Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sabeel (Episode 01)

Sabeel by Umme Umair

رانی اے رانی اٹھ جا میری جان ! صبح سے دسواں چکر یے تیرے کمرے کا ،ایسے لگتا ہے کہ تمام گدھے گھوڑے بیچ کر سوتی ہے میری گڑیا۔ رضیہ بیگم نے دہائی دیتے ہوئے کھڑکیوں سے پردوں کو پیچھے ہٹایا، ایک دم سے پورا کمرہ کھڑکی سے آتی سورج کی شعاعوں سے روشن ہو گیا ۔۔۔

امی پلیز سونے دیں نا ، ابھی ہی تو سوئی تھی اتنی جلدی صبح بھی ہو گئی ہے ۔ رانی نے فورا کمبل کھینچ کر چہرے تک تان لیا ۔۔صبح نہیں میری جان ابھی دوپہر ہو رہی ہے ۔۔رضیہ بیگم نے بستر پر بیٹھتے ہی رانی کی چوٹی سے نکلی لٹوں کو سلجھانا شروع کر دیا ۔۔۔

رانی میری جان!! لڑکیاں اس عمر میں طرح طرح کے فیشن کرتی ہیں رنگ برنگے لباس زیب تن کرتیں ہیں، انکو تو اپنے بناؤ سنگھار سے فرصت نہیں ملتی اور ایک تم ہو بس لمبے کھلے چولے سے کرتے پہنتی ہو اور وہی دوپٹا لپیٹنے کا ایک ہی انداز ۔۔۔ ماں باپ کے گھر ہی تو بیٹیاں اپنے چاو پورے کرتی ہیں، اگلے گھر میں تو وہ اور انکا نصیب ہی جاتا ہے ۔ رضیہ بیگم نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔ امی آپکو تو پتہ ہے انس لنگور ہر وقت آتا جاتا رہتا ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا چست لباس پہننا اور ویسے بھی میں نے ہی تو تینوں چھوٹیوں کےلئے مثال بننا ہے ۔۔۔ یہ بات تو تیری ٹھیک ہے پر پھر بھی تھوڑے بہت شوخ رنگ پہنا کر میری گڑیا ۔۔۔۔

رضیہ بیگم ایک دم سے بولی ۔۔۔۔

رانی انس صبح سے کتنے چکر لگا چکا ہے اور بار بار تیرا پوچھ رہا ہے تو نے دوبارہ کوئی گڑ بڑ تو نہیں کی اسکے ساتھ ؟!

امی جان اس گیدڑ کا نام نہ لیں میرے سامنے ، ایسے ہی منہ اٹھا کے آجاتا ہے ہر وقت خوامخواہ ۔۔۔

بہت بری بات رانی ! زیادہ صلواتیں سنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جلدی سے اٹھو اور فریش ہو جاوء۔میں تمھارے لیئے کچھ کھانے پینے کےلئے تیار کروں اب بس 20 منٹ میں کچن میں پہنچو ۔۔۔

رانی نے کسلمندی سے سر اٹھا کر کمرے میں لگے وال کلاک کو دیکھا جو دن کے ساڑھے گیارہ بجا رہا تھا ۔ چار و نا چار بستر سے اٹھ کر پاوں میں چپل اڑس کر غسل خانے کا رخ کیا ۔۔

ابھی اپنے گھنگریالے بالوں کے گچھے کو سلجھانے کےلئے ہیئر برش ہاتھ میں پکڑا ہی تھا کہ انس کی ہانکیں سنائی دیں ۔۔ آواز کے تعاقب میں کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھ کر خود کو شاباش دی ، اب لے کوئی پنگا تو دیکھنا میں اسکا کچومر نکال دوں گی ۔بڑا آیا رانی پر رعب جھاڑنے والا ۔ہونہہہہہہ۔۔۔

تیز تیز ہاتھ چلا کر بالوں کو پونی میں قید کیا اور بڑے دوپٹے کو سلیقے سے سر سمیت اپنے شانوں پر پھیلا کر خود کو آنے والے طوفان کے لئے تیار کر لیا۔۔۔

آواز میں غصہ اور بدلے کی بدبو وہ اپنے کمرے میں محسوس کر سکتی تھی ۔۔۔

دھڑ دھڑ دروازہ بجا ۔۔ کون ہے ؟؟؟

باہر نکلو ذرا رانی!!!

کی تکلیف اے انس؟؟ میرے نال متھا نہ لا !

رانی میرے ہاتھوں سے بچ جاوء کسی دن قتل ہو جاوء گی تم !

آآ ہائے اینا غصہ؟ کوئی تمیز نا دی وی چیز ہے تیرے اچ انس ؟؟ رانی نے اس کو مذید چڑانے کےلئے پنجابی لہجے میں بات کرتے ہوئے دروازہ کھولا ۔۔۔۔

منہ چک کے میرے کمرے اچ نہ آیا کر انس!!!

زیادہ بھولی بننے کی کوشش نہ کرو شیطان کی خالہ ۔۔

کی ہو گیا اے انس ؟!

رانی نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں ۔

زیادہ معصوم بننے کی کوشش نہ کرو جیسے تمھیں تو کچھ پتا ہی نہیں ہے کہ رات کو میرے کمرے کی کھڑکی سے کیا کر کے آئی ہو ؟!

کی ہویا انس؟؟؟

اچھا تو یہ بھی میں ہی بتاوں کہ رات کو تم کیا کر کے آئی ہو؟ یعنی “چور الٹا کوتوال کو ڈانٹے “۔۔۔

تم ویسے نہیں قابو میں آنے والی، میرے پاس بھی تمھاری ان تخریب کاریوں کا علاج موجود ہے ۔۔۔

چچی جان ذرا ادھر تشریف لائیں ۔

انس بیٹا کیا ہو گیا ہے؟؟

رضیہ بیگم تولیئے سے ہاتھ خشک کرتیں کچن سے باہر نکلیں ۔۔۔چچی جان میں اس چڑیل کو آخری وارننگ دے رہا ہوں اگر اس نے دوبارہ کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو میں نے اسکی گیچی (گردن) مروڑ دینی ہے۔۔۔۔

اچھا بتاو تو سہی میرے لعل ! میں ابھی اس رانی کی طبیعت صاف کرتی ہوں ۔۔

چچی جان صرف آپکا لحاظ ہے ورنہ یہ کب سے اس فانی دنیا سے کوچ کر چکی ہوتی ۔۔۔

امی جان آپ اسکی باتوں میں نہ آئیں۔۔ یہ ویسے ہی زنانہ عادات و اطوار کا مالک ہے ۔شکایتیں ایسے لگا رہا ہے جیسے میں نے اسکی بھری تجوری سے مال چرایا ہے، نکما نکھٹو نہ ہو تو ۔۔۔

دیکھا ہے دیکھا ہے چچی جان ابھی بھی یہ چالاک لومڑی اپنی سیاہ کاریوں پہ پردہ ڈال رہی ہے ۔۔

ہوا کیا ہے بتاو تو سہی؟! رضیہ بیگم نے زچ ہو کر بولا ۔

چچی جان کل رات میں عشاء کے بعد جلدی سویا تھا کیونکہ مجھے صبح فجر کے بعد کچھ تیاری درکار تھی ۔یہی سوچا جلدی سوووں گا تو جلدی اٹھ پاوں گا ۔۔ یہ لومڑی کل رات کو میری کھڑکی کے پاس لال اور کالی مرچوں کی دھونی لے کر گئی ہے ۔ آپکو تو پتا ہے کہ میرے کمرے کی کھڑکی میرے بستر سے کافی قریب ہے ، میں گہری نیند میں تھا اور اس نے ان مرچوں کو جلا کر ان کا سارا دھواں میرے کمرے میں پھینکا ہے ۔

نتیجتا میرا کل رات سے کھانس کھانس کر برا حال ہے اور میری لال انگارہ آنکھیں بھی آپکے سامنے ہیں ۔

رضیہ بیگم نے رانی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لتاڑا، اور وارننگ بھی دے ڈالی ۔۔ ابھی اور اسی وقت انس سے معافی مانگو اور بولو آئیندہ ایسا نہیں کرو گی ۔

اور امی جو یہ میرے ساتھ کرتا آ رہا ہے وہ کس کھاتے میں جائے گا؟! پہلے یہ معافی مانگے گا اور پھر میں، ورنہ یہ جائے اپنی زندگی جیئے اور میں اپنی جی رہی ہوں ۔۔ رانی نے منہ بسورتے ہوئے بولا ۔۔۔

راااااانییییییییی جو میں نے بولا ہے وہ کرو ابھی اور اسی وقت !!!

رانی نے چار و نا چار وہی چڑانے والا لہجہ لیئے بولا ۔۔۔

انس آئیندہ مرچوں کی دھونی نہیں دوں گی تمھاری کھڑکی کے باہر سے !!

دیکھیں چچی جان ابھی بھی کتنی اکڑ سے بات کر رہی ہے ، اس میں ایک فیصد بھی ندامت ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہی ہے ۔۔۔ یہ مجھے لکھ کردے گی ، اپنے دستخط کے ساتھ ساتھ اپنا انگوٹھا بھی لگائے گی ۔

نہیں کروں گی جاو جو کرنا ہے وہ کر لو !

رانی نے ڈھیٹ پنے کی ساری حدیں توڑتے ہوئے ہٹ دھرمی سے اپنا فیصلہ گوش گزار کر دیا۔

دیکھ لیا چچی جان یہ کتنی بدلحاظ ہے ۔۔ نہ چھوٹے بڑے کی تمیز اور نہ کوئی ادب لحاظ اسکو چھوکر گزرا ہے ۔۔۔

رضیہ بیگم نے سر اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے رانی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔ رانی جو انس بول رہا ہے اس پر فورا سے پہلے عمل کرو ورنہ نتائج کی ذمہ دار تم خود ہو گی ۔فورا پین پیپر لے کر آو ۔۔۔

چچی جان میں اس نازک صورت حال میں 2 گواہوں کی موجودگی ضروری سمجھتا ہوں ۔

کیا مطلب ہے تمھارا؟

چچی جان 2 عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوتی ہے پس میں اپنے دو گواہوں کو بلا رہا ہوں تاکہ کل کو اگر یہ نئی تخریب کاری کا سوچے بھی تو گواہوں کو بلا کر اسکو تحریری حلف نامہ دکھایا جائے ۔اور اسکے مطابق سزا متعین کی جائے ۔۔۔۔

امی جان اسکو اور چڑھائیں اپنے سر پر ، میں آپکی بیٹی نہیں ہوں بلکہ یہ لنگور ہی آپکا بیٹا ہے ۔ ہر وقت اسکی طرف داری میں لگی رہتی ہیں ۔۔

رانی نے دل۔کے پھپھولے نکالے اور آنکھوں میں امڈ آنےوالے پانی کو پیچھے دھکیلا ۔۔۔

رانی مجھے پتا ہے تم نے جو کچھ کیا ہے، کیا تمھیں اسکی لال انگارہ آنکھیں نظر نہیں آ رہی ہیں؟!

مذاق اور شرارت کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔۔۔

ابھی اور اسی وقت لکھنا شروع کرو ۔۔۔

رانی نے کھا جانے والی نظروں سے انس کو گھورا اور قلم اٹھا لیا ۔۔۔

آئیندہ انس کی کھڑکی سے مرچوں والی دھونی نہیں دوں گی۔۔۔۔ منجانب رانی مشتاق ۔۔۔۔

انس نے اپنی شریر مسکراہٹ پہ قابو پاتے ہوئے پاس کھڑے دو گواہوں کو دستخط کی دعوت دے ڈالی ۔۔۔

مقدمے کے آخری مراحل میں انس نے عاجزانہ انداز اپناتے ہوئے چچی جان کا نہایت تکریم سے شکریہ ادا کیا اور سلام کرکے کمرے سے واپسی کے لئے پلٹا ہی تھا کہ پیچھے سے رانی کی دھاڑ سنائی دی ۔۔

محترم ومکرم انس اشتیاق صاحب ! آپکے لیئے اطلاع سے پہلے عرض ہے کہ یہ حلف نامہ صرف مرچوں کی حد تک ہی ہے باقی اگر تم نے کوئی اور حربہ آزمانے کی کوشش کی تو نتائج کے ذمہ دار تم خود ہو گے ۔۔

چچی جان دیکھا ہے آپ نے !! یہ ابھی بھی مجھے تڑیاں(دھمکیاں ) لگا رہی ہے ۔۔۔

امی جان میں اسکی مفید معلومات میں اضافہ کر رہی ہوں تاکہ کہیں ڈگمگا نہ جائے ۔ لنگوووووور۔۔

رانی نے دانت چبا کر بولا۔

ویسے چچی جان کیا بنایا ہے؟! میں ذرا چکھ تو لوں اس سے پہلے کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھائیں ۔۔۔

خبردار ندیدے اگر تم نے میرے ناشتے کی طرف دیکھا بھی تو !!

رانی نے جمپ لگا کر کچن کا رخ کیا ۔۔۔

جبکہ انس کا ہنس ہنس کر برا حال تھا ۔۔

انس کیوں کرتے ہو میری بچی کو تنگ ؟!

چچی جان آپکو کیا پتا کہ اس نے میرا حال کتنا برا کیا ہے؟! میرا سونا محال کر دیا تھا ۔۔۔

پہلے ہی ہوا میں پولن نے میری ناک کے نتھنوں کا حشر نشر کیا ہوا ہے اور پھر باقی کی کسر اس ٹیڑھی کھیر نے نکال دی تھی ۔۔۔

انس رانی دل۔کی بہت اچھی ہے بس ذرا سی شرارتی ہے اور اس میں بھی ہاتھ تیرے چچا اور دادا دادی کا ہی ہے ۔۔۔

جی چچی جان میرے سے زیادہ رانی صاحبہ کو اور کون جان سکتا ہے؟! میں ہی تو آئے دن اس کے ستم کا شکار رہتارہا ہوں ۔۔

اچھا چچی جان میں تو چلا ۔

جا میرا بچہ !!! اللہ تجھے کامیاب و کامران کرے آمین ۔۔

کامران کے تو ابھی کوئی چانسز نہیں ہے چچی جان ۔ ایک عدد زوجہ کے بعد ہی کسی حتمی فیصلے پر پہنچ پاوں گا ۔۔۔ انس نے دوبارہ سے کھی کھی شروع کر دی ۔۔۔

انس تو بھی ایک نمبر کا شرارتی ہے ۔۔۔

بس چچی جان کبھی فخر نہیں کیا ہمیشہ عاجزانہ زندگی کو ہی فوقیت دی ہے ۔۔

رضیہ بیگم نے ہنستے ہوئے انس کے سر پر ایک چت لگائی اور پھر واش روم کی طرف بڑھ گئیں ۔۔۔

رانی جو کہ اپنی ہی دھن میں مگن ناشتے سے لطف اندوز ہو رہی تھی ، چائے کا پہلا گھونٹ گلے سے نیچے اتارا اور پھر انڈے پراٹھے کے ساتھ انصاف کرنے لگی ۔۔۔۔

موقع غنیمت پاکر انس نے کچن کی راہ لی اور بہت زور سے ہانک لگائی ۔۔۔

رانڑی رانڑی رانڑی!!!

راااااانڑییییییییییی !!!!!

رانی نے بھی نہ آو دیکھا اور نہ تاو دیکھا بیلن اٹھا کر اسکے پیچھے لپکی ہی تھی کہ پاوں کسی نہایت نرم شے سے ٹکرایا جھک کر دیکھا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *