Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sabeel (Episode 16)

Sabeel by Umme Umair

سرعت سے الماری میں سے گرم کپڑے نکالنا شروع کر دیئے کے اچانک زیاد باہر سے لاک کھول کر اسکے سر پر کھڑا تھا ۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟؟ تم نہ کوئی بات کر رہی ہو اور نہ دروازہ کھول رہی تھی، آخر تمھارا مسئلہ کیا ہے ؟؟ زیاد نے رانی کو کندھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا تو رانی کی ہمت جواب دے گئی ۔۔۔ ہاتھ ہٹاو !! زبان کے ساتھ بات کرو ۔رانی نے دانت پیس کر بات کی ۔۔ تمیز سے بات کرو میرے ساتھ ۔ زیاد نے لال انگارہ آنکھیں رانی کے لرزتے خوف زدہ چہرے پر گاڑھ لیں ۔۔

میں نے کہا ہے کہ چھوڑو مجھے ! رانی نے اپنی پوری طاقت لگا کر زیاد کی گرفت سے نکلنے کے لئے اپنی نازک کلائیوں سے اسکو پیچھے دھکیلانا چاہا، لیکن ناکام ۔۔ طویل قامت زیاد اور رانی جس کا نازک سراپا اس سفاک کے سامنے ایک تگڑے تھپڑ کی مار تھا ۔۔۔ رانی کی کلائیوں میں زیاد کی گڑھی انگلیاں اسے اذیت میں مبتلا کر رہی تھیں ۔۔

میں نے کہا ہے چھوڑو مجھے ورنہ میں تایا تائی کو بتا دوں گی ۔۔

کیا بتاو گی تایا تائی کو ؟؟ وہی جو تم ہو ۔۔ تمھاری اصلیت بتاوں گی ۔۔

ابھی آپ سے تم پر آگئی ہو ۔۔ پاکستانی فرمانبدار لڑکی ۔۔ فرمانبداری باکردار ، غیرت مند اور عزت داروں کی ہوتی ہے۔۔۔ بےغیرت ، بدکردار اور بے ضمیر لوگ اس زمرے میں نہیں آتے ۔ رانی نے لرزتے جسم کو زیاد کی گرفت سے چھڑانے کے لئے اپنے ناخن اسکے پیٹ میں گھاڑنے کی ناکام کوشش کی لیکن اس کی بھی مثال اونٹ کے منہ میں زیرے والی تھی ۔۔

بڑی لمبی زبان ہو گئی ہے تمھاری ۔۔ ہیں !!! میں تمھیں بتاتا ہوں ۔۔ زیاد نے رانی کو بالوں سے دبوچ لیا ، رانی کراہ کر رہ گئی ۔۔ اب بتاو کیا بتاو گی اپنے تایا تائی کو؟؟ بولو جواب دو مجھے ۔

زیاد لال انگارہ آنکھیں گاڑے رانی پر دھاڑا ۔۔

میں تمھارے کالے کرتوت بتاوں گی ۔تم اللہ کی بنائی ہوئی حدوں کو توڑ رہے ہو ۔۔

☆اور اسی کے نشانات(اور تصرفات) میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی ہم جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ ان کی طرف(مائل ہو کر )آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے ان باتوں میں(بہت سی)نشانیاں ہیں ☆۔۔(الروم:21)

تم سے تو بہتر جانور ہیں جنکو اپنی جنسی تسکین جائز طریقے سے پوری کرنے کا ادراک ہے ۔۔۔۔ کیا ہو تم ؟؟ غلاظت کی پوٹلی یا پھر غلاظت کا ڈھیر؟ تف ہے تم جیسے مرد پر ۔۔ گھن آ رہی ہے مجھے تم سے ۔۔ گندے انسان دور ہٹو میرے سے ۔۔ چھوڑو میرے بالوں کو ۔۔

نہیں چھوڑوں گا ۔ کیا کر لو گی ؟ مجھے پیٹو گی کیا ؟؟ لو یہ ہوں سامنے کھڑا ۔۔ کر لو جو کرنا ہے ۔ زیاد رانی کے اوپر سے اپنی گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے اسکے سامنے سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔

میرا دل کر رہا ہے تمھارا سر پھاڑ دوں ۔۔

لو پھاڑو !! تم یہ کبھی بھی نہیں کرو گی کیوں کہ تمھارا ویزہ ابھی نہیں ہوا اسکے لئے تمھیں ابھی میری ضرورت ہے، تم میری محتاج ہو ۔۔

ویزہ اور تم سے اور میں تمھاری محتاج ؟ میرے جوتے کی نوک پر تمھارا یہ ویزہ اور تمھاری یہ مردود شکل ۔ مجھے تم سے شدید نفرت ہوگئی ہے ۔ تمھاری شکل دیکھتے ہی میرا خون کھولتا ہے ۔۔

ہاہاہاہاہاہا زیاد نے قہقہہ لگایا اور بولا خون ہے تمھارے جسم میں کیا ؟

شکل سے تو ایسے لگ رہی ہو جیسے کسی نے تمھارا سارا خون نچوڑ لیا ہو ۔۔ بیچاری پیکی (Paki) بیکورڈ مائینڈ (تنگ ذہن، پرانا ذہن)۔۔ ((قارئین کرام کے لئے یہاں پر لفظ پیکی بھی نیچا دکھانے کے لئے ہی بولا جاتا ہے))۔۔

میری دعا ہے کہ اللہ تمھیں ہدایت دے یا پھر تمھاری کمر توڑ دے آمین یا رب العالمین ۔۔

ہاہاہاہاہاہا ابھی پیکی فرمانبدار لڑکی بدعاوں پر اتر آئی ہے ۔۔

کتنے فضول انسان ہو تم ۔ اللہ نے تمھاری رسی دراز کی ہوئی ہے جب اسکی گرفت میں آگئے تو دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی تمھارا مقدر بنے گی ۔ میری زندگی تو برباد کر ہی چکے ہو ،کم ازکم اپنی آخرت تو بچا لو ۔۔

تمھیں میری آخرت کی فکر کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔”میں جانو اور میری آخرت جانے” ۔۔۔

ٹھیک ہے پھر مجھے آزاد کر دو ۔۔ مجھے کسی بھی لحاظ سے بے ایمان شخص کے ساتھ رہنا نامنظور ہے ۔۔ یہ بے ایمان کس کو بولا ہے؟؟ تمھیں بولا ہے مسٹر زیاد !!

تکلیف ہو رہی ہے ؟؟ تمھیں اس وقت تکلیف نہ ہوئی جب تم کسی معصوم کی زندگی داوء پر لگانے کے لئے پاکستان چلے آئے تھے ۔۔۔

کیا بگاڑا تھا میں نے تمھارا ؟ کیوں میری زندگی کو برباد کیا ہے؟ بتاو مجھے !!

رانی شدید غصے میں آپے سے باہر ہو رہی تھی، فورا آگے بڑھ کر زیاد کا گریبان پکڑ لیا اور اسکو جھنجھوڑنے لگی ۔۔ کمینے ذلیل انسان جواب دو مجھے ۔۔۔

زیاد نے رانی کو ایک ہی دھکے سے پیچھے دھکیلا ۔۔ اپنی اوقات میں رہو ۔ میرے صرف ایک تھپڑ کی مار ہو تم ۔۔

تم اور کر بھی کیا سکتے ہو ۔ جس شخص کو عورت کو اسکا مقام دینا نہ آیا ہو وہ کیا جانے عورت کی عزت کرنا۔۔۔

میرا رستہ چھوڑو مجھے جانا ہے ابھی اور اسی وقت تایا تائی کے پاس ورنہ ۔۔۔

ورنہ کیا کر لو گی میرا ۔۔ میری بات کان کھول کر سن لو اگر تم نے ایک لفظ بھی کسی کے ساتھ شئیر کیا تو جان سے جاوء گی ۔۔

زندگی اور موت میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔ تم جیسا بدکردار شخص میرا بال بھی باکا نہیں کر سکتا ۔۔

یہ بات ہے تو ابھی دیکھتے ہیں کیسے بچتی ہو پھر۔۔ کہتے ساتھ ہی زیاد نے رانی کو گردن سے دبوچ لیا اور اسکو زود و کوب کرنے لگا ۔۔

رانی پانی سے نکلی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی، آنکھیں ابل کر باہر نکلنے لگیں ۔۔ غوں غوں کی دبی دبی آواز نکل رہی تھی اور وہ زیاد کی باہوں میں پھڑ پھڑا رہی تھی۔۔۔ بے شک اللہ سبحان و تعالی غفور الرحیم ہے اپنے مومن بندے کو اپنی رحمت سے محروم نہیں کرتا ۔۔۔۔

زیاد کے بجتے فون نے اسکو رانی کی گردن آزاد کرنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔ ایک ہاتھ سے فون رسیو کرتا ہوا بولا۔ سو سوری سر گھر میں کچھ ایمرجنسی ہو گئی تھی ، میں بس ابھی 20 منٹ میں آفس میں ہوں گا ۔۔

ایک ہاتھ سے رانی کو بستر پر پھینک کر دھمکی آمیز لہجے میں بولا ۔ آج تو تم میرے ہاتھوں سے بچ گئی ہو ۔ اگر مجھے پتا چلا کے تم نے یہ باتیں میرے والدین یا کسی اور دوسرے تیسرے کو بتائیں ہیں تو وہ دن تمھاری زندگی کا آخری ہو گا ۔۔

رانی مسلسل کھانس رہی تھی ۔۔ گردن پر زیاد کی گرفت نے انگلیوں کے نشان ظاہر ہونے لگے ۔۔

رانی زار و قطار رو رہی تھی ۔۔

زیاد فورا بھاگ کر کچن سے پانی لے کر آیا ۔۔ یہ پانی پیو اور ابھی فورا تیار ہو جاوء تمھیں مم ڈیڈ کے چھوڑ کر ہی آفس جاوءں گا ۔۔

پانی کا گلاس تھامتے ہی رانی نے غصے سے سارا پانی زیاد کے اوپر پھینکا جوکہ اسکے چہرے سمیت اسکی نئی شرٹ کو بھی گیلا کر گیا ۔۔

کھا جانے والی نظروں سے رانی کے قریب آیا اور ایک زور دار تھپڑ رانی کے گال پر زیاد کی انگلیوں کے نشان چھوڑ گیا ۔۔۔

تم کہیں نہیں جاو گی، ادھر ہی گھر میں بند رہو گی ۔ میں تمھارا فون ساتھ لے کر جارہا ہوں، گھر والے فون کا ہیڈ سیٹ بھی میری گاڑی میں جارہا ہے ۔ اور مم ڈیڈ کو بولوں گا کے ہم دونوں باہر گھومنے کے لئے جا رہے ہیں ۔۔ ایک پورا ہفتہ نہ تم کسی سے بات کر سکتی ہو اور نہ ہی مل سکتی ہے جب تک تم یہ وعدہ نہیں کرتی کے تم کسی کو کچھ نہیں بتاو گی ۔۔

اور گھر کی تمام کھڑکیاں ڈبل گلیزرڈ اور ٹینٹڈ ہیں ۔۔(( قارئین کرام کی معلومات کے لئے یہاں پر دہرے شیشے سے بنی کھڑکیاں جو شدید سردی کو روکنے اور موسم سرما میں گھر سے باہر چلنے والی یخ بستہ ہواوں سے بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ اور یہ والا شیشہ باآسانی ٹوٹتا بھی نہیں ہے))۔۔

تمھارا شور شرابہ کسی کو بھی سنائی نہیں دے گا کیوں کہ یہاں اس علاقے میں سبھی ورکنگ کلاس کے لوگ رہتے ہیں ۔۔ کسی کو فرصت نہیں ہے کے وہ آ کر تمھارے دکھڑے سنے ۔۔۔ لوگ صبح کے نکلے شام تھکے ہارے کام سے آتے ہیں اور اپنے کھانے پینے اور اگلے دن کی تیاری میں جت جاتے ہیں ۔ تم پیکیز کی طرح نہیں ہے فارغ بیٹھ کر روٹیاں توڑتے ہو یا پھر دوسروں پر پورا دن نظر رکھتے ہو ۔۔

رانی کے آنسو تواتر سے جاری تھے لیکن زبان گنگ ہو کر رہ گئی تھی، اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا کے زیاد اس پر ہاتھ بھی اٹھا سکتا ہے ۔۔

پاکستان میں دھیمے لہجے اور جھکی نظروں والا یہ شخص اتنا سفاک بھی ہو سکتا ہے، جس کے اخلاق کا چرچہ سارا خاندان کر رہا تھا ۔۔۔جسکی فرمانبداری کے سامنے انس بھی مات کھا گیا ، جو انگلینڈ کا پڑھا لکھا ، ماں باپ کی آنکھوں کا تارا شریف النفس، محبت کرنے والا بیٹا ۔۔ کیئرنگ اینڈ لونگ ۔۔ کدھر گیا وہ سب کچھ زیاد سلیم؟!

“یاد آوں تو اتنی سی_______ عنایت کرنا

اپنے بدلے ہوئے لہجے کی __وضاحت کرنا

تم تو چاہت کا______سمندر ہوا کرتے تھے

کس سے سیکھا ہے محبت میں ملاوٹ کرنا”

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جی بڑے بھیا کیسے ہیں آپ اور بھابھی؟؟ بھیا ہم صبح سے رانی کو فون کر رہے ہیں لیکن اٹھا نہیں رہی ۔۔ رات اسکی ماں نے کوئی ڈراونا خواب دیکھا ہے۔۔ جسکی وجہ سے کافی پریشان بیٹھی ہے ۔۔

ارے مشتاق میاں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہیں رانی ماشااللہ بالکل ٹھیک ہے ۔ آج صبح اچانک ہی دونوں کہیں گھومنے پھرنے کے لئے نکل گئے ہیں اور اس طرف شاید سگنل لو ہوں ۔۔ زیاد نے بس اچانک ہی کام سے چھٹی بھی لی ہے اور پھر فون کر کے ہمیں بھی بتایا ہے ۔ ہم خود دونوں اس اچانک خبر پر حیران رہ گئے ہیں ۔۔ ہم تو کب سے ولیمے کی تاریخ کا پوچھ رہے ہیں زیاد میاں سے کب چھٹی ملے ؟؟ اور کب ہم اپنے بہو بیٹے کی خوشی منائیں ؟ لیکن وہ مان کر ہی نہیں دے رہا تھا ، اور آج کہتا ہے بس مینیجر سے بات کی ہے اور وہ مان گیا ہے ۔۔

ارے بڑے بھیا اب تو تسلی ہو گئی ہے الحمداللہ۔۔ دونوں سکھی رہیں، آباد رہیں ۔۔۔

بھیا ذرا رضیہ کی بات کروانا بڑی بھابھی سے ، اس نے کچھ کپڑوں کی سلائی کے بارے میں پوچھنا ہے شاید ۔۔ ہاں ہاں وہ کچن میں آج پائے بنا رہی ہے، اسکو جا کر ابھی دیتا ہوں ۔۔

بیگم سے پائے پکوانے کے لیئے بھی ایک مہینہ پہلے بکنگ لینا پڑتی ہے ۔۔ اسکو قائل کرنا بھی ایک الگ محاذ ہے مشتاق ۔۔ دونوں بھائی خوب دل کھول کر ہنسے ۔ دونوں طرف اطمینان اور سکون کی فضا قائم تھی ۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

رانی نے سارا دن بلک بلک کر رونے میں گزارا، صبح سے پانی کا ایک قطرہ بھی اس کے حلق سے نیچے نہ اترا۔

گلاب کے پھول جیسا چہرہ کملا کر رہ گیا، ہونٹ خشک اور گلے میں بھی شدید درد محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ کھٹکے سے محسوس ہوا کے سفاک درندہ واپس گھر آگیا ہے ۔۔ شدید نفرت نے دوبارہ انگڑائی لی ۔ لیکن ابھی تو مزاحمت کی بھی سکت جواب دے گئی تھی ۔۔۔

“اس کو لوٹائیں گے ہم سود کے ساتھ

قرض ہے ہم پر ___بےحسی اس کی”

رانی کے کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا، نیم وا آنکھوں سے دھندلا منظر صرف یہی دیکھا پایا کے آنے والے کے ہاتھ میں کچھ ہے ۔۔ رانی نے کلمہ شہادت پڑھا اور ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *