Teri Chahat Mein by Areeba Sehar NovelR50747 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17
No Download Link
337.4K
35
Rate this Novel
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode01 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode02 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode03 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode04 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode05 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode06 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode07 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode08 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode09 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode10 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode11 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode12 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode13 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode14 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode15 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode16 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17 (Watching)Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode18 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode19 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode20 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode21 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode22 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode23 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode24 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode25 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode26 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode27 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode28 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode29 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode30 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode31 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode32 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode33 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode34 Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Last Episode
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17
Teri Chahat Mein by Areeba Sehar Episode17
آپ سے پہلے بھی کہا تھا آپ کا قصور نہیں ۔۔آج آخری بار یہ بات ہمارے درمیان ہورہی ہے اس کے بعد میں آپ سے کبھی نہ سنو ۔۔محب کی نظر میں محبوب کے عیب خطائیں لرزشیں معنی نہیں رکھتے ۔۔اور آپ اپنی جس خیانت کا ذکر کرہی ہیں اس میں آپ کی مرضی نہ تھی ۔۔آپ میرے لیے کل بھی قابل احترام ہیں اور آج بھی ۔۔یہ جسے تم نو ماہ اپنے اندر پالوں گی یہ میری اولاد ہے میرے نام سے جانی جائے گی ۔۔اور مجھے اس سے مطلب نہیں یہ غزنوی کا گناہ ہے ۔۔۔مجھے اس سےمطلب ہے کہ تم نو ماہ تکلیفیں جھیل کر اسے پیدا کروگی ۔۔۔۔۔اور یہ تمہارے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد مجھے بے حد زیادہ پیاری ہے ۔۔۔آج کے بعد اپنے ساتھ ہوئے حادثے کا ذکر مت کرنا نہ میری اولاد کو کچھ پتہ چلے با حیثیت شوہر یہ حکم دے رہا ہوں ۔۔ اور یہ حکم ماننا تمہارا فرض ہے ۔۔۔باقی رہ گیا میرا حق ابھی تم کافی کمزور ہو میں ظالم نہیں ہوں ۔۔اس کی تم فکر مت کرو تم گناہ گار نہیں ہوگی ۔۔میں اپنی مرضی سے چند دن تمہیں دے رہا ہوں ویسے میری پوسٹنگ جن دونوں میں سے کسی ایک جگہ بھی ہوئ تو یار وہاں تو کپلز آتے ہی ہنی مون منانے ۔۔۔اس لیے ہم بھی موقع سے فائدہ اٹھا کر ہنی مون منا لیں گے ۔۔کچھ سرد کچھ نرم کچھ محبت بھرے لہجے میں شجاع نے لاروش کو سمجھایا ۔۔۔
آپ کا وزن کتنا ہے ۔۔شجاع نے پوچھا ۔۔۔
کیوں آپ کو پتہ نہ چلا رات میں تو بے شرم بنے سب کے سامنے گود میں اٹھا کر کمرے میں لائے تھے ۔۔۔نروٹھے پن سے بولی ۔۔
رات میں ولیمے کے بعد گھر آکر بھی سب نے ادھم مچائے رکھا ۔۔۔لاروش کے کئ بار منا کرنے کے باوجود دراوزے سے روم تک شجاع نے گود میں اٹھایا ۔۔۔
یار میں فوجی ہوں پہلوان نہیں جو گود میں اٹھا کر وزن بتا دیتے ہیں ۔۔۔شجاع کو بھی رات کے مناظر اور لاروش کا نروٹھا پن اچھا لگا ۔۔۔
45 کے جی ۔۔یونی میں لاسٹ ٹائم کروایا تھا اب شاید چالیس رہ گیا ہو ۔۔۔۔۔۔ایک بار پھر اداس ہوئ ۔۔۔
اوہ یار یہ تو بہت کم ہے۔۔۔۔تم جان شان بناو ایسا نہیں چلے گا مجھے تو موٹی خواتین پسند ہے لکڑیوں کی طرح سوکھی نہیں ۔۔میں ون منتھ بعد آو تو تمہارا وزن ستر کے جی ہونا چاہیے ۔۔
کیا ۔۔چیخ نکلی پھر آہستہ بے یقینی سے پوچھا ستر کے جی ۔۔لاورش کی بے یقینی پر بے ساختہ قہقہ شجاع نے لگایا
مجھے موٹاپا پسند نہیں لیکن میں کوشش کروں گی جلد صحت مند ہوجاو ڈھول جیسی ۔۔۔۔لاروش نے ہنسی پر مصنوعی منہ بنا کر رضامندی دی ۔۔۔
ارے نہیں یار میں تو بس مذاق کررہا تھا ۔۔۔۔تم مجھے ہر حال میں قبول ہو ۔۔خوش رہو ۔۔۔مسکراتی رہو یہی میری خوشی ہے ۔۔۔
آپ بہت اچھے ہیں ۔۔۔لاروش نے ایک زبانی اعتراف کیا ۔۔۔
مجھے آپ سے یہ نہیں سننا ۔۔شجاع نےایک بار پھر آنکھوں میں شرارت سموئے کہا ۔۔۔
کیا سننا ہے ۔۔لاروش نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
یار وہی پیارے سے تین لفظ ۔۔آئ لو یو ۔۔۔سنجیدگی سے کہا
لاروش سٹپٹائ ۔۔۔مجھے نہیں کہنا آتا ۔۔۔نظریں جھکائے اپنی نااہلی بتائ ۔۔۔
میں انتظار کرلیتاہوں ۔۔میرے لیے عید کا دن ہوگا جب آپ مجھ سے اظہار کریں گی ۔۔اب اجازت دو ۔۔۔ان شاء اللّہ پھر جلد ملیں گے ۔۔یہ کہہ کر شجاع نے اپنے بازو کھولے ۔۔۔منتظر نظریں لاروش پر جمائ کیا۔۔۔ایک آس جاگی ۔شجاع چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر لاروش کو تھام کر گلے لگا لیتا مگر وہ دیکھنا چاہتا تھا ۔۔کیا وہ شجاع پر بھروسہ کرنے لگی یا ابھی بھی غزنوی کا ڈر وخوف ہے ۔۔۔۔۔وہ خود سے اس کی بانہوں میں سماتی ہے یا نہیں ۔۔
لیکن نکاح ہوتے ہی لاروش نے شجاع کو اپنی زندگی تسلیم کرلیا تھا ۔۔۔اس لیے شجاع کی نگاہیں زیادہ دیر منتظر نہ رہنے دی جھجکتی شرماتی شجاع کے سینے میں سما گئ ۔۔۔شجاع نے آرام سے اسے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے لیا ۔۔۔محبتیں اپنا آپ منوالیتی ہیں اگر سچی ہوں عزت اور مان دینا جانتی ہوں ۔
_________________________________________۔
دوسرے دن غزنوی کو اپنی طبیعت بہتر محسوس ہوئ ۔۔۔تو ارد گرد کا جائزہ لیا ۔۔چھوٹا سا برآمدہ جس پر چھپر ڈالا تھا ۔۔سامنے کچن اور اس کے برابر میں غسل خانہ اور ٹوائلٹ بنا تھا ۔۔۔دو ہی دروازے سامنے کی طرف تھے ۔۔غزنوی نے اندازہ لگایا کمرے ہی ہونگے ۔۔۔
حشمت صاحب نے رات میں پھر غزنوی کا ملنا یاد دلایا ۔۔۔غزنوی کو کبیر تو یاد نہ آیا مگر اس رات پوری جزیت کے ساتھ یاد آئ ۔۔گل جاناں کا ڈر غزنوی کو زندہ درگور کردیا ۔۔شکستہ حویلی سے ریش ڈرائیونگ کرتا شہر کی نیت سے نکلا ۔۔ذہن میں تو بس بار بار لاروش اور گل جاناں کی باتیں گونجتی رہی ان بھیانک آوازوں کو سوچتا رانگ وے چلا ۔۔تھوڑی دور ہی چلا تھا ایک بندے نے لفٹ لینے کے لیے روکا ۔۔۔ کار کا شیشہ بات کرنے کے لیے نیچے کیا تو ٹھنڈی خوشگوار کا جھونکا منہ پر آیا ٹھنڈی ہوا نے دماغ پر اچھا اثر کیا غائب دماغی سے چابی اسے تھام کر آگے بڑھ گیا ۔ طبیعت کی کسلمندی عروج پر تھی پیدل پیدل دہیمے قدم چلتا کہاں سے کہاں نکل آیا ۔۔ ذہن میں لاروش کی چیخیں دھائیاں سسکیاں بدعائیں ایک ایک کرکے سب یاد آتی گئ میں تلافی کرونگا میں شادی کرونگا لاروش سے تو مجھے گل جاناں کا اعتبار بھی مل جائے گا ۔۔۔یہ آخری سوچ تھی ۔۔پھر اب اس بستر پر ہوش آیا ۔۔
غسل خانے سے بی بی شریں کی آوازیں آرہی تھیں ۔۔۔یہ گانا کم سزا زیادہ لگی غزنوی کو ۔۔۔
شیریں آواز بند کرو ۔۔۔جلدی باہر آو ۔۔۔نرم پیاری مگر ناگوار آواز میں مینزہ نے غصہ کیا ۔۔۔
آتا ہوں باجی ۔۔۔شیریں نے بیزار آواز میں کہا ۔۔
آواز سے تو بچی ہی محسوس ہوئ اور دوسری جو پردے میں غزنوی کے سامنے کل آئ تھی ۔۔غزنوی کا دھیان بھٹک کر ان کی جانب ہوا ۔۔۔۔۔جب بولنی نہیں آتی اردو ضرورت ہی کیا ہے ۔۔۔غزنوی نے ناگواری سے سوچا ۔۔۔اس کی سوچوں میں خلل پڑ رہا تھا ۔۔وہ تصور میں لاروش سے معافی مانگ رہا تھا ۔۔۔لیکن بی بی شریں کو کسی لحاظ چین نہیں ۔۔ایک ہی گانے کی تکرار کا باجا بجا بجا کے اس بے سری سنگر کا دل ہی نہیں بھر رہا ۔۔۔لگتا ہے اسے یہ گانا خود کے لیے بہت پسند ہے اور کوئ دوسرا یہی گائے تو یقیناً نہ پسند ہوگا اچھی لڑکیوں کو ناپسند ہی ہوگا جب کوئ نا محرم گائے ۔۔۔اچھی لڑکی ؟ سے پھر زہنی رو لاروش کی سمت گئ ۔۔لاروش بھی اچھی تھی میں نے آفتاب کے لیے جو پارٹی دی تھی اس میں گانا گایا تھا لاروش کے منہ کے زاویے کتنے بگڑ رہے تھے ۔۔۔غزنوی کی آنکھیں نم ہونا شروع ہوئ ۔۔۔گل جاناں بھی اچھی ہے اس نے بھی تو سنگر بننے سے منع کیا میری گڑ کی ڈلی ۔۔۔
لالہ میرا بھی ریپ کردیں گے ۔۔گڑ کی ڈلی سے پھر وہ اذیت ناک بات یاد آگئ ۔۔۔۔میں نے برا کردیا ۔۔۔گھبرا کر پلنگ سے اٹھا ۔۔۔لیکن نقاہت کے سبب واپس لیٹ گیا ۔۔۔
بے آواز رونے لگا ۔۔۔
شیریں جلدی آو اجنبی کو کھانا دینا ہے ۔۔۔مینزہ ایک بار پھر غسل خانے کے دروازے پر آکر ہلکی آواز میں بولی اور دستک دی تاکہ اجنبی نہ سن لے ۔۔۔اور اس وقت تک باہر کھڑی رہی جب تک شیریں باہر نہ آئ
غصے میں شریں نے جواب دیا آتا ہوں صبر کرو۔۔۔تھوڑی دیر بعد باہر نکلی ۔۔۔
لو جی ام آگئ اب تم امارہ اچار ڈالے گی کیا ۔۔۔شیریں نے غصے سے جواب دیا ۔۔
اچار نئ ام تمکو چیل کوے کو ڈالے گی ۔۔۔مینزہ نے غصے سے کہہ کر شیریں کا کان پکڑ ا۔۔۔
شیریں کان پکڑے جانے پر چیخی ۔۔۔اس دوران دونوں ہی غزنوی کو فراموش کیے تھیں ۔۔جب کے غزنوی چیخ چلانے پر ایک بار پھر بیزار ہوا ۔۔اور اپنے پلنگ کے آگے پڑے پردے کو گھورنے لگا جہاں سے صاف تو نہیں مگر دھندلہ دونوں بہنیں نظر آرہی تھیں ۔۔
تم کو پتہ ہے گانا گانا گناہ ہے اور خاص کر باتھ روم میں گا رہی ہو ۔۔اضافی گناہ بھی اپنے سر لینے پر تلی رہتی ہو ۔۔۔شرم نہیں آتی ۔۔۔مینزہ نے شیریں کو لتاڑا ۔۔
سامنے بھی شیریں تھی جسے سمجھانا کے ٹو سر کرنا تھا ۔۔۔
آنے دو امو کو ام بتائ گی تم ام پر ظلم کرتا تھا ممانی ٹھیک کہہ رہی تھیں جب سے تم مدرسہ جانے لگی ہو استانی حجن بن گئ ۔۔۔
شیریں نے زبان کے جوہر دیکھائے ۔۔۔
ممانی کے نام پر مینزہ کے ہاتھوں کی گرفت نرم ہوئ تو شیریں جلدی سے اندر کمرے کی طرف بھاگی ۔۔۔
جب کے استانی حجن کا سن کر غزنوی کے چہرے پر بھی ہلکی مسکراہٹ نے چھب دکھائ اور پھر غائب ہوگئ ۔۔۔
__________
گل جاناں پلیز کھانا کھالو تمہارے پسندیدہ مٹر پلاو بنائے ہیں ۔۔
ایک بار کا کہا سمجھ نہیں آتا کیا گل جاناں نے گھورتے منع کیا ۔۔
پلیز ورشہ نے پھر منت کی ۔۔
نہیں نہیں ۔۔۔گل اس بار منع کرتی روہانسی ہوئ ۔۔
تم جاو میں دیکھتا ہوں عیسی نے ورشہ کو باہر بہیجھا ۔۔۔وہ شمروز اور مہر بانو کے چیک اپ کے لیے آیا تھا ۔ان کا خیال کرنے کی نصیحت کرنے جاناں کے روم کی جانب آیا تو یہاں گل کا ہی برا حال تھا کیا نصیحت کی جاتی ۔۔۔
گل کیا مسئلہ ہے ۔۔عیسی نے کچھ سختی سے پوچھا اگرچہ چہرے پر سختی نہ تھی ۔۔
آپ کو نہیں پتہ میرا مسئلہ کیا ہے ۔۔نہیں پتہ تو میں بتاتی ہوں ۔۔۔لالہ میرا مسئلہ غزنوی لالہ ہیں عیسی لالہ میرے لالہ کو لادو پلیز ۔۔۔غصے سے بات شروع کرتے بات کے اختتام پر آنسووں کی جھڑی شروع ہوگئ ۔۔۔نم دیدہ لہجہ بلکتے روتے لہجے میں تبدیل ہوگیا ۔۔۔
چندا صبر کروں تم اس طرح رو گی ضد کروگی ۔تمہارے امو جان اور بابا جانی کا خیال کون رکھے گا تمہارا رونا ان کو بہت تکلیف دے گا ۔۔۔گھر میں سب اچھے سے خیال رکھ رہے ہیں مگر تمہارا خیال رکھنا الگ ہوگا ۔۔سر جھکائے آنسو ضبط کرتی عیسی کو پانچ سال کی چھوٹی بچی لگی ۔۔۔۔۔
پتہ ہے نہ ماموں کو انجائنا کا اٹیک آیا ہے کوئ بھی کوتاہی ان کو میجر اٹیک دے سکتی ہے اور تمہاری امو ان کو بھی بخار ہے ۔۔تم ان کا خیال رکھو غزنوی کے ساتھ تم بھی ان کی لاڈلی اولاد ہو۔۔۔تمہارا مسکراتا چہرہ ان کو تقویت دے گا ۔۔۔تم نے کل سے ان کو اپنی شکل نہیں دکھائ ۔۔اولاد نظروں سے دور ہو تو ماں باپ بے چین رہتے ہیں ۔۔پہلے ہی ایک کا غم ہے دوسرا تم بھی دور رہوگی۔۔یہ نہ غزنوی مل جائے اور تب تک یہ نہ رہیں ۔۔۔
اللّہ نہ کرے امو یا بابا کو کچھ ہو ۔۔گل جاناں دہل گئ ۔۔میں ان کا خیال رکھونگی ۔۔جھٹ سے خیال رکھنے کی حامی بھری
کیسے رکھو گی ۔۔؟اس طرح کھانا نہ کھا کر ، یہ گندے کپڑے پہن کر ۔۔یہ متورم آنکھیں لیکر ۔۔۔عیسی نے گل کا جائزہ لیتے اسے ڈانٹا ۔۔دس منٹ میں حلیہ ٹھیک کرو ۔۔پھر پوری پلیٹ فنش کرو ۔۔اس کے بعد مجھ سے ملو ۔۔میں دونوں کی ڈائٹ لکھ دیتا ہوں ۔۔تم دھیان رکھو ۔۔عیسی نے آرڈر دیا ۔۔
جی ۔۔گل کو ناچار سب ماننا ہی پڑا ۔۔۔۔
۔ان شاء اللّہ غزنوی بہت جلد ہمارے ساتھ ہوگا ۔۔۔عیسی کے لہجے مستحکم یقین تھا ۔۔۔
___________________________۔
السلام علیکم مورے ۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔کیسی ہو لاروش ایک ہفتہ ہوگیا چندا شجاع کو گئے ۔۔یہاں آجاوں کچھ دنوں کے لیے ۔۔۔
سلام کا جواب دیتے ہی بیٹی کی محبت میں طویل بات کی ۔۔
نہیں مورے شجاع منع کررہے تھے ۔۔ساتھ آئیں گے ۔۔۔اور اللّہ کا شکر ہے تائ بھی بہتر ہورہی ہیں ۔۔وہ میرا میں ان کا خیال رکھ رہی ہوں ۔۔۔۔۔
اور شادان لالہ کیسے ہیں ۔۔۔
ٹھیک ہیں تم سناو ڈاکٹرنی کے پاس گئ تھیں ۔۔
نہیں ۔۔وہی پرانی میڈیسن کھا رہی ہوں ۔۔بھیگی آواز میں جواب دیا ۔۔۔
مورے مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے ۔۔شجاع سے بات کی تھی مگر انھوں نے سختی سے منع کردیا بلکہ حکم دے دیا کہ میں اب ذکر بھی نہ کرو ۔۔سب بھول جاو ۔۔۔
لاروش پھر سے بکواس خیالات کو جگہ دے رہی ہو۔۔تم کو پتہ ہے نہ جن لڑکیوں کی عصمت دری ہوجاتی ہے ان کو کوئ بھی عزت نہیں دیتا بے قصور ہوتے ہوئے بھی قصور وار ٹھراتے ہیں ۔۔لوگ تو لوگ اس کے گھر والے بھی لڑکی سے عاجز ہوتے ہیں ۔۔کئ خودکشی کرلیتی ہیں تو کوئ درالامان میں پناہ لیتی ہیں تو کوئ سمجھوتے سے شادی کرتی ہیں ۔۔میری بچی تم تو اس معاملے میں خوش نصیب ہو تمہیں تمہارے گھر والے تو محبت کر ہی رہے ہیں لیکن شوہر بھی بے پناہ اچھا ملا ۔۔۔میرا رب کہتا ہے تم میری کون کون سی نعمتوں کو ٹھکراوگے ۔۔اس نے اگر تم سے اپنی ایک چیز واپس لے لی اور دوسری بہترین چیز سے نوازا تم کو ہر لمحہ شکر کرنا چاہیے ۔۔۔اس کے گھر نعمتوں کی کمی نہیں شکر گزار اور صبر کرنے والی بنو ۔۔۔تحمل سے گل زریں نے لاروش کو سمجھایا ۔۔
جی ۔۔۔۔لاروش نے آہستگی سے سب باتیں تسلیم کیں ۔۔۔
جی کیا یہ بولو آئندہ ناشکرا پن نہیں کرونگی ۔۔اور شوہر کا رتبہ جانتی ہو نہ اس نے ایک جائز بات جس میں ٹوٹل تمہارا ہی بھلا ہے حکم دیا اور تم نے حکم عدولی کی ۔۔بری بات بیٹا ۔۔۔
گل زریں خود بھی ایک اچھی بیوی رہی ہیں لاروش کو بھی اسی سانچے میں ڈھالنا چاہتی تھی اس لیے اس کی کوتاہی کے جانب لاروش کا دھیان مائل کیا ۔۔۔
سوری مورے ۔۔۔میں ان سے معافی مانگ لونگی ۔۔۔مورے ۔
لاروش نے پھر آہستگی سے پکارا ۔۔۔
ہاں بیٹا بولو اب کیا الجھن ہے ۔۔۔مورے محبت سے بولیں ۔۔
آپ کو کیسے پتہ میں کچھ الجھن میں ہوں لاروش کے لہجے میں
حیرت در آئ
مورے ہوں تمہاری تمہارے بولنے سے پتہ چل گیا ۔۔ ممتا کے تفاخر سے کہا ۔۔
مورے یہ بچہ غزنوی کا ہے اگر غزنوی کو پتہ چلا تو اسے لے جائے گا نہ پھر اس کےنام کے آگے جب غزنوی کا نام لے گا تب دنیا کو پتہ چلے گا مجھے اس دن سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔مورے لاروش پھر سسکی ۔۔۔
سسک میں ماں کی ممتا فکر محسوس کرکے گل زریں مسکائ ۔۔۔ہاں تمہاری شادی سے پہلے ہم نےکچھ علماء سے رابطہ کیا تھا ۔۔۔کیوں کہ سمجھ نہیں آرہا تھا حاملہ کا نکاح ہوتا ہے یا نہیں ۔۔۔
جتنا بھی معلوم ہوا اس کے تحت کچھ امام کے نزدیک زانی حاملہ کا نکاح نہیں ہوسکتا ۔۔۔جب کہ کچھ امام کے نزدیک ہو سکتا ہے ۔۔
جب کے تم زانی نہیں تھیں ۔۔تمہارے ساتھ ظلم ہوا تم مظلوم ہو ۔۔۔۔پہلے مجھے یہ بتاو کہ حقوق زوجیت ادا کی نہیں ۔۔۔۔
لاروش شرمائ ۔۔۔مورے ۔۔۔شرمائ جھجکی آواز سے صرف مورے ہی بول سکی ۔۔۔
بولو بیٹا بعض مسائل میں شرم تو آتی ہے لیکن ان کی با بت علم ہونا چاہیے ۔۔صحیح غلط جب ہی تو بتا سکتے ہیں ۔.
نہیں مورے شجاع نے مجھے مہلت دی ہے ۔۔۔لاروش نے دوبارہ استفسار پر بتایا ۔۔۔
ہمم۔۔اس کا مطلب ہے شجاع نے بھی معلومات لی ہونگی ۔۔۔میرا داماد لاکھوں میں ایک ہے ۔۔۔مان سے بولیں ۔۔۔
خیر میں بتاتی ہوں ۔۔۔امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک زنا سے حاملہ عورت سے نکاح کرنا جائز ہے البتہ نکاح کرنے والا تاوضع حمل تک اس سے وطی نہیں کرسکتا ۔۔۔۔
یہ بات آگئ سمجھ کہ ابھی شجاع اور تمہارے درمیان ازدواجی تعلق نہیں قائم ہوسکتا ۔۔۔
چونکہ نکاح کرنا بدنامی سے بچنے کے لیے ضروری ہے تو نکاح کیا جاسکتا ہے ۔۔۔اب رہ گئ بات بچے کی تو میں اس ضمن میں ایک حدیث پاک بیان کرتی ہوں ۔۔۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ” عتبہ بن ابی وقاص نے سعد بن ابی وقاص سے وعدہ لیا کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرا بیٹا ہے اس پر قبضہ کرلینا ۔۔۔فتح مکہ کے سال سعد بن ابی وقاص نے اسے پکڑ لیا اور کہا میرا بھتیجا ہے اور اس کے متعلق مجھ سے عہد لیا گیا ہے ۔
عبداللّہ بن زمعہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میرا بھائ ہے ۔۔میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور ان کے بستر پر پیدا ہوا ہے ۔۔دونوں حق جتاتے نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے ۔۔
سعد عرض گزار ہوئے یا رسول اللّہ !میرا بھتیجا ہے اس کے متعلق عہد لیا گیا ہے ۔۔۔
زمعہ نے کہا میرا بھائ ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ۔۔۔
رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا
اے عبداللّہ بن زمعہ یہ تمہارا ہے ۔۔۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔
بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر ہو۔اور زانی کے لیے پتھر ہیں ۔۔۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم ۔۔۔
سمجھی لاروش اس سے دو باتیں سامنے آئ ۔۔۔ایک اولاد اس شخص کی ہوگی جس کے بستر پر ہی ہوگا ۔۔دوسرا زانی کا اس بچے پر کسی بھی معاملے میں کوئ حق نہیں ۔۔۔۔پہلے کینیزیں ہوتی تھیں اور مال غنیمت میں جو کینز آتی تھیں ان سے بغیر نکاح بھی تعلق جائز تھا اور بعد میں نکاح کی اجازت آئ تھی ۔۔۔
آج کے دور میں مال غنیمت کا کوئ تصور نہیں اگر کنیزوں سے رشتہ استوار جو کریگا وہ زنا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔
تو بیٹا بستر کے لحاظ سے تو تمہارا شجاع سے نکاح ہی ہوسکتا ہے جب ہی تو بستر کہلائے گا تم شجاع کی کینز نہیں بن سکتی بیوی بن سکتی ہو ۔۔۔پھر زنا تو وہی ہوتا ہے جس میں مرد اور عورت دونوں رضا مندی سے ناجائز تعلق بنائے ۔۔۔ہوئ کچھ تسلی ۔۔گلزریں نے محبت سے پوچھا ۔۔۔
ہاں مورے سب باتیں سمجھ میں آگئ ۔۔بہت شکریہ مورے۔۔۔
تم پہلو پھولو گی تو میں اور تمہارے بابا خوش رہیں گے میری بچی تم خوش رہو کچھ نہ سوچو۔۔
جی مورے ۔۔۔۔کچھ دیر پھر باتوں میں وقت گزار کر لاروش نے فون رکھا اور بچے کی بابت اطمینان پر اللّہ کے حضور شکرانہ ادا کرنے لگی ۔۔۔
_________________________________۔
کچھ بھی کرلو دنیا بھولتی ہی نہیں ۔۔طعنہ تشنہ الزام دیتی رہے گی۔۔۔مذاق اڑانے میں پیش پیش رہتے ہیں ۔۔۔
استانی حجن کہنے پر مینزہ کی آنکھیں نم ہوئیں ۔۔۔پرنم آنکھیں دھوپ کی تمازت سے روشن آسمان کی طرف اٹھی ۔۔۔
اللّہ تو معاف کردیتا ہے مگر تیرے بندے نہیں کرتے ۔۔دھوپ کی تاپ آنسو سے چمکتی آنکھیں برداشت نہ کرسکی شکوہ کرتے ہی جھک گئ ۔۔۔
ضمیر کی ہوتی مسلسل چھبن غزنوی کو چین نہیں لینے دے رہی اس کا بس نہیں چلتا گزرا وقت موڑ کر اپنی سنگین غلطی ٹھیک کرلے ۔۔۔
بابا یہ مہمان کب جائے گا ۔۔اماں جانی کے آنے سے پہلے اسے چلتا کریں. . ٹھیک ہے اس نے لالہ کے ساتھ نیکی کی ہوگی تو لالہ اسے اپنے ہی گھر لیجائے ۔اماں جانی آگئ اسے دیکھیں گی تو یہاں فساد ہونے کا اندیشہ ہے ۔۔مینزہ نے بھیگی آواز میں باپ سے کہا
ہاں بیٹا دودھ کا جلا چھاج بھی پھونک کر پیتا ہے حشمت خان نے لمبی سرد سانس بھری ۔۔۔پھر گویا ہوئے ۔۔مہمان کا بخار اتر چڑھ رہا ہے کمزوری بھی بہت ہے ۔۔ میں سمجھا دونگا تمہاری اماں کو سمجھ جائے گی ۔۔۔
چلو تم یہ دودھ گرم کردو میں مہمان کو دوائیاں دو ۔۔چھپر کا پردہ بھی ہٹادونگا ۔۔سردیوں میں دھوپ اچھی لگتی ہے بچے کی طبیعت پر بھی اچھا اثر پڑے گا ۔۔۔حشمت نے اٹھتے ہوئے مینزہ کو کام سونپا اور نپے تلے قدم اٹھاتے غزنوی کے پاس پہنچا جو تنہائی کے سبب پھر سے غنودگی میں ضمیر سے لڑ رہا تھا ۔۔۔
چچ تمہاری بہن تم سے ڈرتی ہے تم بہت کمینے انسان ہو کیا پتہ بہن کا بھی ۔۔۔بھیانک سائے نے ادھوری بات کہہ دی ۔۔۔
چپ ہوجاو خدا کا واسطہ ۔۔۔غزنوی نے ہاتھ جوڑے ۔۔۔
اوہ تم اور خدا کا واسطہ ۔۔۔تمہارے جسے گناہ گار کے منہ سے خدا کا واسطہ اچھا نہیں لگ رہا ۔۔لاورش نے بھی تو واسطہ دیا تھا ۔۔۔۔سائے نے پھر تمسخر اڑایا ۔۔۔
چلے جاو نہیں تو مار ڈالونگا ۔۔۔غزنوی کو غصہ آیا ۔۔
یہی غصہ تھا نہ جس نے حیوان بنایا ۔۔۔۔۔
جاو یہاں سے غزنوی چلایا ۔ رو دیا جاو جاو ۔۔۔
۔پاس آتاحشمت چونکا ۔۔۔
تیزی سے بڑھا جو آنکھیں بند کیے جاو یہاں سے تکرار کیے لیٹا تھا آنکھوں سے آنسو زار وقطار بہہ رہے ہیں ۔۔
مرد ہوکر رو رہا ہے ۔۔ہاں ایسا وقت بھی جب آتا ہے جب دل بے قابو ہو سوچیں ناگن بنی تنگ کرتی ہوں ۔۔انسان کے پاس پھر رونے کے سوا کچھ نہیں بچتا ۔۔۔ہاں بس یہ فرق ہے رونا کہاں ہے ۔۔اور کس لیے ۔۔۔اللّہ کے آگے رونا سکون بن جائے گا ۔۔اپنوں کے آگے رونا اطمینان بن جائے گا خود کے آگے رونا اذیت بن جائے گا ۔۔۔
کس لیے رونا گناہ کی پیشمانی کے لیے تو بخشش کی راہ کھل جائے گی ۔۔شکوے کے لیے رونا نعمتیں دور ہوجائیں گی ۔۔تلافی کے لیے رونا سامنے والے کو پرسکون کر جائے گی
کیا ہوا بیٹا کسے جانے کا کہہ رہے ہو ۔۔حشمت نے پریشانی سے پوچھا کہیں بخار تیز ہو کر دماغ میں نہ چڑھ گیا ۔۔فورا چھوا ۔۔۔بخار نہ تھا ۔۔۔
غزنوی نے جلدی سے آنکھیں پوچھی ۔۔میں ٹھیک ہوں ۔۔کچھ نہیں ۔۔۔شاید خواب تھا ۔۔
کبیر کہہ رہا تھا چار پانچ دن میں چکر لگائے گا ۔۔۔حشمت نے دھیان بٹانے کے لیے اپنے بیٹے کا ذکر کیا ۔۔۔
مجھے سچ میں یاد نہیں کون کبیر ۔۔
نیک بندے نیکی کر کے بھول جاتے ہیں اس میں تمہارا کوئ قصور نہیں ۔۔تم بھی خوب نیکیاں کرتے ہو بھول گئے ۔۔میری بیوی کو بھی نیک کام کرنے والے اچھے لگتے ہیں ۔۔وہ تم سے مل کر خوش ہوگی ۔۔حشمت کے زبانی نیک سن کر غزنوی بے قرار ہوا ۔۔
کس نے کہہ دیا آپ سے میں نیک ہوں ۔۔سن لیں آپ میں نیک نہیں ہوں ۔۔ریپسٹ ہوں کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالا ۔۔نکالیں مجھے بلکے دھکے مار کر نکالے کیا پتہ آستین کا سانپ بن جاو ۔۔غزنوی ایکدم ہائپر ہوتے کہتا کھڑا ہوا مگر آخر میں بے دم ہوگیا لرکھڑا کر گرا سر پر پلنگ کا پایا زور سے لگا ۔۔اور وہیں حواس چلے گئے ۔۔ماتھے پر خون نمودار ہوا ۔۔۔
حشمت تو انکشاف پر سن کھڑے کے کھڑے رہ گئے ۔۔۔
دودھ کا گلاس لاتی مینزہ بھی ریپیسٹ پر جہاں رکی وہیں کھڑی رہ گئ ۔۔شیریں کی پکار پر ۔۔اماں جانا آگیاکی آواز پر ہوش میں آئ ۔۔
مڑی ۔۔دروازے پر دیکھا کوئ نہ تھا ۔۔
کہاں ہیں ۔۔مینزہ نے اپنا رخ شیریں کی طرف کیا ۔۔
ام مذاق کررہا تھا ۔۔شیریں نے دانت نکالے ۔۔
جاو کمرے میں ۔۔۔کوئ اور وقت ہوتا تو شیریں کے کان کھینچتی پر ابھی اجنبی ہی نے زہن کی بتی گل کی ۔۔اس لیے ڈانٹے بنا اندر بھیج کر حشمت کے جانب بڑھی ۔۔
شریں کی آواز ساتھ ہی حشمت کے بھی حواس جاگا گئ جن کا ذہن آستین کے سانپ پر ہی اٹک گیا ۔۔ جلدی سے غزنوی کو سیدھا کیا ۔۔مشکل سے پلنگ پر واپس لٹایا ۔۔
مینزہ بھی آگئ ۔۔۔بابا سر پر خون ہے ۔۔۔حشمت کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہمدردی کریں یا دھتکارے ۔۔۔ انسانیت کی جیت ہوئ
ہاں تم گرم پانی لاو ۔۔مگر اس سے پہلے کپڑا لاو ۔۔
جی بابا ۔۔۔
نہ جانے کیا سچ ہے ۔۔کہیں کبیر لالہ سے شکل پہچاننےمیں کوئ غلطی تو نہیں ہوئ ۔۔ گرم پانی لاتے بابا سے کہا ۔۔ ۔۔۔لیکن اب کیا کریں ۔۔۔بابا
کچھ نہیں آپ نے اس کی حالت دیکھی مجھے لگ رہا ہے یہ خود احتساب سے گزر رہا ہے۔۔۔اسے موقع ملنا چاہیے ۔۔یہ ہوش میں آجائے تو اس پوچھنا ہے کیا چاہتا گناہ پر ڈٹے رہنا یا چھوڑ دینا ۔۔عادی زانی ہے یا انجانے میں جان بوجھ کر ایک ہی بار گنا کیا ہے ۔۔۔
جاری ہے
