Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 22)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 22)
Sabeel by Umme Umair
زیاد نے ایک دم آگے بڑھ کر رانی کو چہرے سے دبوچ لیا ۔ سمجھتی کیا ہو اپنے آپ کو ؟ ایک ہاتھ سے رانی کے چہرے میں اپنی انگلیاں گاڑھے، لال انگارہ آنکھیں لئے رانی کو حراساں کر رہا تھا ۔۔ اور کرو تاکہ میرے لیئے آسانی پیدا ہو جائے، صبح جب میرے چہرے پر تمھاری درندگی کے نشان سب کو نظر آئیں گے تو سب نے پوچھنا ہے ۔ رانی نے گلے میں پھنسی آواز نکالی ۔۔زیاد کا غصہ یکدم کافور ہو گیا۔۔
کیوں اتنی اذیت میں خود بھی رہتے ہو اور مجھے بھی رکھا ہوا ہے ۔ مجھے طلاق دو اور اپنی زندگی جیو ۔پھر جی بھر کر آوارہ گردیاں کرنا ۔۔ رانی نے اپنے دکھتے جبڑے کو مسلا ، جس پر زیاد کی انگلیوں نے لال نشان چھوڑے تھے۔۔۔
زیاد بےکلی سے کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا جبکہ رانی اپنے نصیب کے لکھے کو اشکوں میں بہا رہی تھی ۔۔
تشنگی دل کی یہ کہتی ہے کہ پی جا دریا
بےبسی اتنی کے قطرہ بھی چکھا نہ جائے
رانی پر ایک کڑی نگاہ ڈال کر زیاد نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر نکل گیا ۔۔ رانی نے باہر نکلتے زیاد کو نفرت بھری نگاہوں سے گھورا ۔۔ ابھی پھر جا رہا ہو گا غلاظت کے اڈے پر ۔یہ کبھی بھی نہیں سدھرے گا ، اسکو جو لت پڑ گئی ہے یہ کبھی بھی اس سے نکل نہیں پائے گا ۔ رانی نے تاسف سے سوچا۔۔ میرے مالک میں کیسے اس شخص کے چنگل سے نکلوں گی؟
يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله
ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين۔ (النسائي:570 ، المستدرک للحاکم:545)
“”اے زندہ رہنے والے ، اے (کائنات کو) قائم رکھنے والے ! میں تیری رحمت سے مدد کی طلبگار ہوں کہ میرے تمام کام درست فرما دے اور پلک جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر””
تایا تائی جی جان نچھاور کرنے والے، نندیں بھی ہمدرد، میں کیسے اس شخص کی خباثت ان تک پہنچاوں ۔۔۔
عشاء کے لئے وضو کیا اور جائے نماز بچھا لیا۔۔۔ روزمرہ کی طرح آج بھی رانی اپنے لیئے آسانی اور خیر کی دعا مانگنے میں محو تھی۔ ۔ طرح طرح کی سوچیں اسکے دماغ پر حاوی رہتیں ۔۔ میں جس اذیت سے گزر رہی ہوں تایا تائی جی کو بھی اسی اذیت سے گزرنا پڑے گا ۔۔ یا تو مجھے خودغرض بننا ہو گا یا پھر گیلی لکڑی کی طرح ماندہ زندگی سلگنا ہو گا۔۔
آنسو بہاتے بہاتے ادھر جائے نماز پر ہی نیند کی آغوش میں چلی گئی ۔۔
ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے
سمندروں ہی کے لہجے میں بات کرتا ہے
کھلی چھتوں کے دیئے کب کے بجھ گئے ہوتے
کوئی تو ہے جو ہواؤں کے پر کترتا ہے
شرافتوں کی یہاں کوئی اہمیت ہی نہیں
کسی کا کچھ نہ بگاڑو تو کون ڈرتا ہے
یہ دیکھنا ہے کہ صحرا بھی ہے سمندر بھی
وہ میری تشنہ لبی کس کے نام کرتا ہے
تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں
زمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے
زمیں کی کیسی وکالت ہو پھر نہیں چلتی
جب آسماں سے کوئی فیصلہ اترتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
السلام علیکم! کیسی ہے جان ثوبان؟ جی میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ آپ خیریت سے پہنچ گئے ہیں؟ جی پہنچ تو خیریت سے گیا ہوں لیکن کام کرنا بہت کٹھن لگ رہا ہے، وہ افسر انس جو ہے جس کا بس نہیں چلتا مجھے رات کو بھی کام پر لگائے رکھے ۔ خود تو آزاد پنچھی ہے لیکن میں تو صاحب اولاد ہو جاوءں گا ۔۔ سنتے ہی زینہ کا چہرہ لال ٹماٹر ہو گیا ۔۔ زوجہ جی مجھے لگتا ہے اس بات کے بولنے میں تھوڑی جلدبازی کر گیا ہوں، میں اپنے تاریخی سنہرے الفاظ واپس لیتا ہوں ۔ اور سنائیں کیا کر رہیں تھیں ۔ کچھ بھی نہیں ۔ارے پگلی تو مجھے میسج ہی کر دیا ہوتا چند گھڑیاں پرلطف گزر جاتیں ۔۔ ارے ہاں یاد آیا امی آپکو اپنے گھر یعنی آپکے مستقبل والے گھر لے کر جانا چاہتی ہیں لہذا انکو فون کر کے بتا دو کب لینے آئیں وہ بول رہیں تھیں کہ محلے کی عورتیں اور قریبی رشتہ دار عورتیں ملنا چاہتیں ہیں ۔جی ٹھیک ہے جیسے آپ بہتر سمجھتے ہیں ۔ ارے ہمیں جو بہتر لگتا ہے وہ دوسروں کو زہر لگتا ہے، کیا کیا جائے؟ بس بول دیا ہے بس کامیاب مشن تک انتظار ہے اس کے بعد آپ میرے ساتھ قدم ملا کر چلیں گی ۔۔ جی کیا مطلب؟ ایک تو آپ بھولی بہت ہیں ۔ میں نے یہ تو نہیں بولا کہ پولیس میں بھرتی کرواوں گا تو ہی آپ قدم سے قدم ملا کر چل سکتی ہیں ۔ بلکہ میں تو رخصتی کی بات کر رہا ہوں ۔۔ پر رخصتی کیسے ہو سکتی ہے؟ رانی آپی نکاح میں بھی شامل نہیں ہو سکیں، رخصتی میں تو انکا شامل ہونا بہت ضروری ہے ۔ اور یہ تب تک نہیں ہو گا جب تک تایا جان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی ۔۔ زوجہ جی جب تک آپکے تایا جان کی طبیعت ٹھیک ہوتی ہے میرے کی خراب ہو جائے گی ۔۔ ہاہاہاہا ۔ زینہ کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی ۔۔۔ ہنس لیں کس کو درد ثوبان کی تڑپ ہے ۔ ارے ارے آپ تو دلبرداشتہ ہو گئے ۔ ارے جی کوئی ایسا ویسا ہوا ہوں، ابھی تو جی چاہ رہا ہے کہ کسی کآ کندھا میسر ہو اور میں اسے اشکوں سے دھو ڈالوں۔۔
ایک انس ہی تھانے میں ہے جس کے ساتھ دل کے درد بانٹ سکتا ہوں ۔۔ ارے انس بھیا کو کچھ نہ بتانا ۔ زوجہ جی وہ کیوں نہ بتاوں؟ کیوں کہ مجھے ان سے شرم آئے گی وہ کیا سوچیں گے میرے بارے میں ۔۔ کیوں جی آپ بھاگ کر تو نہیں میرے نکاح میں آئیں باقاعدہ عمر رسیدہ بزرگوں اور گواہوں کی موجودگی میں آپکو شریک سفر بنایا ہے۔۔۔پھر بھی ۔۔۔ اچھا چلو دل نہ جلاو ۔ میں ابھی امی ابو جی کو فون کر لوں پھر رات کو ریڈ کے لئے نکلنا ہے ۔ ابھی انس میری سوکن آن ٹپکے گا ۔اپنا بہت سارا خیال رکھنا اور دعا کرنا بالکل بھی نہ بھولنا زینہ جی ۔۔
“” يا زوجتي أنا أحبك حبا شديدا”” .. یہ کیا بول رہے ہیں زینہ نے کان سے فون ہٹا کر دیکھا۔۔ اسکا مطلب میں آپکو اپنے مشن کی کامیابی کے بعد ہی بتاوں گا ان شاءاللہ ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تایا جانی آپ تو ماشااللہ اب پہلے سے کافی بہتر لگ رہے ہیں ۔ میری رانی جو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہر وقت میری تیمارداری میں لگی رہتی ہے ۔۔ ارے نہیں تایا جانی ، جیسے میرے بابا ہیں آپ بھی میرے لئیے وہی درجہ رکھتے ہیں ۔۔ کاش یہ سوچ جہانگیر بھی رکھتا۔ اسکی خالہ اسکی ماں جیسی ہے اسکو کوئی دکھ نہ دوں ۔۔ تایا جانی نصیب کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے ۔۔ آپ بالکل پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ ابھی جہانگیر نے گھٹنے ٹیکنے ہے جب بچوں کو مل نہیں پائے گا ۔ مریم آپی ہمارے ساتھ ہی پاکستان جانے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ مجھے بریک کی ضرورت ہے ۔۔ ہاں اللہ کرے سب خیریت ہو ۔۔آمین ۔ رانی کے دل میں ٹھیس اٹھی، میں کیسے انکو مذید غمگین کر سکتی ہوں ۔۔۔ رانی نے سیاہ بڑی آنکھوں میں امڈ آنے والے پانی کو بہت مشکل سے پیچھے دھکیلا ۔۔ سادہ لمبے کفتان میں گھنگھریالے بالوں کو پونی کی قید میں جکڑے دنیا جہاں سے بےخبر تایا کو پھل چھیل چھیل کر دے رہی تھی ۔۔ شکر کیا ہے اپریل میں کچھ موسم بہتر ہوا ہے دھوپ دیکھنے کو ملی ہے ۔۔ ورنہ میں تو سورج کی شکل دیکھنے کو ترس گئی تھی ۔۔ ارے بیٹی جن وقتوں میں ہم آئے تھے صبح گھر کا بیرونی دروازہ کھولنا محال ہوتا تھا ، اتنی برف باری ہوتی تھی اور سورج تو مہینوں دیکھنے کو نہیں ملتا تھا ۔۔ ان وقتوں میں سردی بے انتہا ہوتی تھی ۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے؟؟ دونوں سسر بہو کیا پٹیاں پڑھ رہے ہو ؟ تائی نے مسکراتے ہوئے پاس پڑی کرسی پر بیٹھنے سے پہلے ہی گھٹنے پکڑ لیئے ۔ یا اللہ اب تو گھٹنے بھی جواب دیتے جا رہے ہیں ۔
وہ بھی وقت ہے تھا سلیم جب میں سارے گھر کے کام کے ساتھ ساتھ، اوپر تلے کے بچے اور ساتھ مشین کا کام بھی کرتی ہوتی تھی ۔۔ فیکٹری والوں نے کٹے پیش دے جانے اور پھر تیار شدہ مال کو مقررہ وقت پر لینے آجانا۔۔ کبھی ایسا نہ ہوا کے مال تیار نہ ہو اور کسی قسم کی کوئی کمی بیشی ہوئی ہو۔اب تو صحت بھی خیر آباد کہتی جا رہی ہے ۔ بس اللہ سے دعا ہے کہ اللہ محتاجی نہ دکھائے آمین ۔۔((قارئین کرام کی معلومات کے لئے یہاں پر بتاتی چلوں، جب قیام پاکستان اور منگلا ڈیم کی تعمیر شروع ہوئی اور بہت سے لوگ بےگھر ہوئے تو اس وقت انگلینڈ کی حکومت نے ویزوں کا اجرا بہت آسان بنا دیا تھا ،تقریبا 70 سے 80 سال پہلے بہت سے والدین نے اپنے کم عمر بیٹوں کو بریطانیہ بھجوا دیا یا پھر ہو سکتا ہے اس سے بھی پہلے کا عرصہ ہو ۔۔میں اپنے بزرگوں سے سنی گئی باتوں کا اندازہ بتا رہی ہوں ۔جنھوں نے ادھر آ کر جان توڑ محنت کر کے یہاں گوروں کی فیکٹریاں چلائیں بلکہ ہر قسم کی مزدوری کی ۔ پھر آہستہ آہستہ وطن عزیز سے اپنے مذید قریبی رشتہ داروں کو بلانا شروع کر دیا اور پھر شادیوں کے لئے بھی پاکستان کا رخ کیا اور انکی بیویاں بھی برٹش پاسپورٹ ہولڈر بن گئیں ۔۔ ان سب لوگوں نے جان توڑ محنت کی ، مرد حضرات باہر شدید سردی کے باوجود بھی روزانہ کام پر جاتے جبکہ عورتیں انکی بیویاں گھر داری کے ساتھ ساتھ مشین پر سلائی کا کام کرتیں تھیں جو کپڑے کی فیکٹری والے انکو گھر پہنچا کر جاتے تھے ۔۔ یہ تمام معلومات مجھے اپنے بزرگوں کے ذریعے ہی ملیں ہیں)) ۔۔۔
پتا نہیں کون فون کر رہا ہے ؟ رانی نے سکرین دیکھی تو حیران ہوئی ۔ ارے بیٹی اٹھا لو یہ نا ہو کوئی ضروری کا ل ہو ۔ تایا نے تنبیہ کی ۔
Hello who is this ?? Can I talk to mrs Ziyaad plz ? Yes I’m speaking, where are you calling from . Madam I’m calling from police …..
ہیلو کون ہے؟ کیا میں مسز زیاد سے بات کر سکتا ہوں؟ جی میں بات کر رہی ہوں، آپ کدھر سے فون کر رہے ہیں؟ میڈم میں پولیس کی طرف سے ۔۔۔۔۔
