Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 27)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 27)
Sabeel by Umme Umair
امی جان اسلام علیکم ! امی جی جلدی سے مجھے خوش خبری سنا دیں، میرے سے مذید انتظار نہیں ہو پائے گا ۔۔ ماں صدقے کرے تیرے ! میری رانی بڑی خالہ بننے والی ہے ۔ رانی نے چیخ نما آواز نکال کر ماشااللہ تبارک اللہ بولا ۔۔۔ امی جان میرا بس نہیں چل رہا میں اڑ کے زینہ کے پاس چلی جاوءں ۔ امی جی مجھے آپ نے سب سے خوبصورت خبر سنائی ہے ۔۔ فرحت جذبات سے رانی کی آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔ امی جان آپکو نہیں پتا میرا آج کا دن کتنا خوبصورت گزرے گا ۔۔۔ اللہ میری بچی کو ایسی ہی اچھی خبریں سننا نصیب کرے آمین ۔۔
رانی ذرا فون بڑی بھابھی کو دو ۔۔ جی یہ لیں بات کریں ۔۔ رانی کا چہرہ خوشی سے تمتا رہا تھا ۔۔ تایا کے گھر میں چھائی سوگواری یکدم خوشیوں کا سندیسہ لائی ۔۔ بس جی فیصلہ ہو گیا ہے ۔مشتاق ہم اگلے ہفتے پاکستان آرہے ہیں ان شاءاللہ ۔۔
بھائی جان اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے ۔ ہم تو کب سے آپ سب سے ملنے کے لئے بےچین ہیں ۔ مشتاق کسی اچھے سے گھر کا انتظام کرو ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے بھائی جان؟ اتنا بڑا گھر چھوڑ کر ہم آپکو کہیں اور رہنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔۔
مشتاق ہم سب اگر آئے تو لمبے عرصے تک رکیں گے ۔ تو کیا ہوا بھائی جان آپ جتنا مرضی عرصہ رکنا چاہیں آپ کا اپنا گھر ہے ۔۔ چلو مجھے آ لینے دو پھر آ کر دیکھتے ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔
بے چین رانی سے مذید انتظار مشکل ہو رہا تھا، فورا کمرے میں آ کر زینہ کو کال ملائی۔۔ سلام اور حال احوال کے بعد وہی بےانتہا مسرت کا اظہار، رانی تو خوشی سے نہال ہو رہی تھی ۔۔ زینہ تمھیں کیا بتاوں کہ میں کتنی خوش ہوں ۔ آپی آپکی آواز سے میں اندازہ لگا سکتی ہو ں ۔۔ باقی ساری باتیں چھوڑو، ثوبان بھیا کا بتاو ۔۔ آپی انکا بس چلے تو مجھے کسی دوسرے سیارے پر لے جائیں ۔ آپ تو جانتی ہیں انکی زندہ دلی ۔۔ انکی دلی مراد بھر آئی ہے ۔۔ اب انس بھیا نے انکو خوب رگڑا لگانا ہے ۔ ارے وہ کیوں بھئی ؟ ۔انہوں نے ابھی سے عقیقہ بھی پلان کر لیا ہے۔۔ تھانے میں موجود ہر سپاہی مٹھائی کھا چکا ہے بلکہ کتنے تو بےگناہ قیدی بھی مٹھائی سے لطف اندوز ہو چکے ہیں ۔۔۔
زینہ ثوبان بہت مخلص ، محبت و عزت دینے والا بندہ ہے ۔ اس کو کبھی بھی دکھی نہ کرنا ۔۔ ارے نہیں آپی انکی شخصیت ہی ایسی ہے کہ ناچاہتے ہوئے بھی پیار امڈ امڈ آتا ہے ۔۔۔ اووووووووو زینہ ماشااللہ ۔ اللہ آپ دونوں کو نظر بد سے بچائے آمین ۔۔۔
مستقبل کے ابا جان سے گزارش ہے کہ تھانے وقت پر تشریف لایا کریں ۔۔ سوری سر رات کو نیند پوری نہیں ہو پائی ۔۔ لیکن ثوبان صاحب مجرموں نے آپکی نیند کو تو نہیں دیکھنا ، کہ ثوبان صاحب کی نیند پوری ہوئی ہے یا نہیں ۔۔ آپکی زوجہ محترمہ سے زیادہ تو آپ مجھے حالت زچگی میں لگتے ہیں ۔۔۔
پاس بیٹھے انس کی ہنسی چھوٹ گئی ۔ ہونٹوں کو دانتوں تلے دبا کر آواز باہر نکلنے سے روکا ۔۔ سر آئیندہ شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔۔۔ میں امید کرتا ہوں نا ہی ملے تو بہتر ہے ورنہ پھر آپکو بھی زچہ بچہ وارڈ میں بھیجنا پڑ جائے گا ۔۔۔
سر اگر میں کبھی لیٹ بھی ہو جاوءں تو ایک گھنٹہ فالتو لگا کر سارے کام نپٹا کر جاتا ہوں ۔۔ پھر بھی احتیاط کیا کریں ۔ کسی دن افسران بالا کا اچانک تھانے کا دورہ ہو گیا تو پھر میں کچھ نہیں کر پاوں گا ۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نئی حکومت نے پولیس کو کانے کی طرح سیدھا کرنے کی ٹھان لی ہے ۔ درانی صاحب نے سب کے کس بل نکال دینے ہیں ۔۔ جی سر سب سمجھ گیا ہوں ۔۔
ثوبان آپ کے پچھلے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے آپکو کسی دوسری جگہ نہیں بھیجا گیا ورنہ پتا نہیں آپ کونسے علاقے کی خاک چھان رہے ہوتے ۔۔ جی سر ۔ ابھی آپ تشریف لے جائیں اور منشیات والے گروہ کی تازہ رپورٹ دیں ۔۔ سر مجھے اجازت ہے ؟، انس نے کرسی سے اٹھتے ہوئے اجازت طلب کی ۔۔
جی آپ بھی جائیں بلکہ ثوبان صاحب کے ساتھ مل کر سارے معاملات دیکھ لیں ۔۔ جی سر ۔۔
ادھر آ کمینے!! ادھر بیٹھ کر دانت نکال رہا تھا ۔ میری اتنی جگ ہنسائی کروائی ہے تجھے میں نے فجر کے بعد ٹیکسٹ کر دیا تھا کہ سب سنبھال لینا ۔۔ اور یار میں نے بہت کوشش کی ، لیکن ایس ایچ او صاحب میرے سے پہلے ہی تھانے میں موجود تھے۔۔
ویسے ایک بات تو تہہ ہے کہ تو دنیا کا ٹاپ کلاس منجھا ہوا رن مرید ہے ۔ انس پتر تیری شادی جب ہو گی پھر میں تم سے پوچھوں گا کہ رن مریدی کیا ہوتی ہے ۔ تو تو ہر صبح بیوی کے سر کی مالش کرے گا ۔ ہاہاہاہا
انس کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔
ابھی زیادہ خوش نہ ہو ، کام شروع کر تاکہ بڑے صاحب کو خوش کر سکیں ۔۔
ویسے ثوبان یار تو کمینہ اگر ولیمہ دھوم دھام سے کر لیتا تو شاید آج یہ دن نہ دیکھتا ۔۔ اوہ کیا مطلب ہے ندیدے؟ وہ جو افسران بالا سے لے کر سپاہیوں تک کو راجہ بازار کی کڑاھی کھلائی تھی وہ کس کھاتے میں جاتی ہے؟ وہ ولیمے کی نیت سے ہی کھلائی تھی ۔
میرے ساتھ جاہل ماسیوں والے گلے نہ کر ۔ میں دیکھ لوں گا تو کتنے تیر مارتا ہے ۔۔ ابھی تو کمینہ کسی سے شادی کے لئے مانے تب ہے نا ۔ ویسے یار وہ سیٹھ تجھے بیٹی کا رشتہ دینے کے لئے کتنے پر تول رہا تھا ۔ اور ایک تو کمینہ ہے کسی کو گھاس ہی نہیں ڈالتا۔۔ اور وہ جو زینہ کی نئی سہیلی بنی ہے اسکی کزن کا رشتہ بھی تھا ۔ میری مان اور گھر بسا لے ۔ کیا فائدہ گڑھے مردے اکھاڑنے کا۔۔ ہر وقت تیرے چہرے پہ بارہ بجے ہوتے ہیں ۔تیری ٹھنڈی آہیں سن سن کر میرا تو آئس کریم سے بھی دل اچاٹ ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔ اچھا چل زیادہ باتیں نہ کر ۔۔۔ فورا فائلیں لے کر میرے ڈیسک پہ لے آ ۔۔ میں چلتا ہوں ابھی ۔ جو حکم حضور والا کا ، ناچیز خدمت کے لئے ہر وقت تیار ۔ثوبان زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی تیزی سے چلا رہا تھا ۔۔ پرانی فائل کی تلاش میں سرگرداں ثوبان کا موبائل بجا ۔۔ اور تیری خیر ۔۔ جی زوجہ محترمہ فرمائیے ابھی ویسے آپ سے بچھڑے 45 منٹ ہی گزرے ہیں ۔ گھر میں سب خیریت ہے؟ طبعیت تو ٹھیک ہے نا ؟ جی جی میں بالکل ٹھیک ہوں الحمداللہ ۔۔ خاکسار کو یاد کرنے کا مقصد وہ بھی افسر بالا سے عزت افزائی کے بعد ۔ ہائے اللہ آپکو ڈانٹا ہے ظالموں نے ؟ نہیں آتے ساتھ تمغہ رن مریدی ڈالا ہے میرے گلے میں ۔ چلیں چھوڑیں نا ۔ جی چھوڑ دیا ۔ اب فرمائیں ۔۔ وہ پتا ہے کیا ؟ کیا ؟ رانی آپی اور تایا تائی اگلے ہفتے پاکستان آرہے ہیں ۔۔ اچھا بھئی یہ تو کافی خوشی کی خبر ہے ۔ لیکن آپ مجھے گھر واپسی پر بھی بتا سکتی تھیں ۔ میں بہت خوش تھی تو انتظار نہیں کر پائی ۔۔ اچھا ابھی ناچیز کو اجازت ہے؟ اس سے پہلے ایس ایچ او صاحب میرے ڈیسک پر آئیں ۔ شام کو ملتے ہیں ان شاءاللہ ۔ اپنا خیال رکھنا اور کھانا وقت پر کھا لینا۔۔۔ جی ضرور ۔ آپ بھی اپنا بہت سارا خیال رکھنا ثوبان ۔ جی میرا خیال رکھنے والوں سے تھانہ بھرا ہوا ہے ۔۔ پولیس سے لے کر قیدیوں تک سب کو میرا ہی خیال رہتا ہے ۔ اچھا چلیں جی نا جلائیں ورنہ میرا بھی دل نہیں لگے گا سارا دن ۔۔ پلیز زوجہ زینہ آپ دل پر نہ لیں میرے لئے تو یہ سب مکھن ملائی ہے ۔۔ کھکھلاتی زینہ فون بند کرکے گھر کی صفائی میں مشغول ہو گئی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رانی اس ملک اور اس شہر کو چھوڑتے ہوئے بہت روئی کیوں کہ یہاں سے اسکی بے تحاشہ تلخ یادیں وابستہ تھیں ۔ رانی جب پاکستان سے یہاں آئی تو کتنے ارمان اور خواب تھے اسکی آنکھوں میں، لیکن آج واپسی کا سفر خالی ہاتھ ، سوائے اذیت ناک یادوں کے کچھ بھی نہیں تھا ۔ اپنوں سے ملنے کی خوشی ایک طرف لیکن بیتے لمحات کی پرچھایاں اس کی آنکھوں کو نم کیئے جا رہیں تھیں ۔۔ جہاز کی ونڈو سیٹ پر بیٹھی رانی ہیتھرو ائیر پورٹ کا الوداعی نظارہ کرنے میں محو تھی ۔ بادلوں سے ڈھکا آسمان اور ہلکی پھلکی رم جھم رانی کی اداسی بڑھانے کے لیے کافی تھی ۔ پاکسستان میں بادلوں سے ڈھکا سورج کتنا دلفریب ہوتا تھا لیکن یہاں لندن میں اداسی کا سبب بنتا ہے ۔۔ یا پھر یہ اداسی میرے اندر کی ہے ۔ اپنی سوچوں میں گم رانی اپنے دائیں بائیں سے بالکل بے خبر تھی کہ اچانک ایکسکیوز می کی آواز پر پلٹی ۔۔۔۔۔۔
