Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 32)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 32)
Sabeel by Umme Umair
تایا جان میں نے اس بارے میں ابھی سوچا ہی نہیں ہے ۔ ارے بیٹی سوچنے میں کتنی دیر درکار ہے، خوب اچھی طرح سے سوچ لو ، شام کو جب سب بھائی اکٹھے ہونگے تو پھر ہی ہم کسی حتمی فیصلے پر عملدرآمد کر پائیں گے ۔۔۔
انس اپنے گھر کا بچہ ہے دیکھا بھالا ہے ، تم دونوں ایک ہی گھر میں کھیل کود کر پروان چڑھے ہو ۔”” تایا جان کھیل کر نہیں لڑ کر بولیں””۔ رانی نے دل میں سوچا لیکن زبان پر لانے کی ہمت نہ کر پائی ۔
بیٹی اگر تم دوبارہ انگلینڈ واپس جانا چاہتی ہو تو عدیل کا رشتہ بھی موجود ہے ۔۔ وہ بھی ایک کامیاب بزنس مین ہے ، اس کا باپ میرا قریبی دوست ہے ۔۔
کوئی زور زبردستی والی بات نہیں ہے ۔ تم اچھی طرح سے سوچ لو اگر دل و دماغ انس کی طرف سے مطمئن ہے تو وہ کہہ رہا ہے کہ اسکے پاس ایک ہفتہ ہے اور وہ تمھیں ساتھ ہی اسلام آباد لے کر جانا چاہتا ہے ۔۔
رانی گہری سوچ میں گم اپنے ناخنوں کو کھرچ رہی تھی، دل کچھ لمحوں کے لئے عجیب انداز میں دھڑکا ۔۔زبان گنگ ہو چکی تھی، تڑپ کر تایا کو دیکھا ۔ تایا نے دست شفقت سر پر رکھا اور تسلی بخش الفاظ رانی کے گوش گزار کرنے لگے ۔۔
دیکھو بیٹی تمھارا باپ اور میں دونوں دن بدن بڑھاپے کی طرف جارہے ہیں ۔۔ ماں باپ کا سایہ صدا سر پر قائم نہیں رہتا ، میری یہ دلی خواہش ہے کہ تم دوبارہ سے اپنا گھر بسا لو ۔۔ ایک صالح مرد کا ساتھ عورت کو معاشرے کے غلاظتوں اور ناسور سے محفوظ رکھتا ہے ۔ ایک اچھا مرد تمھیں ہر گرم سرد سے بچائے گا ۔ تنہا عورت پر یہ معاشرہ چیلوں کی طرح جپٹتا ہے ۔۔
میں چاہتا ہوں لندن واپس جانے سے پہلے تمھیں دوبارہ سے ہنستا بنستا دیکھوں ۔۔ زیاد کی زندگی کا جلد خاتمہ تقدیر میں لکھ دیا گیا تھا ۔۔ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔ دنیا کا نظام کسی بھی شخص کے مرنے سے رکتا نہیں ہے ۔۔۔
آنکھوں میں آنے والی نمی کو تایا نے ہاتھ میں پکڑے رومال سے رگڑ ڈالا ۔ ٹھیک ہے تایا جان شام تک مجھے وقت دیں ۔ بابا کی واپسی تک میں صلاة الاستخارة ادا کر لوں گی پھر ہی کوئی حتمی فیصلہ کر پاوں گی ان شاءاللہ ۔ ۔۔
رانی نے جھجھکتے ہوئے پوچھا ، تایا جان آپ میرے لیئے دونوں میں سے کس شخص کو پسند کرتے ہیں؟
تایا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔ انس میری پہلی ترجیح ہے، اگر تمھارا دل عدیل کو ہاں بولنے کی طرف مائل کرتا ہے تو بھی ہم میں سے کوئی بھی تمھارے ساتھ زبردستی نہیں کرے گا ۔ بیٹی ہمیں تمھاری خوشی عزیز تر ہے ۔۔ ہم سب چاہتے ہیں تمھارے چہرے کی اداسی میں خوشیوں کے رنگ بھر دیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ثوبی یار گول میز کانفرنس جاری تھی لیکن نتائج سامنے نہیں آئے ہیں ۔ اب مجھے شام تک انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑے گا ۔۔ میرے لیئے تو ایک ایک منٹ گزارنا مشکل ہو رہا ہے ۔ انس میں اتنا بےچین ہوں تیری یہ بےصبریاں دیکھنے کے لئے کہ جس کی کوئی انتہا ہی نہیں ہے ۔۔ اوہ پیارے !! چھری تھلے ساہ لے ۔ تو شادی بیوہ سے کرنے جا رہا ہے، جس کے دل و دماغ کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ، اس وقت کیا چل رہا ہے، کیا پتا اس کا مرحوم خاوند اسکے ساتھ کتنا اچھا رویہ رکھتا تھا ، اب نئے شخص کے بارے میں دوبارہ سے سوچنا اور ایک دم اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا کوئی پولیس کا عہدہ نہیں ہے ، جب جی چاہا بدل لیا ۔۔ یا پھر جب جی چاہا چھوڑ دیا ۔۔
ثوبان یار تو کس قدر سمجھدار ہے ، مجھے اس بات کا ادراک آج ہوا ہے ۔۔ بس انس یار کبھی تکبر نہیں کیا ۔ ویسے کسر نفسی ہے جناب کی ۔۔۔
اوہ بس بس زیادہ شوخا نہ بن ، میں مذاق کر رہا تھا ۔۔۔ چل یار میں فون رکھتا ہوں باہر امی آوازیں دے رہی ہیں ۔۔ اوہ چلا جائییں لیکن ایک بات کان کھول کر سن لے تجھے واپس اسلام آباد خالی ہاتھ نہیں گھسنے دینا ۔۔ اسلام آباد کے تمام راستے کنٹینروں سے بند کروا دوں گا ۔۔ پھر آنا شیخ صاحب کی طرح موٹرسائیکل پر گاں گاں کرتے ہوئے ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آخر طویل انتظار کے بعد انس کی دلی مراد بھر آئی ، مغرب کے سائے ڈھل گئے۔ مسجد واپسی پر گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے بےتاب نگائیں بالائی منزل کی منڈیروں کی طرف گستاخی کرنے پر اکسا رہی تھیں، شاید وہ لڑاکا نیچے جھانک کر میرا نام پکار لے ۔۔۔ انس اپنی خام خیالی پر اکیلا ہی ہنس دیا ۔۔
ان کے انداز کرم _________ ان پہ آنا دل کا
اف وہ باتیں، وہ وقت ____ وہ زمانہ دل کا
نہ سنا اس نے توجہ سے____ افسانہ دل کا
زندگی گزاری پر_______ درد نہ جانا دل کا
کچھ نئی بات نہیں_____ ان پہ آنا دل کا
مشغلہ ہے یہ نہایت ہی ______پرانا دل کا
وہ محبت کی شروعات ___وہ انکی خوشی
دیکھ کر ان کو پھولے_____ نہ سمانا دل کا
میرے پہلو میں نہیں، آپکی مٹھی میں نہیں
بے ٹھکانے ہے بہت دنوں سے__ ٹھکانا دل کا
بے جھجھک آ کے ملو ، ہنس کے ملاو آنکھیں
آو ہم تم کو سکھاتے ہیں_____ ملانا دل کا
گھر کے تمام بزرگ موجودہ صورتحال پر غور وفکر کر رہے تھے، انس کا دل لرز رہا تھا ، یا اللہ تو ہی ہے مددگار، ثوبان نے تو مجھے جینے نہیں دینا ۔ یااللہ ہاں ہو جائے ۔۔۔
سب کے دلائل اور رانی کے حتمی فیصلے پر بڑے تایا نے گلا کھنکار کر سب کا مشترکہ فیصلہ سنانے کے لئے انس کو پکارا جو اپنے کمرے سے کچن میں پانی لینے کے بہانے سے آیا تھا ۔۔ اپنا نام سنتے ہی انس کے کان کھڑے ہو گئے ۔ ادھر آو بیٹا ۔ جی تایا جان ۔ کمرے میں بیٹھے نفوس کے چہروں پر معنی خیز مسکراہٹ انس کو سرشار کر گئی لیکن پھر بھی قلق دل میں موجزن تھا ۔۔
انس بیٹا بہت بہت مبارک ہو ۔ رانی نے تمھارے حق میں رضامندی ظاہر کر دی ہے ۔۔ بڑے تایا نے آگے بڑھ کر انس کو گلے لگا لیا ۔ انس کے بابا اور چچا بھی باری باری بغل گیر ہوئے ۔۔ سب کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے ۔۔ انس چونکہ تمھاری ضد ہے کہ تم رانی کو اپنے ساتھ ہی لے کر جانا چاہتے ہو تو ہم نے فیصلہ کیا ہے کم از کم 2 دن کا وقفہ لے لیتے ہیں تاکہ کچھ ضرورت کی اشیاء کی خریداری کی جا سکے ۔ جمعہ کی نماز کے بعد نکاح ہو گا اور پھر دوسرے دن قریبی دوست احباب کو بلا کر ولیمہ کی تقریب منعقد ہو گی ان شاءاللہ ۔
انس کا چہرہ ایک دم خوشی سے سے کھل اٹھا ، چہرے پر میٹھی مسکراہٹ کا بسیرا ، اس کی مردانہ وجاہت پر مذید جچنے لگا ۔۔ سلطانہ بیگم کی دلی مراد بھر آئی جو کتنے عرصے سے انس کے سر تھیں کہ جلد از جلد شادی کر لو ۔۔ اور اب شادی بھی اپنی دلعزیز بھانجی سے طے پائی تو آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
زوجہ زینہ جی ذرا بالکونی میں تشریف لائیں ۔ سب خیریت ہے ثوبان؟؟ جی اللہ کے فضل سے سب خیریت ہے صرف آپ کے درشن کرنے کے لئے دل بیتاب تھا تو سوچا چند ثانیے آنکھوں کو خیرہ کیا جائے ۔۔ زینہ فون کانوں کے ساتھ لگائے کمرے سے نکل کر بالکونی کی طرف آئی تو ثوبان محبت پاش نظروں سے صدقے واری جا رہا تھا ۔
“زوجتي أنا أحبك حبا شديدا” “يا حبيبتي “
ثوبان آپ کو پتا ہے میں اسکا مطلب بھول جاتی ہوں ابھی دوبارہ سے بتائیں، زینہ نے لاڈ سے منہ بسورا ۔۔
“میری بیوی میں آپ سے شدید محبت کرتا ہوں”
اور یاحبیبتی کا مطلب ؟ “اے میری پیاری” ہے اس کا مطلب ۔۔۔ زوجہ جی آپ کا حافظہ بھی میرے سپاہیوں جیسا ہوتا جا رہا ہے ۔لگتا ہے آپکو بھی باداموں کے گھوٹے پر لگانا پڑے گا ۔ زوجہ جی آپکو پتا ہے؟ اس وقت شادی کا تصور کرتے ہوئے ہی میں نے یہ چند جملے ٹریننگ کے دوران سعودی نوجوانوں سے سیکھ لیئے تھے ۔۔ یاد ہے نا بتایا تھا کہ مختلف ممالک کے جوان پاکستان ایلیٹ فورس کی ٹریننگ کے لئے آئے تھے ۔ جی یہ تو یاد ہے ثوبان جی ۔۔ آج دیکھو اللہ کے فضل سے یہ سب کتنے کارآمد ہیں ۔۔ زینہ نے شرماتے ہوئے نگاہیں چرائیں ۔
زوجہ جی ذرا مٹھی کھولیں اور آنکھیں بند کر لیں ۔ آج انس کی شادی کے اس پر مسرت موقع پر میں آپکو کچھ دینا چاہتا ہوں ۔۔ ابھی کھولیں آنکھیں ۔ ہائے اللہ یہ کب اور کیسے؟؟ زینہ حیرت سے آنکھیں پھیلائے کبھی ثوبان کو اور کبھی ہاتھ میں سونے کی بریسلٹ کو دیکھتی۔۔ گھبرائیں نہیں اپنی سو فیصد حلال خون پسینے کی کمائی سے خرید کر لایا ہوں ۔ ثوبان بولتے ساتھ ہی زینہ کی آنکھیں بھرا گئیں اور بھرائی آواز میں بولی، آپ بہت اچھے ہیں ۔ مسکراتے ہوئے ثوبان نے زینہ کے چہرے پہ آنے والے مامتا کے روپ کو اپنے دل میں اتارا ۔۔۔ لائیں ادھر دیں میں خود اپنے ہاتھوں سے پہناتا ہوں ۔ثوبان نے بریسلٹ پہنا کر زینہ کی نازک کلائی پر محبت کی مہر ثبت کر دی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رانی گولڈ کلر کی شرٹ کے ساتھ کنٹراسٹ گہرے جامنی لہنگے میں غضب ڈھا رہی تھی ۔۔ سیاہ نین کاجل کی دھار اور مسکارے سے لبریز اور ہی پرکشش لگ رہے تھے ۔ چہرے کی بائیں طرف سے نکلی چند لٹیں اور سلیقہ سے ہوا ہلکا پھلکا برائیڈل میک اپ اس کے معصوم سراپے کو چار چاند لگا رہا تھا ۔ سبھی نے رانی کے اس سراپے کو بہت سراہا تھا ۔۔
دوسری طرف انس کریم اور گولڈ کلر کی شیروانی زیب تن کیئے ہوئے تھا ۔۔
خوش قسمتی سے فارس نے بھی اچانک واپس آکر سب کو سرپرائز کر دیا تھا ۔۔ اس میں ہاتھ جگری ثوبان کا تھا جو انس کے نکاح میں پیش پیش تھا ۔۔ نہلے پہ دھلا ثوبان اور فارس نے مل کر انس کا جینا دو بھر کیا ہوا تھا ، انس کو رن مریدی کے طعنے دے دے کر زچ کر دیا ۔۔۔
ثوبان باز آ جا ! چند دن کی بات ہے پیارے تو نے میرے ساتھ ہی کام کرنا ہے پھر دیکھنا میں کیسے باس کے سامنے تیری بینڈ بجھواتا ہوں ۔۔
اوہ نکمے منہ کے سامنے رومال رکھ ! تیرے میں تو مشرقی دلہوں والی بات ہی نہیں ہے ۔ فارس جا “سکڑا” (دنداسہ) لے کر آ ، تاکہ اس کے مسوڑھوں پر شادی کا رنگ چڑھے اور دانت موتیوں کی طرح جگ مگ کریں ۔ ثوبی میرے دانت ویسے ہی جگ مگ کر رہے ہیں۔۔۔ اوہ خاموشی اختیار کرو ، مولوی صاحب خراماں خراماں ہماری طرف بڑھ ریے ہیں ۔ فارس تم ذرا ادھر سے اٹھو میں خود انس کے پاس بیٹھوں گا چونکہ میرا نکاح کے معاملے میں تجربہ وسیع ہے ۔ اوہ ثوبی کتنے سارے نکاح کروا چکا ہے تو؟ ۔ میں نے تو تیرا صرف ایک نکاح کروایا تھا وہ بھی سب کے ترلے ڈال ڈال کر ۔۔انس نے گھور کر پوچھا ۔۔ پتر میں نے بھی ایک ہی کیا تھا لیکن پوری دلجمعی اور توجہ کے ساتھ ۔ اب زیادہ چولیں نہ مار اور تھوڑا شرما بھی لے ۔۔ ثوبان میں ادھر بیٹھ کر فارس سے شرماوں کیا؟؟ یا جو محلے کے مولانا صاحب آرہے ہیں جن سے میری روزانہ ملاقات ہوتی ہے؟؟ یا پھر بابا اور تایا سے شرماوں؟؟
یار تم دونوں رتی برابر نہیں بدلے ہو ۔ فارس ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا ۔ فارس بھائی جان آپ شدہ کی فہرست میں کب شامل ہو رہے ہیں ؟؟؟۔ ہم دونوں دوست تو اللہ کے فضل سے بال بچے دار ہو جائیں گے ان شاءاللہ ۔ یار ابھی گھر پہنچا ہوں تو شدہ کے بارے میں بھی سوچتا ہوں ۔ پہلے چھوٹا تو شدہ ہو جائے ۔ ویسے فارس بھیا کسی دوشیزہ کے والد صاحب پہ نظر ہے ؟؟؟
یار ثوبی نہ کسی دوشیزہ پہ نظر ہے اور نہ اسکے والد پر ہے ۔ فارس نے ہنستے ہوئے جواب دیا ۔۔ یہ کام میرے والد اور والدہ سر انجام دیں گے ۔۔ اے سوہنڑی گل کیتی اے نا مشرقی منڈے والی ۔۔ “منڈہ بولا ہے مرنڈا نہیں بولا”۔۔ تینوں کے قہقہے بلند ہوئے ۔۔ انس بتیسی اندر کر نکاح خواں بس 30 سیکنڈ کے فاصلے پر ہیں ۔ انس دل چیک کروا ۔ ثوبان بندہ بن جا میرا دل میرے پہلو میں ہی ہے تو اپنی خیر منا ، جو زوجہ کے رنگ کرنے سے پہلے ہی فون کان کے ساتھ لگا لیتا ہے ۔۔ فارس بھیا ثوبان پکا اور منجھا ہوا رن مرید ہے ۔۔ توبہ توبہ اللہ کی پناہ تم خشک مزاجوں سے ۔ ثوبی نے فورا شرافت کا لبادہ اوڑھ لیا ۔۔ ادھر آ جائیں مولونا صاحب بسم اللہ کریں جی ۔۔۔
رانی آج اپنے ازلی دشمن انس کی دلہن بنی اسکے کمرے میں اسکے انتظار میں بیٹھی تھی ۔۔ پورے گھر میں خاموشی تھی سوائے مہمان خانے میں بیٹھے سب دوستوں کے قہقہے گونج رہے تھے ۔۔ رانی اپنی منتشر سوچوں میں گم نجانے کتنی دیر گزار چکی تھی جب اس نے کمرے کا دروازہ کھلتے دیکھا ۔ انس جیسے ہی دروازہ کنڈی کر کے پلٹا ، رانی نے نہ آو دیکھا اور نہ تاو ، بھاری لہنگا پکڑ کر دوڑ لگا دی اور انس سے لپٹ گئی ۔۔۔ دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا ۔ انس اس اچانک افتاد پر بوکھلا گیا ، اچانک نظر جب سامنے دیوار پر پڑی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
