Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 13)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 13)
Sabeel by Umme Umair
رانی جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلی پاوں پھسلا اور زمین بوس ہوتے ہوتے بچی۔۔ زیاد نے فورا آگے بڑھ کر اسکو تھام لیا ۔۔ زیاد جوکہ رانی کے گاڑی سے باہر نکلنے کے انتظار میں کھڑا تھا ۔۔ رانی کا دل ایک دم تیزی سے دھڑکا اور چہرہ شرم سے لال ہو گیا ۔۔۔
سوری ایک دم سے پاوں پھسل گیا ہے اور مجھے پتا ہی نہیں چلا ۔۔
کوئی بات نہیں ہے، میرے پیچھے چلتی ہوئی آجاو ، زیاد نے جذبات سے عاری لہجے میں بولا اور جیب سے گھر کی چابی نکالی۔۔۔
دروازہ کھولتے ہی رانی کو اندر داخل ہونے کا اشارہ کیا ۔۔ رانی کے اندر داخل ہوتے ہی خود باہر آکر گاڑی سے اس کا سامان نکالا اور دوبارہ سے چابی لگا کر گھر کے اندر داخل ہو گیا ۔۔ رانی داخلی دروازے سے تھوڑا ہٹ کر کوریڈور میں سمٹی کھڑی تھی ۔۔۔
گاڑی سے نکلتے اور گھر میں داخل ہونے تک سردی اپنا آپ دکھا چکی تھی۔زیاد نے جو پہلا کام کیا وہ گھر میں ہیٹنگ سسٹم کو چالو کیا ( قارئین کرام کی معلومات کے لئے یہاں پر گیس کے ہیٹرز ہوتے ہیں جو ہر کمرے کی دیوار کے ساتھ نصب کیئے جاتے ، بالخصوص کمرے کی کھڑکی کے نیچے یا پھر کمرے کی کسی ایک دیوار کے ساتھ)۔۔۔
رانی ادھر آجاو ابھی سارا گھر 20 منٹ میں گرم ہو جائے گا ۔۔بلکہ بیٹھنے سے پہلے میں تمھیں تمھارا کمرہ دکھا دوں اور تمہارا سامان بھی ابھی پہنچا دیتا ہوں ۔۔
ایک دم سے رانی کو گھبراہٹ نے آن گھیرا، میرے کمرے سے کیا مراد ہے زیاد کی ؟ لیکن زبان پر نہ لاسکی ۔ اور زیاد کی پیروی میں چلنے لگی۔۔ کوریڈور سے دائیں ہاتھ پر درمیانے سائز کا ایک کمرہ جس کے ایک کونے میں کپڑوں کی الماری چھوٹے سائز کا سنگار میز اور ایک سنگل بیڈ بچھا تھا ۔۔ کمرے کے فرش پر دبیز قالین تھا جس کو دیکھ کر رانی نے اپنے جوتے باہر کوریڈور میں ہی اتار دیئے ۔۔۔
رانی ابھی اپنے الفاظ کے چناؤ کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ زیاد بول پڑا ۔ گھبراوء نہیں یہ ساتھ والا کمرہ میرا ہے ۔۔ اور اس طرف ایک اور باکس روم ہے جسے تم اپنی فالتو چیزوں کے لئے استعمال کر سکتی ہو ۔۔۔
رانی صرف گردن ہلا سکی، انس کے ساتھ قینچی کی طرح تیز زبان چلانے والی رانی کی زبان زیاد کے سامنے تالو کے ساتھ جالگی ۔۔۔
زیاد کے اتنے پرتپاک استقبال پر دل خون کے آنسو رو رہا تھا ۔۔ تم پریشان لگ رہی ہو ؟؟ نہیں تو میں ٹھیک ہوں ۔۔ رانی نے پھیکی مسکراہٹ سے زیاد کو دیکھا جوکہ دوبارہ بیٹھنے والے کمرے کی طرف رخ کر چکا تھا ۔ اس طرف آو تمھیں باتھ روم اور کچن دکھا دوں، ابھی کچھ دن پہلے ہی ڈیڈ نے یہ سارا اپارٹمنٹ ریفربش کروایا ہے ۔۔ زیاد باتیں کرتا چل رہا تھا جبکہ رانی کا دل ودماغ سائیں سائیں کر رہا تھا ۔۔۔
اگر تم فریش اپ ہونا چاہتی تو یہ رہا باتھروم ۔۔ یہاں پر ضرورت کی ہر چیز موجود ہے ۔ مم ڈیڈ نے سب کچھ خرید کر کچن اور فریج کو بھر دیا ہے ۔۔۔
تم تھوڑا ریسٹ کرنا چاہتی ہو تو چلی جاوء ۔ یا پھر مم ڈیڈ کے ابھی چلنا ہے ۔۔
جیسے آپکی مرضی ہے ۔ اگر ابھی چلنا ہے تو چلیں ۔۔
نہیں ابھی نہیں ۔۔ میں اپنے گھر کے کچھ اصول تمھیں بتانا چاہتا ہوں ۔۔۔
جی !! ادھر بیٹھو ۔ زیاد نے سامنے پڑے صوفے کی طرف اشارہ کیا ۔ رانی روبوٹ کی طرح چلتی صوفے کے ایک کونے میں ٹک گئی۔۔۔
زیاد نے گلا کھنکار کر بات کا آغاز کیا ، مم ڈیڈ نے میری شادی پاکستان سے اس لیئے کروائی ہے کہ وہاں کی لڑکیاں فرمانبدار ہوتی ہیں، خاوند کی ہر بات کا احترام کرتی ہیں، اسکی مرضی کے خلاف نہیں جاتیں۔۔۔ مجھے امید ہے تمھیں میری باتیں سمجھ آرہی ہیں ۔۔ جی جی آرہی ہیں ۔رانی نے خشک ہوتے گلے کے ساتھ جواب دیا ۔۔بقول انکے یہاں کی برٹش لڑکیاں اپنی من مانی کرتی ہیں ۔۔۔
مجھے امید ہے ہمارے درمیان جو بھی بات ہو گی اسکا تذکرہ تم کسی سے بھی نہیں کرو گی ۔۔ رانی کا دل خوف سے دھک دھک کرنے لگا ، پتا نہیں اب کونسا نیا امتحان شروع ہو گا ۔۔۔
کیا شادی ایسی ہی خشک مزاجی اور کھڑوس پنے کی انتہا کا نام ہے ؟؟ کزنوں اور سہیلیوں نے تو بڑے سبز باغ دکھائے تھے ۔۔۔ ادھر تو باغ نہیں بلکہ قحط زدہ صحرا ہے ۔۔ میرے اللہ مجھے صبر دینا آمین ۔۔
رانی دل ہی دل میں دعائیں بھی مانگ رہی تھی ۔۔
زیاد کے بجتے فون نے رانی کو لمبا سانس کھینچنے کی مہلت دی ۔۔ وہ سانس روکے اسکی باتوں کو سن رہی تھی ۔۔۔
جی ڈیڈ وہ تو ابھی آنا چاہتی ہے میں نے پوچھا ہے ۔۔ بس ابھی نکلتے ہیں، 2 منٹ میں آپکی طرف ہونگے ۔۔
فون بند ہوتے ہی زیاد نے سوالیہ نظروں سے رانی کو دیکھا ، چینج کرنا ہے تو کر لو ۔۔
نہیں ابھی چلیں میں بعد میں چینج کر لوں گی ۔۔۔ چلو پھر ۔۔ زیاد نے کافی ٹیبل سے چابی اٹھائی اور چلنے کے لئے بولا ۔۔۔
دوبارہ گاڑی میں بیٹھتے ہی پھر وہی یخ بستہ ہوائیں اور کپکپی طاری کرنے والی سردی ۔۔ گاڑی کا ہیٹر بھی سرد محسوس ہو رہا تھا ، شاید گاڑی کا انجن ابھی گرم نہیں ہوا تھا اس لیئے ۔ بہرحال 2 منٹ سے کم کا فاصلہ طے کر کے دونوں مم ڈیڈ کے گھر کے باہر تھے ۔۔ گاڑی پارک کرتے ہی گھر کا دروازہ کھل چکا تھا ۔ زیاد نے آگے بڑھ کر رانی کا دروازہ کھولا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا ، رانی کے باہر نکلتے ہی اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا کر گھر کی جانب قدم بڑھا دیئے ۔۔۔
رانی اس اچانک تبدیلی پر سخت حیران تھی۔ یہ شخص پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ہوتا ہے ۔۔
اندر داخل ہوتے ہی سب نے دوبارہ سے پرتباک استقبال کیا ۔۔۔ رنگ برنگے غبارے اور دوسری اشیاء زیبائش کو دیواروں کے ساتھ لٹکایا گیا ۔۔ اور سامنے دیوار پر بڑا سا رانی ویلکم ہوم لکھا دیکھ کر رانی کی آنکھیں بھرا گئیں ۔۔
ماشااللہ !!! اللہ نے کتنی پیاری جوڑی بنائی ہے، تائی نے بلائیں لیں ۔۔ دونوں ساتھ چلتے کتنے پیارے لگ رہے ہیں ۔۔۔ دونوں نندیں بھی اس پر مسرت موقع پر اپنے دلی جذبات کا اظہار کر رہیں تھیں ۔۔۔
اللہ میرے بچوں کو نظر بد سے بچائے آمین ۔
تایا جان نے رانی کو دوبارہ اپنے ساتھ لگا کر تسلی دی ۔۔۔
اور پھر تھوڑی دیر میں مریم فریش کریم کیک لے آئی جس کے اوپر “رانی ویلکم ہوم” لکھا ہوا تھا۔۔
سب کی فرمائش پر دونوں نے کیک کاٹا اور ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ باقی سب کو بھی کو کھلایا ۔۔
رانی یو آر سو کیوٹ ۔۔ چھوٹی نند مریم نے محبت سے بولا ۔۔۔ رانی نے مسکراتے ہوئے شکریہ بولا ۔۔۔
اوہ مائی گاڈ ۔ شی لکس گورجس ود ڈمپل ۔ بڑی نند سے بھی رہا نہ گیا ۔۔۔
زیاد ان سب سے بے نیاز اپنے فون پہ مصروف تھا ۔۔
زیاد تم کتنے خوش قسمت ہو ، اتنی پیاری کیوٹ سے بیوی ملی ہے تمھیں ۔۔
زیاد نے فون سے نظریں ہٹا کر انکی طرف دیکھا پھر کچھ سوچ کر رانی کے بالکل ساتھ لگ کر بیٹھ گیا ۔
مجھے پتا ہے رانی بہت پیاری ہے ۔ آپ لوگوں کے بتائے بغیر ہی ۔ زیاد نے یہ کہہ کر رانی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔۔۔ شرم سے رانی لال ہو رہی تھی ۔۔ جبکہ زیاد بہنوں کو مطمئن کرنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا ۔۔۔
بس بس زیاد اب زیادہ شوخے نہ بنو کھانا لگ گیا ہے ۔۔۔
کھانے کی میز پر انواع و اقسام کے کھانے بھوک کی اشتہا کو بڑھا رہے تھے ۔۔۔
تائی اور نندیں پیش پیش تھیں ۔۔ بار بار رانی کو ٹھیک طرح سے کھانے پر اصرار کر رہی تھیں۔۔۔
رانی بیٹی میں نے گھر پہنچتے ہی پاکستان تمھارے بابا کو فون کر دیا تھا ۔۔ کافی پریشان تھے کہ تم نے اتنا لمبا سفر پہلی دفعہ کیا ہے ۔۔ بہرحال بتا رہے تھے تمھارے بغیر گھر بہت ویران اور سونا سونا لگ رہا ہے ۔۔ابھی تو وہ لوگ سو گئے ہوں گے شاید ۔۔۔ تایا نے تفصیلات رانی کے گوش گزار کیں۔۔۔ کل صبح زیاد لازمی رانی کی بات کروانا ۔۔ اوکھے ڈیڈ ۔۔
رانی کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں ۔۔ لیکن ہمت کر کے آنسو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہو گئی ۔۔ زیاد اپنے کھانے میں مصروف تھا ۔۔ جبکہ رانی نے کھانے سے ہاتھ روک لیا ۔۔
ارے بس اتنا کم کھاتی ہو ؟ تائی نے اصرار کیا ۔۔ مجھے بس اتنی ہی بھوک تھی تائی جان ۔۔ لو بھلا سب کچھ تو تمھارے لیے بنایا ہے ۔۔۔ کھاو پیو گی تو آگے نسل بڑھاو گی ان شاءاللہ ۔۔۔ تائی نے بہت مان اور محبت سے بولا ۔۔ رانی کی دھڑکن پھر سے منتشر ہوئی ۔۔ زیاد سب سے بےنیاز چاولوں کی بھری پلیٹ کے ساتھ انصاف کر رہا تھا ۔۔
اتنی دبلی پتلی سی ہو ، ایسے لگتا ہے تیز ہوا کے جھونکے تمھیں ساتھ ہی اڑا کر لے جائیں گے ۔۔
رانی نے مسکرا کر سب کو دیکھا ۔۔۔ کھانے کے بعد چائے کا دور چلا اور پھر لمبے سفر کی تھکاوٹ کا بول کر تایا تائی نے رانی کو اپنے اپارٹمنٹ لے جانے کےلئے زیاد کو بولا ۔۔ بیٹا جاوء تھکی ہے آرام کرے ۔۔ صبح آرام سے نیند پوری کر کے رانی کو ادھر ہی لے آنا ۔۔۔ ابھی جب تک راستوں کا علم نہیں ہوتا تب تک تم چھوڑ جایا کرنا بعد میں خود ہی آجایا کرے گی ۔۔ ادھر اکیلی کیا کرے گی تم سارا دن کام پر ہوگے ۔۔۔
اوکھے مم ۔۔ جیسے آپ بولیں ۔۔۔
زیاد کتنا فرمانبدار بیٹا ہے ، رانی اسکے مختلف رنگ و روپ پر حیران تھی ۔۔۔
واپسی کے لئے زیاد نے رانی کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ہے جسکو رانی نے تایا کی موجودگی میں شرمندگی محسوس کرتے ہوئے پکڑنے سے گریز کیا ۔۔ کیا سوچیں گے تایا تائی؟ رانی ایک ہی دن میں مغربی تہذیب میں رچ بس گئی ہے ۔۔
رانی بیٹی کوئی بات نہیں یہ لاڈیاں صرف شادی کے شروع میں ہی ملنی ہیں بعد میں تو ، تو کون اور میں کون ؟! پھر ایک دوسرے کے ہاتھ نہیں پکڑو گے بلکہ بچے ایک دوسرے کو پکڑواو گے ۔۔۔ تائی نے ہمت بندھائی ۔۔۔
سب نے قہقہہ لگایا ۔۔ زیاد کچھ جز بز ہو رہا تھا ، جسکو صرف رانی نے ہی محسوس کیا ۔۔
I think we should go now .
میرے خیال میں ہمیں ابھی جانا چاہیئے ۔
ہاں ہاں بیٹا نکلو ۔۔ تایا تائی نے زیاد کی تائید کی ۔۔
Ziyaad you are in rush today!
زیاد آج تم بڑی جلدی میں ہو ۔ مریم نے چھیڑا ۔۔۔
تو اور کیا کروں پھر ؟ کتنا لمبا سفر کر کے آئی ہے رانی ، اب میں نے خیال نہیں کرنا تو کس نے کرنا ہے؟
اووووووو زیاد ماشااللہ ۔۔ ایسے ہی رہنا ! سمجھے
اتنے سارے گواہوں کی موجودگی میں بول رہے ہو ۔ دونوں بہنیں مسلسل زیاد کو چھیڑ رہیں تھیں ۔۔
بائے بببائے بولتا زیاد رانی کا ہاتھ پکڑ کر خارجی دروازے کی طرف آگیا ۔
رانی نے پیچھے مڑ کر سب کو سلام بولا اور سٹینڈ پر لٹکا اپنا کوٹ اتار کر پہننے لگی ۔۔
اپنے گھر پہنچتے ہی زیاد کچھ بےکل دکھائی دے رہا تھا ۔۔ لیکن رانی کی سمجھ سے باہر تھا آخر اس کا کیا مسئلہ ہے ۔۔
رانی تم جاو اپنے کمرے میں آرام کرو مجھے کچھ ضروری کام سے باہر جانا ہے ۔ ڈور کو میں ڈبل لاک لگا کر جاوں گا ، واپسی پر میں خود ہی کھول لوں گا ۔۔
زیاد افراتفری میں گھر سے باہر نکل گیا، کوریڈور میں کھڑی رانی نے لاک کی کلک سنی اور بجھے دل کے ساتھ اپنے کمرے کی راہ لی ۔۔۔
غیر کی باتوں کا آخر ______ اعتبار آ ہی گیا
میری جانب سے تیرے دل میں غیار آہی گیا
جانتا تھا بے وفا کھا رہا ہے جھوٹی قسم
سادگی دیکھ کر پھر بھی اعتبار آ ہی گیا
جی میں تھا اے حشر اب نہ بولیں گے کبھی
بے وفا سامنے آیا _________تو پیار آ ہی گیا
