Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 03)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 03)
Sabeel by Umme Umair
میری ٹٹی جتی نوں وی پرواہ نی !!! بولتے ساتھ ہی رانی نے ہاتھ میں پکڑے مانجے(سخت تنکوں والا جھاڑو ) سے انس پر حملہ کیا اور پوری قوت لگا کر اسکے چہرے کو نشانہ بنایا جسکو انس نے بڑی مہارت سے ایک ہاتھ سے کیچ کر لیا ۔۔۔
چچچچچچہ اتنا غصہ کیوں کرتی ہو رانی ؟! اپنا غصہ اس بےجان پہ اتار کر بھی تمھیں کچھ بھی نہیں ملنے والا !! یہ تو کھرا سچ ہے جسکو تم ناچاہتے ہوئے بھی دھتکار نہیں سکتی ۔۔۔۔۔
تمھارا یہ کھرا سچ میرے جوتے کی نوک پر ۔ رانی نے نخوت سے پاوں میں پہنی باٹا کی چپل کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔ تمھارے اس ٹھیکرے کی نہ تو کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ کوئی شرعی حیثیت ہے ۔ لہذا ذرا سنبھل کر ہی رہو ۔۔ بلیوں کا کام صرف اور صرف خواب میں چھیچھڑے دیکھنا ہی ہوتا ہے ۔۔
رانی نے شدید غضب میں ہنکارا بھرا اور اندر خالہ جوکہ تائی کے درجے پر بھی فائز ہیں ، اپنا شکایتی دفتر لئے غصے سے پھنکارتی یہ جا اور وہ جا ۔۔
انس نے ہاتھ میں پکڑا مانجا پھینکا اور رانی کے پیچھے بھاگا ۔۔۔
خالہ جان اپنے اس گیدڑ بیٹے کو سمجھا لیں ورنہ انجام بہت بھیانک ہو گا ۔۔۔
ارے کیا کر دیا ہے میرے اس لعل نے ؟!
خالہ نے انس کی بلائیں لیں ۔
انس نے رانی کے سامنے آکر اپنے گیلے کالروں کو جھاڑا اور اپنی بھوری آنکھوں کو پھیلا کر باور کروایا کہ یہاں پر تمھاری دال نہیں گلے گی ۔۔
انس یہ کیا ہو رہا ہے؟؟؟
کچھ خاص نہیں امی جان میں تو صرف آپکی اس بھانجی اور بھتیجی عرف لومڑی کی آنکھوں کا جائزہ لے رہا تھا کہ اس کو صحیح طرح سے دکھائی بھی دیتا ہے یا نہیں ۔۔ انس نے پر سوچ لہجے میں جواب دیا جبکہ سامنے کھڑی حریف اس کی چالوں سے بخوبی واقف تھی ۔۔۔
دیکھا ہے خالہ یہ کیسے ہر وقت میری جگ ہنسائی کرواتا ہے ۔رانی نے آنکھوں میں آنسو سموتے ہوئے لاچارگی کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ۔۔۔۔
امی جان آپ خود انصاف کریں پلیز ۔۔ کیا میں نے اسے دعوت دی تھی کہ میرے اوپر برف والا یخ پانی گرائے؟! یا پھر کیلوں کا ضیاع کر کے سیڑھیوں پر پھیلائے؟!
امی جان یہ لڑکی تو رزق کا ضیاع کرتی ہے ۔۔ استغفراللہ ، اللہ کی پناہ! انس نے عاجزی اختیار کرتے ہوئے مصنوعی جھرجھری لی ۔۔۔ اللہ جانے اگلوں کے گھر جا کر انکو کتنا کنگال کرے گی ۔۔۔ انس نے اگلوں پر زور دیا اور معنی خیز نظروں سے رانی کو دیکھا جو کہ بےبسی سے صرف پیچ و تاب ہی کھا رہی تھی ۔۔
انس تمھیں میرے اگلوں کی فکر میں اپنی جان جلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔ میں جانو اور میرے اگلے جانیں ۔۔۔۔ رانی نے مودب لیکن چڑانے والا انداز اپنایا ۔۔۔۔
سلطانہ بیگم نے نہ ختم ہونے والی تکرار کا رخ دوسری طرف موڑا اور گویا ہوئیں ۔۔
رانی تم کچن میں جاو اور فریج میں پڑا کھیر کا ڈونگا اوپر لے جاو!! خود بھی کھاو اور بہنوں کو بھی دو جاکر ۔۔۔
انس تمھاری چھٹی ختم ہونے کو ہے واپسی کی تیاری مکمل کرو ۔۔۔
امی جان میں تو واپسی کی تیاری میں ہی بازار کے لئے نکلا تھا لیکن آپکی فرمانبدار بھانجی نیک پروین نے حملہ کر دیا تو مجھے مجبورا اعلی حکام کی طرف رجوع کرنا پڑ گیا ۔۔۔
نہیں !! اب دوبارہ سے تم دونوں نہ شروع ہو جانا !!
انس جاو جاکر کپڑے بدلو میں نے نکال کر رکھے ہیں، ایسے ہی گیلے کپڑوں سے نزلہ نہ ہو جائے، ویسے بھی ہوا میں خنکی بڑھ رہی ہے ۔۔۔۔ جی ٹھیک ہے امی جان ۔ انس نے اپنے کمرے کی راہ لی ۔۔
رانی نے کچن سے واپسی پر دہائی دی کے کھیر کا ڈونگا تو فریج سے غائب ہے ۔ ابھی جملہ مکمل ہی ہوا تو دونوں حریف دوبارہ سے کوریڈور میں آمنے سامنے ہو گئے ۔۔۔۔۔
راستہ دو مجھے !!! ہاتھی کی طرح پھیلے ہوئے ہو ، بلکہ میرے خیال میں یہ تو اتنے پیارے ہاتھی کی توہین ہے ۔گینڈا ہی ٹھیک رہے گا تمھارے لیئے ۔۔۔
خود کو دیکھا ہے کبھی ککڑی !!! چوہییا نہ ہو تو بلکہ میرے خیال میں تو یہ ان دونوں کی توہین ہے ۔۔ چالاک لومڑی ہی سجتا ہے تم پر ۔۔۔۔
رانی اور انس مجھے تم دونوں کی ٹک ٹک پھر سے سنائی دے رہی ہے ۔۔۔
خالہ جان میں تو آپکو صرف کھیر کے بارے میں مطلع کرنے آئی تھی یہ تو آپکا گینڈا بیٹا میرے رستے میں آگیا ہے ۔۔۔
امی جان اس ٹیڑھی کھیر کو خالص کھیر کہاں ہضم ہو گی؟! وہ تو رات کو ثوبان آیا تھا باتوں باتوں میں ہم دونوں نے سارا ڈونگا ختم کر دیا اور پھر دھو بھی دیا تھا ۔۔۔ آپ سو رہی تھیں آپکو نیند سے اٹھانا مناسب نہیں لگا مجھے ۔۔۔
پوری عمر ندیدے ہی رہنا ، چول نمبر ون گینڈا ۔۔۔
رانی نے منہ بنایا اور جھٹ سے بیرونی دروازے کی طرف لپکی ۔۔۔
بقول شاعر عرض کیا ہے !!
“”حق تنقید تمھیں ہے مگر اس شرط کے ساتھ
جائزہ لیتے رہو اپنے بھی گریبانوں کا بھی “””
انس نے لہک لہک کر اونچی آواز میں شعر پڑھا ۔۔۔
انس بھاگو یہاں سے !! ۔۔ رانی دھیان سے جاوء گر نہ جانا کہیں !!
کچھ سوچ کر رانی دوبارہ واپس پلٹی خالہ جان اگر کوئی کام کرنے کے لئے ہے تو بتا دیں میں ابھی کئے دیتی ہوں ۔۔۔۔
ارے نہیں میری گڑیا سب کام مکمل ہیں ۔۔ بس اب صرف تمھارے تایا کےلئے کچھ یخنی تیار کروں گی موسمی تبدیلی کے باعث گلے میں خراش سی ہو رہی ہے اور ویسے بھی وہ بہت پسند کرتے ہیں یخنی ۔۔
خالہ جان میں بنا دیتی ہوں ۔۔
ارے نہیں تم اوپر جاکر ماں کو کچھ کرواو ۔۔ ہمارا کیا ہے ؟! گنتی کے 3 لوگ ہیں ، تیسرا بھی واپسی کے لئے پر تول رہا ہے ۔۔۔ آتا ہے تو گھر میں رونق لگی رہتی ہے ۔۔
خالہ جانی !! رانی نے لاڈ سے سلطانہ بیگم کے گلے میں باہوں کا ہار بنایا اور بولی ۔ خالہ آپ فارس بھیا کو واپس کیوں نہیں بلا لیتیں؟!
تمھاری سوئی پھر فارس پہ جا کر ہی کیوں اٹکتی ہے ؟! خالہ جان وہ ہم سب سے بہت زیادہ پیار جو کرتے ہیں ، میرے نخرے اٹھاتے ہیں ۔ اور ایک یہ ہے گیدڑ ۔ رانی نے فورا زبان دانتوں تلے دبائی ۔۔
میرا مطلب ہے کہ انس کو تو مقابلے بازی سے ہی فرصت نہیں ملتی ۔۔۔
اور تم جو ہر وقت اسکی ناک میں دم کئیے رکھتی ہو، وہ کس کھاتے میں جاتا ہے؟! سلطانہ بیگم نے لاڈ سے ایک چت لگائی ۔۔
خالہ جان ذرا کان قریب لائیں ۔ اور قریب لائیں پلیز ۔۔
اب بول بھی دو پگلی کونسے سرکاری عہد وپیما کرنے جا رہی ہو ۔۔۔
خالہ جان میں نے آپکو بتانا تھا کہ آپ کا انس ہے ہی اس قابل کے اسکو ستایا جائے۔۔۔ یاد ہے نا جب پچھلی دفعہ یہ آیا تھا اس نے میرے فون سے آواز بدل کر میری سہیلیوں کو بیوقوف بنایا تھا ، اس نے ہمارا بنا بنایا پروگرام خراب کر دیا تھا ۔ رانی روہانسی ہو کر ماضی کے زخموں کو کرید رہی تھی ۔۔۔
اچھا چلو جانے دو وہ بات تو اب پرانی ہو چکی ہے ۔ چلیں آپ کہتی ہیں تو چھوڑ دیتی ہوں، رانی نے منہ بسورتے ہوئے بولا اور پھر سست روی سے زینے پھلانگتی اوپر آگئی ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
انس دیکھو باہر کون ہے میں ذرا چولہے پہ یخنی چڑھا دوں ۔۔۔
جی امی جان بس ابھی آیا ۔۔۔
انس ہلکے نیلے آسمانی رنگ کا کرتا اور سفید شلوار زیب تن کئے ہوئے جلدی سے پرفیوم کا چھڑکاؤ کرتا خارجی دروازے کی طرف لمبے لمبے ڈگ بھرتا پہنچا ۔۔۔
السلام علیکم پھپھو جان ۔ کیسی ہیں آپ؟
وعلیکم السلام جیتے رہو میرے بھتیجے، اللہ خوشیوں سے دامن بھر دے آمین ۔۔دعاوں کے ساتھ ساتھ پھپھو نے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھے مشکل سے گھر کی دہلیز پار کی ۔۔
پھپھو آپ نے اگر آنا تھا تو مجھے فون کر دیتی میں خود لے آتا آپکو، آپ نے خوامخواہ رکشے میں تکلیف اٹھائی ہے ۔
انس بیٹا موٹر سائیکل کے پہییے میں ایک ہی دفعہ دوپٹا پھنسا تھا اسکے بعد سے تو میری توبہ ۔۔۔ سات پشتوں کو نصیحت کر جاوءں گی اس موئے موٹر سائیکل پر نہ بیٹھنا ۔۔۔۔
انس کی بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی ۔۔ پھپھو آپ بھی کمال کرتی ہیں وہ تو بس ایک حادثہ تھا آپ کا دوپٹا غلطی سے لٹک گیا اور جا پھنسا ٹائر میں ۔۔۔پھپھو نے پھولی سانسوں کو ہموار کرتے ہوئے ماتھے پہ آئے پسینے کو ہاتھ میں پکڑے رومال سے رگڑ کر صاف کیا ۔۔۔
. پھپھو آپ بیٹھیں ادھر ۔۔ امی غالبا کچن میں ہیں میں انکو ابھی بلا کر لایا ۔۔۔ ہاں ہاں بلا لاو آج تو شام تک میں ادھر ہی ہوں تمھارے والدین سے کچھ ضروری بات چیت کرنی ہے ۔۔ جی جی ضرور پھپھو ۔۔۔ بلکہ آپ رات کو بھی ادھر ہی رک جائیں ۔ نہ بیٹا نہ بیٹا تیرے پھپھا شہر سے باہر دکان کے لئے کچھ سامان لینے گئے ہیں اور گھر میں بچیاں اکیلی تو نہیں چھوڑ سکتی ۔۔
جی پھپھو صحیح کہہ رہی ہیں آپ ۔۔۔۔
میں تو بس مجبور ہو کر ہی گھر سے نکلی ہوں اپنے بڑے بھیا کی خواہش کو چھوٹے دونوں تک پہنچانے آئی ہوں ۔۔۔ بڑے بھیا نے بڑے مان سے میرے سامنے جھولی پھیلائی ہے ۔۔ جاو جا کر ماں کو بلاو پھر ساری تفصیل بتاتی ہوں ۔۔۔انس کے دل و دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں ۔۔۔
انس نے کچن میں جھانک کر ماں کو مطلع کیا ۔۔۔
سلطانہ بیگم سنتے ہی فورا بھاگی آئیں ۔۔۔
سلام دعا کے بعد سلطانہ بیگم صوفے کے ایک طرف ہو کر بیٹھ گئیں اور انس کو جوس لانے کا بولا ۔۔۔ارے نہیں سلطانہ بیگم ابھی تو میں شام تک ادھر ہی ہوں جب ضرورت محسوس ہوئی تو لے لوں گی ۔۔ اچھا چلیں میں اچھی سی چائے بنا کر لاتی ہوں ۔۔۔
نہیں بس ضروری بات کرنی ہے ادھر بیٹھ کر غور سے میری بات سنو ۔۔
ماں کو بیٹھے دیکھ کر انس بھی ایک کونے میں اٹک گیا ۔۔
پھپھو نے بغیر تمہید باندھے ساری حقیقت گوش گزار کر دی ۔۔ سلطانہ بیگم کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا ۔ ہمت کرکے صرف اتنا ہی بول پائیں کے رانی تو انس کی بچپن کی مانگ ہے ۔۔ آپا یہ سب کیسے ممکن ہے بھلا ؟!
دیکھو سلطانہ بچپن کی مانگ کو آجکل کے جدید دور میں کون مانتا ہے؟ اور ویسے بھی ان دونوں کی تو آپس میں بنتی بھی نہیں ہے ۔۔
اینٹ پتھر کا بیر ہے دونوں کا !!
ایک سیر تو دوسرا سوا سیر ہے ۔۔۔
آپا یہ تو بس ان کا بچپنا نہیں گیا ، بےجا لاڈ پیار کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کو چڑاتے رہتے ہیں ۔۔۔
جب شادی ہو گی تو سر پر ذمہ داریاں ہوں گی ، دونوں ٹھیک ہو جائیں گے ان شاءاللہ ۔۔۔
سلطانہ کیوں بھول رہی ہو بڑے بھیا کے کتنے احسانات ہیں ہم۔تینوں بہن بھائیوں پر ۔۔۔
جب سے پردیس گئے ہیں ہمارے ہر بڑے خرچے اور بڑی ضرورت کو پورا کیا ہے ۔۔۔
وراثت میں بھی انہوں نے اپنا حصہ چھوٹے دونوں بھائیوں کو لکھ کر دے دیا ہے اور پھر نئے سرے سے سارے گھر کی تعمیر سے لے کر مشتاق کے بائی پاس کا سارا خرچہ انہوں نے ہی اٹھایا تھا ، اور جو ہم تینوں کو گاہے بگاہے رقم ارسال کرتے رہتے ہیں ۔۔
خود سوچو مشتاق کی 4 بیٹیاں ہیں کیسے کرے گا سب کچھ؟؟ ۔۔ ایک کپڑے کی دکان 4 جہیزوں کا بوجھ نہیں اٹھا پائے گی ۔۔ ۔۔
کون کرتا ہے آج کل کے مادیت پرست زمانے میں ؟! کون اپنا مال ایسے لوٹاتا ہے اپنے بہن بھائیوں پر ؟ اور اسکی بیوی کا جگرا دیکھو مجال ہے جو ایک مرتبہ بھی حرف شکایت زبان پر لائی ہو یا کسی کو کوئی طعنہ تشنیع کیا ہو ۔ آفرین ہے اس عورت پر بھئی ۔۔۔
رانی راج کرے گی ۔۔۔
پیسے کی ریل پیل ہے اکلوتا بیٹا ہے دونوں بیٹیاں اپنے اپنے گھروں والی ہیں ۔۔
نہ نندوں کی مداخلت ہو گی اور نہ ساس کی چخ چخ۔۔
انس ماشااللہ قد کاٹھ والا خوبرو جوان ہے اس کے لئے بھلا لڑکیوں کی کمی ہے ۔اگر رانی نہ سہی تو پھر زینہ بھی تو ہے نا ۔۔۔۔۔
سلطانہ بیگم نے لمبی سانس کھینچی اور بولیں ۔۔
آپا آپ اپنے دونوں بھائیوں سے بات کر لیں جو انکا فیصلہ ہو گا وہی ہمارا دونوں بہنوں کا بھی ہو گا ۔۔۔
انس کی تو زبان تالو کے ساتھ ہی چپک گئی ۔۔۔
حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟؟
میں ایسا ہر گز بھی نہیں ہونے دوں گا ۔۔
رانی صرف انس کی ہے ۔۔۔
دل ودماغ میں جکڑ چل رہے تھے لیکن زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔۔
بہت دقت کے ساتھ امی اور پھپھو سے اجازت طلب کی اور اپنی بائیک لے کر باہر نکل گیا ۔۔۔
سڑکوں پر آوارہ پھرنے کے بجائے ترجیح ثوبی کے گھر کو دی اور بائیک کا رخ اس طرف موڑ لیا ۔۔۔
اگلے پل انس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
