Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sabeel (Episode 05,06)

Sabeel by Umme Umair

پاوں غیر ارادی طور پر سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگے، چند زینے چڑھنے کے بعد دماغ مذمت پہ اتر آیا، مجبور ہو کر ادھر ہی آخری زینے پر بیٹھ گیا ۔۔۔

موسم سرما کی شروعات میں تیز ہوا کے جھونکے جسم کے آر پار ہو رہے تھے ۔۔۔۔

بالائی منزل کے جھروکوں کو بھی مغرب ہونے سے پہلے ہی بند کر لیا گیا تھا، سوائے برتنوں کے شور اور کھانے کی مہک کے علاوہ باقی سارا آنگن بہت سونا سونا لگ رہا تھا، یا یہ شاید انس کے اندر کی اداسی تھی جو اسکو اتنا بے کل کیئے جا رہی تھی ۔۔۔

ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی رانی کی دھاڑ سنائی دے گی اور وہ نئے حکم اور نئی دھمکی سے نوازے گی یا پھر مجھے اپنے آپ میں مگن پا کر کوئی شرارت اپنی پرانی دشمنی کی آڑ میں کر گزرے گی۔۔۔۔

انس کے اندر کی اداسی گویا پورے گھر کے چار سو پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔دل ہی دل میں اپنے سکون قلب کےلئے اللہ سبحان و تعالی کو پکار رہا تھا ۔۔۔

أللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والجبن والبخل و ضلع الدين و غلبة الرجال۔۔ (صحیح بخاری:6369)

اے اللہ! میں پریشانی اور غم اور عاجزی اور سستی اور کنجوسی اور بزدلی اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غالب سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں۔۔۔

یادوں کے تانے بانے بنتے بنتے کانوں میں اللہ اکبر ،اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے )کی صدا سنائی دی۔۔۔اذان کی آواز سے دل و دماغ کچھ لمحات کےلئے سکوت اختیار کر گیا ۔۔

حی علی الصلاة، حي على الصلاة (نماز کی طرف آوء، نماز کی طرف آوء)

حي على الفلاح، حي على الفلاح( کامیابی کی طرف آوء ، کامیابی کی طرف آوء)

فورا وضو کیا اور محلے کی مسجد کی راہ لی ۔۔۔ انس ابھی گھر سے نکل ہی رہا تھا توچچا اور بابا کو بھی کمرے سے نکلتے دیکھا شاید وہ محفل کو برخاست کر کے مسئلے کا حل ڈھونڈ چکے تھے ۔۔۔۔

دل میں ایک کسک اٹھی ۔۔۔۔۔

عورتیں بھی نماز کی ادائیگی کے بعد باورچی خانے کا رخ کر چکی تھیں ۔۔۔

سلطانہ آپا رانی نے کھانا سب کےلئے تیار کیا ہوا ہے، سب اوپر چلیں ۔۔۔

رضیہ جو کھانا میں دن میں ہی تیار کر چکی ہوں اس کا کیا کروں ؟!

آپا فرج میں رکھو اور کل کھا لینا ۔۔۔

وہ سب اسی موضوع میں غلطاں تھے کہ رانی تیز تیز زینے اترتی سب کے سروں پر جا پہنچی ۔۔۔

خالہ جانی سب ابھی اور اسی وقت اوپر چل رہے ہیں میرے ساتھ بغیر کسی لگی لپٹی کے ۔۔۔

میں نے اتنا لذیذ کھانا تیار کیا ہے کہ بس آپ لوگ اپنی انگلیاں چاٹتے رہ جائیں گے ۔۔۔رانی نے چٹخارے لیتے ہوئے مزید اشتہا بڑھانے کی کوشش کی ۔۔۔

قسم سے بھوک سے میری مت مری جا رہی ہے ۔۔۔

وہی کھنکتی آواز، وہی زندگی سے بھر پور لہجہ ۔۔۔

رانی اور یہ جو سب کچھ پکا پڑا ہے ، سلطانہ بیگم نے دھائی دی ۔۔۔

خالہ جانی اپنے لاڈلے کو دیں یہ والا کھانا ، اکیلے بیٹھ کر کھانا کھائے ۔۔۔ آج یہ اسکی سزا ٹھہری ۔۔

آئے ہائے اتنی بھی کیا دشمنی ہے میرے گھبرو بھتیجے کے ساتھ؟! بھتیجے کی محبت میں پھپھو سے رہا نہ گیا تو دہائی دے ڈالی ۔۔

پھپھو آپ یہاں پر ایک دن اور ایک رات ٹھہر کر دیکھیں پھر آپکو پتا چلے کہ کتنا سیدھا سادہ بھتیجا ہے آپکا، بالکل تیر جیسا۔۔۔۔

رانی اپنی ہی رو میں بولے جا رہی تھی اس بات سے بے خبر کے انس پیچھے کھڑا اسکی باتیں سن چکا ہے ۔انس بھی اپنے نام کا ایک ،فورا رانی کے کان کے قریب ہو کر پورے زور سے باووء کیا ۔۔۔

رانی چیخ مار کر 2 فٹ اچھل کر پیچھے کو ہٹی ،خوف سے ٹانگیں تھر تھر کانپ رہی تھیں، دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو گئی کہ ایسے لگ رہا تھا ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا ۔۔۔

جیسے ہی تھوڑی سنبھلی انس کو سامنے باچھیں کھولے دیکھا ۔۔۔ باقی سب کا بھی ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔

دیکھا آپ سب بھی اس انس گیدڑ کے ساتھ مل چکے ہیں ۔ اور خاص کر میری امی اور بابا بھی ، پھپھو تو ویسے بھی انس کے حق میں ہی بولیں گی ۔۔۔

خالہ تھوڑی بہت میری طرف دار ہیں ۔۔

رانی نے منہ بسورا ۔۔۔۔۔

برخوردار کیوں تنگ کرتے ہو ہماری گڑیا کو ؟!

بابا جان اسکی حرکتیں ہی ایسی ہیں کہ اسکو جی بھر کے تنگ کیا جائے ۔۔۔ ابھی بھی یہ میری غیبتیں کر رہی تھی اور امی کو غلط پٹیاں پڑھا رہی تھی ۔۔۔۔

انس شکل اچھی نہ ہو تو بات تو اچھی کر لیا کرو ۔۔۔ رانی تنک کر بولی ۔۔۔۔

بس بس ابھی بہت ہو گیا ہے، تم دونوں ابھی بریکوں پہ پاوں رکھ لو۔۔۔ابھی تم دونوں نیا محاذ نہ کھول لینا ۔۔۔

رانی جلدی سے کھانا لگاو، تمھاری پھپھو کو گھر بھی چھوڑنا ہے ۔۔۔ انس تم پھپھو کو فون ملا کر دو تاکہ گھر کی خیر خیریت معلوم کر سکیں ۔۔۔

چچا مشتاق نے انس کو ہدایات دے کر سب کو اوپر مدعو کیا ۔۔۔

بابا جانی انس نہیں کھائے گا کھانا ۔۔۔ کیوں بھئی؟؟؟

بس نہیں کھائے گا، رانی نے لٹکتے منہ کو مذید لٹکایا ۔

بہت بری بات ہے رانی!! امی سے رہا نہ گیا اور تنبیہی نظروں سے گھورا ۔۔۔۔یہاں پر یہ چند دنوں کا مہمان ہے پھر واپس اپنی نوکری پر چلا جائے گا ۔۔ تم باقی کی دشمنی اسکی اگلی چھٹیوں تک ملتوی کر دو ۔۔۔

چلیں آپ کہتی ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ اسکے لیئے تو بہت کھانا پکا پڑا ہے ۔۔ اور ویسے بھی نیچے والا پورشن خالی ہو گا ، اگر کوئی چوری چکاری ہو گئی تو ؟! کسی کو تو یہاں موجود ہونا چاہیئے ۔۔۔

رانی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن بے سود ۔۔۔۔۔

رانی بچے آپ پریشان نہ ہو فورا اوپر جا کر کھانا لگاو ہم سب ابھی پہنچ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔امی نے دوبارہ یاددہانی کروائی ۔۔۔۔۔

رانی کا شاطر دماغ اسی وقت ایک منصوبہ تیار کر چکا تھا، باقیوں سے آنکھ بچا کر انس کو اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر ایڈوانس نوٹس جاری کر دیا ۔۔۔

انس نے بھی اپنی دونوں آنکھیں گھمائیں اور بھینگا بننے کی اداکاری شروع کر دی ۔۔۔

سب بڑے آپس میں باتیں کرتے کرتے بالائی منزل پر پہنچ چکے تھے جبکہ انس نیچے دروازوں کو تالے لگانے میں مصروف عمل تھا ۔۔

یخنی والے پلاو کی مہک نے پورے گھر کو مہکا رکھا رکھا تھا اور پھر ساتھ میں دیسی مرغی کا شوربہ ۔۔

سب نے اپنا اپنا کھانا نکال لیا اور سب اپنے اپنے کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔۔

رانی نے سب سے آنکھ بچا کر 2 سے 3 باریک کٹی ہری مرچیں باقی بچے ہوئے سالن کے ڈونگے میں ڈال دیں ۔۔۔۔

پلاو اور سالن کی پلیٹ بھر کر انس نے جیسے ہی پہلی چمچ منہ میں رکھی اسکے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔۔۔ ایسے لگ رہا تھا کے کانوں سے دھواں نکل رہا ہے ۔۔۔ چونکہ انس اپنے دشمن کی چالوں سے واقف تھا اسی لیے فورا بولا کیا کمال کا کھانا بنا ہے ، نمک مرچ تو بالکل میرے مزاج کا ڈلا ہوا ہے، ایسے لگتا ہے رانی نے مجھے اپنے پاس بٹھا کر پکایا ہے ۔۔۔

رانی تو جل بھن گئی ، انس کے ارشادات سن کر ، وہ تو سوچ رہی تھی انس تڑپے گا اور پانی پانی کرے گا لیکن یہاں تو بازی ہی پلٹ گئی ۔۔۔

واہ واہ کمال کر دیا ہے ہماری رانی نے تو آج ۔۔!!! انس اسکو چڑانے کےلئے جلتی پر تیل ڈال رہا تھا ۔۔۔۔۔

ہاں ہاں ہماری رانی تو ہر کھانے میں ماہر ہے اور اسکے ہاتھ میں جو لذت ہے اسکا تو کوئی جواب ہی نہیں ہے ۔۔۔ سلطانہ بیگم بھانجی کی خوبیوں پہ فخر سے بول رہی تھیں ۔۔۔۔

رانی کو اپنا منصوبہ فیل ہوتا ہوا نظر آرہا تھا کیونکہ انس ساری پلیٹ چٹ کر گیا تھا اور مذید کھانا نکال رہا تھا ۔۔۔۔

کھانے کے بعد چائے کا دور چلا ، زینہ علینہ برتنوں کی دھلائی میں جت گئیں اور رانی نے کچن کی باقی صفائی شروع کر دی جبکہ دماغ مسلسل نئے منصوبے کو سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

پھپھو کو گھر چھوڑنے کے بعد باقی گھر کے بڑوں کی محفل دوبارہ سے سج گئی اور وہ اس معاملے کو حتمی شکل دینے کا سوچ رہے تھے ۔۔۔۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

رناں والیاں دے پکنڑ پرونٹھے تے چھڑیاں دی آگ نہ بلے ، ہائے ربا او ساڈی آگ نہ بلے ۔۔۔۔۔

ثوبی میرے ان بندھے ہاتھوں کی طرف دیکھ اور اپنی یہ بے سری آواز کو بند کر اور زبان کو لگام دے ، میں جب سے آیا ہوں تو کبھی کوئی تھرڈ کلاس بات کرتا ہے تو کبھی کوئی فورتھ کلاس ۔۔۔

تو نے کبھی فرسٹ کلاس بات کا بھی سوچا ہے ؟؟ یار کبھی تو کوئی سلجھے ہوئے انسانوں والی بات کیا کر ۔۔۔ ہر وقت تیری چولیں سن سن کر کان بھی تھک گئے ہیں ۔۔۔

ثوبان نے خاموشی سے انس کے اقوال زریں کو سنا اور کچھ توقف کے بعد بولا ۔۔۔ کسر نفسی ہے جناب کی ویسے انس تو اسی قابل ہے کہ تیری درگت بنائی جائے، تیرے جیسے گھامڑ کا علاج صرف ہماری باجی رانی صاحبہ کے پاس ہی ہے ۔۔۔۔۔ تو واقعی چھترول کے قابل ہے پیارے ۔۔۔۔

انس نے بھنویں اچکائیں ۔۔۔۔

مطلب کیا ہے تیرا؟

میرا مطلب وہی ہے جو تجھے سمجھ آگیا ہے اب ادھر سے پھٹا کھا تاکہ میں اپنی بقایا ہانڈی پایہء تکمیل تک پہنچاوں ۔۔۔

پیارے تو تو پکا پکایا کھاتا ہے اور دھلا دھلایا پہنتا ہے جبکہ اس ناچیز کو خود ہی پکانا بھی پڑتا ہے اور دھلوانا بھی ۔۔۔

کوئی ہے حال ؟! جوان جہان بیٹے کو زمانے کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ گئے ہیں سارے ۔۔۔

اچھا بس اب زیادہ مظلوم نہ بن ! لا مجھے ادھر دے چمچا ہی چلانا ہے کونسا ببودر (وزنی پتھر جو پہلوان اٹھاتے ہیں ) اٹھانا ہے ۔۔۔

یہ لے پیارے دکھا اپنی صلاحیتوں کو ۔۔۔ دیکھتے ہیں کتنے سارے تیر مارتا ہے ۔۔۔۔

ثوبی یار پہلے ہی ساری رات نیند نہیں ہوئی اور اوپر سے تیری چخ چخ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔۔۔

کچھ سمجھ نہیں آرہی میں کیا کروں؟!

انس یار ہاجمولہ کی گولیاں لے مجھے تو شک ہو رہا ہے یہ ساری پریشانی تیرے ہاضمے کو خراب کر رہی ہے، دیکھ لینا کچھ عرصے بعد تیرے سینے میں جکڑن بھی شروع ہو جائے گی ۔۔۔

پہاڑی بکرے کام کی بات کر !

اوہ انس پہاڑ سے یاد آیا، ٹریننگ کے بعد پہاڑوں پر چلتے ہیں اور لگے ہاتھوں کلائمنگ کے گر بھی سیکھ لیتے ہیں ۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جی بھائی جان آپا آئیں تھی انہوں نے ہم تک آپکا پیغام پہنچا دیا ہے، بھائی جان ہمیں آپ سے عزیز تو کو ئی بھی نہیں ہے، مجھے اور رضیہ کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے اب رانی سے رضامندی لینی باقی ہے ۔۔ آپ تو جانتے ہیں کہ بچی سے پہلے سے پوچھنا بہت ضروری ہے ۔۔۔

جی جی بھائی جان میں آپکے آنے سے پہلے ہی پوچھ لوں گا بلکہ آج رات کو ہی بات کرتا ہوں ۔۔۔ ابھی پڑھ بھی رہی ہے ۔۔۔۔ جی بھائی جان مجھے مکمل بھروسہ ہے آپ کے ہر فیصلے پر ، آپ نے یقینا ہم سب کے لئے کچھ اچھا ہی سوچا ہے ان شاءاللہ ۔۔۔

فون کے بعد رانی کے بابا گہری سوچ میں ڈوب گئے اور رضیہ بیگم کو سارے حقائق سے باخبر کرنے کے بعد رانی سے بات کرنے کی تنبیہ کی ۔۔۔۔۔

رضیہ بیگم نے تمام اونچ نیچ رانی کو سمجھا کر اس سے جواب مانگا تو رانی ۔۔

Episode 06

رضیہ بیگم نے تمام اونچ نیچ رانی کو سمجھا کر اس سے جواب مانگا تو رانی ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔

کیا بات ہے گڑیا؟؟ کیوں روتی ہو ؟؟ اگر تمھاری مرضی نہیں تو ہم بڑے بھیا کو انکار کر دیتے ہیں ۔۔

رضیہ بیگم نے رانی کو سینے سے لگا کر ڈھیر سارا پیار کیا ۔۔ آنسو صاف کیئے لیکن رانی کا رونا طول ہی پکڑے جا رہا تھا ۔۔

رانی مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے، ماں صدقے بتاو تو صحیح آخر بات کیا ہے ؟؟

کیا تمھیں انس پسند ہے ؟

رانی ایک دم رونا بھول کر اپنی پرانی روش پر لوٹ آئی، نام نہ لیں اس گیدڑ کا، زہر کی طرح لگتا ہے مجھے بلکہ زہر سے بھی برا ۔۔۔۔

مجھے تو قبر بھی اسکے ہمسائے میں نامنظور ہے کجا کہ میں انس سے پیار کی پینگیں بڑھاوں ۔۔۔۔۔

اے لڑکی باوءلی ہو گئی ہے کیا؟؟ ابھی تو تو رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی جیسے ہی میرے بھانجے کا نام آیا تو تجھے پتنگے لگ گئے ۔۔۔

امی جان بس بول دیا ہے نا کہ مجھے انس زہر کی طرح لگتا ہے ۔۔۔

اچھا اچھا اب زیاد شہد کا تو رشتہ قبول کر لو ۔۔۔

دیکھا ہے نا امی آپکو اپنا بھانجا کتنا عزیز ہے، ابھی بھی اسکی طرف داری میں بول رہی ہیں ۔۔۔وہ ہے ہی اتنا اچھا اگر بڑے بھیا رشتہ نہ مانگتے تو تم انس کی دلہن ہی بنتی ۔۔۔۔

اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے انس گیدڑ سے جان چھوٹی ورنہ وہ میرے سے بدلے کی آڑ میں مجھے کمانڈوز میں بھیج دیتا ۔۔۔

میری جان انس میں بہت خوبیاں ہیں جو تمھیں نظر نہیں آتیں ۔۔۔

بس پھر سے شروع ہو گیا خالہ کا انس نامہ ۔۔۔

ابھی بھی دل کر رہا ہے جاکر دھونی دون اسکے کمرے کے باہر سے ۔۔۔۔

رانی خبردار اگر تم نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو، 2 دنوں میں تمھارے سسرال والے آرہے ہیں ،بس سادگی سے نکاح ہو گا اور رخصتی جب ویزہ ہو جائے گا ۔۔۔ وہ سارے کاغذات اپنے ساتھ لے کر آرہےہیں جانے سے پہلے بریٹش ایمبیسی میں جمع کروا جائیں گے ان شاءاللہ ۔۔۔۔

اسکے علاوہ تمھارے تایا نے بولا ہے کہ ہمیں کسی قسم کی خریداری کی ضرورت نہیں ہے سب سامان وہ ادھر لندن سے ہی خرید چکے ہیں ۔۔۔۔وہ تو صرف تمھارے بابا کے جواب کے منتظر تھے ۔۔۔۔

بابا نے ہاں کر دی ہے امی؟؟؟

تو تمھارا کیا خیال ہے اتنے اچھے ہمدرد بھائی کو انکار کرتے اور خالی ہاتھ لوٹاتے ؟ وہ بھائی جس نے ساری زندگی اپنا دست شفقت نہیں اٹھایا ۔۔۔

اللہ سبحان و تعالی دونوں میاں بیوی کو اسکا اجر عظیم دے آمین یا رب العالمین۔۔ تمھارے بابا کا پرائیویٹ علاج کیا ہم دھیاڑی لگا کر کام کرنے والے لوگ برداشت کر پاتے؟! آج انکی وجہ سے تمھارے بابا تم لوگوں کے سروں پر سلامت ہیں ، ورنہ یاد نہیں ہے انکی کیا حالت ہو گئی تھی؟۔ تندرستی ملی ہے تو زندگی کا پہیہ چل رہا ہے ۔۔۔

لیکن امی ۔۔۔ لیکن ویکن کچھ بھی نہیں ۔۔ رانی نے دوبارہ دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیا 💦💦💦۔

اب کیوں رو رہی ہو ؟

امی میں کیسے آپ سب کے بغیر اتنے دور رہوں گی ؟ میرا وہاں دل نہیں لگےگا ۔۔۔💦💦💦💦💦

رانی دیکھو ہر بیٹی کو ایک نہ ایک دن میکہ چھوڑ کر اپنے سسرال سدھارنا ہی پڑتا ہے ۔، چاہے وہ دوسرا شہر ہو یا دوسرا ملک ۔۔۔ بیٹیاں تو چڑیاں ہوتی ہیں، اپنے میکے کے آنگنوں کو آباد کرنے والی، آنگن کے در و دیوار میں اپنی پیدائش کے رنگ بھرتی ہیں انکی ہنسی کی کھنک سے در و دیوار بھی مہزوذ ہوتے ہیں۔۔

جیسے ہی اپنے نصیب کا لکھا شخص 3 بولوں کی نظر کرتی ہیں، فورا اڈاری مار جاتی ہیں ۔۔۔

انکی ہنسی کی کھنک، میٹھی میٹھی شرارتیں سبھی کچھ تو لے جاتی ہیں، والدین کے آنگن میں صرف اپنی خوبصورت یادیں چھوڑتی ہیں یہ بیٹیاں ،یہ ننھی چڑیاں ۔۔ میں نے ننھی چڑیاں بولا ہے ننھی لومڑیاں نہیں بولا ۔۔ امییی جان آپ بھی اس گیدڑ کی طرح میرا مذاق اڑا رہی ہیں ۔۔ ارے میں بھلا مذاق کیوں اڑانے لگی، میں تو تمھارا دل بہلا رہی ہوں ۔۔

امی مجھے نہیں پتا ، میں نے نہیں جانا انگلینڈ ۔۔۔

پگلی تم کونسا اگلے ہفتے جارہی ہو ؟ ابھی تو 4 سے 6 مہینے کا وقت درکار ہے ۔۔اور ویسے بھی نکاح میں اللہ نے بہت ساری رحمتیں اور برکتیں پوشیدہ رکھی ہیں، دل خود بخود اپنے سرتاج کی طرف کھچا چلا جاتا ہے، پھر باقی رشتہ دار پیچھے رہ جاتے ہیں اور سر کا تاج عزیز ہو جاتا ہے ۔۔۔ باتیں ابھی بہت ہو گئیں لہذا تم بھی سو جاوء صبح فجر کے لئے تمھیں اٹھانا کسی محاذ پر جانے سے کم نہیں ہے، کتنی دفعہ تو تمھارے اوپر سے نیچے گرے کمبل کو رات آکر درست کرتی ہوں ۔۔

اور ہاں آخری بات اپنے پلے سے باندھ لو ۔۔

بس ابھی کوئی شرارت نہیں کرنی اور وہ بھی خاص کر میرے بھانجے کے ساتھ ۔۔۔

اس دفعہ تو تم نے تو حد ہی مکا دی ہے ۔۔۔

امی وہ تو جیسے دودھ کا دھلا ہے نا ۔۔

اچھا بس بس اب مزید کچھ بھی نہیں بولنا !!

تم نے تو مسئلہ کشمیر ہی بنا ڈالا ہے ۔ ہماری سیڑھیاں تو میدان جنگ بنتی جارہی ہیں ۔۔۔

ابھی صرف دو دن ہیں تمھارے سسرال کی آمد میں، لہذا سنجیدگی اختیار کرو ، اور خبردار انس کے ساتھ دوبارہ بدسلوکی کا سوچا بھی!!

رانی ہاتھ گود میں رکھے گہری سوچوں میں گم تھی ۔ بار بار آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔۔۔نہیں کرتی کچھ بھی نہیں کرتی امی جان ۔۔۔ بولتے ساتھ ہی رانی ماں کے ساتھ لپٹ گئی ۔۔۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

انس بیٹا ہم سب نے جو مل کر فیصلہ کیا ہے تمھیں اس پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے ؟؟؟

کچی عمر سے دماغ میں یہی ڈالا گیا ہے کہ تمھاری شادی رانی سے ہوگی تو اب یہ فیصلہ میں کیسے قبول کر سکتا ہوں بابا جان ؟؟

انس سب کچھ صرف سوچ کر ہی رہ گیا، بولنے کی تو سکت ہی نہ تھی، اپنی پاکیزہ ادھوری محبت سے دستبرداری انس کے لئے جان لیوا ثابت ہورہی تھی، کبھی سوچا بھی نہ تھا کے وقت کا تیز دھارا اسکی محبت اس سے چھین لے گا ۔۔

انس کیا سوچ رہے ہو بیٹا؟؟؟ میں دیکھ رہا ہوں کل سے تم کافی خاموش دکھائی دے رہے ہو ۔۔

ارے نہیں بابا ۔۔ انس نے فورا اپنے جذبات کو قابو کیا ، ایسی تو کوئی بات نہیں ہے الحمداللہ ۔۔ اصل میں مجھے واپس جانا ہے تو بس تیاری میں مشغول ہوں ۔۔۔

میں تمھارا باپ ہوں بیٹا، اگر تم رانی میرا مطلب ہے ۔۔۔ ارے نہیں بابا جانی ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ سب بڑوں نے مل کر جو بھی فیصلہ کیا ہے وہ میرے اور رانی کے حق میں بہتر ہی ہو گا ، اور ویسے بھی بزرگوں کے فیصلے پائیدار اور دیرپا ہوتے ہیں۔۔۔۔

آپ بالکل بےفکر ہو جائیں، مجھے کل صبح ہی نکلنا ہے تو میں ابھی ہی جاکر چچا چچی سے بھی مل لوں پھر تو مہینوں بعد ہی ملاقات ہو گی ان شاءاللہ ۔۔

پر انس تم نے تو پرسوں جانا تھا ، سلطانہ بیگم تڑپ گئیں ماں جو ٹھہریں ۔۔۔ اپنے بیٹے کی دلی کیفیت سے تھوڑی بہت واقف تھیں یہ الگ بات کہ وہ کسی پر بھی ظاہر نہیں ہونے دے رہا تھا ۔۔۔۔۔

بیٹا نہ تم نکاح میں شریک ہو گے اور نہ ہی تایا تائی سے ملاقات کر پاو گے اور سب سے بڑھ کر ہمارے گھر کے پہلے داماد زیاد سے مل پاو گے ۔۔۔

لفظ داماد سن کر انس کے دل سے ایک ہوک اٹھی ایسے لگ رہا تھا کے کوئی آری سے اس کا دل چیر رہا ہے، مرد تھا مضبوط اعصاب والا، اپنے جذبات کو قابو پا لینے والا، ان نازک لمحات میں بھی اپنی محبت کو مہارت سے چھپا گیا ۔۔۔ میں ذرا سب کو الوداع بول آوں ۔۔۔میں بس یوں گیا اور یوں آیا ۔۔۔

بیٹا ذرا دھیان سے پتا ہے نا رانی اب ہمارے پاس مہمان ہے اور ویسے بھی پردیسی ہو جائے گی ۔۔کسی قسم کی دل آزاری نہ ہو ۔۔

آپ بےفکر ہو جائیں امی جان ۔۔۔

دستک کے چند لمحوں بعد ہی چچا نے دروازہ کھولا ، سلام دعا کے بعد انس نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا جس پر چچا چچی دونوں غمگین نظر آرہے تھے ۔ انس بچے اتنی جلدی، بس کیا کروں بلاوا آگیا ہے جانا تو پڑے گا ۔ سرکاری کام ہے چچی جان ۔

میرے بچے تمھاری کمی شدت سے محسوس ہو گی ۔۔ چچا جان شاید فارس بھیا کو چھٹی مل جائے تو وہ آکر سب سنبھال لیں گے ۔۔ ہاں پر ابھی اس کا بھی پکا پتا نہیں ہے، ہر چیز ایک دم ہی طے پائی ہے کسی کو موقع ہی نہیں ملا ۔۔ چلو اللہ سبحان و تعالی سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے آمین ۔۔۔۔جاوء میرے بچے اللہ کے حفظ و امان میں ۔۔

انس چچا سے بغل گیر ہو کر چچی کی طرف آیا جو سگی خالہ بھی ہیں، رضیہ بیگم کی ضد تھی کہ آپا سلطانہ کے بچے مجھے چچی کہہ کر پکاریں ۔۔۔۔

چچی نے سینے سے لگا کر ڈھیر سارا پیار کیا اور دعاوں تلے رخصت کیا ۔۔

چچی جان سب لڑکیوں کو میرا سلام اور رانی کو میری طرف سے ایڈوانس میں مبارک باد دے دینا۔۔۔

ابھی تو وہ ساری اپنے اپنے کمروں میں دبکی بیٹھی ہیں، آج موسم کے بھی تیور کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے ۔۔ کوئی بات نہیں ہے میں بس چلتا ہوں ۔ السلام و علیکم ۔۔۔۔

واپسی پر کوریڈور سے نکل کر سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھائے تو کھڑکی سے رانی کی کھنکتی آواز کان میں پڑی ۔۔۔ بقول شاعر عرض کیا ہے ۔۔۔

“”اب ہوائیں خود ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا “”

جل گئے ہو گیدڑ انس ؟!

میں بھلا کیوں جلوں گا چالاک لومڑی ۔۔

لگ تو ایسے ہی رہا ہے جیسے دم دبا کر بھاگ رہے ہو ۔۔۔

رانی صاحبہ میں نوکری اپنے ماموں کی پولیس میں نہیں کرتا ۔۔ یہ سرکار کی پولیس ہے ،انکی مرضی کے مطابق چلنا پڑتا ہے ۔۔

بڑے فرمانبدار ہو !!

وہ تو میں ہوں ۔۔

اپنے منہ میاں میٹھو بننے والی عادت تو تمھاری بہت قدیم ہے ۔۔۔

یہی سمجھ لو ۔۔

آج تو تم نے سارے ہتھیار ہی ڈال دیئے ۔۔۔

رانی اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی انس کو زچ کر رہی تھی ۔۔ تم جو مرضی سمجھو رانی ، میں نے ہار مان لی ہے ، تم جیتی میں ہارا۔

“ﺗﻮ ﺟﻮ ﺧﻮﺵ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﮯ ﮐﺎﻓﯽ

ﺟﯿﺖ ﺟﺎ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺮﯼ ﮨﺎﺭ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮ ﺩﮮ!””

اب اجازت ہے میں جاوں ؟!

ہائے ربا میں تو بےہوش ہو جاوءں گی !! اجازت اور وہ بھی مجھے سے ؟!

جی تم سے !!

میں تو تمھارے دشمنوں کی فہرست میں اول درجے کی پوزیشن سنبھال چکی ہوں تو یہ اتنی مہربانی کیوں فرمائی جا رہی ہے اور اجازت بھی اپنی اول دشمن سے ۔۔۔۔

بس وقت اور حالات بدلتے دیر نہیں لگتی رانی صاحبہ ۔۔ اب میری فکر چھوڑو اور اپنے دلہے زیاد کا سوچو جو سات سمندر پار سے تمھیں لینے آ رہا ہے ۔۔۔

اور اگر میں بولوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *