Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sabeel (Episode 25)

Sabeel by Umme Umair

“میں حق پرستوں کی ____اک قبیل سے ہوں

جو حق پر ڈٹ جائے اس__لشکر قلیل سے ہوں

میں یوں ہی دست و گریباں__ نہیں زمانے سے

میں جس جگہ پر کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں”

تھانیدار صاحب اللہ کا شکر ادا کریں گولی مریض کی ہڈی میں نہیں گئی ، ورنہ بہت نقصان ہو جانا تھا ۔ چونکہ مریض کو بروقت طبعی امداد نہ مل پائی جس کی بنا پر خون کا بہت ضیاع ہو چکا ہے۔ جو کہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ہمارے پاس انکے بلڈ گروپ کی شدید کمی ہے ، آپ سے جتنا جلدی ممکن ہو سکے ہمیں انکے بلڈ گروپ کا بلڈ مہیا کریں ۔مریض کو خون کی اشد ضرورت ہے ۔

ڈاکٹر صاحب میرے جسم سے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیں لیکن میرے دوست کی جان بچا لیں۔۔ میرے پاس اور دوست بھی موجود ہیں جوکہ ثوبان کو خون عطیہ کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں ۔۔

پلیز ڈاکٹر صاحب میرے دوست، میرے بھائی کو بچا لیں ۔۔ تھانیدار انس صاحب اس وقت مریض کو دعاوں کی اشد ضرورت ہے ۔ اگر مریض بچ گیا تو یہ اللہ کا خاص کرم ہو گا ۔۔۔۔

صبح کے پانچ بج رہے ہیں ، میں کیسے اتنی اذیت ناک خبر سب کو بتاوں؟ والدین کی دعاوں میں بہت اثر ہوتا ہے ۔۔یا پھر زینہ کو ٹیکسٹ کر دوں وہ سب کو بتا دے گی ۔۔ انس اسی شش و پنج میں مبتلا نرس کے پاس خون کے عطیے کے لئے پہنچ گیا۔۔۔ انس کے جسم سے نکلتا قطرہ قطرہ خون ثوبان کے جسم میں منتقل ہو رہا تھا ۔۔۔ مزید خون کے لئے باہر جوانوں کی لمبی قطار انتظار میں کھڑی تھی ۔ ہر دلعزیز ثوبان سب کو شدید صدمے میں مبتلا کر چکا تھا ۔۔

“”انس گھامڑ میرے بچے تیری گود میں قلقاریاں ماریں گے تو دیکھ لینا ان شاءاللہ ۔ یار مشن سے پہلے نکاح کے دو بول پڑھوا دے پھر دیکھیں تو اپنے یار کی پرفارمنس ۔ مجرموں کو ناکوں چنے نہ چبوائے تو میرا نام بھی ثوبان عرف ثوبی “نکاحی” نہیں ہے۔۔ اوہ کمینے یہ “ثوبی” تو سمجھ میں آتا ہے لیکن یہ “نکاحی” کا مطلب کیا ہے؟؟ جو پیدائشی نالائق ہوں انکو مخفف حروف کی سمجھ کہاں ۔۔حوالدار سے تھانیدار بن جانے تک بھی تیری ذہانت میں رتی برابر فرق نہیں پڑا۔۔۔ اچھا چل زیادہ پروفیسر نہ بن اور مجھے فورا بتا “نکاحی” کا کیا مطلب ہے؟ اوہ ناکام عاشق اسکا مطلب ہے نکاح شدہ وہ بھی نیا نیا ۔۔۔ ہر وقت لیلیں ہی گھولتے رہنا چول نہ ہو تو ۔۔ اوئے گھامڑ خود کسی پاسے نہیں لگتا تو مجھے بھی نہیں لگنے دے رہا ۔۔ میں تو تکمیل ایمان کے لئے کوشاں ہوں”” ۔ انس کے آنسو بلا روک ٹوک جاری تھے ۔۔ ثوبان کی باتیں ، شرارتیں انس کے دماغ میں گردش کر رہیں تھیں۔۔ میرے مالک میرے یار کو صحت مند لمبی زندگی دے آمین ۔۔۔ یااللہ اپنے والدین کے اکلوتے کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔۔۔۔۔۔۔

“” (ادھ کھلی کلی) زینہ جی اس کے ظاہری حلیے پر مت جایئے گا ! بس یہ سمجھیں کے ثوبان نے آپکو اپنا دل نکال کر ہی دے دیا ہے””۔۔۔”زوجتي أنا أحبك حبا شديدا”حبيبتي” مشن سے واپسی پر اس کا مطلب بتاوں گا ان شاءاللہ ۔۔

زینہ کا دل شدت غم سے چھلنی ہو رہا تھا ، چند دن پہلے بچھڑنے والا زندہ دل مرد مجاہد آج اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا تھا۔۔ ثوبان مجھے “مطلب” جاننا ہے پلیز ٹھیک ہو جائیں، میں آپکے بغیر نہیں رہ پاوں گی ۔۔ میری زندگی آپ کے بغیر ادھوری ہے۔ میں نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا جب سے آپ کا میسج موصول ہوا تھا ۔ اس وقت سے اب تک میری زبان چند لمحوں کے لئے بھی نہیں رکی، میں مسلسل اپنے رب سے آپکی زندگی اور کامیابی کے لئے دعا گو تھی ۔۔ پلیز واپس آ جائیں ثوبان ۔۔۔آپکا وہ تحفہ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے، میں تو ہر روز اس میں آپکی محبت اور خلوص کی خوشبو محسوس کرتی ہوں۔۔ زینہ تو صرف ثوبان کی ہے ۔ زوجہ زینہ تو صرف ثوبان کی ہے ۔۔۔آپکی زندگی میں آنے والی پہلی اور آخری لڑکی”” ۔۔۔۔

رانی آپی سب خیریت ہے آج صبح صبح فون کیا ہے ؟ ہاں علینہ امی یا بابا سے بات کرواو پلیز ۔۔ آپی آپ کو شاید نہیں معلوم کہ کل رات ثوبان بھیا کسی بڑے خطرناک گینگ کو پکڑنے گئے تو وہاں پر انکو گولی یا گولیاں لگ گئیں ہیں اور انکا خون بہت زیادہ بہہ گیا ہے۔ انس بھیا نے سب کو اطلاع دی ہے اور سبھی اسی وقت السلام آباد کےلیئے روانہ ہوگئے تھے ۔۔ ابھی تو ان سب کو پہنچے ہوئے بھی تین گھنٹے گزر چکے ہیں ۔ آپ زینہ آپی کے فون پر کال کر لیں انکا بھی رو رو کر حال برا ہوا ہے ۔۔آپی ثوبان بھیا کی امی تو بار بار غشی میں جا رہیں تھیں ۔ انکو دیکھ کر زینہ آپی نے تھوڑی بہت ہمت پکڑی ہے اور پھر انکو بھی دلاسے دینے میں لگ گئیں ۔۔ اللہ سبحان و تعالی ثوبان بھیا کو صحت دے آمین یا رب العالمین ۔۔ رانی جو خود کل دن سے زیاد کی وجہ سے بےحد پریشان تھی آج ثوبان کے بارے میں اتنی افسردہ خبر سن کر اسکے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔ رانی نے اسی وقت زیاد کے بارے میں نہ بتانے کا فیصلہ کر لیا ، کہ ابھی زیاد کا بتا کر سب کو مذید اذیت میں مبتلا کرنے والی بات ہے اور بابا تو ویسے بھی دل کے مریض ہیں، کیسے دونوں بیٹیوں کا غم برداشت کر پائیں گے ۔۔۔

آپی آپ کوشش کر لیں شاید کوئی فون رسیو کر لے ، میں نے تو بارہا کوشش کی ہے لیکن سوائے زینہ کے ایک ٹیکسٹ کے کوئی بھی فون نہیں اٹھا رہا۔۔

کیا بولا ہے زینہ نے ؟ بس یہی کہ ثوبان بھیا کو ہماری سب کی دعاوں کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔ اچھا علینہ میں زینہ کو فون ملاتی ہوں شاید رسیو کر ہی لے ۔۔۔ جی آپی ۔ “السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکتہ” ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

تایا جان میں پاکستان ابھی زیاد کے بارے میں نہیں بتانا چاہتی کیوں کہ ثوبان کو گولی لگی ہے اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، گھر والے سارے اسلام آباد تھے تو میری بات صرف علینہ سے ہی ہو پائی ہے ۔۔اللہ رحم کرے بیٹی ! اللہ ثوبان کو صحت کاملہ عطا کرے آمین ۔ تایا جان میں نے علینہ کو بول دیا تھا کہ ہماری طرف سے صدقہ کریں ۔ مساکین، فقراء کے گھر کھانا پکا کر بجھوا دیں یا پھر سب میں صدقے کی رقم بانٹ دیں۔وہ جو پیسے آپ نے 2 ہفتے پہلے بھجوائے تھے وہ بابا کے اکاونٹ میں ہی پڑے ہیں ۔ اسلام آباد واپسی پہ بابا سب سنبھال لیں گے ان شاءاللہ ۔۔۔ بس بیٹی ثوبان بھی اپنا ہی بچا ہے اس کے لئے بھی دعا کرو ۔۔اللہ پتا نہیں ہماری کس نیکی کے بدلے میں ہمارے بیٹے پر اپنی رحمت کی بارش کر دے ۔۔

“”ایک مسلمان جب اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لئے دعا کرتا ہے تو وہ قبول ہوتی ہے ۔ اس آدمی کے پاس ایک نگران فرشتہ ہوتا ہے ۔ جب بھی آدمی اپنے بھائی کے حق میں دعا کرتا ہے تو نگران فرشتہ آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تجھے بھی ایسا ہی ملے””۔(صحیح مسلم : 2733)

تایا جان ہمیں اللہ سے پرامید رہنا چاہیئے۔۔۔ زیاد ٹھیک ہو جائیں گے ۔۔ ابھی انکے سی-ٹی سکین کی رپورٹ بھی نہیں آئی ہے اور ڈاکٹرز ایم-آر-آئی سکین بھی کرنا چاہتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے زیادہ نقصان نہ ہوا ہو ۔۔ بس دعا کرو بیٹی ایسا ہی ہو ۔۔ تایا کے آنسو تواتر سے جاری تھے ۔ چہرہ شدت غم سے زرد پڑ رہا تھا۔۔۔

رانی کو ایک ہی فکر کھائے جارہی تھی کہ اگر زیاد کا خاتمہ اس کبیرہ گناہ پر ہوگیا تو آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی میں سوائے عذاب کے کچھ بھی نہیں ملنے والا ، قبر کے عذاب کی شدت کا سوچ کر رانی کے آنسو زار و قطار نکل رہے تھے ۔۔

“”(لوگو)تمہارا رب کہتا ہے کہ تم سب مجھ سے دعا کرو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، جو لوگ میری عبادت(دعا) سے تکبر کرتے ہیں(یعنی نہیں مانگتے)وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہونگے۔”(سورہ مومن:60)۔۔۔

“اے لوگو، جو ایمان لائے ہو ! اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔”(سورہ احزاب:41)

“اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پاو۔”(سورہ جمعہ:10)

“”یاد رکھو ! سکون قلب تو اللہ کے ذکر سے ہی ملتا ہے۔””(سورہ رعد: 28)

“”اور جس نے میری یاد سے منہ موڑا اس کے لئے دنیا کی زندگی تنگ ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔””(سورہ طہ: 124)

رانی کے تیزی سے دعا مانگتے لب قریب آتے ڈاکٹر کو دیکھ کر کچھ دیر کے لئے تھم گئے ۔ بےچینی سے آگے بڑھ کر دریافت کرنا چاہا ۔۔ تایا تائی کی بیقراری بھی قابل رحم تھی ۔ ایک بیٹی کا گھر اجڑے 6 مہینے بھی نہ گزرے اور ابھی اکلوتا بیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا۔۔۔

ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ آپ کے بیٹے کو بچا سکیں، ہمارے پاس جتنیے بھی علاج معالجے کی سہولیات میسر ہیں، ہم انکو بروئے کار لائیں گے ۔ شدید چوٹیں چونکہ سر پہ آئیں ہیں جس کی وجہ سے دماغ میں خون کا بہاو بڑھ گیا ہے یا پھر خون کے لوتھڑے بننے کا بھی خطرہ ہے ۔۔ اور شاید پیلویک(کمر کے نیچے، پیڑو ) کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہیں ۔۔ قبل از وقت کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں ۔ فی الحال ہم نے مسٹر زیاد کو ہائی ڈوز(زیادہ مقدار) “مورفین” Morphine پہ رکھا ہوا ہے ۔((درد کش دوا جو سب سے زیادہ تکلیف میں مریضوں کو دی جاتی ہے)) ۔ مسٹر زیاد ابھی وینٹیلیٹر پر ہیں ۔۔ ((سانس لینے والی مشین))۔۔ جب تک تمام سکین کی رپورٹس نہیں آجاتی ہم کوئی رسک نہیں لینا چاہتے ۔۔

ڈاکٹر صاحب میرے بیٹے کو بچا لو ۔اگر دماغ کا آپریشن بہتر ہے تو وہ کر لیں ۔۔ مسٹر سلیم ہم آپکو کسی قسم کی جھوٹی تسلیاں نہیں دینا چاہتے ۔ابھی ایک دم سے آپریشن کرنا شاید زیادہ خطرناک ثابت ہو ، ہمیں جب تک دماغ کے سپیشل لسٹ سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ملتا ، ہم آپریشن نہیں کریں گے ۔۔ اگر آپکے بیٹے کے دماغ کو آکسیجن نہ ملی تو وہ کومہ میں بھی جاسکتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ انکے جسم کے باقی اعضاء کام کرنا چھوڑ دیں گے ۔۔۔

تایا تو بس ادھر ہی ڈھ گئے۔۔ تایا جان ہمت کریں اللہ غفور الرحیم ہے ۔ ہماری استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالے گا ۔ مصیبت کے وقت صبر کرنے پر ہی تو اجر عظیم ہے ۔۔۔ رانی مسلسل تسلیاں دے رہی تھی جب کہ اسکی اپنی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی ۔ یہ وہ رانی تھی جسکی ماں کمرے میں دس چکر لگا کر بھی اسکو نیند سے بیدار کرنے میں ناکام رہتی تھی۔۔ آج یہی رانی دوسروں کے زخموں پر پھاہے رکھنے کا کام سر انجام دے رہی تھی ۔ اب اس رانی کی آنکھ فجر کے لیئے بنا الارم سیٹ کیئے ہی کھل جاتی ہے ۔۔

آخر کار ڈاکٹرز نے قریبی رشتہ داروں کو زیاد کو دیکھنے کی اجازت دے دی ۔۔ رانی کا دھک دھک کرتا دل کچھ لمحوں کے لئے تھم گیا ، زیاد کے چہرے پر سوجن اور نیلاہٹ اس کے نقوش کو خوفناک بنا رہی تھی ۔ رانی چند لمحوں کے لئے خوفزدہ ہو گئی ۔۔ پھر ہمت کر کے آگے بڑھی ۔۔ مشینوں اور نالیوں میں جکڑے زیاد کو دیکھ کر نمکین پانی بے اختیار امڈنے لگا ۔۔۔

زیاد پتا نہیں مجھے رانی کو سن سکتے ہو یا نہیں۔ پلیز زیاد اپنے گناہوں سے توبہ کر لو۔۔۔ میں نہیں چاہتی زیاد کا خاتمہ شر والا ہو ۔۔ زیاد کلمہ توحید پڑھو ۔”لا الہ الا اللہ” ۔۔۔ ((قارئین کرام کی معلومات کے لئے یہ کلمہ ایسا ہے کہ آپ کو اپنے ہونٹوں کو جنبش دینے کی ضرورت نہیں پڑتی چونکہ قریب المرگ انسان اپنے ہونٹ ہلانے کی صلاحیت کھو دیتا ہے لیکن زبان ہلانے کی صلاحیت باقی رہتی ہے۔الحمداللہ))

“”تم میں سے جو مر رہا ہو اسے “لا الہ الا اللہ” کی تلقین کیا کرو ۔ جس نے مرتے وقت “لا الہ الا اللہ” کہا وہ بالاخر جنت میں چلا جائے گا، خواہ اس سے پہلے کتنی ہی سزا ملے۔””(صحیح ابن حبان:3004)

رانی زیاد کے دائیں کان کے قریب دھیمے لہجے میں اپنی اس آخری کاوش کو کامیاب بنانے میں کوشاں تھی ۔۔ رانی کی استغفار اور کلمے کی تکرار جاری تھی کہ ایک دم زیاد کی سانس اکھڑنا شروع ہو گئی ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *