نہ ہو۔۔ہوسکتا ہے زبردستی کھانا کھایا ہے اس لیے الٹی ہوگئ اور نقاہت سے بے ہوش ۔۔۔۔ڈاکٹر کو بلا لیں چیک اپ ہوجائے تو بہتر ہے ۔۔۔۔
گل نے ضبط سے کام لیا ثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔۔پریشان کیسے نہ ہوں جو سوچ ذہن میں آرہی ہے اگر وہ سچ ہوئ تو لاروش کا کیا ردِعمل ہوگا ۔۔
ثنا سے اپنی سوچوں کااظہار نہ کیا، لیلی کو لیڈی ڈاکٹر لانے کا کہا ۔۔۔
ڈاکٹرنی نےآکر گل کے خدشے کو درست ثابت کردیایہ پریگنٹ ہیں کل کلینک لے آیے گا مزید ٹیسٹ لے لونگی ۔۔۔لاروش کافی کمزور ہے مجھے کچھ ٹیسٹ لینے ہونگے ۔۔اللّہ اس بچی کو ہمت دے ۔۔۔آمین ۔۔ڈاکٹر نے دعا دی اسے بھی راز میں شریک کیا گیا تھا ۔۔۔گل زریں کی آنکھیں نم ہوگئیں ۔۔۔
ہوش میں آنے کے بعد اس خبر نے لاروش کو پھر ماتم کرنے پر مجبور کردیا ۔۔۔
مورے مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے ، مار دیجیے ۔۔۔بلکے میں ہی مار دیتی ہوں ۔۔لاروش ہزیانی چلائ ۔۔۔لاروش نے اپنے شکم پر ہاتھ مارا ۔۔۔۔دوسری بار ہاتھ مارنے پر مورے نے ہاتھ ۔۔۔پکڑ لیا
نہیں میری بچی گناہ نہ کر ۔۔۔۔مورے خود بھی آنسو بہا رہی تھیں ۔۔
مورے یہ سانپ کی اولاد ہوگی ۔۔۔سنپولیہ ۔ سرگوشی کی ۔۔۔سنپولیہ بھی تو ڈستا ہے نہ مجھے نہیں چاہیے ۔۔مورے مار دو ۔۔۔زہر دے دو مورے ۔۔۔لاروش تڑپ کر روئ ۔۔۔لاروش کی یہ تڑپ ایک پاگل ضدی بچے کا گمان لگی
استغفر اللّہ ۔۔۔۔لاروش توبہ کر ۔۔۔اللّہ کی نعمت کو کیا بول رہی ہے ۔اس معصوم کاکیا قصور ۔۔۔یہ تیری اولاد ہے اس کا اسی طرح دنیا میں آنالکھا تھا ۔۔گناہ کی باتیں نہ کر میری بچی ۔۔۔۔گل زریں سمجھاتے سمجھاتے روتی رہی ۔۔۔
لیلی اور ثنا خاموشی سےروتےگل اور لاروش کو تکتے رہی۔۔۔کہاں سے وہ الفاظ لائیں جو لاروش کے زخموں پر مرہم بنے ۔۔۔ثنا سوچتی اور دیکھتی رہی ۔۔۔
تھی خبر رسوائ کی جسے آفریدی خاندان نے برداشت کرنا تھا ۔۔۔یہ قسمت میں سہنا لکھ دیا گیا تھا ۔۔۔امتحان تھا صبر و شکوے کا ۔۔۔زندگی یا موت کا ۔۔۔کامیابی یا ناکامی کا ۔۔۔
بالآخر جیت زندگی کی ہوئ ۔۔۔لاروش نے صبر کا فیصلہ کیا ۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *