Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 30)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 30)
Sabeel by Umme Umair
بڑبڑاتے ہوئے جب دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے طویل قامت ، مردانہ وجاہت سے بھرپور انس کو دیکھ کر آنکھیں ادھر ہی پتھرا گئیں ۔ کچھ لمحوں کے لئے تو دماغ ماوءف ہو گیا ، سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا بولے ۔ سب اتنا اچانک اور غیر ارادی طور پر ہوا تھا۔ انس نے گلا کھنکار کر السلام علیکم سے مخاطب کیا اور بارعب ، سنجیدہ چہرہ لیئے اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ بمشکل رانی نے اپنے اوپر قابو پایا اور بنا کوئی جواب دیئے اندر کچن کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔
رانی گڑیا سب خیریت ہے تمہاری سانس کیوں پھول رہی ہے ۔۔ ووووہ خالہ انس آیا ہے باہر ۔۔ ماں صدقے میرے لعل آ گیا ہے بنا کوئی اطلاع دیئے ۔۔ خالہ فورا باہر برآمداے میں آگئیں اور انس کے سلام کے جواب میں اسے گلے لگا کر چوم ڈالا ۔ میرے سینے میں ٹھنڈ ڈال دی ۔۔ خالہ بات کرتے کرتے آبدیدہ بھی ہو رہی تھیں ۔۔ کچن میں دبکی رانی کا دل عجیب طریقے سے دھڑک رہا تھا ۔ ڈیڈھ سال سے بھی اوپر کا عرصہ بیت چکا تھا ، انس کی آواز سنے ، اسکو دیکھے اور اس سے بات کیئے ہوئے۔۔ رانی جو انس کو ناکوں چنے چبواتی تھی ، آج اسکا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی ۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ رانی خود بھی سمجھنے سے قاصر تھی ۔ بس جو مرضی ہو جائے میں تو نہ اس سے بات کروں گی اور نا ہی اسکے سامنے جاوءں گی ۔ میرے ساتھ زیاد کے انتقال کی تعزیت تک نہ کی ۔ خالہ کے ذریعے پیغام بھیجنے کی کیا تک بنتی ہے بھلا ؟ انس کو دیکھتے ہی قدیم دشمنی اور ضد نے دوبارہ سر اٹھانا چاہا جس کو رانی نے حتی الامکان اپنے اندر دبانے کی بھرپور کوشش کی ۔۔
خالہ نے باہر سے ہانک لگائی ۔ رانی میرے انس کے لیئے اچھی سی کڑک چائے بناو ۔ اچھا خالہ ابھی بناتی ہوں ۔۔ رانی نے دھیمے لہجے میں جواب دیا ۔۔ انس جو کے اپنے کمرے میں تازہ دم ہونے کی غرض سے چلا گیا اور خالہ کو بول گیا ابھی چائے رہنے دیں، میں سونا چاہتا ہوں، کل رات سے سویا نہیں ہوں ۔ مجھے ظہر کے وقت اٹھا دینا پھر ایک ہی دفعہ سب کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھاوں گا ۔۔
اچھا جیسے تمھاری مرضی بیٹا پر کچھ جوس وغیرہ تو پی لو ۔ امی راستے میں ایک کھوکے سے ناشتہ اور چائے پی لی تھی ، ابھی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔ انس دھیمے لہجے میں کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ سفری بیگ کو ایک کونے میں پھینک کر بیڈ پر نیم دراز ہو گیا ۔۔
بیتا ایک ایک لمحہ ، ایک ایک یاد دل کے نیہاں کونے میں سر اٹھانے لگی ۔
باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجالیں تم کو
جی میں آتا ہے کہ تعبیر بنالیں تم کو
پھر تمھیں روز سنواریں تمھیں بڑھتا دیکھیں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو
جیسے بالوں میں کوئی پھول چُنا کرتا ہے
گھر کے گلدان میں پھولوں سا سجالیں تم کو
کیا عجب خواہشیں اٹھتی ہیں ہمارے دل میں
کر کے منا سا ہواؤں میں——– اُچھالیں تم کو
اس قدر ٹوٹ کے تم پر ——–ہمیں پیار آتا ہے
اپنی بانہوں میں بھرلیں مار ہی ڈالیں تم کو
کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو
کبھی خواہش کی طرح دل میں بُلا لیں تم کو
ہے تمھارے لیے کچھ ایسی—- عقیدت دل میں
اپنے ہاتھوں میں دعاؤں سا—– اٹھالیں تم کو
جان دینے کی اجازت بھی——- نہیں دیتے ہو
ورنہ مر جائیں ابھی مر کے—– منا لیں تم کو
جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نور
اپنے تاریک ———-مکانوں میں سجالیں تم کو
اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کسی موڑ پر تم
ہم کو بکھرے ہوئے مل جاؤ —سنبھالیں تم کو
انس پرانی یادوں میں کھویا نیند کی مہربان وادی میں اتر گیا ۔۔
امی کے اٹھانے سے پہلے ہی آنکھ 1 بجے کے قریب کھل گئی، الماری میں لٹکا استری شدہ جوڑا نکال کر غسل خانے میں گھس گیا ۔۔۔ نہانے کے بعد خود کو کافی حد تک تازہ دم محسوس کر رہا تھا ، اپنی پسندیدہ پرفیوم کا چھڑکاؤ کیا اور اپنے پیچھے خوشبوئیں بکھیرتا ظہر کے لئے مسجد کا رخ کر گیا ۔ رانی نے عقب سے اسکی چوڑی پشت کو دیکھا ۔ دل نے کچھ دیر کے لئے بغاوت پر اکسایا لیکن نا آج وہ پہلے والا انس تھا اور نا وہ لڑاکا رانی جو اسکا جینا حرام کر دیتی تھی۔ دونوں کی زندگیوں میں اتار چڑھاؤ نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔۔آنکھوں میں آئی نمی کو رانی نے فورا قمیض کی آستینوں سے رگڑ ڈالا ۔
خالہ کھانا تو سب تیار ہے، صفائی بھی کر دی ہے، میں اوپر جاکر شاور لے لو اور مہمانوں کے آنے سے پہلے کپڑے بھی بدل لوں ۔۔ ہاں ہاں جاوء میری گڑیا ۔ بڑے بھیا بھابھی بھی آنے والے ہونگے، گھر سے تو فریش کریم کیک کا بول کر گئے تھے لیکن تمھیں تو اپنے تایا کا پتا ہے ایک کے بجائے ساتھ دس چیزیں اور لے کر آئیں گے ۔۔ جی خالہ جان تایا تائی دونوں ہی ایسے ہیں ماشااللہ ۔۔
رانی گڑیا تو ادھر زیاد کے ساتھ خوش تو تھی نا ؟؟تو تو پہلے سے بھی پتلی ہو کر لوٹی ہے ۔ پتا ہی نہیں چلتا ڈیڈھ سال انگلینڈ گزار کر آئی ہے ۔ہم نے تو سنا تھا جو بھی ادھر جاتا ہے موٹا تازہ، صحت مند ہو کر لوٹتا ہے ۔۔ خالہ موٹا ہونا کوئی اچھی بات تھوڑی ہے ، سو بیماریاں لگ جاتی ہیں اور اب تو کتنے لوگ پیسے خرچ کر کے جم میں وزن کم کرتے ہیں اور میرے پاس یہ نعمت بغیر پیسے خرچ کیئے موجود ہے۔۔الحمداللہ ۔خالہ آپ نے دیکھا نہیں تایا تائی کتنا پیار اور خیال رکھنے والے ہیں ۔ ہاں یہ بات تو تمھاری سولہ آنے درست ہے ۔ اے رانی مریم کا بھی سنا تھا تم لوگوں کے ساتھ ہی آئے گی پھر کیا ہوا ؟ خالہ وہ بہت مجبور تھیں اس لیئے نہ آ سکیں، ایک تو انکا کورٹ میں کیس چل رہا ہے اور دوسرا بچوں کو سکول سے چھٹیاں نہیں مل پائیں ۔۔ ویسے بھابھی کے بھانجے نے بہت زیادتی کی ہے مریم کے ساتھ، دیکھا نہیں تھا کتنے چاوء سے بیاہ کر لے گئی تھی جہانگیر کو ۔ پر بڑا ہی بےفیض نکلا ہے ۔ آجکل اتنے مخلص لوگ کہاں ملتے ہیں ؟۔ جی خالہ بالکل بجا فرما رہی ہیں ۔ رانی جب سے تم آئی ہے کبھی اکیلے میں موقع ہی نہیں ملا کے بات کر سکوں اور پھر بھائی اور بھابھی سے پوچھ کر انکے زخموں کو خریدنے والی بات ہے۔ خالہ جان آپ نے اچھا کیا ہے جو ان لوگوں سے اس موضوع پر بات نہیں کی ۔ میں انکے ساتھ رہتی رہی ہوں، مجھے پتا ہے انکا کسی بھی معاملے میں کوئی قصور نہیں تھا ۔ جہانگیر اور اسکے خاندان والے ہی لالچی نکلے ہیں ۔ چل بچی دعا کرو اللہ انکی پریشانیوں کو دور کرے آمین ۔۔۔
خالہ جان میں جاوءں اب ؟ ہاں ہاں جاوء ۔ جب سے آئی ہو گھر میں چہل پہل ہو گئی ہے جب بھی تیری آواز اس گھر کے در و دیوار میں گونجتی ہے دل میں ٹھنڈ پڑتی ہے ۔ خالہ یہ تو آپکی محبت ہے ، رانی نے خالہ کے گلے میں بازوءں کا ہار بنا کر گھمایا ۔ اے رانی تیری یہ پرانی عادت ابھی بھی نہ گئی ۔ بس خالہ اپنوں کے ساتھ ایسی چیزیں کرنے کا مزا ہی اور ہے ۔۔
میں تو چلی خالہ ۔ رانی نے اسی پرانے انداز میں کدکڑے لگاتے ہوئے زینے چڑھنا شروع کر دیا ، لیکن وہ اس بات سے بالکل بےخبر تھی کہ وہ کسی کی اچٹتی نگاہوں کے حصار میں آ گئی ہے ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
بس یار اکرم زندگی کے جھمیلوں میں ایسے پڑے کے دوبارہ مانچسٹر چکر نہ لگا پایا ، یہ تو اتفاقا عدیل جہاز میں مل گیا تو دوبارہ سے مل بیٹھنے کا موقع میسر آگیا ۔۔ سلیم یار زیاد کے بارے میں ہم نے جب سنا تو اس وقت ہم پاکستان تھے ورنہ آپ لوگوں سے ملنے لندن ضرور آتے ۔۔ یار یہ تو قدرت کے فیصلے ہیں کب کس نے جانا ہے ۔ بہت رنج ہوا زیاد کے بارے میں سن کر ۔۔۔ تایا سلیم آنکھوں میں آنے والی نمی پر قابو پاتے ہوئے گویا ہوئے، بس یار اللہ جس حال میں رکھے ، اللہ کا بہت شکر ہے ۔۔ اس کی حکمیتیں وہی جانتا ہے ۔ بالکل بجا فرمایا ہے تم نے سلیم ۔۔
انس ایک کونے میں خاموش بیٹھا بزرگوں کی باتیں ہمہ تن گوش سن رہا تھا جبکہ عدیل کی متلاشی نگائیں ہلکے سے کھٹکے پر بیرونی کھڑکی کی طرف اٹھ رہی تھیں، جسکو انس بارہا نوٹ کر چکا تھا، لیکن صبر کا دامن تھامے ہوئے تھا ۔۔۔
انس بیٹا سب نے کھانا کھا لیا ہے، بولو چائے بجھوا دیں ۔ جی تایا جان بس ابھی بولتا ہوں ۔۔ کچن میں داخل ہونے سے پہلے ہی نظر رانی کی پشت پر پڑی، جو ہمیشہ کی طرح اپنے چارو اطراف دوپٹا پھیلائے تائی اور خالہ کے ساتھ برتن سمیٹنے میں مصروف تھی ۔ اسکی یہی شرم و حیا والی عادت انس کو لبھاتی تھی ، چاہے وہ کتنی ہی لڑاکا کیوں نہ ہو ۔۔۔ انس نے کچن کے دروازے سے ماں کو دھیمے لہجے میں پکارا ۔۔ امی مہمانوں کے لئے چائے تیار کریں لیکن کچن سے باہر کوئی بھی نکلتا ہوا مجھے دکھائی نہ دے ۔۔ میں چائے خود آکر لے جاوءں گا ۔۔
رانی کے کانوں میں انس کی دھاڑ پہنچ چکی تھی اور وہ مطلب بھی بخوبی سمجھ چکی تھی ۔۔ ناچاہتے ہوئے بھی مسکراہٹ گلاب کی پنکھڑی جسیے ہونٹوں پر پھیل گئی ۔۔
سلیم ہمارے پاس وقت کم ہے ۔ واپس لندن بھی جانا ہے ۔۔ عدیل کے ڈیڈ نے پہلو بدلتے ہوئے بات شروع کی ۔۔ جیسے وہ صحیح الفاظ کا چناؤ نہ کر پا رہے ہوں ۔ میری بیگم بھی ساتھ آنے کے لئے بےچین تھی لیکن اسکی اچانک طبیعت خراب ہو گئی جسکی وجہ سے نہیں آ پائی ۔ کوئی بات نہیں اکرم یار ، آپ لوگ اپنا قیمتی وقت نکال کر آئے ہو یہی بہت اعزاز کی بات ہے ہمارے لیئے ۔۔
پتا نہیں میرا اس وقت یہ بات کرنا درست بھی ہے یا نہیں لیکن محدود وقت اور عدیل کی ضد پر میں تمھارے آگے اپنی جھولی پھیلانے آیا ہوں ۔۔
سنتے ہی انس کا خون کھولنے لگا ۔
وہ بات دراصل یہ ہے کہ عدیل نے جہاز میں تمھاری بھتیجی کو دیکھا ہے اور یہ اس سے شادی کا خواہشمند ہے ۔۔
تھوڑی دیر کے لیئے تو تایا سلیم کو بھی جھٹکا لگا لیکن خود پر قابو پاتے ہوئے بولے ، یار تمھیں پتہ ہے وہ میرے بیٹے کی بیوہ ہے اور تمھارا بیٹا کنوارہ ہے ۔۔ اور ویسے بھی میں اسکی زندگی کے فیصلے کا اختیار نہیں رکھتا ، اس کا باپ سر پر موجود ہے، وہ اور میرا دوسرا چھوٹا بھائی بھی کام پر ہیں ۔۔ ہم بنا رانی بیٹی کی مرضی کے کسی قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ہیں ۔ اور ویسے بھی عدیل کے لئے یہاں پاکستان سے ایک چھوڑ کتنی کنواری بچیاں مل جائیں گی ۔ سلیم یار عدیل کو آپکی بھتیجی کے بیوہ ہونے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔
سب کو سیراب وفا کر کے ____پیاسا رہنا
تجھ کو لے ڈوبے گا اے دل__ تیرا دریا رہنا
انس کی برداشت بالکل جواب دے گئی، بہت مشکل سے اپنی تنی رگوں کو قابو کیا اور زبان کو دانتوں تلے دبایا ۔ بہت مودب لہجے میں گویا ہوا ۔ تایا جان مجھے اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں؟
ہاں ہاں ضرور انس بیٹا بات کرو ۔۔
انکل بات کچھ یوں ہے کہ آپ اور عدیل بھائی اتنی دور سے سفر کر کے تشریف لائے ہیں، آپ نے ہمیں عزت بخشی ہے ۔ ہمارے لئیے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے الحمداللہ ۔۔
جہاں تک بات آپکے بیٹے عدیل کی ہے کہ انکو کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
