Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 29)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 29)
Sabeel by Umme Umair
اچھا آپ بھائی جان سلیم کے دوست کے بیٹے ہیں ۔ بھائی جان تو نیچے تشریف فرما ہیں ، میں ابھی جا کر آپکی بات کرواتا ہوں ۔۔
ہاں بھئی عدیل بیٹا کیسا جا رہا ہے پاکستان کا ٹرپ؟ آنا چاہتے ہو ؟ ضرور جگ جگ آو ۔ بھئی ممی پاپا کو بھی لے آو ، کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔
بس وقت اور دن ٹیکسٹ کر دو ۔۔۔۔ میرے موبائل پر یا پھر میرے چھوٹے بھائی مشتاق کے موبائل پر ۔۔ اور ہمارا مکمل ایڈریس بھی میں ابھی ٹیکسٹ کرواتا ہوں ۔ رانی بیٹی میرے موبائل سے اس نمبر پر مکمل پتا لکھ کر بھیجو ۔ جی تایا جانی ۔۔ اچھا تو اس کا نام رانی ہے ۔۔ ویسے جیسا نام ہے ویسی ہی شخصیت بھی ہے ۔ عدیل رانی کی آواز کے سحر میں کھو سا گیا ۔۔ ہاں بھئی برخوردار اور کوئی نئی تازی کیا ہے ؟ جی انکل سب بالکل خیریت سے ہے ۔ اگر آپ فارغ ہیں تو ہم کل ہی چکر لگاتے ہیں ۔
ضرور بیٹا ۔موسٹ ویلکم ۔۔
رانی کو اندر سے ابال اٹھ رہے تھے، پتا نہیں اس چول کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ ہمارے گھر آنے کا اتنا براغ (شوق) کیوں چڑھا ہوا ہے اسے ۔۔۔ لیلڑ سا لگتا ہے مجھے ۔ تاڑو کہیں کا ۔ رانی نے دل ہی دل میں خوب صلواتیں سنائیں ۔۔
کل میرا پرانا دوست اور اس کی فیملی آ رہی ہے، کافی عرصے سے رابطہ نہیں ہوا ، اس کا بیٹا اچانک جہاز میں مل گیا ، بہت نیک بچہ ہے ، اور بہت اچھا بزنس مین بھی ہے ۔ ابھی بھی درآمدات برآمدات کے سلسلے میں سیالکوٹ آیا ہے ۔۔ رانی بیٹا کل کے لئے اچھا سا مینیو ترتیب دے لو اور جس چیز کی ضرورت ہے مجھے لسٹ بنا دو ، میں بازار سے لے آتا ہوں ۔ بلکہ ساتھ تمھاری تائی کو بھی لے جاتا ہوں ۔ چلو بیگم فورا تیار ہو جاوء ۔۔ رانی لسٹ تیار کرو ۔ جی تایا جان بس ابھی لکھتی ہوں ۔۔۔۔۔
زینہ کیسی ہے طبعیت ابھی ؟؟ بس آپی تھکاوٹ بہت جلدی ہو جاتی ہے ۔ حالانکہ کے گھر میں کچھ خاص کام بھی نہیں ہے پھر بھی بوجھل پن محسوس ہوتا ہے ۔ کب تک ہماری طرف چکر لگا رہی ہو؟ آپی ثوبان سے پوچھوں گی ان شاءاللہ ۔ جب بھی انکو چھٹی ملی تو ضرور آئیں گے ۔۔ میرا خود سب سے ملنے کو بہت جی چاہ رہا ہے ۔۔ اچھا زینہ یہ انس کس حال میں ہے ؟ ۔ 2 دن گزار کر گیا ہے لیکن ہماری طرف ایک دفعہ بھی جھانک کر نہیں دیکھا ۔۔ بڑی حیرت کی بات ہے ویسے ۔ آپی انس بھیا آپکی شادی کے بعد سے بہت سنجیدہ ہو گئے ہیں ۔ ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی وہ پہلے والی باتیں نہیں کرتے ۔ بلکہ میرے سامنے بھی بہت کم آتے ہیں، ثوبان سے باہر ہی کام پہ ملاقات ہوتی ہے یا پھر ثوبان جب کبھی گھر کھانے پر زبردستی بلائیں ۔ ویسے بہت محدود اور اپنے آپ میں گم رہتے ہیں، انکا بس چلے تو 20 گھنٹے کام کریں اور 4 گھنٹے آرام ۔۔ خالہ بھی بول بول کر تھک گئی ہیں ، شادی کر لو لیکن انکے تو کان پر جوں تک نہیں رینگتی ہے ۔ آپی بہت خوبصورت لڑکیوں کے رشتے آئے ہیں، کتنے تو اسی وقت بیٹی کا ہاتھ تھمانے کے لئے تیار تھے لیکن ہمارے ہیرو بھیا صاحب مجال ہے جو کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھیں ۔ آپی ابھی حال ہی میں زبردست قسم کا رشتہ تھا لیکن بنا سنے انکار کر دیا ہے، ثوبی بھی سمجھا سمجھا کر عاجز آ چکے ہیں ۔۔
انس بھیا پر تو پولیس میں اپنے عزائم کو منوانے کا جنون سوار ہے ۔۔۔ آپی وہ جو جان توڑ ورزش کرتے ہیں اور ساتھ میں پھر میرے ثوبی کو بھی میلوں دوڑاتے ہیں ۔ اوووووو تمھارے ثوبی زینہ ماشااللہ ۔۔ کبھی سسرال کے ساتھ بھی رابطہ کیا ہے یا پھر میکوں کے ساتھ ہی نبھا رہی ہو ؟ کیسی باتیں کرتی ہیں آپی ! امی مجھے ایسا کرنے دیں گی بھلا ، جب بھی امی کو فون کروں پہلے ساس سسر کی خیریت دریافت کرتی ہوں ۔ آپی ثوبان اکلوتے ہیں اور انکا کون ہے اگر میں بھی انکے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کروں گی اور اگر ثوبان میرے ساتھ اتنا اچھا برتاؤ کرتے ہیں تو انہیں والدین کی بہترین تربیت کی بدولت ۔ ویسے زینہ تم بھی دادی اماں والی باتیں کرنے لگ گئی ہو ۔ مجھے یاد جب بھی میرا اور انس کا جھگڑا ہوتا تھا تم سب سے پہلے انس کے ساتھ مل کر میرے خلاف گواہی دیتی تھی اور یاد ہے جب اس نے حلف نامہ سائن کروایا تھا ۔ ہاہاہاہا جی آپی سب یاد ہے ۔ میں اکثر ثوبی کو بھی ایسے قیصے سناتی ہوں ۔۔ اور آپکو تو پتا ہے ان سے ہمارے گھر کے معاملات کہاں چھپے ہیں ہفتے میں 5 دن تو وہ نیچے انس بھیا کے ساتھ ہی گزارتے تھے ۔۔
ہاں زینہ ابھی تو سب کچھ ایک یاد بن کر رہ گیا ہے ۔ ایسے لگتا ہے وہ وقت ایک خواب تھا ، یا پھر پانی کے اوپر بنا ایک بلبلہ جسکو چھوتے ہی سب ختم ہو جاتا ہے ۔۔
اچھا زینہ میں چلتی ہوں کل تایا جان کے کچھ مہمان آ رہے ہیں تو ابھی سے کھانے کی تیاری شروع کرنی ہے ۔ کون ہیں آپی؟ پہلے کبھی بھی نہیں سنا ۔۔ تایا جان کے کسی پرانے دوست کا بیٹا ہے ، ہمیں جہاز میں ملا تھا تو بس ادھر ائیر پورٹ پر ہی بولا اپنے والدین کے ساتھ آنا چاہتا ہے ۔۔ اچھا ! کچھ عجیب نہیں لگتا آپی ؟! اس کا اس طرح بولنا ۔ پتا نہیں زینہ مجھے تو جیسے تایا جان نے بولا ہے وہی کر رہی ہوں ۔۔۔ اپنا بہت سارا خیال رکھنا اور ثوبان بھیا کو ہماری طرف سے سلام۔۔۔
محترم مکرم تھانیدار انس صاحب باخبر ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ کل آپکے گھر بڑے تایا کے پرانے دوست کا بیٹا بمع والدین تشریف لا رہا ہے ۔
تمھیں کس نے بتایا ہے ؟ زوجہ محترمہ کی بات ہوئی تھی بڑی سالی صاحبہ سے تو پھر ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے تھے ، بنا تاخیر کئیے اور میری چھٹی کا انتظار کئے بغیر ہی فون گھما ڈالا ۔۔ وہ تو صد شکر باہر کھانا لینے نکلا ہوا تھا ورنہ تھانے میں تو قیدی بھی کان لگا کر میری باتیں سنتے ہیں ۔ اتنے فری ہیں بعد میں مجھے مشوروں سے بھی نواز دیتے ہیں ۔۔
انس کے دل میں کھٹکا سا ہوا ۔ یار ثوبی مجھے دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے ۔۔ نہیں جناب کالا کچھ نہیں ہے بلکہ پوری دال ہی کالی ہے ۔ آپ جناب ہر وقت مروت کے چکروں میں اپنا نقصان کروانے کے خواہاں رہتے ہیں ۔ ثوبان نے اپنی ٹون بدلی ۔۔ انس گیدڑ ! انسان کا بچہ بن جا ! ورنہ میں نے دھاوا بول دینا ہے ۔ آخر میں اس گھر کا پہلا داماد ہوں ۔ انس روک لے مجھے ورنہ میں ابھی سسرال جانے والی بس پکڑ لوں گا ۔۔
نہیں ثوبان تم ادھر زینہ کے پاس رہو میں خود ہی آج رات نکل جاوءں گا ۔ دیکھتا ہوں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔ ادھر آ جپھی ڈال میرے گھبرو شہزادے! واپسی پر میں تجھے خالی ہاتھ آتا نہ دیکھوں ۔ تیرے پہلو میں دلہنیا نظر آنی چاہئے ۔
آنکھیں بھی ترس گئی ہیں اپنے یار کے دل کے پھول کھلتے دیکھنے میں ۔ ثوبان نے رونی صورت بنائی ۔ اوہ بس اب زیادہ غمگین نہ ہو ۔ اب تو جو مرضی ہو جائے رانی کسی اور کی نہیں ہونے دوں گا ۔۔
یار انس برا نہ مانی بھائیوں کی طرح ہمدردی سے بات پوچھ رہا ہوں ۔ یار تیرے لیئے ایک چھوڑ بیس کنواری لڑکیاں ہیں، پھر بیوہ ہی کیوں؟
ثوبی یار وہ بیوہ پہلے سے زیادہ معتبر اور محترم ہے میرے لیئے ، ثوبی وہ بیوہ کبھی میرے دل و دماغ سے نکلی ہو تب ہے نا ۔ دن میں بارہا اسکو بھلانے کی تگ و دو کرتا ہوں ، اپنے آپ کو ضرورت سے بھی ذیادہ مصروف رکھتا ہوں ۔۔۔ لیکن ہر روز رات میرے خواب میں آتی ہے ۔ اور اسکی شادی کے بعد جب بھی وہ میرے خواب میں آئی ہے میں نے اسے شدید پریشان اور روتے ہوئے ہی دیکھا ہے ۔۔۔
میں نے تجھے پہلے بھی بولا تھا کہ میں کسی اور لڑکی کو وہ مقام وہ مرتبہ دے ہی نہیں سکتا جو رانی کا ہے ۔ یار وہ بہت پاکیزہ اور نیک لڑکی ہے اور اوپر سے جو اسکی لڑاکا عادتیں ہیں ، کسی کو پاس نہ پھٹکنے دے ۔۔۔
یار تجھے پتا ہے میں ملاوٹ پسند بندہ نہیں ہوں ، اپنی جان پر کھیل کر خالص کو پانے کا حوصلہ رکھتا ہوں ۔۔اگر وہ بیوہ ہو گئی ہے تو میں اسے عزت کی چادر پہناوں گا ۔۔ اسکی بیوگی تقدیر میں لکھی تھی۔
چل فرض کیا اگر زیاد اس دنیا سے نا جاتا تو پھر ؟؟
انس نے لمبی سانس کھینچی اور گویا ہوا ، ثوبی پھر میں اپنے آپکو کو وقت کے حوالے کر دیتا ، وقت بہت بڑا مرہم ہے ۔۔۔ اسکی شادی طے پانے کے بعد سے تو یہی سب کرتا آ رہا ہوں ۔۔ اب تقدیر دوبارہ اسے میرے قریب لے آئی ہے ۔۔تو میں کیوں نا اسکو اپناوں ؟ ۔ کاش میں یہ ساری باتیں ریکارڈ کروا کر زوجہ زینہ کے ذریعے رانی آپا تک پہنچا دوں تاکہ تیرے وہاں پہنچنے پر حالات سازگار ہوں ۔
نہیں یار میں یہ چھچھورے کام کبھی بھی نہیں کروں گا ۔۔ اسی لیئے پتر بیٹھا ہوا بھوکے بٹیرے کی طرح۔ ثوبان نے زچ ہوتے ہوئے دل کے پھپھولے نکالے ۔۔
آخری وارننگ دے رہا ہوں خالی ہاتھ نہ آنا ورنہ میرے سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔
چل بس کر یار ۔ نہ دل جلا تجھے مایوس نہیں کروں گا ان شاءاللہ ۔۔ چل آ تجھے اچھی سی کڑک چائے پلواوء ۔ نہیں یار زینہ نے منع کیا ہوا ہے ایک سے زیادہ دفعہ پینے کی اجازت نہیں ہے ۔ کہتی ہے کیفین صحت کے لئے اچھی نہیں ہے ۔۔
ثوبان بڑے اعلی پائے کے رن مرید دیکھے ہیں پر تو تو سب پر بھاری ہے ۔۔بھلا کون چائے بیوی سے پوچھ کر پیتا ہے ۔؟۔ میں تو ایسے ہی کروں گا کیونکہ وہ میری صحت کےلئے پرواہ کرتی ہے اور میں اسکی بات نہیں ٹال سکتا ۔ گولی لگنے کے بعد جیسے اس نے میری تیمارداری کی ہے وہ میں پوری زندگی نہیں بھول پاوں گا ۔ یار کونسی نئی نویلی دلہن سارا سارا دن ہسپتال میں گزارے گی اور جب خاوند گھر واپس آئے تو ہر وقت اسکی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کرے گی ۔ یار لڑکیوں کے تو نخرے ہی ختم نہیں ہوتے کجا کے وہ خاوند کی دیکھ بھال کریں، اور یار وہ میرے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتی ہے ۔ یار تو نے دیکھا نہیں ہے کن حالات میں اسکی رخصتی ہوئی تھی؟ کتنی سادگی سے سب کچھ ہوا ہے ، اسکی رخصتی اسکے دلہا کو گولی لگنے پر ہوئی ۔۔ میرے سے کبھی بھی کوئی ناجائز فرمائش نہیں کرتی ، ہمیشہ اپنی چادر دیکھ کر پاوں پھیلاتی ہے ۔۔۔اسی لیے تو مجھے بہت اچھی لگتی ہے ۔ ویسے انس گیدڑ کسی کی بھی نیکی یاد رکھنی چاہئے ۔
اچھا مولانا ثوبان صاحب اللہ آپکی رن مریدی میں مزید برکت ڈالے آمین ۔۔انس نے مسکراتے ہوئے ثوبان کو چھیڑا ۔
چونکہ انس مقررہ اوقات سے بھی زیادہ گھنٹے کام کرتا تھا اس لیئے چھٹی بغیر دقت کے منظور کر لی گئی ۔۔ ایک ہفتے کی چھٹی میں اسے اس ہدف سے نپٹنا تھا ۔جو باقی تمام اہداف سے مشکل ترین تھا ۔۔
سارا دن تانے بانے بننے میں گزر رہا تھا، بےکلی اپنے عروج پر تھی ۔ جی چاہ رہا تھا گھر اڑ کر پہنچ جائے ۔
بخت کے تخت سے یکلخت اتارا ہوا شخص
تُو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص
ہم تو مقتل میں بھی آتے ہیں بصد شوق و نیاز
جیسے آتا ہے محبت سے پکارا——– ہوا شخص
کب کسی قرب کی جنت کا———– تمنائی ہے
یہ ترے ہجر کے دوزخ سے گزارا —-ہوا شخص
بعد مدت کے وہی خواب ہے پھر آنکھوں میں
لوٹ آیا ہے کہیں جا کے سِدھارا ہوا —-شخص
اب اندھیرے ہیں کہ لیتے ہیں بلائیں اُس کی
روشنی بانٹ گیا دیپ پہ وارا ہوا —-شخص
موت کے جبر میں ڈھونڈی ہیں پناہیں اس نے
زندگی یہ ہے ترے لطف کا مارا ہوا—– شخص
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رانی ارے دیکھو کب سے دستک پہ دستک ہو رہی ہے، مہمان تو ابھی نہیں آنے والے ۔ انہوں نے تو بولا تھا 2 بجے کے بعد آئیں گے ۔۔۔ شاید ساتھ والوں سے انکی ملازمہ دودھ لائی ہو ، ان کو کل ہی میں نے خالص دودھ کا بولا تھا ۔ کھیر اچھی بنتی ہے ۔ اچھا خالہ لیکن تایا تائی جی کدھر ہیں ؟ شاید اوپر چلے گئے تمھارے بابا کے پاس ۔ ہم لوگ کیچن میں مصروف تھے پتا ہی نہیں چلا ۔۔ رانی اپنے سینے سمیت چاروں اطراف دوپٹا لپیٹتی اور پھر ہلکا سا چہرہ ڈھکے خارجی دروازے کی طرف بڑھنے لگی ۔ آ رہی ہوں بھئی ۔ بیل پر ہاتھ رکھ کر اٹھانا بھول جاتی ہو گڑیا ۔ بڑبڑاتے ہوئے جب دروازہ کھولا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
