Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 04)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 04)
Sabeel by Umme Umair
اگلے پل انس کو اپنا آپ ہوا میں اچھلتا ہوا محسوس ہوا، اس اچانک افتاد پر دماغ چند لمحوں کے لئے ماوءف ہو گیا ۔۔۔ صد شکر پاس ہی دائیں ہاتھ پر خالی پلاٹ میں ریت کا بڑا ڈھیر ڈھال بن گیا ۔۔۔
سامنے سے آتے جلد باز رکشہ ڈرائیور نے چنگ چی ڈرائیور کو سواری ملنے کی تگ و دو میں آگے جانے کےلئے رفتار بڑھائی جسکی زد میں حالات سے ستایا، دکھیارا انس آگیا ۔۔۔۔
انس نے وقتی طور پر دماغ کو رانی کا غم منانے کے بجائے جسمانی چوٹوں کی طرف مبذول کر دیا ۔۔۔ اعصاب کو قابو کرتے ہوئے ریت میں دھنسے پاوں کو نکالا اور ریت جھاڑنا شروع کر دی ۔۔۔
توجہ بائیک کی طرف مبذول کی تو پاس پڑی اینٹوں کے پاس گری نظر آئی ۔۔۔ انس نے فورا دوڑ لگائی اور بائیک کی پٹرول والی ٹینکی چیک کی، جس پر چند نئے سکریچز( خراشیں) پڑ گئے ۔۔۔ اللہ کا شکر ادا کیا کے کسی بڑے نقصان سے بچت ہو گئی ہے ۔۔۔۔
چند ہمدرد راہ گیر پاس آئے لیکن انس کو صحیح سالم چلتے پھرتے دیکھ کر مطمئن نظر آ رہے تھے ۔۔۔
انس نے بھی سب کے ہمدردانہ رویے پہ شکر ادا کیا اور ثوبان کے گھر کی راہ لی ۔۔۔۔۔
لیکن اب کی بار “احتیاط علاج سے بہتر ہے ” والے فارمولے کو اپنایا ۔۔۔۔
یار انس ایک تو مجھے تیری سمجھ نہیں آتی کبھی تو کھوتے کو ترجیح دیتا ہے تو کبھی گھوڑے کو ترجیح دیتا ہے ۔۔۔ پہلے تو اپنا دماغ ٹھکانے پر لا بلکہ میرے خیال میں تو کسی طبیب قلب سے رجوع کر !
تجھے تو پتہ ہے میں اس طرح کے ڈھنگوسلوں سے بری ہوں ۔۔مجھے تو یہ سب چونچلے وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ بھی نہیں لگتے۔۔۔۔۔
میرے خشک ترین مزاج دوست تم پر تھپڑوں کی بارش کروں یا جوتوں کی ؟؟؟
ثوبان نے کڑے تیوروں سے انس کو گھورا ۔۔۔۔۔۔
یار تو ایک ہی کمینہ اکلوتا دوست ہے اور وہ بھی بچپن کا، اتنا تو حق بنتا ہے کہ میں اپنے دکھڑے تجھ سے شئیر کر سکوں ۔۔۔
تجھے کس نے کہا تھا کہ آگ کے اس دریا میں کود ؟؟؟
یار میں کب کودا ہوں !!
تو پھر پچھلے ایک گھنٹے سے چولیں کیوں مار رہا ہے اور بار بار ایک ہی دکھڑا سنا رہا ہے ۔۔۔
مجھے خبر ہی نہیں ہوئی کہ وہ کب کیسے، میرے دل کے نیہاں کونے میں براجمان ہو گئی ہے ۔۔۔ اور یقین مان جب پھپھو نے اسکے رشتے کی بات کی تو ایسے محسوس ہوا جیسے کسی نے میری سانس روک لی ہو، میرا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو ۔۔۔
اوہ چل جا ! بڑا آیا مجنوں ۔۔۔”” پڑھیا نی پاہ تے بنڑ بیٹھا علماء”” ۔۔ ۔۔۔ (ایک پاو بھی نہیں پڑھا اور عالم بنا پھرتا ہے)۔۔۔۔
انس مجھے تو تیری اس انوکھی محبت کی سمجھ نہیں آتی ۔ کونسا ایسا موقع ہو جو تو اسکو نیچے دکھانے سے باز رہا ہو ۔۔۔۔۔ ہر وقت مقابلے بازیاں اور دشمنیاں نبھاتا رہا ہے اب کس لیئے لیلیں گھول رہا ہے؟!
اوہ یار ثوبی تو میرا دوست ہے تو کچھ بھی نہیں کر سکتا میرے لیئے؟؟
ہاں مشورہ دے سکتا ہوں وہ بھی مفت میں ۔۔
بہت کمینہ انسان ہے پچھلے ایک گھنٹے سے تو نے میری ناک سے لکیریں نہیں نکلوائیں باقی کسر نہیں چھوڑی ۔۔۔۔
خشک انسان مشورے کے لئے ہی تیری سرکار میں حاضری دی ورنہ ٹریننگ سنٹرمیں ہی ملاقات ہونی تھی ۔۔۔۔
پیارے انس یہ عشق کا سمندر ہے یہاں ڈوب کے مرنا ہے ۔۔۔ محبت قربانی مانگتی ہے، وقت مانگتی ہے، انا کا قتل مانگتی ہے، عاجزی و انکساری مانگتی ہے ۔۔۔۔۔
زیادہ فلاسفر نہ بن اور سیدھے طریقے سے بات کر ثوبی ورنہ میں جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔
ہولے ہولے جگری دوست ۔۔۔۔
ثوبان نے پر سوچ انداز میں انس کو دیکھا اور لمبی لمبی سانس کھینچ کر گویا ہوا۔۔۔۔۔۔
واپس گھر جا اور چچا چچی کے قدموں میں بیٹھ جا اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لے اور بول تیرا رانی کے بغیر گزارا نہیں ہے، اس ولائتی ملئین ائیر کے بجائے تجھ کنگلے حوالدار کو رشتہ دے دیں ۔۔۔۔۔
یار ثوبی میں پوری زندگی حوالدار تو نہیں رہوں گا ۔۔۔ شریف ہوں، محنتی ہوں، ایماندار ہوں، ویسے بھی میرے ترقی کرنے کے چانسز زیادہ ہیں ۔۔
ابھی ہم دونوں الیٹ فورسز کو بھی جوائن کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔
ثوبان نے انس کے گال تھتھپاتے ہوئے بولا، بیٹے یہی باتیں تو اپنے ابا حضور اور چچا حضور کے دربار میں پیش کر ، مجھے تو ایسے بتا رہا ہے جیسے میں ہی رانی عرف پٹاخہ کا باپ ہوں ۔۔۔
میری ذاتی رائے کے مطابق تو اس کا خیال دل میں سے نکال دے تو بہتر ہے ۔۔۔
انس نے کھا جانے والی نظروں سے ثوبان کو گھورا ۔۔
منہ اچھا نہ ہو تو بات تو اچھی کر لیا کر خرانٹ بچپن کے یار ۔۔۔۔۔
یار بات سیدھی سی ہے ، دوسری پارٹی مال و جائیداد والی ہے اوپر سے پاسپورٹ بھی برطانیوی ہے ۔۔۔ لمبے پونڈ رکھتے ہیں ۔ انکا اور تیرا کیا مقابلہ؟؟
تجھ دیسی ککڑ کی کیا حیثیت ہے؟ یار اپنی چادر دیکھ اور اسکے مطابق پاوں پھیلا ۔۔۔۔
پر یار میرا اور اسکا رشتہ بچپن سے طے ہے ۔۔ تو سمجھتا کیوں نہیں ہے؟!
ہم۔اکھٹے ایک چھت کے نیچے کھیل تو نہیں البتہ لڑ کر جوان ہوئے ہیں ۔۔۔
مجنوں انس یہ رشتہ دادا دادی نے طے کیا تھا جوکہ اس دنیا سے رحلت فرما چکے ہیں باقی بچا تو اس کا ایک ہی حل ہے ۔۔۔
وہ کیا ہے ؟؟! انس نے بےتابی سے پوچھا ۔۔
“”ایک نہ اور سو سکھ””۔۔ بھول جا اس آفت کو ۔۔
بقول تیرے سیدھے منہ تو دور کی بات وہ تو تیرے ہیولے سے بھی چڑتی ہے ۔۔۔ ناکوں چنے چبوائے گی ۔۔۔
ثوبی تو پھڑک جائے گا میرے ہاتھوں سے ۔۔۔
یار تو مجھے تسلی دینے کے بجائے اور زیادہ غمگین کیئے جا رہا ہے ۔۔۔۔
مجنوں انس صاحب مخلص دوست مخلص مشورہ ہی دیتے ہیں اور میں تجھے روز جیتے اور روز مرتے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دیکھو مشتاق جس طریقے سے بڑے بھیا نے میرے ساتھ بات کی ہے وہ قابل غور ہے۔ تمھاری بیٹی اگر بیرون ملک یورپ چلی جائے گی تو ہر قسم کی محتاجی سے بچے گی ، سنا ہے ادھر تو علاج معالجہ بھی مفت ہے ، نہ بجلی کی تنگی ، نہ مکھی ، نہ مچھر، صاف ستھرے گھر اور سڑکیں، اچھا پہننا اچھا اوڑھنا۔۔۔ تو نے دیکھا نہیں ہے جو بھی انگلینڈ سے آتا ہے اسکے کپڑوں کی الگ سے چمک دھمک ہوتی ہے اور خوشبو سے معطر ہوتے ہیں سارے لباس ۔۔وہاں کی تو ہر چیز اصل خالص ہوتی ہے ۔۔۔۔
رانی اگر بیاہ کے بڑے بھیا کے چلی گئی تو نہ جہیز کی جھنجھٹ اور نہ دوسری ذمہ داریاں تیرے سر پر ہوں گی آخر کو تیری اور بھی بیٹیاں ہیں ۔۔۔۔
آپا وہ زینہ کا رشتہ کر لیں، رانی کی تو میں زبان دے چکا جب اماں ابا حیات تھے اور سب انکی خواہش کے مطابق ہی ہوا تھا ۔۔ آپ بھی ادھر ہی موجود تھیں ۔۔۔میں کیسے انکے فیصلے کے سامنے اپنی دنیاوی ضروریات کو ترجیح دوں ۔۔ میرا ضمیر نہیں مانتا آپا ۔۔۔ آپ سمجھائیں بڑے بھیا کو ۔۔
مشتاق میں تمھارے کہنے سے پہلے ہی ان سے بات کرچکی ہوں ،بہت کوشش کی ۔ میری تو اپنی بیٹی بھی جوان ہے۔۔۔
بڑے بھیا جب سال پہلے اماں کی وفات پر پاکستان آئے تھے اسی وقت انہوں نے رانی کو بہو بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔ اسی لیے تو وہ صرف رانی کے لئے ہی بضد ہیں ۔۔۔
تم خود سوچو انس پولیس میں حوالدار ہے ، اس نے کیا کرنا ہے یہ تو اپنا الگ سے گھر بھی نہیں بنا پائے گا یہ الگ بات ہے کہ رشوت خور بنے ۔۔۔۔
آپا انس تو اپنا دیکھا بھالا ہے جبکہ بڑے بھیا کا زیاد تو بچپن میں دیکھا تھا نجانے کس طبیعت کا مالک ہے ۔۔
بیٹی کا ہاتھ کسی انجان شخص میں دینے کے لئے بھی دل گردہ درکار ہے ۔۔
ارے بڑے بھیا غیر تھوڑی ہیں ۔ساری زندگی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے سر سے دست شفقت نہیں اٹھایا اور رانی تو انکی بہو ہو گی ۔۔ وہ بھی اپنا خون سگی بھتیجی ۔۔۔۔۔۔
پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے چلو نیچے چلتے ہیں اور سب مل بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔۔۔۔
بھیا نے تو سیٹیں بھی بک کروا لی ہیں۔۔۔
آپا اتنی بھی جلد بازی کی کیا ضرورت ہے؟!
ارے باوءلا ہوگیا ہے ۔۔ تمھیں پتا نہیں ہے کہ کتنی مصروف زندگی ہے وہاں کی؟! زیاد نے بڑی مشکل سے چھٹیاں لی ہیں اپنے کام والوں سے ۔۔اور اسکی فرمانبداری دیکھو یورپ جیسے ملک میں رہتے ہوئے بھی اپنا سرخم کر لیا ہے اپنے والدین کی خواہش پر۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
انس کی گھر واپسی پر گھر میں بڑوں کی مجلس پورے عروج پر تھی ۔۔۔ سلام کر کے خاموشی سے کونے میں پڑی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔
دل مچل رہا تھا کہ بولے “”رانی انس کی ہے ، رانی صرف اور صرف انس کی ہے””۔۔۔۔۔۔
دماغ اسکی تردید کر رہا تھا کہ مصلحت اور حکمت سے کام لو ۔۔۔
بڑی پھپھی کے دلائل مثبت اور حقیقت پر مبنی تھے ۔۔
انس کے اندر سرد جنگ جاری تھی ، اپنی محبت کی خاطر کیوں سگے بہن بھائیوں میں پھوٹ ڈلوائے گا ؟ پورے خاندان کا سکون تہہ و بالا ہو جائےگا ۔۔۔
انس تیرے پلے بھی ککھ نہیں ہے، بار بار ثوبی کے دلائل کانوں میں گونج رہے تھے ۔۔۔۔
مجبورا اس مجلس سے راہ فرار ڈھونڈی اور اپنے کمرے میں جاکر سر ہاتھوں میں لے کر بیٹھ گیا ، بےچینی اور بیقراری بڑھی تو کمرے میں ایک سے دوسرے کونے میں چکر کاٹنا شروع کر دیئے ۔۔۔۔ سر درد سے پھٹا جا رہا تھا، سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کرے تو کیا کرے ۔۔۔ اس آفت کی پڑیا کے سامنے اگر اظہار بھی کیا تو وہ جینا محال کر دے گی ۔ کپت پنا(سخت طبیعت، ڈاڈھی ) بھی اسکے سامنے ختم ہے ۔۔
اگر اس چڑیل رانی کو ذرا سی بھی بھنک پڑ گئی کہ میں اسکے لیئے کیا جذبات رکھتا ہوں تو وہ میرا کچومر نکال دے گی اور جوابی کارروائی میں کہیں سر ہی نہ پھاڑ دے ۔۔۔
انس نے وقتی طور پر رانی کا غصیلہ چہرہ تصور میں لا کر ہلکی سی جھرجھری لی ۔۔۔ ہائے اللہ یہ چالاک لومڑی میرے حواسوں پہ کیوں سوار ہو رہی ہے؟! نا ہی حصول ممکن نظر آ رہا ہے اور نہ ہی دل اس سے دستبردار ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
بقول شاعر
“”نیا نیا ہوں ابھی ——– حالت جدائی میں
پلٹ پلٹ کر تیری سمت دیکھتا ہوں ابھی “”
کچی عمر کی پاکیزہ محبت نے انس تجھے خوب رگڑا دیا ہے ۔۔۔۔پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کمرے سے باہر نکل آیا اور پاوں غیر ارادی طور پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
