Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sabeel (Episode 26)

Sabeel by Umme Umair

ہیلو بولتے ہی بابا کی آواز کانوں میں پڑی ۔رانی نے ضبط کی آخری حد تک اپنے آپ کو رونے سے روکے رکھا ۔حال احوال کے بعد بابا نے علینہ کی بیوقوفی پر شدید افسوس کا اظہار کیا ۔۔ رانی بچے تمھیں تو پتا ہے علینہ بچی ہے ، اتنی باریک بینی سے نہیں سوچتی کہ بہن پردیس میں بیٹھی ہے خواہ مخواہ تمھیں بتا کر پریشان کر دیا ہے۔۔

ہماری واپسی کل رات دیر سے ہوئی تو پھر فون کرنا مناسب نہیں لگا ۔۔ بہت مرتبہ بھائی جان کو فون ملایا ہے لیکن وہ تو اٹھا ہی نہیں رہے ۔۔

رانی میری گڑیا ثوبان کے بارے میں پریشان ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے ۔۔ ابھی وہ پورے ہوش و حواس میں ہے ماشااللہ ۔ باتیں بھی کر رہا تھا ۔۔۔ دلیر بچہ ہے ماشااللہ ۔ اللہ اسکو لمبی زندگی دے ۔۔ آمین ۔۔ ثوبان کی ضد پر زینہ کو ادھر ہی چھوڑنا پڑ گیا ہے، اسکا کہنا تھا میں کسی قسم کے رسم و رواج کا قائل نہیں ہوں ۔ زینہ میری منکوحہ ہے اور میرے پاس ہی رکے گی ۔۔ پھر انس کا بھی زور تھا کہ زینہ کو ثوبان کی دیکھ بھال کرنی چاہیئے ۔۔۔ سب کے مشترکہ فیصلے کے بعد دونوں کو اللہ کے سپرد کر آئے ہیں ۔۔۔

رانی کے آنسو بلا کسی روک ٹوک ٹپ ٹپ جاری تھے۔ رانی میری گڑیا سب خیریت ہے ؟؟ تم کچھ بول نہیں رہی ہو ۔۔ رانی رو رہی ہو؟ رانی رانی بات کرو میری جان ۔۔ گلے میں آنسوؤں کا پھندا رانی کو مذید ہچکیوں میں لے گیا ۔ روتے روتے فون تایا کو پکڑا دیا ۔۔ مشتاق میرے بھائی زیاد اب ہمارے ساتھ نہیں رہا ۔ کیا مطلب ہے بھائی جان ؟؟ زیاد اس فانی دنیا سے جا چکا ہے ۔۔ کیا کہہ رہے ہیں بھائی جان ؟ ۔

رانی کے بابا کے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا ۔۔۔ لڑکھڑا کر پاس پڑے موڑے پر بیٹھ گئے ۔۔ رانی کے بابا مجھے بات کرنے دیں ۔۔۔ جیسے ہی فون کان سے لگایا تو پیچھے سے رونے اور سسکیوں کی آواز کانوں میں ابھری تو کسی انہونی کا خوف پورے جسم میں سرائیت کر گیا ۔۔ پورے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی ۔۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے بہت اونچائی سے گہری کھائی میں دھکا دے دیا ہو ۔۔دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا ۔۔جوان بیٹی کی بیوگی کا روگ والدین کو توڑ گیا ۔۔۔ ڈیڈھ سال پرانی شادی اور بیٹی بیوہ ہو چکی ہے ۔۔

سب دوست احباب میں خبر پھیل گئی کے زیاد کا انتقال ہو گیا ہے ۔۔ اتنی جوان موت پر ہر آنکھ اشک بار تھی ۔۔۔

زیاد کے مردہ جسم کو تمام کاغذی کاروائیوں کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔۔۔ قریبی مسجد میں غسل کے بعد قریبی رشتہ داروں کو آخری دیدار کروانے کی اجازت دی گئی ۔ رانی کانپتے وجود کو گھسیٹ کر زیاد کے قریب آئی ۔۔ نیلا جامنی سوجھا چہرہ سفید کفن میں لپٹا تھا ،کانوں اور ناک میں ٹھونسی گئی روئی اس بات کی شاہد تھی کہ جسم سے خون کا اخراج ابھی بھی جاری ہے ۔۔ زیاد کے نقوش خوفناک اور ڈراونے لگ رہے تھے ۔۔رانی کا دل ایک دم مٹھی میں آ گیا ۔۔ جسم پر خوف سے کپکپی طاری ہو گئی۔ نکاح سے لے کر لندن آنے تک کے سب مناظر رفتہ رفتہ دماغ میں ہلچل مچانا شروع ہو گئے ۔۔۔ زیاد جو ہر وقت ٹپ ٹاپ خوشبووں سے معطر جسم لیئے اپنی عیاشیوں میں گم تھا ، آج کسی کے دو ہاتھوں اور دو کاندھوں کا محتاج اپنی آخری منزل کی طرف بے یار و مدد گار خالی ہاتھ روانہ تھا ۔۔ ایک ایسی منزل جس میں قریبی سے قریبی رشتہ دار بھی ساتھ نہیں دے سکتا ۔۔ اندھیری قبر میں زیاد اور اس کے اعمال جارہے تھے ۔۔ زیاد کا جاہ و جلال، زیاد کے برانڈڈ کپڑے جوتے سب اس فانی دنیا میں پیچھے رہ گئے ۔ انسان اکیلا ہی اس دنیا میں آتا ہے اور اکیلا ہی جاتا ہے ۔۔ زیاد میں نے تمھیں معاف کیا۔ میرے دل میں تمھارے لیئے رتی برابر بھی غصہ نہیں ہے ۔ تمہاری ہر چھوٹی بڑی غلطی کو رانی نے معاف کیا ۔ یقینا میرا اور تمہارا ساتھ اتنی ہی مدت کے لئے مقرر تھا ۔۔

تمہاری آخری منزل قبر تمہارے انتظار میں ہے ، میں تمھیں رب العالمین کے سپرد کرتی ہوں زیاد ۔۔ رانی کی آنکھیں غم و خوف سے جھل تھل تھیں ۔۔۔

“”عثمان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے (تو اتنا) روتے حتی کہ آپ کی داڑھی بھیگ جاتی ۔ آپ سے کہا گیا: آپ جنت اور جہنم کو یاد کر کے اتنا نہیں روئے جتنا اس (قبر) سے روتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا:بےشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بلا شبہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے” ۔ اگر آدمی اس سے بچ گیا تو اسکے بعد بہت آسانی ہے ۔ اور اگر اس میں بچ نہ سکا تو اس کے بعد بہت ہی برا ہے۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میں نے جتنے منظر دیکھے ہیں ان میں قبر (کا منظر) سب سے ہولناک ہے ۔”(سنن الترمزی:2308)

ابو سعید الخدری سے روایت ہے کہ بےشک تنگ زندگی (کا مفہوم)یہ ہے کہ اس پر ننانوے کیڑے (سانپ) مسلط کر دیئے جاتے ہیں جو قبر میں اسے ڈستے، نوچتے رہتے ہیں ۔(احمد ابن حنبل:38/3 ،ابن حبان:783)

○○○○○○○○○○○○○○○○○○○

امی یہ سب کیسے اچانک ہو گیا ہے؟ زینہ رندھی ہوئی آواز میں امی سے اپنی بڑی بہن پر آنے والی آزمائش کے بارے میں پوچھ رہی تھی ۔۔ بس کر میری بچی ! نہ رو ! دیکھو اللہ نے تمہارے ثوبان کو دوبارہ نئی زندگی بخشی ہے، میری بچی ! ثوبان وہ خود ابھی بیمار ہے اسکو زیادہ پریشان نہ کرو ۔ اس کا خیال رکھو میری جان ۔۔ تمہاری بہن کو اس کے نصیب کا لکھا مل گیا ہے ۔۔ اب تمہارا یہاں واپس آنا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ انہوں نے جنازے کے بعد زیاد کو ادھر ہی مسلمانوں کے قبرستان میں دفنا دیا ہے ۔۔ گھر واپس آ کر کیا کرو گی ؟ نہ بہن ہے پاس اور نہ تایا تائی ہیں موجود جن سے تم مل کر ان کا دکھ بانٹ سکو ۔۔ تعزیت کے لئے فون یاد سے کر لینا اور اگر ثوبان کی طبیعت ٹھیک ہوئی تو تایا سے اسکی بھی بات کروا دینا ۔۔ جی امی جان ٹھیک ہے ۔۔ زینہ نے ڈبڈبائی آواز میں جواب دیا ۔۔ ابھی میں چلتی ہوں تمھارے سسرال اور باقی رشتہ دار تعزیت کے لئے آئے ہوئے ہیں ۔۔

زینہ بہت کوشش کے باوجود بھی آنسو روک نہ پائی ۔

ثوبان زیاد بھائی اس دنیا میں نہیں رہے ۔۔ ثوبان نے سنتے ہی گہرے غم و صدمے کا اظہار کیا ۔۔

ثوبان ! جی جان ثوبان! زینہ بھاگ کر ثوبان کے سینے کے اوپر سر رکھ کر زار و قطار رونے لگی ۔۔ ثوبان اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو میں کیسے جی پاتی ۔ ابھی زیاد بھائی کا سن کر میرے سے یہ غم برداشت نہیں ہو پا رہا ہے ۔ پتا نہیں آپی کتنی اذیت سے گزر رہی ہوگی ۔۔ کاش آپی ہمارے پاس ہوتی، ہمارے قریب ہوتی تو ہم آپی کا غم بانٹتے ۔۔

زینہ میری جان حوصلہ رکھو ۔ اللہ کی یہی رضا تھی ۔ زیاد بھائی کی اتنی ہی زندگی تھی جو انہوں نے جی لی ۔ زینہ ثوبان کے چوڑے سینے پر اوندھے منہ لیٹی پھسر پھسر رو رہی تھی ۔۔ ثوبان مسلسل اسکی کمر سہلا رہا تھا اور اس کے غم میں اس کی ہمت بندھا رہا تھا ۔۔زینہ دیکھو ہر کام میں اللہ کی کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے جو ہمیں ظاہری طور پر نظر نہیں آرہی ہوتی ۔۔

“”کسی بھی مسلمان کو کوئی بھی کانٹا یا اس سے بڑی تکلیف پہنچنے تو اللہ تعالی اس کے بدلے اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے، یا اس کا گناہ مٹا دیتا ہے۔””

(صحیح بخاری:5641 ، صحیح مسلم:2573)

اب دیکھو مجھے گولی لگی ہے ۔ظاہری طور پر یہ ایک تکلیف دہ خبر ہے اور مجھے خود کافی مشقت اٹھانا پڑ رہی ہے۔ لیکن اس سب تکلیف سے میرے نجانے کتنے گناہوں جھڑے ہونگے اور ان شاءاللہ میرے رب کے ہاں میرے درجات بھی بلند ہوئے ہوں گے ، یہ سب اسی صورت میں ہے جب آپ مشکل کے وقت صبر سے کام لو ۔ زینہ رونا بھول کر ثوبان کی باتوں میں کھو گئی ۔

اور اس گولی مارنے والے کا بھلا ہو جس نے بروقت گولی مار کر مجھے میری بیوی سے ملوا دیا ہے ۔۔ ہے نا اللہ کی حکمتیں پوشیدہ ۔۔ زینہ نے فورا سر اٹھا کر ثوبان کو دیکھا جو نہایت سنجیدگی سے اسے ہی دیکھے جا رہا تھا ۔ آپ بھی نا ۔ زینہ نے منہ بسورا ۔

□□□□□□□□□□□□□□□□□□□

وقت کا پہیہ اپنی تیز رفتاری سے آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا ۔۔ رانی گھر میں اپنی عدت کے ایام گزار چکی تھی ۔۔ سارا سارا دن بےکلی میں گزر جاتا ، لیکن پھر دل کو تسلی ہوتی کہ میں نے تو اپنا حق نیک نیتی سے نبھایا ہے۔۔ آگے جو میرے رب کے فیصلے ہیں ۔۔

وہ تایا جان اگر آپ اجازت دیں تو آپ سے کچھ پوچھوں ۔۔ ہاں ہاں میری بچی پوچھو ۔ وہ وہ وہ تایا جان میں سوچ رہی ہوں پاکستان واپس چلی جاوءں ۔ لیکن میں چاہتی ہوں آپ سب بھی ساتھ ہی چلیں اور میں پاکستان میں بھی آپ سب کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ۔۔ تایا جان آپ نے ساری زندگی اس دیار غیر میں گزار دی ہے ۔ رانی میری بچی میں سوچ رہا ہوں ابھی تمھارا سٹوڈنٹ ویزہ اپلائی کر دوں ۔ کیونکہ زیاد تو ابھی رہا نہیں ہے تو تم اپنی پڑھائی شروع کر لو ۔ تایا جان مجھے یہاں پر رہنے کی قطعا کوئی خواہش نہیں ہے ۔یہ بات نہیں ہے کہ میں آپ سب کے ساتھ نہیں چاہتی ۔ میں بس انگلینڈ میں نہیں رہنا چاہتی ہوں ۔۔

پلیز تایا جان چلیں سب چلتے ہیں پاکستان ۔ وہاں کی گرم آب و ہوا آپکی صحت کے لئے بھی اچھی ہے ۔تائی جی آپ بھی کچھ بولیں نا ۔ رانی گڑیا اب بولنے کے لئے کیا بچا ہے پیچھے ۔ میری تو گود ہی اجڑ گئی ہے ۔ تائی کے موٹے موٹے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے ۔۔

تائی جی حوصلہ کریں میں ہوں نا آپ سب کے پاس ۔ میں تو کہیں بھی نہیں جا رہی ہوں، میں ادھر بھی آپ لوگوں کے پاس ہی رہنا چاہتی ہوں ۔۔ اور پھر مریم آپا کا بھی دل بہل جائے گا ۔۔

رانی اس بارے میں بھی سوچتے ہیں ان شاءاللہ ۔۔ تایا جان اگر آپ ہمارے اس گھر میں نہیں رہنا چاہتے تو ہم الگ گھر میں رہ لیں گے ۔ مجھے بالکل بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ بلکہ آپ تو جانتے ہیں بالائی منزل پر بابا کے پاس 2 کمرے خالی پڑے ہیں ۔نیچے تایا اشتیاق کے پاس بھی پورا گھر خالی پڑا ہے ۔۔ تایا جان وہ سب آپ کا بھی تو ہے نا ۔۔ رانی ہر حربہ آزما رہی تھی کہ تایا تائی کو قائل کر سکے ۔۔

یہ دیکھیں ابھی بابا کو یاد کیا تو ابھی ہی بابا کا فون بھی آرہا ہے ۔۔ السلام علیکم بابا جانی ۔ میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں بابا ؟ سب خیریت ہے؟ ۔ ہاں ہاں تمھارے لیئے ایک خوشخبری ہے ۔ اچھا بابا واقعی جلدی سے بتائیں نا ۔ میرے سے انتظار نہیں ہو پا رہا ہے ۔ اچھا چلیں امی کو فون دیں ۔۔

امی جان ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *