Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sabeel (Episode 31)

Sabeel by Umme Umair

لیکن انکل ہم آپ سے بہت معذرت خواہ ہیں کیونکہ رانی اس وقت شادی کے لئے تیار نہیں ہے ۔ اس کے لئے یہ سب بہت جلدی ہے ۔ اسکو مذید وقت درکار ہے تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آئے ۔۔

انس بیٹا ہمیں مزید انتظار میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ کیوں عدیل بیٹا ؟؟

Yes off course Dad , I’m willing to wait until she’s is ready

” بالکل ڈیڈ میں تو انتظار بھی کر سکتا ہوں جب تک وہ تیار نہیں ہو جاتی ہے”۔

انس کا خون کھول رہا تھا جبکہ بڑے تایا حیرت کا مجسمہ بنے بیٹھے تھے ۔۔ ایک نظر انس کے لال ہوتے کان اور سنجیدہ چہرے کو دیکھتے تو دوسری طرف دوست اکرم اور عدیل جو نہایت عاجزی سے انس کے جواب کے منتظر تھے ۔۔

انس نے تھوڑی دیر خاموشی اختیار کی اور پھر انکل کو مخاطب کیا ۔ انکل جی رانی کے لئے رشتہ خاندان میں ہی موجود ہے جب وہ شادی کے لئے تیار ہوگی تو سادگی سے نکاح کے بندھن میں باندھ دی جائے گی ان شاءاللہ ۔۔

میں دوبارہ سے آپ کا بہت مشکور ہوں کہ آپ لوگوں نے ہمارے خاندان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ کر ہمیں عزت بخشی ہے ۔۔ لیکن معذرت کے ساتھ ہم مذید آپکا وقت نہیں ضائع کرنا چاہتے اور نہ ہی فضول میں آپ کو انتظار کی سولی پر لٹکانا چاہتے ہیں ۔۔۔

انس پولیس کی پیشہ وارانہ نظروں سے عدیل کی ظاہری جسمانی زبان کو بھانپ چکا تھا کہ عدیل اس وقت کس قدر غصے میں کھول رہا ہے ۔ ۔۔

انتظامات نئے سرے سے سنبھالے جائیں

جتنے امیدوار ہیں محفل سے نکالے جائیں

کمرے میں بیٹھے نفوس کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے تایا نے موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انس کو آنکھ سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔۔

سلیم یار تم پہلے رانی بیٹی کے والد سے بات کرو اور بیٹی کی رضامندی کے بارے میں بھی معلوم کرو پھر ہمیں جواب دو اتنی بھی جلدبازی کی ضرورت نہیں ہے ۔۔

بڑے تایا حکمت سے کام لیتے ہوئے بولے ۔ اکرم میں دونوں باپ بیٹی سے اس موضوع پر بات کروں گا اور شام کو آپ لوگوں کو ان کے فیصلے کے مطابق مطلع کر دوں گا ان شاءاللہ ۔۔۔

انس بیٹا جاوء چائے دیکھو اگر تیار ہے تو فورا لے آو ۔ جی تایا جان ابھی لایا ۔ انس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عدیل کو اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دیتا ۔ یہ ولائتی تو میرے ایک گھونسے کی مار ہے ۔ جی چاہ رہا ہے ابھی اس کو اٹھا کر الٹا لٹکا دوں ۔۔

ثوبان یار تیری پیشن گوئی سو فیصد درست نکلی ۔ لیکن میرا نام بھی انس اشتیاق ہے ۔

پر اگر اس رانی نے عدیل کے لئے ہاں بول دی تو میرا کیا بنے گا ؟ رانی نے ڈیڈھ سال انگلینڈ کی سہولتوں سے بھرپور زندگی میں گزارہ ہے ، شاید وہ اب بھی انہی سہولتوں کو ترجیح دے۔ مہمان خانے سے لے کر باورچی خانے تک انس کی تمام سوچیں منتشر تھیں ۔۔ ہلکی سی دستک پر رانی نے پلٹ کر دیکھا ۔ وہ امی اور تائی کدھر ہیں؟ انس نے دھیمے لیکن رعب دار لہجے میں پوچھا ۔ اور کچن کے دروازے کے باہر چہرہ دوسری طرف گھما کر کھڑا ہو گیا ۔

رانی جو کے دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی بولی اپنے کمرے میں گئیں ہیں انکل اکرم کی فیملی کے لئے تحائف بھیجنے ہیں ۔ سنتے ساتھ ہی انس کا پارہ چڑھ گیا ۔۔ کس خوشی میں؟ یہ تو مجھے نہیں پتا کہ کس خوشی میں البتہ وہ لوگ اس قابل ہیں کہ انکو تحائف دیئے جائیں ۔ تمھیں کیسے پتا ہے کہ وہ اس قابل ہیں؟ رانی نے بھی بنا پلٹے اپنے کام میں مصروف جواب دیا ۔۔ تائی جی نے بتایا ہے انکے کافی احسانات ہیں ان لوگوں پر ۔۔

رانی بغیر انس کی طرف دیکھے اپنے کام میں مگن بولے جا رہی تھی، جبکہ انس کا چہرہ خطرناک حد تک غصے سے لال ہو گیا ۔۔

چائے تیار ہے ؟ بس ابھی چائے دانی میں انڈیل رہی ہوں ۔ اور فریش کریم کیک کاٹنا ہے ۔

چھری ساتھ دے دو میں ادھر ہی کاٹ لوں گا ۔ خشک اور کھردرا لہجہ رانی کو مسکرانے پر مجبور کر رہا تھا ۔ رانی اچھی طرح سمجھ چکی تھی کہ انس کو اصل میں تکلیف کس بات سے ہے ۔

ٹھیک ہے لے جائیں ۔ انس کا جی چاہ رہا تھا رانی کو دبوچ لے اور اسکو بولے خبردار جو تم نے عدیل سے شادی کے لئے ہاں بولی ۔۔ لیکن پھر حیا آڑے آگئی ۔۔

کچن کے دروازے کے باہر کھڑا ، چہرہ برآمدے کی طرف کئے رانی پر اپنے تلخ لہجے کی گھات بٹھا رہا تھا ۔۔ اندر ہی اندر رانی کی ہنسی چھوٹ رہی تھی ۔

چیزیں جب تیار ہو جائیں تو ادھر میز پر رکھ دو ، میں لے جاوءں گا۔ ابھی دو منٹ میں ساری چیزیں تیار ہو جائیں گی لہذا باہر ہی تشریف رکھو ۔

میں دوبارہ واپس آجاوں گا ۔ پھیرے لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ شرافت سے ادھر ہی کھڑے رہو ۔ رانی نا چاہتے ہوئے بھی ترش لہجہ اپنائے ہوئے تھی ۔ دونوں عادت سے جو مجبور تھے ۔

دور رہا بھی_____ نہیں جاتا

قریب آکر سہا بھی نہیں جاتا

انس باہر کھڑا پیچ و تاب کھا رہا تھا ۔ بار بار گھڑی کو دیکھتا ۔۔ ٹھیک 5 منٹ میں رانی نے انس کو آواز دی ۔سب چیزیں تیار ہیں ،اپنے مبارک ہاتھوں سے لے جاو ۔ رانی نے انس کو زچ کرنے کے لئے لفظ “مبارک” جان بوجھ کر استعمال کیا ۔۔ تم نے ٹھیک 3 منٹ ذیادہ لیئے ہیں ۔ “جو بولو پھر اسکو سنبھالو” !!! انس بھی کہاں باز رہنے والوں میں سے تھا ۔۔

انس بل کھاتا ٹرے اٹھا کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا یہ جا اور وہ جا ۔۔ رانی نے کھڑکی سے اسکی بےچینی کو بھانپ لیا اور اپنے آپ کو مسکرانے سے نہ روک پائی۔ انس جی ابھی بھی اکڑ باقی ہے ۔۔ لیکن میں تمھارا یہ جلاپا بہت اچھی طرح سمجھ سکتی ہوں ۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

انس بیٹا میرے ساتھ کھل کر بات کرو ۔ آخر مسئلہ کیا ہے ؟ تم نے جو باتیں اکرم اور عدیل کے ساتھ کی ہیں ، اس کی کیا حقیقت ہے ؟؟؟

بیٹا مجھے اپنا دوست ثوبان سمجھ کر دل کی بات کرو گو میرے بال بھی دھوپ میں سفید نہیں ہوئے ہیں ۔ تایا جان میں آپ سے کوئی بات نہیں چھپاوں گا لیکن آپ وعدہ کریں کہ آپ میرا ساتھ دیں گے ۔۔

بیٹا بلا جھجھک میرے ساتھ بات کرو، میرے لیئے تم زیاد جیسے ہی ہو ۔۔

انس کی تھوڑی ہمت بندھی تو گلا کھنکار کر گویا ہوا ، تایا جان میں رانی سے نکاح کا خواہشمند ہوں ۔۔ لیکن مجھے نہیں پتا کہ وہ مانے گی بھی یا نہیں ۔

تایا جان پلیز آپ اس سے خود بات کریں اور ٘ آپ کی بات وہ کبھی بھی نہیں ٹالے گی۔۔۔

تایا جان اور میرے پاس صرف ایک ہفتہ کی ہی

چھٹی یے ، واپسی پر میں اسے اپنے ساتھ اسلام آباد لے کر جانا چاہتا ہوں ۔۔ تایا جان امید ہے آپ میری بات سمجھ رہے ہونگے ۔۔

بڑے تایا نے مسکراتے ہوئے انس کو گلے لگایا اور بولے میں دل و جان سے خوش ہوں اور تمھارے ساتھ ہوں ۔ لیکن میں رانی کے ساتھ زبردستی بھی نہیں کر پاوں گا ۔ انس کہیں تم یہ فیصلہ جذباتی ہو کر تو نہیں کر رہے ہو ؟ یہ نا ہو بعد میں تم اپنے اس فیصلے پر پچھتاو۔؟

پچھتانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تایا جان ۔میں نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے ۔۔ کیا تمھارے والدین اس بات سے باخبر ہیں؟؟

نہیں تایا جان گھر میں کسی کو بھی کوئی خبر نہیں ہے حتی کہ رانی بھی بالکل بےخبر ہے ۔۔

تایا نے لمبی سانس کھینچی اور گویا ہوئے ، دیکھو انس رانی کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ وہ بہت مخلص اور رشتے نبھانے والی بچی ہے ۔ اسکو اپنے خون سے بہت لگاو ہے ۔ ایک تو اس میں میرے بھائی بھابھی کی تربیت کا ہاتھ اور دوسرا وہ خود بھی بہت احساس کرنے والی بچی ہے ۔۔

جس طرح زیاد کی موت پر اس نے خود کو اور ہمیں سنبھالا ہے وہ قابل تعریف ہے ۔ انس ہمارے لیئے وہ وقت گزارنا بہت کٹھن تھا ۔ جوان بیٹے کی موت باپ کی کمر توڑ دیتی ہے ۔ لیکن رانی نے زیاد کی موت کے بعد ہمیں بیٹے کی کمی نہیں محسوس نہیں ہونے دی ۔ ، وہ ہر معاملے میں ہم سب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے ۔۔ رانی بہت نیک ،صابر اور ہمت والی بچی ہے ۔

انس رانی کی میرے بھائی کے گھر پیدائش دنیا کی کسی عظیم نعمت سے کم نہیں ہے ۔۔ اور بچیوں کی جو تربیت میرے بھائی بھابھی نے کی ہے وہ تو آنے والی نسلوں کو سنوارے گی ان شاءاللہ ۔۔

کاش میرے زیاد کا ایک بچہ پیدا ہو جاتا جو آج زیاد کی کمی اور ہماری اس تشنگی کو دور کرتا ۔۔

“قدر اللہ وما شاء فعل””

انس بیٹا میری رانی کو کبھی دکھی نہیں کرنا وہ مجھے بہت عزیز ہے ۔ اتنی چھوٹی عمر میں جو غم اس نے سہا ہے وہ بہت اذیت ناک ہے ۔ ہم سارے بہت کٹھن وقت سے گزرے ہیں ۔ لیکن وقت بہت بڑا مرہم ہے، اللہ نے اپنی رحمت سے ہمیں بھی صبر کی دولت سے نواز رہا ہے ۔۔۔اللہ بہت غفور الرحیم ہے ۔

“” اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وہ کرے ، وہ اس کے لئے ہے اور جو برائی کرے ، وہ اس پر ہے ، اے ہمارے رب آگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا ، اللہ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ان لوگوں پر ڈالا تھا جو ہم سے پہلے تھے ، اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسکی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر ۔ تو ہی ہمارا مالک ہے ، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما””۔(البقرہ:286)

تایا جان میں آپکو کبھی بھی کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دوں گا لیکن آپ نے میرا ساتھ دینا ہے ۔

تم بےفکر ہو جاو انس میں آج ہی سب گھر والوں سے بات کرتا ہوں اور پھر دیکھتے ہیں رانی کیا کہتی ہے ۔۔

تایا جان آپ عدیل کے رشتے کا ذکر کسی سے بھی نہ کرنا، یہ نا ہو رانی اس کے لئے ہاں بول دے ۔۔ بڑے تایا کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔ یار یہ تو بتانا پڑے گا ، آخر کو والدین کا حق میرے سے بھی زیادہ ہے ۔اور اللہ نہ کرے بعد میں کوئی مسئلہ پیدا ہو تو وہ شکوہ کر سکتے ہیں کہ میں نے ان سے یہ بات قصدا چھپائی ہے ۔۔۔ انس میرے بیٹے بالکل دل نہ جلاو ۔ رانی انگلینڈ پہ فریفتہ ہونے والوں میں سے نہیں ہے ۔ آج اگر ہم ادھر بیٹھے ہیں تو صرف اسکی پرزور کوششوں کی وجہ سے ورنہ شاید ادھر اکیلے ہی دل جلا رہے ہوتے ، ادھر سب کے ساتھ ہمارا بھی دل بہلا رہتا ہے ۔۔۔۔

اچھا تایا جان آپ ابھی رانی کو بلا کر پوچھ لیں میں اپنے کمرے میں چلا جاتا ہوں ۔ شام کو جب بابا اور چچا کام سے آئیں گے تو پھر ان سے بات کر لینا ۔۔

انس یار حوصلہ رکھ یہ ایلیٹ فورس نہیں ہے یا تھانہ جدھر تمھارا رعب چلے گا ۔۔ تایا کھکھلا کر ہنس دیئے ۔۔

آپ نے وعدہ کیا تھا ، نبھانا تو اب پڑے گا ۔۔انس تم اپنے کمرے میں جاو ، میں سب سنبھال لوں گا ان شاءاللہ ۔۔ بڑے تایا نے یقین دہانی کروائی لیکن انس کو اپنے اور رانی کے گزشتہ معاملات کا خوب اندازہ تھا ۔۔ اسی لیئے دل ہچکولے کھا رہا تھا ۔۔۔

اوہ ثوبی اٹھا لے فون نکمے ۔۔ بیگم کا فون تو بیل بجنے سے پہلے ہی اٹھا لیتا ہے ۔ رن مریدوں کا سردار ۔

انس بار بار کال کرنے سے زچ ہو چکا تھا ۔ آخر تنگ آکر فون کرتے کی جیب میں ڈال دیا اور کمرے کے چکر کاٹنے لگا ۔۔ ہائے انتظار کتنی بری چیز ہے اسکا اندازہ تو آج ہو رہا ہے ۔۔ ثوبان سچا ہی اپنی رخصتی کا رونا روتا تھا ۔ چلو میں نے تو اس کار خیر میں شرکت کی تھی، شاید اسی کے بدلے میں مجھے بھی اللہ کی مذید رحمت نصیب ہو جائے ۔۔

اوہ ست ست بسم اللہ کراں ثوبان پائی توں !! کدھر تھے نکمے کب سے فون کر رہا ہوں اور ایک تو ہے اٹھا ہی نہیں رہا تھا ۔۔ اوہ یار سانس لے ، پہلے میری بھی تو سن ۔ اچھا سنا ۔ ابھی یہی بولے گا زینہ نے فون کیا تھا یا پھر صاحب سے چھترول کروا کے آیا ہے؟؟ ویسے یہ دونوں باتیں آج ہی وقوع پذیر ہوئیں ہیں ۔ میری چھوڑ اپنی سنا ۔۔ کہاں تک چلا تیرا سلسلہ؟؟

آج تیرے جگری یار نے تہلکہ مچا دیا اور کھیڑوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ آئے بڑے انتظار کرنے والے ۔ ثوبی تو ادھر ہوتا نا تو آج تو نے مجھے گولڈ میڈل دینا تھا ۔۔

ارے واہ آج تو ہیرو بڑے بڑے قلعے فتح کر آیا ہے ۔ کھیڑوں کا بتا ! دوبارہ واپسی کا تو کوئی چانس نہیں ہے؟؟ یار “کھیڑوں” کا تو میں نے کام تمام کر دیا ہے، اب صرف فکر “ہیر” کی طرف سے ہے ۔۔

اوووہ ہتھ ہولا رکھ ! شہزادے ابھی سے نیا لقب بھی دے دیا اور مجھے کہتا ہے رن مرید ۔۔

پتر تو میرے سے بھی دس ہاتھ آگے نکلے گا ۔۔ چل یار تجھے فون اس لیئے کیا تھا کہ دعا کر میرے لیئے اور ہاں زینہ کو ابھی کچھ نہیں بتانا جب تک میں نہ بولوں ۔۔ اوہ نہیں بتاتا۔۔ نا لیلیں گھول ابھی ۔۔ میرا دل ہے دعاوں کے لئے سپاہیوں کو بھی ساتھ لگا لوں ۔ تو چاہے قیدیوں کو بھی ساتھ لگا لے مجھے بس دعائیں ملنی چاہئیں ۔۔ مجھے اس وقت دعاوں کی اشد ضرورت ہے ۔۔ یہ والا آدھا گھنٹہ کافی نازک ہے ۔ تایا جان نے رانی سے بات کرنی ہے ۔۔ اچھا فون بند کر میں دو نفل پڑھ لوں اور اپنے رب کے سامنے گڑگڑاوں۔۔

رانی نے دونوں رشتوں کے بارے میں سننے کے بعد بولا تایا جان مجھے ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *