Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sabeel (Episode 20)

Sabeel by Umme Umair

زیاد نے آگے بڑھ کر زور سے دیوار پر مکا دے مارا ، آنکھیں غصے سے لال ہو رہیں تھیں ۔۔ مسٹر زیاد دیوار کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے ، شور سن کر کسی نے اوپر بیڈ روم سے نیچے آجانا ہے اور تمھارے اس محبت والے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو جائے گا ۔۔ اگر میری زبان ابھی بند ہے تو اس کو بند رہنے دو، مجھے مجبور نہ کرو کہ میں اس کو کھولو ۔۔ ابھی یہاں سے دفعان ہو کر اپنے اپارٹمنٹ میں جا کر حرام کاری کرو اور اللہ کے عذاب کو دعوت دو ۔۔۔ رانی نے شدید غصے میں دانت پیسے اور بالائی منزل کی طرف جانے کے لئے زینے چڑھنے لگی ۔۔۔

رانی رکو میری بات تو سنو ۔۔ زیاد نے آواز کو مطلوبہ حد تک دھیما رکھنے کی کوشش کی ، لیکن اسکے باوجود تائی جی کمرے سے نکل آئیں ۔۔ رانی سب خیریت ہے میری گڑیا؟؟

جی بالکل سب خیریت ہے ۔ رانی نے اپنے آپ پر مکمل قابو پا لیا ۔۔ ارے زیاد تم ابھی ادھر ہی ہو بیٹا؟ صبح کام پہ بھی جانا ہے ریسٹ کرو میرے بچے ، تھکے ہارے کام سے آتے ہو ۔۔ مم وہ دراصل میں رانی کو کہہ رہا تھا میں بھی ادھر ہی رک جاتا ہوں ۔ زیاد نے فورا پینترہ بدلا ۔۔۔ ہاں ہاں کیوں نہیں بیٹا اس میں پوچھنے والی کونسی بات ہے ، تمھارا اپنا گھر ہے چاہے ادھر رکو یا اپنے اپارٹمنٹ میں بات تو ایک ہی ہے ۔۔ اور ہمیں ویسے بھی پتا ہے تم رانی کے بغیر سو نہیں پاتے ۔۔ بہت اچھی بات ہے بیٹا ایسے ہی پیار محبت سے زندگی گزارنی چاہیے، میاں بیوی کا رشتہ بہت اہم ہوتا ہے ۔۔ خوش رہو میرے لعل ۔۔ تمھارے پرانے کپڑے الماری میں پڑے ہیں رانی نکال دے گی ۔۔ میں تو بس عشاء پڑھ کر سونے لگی ہوں ۔۔

سنتے ساتھ ہی رانی نے شدید غصے سے اسکو گھورا ۔جی میں آیا کوریڈور میں پڑے گلدان سے اس کا سر پھاڑ دے۔۔ زیاد نے معنی خیز نظروں سے رانی کو دیکھا ، جیسے کوئی بہت بڑا قلعہ فتح کر لیا ہو ۔۔۔

رانی غصے سے پھنکارتی کمرے میں آگئی، جس میں صرف ایک ڈبل بیڈ بچھا تھا ۔۔ جس پر رانی مر کر بھی اس خبیث زیاد کے ساتھ شئیر کرنے کے لئے تیار نہ تھی ۔۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی رانی نے زیاد کے خوب لتے لئیے، تم کیا سمجھتے ہو تمہاری یہ ہیرا پھیریاں کتنا عرصہ چل سکتی ہیں ؟ تمہارے یہ کرتوت آج نہیں تو کل سب کے سامنے کھل کر آ جائیں گے ۔۔

یہاں پر ایک ہی بیڈ ہے ۔۔ تم نیچے سوو گے میں ادھر بستر پر، منظور ہے تو ٹھیک ورنہ اپارٹمنٹ میں چلتے بنو ۔۔ رانی نے نہایت دھیمے لہجے میں اسکو لتاڑا۔ (( قارئین کرام کی معلومات کے لئے یہاں پر اگر ذرا سی بھی اونچی آواز میں بات کریں تو ساتھ والے کمرے میں موجود لوگ آسانی سے سن سکتے ہیں، کیونکہ کمروں کو علیحدہ کرنے والی دیوایں لکڑی سے بنی ہوتی ہیں۔۔ پاکستان میں ہر کمرے کی دیوار کو اینٹوں سے بنایا جاتا ہے لیکن یہاں پر مکان کی بنیادیں اور بیرونی دیواروں کو مضبوط اینٹوں سے تعمیر جاتا ہے جبکہ باقی اندرونی دیواروں میں لکڑی کی بنی شیٹیں لگائی جاتی ہیں ۔))

اگر مجھے تایا کی صحت کی فکر نہ ہوتی تو تم کب کے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے ۔۔ میں نہ تم سے ڈرتی ہوں اور نہ ہی میری نظروں میں تمہاری کوئی عزت ہے۔۔۔ زیاد نے کھا جانے والی نظروں سے رانی کو گھورا، میں ابھی تمھارا لحاظ صرف اور صرف ڈیڈ کی وجہ سے کر رہا ہوں ۔۔ ورنہ تم ایک ہاتھ کی مار ہو ۔ تم گھٹیا انسان اس سے آگے سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔

جو کرنا ہے فورا کرو مجھے ابھی عشاء پڑھ کر سونا ہے ۔۔ میں بستر پر سووءوں گا اور تم نیچے فرش پر ۔۔

یہ کمرہ میرا تھا اور میرا اس پر زیادہ حق ہے بنسبت تمہارے ۔۔

ٹھیک ہے تم بیڈ پر سو جاوء لیکن لحاف میں لوں گی اور تم وہ چھوٹا کمبل اوڑھ لو ۔۔ اگر نہیں تو جا کر اپنی مم سے مانگ کر لے آو اور انکو یہ بھی بتا آنا کہ 2 لحافوں کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ہے ۔۔۔ تم بہت بدتمیز ہوتی جا رہی ہو۔۔ زیاد نے دانت پیسے ۔۔ مسٹر زیاد میں نے تمھیں وقت اور مہلت دے کر اپنا قیمتی وقت ضائع کیا ہے ۔ لیکن ابھی مزید نہیں کروں گی کیونکہ شریعت اسلامی مجھے خلع کا پورا حق دیتی ہے ۔۔ میں صرف تایا جانی کی شفا یابی کی منتظر ہوں ۔ اور ہاں میں رات کو لیمپ جلا کر سونے کی عادی ہوں ۔۔۔ تم جیسے درندے کا پتا نہیں ہے کیسے سوتا ہے ، ہاں حرام کاری تو سو والٹ بلب کی روشنی میں ہی پسند کرتے ہو ۔۔۔

زیاد بنا کوئی جواب دیئے غصے میں رات والا پاجامہ لے کر باتھ روم میں گھس گیا ۔۔

رانی نے کمرے کے ایک کونے میں جائے نماز بچھا کر عشاء کی نماز شروع کر دی ۔۔۔

زیاد بیڈ سائیڈ لیمپ جلا کر بستر پر لیٹ گیا ۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد اسکی بھاری سانسیں کمرے میں گونجنے لگیں ۔ رانی نے لحاف اور تکیہ اٹھا کر کمرے کے ایک کونے میں بچھا لیا اور سونے کے لئے لیٹ گئی ۔۔

یااللہ میری اس شخص سے جان چھڑا، میرے اللہ کوئی ایسی سبیل پیدا فرما جس سے میں اس اذیت بھری زندگی سے نکل سکوں ۔۔

آنسوؤں کی جھڑی دوبارہ سے لگ گئی، اپنے گھر والے شدت سے یاد آرہے تھے ۔۔ زیاد کینسر کی طرح رانی کی زندگی میں شامل ہو چکا تھا جس پر رانی نے ہر حربہ آزما لیا لیکن ناکام ہوئی ۔۔یہ شخص ذرہ برابر بھی اپنے کرتوتوں سے باز نہیں آیا، میں نے تو پوری کوشش کر لی ۔۔ تانے بانے بنتی رانی نیند کی آغوش میں چلی گئی ۔۔

روز تھکتا ہوں کر کر کے مرمت اپنی

روز اک نقص نیا مجھ میں نکل آتا ہے

رات عجیب سی آوازوں پر رانی کی آنکھ کھل گئی ۔۔ ایک سال سے اوپر کے عرصے میں کبھی زیاد کے ساتھ ایک کمرے میں سونے کا اتفاق نہ ہوا لہذا اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ رات کو عجیب سی آوازیں بھی نکالتا ہے ، جن کو ڈراؤنی بولا جائے تو زیادہ بہتر لگے گا ۔۔

رانی نے لیٹے لیٹے سوچا شاید کوئی برا خواب دیکھ رہا ہے یا پھر یہ بھی اللہ کے عذاب کی ایک صورت ہے ۔۔۔

پس یہ بات یقینی ہے کہ ہم جنسی بھی ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا اللہ سبحان و تعالی دنیا میں بھی دیتا ہے، خواہ وہ کسی بھی صورت میں ہو ، لیکن بہرحال وہ انتہائی دردناک ہوتی ہے اور ناقابل واپسی بھی ۔۔ آج کے دور میں ہم جنس پرستوں میں پائی جانے والی طرح طرح کی خوفناک اور ناقابل علاج جنسی ، نفسیاتی اور دیگر جسمانی بیماریاں ہیں ۔ ان بیماریوں کی خوفناک شیخیں اور دھاڑیں ان میں مبتلا مریضوں کے اندر گونجتی ہی رہتی ہیں، یہ سب در حقیقت اللہ سبحان و تعالی کی طرف سے عذاب ہی ہیں جنہیں ابلیس کی وحی پر عمل کرنے والے سمجھ نہیں پاتے ۔۔ابلیسی چیلے اپنی دنیا و آخرت داو پر لگا دیتے ہیں ۔۔۔

اللہ سبحان و تعالی کے کسی بھی حکم کی نافرمانی کرنے کو انسانی حقوق کی آزادی کا نام دینا اور یہ سمجھنا کہ اللہ سبحان و تعالی نے اپنی مخلوق پر ظلم کیا ہے اور اسے اسکے حقوق نہیں دیئے، ایسا کہنا بلا شک و شبہ کفر ہے ۔

إن الله لا يظلم الناس شيئا ولكن الناس أنفسهم يظلمون(سورة يونس:44)

“”بےشک اللہ لوگوں پر بالکل بھی ظلم نہیں کرتا، بلکہ لوگ (ہماری نافرمانی کر کے) خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں””۔۔

اور نہ ہی اللہ سبحان و تعالی نے کسی گناہ گار پر بھی کوئی ظلم کیا ہے ۔۔

وما ظلمنا هم ولكن كانو هم الظالمين(سورة الزخرف:76)

“”اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی (اپنے آپ پر)ظلم کرنے والے تھے۔۔””

اللہ سبحان و تعالی اپنے بندوں پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے ، اسی لیے تو انکے ہر کام کا انجام بتا کر انہیں خبردار کیا ہے ۔۔۔

يوم تجد كل نفس ما عملت من خير محضرا وما عملت من سوء تود لو أن بينها و بينه امدا بعيدا ويحذركم الله نفسه والله رؤوف بالعباد(سورة آل عمران:30)

“”اس (قیامت والے)دن ہر جان اپنی کی ہوئی ہر ایک نیکی کو اپنے سامنے پائے گی، اور ہر ایک بدی کو بھی ، اور چاہے گی کہ کاش اس کے اور اسکی بدی کے درمیان بہت دوری ہو جاتی ، اور اللہ تم لوگوں کو اس کی ذات(اور گرفت اور عذاب) سے ڈراتا ہے، اور اللہ تو بندوں پر نہایت شفقت(اور نرمی) کرنے والا ہے۔””

إن الله بالناس لرؤوف رحيم(سورة بقرة:143)

“”بےشک اللہ تو لوگوں کے لئے بہت شفقت اور رحم کرنے والا ہے “”۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

انس میری جان مجھے ساری بات سمجھ آرہی ہے لیکن ہم ایسے کیسے اتنی جلدی اتنا بڑا فیصلہ کر سکتے ہیں؟ اب تمھیں بھی پتا ہے کہ نکاح میں رانی کی شرکت بھی ناممکن ہو گی، اسکے بابا بڑے بھیا کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کبھی بھی اسکو پاکستان نہیں آنے دیں گے ۔۔

چچی وہ شادی میں شرکت کر لے گی ، ابھی بس سادگی سے نکاح کی رسم ادا کر لیتے ہیں ۔۔ میں تو خالی ہاتھ نیچے نہیں اترنے والا ۔۔۔

رضیہ بیگم نے مسکرا کر جان چھڑانا چاہی ۔۔ چچی آئیں بائیں شائیں تو ادھر چلنے والا نہیں ہے ۔

میرا نام بھی انس ہے اور میرے دوست کا نام ثوبان ہے۔ اس نے تو گھر کے پچھواڑے میں دھرنا دے دینا ہے جب تک اسکی چھٹی ختم نہیں ہوتی ۔۔ چچی میں ثوبان کے صبح شام سے واقف ہوں، بہت شریف انسان ہے، پھر دیر کاہے کی ۔ بس کل ہی اسکے والدین آرہے ہیں اور آپ نے انکو نکاح کی تاریخ دینی ہے ورنہ میں خود ہی چچا اور بابا کو قائل کر لوں گا ۔۔چچی جان میں تو چلا اب آپ نکاح کی تیاری پکڑیں ۔۔ انس میری بات تو سنو ۔ نہیں چچی جان اب صرف ہاں سننی ہے ، باتیں سننے کا وقت گیا۔۔ رضیہ بیگم انس کے پیچھے ہی زینے اترتی نیچے آگئیں ۔

ثوبان کے تو ہاتھ پاوءں ہی پھول گئے ۔۔ السلام علیکم خالہ جان ۔ کیسی ہیں آپ ؟ میں ٹھیک ہوں ۔آپ سناو بیٹا ۔۔ جی بس جی میرا حال تو آپ کے سامنے ہے ، 6 مہینے کی ایلیٹ کی ٹریننگ اور پھر 6 مہینے دہشت گردوں کے ساتھ ہاتھاپائی میں ہی گزرے ۔ ثوبان نے ایک ہی سانس میں پوری داستان سنا ڈالی ۔ رضیہ بیگم نے مسکرا کر دیکھا اور ماشااللہ بولا ۔ جیتے رہو ،اللہ لمبی صحت والی زندگی دے آمین ۔۔ ابھی آگے کا کیا ارادہ ہے ؟ بس جی ابھی سب سے مضبوط ارادہ تو یہی ہے کہ میں آپکی فرزندی میں آ جاوءں ۔۔ ناچیز بلا کا فرمانبدار ہے ۔۔ سب کی ہنسی چھوٹ گئی ۔۔ خالہ یہ بات تو واقعی درست ہے ۔ اس فرمانبدار نے ایلیٹ فورس بھی میری وجہ سے شروع کی تھی اور پھر کورس کے اختتام پر تمغہ حسن کارکردگی بھی ملا ہے ۔ ثوبان نے شرمانے کی بھرپور کوشش کی۔۔

انس بس کر دو اب باقی تفصیلات والدہ ماجدہ کل آ کر بتا دیں گی ان شاءاللہ ۔۔۔ سب کی مسکراہٹیں مذید گہری ہو گئیں ۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

بابا میں ادھر اتنے خاص موقع پر موجود نہیں ہونگی ۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے ؟ زینہ ابھی پڑھ رہی ہے ۔ وہ تو بات درست ہے پر اب انس ہار نہیں مان رہا ہے ۔ کہتا ہے بس سادگی سے دو بول پڑھوا لو ۔ بابا یہ نکاح انس کا تو نہیں ہو رہا تو پھر وہ کس لیئے اتنا زور لگا رہا ہے ۔۔ بس گڑیا تمھیں پتا تو ہے دونوں دوستوں کا ، ایک دوسرے کی بات نہیں ٹالتے ۔ ثوبان نے پولیس فورس جوائن کی انس کے کہنے پر اور اب اسکے نکاح کا وعدہ انس نبھاہ رہا ہے۔۔

اب میں تمھیں ضرور بلواتا بہن کے نکاح پر ، لیکن اب بڑے بھیا تمھارے سامنے ہی ہیں ۔۔ اچھا نہیں لگے گا تم اور زیاد بیماری میں چھوڑ کر ادھر آ جاو ۔۔ میں تو اس کمینے کو کبھی بھی ساتھ لے کر نہ آوں بابا جانی ۔۔ رانی صرف سوچ کر ہی رہ گئی ۔۔

بابا تایا جان سے بات کریں ۔۔ ہاں ہاں کرواو ۔سلام دعا کے تبادلے کے بعد تایا نے بڑی رقم بھیجنے کا عندیہ سنایا کہ بچی کے نکاح میں کپڑوں جوتوں سمیت کسی بھی چیز کی کمی نہ رہے ۔ ارے نہیں بھیا ہم نے کونسا دھوم دھام سے کچھ کرنا ہے ، بس چند لوگ انکی طرف سے، اور چند ہمارے قریبی ہونگے ۔ لیکن آپ سب کی کمی تو شدت سے محسوس ہو گی ۔ مشتاق جیسے ہی میری صحت کچھ بحال ہوئی، ہم سب پاکستان بہت جلد آئیں گے ان شاءاللہ ۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

انس یار مولوی صاحب کچھ زیادہ دیر نہیں لگا رہے ہیں ۔ پہلے ہی یار میرا نکاح بڑی مشکلوں سے ہو رہا ہے ،کتنے پاپڑ بیلنے پڑے ہیں ۔۔مولوی صاحب کچھ تو خیال کریں ۔۔ ثوبان منہ بند کر کے بیٹھ ۔۔۔یار انس میں کونسا دشمن کے نرغے میں بیٹھا ہوں ۔ آخر کار دلہا ہوں ۔۔ ثوبی بیٹا ۔ جی ابو جی ۔ بیٹا آواز کو ذرا نیچے رکھیں ۔ “ہنڑ آرام ای ” انس نے تپ کر بولا ۔

زینہ سلور شرارہ پہنے ہوئے تھی، جس کے اوپر خوبصورت سلور اور گرے ہلکا پھلکا کام ہوا تھا ۔ ساتھ میں میچنگ سلور جیولری ، ہلکے پھلکے میک اپ میں قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔ شاید سادگی میں رہنے والی لڑکیوں پر ٹوٹ کر روپ آتا ہے ۔۔ جو لڑکیاں شادی سے پہلے ہی ہر وقت میک اپ تھوپے رکھتی ہیں وہ اپنے قدرتی حسن کو تہہ وبالا کر دیتی ہیں ۔ انکے لیئے پھر شادی کا میک اپ کچھ خاص نکھار نہیں لے کر آتا ۔۔

رانی کی کمی کو سبھی بہت محسوس کر رہے تھے۔۔ شاید اسی کو پردیس بولتے ہیں ،بہت ساری مجبوریاں آڑے آ جاتی ہیں، بہت دفعہ انسان اپنے قریبی رشتہ داروں کے غم و خوشی میں شرکت سے بھی محروم ہو جاتا ہے ۔۔

سب کو بہت بہت مبارک ہو ۔۔ نکاح کے فورا بعد انس نے ثوبان کو گلے لگا کر گرم جوشی سے مبارک باد دی ۔سبھی ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے تھے ۔۔ ثوبان کی زبان میں کھجلی ہوئی ۔ کان کے قریب جا کر ، یار انس کیا میں زوجہ محترمہ کو سموسہ چاٹ کھلانے کےلئے باہر لے جا سکتا ہوں ۔۔

نہیں بالکل بھی نہیں ۔۔ اوہ کیوں کمینے؟ ثوبان کو ہارٹ اٹیک ہوتے ہوتے بچا ۔ شرط صرف نکاح کی تھی ، بعد کی سروسز کی نہیں تھی ۔ انس یار اب میں یہ سب بولتا ہوا اچھا تو نہیں لگوں گا ۔ خود ہی سوچو ساس سسر جی کیا سوچیں گے ۔ انس کی ہنسی چھوٹ گئی ۔ تو ثوبان سموسہ چاٹ رہنے دے بلکہ ایسے کر پائے نان کھانے چلا جا وہ بھی اپنی نئی نویلی منکوحہ کے ساتھ ۔۔

بھلا نکاح کے بعد کون جاتا ہے سموسہ چاٹ کھانے گامڑ ۔۔ انس تجھے پتا ہے میں ان کاموں میں اناڑی ہوں اب میری رونمائی کرنا تیری ہی ذمہ داری ٹہری ۔ میرے ہاتھوں کی طرف دیکھ شکر کیا ہے نکاح کا بوجھ اترا ہے میرے سر سے ۔۔

آئس کریم یا پھر کوئی کوفی وغیرہ پھر بھی بہتر آپشن ہے ۔۔

ایک منٹ تو ذرا ادھر بیٹھ میں آیا ۔۔انس کدھر جا رہا ہے مجھے اتنے سارے بزرگوں میں اکیلا چھوڑ کر ۔ انہوں نے سوال پوچھ پوچھ کر میرا حشر نشر کر دینا ہے ۔فکر نہ کر میں بس ابھی آیا ۔۔ ثوبان نے مشکل سے اپنے اوپر قابو کیا اور فون نکال لیا ۔ ہائے کاش یہ گامڑ زوجہ کا فون نمبر ہی دلا دیتا ، ابھی مبارکباد کا میسج ہی سینڈ کر دیتا۔۔۔ اتنی دیر میں باہر ہلکے پھلکے شور کے ساتھ ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *