Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 02)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 02)
Sabeel by Umme Umair
جھک کر دیکھا تو کالے رنگ کا سانپ کنڈلی مارے بیٹھا تھا، ایک دم سے سارا غصہ کافور ہو گیا، چہرے کا رنگ ایک دم سفید پڑ گیا ، جسم بےجان ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا، ٹانگیں جیلی بن گئیں، بڑی دقت سے پاس پڑی کرسی پر تھر تھر کانپتے وجود کو گھسیٹا اور کرسی پر چڑھنے میں کامیاب ہو گئی ۔ خشک گلے میں پھنسی آواز نکالی اور انس کو پکارا ۔۔۔
انس بلا تاخیر کے نمودار ہوا ۔
کیا بات ہے رانی؟ بڑی گھبرائی گھبرائی اور پریشان لگ رہی ہو ؟!
انس س س س سانپ ہے ۔۔ رانی نے کانپتے ہاتھوں سے نیچے فرش کی طرف اشارہ کیا ۔ پلیز مجھے بچا لو ۔۔
ارے ارے تم تو رونے والے ہی ہو گئی ہو !!
چھ فٹ سے لمبے نوجوان کا تو جینا دو بھر کیا ہوا اور یہ تو بیچارا پھر بھی ایک فٹ سے بھی کم نظر آ رہا ہے ۔۔ اور ویسے بھی تم جیسی دلیر لڑکی کے سامنے سانپ کی کیا مجال ہے ؟!
انس اللہ کا واسطہ ہے یہ وقت بحث کا نہیں ہے، کچھ تو کرو پلیز ۔۔ ایسے لگ رہا تھا رانی اگلے منٹ بےہوش ہو جائے گی ۔۔۔۔
قابل احترام رانی صاحبہ گھبرانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے جلدی سے اسکو بھی مرچوں کی دھونی دو !! مرا نہیں تو کم ازکم بےہوش ضرور ہو جائے گا ۔
انس یہ وقت پرانی دشمنیاں پالنے کا نہیں ہے ۔ رانی نہایت لاچارگی سے گویا ہوئی ۔۔۔
بھئی میں تو ہر معاملے میں حساب کتاب برابر رکھنے کا قائل ہوں ۔۔۔ سوچ لو آگے تمھاری مرضی ۔۔۔
انس تم گھٹیا انسان مجھے زہر سے بھی برے لگتے ہو لیکن وہ کیا ایک بہترین قول ہے کہ مصیبت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنا لینا چاہئے ۔۔۔
رسی جل گئی پر بل نہ گیا وہ بھی ہماری جھانسے کی رانی صاحبہ کے ۔۔۔۔۔اب تم جانو اور تمھارا یہ مہمان ۔۔
انس انس اگر اسکو مارنے کی ہمت نہیں تو کم ازکم اسکو ادھر سے ہٹا تو دو پلیز ۔۔۔
یہ کام تو تم بھی کر سکتی ہو ۔۔۔ بلکہ اپنی دس گز کی لمبی زبان کو استعمال میں لاو اور اس سانپ کو ہراساں کرو ۔۔۔۔
انس تم کتنے گھٹیا انسان ہو !!
بہت نوازش، بہت شکریہ!!
اب ایسا کرو دونوں کان پکڑو اور مجھ سے معافی مانگو!! بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی ۔۔۔۔
معافی مانگتی ہے میری جوتی!! دفعہ ہو جاوء یہاں سے !!!
تمیز سے بات کرو !! پورے 47 دن بڑا ہوں میں تم سے ۔۔۔۔
اپنی شکل گم کرو اور دوبارہ ہمارے پورشن میں نظر آئے تو دیکھنا میں کیا حشر کرتی ہوں تمھارا ۔۔۔۔
پہلے سانپ کو تو سنبھال لو پھر میرا بھی حشر کر لینا ۔۔۔۔
انس کالر جھاڑتا ہوا کوریڈور سے ہو کر زینے اترنے لگا ۔۔۔
رانی دانت پیستی بےبسی سے کرسی پہ پیچ و تاب کھا رہی تھی ۔۔۔۔
رانی نے انس کے جاتے ہی اپنی ساری توجہ کا مرکز سانپ کو بنایا تو حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں، یہ تو بالکل بھی ہل جل نہیں رہا ۔۔۔
ہائے او میرے رب ! یہ گیدڑ پھر مجھے نقلی سانپ سے بیوقوف بنا گیا ہے، میں بھی سوچوں کتنا فرمانبدار بن کر میری ایک ہی پکار پر واپس لوٹ آیا ۔۔۔میرے خیال میں اسکی پہلے صحیح طرح سے تصدیق کر لوں تو بہتر ہے ، اس گیدڑ کا کوئی اعتبار نہیں ہے کہ دشمنی میں کیا کر گزرے ۔۔۔۔۔
یااللہ مجھے ہمت دے تاکہ میں اس کرسی سے تو نیچے اتر سکوں ۔۔۔
پتا نہیں امی کس طرف چلی گئیں ہیں؟!
ہمت کرکے دوبارہ گلا پھاڑ پھاڑ کر امی کو پکارا ۔۔۔
تقریبا دس سیکنڈ میں رضیہ بیگم کمرے سے ہانپتی کانپتی نمودار ہوئیں ۔ کیا ہوگیا ہے میری جان ؟!
امی جی آپ کدھر تھیں؟! آگے مت آنا ابھی
ارے رانی پتا نہیں تھا میں شاور لے رہی تھی ؟؟۔۔۔
امی سانپ کو دیکھ کر بھلا کون ہوش و حواس میں رہ سکتا ہے آپ بس مجھے کوئی ڈنڈا یا وائیپر ہی پکڑا دیں پلیز ۔۔۔ آگے نہ آنا بس ادھر سے ہی میری طرف پھینکیں!
رانی یہ ہمارے بس کا کام نہیں ہے میں نیچے سے انس کو بلاتی ہوں ۔۔۔
امی اس گیدڑ کو نہیں بلانا آپ بس میری طرف وائیپر پھینکیں پلیز ۔۔۔
رانی باولی ہو گئی ہے میری تو ٹانگوں میں جان نہیں رہی ہے ۔۔۔
امی آپ وائیپر لائیں ورنہ میں نیچے اترنے لگی ہوں ۔۔
تو نہ اتریں میری بچی ۔۔ میں ہمت کرتی ہوں ۔۔۔
بس ادھر سے ہی میری طرف پھینکیں ۔۔
امی جی ہے تو یہ نقلی بس ذرا تصدیق مقصود ہے ۔۔۔
رانی نے کرسی سے ہی کھڑے کھڑے وائیپر کے ڈنڈے سے اس پلاسٹک کے کھلونے کو الٹ پلٹ کیا اور فورا جمپ لگا کر نیچے اتری ۔۔۔
ہاتھ جھاڑتے ہوئے گویا ہوئی ابھی تو یہ گیدڑ انس میرے ہاتھوں سے نہیں بچ پائے گا ۔۔
اوہ رانی کیا کر رہی ہے؟؟؟
امی جان یہ نقلی سانپ ہے اور یہ کارستانی آپکے اس چہتے کی ہے ۔۔۔
اچھا چل غصہ تھوک اور جانے دے ابھی !
تو بھی تو ہر وقت اسکے ناک میں دم کئیے رکھتی ہے، اگر وہ مذاق کر گیا ہے تو جانے دے میری سمجھدار بچی ۔۔۔
چلیں امی صرف آپکی سفارش پر اس کا یہ گناہ وقتی طور پر معاف کر رہی ہوں ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تم لڑکیاں پاگل تو نہیں ہو گئی ہو یار !!
یہ سب ٹوپی ڈرامے کرتے ہیں اور تم بیوقوف اول درجے کی انکی غیر موجودگی میں آہیں اور ٹسوے بہاتی ہو ۔۔۔۔
رانی تیرے سینے میں کوئی پیتل کا آلہ فٹ ہے کہ جس پر ہر چیز بے اثر ہے ۔۔
پیاریو !! میں تم لوگوں کی طرح لائی لگ (دوسروں کی باتوں میں جلدی آ جانا) نہیں ہوں ۔۔
میں ہر چیز کی کارکردگی کو اسکے عملی میدان سے جانچتی اور پرکھتی ہوں ۔ جبکہ میری بھولی بھالی لائی لگ سہیلیوں کے پاس سے عقل آتے آتے شورٹ کٹ لے کر میری طرف آگئی ، بس فرق صرف اتنا سا ہے ۔۔۔۔۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وردہ بولی۔۔۔
رانی تم اور تمھاری دقیانوسی فلاسفی ہماری سمجھ سے تو بالاتر ہے ۔۔۔
یہ باتیں دقیانوسی نہیں ہیں!! یہ تو حقیقت پہ مبنی اصلیت ہے جو میں پچھلے آدھے گھنٹے سے تم لوگوں کے ساتھ مغز ماری کر رہی ہوں ۔۔۔
جگری سہیلیو !! اب میری باتوں کو کان کھول کر اور دماغ کو حاضر رکھ کر نوٹ کر و یا پھر ریکارڑ کر لو اگر کبھی تم لوگوں کے قدم ڈگمگائے تو میرے اقوال زریں سن لینا ۔۔۔
اب زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے سیدھا سیدھا بولو جو بولنا ہے ورنہ ہم جا رہے ہیں ۔۔۔
ارے ارے پاگل لڑکیو !!! خبردار جو ادھر سے ایک قدم بھی ہلی تو !!!
نیکی کی تو قدر ہی ختم ہو گئی ۔۔ رانی نے مصنوعی خفگی دکھائی ۔۔۔
اب جو بکنا ہے وہ بک بھی دو ! حفصہ نے زچ ہو کر آنکھیں دکھائیں ۔۔۔
تو عرض کیا ہے ۔ مائیک ذرا آگے کرنا وردہ پلیز
دونوں نے اپنے سر پیٹ لئیے ۔۔۔
دیکھو میری بہنو !! میری سہیلیو !! ہم عمر کے اس دور سے گزر رہے ہیں جہاں پر ہر چیز پر کشش اور جاذب نظر لگتی ہے ۔میں بہت ہمدردی اور خلوص کے ساتھ سمجھا رہی ہوں ۔ دیکھو محبت کی منزل کو پارکوں، ہوٹلوں اور کیفیٹیریا میں نہ ڈھونڈو !!!
یہ تو نکاح کی پاکیزہ چادر ہے جو گھر کی چاردیواری میں بارش کی ہلکی پھوار بن کر تمھاری روح میں اترے گی، اس پاکیزہ جذبے کو بازاروں اور چوراہوں کی زینت نہ بناوء ۔۔ کیونکہ اسکی غلاظت تمھارے لباس کے ساتھ ساتھ تمھاری روح کو بھی آلودہ کر دے گی ۔۔۔۔
تم دونوں سمجھ رہی ہو نا میری بات کو؟؟؟
جی بالکل سمجھ بھی ہے اور عمل بھی ہے فلحمدللہ ۔۔۔
ہم تو بس تمھاری ذہانت کو آزما رہے تھے رانی صاحبہ ۔۔۔
بس اب آزما لیا ہے تو چلتے ہیں پھر گھر یا آج کالج میں ہی شب باشی کا ارادہ ہے؟
توبہ توبہ رانی کیوں بھوتوں سے مروانے کا ارادہ ہے ؟!
اوہ کم عقلو!! نہیں مرتی بھوتوں سے ! وہ تو جیسے تمھارے ہی انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔۔۔
تینوں کھکھلاتی اٹکیلیاں کرتیں سست روی سے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئیں ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اپنی ہی دھن میں گم سفید لٹھے کو زیب تن کئے ہوئے وہ بہت پروقار لگ رہا تھا ۔۔ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اپنی بائیک تک آیا اور جیسے ہی پہلی کک لگائی ٹھنڈا یخ پانی اسکو سر سے پاوں تک گیلے ہونے کا احساس دلا چکا تھا ۔۔۔
لش لش کرتی پشاوری چپل میں بھی پانی اپنا رستہ بنا چکا تھا اور جیسے ہی بائیک سے اتر کر قدم گھر واپسی کے لیئے بڑھائے تو کھڑپ کھڑپ شلپ شلپ کی دردناک صدائیں گونجیں ۔۔۔۔
سمجھنے میں صرف 2 سیکنڈ درکار تھے کہ دشمن داخلی ہی ہے ،جبکہ خارجی دشمن اتنی دیدہ دلیری کا مظاہرہ نہیں کرتے وہ بھی دن دہاڑے ۔۔۔۔۔
گردن کو ہلکی جنبش دے کر ذرا سا اوپر کیا تو دشمن اول بہت پرجوش انداز سے دونوں ہاتھ لہرا رہی تھی ۔۔۔
دل میں ایک کسک اٹھی اور میٹر گھومنا شروع ہو گیا ۔۔۔
تم لومڑی آج تو میرے ہاتھوں سے زندہ نہیں بچو گی ۔۔
حد میں رہو گیدڑ صاحب اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو اس سے بھی المناک نتائج ملیں گے ۔۔۔
دھمکی اور وہ بھی مجھے ۔۔ شکل دیکھو اپنی ذرا ۔۔
چوہیا پہ پیوند ہوئی ہوئی ہو ۔۔۔
بالائی منزل سے بھی مسلسل مذاکرات جاری و ساری تھے ۔۔۔
چلو دل کی بھڑاس نکال لو آخر مظلوم جو ٹھہرے لیکن ایک بات کان کھول کر سن لو جو لوگ اللہ کی بنائی گئی چیزوں سے نقص نکالتے ہیں انکو اردو زبان میں گناہ گار بولا جاتا ہے ۔۔۔۔ آگے تمھاری مرضی ۔۔
لہذا غصہ ٹھنڈے شربت کی طرح پی جاوء اور اندر جا کر دوسرے کپڑے پہن لو !! صرف 5منٹ لگیں گے ۔۔
ویسے تمھیں یاد ہوگا چند دن پہلے تم نے جو نقلی سانپ پھینک کر مجھے ہراساں کیا تھا یہ اسی کا بدلہ ہے ۔۔
میں بھی حساب کتاب برابر رکھنے کی ہی قائل ہوں ۔۔اب جاوء اچھے بچوں کی طرح!!! مع السلام ۔۔۔۔(سلامتی کے ساتھ )۔۔۔۔۔
انس کا چہرہ شدید غصے سے لال ہو رہا تھا ۔ فورا جمپ لگا کر سیڑھیوں کی طرف لپکا، جیسے ہی پاوں دوسرے زینے پر رکھا پھسل کر دھڑام سے نیچے ۔۔۔
رانی کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا۔۔ زینہ علینہ آ جاوء پیاریو !! ہمارے مرد مجاہد پردیسی حوالدار صاحب نے کلابازی لگائی ہے ۔۔۔ اس بار کی چھٹیاں ضرورت سے زیادہ مہنگی پڑ گئیں حوالدار صاحب!!!
انس کڑے تیوروں سے رانی کے اوپر آگ برسا رہا تھا جبکہ رانی کی کھی کھی مسلسل گونج رہی تھی ۔۔
شور سن کر سلطانہ بیگم(انس کی والدہ) بھاگیں ۔۔
ہائے اللہ میرے جگر کے ٹکڑے کو کیا ہو گیا ؟ ماں صدقے میرے لعل۔۔۔
امی اپنی اس میسنی بھانجی اور بھتیجی عرف لومڑی کو بولیں نیچے آئے اور معافی مانگے یہ سب کیا دھرہ اس چالاک لومڑی کا ہی ہے ۔۔۔
سلطانہ بیگم نے اپنا سر پکڑ لیا ۔۔ انس اور رانی دونوں اپنی عمریں دیکھو اور حرکتیں دیکھو ذرا ۔ اس عمر میں ہمارے تو 2 بچے تھے گود میں ۔۔۔ میں کیسے سمجھاوں تم دونوں نے ناک میں دم کیا ہوا ۔۔۔۔ رانی اوپر منڈیر پرکھڑی کھی کھی اور انس کو منہ چڑا رہی تھی ۔۔۔ رانی بالکل بےخبر تھی کہ امی جان
یہ سارا ماجرا دیکھ چکی ہیں اب رانی کا بازو اور انکا زور دار دھکا دونوں بڑے فٹ جا رہے تھے ۔۔ امی نے زور سے بازو کو دبوچا اور سیڑھیوں کی طرف لے آئیں ۔۔
امی پلیز ایک منٹ وہ میں نے نیچے والے زینوں پہ مسلا ہوا کیلا گرا دیا تھا تو ادھر بہت پھسلن ہے ۔ پہلے مجھے وہ دھونے دیں ۔۔ رانی نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے شرافت کا لبادہ اوڑھ لیا ۔۔۔
چار و نا چار مانجا(سخت تنکوں والا جھاڑو) اور ایک بالٹی پانی کی لے کر دھلائی شروع کر دی جبکہ دشمن اس پر سوز منظر سے کافی لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔۔۔
گلا کھنکار کر امی جان ذرا میرا وہ دوسرا لٹھے کا سوٹ نکال دیں جسکی کلف اچھی سی لگی ہے، ہماری رانی صاحبہ ابھی استری کے فرائض نبھانے سے بھی گریز نہیں کریں گی چونکہ یہ سب کیا دھرا انکا ہے تو انکو اپنے کئے کا کچھ تو اجر ملنا چاہئے ۔۔
کیا خیال ہے جھانسے کی رانی صاحبہ؟؟؟
انس نے چڑانے والا انداز اپنایا ۔۔۔
گینڈے دور رہو !! رانی نے غصے سے دانت پیسے ۔۔
اوپر سے آواز آئی رانی اپنے کام پر دھیان دو اور خبردار جو تم نے میرے بچے کے ساتھ منہ ماری کی تو !!
امی یہ بچہ ہے یا گینڈا ہے ؟؟؟ دل ہی دل میں تلملائی ۔۔
ابھی دھلائی کے بعد فورا انس کے کپڑے استری کرو، ہاتھ تیز چلاوء ، امی 2 زینے اوپر کھڑی ہدایات جاری کر رہی تھیں ۔۔ امی جان آپ بےفکر ہو جائیں میں کر دوں گی ۔۔۔۔ جبکہ سلطانہ بیگم اندر جاچکی تھیں ۔۔
امی کے واپس جاتے ہی رانی اپنے اصلی روپ میں لوٹ آئی ۔ اور یہ تم میرے سر پر کیوں سوار ہو ؟! شکل گم کرو ادھر سے ۔۔
تمیز کے ساتھ بات کیا کرو مجھ سے !!!
آخر کو ٹھیکرے کی منگ(بچپن کی مانگ ) ہو ۔۔
سنتے ہی رانی کو تو پتنگے لگ گئے
نہ نک تے نا ناساں!!! اپنڑیاں ناساں ویکھ انس تے فیر گل کر میرے نال!!!
رانی نے لال بھبھوکا چہرے سے انس کو لتاڑا ۔۔۔۔۔
زہر لگتی ہو جب اس لہجے میں بات کرتی ہو مجھ سے ۔۔ ایسے لگتا ہے کہ کسی پرائمری فیل 55سالہ عورت سے بات کر رہا ہوں ۔۔۔
تے فیر کس نے دعوت دتی اے میرے نال گل کرن دی؟!
میں تمھیں آخری دفعہ بول رہا ہوں لہجہ درست کر لو اپنا ورنہ میرے سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔
میری ٹٹی جتی نوں وی پرواہ نی اے !!!!
بولتے ساتھ ہی رانی نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
