Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sabeel (Episode 07)

Sabeel by Umme Umair

اور اگر میں بولوں کے نہیں جاسکتے تو کیا نہیں جاوءں گے ؟؟ انس کو تو چند لمحوں کے لئے چپ لگ گئی، حیران کن نظروں سے کھلی کھڑکی کی طرف دیکھا جس کے دوسری طرف رانی اپنے جاہ و جلال کے ساتھ کھڑی تھی، سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس آفت کی پڑیا کو کیا بولے؟!

انس آج تو بڑے خاموش ہو !!!

انس نے لمبی سانس کھینچی اور بہت تحمل سے بولا۔

بقول شاعر کے عرض کیا ہے ۔

“”اٹھا کر رکھا نہیں جاتا ————-سب کو سر پر

جو مجھے عزیز ہیں وہ میرے دل کے قریب ہیں “”

انس رسی جل گئی پر بل نہ گیا ۔۔

بالکل بجا فرما رہی ہو ، تم تو بہت اچھی ترجمان بن سکتی ہو ۔۔ بہرحال مجھے ابھی جانا ہے اور نکاح کی ایڈوانس میں مبارک باد قبول کرو ۔۔۔ السلام و علیکم ۔

انس سنو تو سہی۔۔ میری بات تو سنتے جاو ۔۔ عجیب آدمی ہے , کبھی ایسا رویہ نہیں روا رکھا ، اتنی اکڑ دکھا رہا ہے، میری بلا سے ۔ آج پتا نہیں کیا ہو گیا ہے اسے؟! رانی ناچاہتے ہوئے بھی سوچنے پر مجبور ہو گئی ۔۔۔

انس تیزی سے زینے پھلانگتا سیدھا اپنے کمرے میں آگیا، دروازہ فورا اندر سے کنڈی کر لیا کہیں اسکے دل کی حالت گھر والوں کے سامنے عیاں نہ ہو جائے ۔

کتنے دنوں کا جمع شدہ غبار آنکھوں سے سیلابی ریلے کی شکل میں نکلنے لگا ۔۔ آنکھوں کو رگڑ ڈالا لیکن نمکین پانی کا بہاو بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔۔۔

آج ایک مضبوط اعصاب کا مرد ڈھے سا گیا ، آج اس کی ذات اسکے مضبوط اعصاب سے چغلی کھا رہی تھی ۔۔۔ حوالدار انس آج اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر رو رہا تھا ، اس کی ایک دھاڑ تھانے میں موجود مجرموں کو تھر تھر کانپنے پر مجبور کر دیتی تھی ۔۔۔لیکن دل کی اجاڑ بستی میں اب تو صرف ساون کی جھڑی باقی رہ گئی باقی سب تو ریلے میں بہہ کر دل کی منزل کو منہدم کر گیا ۔۔۔۔۔۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

“بغاوت پہ اتر آئی تو دوسری سانس لینا محال ہو جائے گا، ٹیڑھی پسلی کی حقیقت سے واقفیت ہے تو سودا گھاٹے کا نہیں ہے ورنہ تلخ لہجے کی تپش جھلسا کر رکھ دے گی ۔۔۔۔۔ شدید غصے سے پھنکارتی رانی انس پہ چلا رہی تھی اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے مخاطب تھی ۔۔۔

محبت کے چٹیل میدان میں بازی ہارنے کا حوصلہ رکھتے ہو یا صرف تشنگی کا ھدیہ تھام لیا ہے ؟

وار چاہے آر ہو یا پار تم اسکی زد میں ضرور آو گے ۔

سانپ کے گزر جانے کے بعد لکیروں پہ چانٹوں کے وار وقت اور طاقت کا ضیاع ہے “”۔۔۔۔۔

رانی رانی میری بات تو سنو، پلیز رکو ۔۔ کیوں جا رہی ہو میرا جواب تو سنتی جاوء ۔۔ جواب سنے بغیر تم کیسے جا سکتی ہو ۔۔۔ دہائیاں دیتے دیتے انس کی آنکھ کھل گئی، خود کو پسینے میں شرابور پایا ۔۔۔

گلا خشک ہو رہا تھا، برے خواب پر “”أعوذ بالله من الشيطان الرجيم”” پڑھا اور سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔ یا اللہ یہ لڑکی کیوں میرے حواسوں پہ سوار ہوتی جا رہی ہے؟!

کمرے میں لگا گھڑیال رات کے 4 بجا رہا تھا ، ابھی تو فجر بھی طلوع نہیں ہوئی، دائیں بائیں کروٹیں لے لے کر جسم بھی اوب گیا ۔۔۔

فجر کی نماز ادا کی اور اپنا رخت سفر باندھ لیا ،ماں کی خوشی کے لئے پراٹھے کے چند لقمے زہر مار کیئے ۔۔

امی اور بابا جان مجھے ابھی نکلنا ہوگا تاکہ میں مقررہ وقت پر اپنی منزل تک پہنچ جاوءں ۔۔۔۔

سلطانہ بیگم نے اپنے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلنے کی پر زور کوشش جاری رکھی لیکن پھر جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں ۔۔

میرے لعل پہنچتے ساتھ اپنی خیر خیریت کی اطلاع دے دینا ۔۔۔ امی آپ کیوں فکر کرتی ہیں، کچھ مہینوں کی تو بات ہے ۔مجھے اجازت دیں کہیں دیر نہ ہو جائے ۔۔۔۔۔

امی بابا آپ ابھی باہر نہ ہی نکلیں تو بہتر ہے کیونکہ ہلکی ہلکی پھوار ہو رہی ہے، میرے پاس چھتری ہے تو میں خود ہی چلا جاتا ہوں ۔۔۔ امی جان اور بابا جان نے انس کو گھر کے برآمداے میں سے ہی دعاوں تلے رخصت کیا ۔۔

أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك(سنن الترمذي: ٣٤٤٢؛سمن ابن ماجه:٢٨٢٦)

“میں تیرا دین اور تیری امانت اور تیرا خاتمہ اعمال اللہ کے سپرد کرتا ہوں “۔۔

زودك الله التقوى وغفر ذنبك و يسر لك الخير حيث ما كنت(سنن الترمذي:٣٣٤٤)

“”اللہ تعالی تجھے تقوی کا زاد راہ عطا فرمائے، تیرے گناہ بخش دے اور تو جہاں بھی ہو تیرے لئیے نیکی آسان کرے “”۔۔۔

جاوء میرے بچے تجھے اللہ سبحان و تعالی کی رحمت کے سائے میں سپرد کرتی ہوں، میرے بچے کی تمام منزلیں آسان ہوں اور خیر و عافیت سے دوبارہ واپسی ہو۔۔ آمین یا ربی ۔۔۔۔

اشکبار والدین کو چھوڑ کر انس صحن میں آگیا ، ایک الوداعی نگاہ بالائی منزل کی طرف ڈالی ،، دھمکیوں اور قہقہوں کی گونج کی طلب شدت سے ہوئی لیکن انس کی تو منزل بہت آگے تھی جسکو پانے کے لئے اسکو دل سے نہیں دماغ سے کام لینا تھا ۔۔۔

“” تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ، ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو

وہ تھا اک دریا وصال کا ، سو اتر گیا ، اسے بھول جا “”

□□□□□□□□□□□□□□□□□□□

ہائے گھنی کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی اور نکاح رچا رہی ہے۔۔۔ وردہ اور حفصہ دونوں رانی کے لتے لے رہی تھیں ۔۔ اچھا چل دکھا تو سہی دلہا بھائی کیسے ہیں؟؟۔ کوئی بات وات ہوئی ہے یا ایسے ہی چولیں مار رہی ہے ؟؟ اوہ بےصبریو !!! پہلے سانس تو لے لو پھر جتنی مغز ماری کرنی ہے کر لینا ، میں تو آج کل مہمان خصوصی کی کرسی پہ براجمان ہوں اور پھر پردیسی ہونے کا شرف بھی حاصل ہو رہا ہے ان شاءاللہ ۔۔

اچھا چل باقی باتیں چھوڑ۔۔ پہلے ہمیں دلہا بھائی دکھا ۔ اچھا چڑیلو!

وردہ تم ذرا اپنا یہ وسیع حدود اربع سمیٹو تاکہ میں فون دیکھ سکوں ۔ وردہ تھوڑا سا کھسکی تو فون نیچے سے برآمد ہوا ۔۔ ہائے وردہ بھینس کر دی ہوگی میرے فون کی سکرین کریک ۔۔۔

رانی اب چولیں نا مار اب تو انگلینڈ جا رہی ہے ایک چھوڑ دس دس فون دلہا بھائی لے کر دیں گے تجھے ۔ چلو دیکھتے ہیں دس لے کر دیتے ہیں یا پھر جو پاس ہے وہ بھی لے لیں گے ۔۔۔

اچھا جلدی کھول گیلری ۔۔

موٹی میری ران کے اوپر سے اپنا دو من کا بازو ہٹا ۔۔ حفصہ بےتابی سے آگے جھکی جا رہی تھی ۔۔۔ یہ لو دیکھو میں نے کب کا ڈلیٹ کر دینا تھا صرف تم لوگوں کو دکھانے کے لئے رکھا تھا ۔۔

بس بس ہمارے ساتھ ڈرامے بازی نہ کرو ، یہ بولو رات کو ہر آدھے گھنٹے بعد فون کھول کر دیکھتی ہو۔ جی میرا تو اور کوئی کام ہی نہیں ہے سوائے موصوف کو دیکھنے کے ۔۔۔

ہائے رانی یہ تو بڑے ٹپ ٹاپ ہیں ایسے لگتا ہے کہ بڑا خیال رکھتے ہیں اپنا ۔۔ بس یہ جو داڑھی پہاڑی بکرے کی طرح بنائی ہوئی ہے اسکو پہلی فرصت میں درست کروانا ۔۔ اگر داڑھی رکھنی ہے تو شرافت سے رکھیں یہ کیا خالی ٹھوڑی اور ہونٹوں کے ارد گرد؟! کوئی تک نہیں بنتی ویسے رانی ۔۔حفصہ سے رہا نہ گیا ۔۔۔

کوئی بات بھی ہوئی ؟! جی ہاں بات بھی ہوئی ہے، محترم گلابی اردو بولتے ہیں اور 2 منٹ کی کال میں کتنی مرتبہ تو اوکھے اوکھے بولا تھا ۔۔۔۔ اوکھے سے مراد تنگ؟! نہیں یار یہ ادھر کا لہجہ ہی ایسا ہے اوکے کو اوکھے بولتے ہیں، میری تو زبان ہی تھک گئی ہے اس اوکھے کو دہراتے دہراتے ۔۔ تم لوگوں سے پہلے چھوٹیوں کو فون والی روداد سنائی ہے پھر والدہ ماجدہ، پھر خالہ اور پھر پھپھو اور انکی بیٹیوں کو ۔۔۔

تینوں کے قہقہوں سے کمرا گونج رہا تھا ۔۔

ایک کے بعد ایک چٹکلہ ۔۔۔

پر مجھے تو تمھارے کزن انس کی ناک زیادہ بہتر لگتی ہے بلکہ میرے خیال میں وہ زیادہ ہینڈسم ہیں ۔۔ اس کے چہرے پر جو داڑھی ہے ، مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔۔۔۔ پرنور چہرہ ماشااللہ ۔۔ حفصہ انس کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی ۔۔وردہ بھی ہاں میں ہاں ملا رہی تھی ۔۔۔

اس گیدڑ کو کس لیئے بیچ میں لے آئی ہو شکر کیا ہے ٹریننگ سنٹر چلا گیا ہے ورنہ تو جل کر خاک ہوجاتا، اسکا کوئی بھروسہ نہیں تھا رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لئے کیا کر گزرتا ۔۔

رانی تم ویسے ہی اتنے شریف بندے کے پیچھے پڑی رہتی ہو ، اس کو تو ہم نے آج دن تک نظریں اٹھا کر لڑکیوں کو گھورتے ہوئے نہیں دیکھا وہ جب بھی تیری خالہ کے ساتھ تجھ چڑیل کو لینے آتا تھا اپنی نظروں کی حفاظت کرتے ہی پایا ہے ۔۔۔

اچھا تو پھر میں تمھاری شادی اسی شریف سے کروا دیتی ہوں ۔۔ رانی نیکی اور پوچھ پوچھ ۔۔۔

جینا محال کر دیتا ہے جب بھی گھر ہوتا ہے ۔۔اور وہ بھول گئی ہو جب ہم نے ٹرپ پہ جانا تھا تو اسنے کتنا بیوقوف بنایا تھا تم دونوں کو میرے فون سے ۔۔۔

لو آگئے تم لوگوں کے لئے سموسے اور چٹنی ۔۔۔

زینہ علینہ کو بولو کڑک سی چائے بھی بنا لے، رانی نے ملتجی نظروں سے زینہ کو دیکھا ۔

آپی میں نے چائے پہلے سے چولہے پہ چڑھا دی ہے اب بس ابال کا انتظار تھا ۔۔

ارے بھاگو سارے چولہے کے اوپر ابل جائے گی پگلی ۔۔

آپی علینہ ادھر ہی ہے پاس آپ آرام سے اپنی سہیلیوں کے ساتھ گپ شپ کریں ۔۔

ماشااللہ کتنی فرمانبدار بچی ہے اللہ نصیب اچھا کرے آمین ۔۔ وردہ نے دادی ماں والے فرائض نبھانے میں تاخیر نہ ہونے دی ۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

خوبصورت آف وائیٹ شرارے کے ساتھ میچنگ دوپٹا ، ساتھ گولڈ جیولری اور نفاست سے ہلکا پھلکا میک اپ اسکے معصوم حسن کو چارچاند لگا رہا تھا، جو بھی دیکھتا مبہوت سا ہو جاتا اسکے سراپے میں ایک انوکھی کشش تھی جو ناظر کو بار بار دعوت نظارہ دے رہی تھی ۔۔۔ ہر وقت سادہ لباس میں رہنے والی رانی پر ٹوٹ کر روپ آیا تھا ۔۔ ہر چیز اتنی اچھی اور نفیس تھی کے سب کو رانی کے نصیب پر فخر ہو رہا تھا

تایا تائی فدا ہوئے جا رہے تھے جبکہ پردیسی دلہا جی کو نیچے تایا کے پورشن میں بٹھایا گیا تھا ۔۔

بہت قریبی رشتہ دار اور رانی کی سہیلیاں مدعو تھیں ۔۔۔ سب لڑکیاں دلہا جی کے حوالے سے رانی کو چھیڑ رہی تھیں ، جو بار بار شرم سے لال ہوئے جارہی تھی ۔۔۔

اتنی دیر میں باہر شور اٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *