Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 14)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 14)
Sabeel by Umme Umair
آنسو تھے کہ بس سیلابی ریلے کی طرح بہے جا رہے تھے، زیاد کا اذیت ناک رویہ رانی کے دل کو چھلنی کیئے جا رہا تھا۔۔ رو رو کر نڈھال ہو چکی تھی ، ادھر ہی صوفے پر ڈھ سی گئی۔ تنہائی اور دیار غیر میں پہلی رات ، سبھی اپنے بار بار یاد آ رہے تھے ۔۔ ادھر ہی صوفے پر گٹھڑی بنی رانی کو نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا۔۔ رات 2 بجے زیاد کی واپسی ہوئی۔، کوریڈور سے ہوتا ہوا جیسے ہی سیٹنگ روم میں داخل ہوا تو نظر صوفے پر گٹھڑی بنی رانی پر گئی ۔ پہلے بہت شدید غصے نے آ لیا لیکن جیسے ہی آگے بڑھ کر رانی کا چہرہ دیکھا تو اس کے معصوم چہرے پر آنسوؤں کے خشک نشانات باقی تھے۔۔ دھیرے سے اسکے چہرے کو چھوا تو ٹھنڈا محسوس ہوا، احساس ندامت نے زیاد کو سوچنے پر مجبور کر دیا ۔۔ صوفے کے دوسرے کونے میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔ میں اس لڑکی کا کیا کروں گا ۔۔۔ ڈیڈ کاش میں آپکو بتا سکتا ۔۔ دل میں شکر ادا کیا کہ گھر کے ہیٹرز کام کر رہے تھے ورنہ یہ لڑکی شدید سردی میں نمونیا کا شکار ہو جاتی ۔۔ میں اسکو بول کر بھی گیا تھا اپنے کمرے میں جا کر سو جاوء ، لیکن یہ ادھر کیا کر رہی تھی ۔۔ زیاد نے کچھ دیر سوچا پھر گھٹڑی بنی رانی کو اپنی باہوں میں سمو کر اسکے کمرے میں لٹا آیا ۔۔
کچھ تو لمبے سفر کی تھکاوٹ اور اوپر سے زیاد کے بے حس رویئے نے رانی کے اندر بہت توڑ پھوڑ کی اور وہ تھک ہار کر گہری نیند سو گئی۔۔۔
رانی کو بستر پر ڈال کر اسکے اوپر لحاف لپیٹنے لگا تو نظر اسکے سر پر لپٹے سکارف اور جلباب پر گئی ۔۔ اب میں اس کا کیا کروں؟ دن سے ہی اسے اسی حلیے میں دیکھ رہا ہوں ۔۔۔ عجیب مصیبت گلے پڑ گئی ہے ۔۔ جھنجھلاہٹ سے لحاف ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔
رانی جس کروٹ سوئی اسی کروٹ صبح آنکھ کھلی ، منظر بہت عجیب لگ رہا تھا ، یکدم گھبراہٹ طاری ہو گئی ۔۔ فورا اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔ میں تو صوفے پر تھی مجھے کون لے کر آیا ہے؟!
شاید زیاد لے آئے ہیں ۔ زیاد کا خیال آتے ہی آنکھیں برسنے کے لئے تیار، ٹپ ٹپ آنسو رانی کے گول گالوں کو بھگونے لگے ۔۔۔
دھیرے دھیرے چلتی باتھ تک روم گئی ۔۔ آئینے میں اپنا حلیہ دیکھ کر مذید رونا آیا ۔۔ سر پر ہاتھ رکھا تو سکارف کی پن کی چبن نے گھنے بال ہونے کے باوجود بھی سر کے کچھ حصے کو سور کر دیا تھا ۔
نئی نویلی دلہن کا حلیہ اجڑی بیوہ جیسا لگ رہا تھا ۔۔
مسلسل رونے سے آنکھیں بھی سوجھی ہوئیں تھی ۔۔
وضو کیا، چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر خود کو تازہ دم کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن سب بے سود ۔۔ بار بار آنسو پلکوں کی باڑ کو توڑے جا رہے تھے ۔۔۔ جی بھر کر دل کی بھڑاس نکال کر دوبارہ اپنے کمرے کا رخ کیا ۔۔ کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکا تو ملگجا اندھیرا باقی تھا ۔ میرے خیال میں ابھی فجر کا وقت باقی ہے لیکن قبلہ رخ کا تو پتا ہی نہیں ہے ۔جس طرف منہ کر کے مغرب عشاء تایا جان کے ادا کی تھی میرے خیال وہی ٹھیک رہے گا ۔۔ چلو میرا رب دلوں کو جانتا ہے ، اندازے سے قبلہ رخ ہوئی اور نماز کی نیت باندھ لی ۔۔
نماز کی ادائیگی کے بعد امی جان بہت یاد آئیں، ہر روز مجھے فجر کی نماز کے لئے اٹھانے کےلئے میرے کمرے کے دس دس چکر کاٹتی تھیں تب کہیں جا کر رانی کی آنکھ کھلتی تھی ۔۔اور اب زندگی کس موڑ پر لے آئی ہے، نہ سکھ کی نیند اور نہ دن کا قرار ہے ۔۔ میرے مالک میرے خاوند کا دل میرے لیے نرم کر دے ، میری تمام مشکلیں آسان کر دے آمین ۔۔۔
لمبی دعاوں کے بعد دوبارہ سیٹنگ روم کی طرف آگئی، لیکن شدید سردی نے اسکو ادھر بھی ٹکنے نہ دیا او دوبارہ اپنے کمرے میں واپسی کا سوچا ۔جی میں آئی ذرا زیاد کے کمرے میں جھانک لے ، لیکن پھر زیاد کی سرد مہری کا سوچ کر ارادہ ترک کر دیا ۔۔
بال جوکہ 24 گھنٹوں سے بھی زیادہ سکارف کی قید میں تھے، ان کا حال دیکھ کر اور رونا آیا ۔۔ گھنگھریالے بال بالکل سر کے ساتھ چپک چکے تھے ۔۔ سوٹ کیس میں سے ایک آرام دہ سوٹ نکال کر استری کی تلاش میں سرگرداں ہوگئی، شاید وہ تیسرے کمرے میں مل جائے ۔۔
خاموشی سے چلتی ہوئی باکس روم کی طرف بڑھی تو پیچھے سے ایک دم آواز سن کر اچھل کر مڑی ۔۔ ہائے مارننگ ۔۔ ججججی السلام علیکم ۔۔
آپ اٹھ گئے؟؟ جی اٹھا ہوں تو آپکے سامنے ہوں، یہ اتنی صبح کیا کھسر پھسر لگا رکھی ہے؟ تمھیں تو لمبا سونا چاہیئے تھا ۔ زیاد نے نرم پر بیزار لہجے میں بولا ۔۔
وہ پاکستانی وقت کے مطابق آنکھ کھل گئی ہے شاید ۔ 5 گھنٹوں کا جو فرق ہے انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ۔۔۔( قارئین کرام کی معلومات کے لئے سردیوں میں پانچ اور گرمیوں میں چار گھنٹوں کا فرق ہوتا ہے)۔۔۔
تمھیں پتا ہے میری نیند بہت ہلکی ہے ذرا سے کھٹکے سے آنکھ کھل جاتی ہے۔۔ اوہ سوری مجھے پتا نہیں تھا آئیندہ خیال رکھوں گی ان شاءاللہ ۔۔
ابھی کیا ڈھونڈ رہی ہو ؟
جی وہ وہ وہ میں استری ڈھونڈ رہی تھی ۔ غم سے رندھی آواز گلے سے نکلی۔۔۔
اچھا چلو مجھے فریش اپ ہونے دو ! پھر میں تمھیں ڈھونڈ کر دیتا ہوں ۔۔ زیاد نے جمائی کو روکتے ہوئے بولا ۔۔ اسکی لال آنکھیں گواہ تھیں کے وہ کچی نیند سے جاگا ہے ۔۔۔
فورا کچن میں جاکر پورے گھر کو گرم کرنے کے لئے ہیٹرز کو چالو کیا ۔۔ (ہیٹرز کو آپ ٹائمر پر بھی سیٹ کر سکتے ہیں، جیسے ہی گھر کا درجہ حرارت نیچے جاتا ہے ہیٹرز سیٹنگ کی وجہ سے خود ہی چالو ہو جاتے ہیں) ۔۔۔
ویسے تمھاری کیا روٹین ہے صبح اٹھنے کی ؟؟ جی پاکستان میں فجر کے وقت اٹھتی تھی اور پھر دوبارہ سے واپس سو جاتی تھی ۔۔
ہہہہم ۔۔ زیاد نے صرف گردن ہلائی۔۔ زیاد رات کے پاجامہ شرٹ میں ملبوس تھا ، گہرے نیلے رنگ کا پاجامہ اور شرٹ جس کے اوپری بٹن ادھ کھلے تھے ۔۔ رانی نے دیکھ کر نظریں چرانے کی کوشش کی ۔۔لیکن شاید زیاد اسکی چوری پکڑ چکا تھا ۔۔۔
اسکو اگنور کرتے ہوئے گویا ہوا ۔ تم دوبارہ اپنے بستر میں چلی جاوء ، جب تک گھر گرم نہیں ہوتا ورنہ شدید سردی سے بیمار پڑ سکتی ہو ۔۔
میں فریش اپ ہو کر تمھیں استری ڈھونڈ کر دیتا ہوں ۔۔
جججی ٹھیک ہے ۔ رانی نے فرمانبدار بچے کی طرح گردن ہلائی اور واپس بستر میں آ کر دبک گئی ۔۔۔
آدھے گھنٹے کے بعد زیاد ٹپ ٹاپ ہو کر کالی پینٹ اور وائٹ شرٹ میں ملبوس رانی کے دروازے کے باہر تھا ۔۔ دستک دے کر اندر داخل ہوا ۔۔
کونسے کپڑے ہیں جو استری کرنے ہیں لاوء میں کر دیتا ہوں ۔۔
ارے نہیں میں کر لوں گی، مجھے اچھا نہیں لگے گا میں آپ سے کام کرواوء ۔۔ مجھے تو آپکی خدمت کرنی چاہیئے ۔۔۔
یہ پاکستانی مقولے ہیں یہاں پر مرد اور عورتیں سبھی ایک جیسا کام کرتے ہیں ۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔۔ لاوء ادھر دو مجھے ۔۔
رانی نے جھجھکتے ہوئے شلوار قمیض پکڑا دی ۔۔۔
یہ فریشی (Freshy)سٹائل کپڑے اب پہننا چھوڑ دو تو بہتر ہے ۔۔ ((قارئین کرام کی معلومات کے لئے یہاں پر فریشی ہر اس نئے آنے والے کو بولتے ہیں جو دوسرے ممالک مثلا پاکسستان ، انڈیا، بنگلہ دیش وغیرہ وغیرہ سے نیا آیا ہو ، مطلب مفلس ملک جنکے پاسپورٹ کی پوری دنیا میں کوئی خاص قدر نہیں ہے ۔جس کو صحیح طرح سے انگلش نہ آتی ہو اور اسکا پہننے اوڑھنے کا انداز یہاں انگلینڈ والا نہ ہو۔۔ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ سب کہنے والے ہمارے اپنے ہم وطن ہی ہوتے ہیں جنکے والدین پچاس، ساٹھ سال پہلے یہاں آکر آباد ہوئے اور آگے انکی اولادیں اپنے آپ کو پرفیکٹ اور باشعور سمجھتے ہیں اور بہت زیادہ سیول لائز ، کے ہمیں سب کچھ پتا ہے، غریب ملک سے آنے والے لوگ ٹیپیکل(تنگ ذہن، تنگ نظر) ہوتے ہیں ۔ نہ سٹائل کا پتا ہے اور نہ انگلش کی ایکسنٹ(accent) لہجہ صحیح ہوتا ہے ۔۔ یہاں پر ایک اور بیماری جو بہت کامن ہے ۔ پاکسستانی انگلش بولتے ہوئے لفظ چبا کر بولتے ہیں، انکی ادائیگی نرم لہجے میں نہیں کرتے ۔۔۔ اگر آپکو یہ چیزیں اپنے سسرال سے نہیں سننے کو ملتی تو انکے باقی دوست احباب ضرور آپکو باور کروائیں گے، وہ چاہے زبان تک نہ لائیں لیکن انکی نظریں سب کچھ کہہ دیتی ہیں))۔۔۔۔
جی ٹھیک ہے جیسے آپ بولیں گے ویسے ہی کر لوں گی ۔۔ رانی نے آنسو پیتے ہوئے زیاد کو یقین دہانی کروائی ۔۔۔
یہ کیسا عجیب شخص ہے زخم بھی دیتا ہے اور پھر پھاہے بھی خود ہی رکھتا ہے ۔۔۔
جتنی دیر میں رانی شاور لے کر باہر نکلی زیاد نے جیم ٹوسٹ تیار کر لیئے ، ابھی بس پانی کیٹل(برقی آلہ جس میں پانی ابالا جاتا ہے) میں ابل رہا تھا ۔۔
رانی کو شرمندگی نے آ لیا ۔ ارے آپ رہنے دیتے میں خود ہی کر لیتی ۔۔ کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں تھوڑی دیر کے بعد مم ڈیڈ کے بھی جانا ہے ۔۔۔ مجھے تو کچھ ضروری کام ہیں، میں تو باہر ہی ہوں گا البتہ تم اپنا وقت اچھے سے گزار سکتی ہو ۔۔
کیسے گزار سکتی ہوں اچھا ٹائم آپکے بغیر؟! رانی صرف سوچ کر ہی رہ گئی، زبان تک لانے کی ہمت نہ کر پائی ۔۔۔
زندگی اپنی ڈگر پر رواں دواں تھی، زیاد کا وہی نپا تلا رویہ اور وہ سارا سارا دن اور آدھی آدھی رات باہر رہتا تھا ۔۔ والدین اور بہنوں کے سامنے اسکا رویہ بہت مختلف تھا جبکہ تنہائی میں خشک اور بیزار ۔۔۔
تایا تائی اور نندوں نے کسی قسم کی کوئی کمی نہ چھوڑی، باہر گھمانے سے لے کر ،ہر سٹائل کے بارے میں رانی کو آگاہ کیا ۔۔ رانی انکے اخلاص میں زیاد کی سرد مہری کچھ وقت کے لیے بھول جاتی لیکن ایک کسک دل میں پھانس بن کر ٹھر گئی ۔۔۔
بارہا سوچا زیاد سے بات کرے آخر مسئلہ کیا ہے لیکن جھگڑے کے خوف سے خاموش ہو جاتی ۔۔۔۔۔
رانی میری گڑیا یہ دیکھو میں تمھارے لیئے کیا لے کر آئی ہوں؟! تایا تائی کا خلوص مثالی تھا ۔ ارے تائی جان آپکو کتنا منع کرتی ہوں لیکن آپ پھر بھی ہر وقت کچھ نہ کچھ خریدتی رہتی ہیں ۔۔۔
اصل میں میں ڈییون(Dune) کی شاپ کے سامنے سے گزری تو یہ جوتا بڑا آرام دہ لگا تو سوچا میری بہو پر بہت سجے گا ، پھر میچنگ بیگ بھی لے لیا ہے ۔ اب جلدی سے پہن کر دکھاو ۔۔۔
رانی محبت سے تائی کے گلے سے لپٹ گئی ۔ تھینک یو سو مچ تائی جان۔۔۔ آپ اتنی اچھی ہیں اور آپکا بیٹا ایسا کیوں نہیں ہے؟ وہ تو ہر وقت میرے سائے سے بھی دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے ، رانی صرف سوچ کر رہ گئی ۔۔۔ زیاد پہلے تو کام پر جانے سے پہلے رانی کو خود چھوڑ جاتا تھا لیکن جب سے رانی کو رستوں کا ادراک ہوا وہ خود ہی چل کر چلی جاتی اور سارا دن سسرال کے ساتھ گزارتی، نندیں بھی اپنی فراغت میں آتی جاتی رہتی تھیں ۔۔ زیاد کے کام سے واپس آنے سے پہلے آ جاتی ۔۔ اسکے کپڑوں جوتوں اور کھانے پینے کا خیال کرتی باوجود اسکے کہ وہ بہت منع بھی کرتا لیکن رانی کا کہنا تھا کہ میں فارغ رہ کر بور ہو جاتی ہوں تو بہتر ہے خود کو مصروف رکھوں۔۔ اور مجھے آپکے کاموں میں مصروف رہنا اچھا لگتا ہے ۔۔۔ (( یہاں پر ایک اور بیماری بڑی کامن پائی جاتی ہے، لوگ لفظ (I’m bored) بورڈ بہت استعمال کرتے ہیں)) ۔۔
زیاد بے دلی سے جان چھڑاتا ۔۔ 2 مہینے گزر جانے کے بعد ایک دن تنگ آکر زیاد نے بول ہی دیا ۔۔ رانی میرے خیال میں ہمیں اپنے تعلقات اور انڈر سٹینڈنگ کو بحال کرنے کے لئے مذید وقت درکار ہے لہذا تم خوامخواہ میں اپنی انرجی ویسٹ نہ کیا کرو ۔۔۔
ارے نہیں زیاد مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں تو اپنی خوشی سے یہ سب کرتی ہوں ۔۔۔۔
میں جو بدلوں تو تغیر ہے____ میری ذات تلک
تو جو بدلے تو میرے شب و روز بدل جاتے ہیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تائی جان آج تو میں گھر جلدی جاوءں گی کیونکہ زیاد کہہ رہے تھے انکے کچھ دوست گھر پر آرہے ہیں تو کھانے کا بندوبست کرنا ہے ۔۔۔ ہاں ہاں جاوء بلکہ ادھر سے ہی پکا کر لے جاوء ۔۔ ارے نہیں میں سب کر لوں گی ان شاءاللہ ۔۔
( لزانیہ اٹلی کا مشہور کھانا ہے، جبکہ انگلینڈ کا مشہور کھانا فش اینڈ چپس ہیں جوکہ واقعی مشہور ہونے کے قابل بھی ہے )لزانیہ بناکر ڈیش کے اوپر چیز ڈال کر بیک ہونے کے لئے اوون میں رکھا ۔۔ مکس سلاد، کولسلو پوٹیٹو بیک بھی ساتھ ہی اوون میں ڈال دیئے ۔۔ ((یہاں پر پوٹیٹو بیک کا ذائقہ ایسے ہی جیسے ہم پاکستان میں لکڑیوں کے چولہوں میں ثابت آلو چھپا دیا کرتے تھے اور وہ کوئلوں کی گرمائش میں گل جاتا تھااور اسکا چھلکا پک کر اکڑ جاتا تھا ))۔۔
زیاد وقت کے پابند ہیں، بس ابھی آتے ہی ہوں گے ۔۔ سب برتن اور باقی ضرورت کی ہر چیز تیار کر کے میز پر سجا دی ۔۔ اور خود اپنے کمرے میں جاکر مغرب ادا کی اور پھر اپنا قیام کمرے تک ہی مناسب سمجھا ۔۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے پرائے مردوں کے سامنے جانے کی ۔ اگر کچھ ضرورت پڑی بھی تو زیاد خود آکر پوچھ لیں گے ۔۔۔ اوون بھی ٹائمر پر ہے انکے آنے تک خود ہی بند ہو جائے گا ۔۔۔
باہر کھٹکے سے رانی کو اندازہ ہو گیا کہ وہ لوگ آچکے ہیں ۔۔ رانی جوکہ ٹیکسٹ پر زیاد کو ساری معلومات پہلے سے فراہم کر چکی تھی لہذا زیاد کو دوبارہ پوچھنے کی کوئی ضرورت پیش ہی نہ آئی ۔۔۔
عشاء کی ادائیگی کے بعد رانی بستر پر نیم دراز ہو گئی اور ادھر ہی آنکھ لگ گئی ۔۔۔
رات کو نجانے کونسے پہر آنکھ عجیب سی آوازوں پر کھلی ۔۔ پہلے تو کچھ منٹ کے لیئے خود کو مکمل ہوش و حواس میں لائی پھر آوازوں کے تعاقب میں چلتی زیاد کے کمرے کے باہر تک آئی ۔۔ ادھ کھلے دروازے سے رانی نے ۔
