Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 18,19)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 18,19)
Sabeel by Umme Umair
تائی جی نے فون کان کے ساتھ لگایا اور ابھی 2 منٹ بھی نہ گزرے بات کرتے ہوئے تو یکدم رونا شروع کر دیا ۔۔ اللہ میرے اس کمینے بھانجے کو ہدایت دے آمین ۔۔ مریم تو دل چھوٹا نہ کر میری بچی ، میں آج ہی زبیدہ کو فون کرتی ہوں تو بچوں کو سکول چھوڑ اور سیدھی ہماری طرف آ۔۔
ہاں رانی زیاد بھی واپس آگئے ہیں ،زیاد تو ابھی کام کےلئے نکلنے والا ہے ۔۔ ابھی رونا نہیں میری بچی ۔ میں خود اس کا کوئی حل نکالتی ہوں ۔۔
رانی کے لئے ساری صورتحال پریشان کن تھی ۔رہا نہ گیا تو پوچھ بیٹھی ۔ تائی جی سب خیریت ہے نا ؟ تائی نے پاس پڑے ٹشو پیپر کے ڈبے سے ٹشو نکال کر اپنے آنسوؤں کو صاف کیا اور گویا ہوئیں تم سے کیا چھپانا رانی۔۔۔ اس میرے بھانجے نے میری بچی کی زندگی عذاب کی ہوئی ۔۔ مم میں اس جہانگیر کو زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔زیاد تم اس معاملے سے دور ہی رہو تو بہتر ہے ، میں اور تمھارے ڈیڈ ہیں نا، ہم خود بات کر لیں گے ۔۔۔ تم نے اگر ناشتہ نہیں کیا تو فورا کر لو اور اپنے کام پر جاو میرا لعل ۔۔۔
مم جہانگیر بہت بڑا چیٹر یوزر ہے جب سے آیا ہے کوئی سیدھا کام کیا ہے اس نے ؟
اسی بات کا تو افسوس ہے، یہی سوچا تھا ، غریب بہن ہے ،تو چلو بیٹا ادھر انگلینڈ آگیا تو انکو کھانے کو تو 2 وقت کی روٹی آسانی سے ملے گی۔۔ کمائے گا ہماری بیٹی کی ذمہ داری بھی اٹھائے گا اور پیچھے اپنے والدین بہن بھائیوں کی بھی دیکھ بھال کرے گا ۔۔ لیکن اسے تو کوٹھیاں بنانے سے فرصت نہیں ہے، 3 سال تو اسے ہم نے اپنے پاس اسی گھر میں رکھا تاکہ اپنے پاوں پر کھڑا ہو جائے اور پھر اپنے الگ گھر میں جائے اور اپنے بیوی بچوں کو دیکھے اب تو اس نے تو حد ہی مکا دی ہے ۔۔
تایا سلیم سب خاموشی سے گردن جھکائے سن رہے تھے شاید انکے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا یا پھر وہ اس فیصلے پر پچھتا رہے تھے، رانی نے انکی اذیت کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا۔۔
مم میں آپکو بول رہا ہوں اگر وہ میرے سامنے آ گیا تو میرے ہاتھوں سے بچے گا نہیں ۔۔ پھر نا بولنا کے میرا سگا بھانجا ہے ۔۔
زیاد تم کام کے لئے نکلو دیر ہو جائے گی، پہلے ہی ایک ہفتہ آف رہے ہو ۔۔ رانی نے ایک ہفتے والی بات پر نظریں چرائیں اور کچن کی کھڑکی سے باہر گارڈن میں دیکھنے لگی ۔۔ اوکھے مم ڈیڈ میں جا رہا ہوں ۔ ٹیک کیئر رانی ۔ بائے ۔۔ رانی نے بھی بناوٹی مسکراہٹ سجا کر الوداعی سلام بولا ۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں اللہ سب بہتر کرے گا تایا جی ۔ تائی جی آپ بھی رونا چھوڑیں ، یہ دیکھیں میں اور زیاد آپکے لیئے کیا لے کر آئے ہیں ۔۔۔
کیا ضرورت تھی رانی بس تم دونوں آپس میں اتفاق سلوک سے زندگی بسر کرو یہی ہماری سب سے بڑی خوشی ہے ۔۔ بس مریم کی پریشانی ہر وقت رہتی ہے ۔
باہر سے بیل بجنے کی آواز آرہی ہے میرے خیال میں مریم آپی آئی ہیں ، میں کھولتی ہوں دروازہ آپ ادھر ہی رہیں تایا جانی ۔۔
دروازہ کھلتے ہی مریم نے رانی کے گلے لگ کر دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیا ۔۔ آپی حوصلہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا، ہم سب ہے نا آپ کے ساتھ ، آپ اکیلی تھوڑی ہیں ۔۔
رانی مریم کو ساتھ لپٹائے سیٹنگ روم میں لے آئی ۔آپ ادھر بیٹھیں میں ابھی پانی لے کر آئی ۔۔ تایا تائی بھی دونوں مریم کو تسلیاں دینے میں مشغول تھے ۔۔
گلاس میں پانی بھرتے ہوئے رانی کے دماغ میں طرح طرح کے خیالات ابھر رہے تھے ۔دل و دماغ میں جنگ چھڑ چکی تھی۔۔
دھیان زیاد کی طرف گیا تو گلے میں ایک پھانس چبھتی محسوس ہوئی ۔ اگر اسکے کرتوتوں کا تایا تائی کو پتا چلے تو یہ کتنے دلبرداشتہ ہونگے، کتنی اذیت پہنچے گی انہیں ۔ ایک ہی ایک بیٹا ہے اور وہ بھی غلاظت میں دھنس چکا ہے ۔ رانی نے کچھ سوچتے ہوئے دل کو تسلی دی اور مریم کو پانی پکڑا کر صوفے کے ایک کونے میں ٹک گئی ۔۔
مریم نے رو رو کر خود کو نڈھال کر لیا ۔ ہچکی بندھ گئی جس کی وجہ سے صحیح بات بھی نہ کر پا رہی تھی ۔ آج کیا بات ہوئی ہے ؟؟ ۔۔ تائی مستفسر ہوئیں ۔۔
کوئی ایک بات ہو تو بتاوءں ۔۔ ہر وقت غصہ اور تڑیاں لگاتا ہے ۔ جب سے برٹش پاسپورٹ ملا ہے اسکے تو تیور ہی بدل گئے ہیں ۔۔ پہلے پھر تھوڑا بہت لحاظ کرتا تھا لیکن جب سے ویزہ ملا اور ہم نے رانی کا رشتہ زیاد کے لئے کیا ہے، آئے روز میرے ساتھ لڑائیاں کرتا ہے ۔ بغیر کسی وجہ کے برتن پٹخنا، کبھی سالن سے نقص تو کبھی مجھے کپڑے صحیح طرح سے استری کرنے نہیں آتے، میں پھوہڑ ہوں ۔۔ ہم نے اسکی بہن رمشہ کا رشتہ نہیں کیا اور رانی کو بیاہ کر لے آئے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
کمرے میں بیٹھے نفوس کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا ۔ صرف ہچکیوں اور سسکیوں کی آواز ابھر رہی تھی ، امی آج تو جہانگیر نے میرے اوپر ہاتھ بھی اٹھایا ہے اور طلاق کی دھمکی بھی دی ہے ۔۔ امی خرچہ بھی نہیں دیتا ہے، بولتا ہے اپنے ماں باپ سے لے کر آؤ، وہ جو ادھر 50 سال سے پونڈ جمع کرنے میں لگے ہیں، قبر میں ساتھ تو نہیں لے کر جا رہے ۔ امی جہانگیر کا دل ہے کہ میں آپ سے وراثت میں سے اپنا حصہ ابھی لے لوں ۔۔
(( قارئین کرام کے لئے وضاحت کرتی جاوءں یہاں انگلینڈ آنے والے مرد و خواتین جو بھی پاکستان سے شادی ہو کر ادھر آتے ہیں، اکثر و بیشتر ویزہ ملنے کے بعد اپنے اصلی رنگ دکھاتے ہیں ، ویزہ ملنے کے بعد انکا برتاو مکمل طور پر بدل جاتا ہے۔ کچھ کا تو نبھا ہو جاتا ہے لیکن اکثر نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے ۔۔ اگر انگلینڈ میں برائی ہے یا برے لوگ موجود ہیں تو پاکستانی بھی دودھ کے دھلے نہیں ہیں۔ اچھے برے لوگ آپکو ہر جگہ ملتے ہیں۔۔ لیکن ہیرا پھیری اور مطلب پرستی میں بعض اوقات اپنے ہم وطن مات دے جاتے ہیں ۔۔ مجھے بہت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے۔۔ ))۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماشااللہ جب سے میرا بچہ گھر آیا ہے کتنی رونق سی لگ گئی ہے ۔ انس نے پھیکی ہنسی سے ماں کو دیکھا ، ماں میرے دل کے اندر جھانک کر دیکھیں تو پتا چلے کتنی اداسی اور ویرانی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ اس گھر کے در و دیوار مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہے ہیں ۔۔ رانی تو میری خوشیاں اپنے ساتھ ہی رخصت کروا کر لے گئی ہے ۔۔ انس میں سوچ رہی ہوں پتر کے اب تیری شادی کر دوں ۔ اب تو کورس بھی مکمل ہو گیا ہے ۔۔امی جان پہلے فارس بھیا کو فارغ کریں ، آپ میری فکر نہ کریں ۔۔ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ہے ۔۔ ہائے دونوں باولے ہو گئے ہو ۔ اسکو بولوں تو وہ کہتا ہے انس کی پہلے کرواوء اور تجھے بولوں تو فارس کی پہلے کرواوء۔۔۔
آخر کونسا خزانہ ہے جس کی تلاش میں سرگرداں ہوگئے ہو تم دونوں ۔۔ ثوبی کو دیکھو !! اس سے ہی کچھ سیکھ لو ، ابھی پچھلی دفعہ جب آیا ہےتو مجھے رشتے کا بول کر گیا ہے ، اور ایک تم ہو کان ہی نہیں دھرتے ۔۔ انس زینہ کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟؟
امی میری طرف سے ناں ہی سمجھیں ۔۔ مجھے بتاو کیا کمی ہے؟؟ دیکھی بھالی ہے شکل و صورت، ادب اخلاق، اٹھنا بیٹھنا اور سب سے بڑی خوبی گھر داری میں ماسٹر ہے۔۔ جب سے رانی گئی ہے سارا گھر اسکے کندھوں پر ہے ۔۔
امی میں کسی مقام پر پہنچنا چاہتا ہوں اور مجھے اسکے لیئے کچھ وقت اور محنت درکار ہے ۔۔ یہ بیوی والا ڈھول میں ابھی اپنے گلے میں نہیں لٹکا سکتا ۔
میرے لعل ہر چیز اپنے مناسب وقت پر ہی اچھی لگتی ہے ۔۔۔
امی جان فارس بھیا کو بلا کر یہ ننگی تلوار میرے سر سے پیچھے ہٹائیں ۔۔
تم دونوں نے تو مجھے زچ کر کے رکھ دیا ہے ۔ ملا ثوبی کو فون ۔۔ کیوں امی ثوبی بیچ میں کدھر آگیا ہے ؟ تو فون ملا میں جانو اور ثوبی جانے ۔۔۔ امی اس نے اپنی شادی کے لئے ہی لیلیں گھولنی ہیں، آپ کا مسئلہ ادھر ہی دھرا کا دھرا رہ جائے گا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
زیاد کونسا سوٹ پہننا ہے ؟؟ میں ابھی نکال کر رکھ رہی ہوں ۔۔ یہ گرے والا رکھ دو اور ساتھ میچنگ ٹائی بھی پلیز ۔۔ زیاد نے عجلت میں اپنے بالوں میں جیل لگاتے ہوئے بولا ۔۔۔
رانی اپنے کئے گئے سمجھوتے پر قائم تھی ۔ ایک نیک بیوی والے سارے فرائض نبھا رہی تھی، جبکہ زیاد کا رویہ وہی پرانا ، جزبات سے عاری ، پورا ایک سال گزر گیا ، بہار کے بعد اب تو خزاں دوبارہ سے اپنے اندر اداسی سموئے رانی کو بیقرار کر رہی تھی ۔۔
زیاد نے اس ہرزہ سرائی کے بعد دوبارہ اپنے گھر کے اندر اس قسم کی حرکتوں سے اجتناب برتا لیکن گھر سے باہر رانی بالکل بےخبر تھی ۔ وہ کیا کرتا ہے ، کس سے ملتا ہے، کدھر جاتا ہے ۔۔۔
پاکستان والدین اور بہنوں کے ساتھ مصنوعی قہقہے اور بناوٹی مسرتیں بکھیرتی، ویڈیو کال کر کے نت نئے کپڑے، جیولری اور بیگ دکھاتی، جب بھی زیاد کا پوچھا جاتا تو جواب یہی ملتا لمبے گھنٹے کام کرتے ہیں، گھر واپسی پر پاکستان رات دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔۔۔
رانی کی ہر وقت یہی کوشش ہوتی ہے کے گھر والے اس کی طرف سے مطمئن رہیں ۔۔ اب تو بچوں کی خواہش میکے اور سسرال میں سر اٹھانے لگی ۔۔
ہر بار یہی بول کر ٹال دیتی ، امی ابھی تو ہمیں گھومنا پھرنا ہے ، بچے بھی ہو جائیں گے ۔۔ زیاد کو دنیا دیکھنے کا بہت شوق ہے ۔۔۔
اکیلے بیٹھے بیٹھے آنکھوں سے لڑک جانے والے موتی اکثر ایسے ہی بےمول ہوتے رہتے تھے ۔اپنی ناقدری کا غم رانی کو اندر ہی اندر چاٹتا ۔ سات سمندر پار اپنے والدین اور بہنوں کو اپنے غم بتانے سے گریز کرتی تھی کیونکہ ان کے لئے یہ بات کسی بہت بڑے عذاب سے کم نہ ہوتی ۔۔
مجھ سے پوچھے نہ کوئی میری اداسی کا سبب
لگا کر سینے سے مجھے ____کاش رلا دے کوئی
رانی کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیسے زیاد کو سمجھائے کیسے اس کے دل کو بدلے؟ جب بھی کوشش کرتی خالی ہاتھ ہی لوٹتی۔۔ صرف ایک آس ، ایک امید اسکی ڈولتی زندگی کو سہارے دیئے ہوئے تھی ۔۔۔
اپنی سوچوں میں غلطاں تھی ، خارجی دروازے میں سے زیاد کو نہایت عجلت میں داخل ہوتے دیکھا ۔ تھوڑی دیر کے لئے تو دل لرز گیا ۔۔ اسکے چہرے کا رنگ اڑا ہوا اور ماتھے پر پسینے کی بوندیں نظر آ رہیں تھیں ۔۔
زیاد کیا بات ہے؟ سب خیریت ہے نا؟؟
خیریت نہیں ہے جلدی سے تیار ہو جاوء ہمیں ابھی۔
Episode 19
خیریت نہیں ہے جلدی سے تیار ہو جاوء ہمیں ابھی نکلنا ہے ۔ ڈیڈ ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں ۔۔ انکو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔ جہانگیر نے مریم کو طلاق دے دی ہے ۔۔کیا بول رہے ہو ؟؟ رانی نے ایک دم پاس پڑی کرسی کو پکڑا، دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا ۔۔
جلدی کرو پلیز مجھے نکلنا ہے میں تمھیں لینے آیا ہوں ۔۔ کم آن ہری اپ ۔۔
بہت مشکلوں سے عبایہ حجاب پہنا اور باہر گاڑی میں آگئی، زیاد پہلے سے گاڑی میں بیٹھا بےچینی سے منتظر تھا اسکے بیٹھتے ہی گاڑی دوڑانا شروع کر دی ۔۔۔
ہسپتال پہنچتے ہی دل دہلا دینے والا منظر تھا ،تائی ایک کرسی پر نڈھال بیٹھی رو رہیں تھیں، بڑی اور چھوٹی نندیں دونوں نے رو رو کر آنکھیں سجا رکھیں تھیں ۔۔ رانی جاتے ہی سب کے ساتھ لپٹ گئی ۔۔ اگلا پچھلا سارا غبار نکال کر جب فارغ ہوئی تو زیاد کو گم پایا۔ ہو سکتا ہے ڈاکٹر کے پاس گیا ہو ۔۔ رانی نے سوچا ۔۔تھوڑی دیر بعد زیاد ہاتھوں میں پانی اور جوس کے ڈبے پکڑے ویٹنگ روم میں داخل ہوا ۔۔
ماں بہنوں کو پیار کیا اور سب کو باری باری اپنے ساتھ لگا کر تسلیاں دیتا رہا ۔۔۔
یا اللہ اس شخص کے کتنے روپ ہیں؟ یہ تو پورا بہروپیا ہے ، اس کا ہر چہرہ ایک نئی کہانی سناتا ہے، کیسے کتنے عرصے سے اپنے ماں باپ اور بہنوں کو یہ اپنے کالے کرتوتوں سے بے خبر رکھے ہوئے ہے ۔۔۔ یہ سب سوچ کر ہی رانی کا منہ کڑوا ہو گیا ۔۔گزشتہ سال پرانے زخم دوبارہ تازے ہونے لگے ۔۔۔ کاش اس رات میری آنکھ نہ کھلتی اور میں وہ منظر اپنی آنکھوں سے نا دیکھتی تو کم از کم اس شخص کی عزت تو برقرار رہتی ۔۔ ابھی تو سوائے نفرت کے میرے دل میں اس شخص کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔
میرے مالک میرے تایا جان کو صحت و تندرستی دے آمین یا رب العالمین ، ابھی پھر بھی اس شخص کو تایا کا تھوڑا بہت لحاظ ہے ۔ اگر وہ نہ رہے تو اس شخص نے پتا نہیں کیا کر گزرنا ہے ۔۔۔ تائی ہر وقت گھر ہوتی ہیں انکو کیا پتا یہ کدھر جاتا ہے ؟ کیا کرتا ہے؟ تایا تو اندر باہر مختلف جگہوں پر آتے جاتے ہیں، چاہے وہ کام کے سلسلے میں ہو یا ویسے کسی سے میل ملاپ کرنا ہو ۔۔ سوچوں کے گرداب میں گھومتی رانی کی کہانی بیچ منجدھار تھی ۔
ویٹنگ روم میں سبھی خاموش اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے جب ڈاکٹر نے انتہائی نگہداشت سے باہر نکل کر تایا کی زندگی کی نوید سنائی ۔۔ ابھی بھی خطرہ ہے لیکن بروقت طبعی امداد کی بدولت کچھ بچت ہو گئی ہے ۔۔ 48 گھنٹے کافی ناگزیر ہیں اس کے بعد سروائو کرنے کے چانسز ہیں ۔۔ اس خبر نے سب کو مذید نڈھال کر دیا ، ننگی تلوار سب کے سروں پر لٹک رہی تھی، آہوں بکاوءں کے ساتھ ذکر اذکار بھی اپنے عروج پر تھا ۔۔ سوائے بد نصیب زیاد کے جو ابھی بھی اللہ کی رحمت سے محروم تھا۔۔
وقت کا پہیہ اپنی مقرر کردہ رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا، اللہ کی رحمت سے تایا نے آنکھیں کھولیں لیکن بات چیت کی اجازت نہ تھی ۔۔۔ دن گزرتے گئے تایا جان آہستہ آہستہ اپنی روٹین میں آنے لگے ۔۔ پرہیزی کھانا پینا بنانے کی ذمہ داری رانی نے اپنے ذمے لے رکھی تھی، ویسے بھی سارا دن فارغ رہ کر بھی سوائے دل جلانے کے اور کچھ بچا بھی نہیں تھا ۔۔ گزشتہ سال کئے گئے سمجھوتے پر رانی کا دل ابھی بھی بےچین تھا،گاہے بگاہے ابھی تک گزرے لمحات اوراذیت ناک مناظر رانی کو تڑپاتے تھے۔۔۔
ہجر کی شام دھیان میں رکھنا
اک دیا بھی مکان ___میں رکھنا
آئینے بیچنے کو________ آئے ہو
چند پتھر دکان _____میں رکھنا
تیر پلٹے تو دل نہ _____زخمی ہو
یہ ہنر بھی کمان میں____ رکھنا
اتنی رسوائیاں بھی کیا محسن
کچھ بھرم تو جہاں میں رکھنا
تایا کی بیماری رانی کے لئے بہترین راہ فرار ثابت ہوئی، تایا کے ہسپتال سے گھر واپس آتے ہی رانی اپنا سارا ضروری سامان اپارٹمنٹ سے اٹھا کر لے آئی ۔۔
تایا جانی اب میں کہیں نہیں جا رہی ہوں ۔۔، جب تک آپ مکمل صحت یاب نہیں ہو جاتے اور جب تک آپ جوگنگ کےلیے میرے ساتھ پارک تک نہیں چلیں گے تب تک رانی آپ کے پاس سے نہیں ہلے گی ۔۔
ارے پگلی ہو گئی ہے، تیری ہٹی کٹی تائی ہر وقت میرے سر پر موجود ہوتی ہے ۔اور مریم بھی تو سارا دن پاس ہوتی ہے۔۔
تایا نے افسردہ بیٹھی بیٹی کی طرف اشارہ کیا ۔ مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہے کہ میں یہاں سے 5 منٹ بھی آپکی نظروں سے اوجھل ہوں ۔۔
بابا نے بہت خفا ہو جانا ہے کل بھی بار بار یہی تنبیہ کر رہے تھے، لہذا میں ابھی کسی قسم کی ڈانٹ کھانے کے موڈ میں نہیں ہوں ۔۔۔ اچھا چلو جیسے تم خوش ہو میری گڑیا ۔۔ یہ ہوئی نا اچھے بزرگوں والی بات ۔۔ سب کے چہروں پر بہت دنوں بعد مسکراہٹ بکھری ۔۔
رانی پر زیاد اکیلا کیسے رہ پائے گا پہلے جب بھی تم نے ادھر رکنا چاہا اس کی ایک ہی ضد ہوتی ، مجھے نیند نہیں آتی ، رانی کی عادت ہو گئی ہے ۔۔
یکدم آنے والے غصے کو رانی نے بہت مشکل سے بناوٹی مسکراہٹ میں بدلا ۔۔ ارے تائی جان زیاد کو پتا ہے تایا جانی ٹھیک نہیں ہیں تو انکو کوئی اعتراض نہیں ہو گا ان شاءاللہ ۔۔
اچھا چلو اسکو بتا دینا، شام جب کام سے آئے گا ۔۔
جی جی ضرور ۔۔
میں تو اسکی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتی کجا کہ اس کے ساتھ مزید رکوں ، میں نے اپنا کیا ہوا وعدہ نبھایا ہے مسٹر زیاد ! تمھیں مقررہ مدت سے بھی زیادہ وقت دے کر دیکھ لیا ہے ۔۔ پر “تم مرغی کی ایک ٹانگ کے مترادف ہو۔”
حزن وملال کی ملی جلی کیفیات سے دوچار رانی اپنی سوچوں کے تانے بانے بننے لگی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہم نہ ہوں گے تو کسی اور کے چرچے ہوں گے
خلقت شہر تو کہنے کو _______فسانے مانگے
انس یار تو بھی نرا گھامڑ ہے ! پگلے اسکی شادی ہو گئی ہے ابھی تو ایک سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے اور تو ادھر بیٹھ کر ٹسوے بہا رہا ہے ۔۔ یار ایک دفعہ تیری شادی ہو گئی تو یہ سارا لویریا نکل جائے گا ۔۔ جب بھابھی تیرے سرہانے بیٹھ کر تجھے اپنے زمانہ طالب علمی کے قصے سنائے گی ۔۔ اور پھر تجھے پیار سے “انسی” بولے گی ۔۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔ ثوبان یار اس سین میں تو مجھے تو نظر آتا ہے ۔۔ مذاق کے علاوہ یار ، میں نہیں چاہتا میں کسی شریف لڑکی کی زندگی برباد کروں ۔ میرے دل و دماغ میں کسی اور کا ڈیرہ اور بسیرا کسی اور کے ساتھ ۔۔ نہیں یار میرا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا ۔۔ شاید مجھے مزید وقت درکار ہے ۔
یہ مذید وقت لگتا ہے کوئی 10 سال بعد ہی آئے گا۔ جب تیرے سر کے بال بھی الوادعی مراحل میں ہونگے ۔۔
پتا نہیں یار ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا ۔۔ دل کا معاملہ ہے نازک بھی اور گھمبیر بھی ۔۔ انس نے اداس لہجے میں بولا ۔۔ ثوبی کہاں باز رہنے والا تھا فورا بات کو اچک لیا ۔۔”حبیب آئل کیوں کہ یہ دل کا معاملہ ہے” ۔ انس ۔۔
پھر ٹھیک ہے پیارے تو ضمیر کے لارے پر بیٹھا رہ ، کل کو جب میرے بچے کلکاریاں مار مار کر تیری گود میں آئیں گے تو پھر ٹھنڈی آہیں نہ بھریں ۔۔
ثوبان تو شیخ چلی کا استاد ہے ۔۔
یہ کیا کھسر پھسر ہو رہی ہے؟ سلطانہ بیگم نے دروازے سے ہی ہانک لگائی ۔۔ خالہ جان میں تو آپکے بیٹے کو مفید مشورے دیتا ہوں لیکن یہ ہے مان کر ہی نہیں دیتا۔۔ ابھی کہہ رہا ہے رنگ گورا کرنے والے صابن کی فیکٹری لگاوں گا تاکہ جتنے بھی دوست ایلیٹ سے واپس آچکے ہیں وہ اس سے استفادہ اٹھا سکیں ۔۔ اب بھلا اس سے بندہ پوچھے کہ اس میں کونسا صدقہ جاریہ ہے ؟۔ ثوبان نے آنکھیں پھیلائیں ۔
انس نے پاس پڑی پانی کی بوتل پھینکی جسکو اس نے بہت سہولت سے کیچ کر لیا ۔۔
تم دونوں کب بڑے ہو گے؟ خالہ جان میں تو ہو چکا ہوں، اب بس زوجہ محترمہ کا انتظار ہے ۔۔ ویسے آپ خیر سے میری والدہ ماجدہ سے بات کرنے والی تھیں خالہ ۔ ثوبان ایک لمحہ ضائع کئے بغیر مطلب کی بات پر آ گیا ۔۔
ارے بیٹا میرے بس میں ہو تو میں تو تمھارا نکاح کل کے بجائے آج ہی کروا دوں ۔۔ بس ذرا لڑکی کے والدین سے بات چیت بھی تو ضروری ۔
خالہ جی لڑکا دیکھا بھالا ہے ۔ اکثر نیچے والی منزل میں پایا جاتا ہے ۔۔ انس کا قریبی جگری دوست ہے، اگر آپ بولیں تو چچا جان سے ابھی مل لیتا ہوں ۔۔
ثوبی “چھری تھلے ساہ لے “
انس چھری تھلے ساہ آتا نہیں ہے بلکہ آیا ہوا “ساہ بھی سک جاتا ہے” ۔ کیوں خالہ جان ٹھیک بول رہا ہوں میں؟! ثوبان نے استفسار کیا ۔۔ سلطانہ بیگم نے بمشکل ہنسی روکی ۔۔ ماشااللہ جیتے رہو میرے بچے ۔۔ یہ تم کہیں مشتاق کی بات تو نہیں کر رہے ۔۔ جی جی بالکل آپ نے کمال کا اندازہ لگایا ہے ۔۔ ثوبان نے رمال منہ پر رکھ کر شرمانے کی اداکاری کی ۔۔
انس کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا ۔۔
یار ثوبان چچا نے تجھے کانے کی طرح سیدھا کر دینا ہے ۔۔
لو بھلا جو پہلے سے ہی سیدھا ہو اس پر وقت لگانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ ویسے خالہ جان لڑکی سے میری ملاقات کا انتظام آپ میری والدہ محترمہ کے ساتھ ہی طے کریں گی پھر ؟؟ وہ میں سوچ رہا تھا ابھی صرف چھٹی کا ایک ہفتہ ہی بچا ہے پیچھے ، تو اگر نکاح کے دو بول پڑھوا لیئے جاتے تو کتنا موزوں ہوتا ۔۔ بیٹا رشتے ناتے اتنی جلدی تھوڑی ہوتے ہیں ۔ بیٹی والوں کے لئے فیصلہ کرنا بہت کٹھن مرحلہ ہوتا ہے ۔ ثوبان کا منہ لٹک کر ایک فٹ سے تین فٹ تک پہنچ گیا ۔۔ انس کھی کھی نہ کر ۔۔
جو ضرورت مندوں کے کام نہیں آتے انکو پوچھ ہو گی اگلے جہان جا کر ۔۔ ثوبان نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ۔۔ کاٹھ کے الو منہ سیدھا رکھ تیرے بچے میرے بچوں سے پہلے ہی دنیا میں آکر دنیا کی ناک میں دم کریں گے ۔۔ امی آپ آج شام ہی چچا سے بات کریں بلکہ میں بابا سے بولتا ہوں ، آپ دونوں آج ہی ان سے ہاں ناں میں جواب لیں ۔
آئے ہائے تم دونوں باولے ہو گئے ہو ، ہتھیلی پر سرسوں جمانے چل دیئے ۔ میں خود ہی بات کرتا ہوں چچی جان سے ، چل ثوبی آج تو میرے در سے خالی ہاتھ نہیں جائے گا شہزادے ۔۔
“دل خوش کیتا اے شیرا” ثوبی نے فرحت جذبات میں آکر انس کو گلے لگا لیا ۔۔ کتنے دنوں بعد اس گھر کے در و دیوار میں ہنسی گونجی تھی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
زیاد کو جب پتا چلا کے رانی مم ڈیڈ کے منتقل ہو گئی ہے تو شدید گھبراہٹ کا شکار ہو گیا ۔۔ موقع غنیمت پاکر فورا رانی کے سر پہنچا ۔۔
یہ میں کیا سن رہا ہوں تم ادھر رکو گی ۔۔ جی مسٹر زیاد تم نے بالکل صحیح سنا ہے ۔۔
جب تک تایا جان مکمل شفا یاب نہیں ہوتے میں ادھر سے ہلوں گی بھی نہیں ۔۔۔
تمھاری شادی میرے ساتھ ہوئی ہے ۔۔ جدھر میں رہوں، تمھارا رہنا ادھر ہی بنتا ہے ۔۔
شادی !! تمھارے اس گندے منہ سے پاکیزہ لفظ شادی کا نکلنا بالکل زیب نہیں دیتا ۔۔ نکاح کا بندھن پاکیزہ ذہن اور پاکیزہ لوگوں کے لئے ہے ۔ تم جیسے غلیظ اور گٹر کے کیڑے اس قابل نہیں ہیں ۔۔
زیاد غصے سے مٹھیاں بینچ رہا تھا ۔۔ تم میرے صبر کا امتحان لے رہی ہو ۔۔
واہ واہ مسٹر زیاد ۔ کیا خوب بولا ہے ۔ یعنی میں رانی مشتاق زیاد سلیم کے صبر کا امتحان لے رہی ہوں ۔ جو خود پتا نہیں کدھر کدھر منہ ماری کرتا ہے، جس کو حلال حرام میں فرق نہیں پتا۔۔ جو اپنے نفس کی تسکین کے لیئے ابلیس کے راستے پر چل رہا ہے ۔۔ مسٹر زیاد میں نے تمھیں وقت اور مہلت دے کر دیکھ لیا ہے اور کسی سے بات بھی نہیں کی ۔ میں اپنی زبان پر قائم رہی ہوں ۔۔ تم ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو ۔۔ پچھلے ہفتے میں تایا کی بیماری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کتنی مرتبہ اور کتنے مختلف مردوں کے پاس جا چکے ہو ؟؟ یا صرف وہی ایک رکھا ہوا ہے جسکو تم اپنے گھر لائے تھے ۔۔ گندی نالی کے گندے کیڑے ۔۔ میں شدید نفرت کرتی ہوں تم سے ۔۔ میری آواز کو اونچا مت ہونے دو ورنہ میری تائی اور تمھاری مم کو تمھارے ان کالے کرتوتوں کا پتا چل جائے گا ۔۔۔
رانی میں تمھیں وارن کر رہا ہوں اگر تم نے میری فیملی میں سے کسی ایک کو بھی کچھ بتایا تو وہ دن تمھاری زندگی کا آخری دن ہو گا ۔۔
تم جیسے کھوکھلے انسان سے یہی توقع کی جاسکتی ہے جسکا دیمک زدہ ضمیر بربرا ہو چکا ہے ۔ ابھی صرف ایک وار چاہیئے ہے اور تم پاش پاش ہو جاوء گے مسٹر زیاد ۔۔ ابھی میری نظروں سے اوجھل ہو جاوء ۔۔گھن آتی ہے مجھے تم جیسے خبیث انسان سے ۔۔ زیاد نے آگے بڑھ کر زور سے ۔۔۔۔
