Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 15)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 15)
Sabeel by Umme Umair
ادھ کھلے دروازے سے رانی نے جب کمرے کا منظر دیکھا تو پاوءں سے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔ ایسے لگ رہا تھا مکان کی چھت سر پر آن گری ہے ، زیاد اور اسکا دوست دنیا و مافیا سے بےخبر برہنہ حالت میں بدفعلی کا ارتکاب کر رہے تھے ۔۔۔ رانی کا جی ایک دم سے متلایا ، منہ پر اپنا ہاتھ جما دیا ،، ایک دم ابکائیاں آنا شروع ہو گئیں اور فورا باتھ روم کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔
ایک عجیب سا خوف اور وحشت طاری ہو گئی، جیسے ہی وہ منظر دماغ اور آنکھوں کے سامنے چلتا ابکائیوں میں مذید اضافہ ہو رہا تھا، ایسے لگ رہا تھا پیٹ کی انتڑیاں باہر آجائیں گی۔۔ ابکائیوں نے تو اب شدید قسم کی الٹیوں کا روپ دھار لیا ، پیٹ کے اندر ایک چھوٹا زرہ بھی نہیں باقی بچا تھا لیکن اسکے باوجود میدہ اور دماغ آنکھوں دیکھا حال قبول کرنے سے قاصر تھا۔۔
آدھا گھنٹہ باتھ روم میں گزارنے کے بعد بھی جسم خوف سے تھر تھر کانپے جا رہا تھا، لاغر جسم کو گھسیٹ کر اپنے کمرے میں لانے تک کامیاب ہوگئی۔۔ جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا، روشن آنکھیں اس آدھے گھنٹے میں ہی اندر کی طرف دھنستی دکھائی دے رہی تھیں، ایک دم سے کالے گھڑے بن گئے ۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی فورا کمرہ اندر سے لاک کر لیا ، نڈھال جسم کو ڈھیلا چھوڑتے ہی قالین پر گر گئی ۔۔۔ آنسو روانی سے جاری و ساری تھے ۔۔
میرے مالک میری اس آزمائش کو میرے لیئے آسان کر آمین یا رب العالمین ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قوم لوط کی طرح عمل کرنے والا لعنتی ہے ، مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر قوم لوط والے عمل(یعنی لڑکے کا لڑکے کے ساتھ بدفعلی کرنے) کا ہے۔
(ترمذی، حدیث:1487،1488)
کتاب الحدود ، باب: لواطت کی سزا۔
(راوی ابن عباس اور جابر رضی اللہ عنہما)
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
أللهم لا سهل إلا ما جعلته سهلا وأنت تجعل الحزن إذا شئت سهلا(عمل والليلة لابن السني:٣٥١ ،ابن حبان:١٩٦٤)
☆”اے اللہ کوئی کام آسان نہیں ہے جسے تو آسان کر بنا دے اور تو جب چاہتا ہے مشکل کو آسان بنا دیتا ہے”☆
دل دہائیاں دے رہا تھا ،رانی تو اتنے غلیظ شخص کی محبت میں گرفتار ہو گئی ۔۔ جس کا لباس برانڈڈ اور کرتوت حیوانوں والے ،خوبصورت لباس اور دھیمے لب و لہجے میں چھپا یہ بھیڑیا صفت انسان رانی تیرے قابل کیسے ہو سکتا ہے؟
میرے مالک اس شخص سے نجات کی میرے لیئے کوئی سبیل پیدا فرما ، میرے رب، میرے مولا، میرے رحیم و کریم رب العالمین بے شک تو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ وقت تر ہے ۔۔
إنما أشكو بثى و حزنى إلى الله(سورة يوسف: 86)
☆میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ سے کرتا ہوں ۔☆
إن الذين يخشون ربهم بالغيب لهم مغفرة وأجر كبير(الملك:21)
☆بےشک جو لوگ بن دیکھے اپنے پرورگار سے ڈرتے ہیں انکے لئیے بخشش اور اجر عظیم ہے۔☆
رانی کی گریہ زاری اپنے عروج پر تھی میرے مولا، میرے کبیرہ و صغیرہ گناہوں کو تو معاف فرما ۔ مجھے اس بھیڑیے کے چنگل سے نکالنے کی سبیل پیدا کر آمین یا رب العالمین ۔۔
تڑپ تڑپ کر ایک ایک لمحہ گزر رہا تھا ، جی چاہ رہا تھا ایک لمحہ ضائع کیے بغیر یہاں سے بھاگ جائے ۔۔۔
اس گھٹیا شخص کا سایہ بھی میرے اوپر نہ پڑے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
گھڑیال کی ٹک ٹک بہت سست روی سے چل رہی تھی یا پھر اندر کی بے قراری رانی کو وقت کے ٹہر جانے کا احساس دلا رہی تھی۔۔ جی چاہا ابھی فون ملا کر تایا تائی کو بلا لے اور ثبوت دکھا دے ۔ بستر پہ پڑا موبائل فورا جھپٹا، کال ملانے کے لئے پاسورڈ ڈالتی انگلیاں تھم گئیں ۔۔
رانی میری بچی کسی بھی کام یا فیصلے کو جذبات سے نہ کرنا ،کیونکہ جذبات میں کئے گئے فیصلے پچھتاوں کے سوا کچھ بھی نہیں دیتے ۔۔ ان غلط فیصلوں کے نتائج بعد میں تمھارے ضمیر پر کوڑے کی طرح برستے ہیں، بیٹی وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے، ہر اس زخم کو بھرتا ہے جس کا گھاوء شاید تمھارے سینے میں پیوست رہ چکا ہو ، ہماری قرابت داری اور خون کے رشتوں کا پاس رکھنا ، میرے ان سفید بالوں اور جھکی کمر کو ٹوٹنے مت دینا ۔
میری رانی اپنے سر پر خوابوں کا تاج نہیں بلکہ الفت میں گندی اس کشش کی تاج پوشی کروائے گی جو میری رانی کو دلوں کی رانی بنا دے گا بلکہ بے تاج ملکہ ۔۔بابا جانی آپ بھی نا !! رانی یہ سب بولتے بابا جانی سے لپٹ جاتی تھی ۔۔
بابا جان کی نصیحتیں کانوں میں گونج رہی تھیں ۔ سکرین پر چلتی انگلیاں تھم گئیں ۔۔۔
نہیں بابا آپکی رانی دلوں پر راج نہیں کر رہی ہے بابا۔۔ بلکہ جوتے کی نوک پر آگئی ہے ۔۔ آپکی رانی کی حیثیت گلی میں پڑے اس تنکے سے بھی کم ہے جس کو راہ گیر دن میں بارہا اپنے پیروں تلے روندتے چلے جاتے ہیں ۔۔
وہ شخص جسکو آپ نے بڑے مان اور چاوء سے میرے لیئے چنا تھا وہ تو مجھے بےسائبان کر گیا ہے ۔ وہ تو کھوکھلا گندہ انسان ہیں جس کا نام سوچ کر مجھے گن آرہی ہے ۔۔۔ بابا جانی میں نے تو اس شخص سے صدق دل کے ساتھ اپنی خانگی زندگی کا آغاز کیا تھا ،اپنے آپ کو دنیا کی ہر اس آلودگی سے بچایا جس میں کتنے نوجوان اپنی کچی عمر میں جذبات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، آپکی رانی تو اپنی سہیلیوں کو یاددہانی کرواتی تھی اب خود اس اندھے کنویں میں گر گئی ہے ۔
بابا جانی میں تو ایک ایسے دہرائے پر آگئی ہوں جس کے ایک طرف کھائی ہے اور دوسری طرف دلدل ہے ۔کھائی میں کودوں تو جان سے جاوءں گی اور دلدل کی غلاظت میرے ضمیر کو چین نہیں لینے دے گی ۔۔۔
دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے رانی اجڑے حلیے کے ساتھ لٹے پٹے قافلے کی مسافر لگ رہی تھی ۔۔۔
قافلہ تو آگے بڑھ گیا لیکن رانی کی پہچان بھول کر اسے خاردار جھاڑیوں کے حوالے کر گیا ۔ ایک ایک کانٹے کو چننا بہت ناگزیر ہو رہا تھا ۔۔۔
دبیز قالین پر بیٹھی رانی کو یہ سب پھٹےٹاٹ سے بھی برتر لگ رہا تھا ۔۔۔
رانی دیکھ تیرے بڑے تایا تائی نے کتنے چاوء سے تیرا ہاتھ مانگا ہے اور کسی قسم کی بھی کمی بیشی نہیں ہونے دی۔۔ انہوں نے یہ فیصلہ کچھ سوچ کر ہی کیا ہو گا ،انکے لیئے بھلا رشتوں کی کمی تھی ۔ ایک چھوڑ دس ۔ تیری اپنی پھپھی کی جوان بیٹیاں تھیں لیکن انہوں نے صرف میری رانی کو منتخب کیا ۔۔ رانی میری جان تو بہت خوش نصیب ہے ہماری زندگیوں میں ہی ہمارے ہاتھوں ایک محفوظ پناہ گاہ میں جا رہی ہے ۔۔ کبھی بھی ہمیں شکایت کا موقع نہ دینا ۔۔ کبھی ایسے حالات پیدا نہ کرنا جس میں تیرے والدین کو تیرے سسرال کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے ۔امی آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں؟! میں کوئی پاگل تھوڑی ہوں؟ ، عقل شعور رکھتی ہوں ۔ اچھے برے کی تمیز ہے مجھے ۔۔ بات تو تیری صحیح ہے میری گڑیا پر بعض اوقات تو جذباتی ہو جاتی ہے ۔ جذبات میں آکر میرے اس بھتیجے انس کا حشر نشر کر دیتی ہے۔۔ رانی نے انس کے ذکر پر منہ بنایا ۔۔۔ اب یہ نا ہو زیاد بھی تیری زد میں آجائے ۔ بیٹی وہ تیرا مجازی خدا بن گیا ہے، اس کی عزت و احترام تم پر واجب ہے۔۔۔ امی جان ہر وقت آپ اور بابا ایسی ہی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ کیوں کہ ہمیں پتا ہے خانگی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں ۔۔۔ کبھی غلطی ایک فریق کی ہوتی ہے تو کبھی دوسرے کی ، لیکن معاملات اسی وقت سلجھتے ہیں جب ان میں سے ایک فریق جھک جائے ، ہار مان جائے ۔۔۔ اور مجھے پختہ یقین ہے میری بیٹی میں یہ صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں ۔۔ امیییی مجھے چھیڑ رہی ہے نا ؟؟
نہیں !! امید کرتی ہوں بس ایسا ہی ہو ۔۔
ماں کی باتیں بھی رانی کے دماغ میں گردش کیئے جا رہیں تھیں ۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“مومن بندے کا حال نرالا اور انوکھا ہے ، اس کے سارے حالات اس کے لئے خیر کے ہیں، اور یہ مومن کے علاوہ کسی اور کے لیئے نہیں ہے، اگر اسکو راحت پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے ، لہذا یہ حال اس کے لئے بہتر ہے، اور اگر تکلیف پہنچتی ہے تو اس پر صبر کرتا ہے، تو یہ حال بھی اس کے لئے بہتر ہے” ۔( صحیح مسلم)
گھنٹوں ایک ہی حالت میں گزر گئے، موبائل پر سیٹ الارم نے فجر کی نوید سنائی ۔۔۔ فورا الارم بند کیا اور دھیرے سے دروازے کا لاک کھول کر وضو کے لئے چل دی ۔۔ واپسی پر دیکھا تو زیاد کے کمرےکا دروازہ بند تھا ، دل میں مذید نفرت ابھری اور فورا اپنے کمرے میں آگئی۔ تسلی سے نماز ادا کی اور خالی ہاتھ اپنے رب کے سامنے پھیلا لیئے ۔۔۔
طویل دعاوں کے بعد دل میں کچھ اطمینان محسوس کیا تو بستر پر آگئی۔۔ یکسر بدل جانے والے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی سوچا کے زیاد کا سامنے کرنے سے گریز کرے گی ۔۔ دل میں نفرت کی ابھرتی چنگاری کو دبایا اور حکمت عملی ترتیب دینے لگی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
صبح 8:30 بجے دروازے پر مسلسل دستک نے دل کی دھڑکن تیز کر دی ۔۔
رانی دروازہ کھولو ، جواب کیوں نہیں دے رہی ہو ؟ رانی مجھے پریشانی ہو رہی ہے پلیز دروازہ کھولو ۔۔ دھڑ دھڑ دروازہ بج رہا تھا ۔ جی میں آیا گلدان اٹھا کر سر پر دے مارے لیکن پھر
(حسبی اللہ ونعم الوکیل) ☆میرے لیئے میرا رب ہی کافی ہے۔☆ پڑھتے ہوئے دروازہ کھولا ۔۔
رانی میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں، میں نے ابھی کام کےلئے بھی نکلنا ہے ۔۔ تم روز میرے سے پہلے اٹھتی ہو اور ناشتہ ٹیبل پر ہوتا ہے ، آج تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟
رانی بس خالی نظروں سے زیاد کو دیکھے جارہی تھی ۔۔ اوکے مائینڈ نہ کرو تو یہ صبح صبح ناشتے والی عادت بھی تم نے ہی مجھے ڈالی ہے ۔۔۔
بغیر جواب دیئے رانی باتھ روم میں چلی گئی اور پانی کے چھینٹوں سے اپنے اوپر طاری سستی کو دور کرنے کی کوشش کی ۔۔ سارا جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا ۔۔۔
باتھ روم سے فراغت کے بعد سیدھی کچن میں گئی اور کیٹل میں پانی ڈال کر ابلنے کے لئے رکھ چھوڑا اور ٹوسٹ بنانے لگ گئی ۔۔
بار بار رات والا منظر آنکھوں کے سامنے تازہ ہو رہا تھا ۔ آنکھیں آنسوؤں سے بھری جا رہیں تھیں ۔۔ چونکہ رانی کی پشت زیاد کی طرف تھی جوکہ اپنے موبائل میں مصروف کسی اور شیطانی منصوبے کا لائحہ عمل تیار کر رہا ہو گا ، رانی نے سوچا ۔۔
اب تو زیاد کا ہر عمل غلیظ اور شیطانی ہی محسوس ہو رہا تھا ۔۔
فرائیڈ انڈا تیار کر کے ٹوسٹ اور چائے زیاد کے سامنے رکھ کر خاموشی سے اپنے کمرے میں واپس آ گئی ۔۔۔
اندر آتے ساتھ ہی کمرہ لاک کیا ، اس شخص کا کوئی اعتبار نہیں ہے مجھے جان سے ہی نہ مار دے ۔۔
جسم پر کپکپی طاری ہو گئی ۔۔۔
جی چاہا تایا تائی کو کال کر لوں لیکن پھر سوچا یہ شخص گھر سے نکلے گا تو ہی کروں گی یا پھر انکے گھر ہی شفٹ ہو جاتی ہوں، بولوں گی مجھے سارے پاکستان والے یاد آرہے ہیں، اکیلے میں دل نہیں لگتا ،اسکے بعد پھر بعد کی بعد میں دیکھوں گی ان شاءاللہ ۔۔
دستک دوبارہ شروع ہوگئی ۔ دل خطرے کی گھنٹیاں بجانے لگ گیا ۔۔ اپنے کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھا جو باہر کی طرف کھلتی ہے، سوچا ادھر سے ہی باہر کود جاتی ہوں اور بغیر زیاد کے علم میں لائے تایا تائی کے پہنچ جاوءں گی پھر یہ کچھ بھی نہیں کر سکے گا ۔۔۔ ابھی تو اسکو اپنا راز فاش ہونے کا ڈر ہے ، یہ تو میری جان بھی لے سکتا ہے تاکہ ثبوت ہی ختم کر دے ۔۔۔ اسی شش و پنج میں تھی اور سرعت سے الماری میں سے گرم کپڑے نکالنا شروع کر دیئے کے اچانک ۔۔۔۔
