Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 11,12)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 11,12)
Sabeel by Umme Umair
اگلا صفحہ پلٹتے ہی جس نام پر رانی کی نظر پڑی اس نام نے اسکے پاوں تلے سے زمین کھینچ لی ، اپنے ارد گرد ہر چیز گھومتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔
ایسے لگ رہا تھا کہ آنسوؤں کا گولا گلے میں ہی پھنس گیا ہے، سینے میں دھڑکتا دل کچھ لمحوں کے لئے ساکت ہوتا محسوس ہوا ، چہرے کا رنگ سفید لٹھے کی مانند پڑ گیا۔۔۔ کاش میں یہ ڈائری نا کھولتی ۔۔ ہاتھ پاوں پھولتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔
مذید صفحات پلٹنے کی چاہ کہیں دور جا چھپی ۔۔ آنکھوں نے یکدم برسنا شروع کر دیا ۔۔۔ انس گیدڑ یہ تم نے کیا کر دیا ہے ۔۔۔تمھارے تو ہر عمل میں دشمنی کی جھلک تھی ، مقابلے بازی کی ضد اور بچپن سے لے کر ابھی تک تم تو میرے ساتھ اپنی انا کی جنگ لڑتے رہے ہو ۔ یہ کاری وار کیوں کیا ہے تم نے ؟! اس بار بھی تم جیت گئے ہو انس اور میں ہار گئی ۔۔۔
تواتر سے آنسوؤں کی برکھا جاری تھی، رانی یہ سمجھنے سے قاصر تھی کے وہ کیوں روئے جا رہی ہے؟
مذید صفحات پلٹنے کی خواہش دم توڑ گئی، جسم پہ لرزا طاری تھا ۔۔۔۔ بجھے دل کے ساتھ ڈائری کو واپس اسی ڈبے میں ڈال کر الماری کے بالائی خانے کے بالکل عقب میں چھپا دیا۔۔۔
اے میرے رب انس کے اس راز کو کسی اور کے سامنے فاش نہ کرنا آمین ۔ اگر زیاد کو اردو آتی ہوتی اور وہ پڑھ لیتے تو میرا کیا حال کرتے پھر ؟ سوچتے ہی رانی نے جھرجھری لی ۔۔۔ انس گیدڑ اگر تم میرے سامنے آو تو میں تمھارا حشر نشر کر دوں گی ۔ رانی دل ہی دل میں انس کو صلواتیں سنا رہی تھی ۔۔ “”چول جیا نہ ہووے تے”” ۔ (کمینہ نہ ہو تو) یاوءں یاوءں ہی کرتا رہے گا پوری زندگی نالائق ۔
دل کردا اے ایدھیاں پسلیاں کڑکا دواں(دل کرتا ہے اسکی پسلیاں توڑ دوں)۔
رانی نے زیاد کی شرٹیں اور بقایا چھوڑا ہوا سامان نکال کر انس کے باقی تمام کپڑے ترتیب سے واپس رکھ دیئے ۔۔
زیاد کی شرٹوں کی تہہ لگاتے ہوئے دل تھوڑی دیر کے لئے مچلا ، مردانہ پرفیوم کی مہک اسکی سانسوں کو مہکا گئی ۔۔ پتا نہیں کونسا پرفیوم پسند کرتے ہیں ؟؟ بڑی تائی جی سے پوچھوں گی اور جاتے ہی خرید کر تحفہ دوں گی ان شاءاللہ ۔۔۔کتنے خوش ہونگے کہ میں نے انکی پسند کے بارے میں کھوج لگا لیا ۔۔۔ کاش زیاد آپ میرے ہو جائیں۔۔۔ مجھے آپکی دولت کی نہیں ، آپکی توجہ اور چاہ چاہیئے ۔۔۔ دولت تو ہاتھوں کی میل ہے ، آئے گی اور جائے گی ۔۔ لیکن محبت کا ساتھ تو جھونپڑی میں بھی محلوں والا سکھ دیتا ہے۔ زیاد میرا پیار ایک مشرقی مومنہ، فرمانبدار لڑکی کی اعلی تربیت کا منہ بولتا ثبوت بنے گا ان شاءاللہ ۔۔۔ رانی اپنے خیالوں میں گم زیاد سے یک طرفہ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھی ۔۔۔
♡آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں
ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں ♡
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مساں مساں ساڈے کولوں پریڈ مکی سی
ایلیٹ والا پنگا ہنڑ کتھوں آ گیا
سی ڈی اے کہندا تو لایا صحیح چک نا
دائیں بائیں پھر تیرا ہالے تک سیٹ نا
سلام پنگ کر ساڈی جان مک گئی
ایلیٹ والا پنگا ہنڑ کتھوں آ گیا
ساڈے کولوں ہوندی اک میل وی پاس نا
چار میل دا تے ریویو اچ چانس نا
دوڑے چل کر کر میکھ مک گئی
ایلیٹ والا پنگا ہنڑ کتھوں آ گیا
تپ نال ہویا ساڈا بڑا برا حال وے
جنے ایتھے گورے سب کریماں دا کمال اے
کڑیاں اچ ساڈی پہچان مک گئی
ایلیٹ والا پنگا ہنڑ کتھوں آ گیا (ماخوذ، شاعر نامعلوم)
فلک گیر قہقوں سے سارا میدان گونج رہا تھا، چاروں اطراف پولیس کے جوان گول دائرے کی صورت میں بیٹھے ثوبان کی شاعری سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔۔نظم کے اختتام پر انس نے بھرے مجمے میں سے نکل کر ثوبان کو گلے لگایا اور کندھا تھپتھایا۔۔۔ ثوبی یار تیرے لئے لڑکی ڈھونڈنا اب میرے ذمے رہا بس اب تو کریموں کی بہتات کر دے ۔۔۔ ہاہاہاہاہاہا
فراز نے بھی بیچ میں کودنے میں ذرا برابر دیر نہ لگائی ، انس بھائی اگر میری طرف بھی نظر کرم ہو جائے تو کیا ہی کہنے ۔ کیا مطلب ہے فراز ؟ انس نے بھنویں اچکائیں ۔جناب جو آفر آپ نے ہمارے رنجیدہ شاعر کو دی ہے وہی ہمارے اوپر بھی لاگو کر دیں ۔۔
پورے مجمے میں شور مچ گیا ، انس بھائی مجھے بھی، مجھے بھی ۔۔۔
انس کے ہاتھوں کے تو طوطے ہی اڑ گئے ۔۔
اور کر لڑکیوں کی آفریں وہ بھی سر عام ،بھرے مجمے میں ۔۔ اب ڈھونڈ کر دے لڑکیاں ساروں کو ۔ دعوے تو ایسے کرتا ہے جیسے لڑکیاں تیری جیب میں پڑی ہیں ۔۔
ثوبان نے انس کو ملامتی نظروں سے گھورا ۔۔
ادھر تو پیارے حوالدار انس صاحب “ایک انار اور سو بیمار” والا مقولہ فٹ آتا ہے ۔۔
خود ناکام عاشقوں کی طویل فہرست میں اول درجے میں آتا ہے ۔۔ ثوبان نے انس کے مذید قریب ہو کر سرگوشی کی ۔۔
انس جو کے مجمے کو مخاطب کرنے میں کوشاں تھا، قہقہ نہ روک پایا ۔۔۔
دیکھو پیارے جوانوں کی جماعت!!!
سب تشریف رکھیں بات دراصل یہ ہے کہ میرا دوست ثوبان عرف ثوبی مسلط شدہ حالات کے ستائے ہوئے کمانڈوز کے زمرے میں آتا ہے اس لیئے میں اسکے دل کی تسلی کے لئے اسکو روح افزا خبریں گاہے بگاہے دیتا رہتا ہوں ۔۔۔
جہاں تک بات رہ گئی لڑکی ڈھونڈنے کی تو وہ آپ سب مذید 6 مہینے تک تو بھول ہی جائیں کیونکہ آپ سب کی رنگت میں جو نکھار آیا ہے اس ٹریننگ کے دوران، لڑکی تو دور کی بات، اسکے والدین بھی پناہ مانگیں گے ۔۔۔
اپنے چہروں کی کالخ ذرا اترنے دیں پھر اس موضوع کو زیر بحث لائیں گے ۔۔ فلک گیر قہقہے فضاؤں میں بلند ہو رہے تھے ۔۔۔
محترم مکرم حوالدار انس صاحب خاکسار ایک عرض کرنا چاہتا ہے حضور کی خدمت میں۔۔۔ ذرا نظر کرم ادھر بھی فرمائیے ۔۔۔
جی جی فرمائیے انس نے پوری توجہ اور سنجیدگی سے مخاطب کو جواب دیا ۔۔۔
حضور جو پہلے سے ہی شادی شدہ ہیں کیا انکے لیئے بھی کوئی خاص پیکج موجود ہے آپکے پاس ؟! جی کیا مطلب ہے آپکآ ساغر بھائی؟؟
بھائی صاحب مطلب واضح ہے ۔ کیا آپ دوسری شادی کی سروسز بھی فراہم کرتے ہیں؟
اوہ تیری خیر! انس سے پہلے ہی ثوبان کی زبان میں کھجلی ہوئی ۔۔۔ انس بھائی میرا مشورہ مان تو ایلیٹ کو چھوڑتے ساتھ ہی نکاح خانی کے مراحل بھی سیکھ لے ۔۔۔ لگے ہاتھوں خدمت خلق کا ایک اور
سپنا پورا ہو جائے گا ۔۔۔
نہیں نہیں میں اتنا لمبا انتظار نہیں کروں گا انس بھائی، آپکو کچھ کرنا ہو گا ۔۔ بقول شاعر عرض کیا ہے ۔
“وہ فصل گل کی طرح آ تو جائے گا لیکن
مجھے خزاں کی ہوا دور لے گئی ہو گی “
واہ واہ کمال کر دیا ہے ساغر صاحب ۔ آپ نے تو ایک پل ضائع نہیں کیا ۔۔۔ ساغر سے ساغر صدیقی بننے میں ۔۔۔ اس شعر سے آپکی مراد یہ تو نہیں ہے کے آپکے بالوں میں چاندی اتر آئے گی یا پھر بالوں کا صفایا ہو جائے گا ؟؟؟ انس میاں کی خدمات کو حاصل کرنے کے انتظار میں ؟؟؟ ۔۔۔
ثوبان کھسیانی ہنسی ہنسا ۔۔ ثوبان صاحب دونوں باتیں ہی سمجھ لیں ۔۔ ساغر نے سر کھجاتے ہوئے بیچارگی سے جواب دیا ۔۔
ساغر بھائی جان آپکی یہ خواہش ایسی ہی ہے جیسے علاقہ غیر میں خاردار تاروں کے ساتھ آپکی پتلون کے پائنچے پھنس جائیں ۔۔۔ آپ یہ کام میرے بھولے بھالے دوست سے نا ہی کروائیں تو بہتر ہے ۔۔ بھابھی صاحبہ نے انکے بخیئے ادھیڑنے میں ایک پل بھی ضائع نہیں کرنا ۔۔۔ اور ساتھ میں جو آپکا حشر ہونا ہے وہ پھر قابل مذمت نہیں ہو گا بلکہ قابل مرمت بن جائے گا ۔۔۔ یہ نہ ہو آپکو مذید 6 مہینے میس کی ہوا کھانی پڑ جائے ۔۔۔ جان دار قہقہے پھر ہوا میں بلند ہوئے ۔۔۔۔
انس فلک گیر قہقہے کے ساتھ کبھی ثوبان کو دیکھتا تو کبھی مجمے میں کھڑے جوانوں کو ۔
ثوبان نے دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ یہ انس گھامڑ زندگی کی طرف لوٹ رہا ہے ۔۔۔ ہر وقت اسکی رونی شکل دیکھ دیکھ کر میرا بھی دل کتنا زیادہ جل چکا ہے ۔۔۔ زوجہ محترمہ کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑیں گے ، میرے دل کو قابل قبول شکل میں واپس لانے میں ۔۔۔۔ زوجہ ثوبان سکندر عرف ثوبی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
انس کے راز کو ہضم کرنے میں کتنے دن لگ گئے لیکن رانی پھر بھی بعض اوقات بے کل ہو جاتی ۔۔۔ انس کی تحریر میں اسکے الفاظ کی صداقت رانی کو بےچین کر دیتی ۔۔۔
پتا نہیں اب یہ گیدڑ کیا سوچتا ہو گا ؟ اسی لیئے تو ایک دن پہلے ہی گھر سے نکل گیا تھا ۔۔۔ شاید غمگین تھا اسی لئیے ، اس دن اس نے سارے ہتھیار ڈال دئیے تھے۔۔۔ تانے بانے بنتا دل کچھ لمحوں کے لئے زیاد کی یاد سے غافل ہو جاتا لیکن پھر وہی بے کلی آن گھیرتی۔۔۔۔
رانی بڑے بھائی بھابھی نے جو رقم ارسال کی ہے اس کا پھر کیا کرنا ہے ؟؟ ویزے کے بعد خریداری کرنی ہے یا پھر ویزے سے پہلے؟؟ کیا خیال ہے؟؟
امی جان بڑی تائی جی نے تو بولا ہے کے جو کپڑے وہ شادی پر خرید کر لائے تھے وہ میں سارے ذینہ علینہ کو دے دوں اور دوبارہ سے اپنی پسند سے خریداری کروں ۔۔ لیکن امی وہ تمام زیورات کپڑے پہننے کا تو موقع ہی نہیں ملا ۔۔۔ بس کالج اور گھر ۔۔۔
اچھا میری جان جیسے ساس سسر کی مرضی ہے ویسے ہی کرو بلکہ میں تو کہتی ہوں ان میں سے دو دو جوڑے پھپھو کی بیٹیوں کو اور ایک ایک جوڑا اپنی دونوں سہیلیوں کو بھی دے دو ۔۔ اب بیس جوڑے ہم نے کیا کرنے ہیں بھلا ؟!
ٹھیک ہے امی آج شام میں دوبارہ بڑی تائی جی سے پوچھ لوں گی ان شاءاللہ ۔۔۔۔
اگر ان سے بات نہ ہوئی تو زیاد سے پوچھ لینا ۔۔ جی جی امی ضرور ۔ رانی نے ماں سے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔
امی رات تک کا انتظار کس لیئے کرنا ہے میں زیاد کو ابھی میسج کر دیتی ہوں جب فارغ ہونگے تو جواب دے دیں گے ۔۔۔۔
اچھا چلو جیسے بہتر لگے ، میں تو صرف یہ چاہتی ہوں سسرال کو کوئی شکایت کا موقع نہ ملے ۔اتنے چاوء سے میری گڑیا کو بیاہ کر لے جا رہے ہیں ۔ یا اللہ میری بچی پھلے پھولے اس کا دامن خوشیوں سے بھر دے آمین ۔۔۔
ماں کی دعائیں سن کر رانی نے آنکھوں میں امڈ آنے والے پانی کو پیچھے دھکیلا ۔۔۔
شام کو بابا کو دیکھ کر رانی کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھیں، اپنے کمزور باپ پر اتنے بوجھ دیکھ کر رانی کا دل کٹتا ۔۔۔ کاش میں اپنے بابا جان کے کچھ بوجھ ہلکے کر سکوں ۔۔۔
بابا کے بستر کے ایک کونے میں دبکی رانی بابا کی روزمرہ کی نصیحتوں کو حفظ کر چکی تھی ۔۔ بابا جان ہر روز مغرب کے بعد تمام بیٹیوں کو اپنے کمرے میں اپنے بستر پر بٹھاتے اور زندگی کی اونچ نیچ سمجھاتے ۔۔۔ سب سے زیادہ توجہ کا مرکز رانی ہی ہوتی چونکہ وہ اپنی زندگی کا آغاز نئے سرے سے کرنے جا رہی تھی اور وہ بھی دیار غیر ، سات سمندر پار![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔
آپی آپکے کمرے میں آپکا فون کب سے بج رہا ہے ، سب سے چھوٹی 10 سالہ سامیعہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہی اطلاع دی ۔۔۔
بابا مجھے لگتا ہے زیاد ہونگے میں چلتی ہوں پھر ۔۔ ہاں ہاں میری گڑیا رانی جائے اور ہماری طرف سے بھی سلام بول دینا ۔۔ آہستہ آہستہ جب ہماری زبان میں بات چیت سیکھ گیا تو ہم سے بھی بات کر لے گا ۔ رانی پھولی سانسوں کے ساتھ واپس اپنے کمرے میں آگئی اور سب سے پہلا کام کنڈی چڑھانے والا کیا ، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر زیاد کا فون ہوا بھی تو انہوں نے کونسا رومانویت جھاڑنی ہے ۔۔۔
☆میں جو بدلوں تو تغیر ہے میری ذات تلک
تو جو بدلے تو شب و روز بدل جاتے ہیں ☆
اپنی سوچوں کے تانے بانے بنتی رانی کا دھیان دوبارہ سے چنگاڑتے فون کی سکرین پر گیا تو دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی اور جسم پر لرزا طاری ہو گیا ۔۔۔
Episode 12
دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور جسم پر لرزا طاری ہو گیا ۔۔۔ شش و پنج میں مبتلا رانی نے خشک ہوتے گلے کے ساتھ فون کان کے ساتھ لگا لیا ۔۔
دوسری طرف سے مسلسل ہیلو ہیلو کی آوازیں آ رہی تھیں ۔۔ ہمت جمع کر کے صرف جی بول پائی ۔۔۔
تھوڑی اور ہمت پیدا کی اور سلام جھاڑنے میں دیر نہ لگائی۔۔۔لیکن سلام کا جواب پھر بھی موصول نہ ہوا ۔۔
Hey how are you Rani ??
I reckon you was busy and I disturbed you .
کیسی ہو رانی؟ میرے خیال میں تم مصروف تھی میں نے تمھیں پریشان کیا ہے ۔۔
ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ آپ بات کریں۔۔۔ رانی کو تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ زیاد ہے جو اتنی نرمی سے مخاطب ہے ۔۔۔
Actually Mom and Dad wants me to come to Pakistan to get you here when you get your Visa. You know last time i got ill so badly and I don’t want to come now .. Can you plz tell Dad to come instead of me?
دراصل بات یہ ہے کہ مم ڈیڈ چاہتے ہیں کہ میں تمھیں ویزہ ملنے پر پاکستان سے لے کر آؤں اور تم جانتی ہو میں پچھلی مرتبہ کتنا بیمار پڑ گیا تھا۔اور میں ابھی پاکستان نہیں آنا چاہتا ۔۔ کیا تم ڈیڈ کو بولو گی کے وہ میرے بجائے خود تمھیں لینے آئیں پلیز؟؟
رانی تو ہواوں میں اڑ رہی تھی کہ زیاد نے اسکو اس قابل تو سمجھا ہے ۔۔۔ فورا بولی ۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں میں بڑے تایا جی سے بات کرلوں گی ۔ اسی بہانے وہ دوبارہ سب رشتہ داروں سے مل بھی لیں گے ان شاءاللہ ۔۔۔
Ok Rani Thank you so much for that. And Bye
اچھا رانی تمھارا اس بات کے لئے بہت شکریہ ۔۔بائے ۔۔
رانی کو تو ہر چیز اتنی دلفریب لگ رہی تھی کہ جی چاہ رہا تھا خوب اچھلے کودے، خوب شور مچائے۔۔
فورا وضو کیا اور شکرانے کے نفل ادا کرنے کے لئے اللہ سبحان و تعالی کے سامنے سجدہ ریز ہو گئی ۔۔۔خوشی سے آنکھیں نمکین جھرنے برسانے لگیں ۔۔ یا رب العالمین تیرا شکر ہے تو نے میری لاج رکھ لی ۔۔
کب سے یہ بات مجھے دیمک کی طرح چاٹ رہی تھی کے اگر گھر کے کسی فرد کو زیاد کے اس رویے کی خبر ہو گئی تو انکے دلوں پر کیا بیتے گی ۔۔
میرے مالک بےشک تو ہی بہترین مسبب الاسباب ہے ۔۔ حکیم اور کارساز ہے ۔۔ الحمداللہ علی کل حال۔۔
وقت نے پر لگا لیئے اور اپنے ساتھ رانی کو بھی لے اڑا ۔۔ جہاں پر ویزے کی خوشخبری پورے گھرانے کےلئے نوید لائی وہیں پر بچھڑنے کی تڑپ بھی بسیرا کرنے لگی ۔۔۔
بڑے تایا جان پاکستان آچکے تھے ، تمام قریبی دوست احباب سے ملنے ملانے کا سلسلہ پر زور طریقے سے جاری تھا ۔۔۔
رانی جسکو زیاد کی کال نے تھوڑا بہت حوصلہ دیا اب وہ مکمل طور پر مطمئن تھی اور ہر چیز خوشی خوشی سے سر انجام دینے لگی ۔۔
آج رخصتی کا دن تھا گھر میں خوب چہل پہل تھی ، رانی کی سہیلیاں، سب قریبی رشتہ دار جمع تھے ۔۔ مرد حضرات نے اپنی الگ ہی محفل نیچے تایا اشتیاق کے ہاں سجا رکھی تھی ،جس میں ملکی حالات زیر بحث تھے ، آنے والی نئی حکومت کی حکمت عملی اور کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن مرد حضرات کا پسندیدہ موضوع اپنے پورے عروج پر تھا۔۔
رانی کا کمرہ سہلیوں اور کزنوں کی پھلجڑیوں سے بارونق منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔ لڑکیوں کی چھیڑ خانیاں اور رانی کا گلنار ہو جانا رضیہ بیگم کے دل کو تقویت پہنچا رہا تھا ۔۔۔
آدھی رات تک تو باتوں کا سلسلہ جاری رہا بمشکل رضیہ بیگم نے سب کو سونے کا عندیہ سنایا ۔ لڑکیوں خود بھی سو اور رانی کو بھی سونے دو صبح 7 سے 8 گھنٹے کا سفر کرنا ہے ۔۔
جہاز میں جسم اکڑ جائے گا بچی کا ۔ اگر باتیں ہی کرنی ہیں تو لیٹ کر کر لو ۔۔۔
رانی بچے اپنا سارا سامان ٹیکٹ پاسپورٹ دوبارہ سے چیک کر لو ۔۔ سوٹ کیسوں کو تالے لگا لیئے ہیں ؟؟ جہاز سے جب سامان باہر آئے گا تو اپنے سامان کو کوئی چیز نشانی کے طور پر باندھ لو ۔ تلاش میں آسانی رہے گی ۔۔ رضیہ بیگم رانی کی امی فکر مندی سے رانی کو نصیحتیں کر رہیں تھیں ۔۔۔
بلکہ ایسا کرو اپنے کسی پرانے دوپٹے کو پھاڑ کر بکسوں کے ہینڈلوں پر باندھ لو ۔۔۔ کوئی شوخ رنگ ہی ہو تاکہ دور سے ہی دکھائی دے ۔۔۔
جی امی سب کچھ تیار ہے صرف یہ کپڑا نہیں باندھا ۔۔ ارے پگلی یاد نہیں ہے بڑی بھابھی نے ایسے ہی کیا تھا ۔۔ ادھر ایک بندے کا سامان تھوڑی ہوتا ہے ۔۔
چلیں ٹھیک ہے امی جان ۔۔۔
اب تھوڑی دیر آرام کرو میری گڑیا ۔۔ رضیہ بیگم نے بوسہ دیتے ہوئے رانی کو لیٹنے کا عندیہ سنایا اور خود کمرے سے باہر نکل آئیں ۔ رانی کا کمرہ اپنی بہنوں اور پھپھی زاد بہنوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا ۔۔ کچھ فرش پر لحاف بچھا کر آڑھی ترچھی اور باقی رانی کے بستر میں نیم دراز تھیں ۔۔
رانی آپی نہا تو چکی ہو اب مہندی بھی لگوا لو ۔زینہ نے ایک نیا شوشا چھوڑا ۔۔۔
زینہ امی نے ہم سب کو پھڑکا ( مار) دینا ہے اب بس کر دو ۔۔ ارے آپی آپ تو مہمان ہیں ۔ امی کی عتاب میں ہم ہی آئیں گے ۔ کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔
ارے رہنے دو پتا نہیں زیاد کو مہندی پسند بھی ہے یا نہیں ، تو میں ایسے ہی لگوا لوں ۔۔
آپی آپ جو آدھی آدھی رات انکی نیند بقول امی کے ٹک ٹک سے خراب کرتی رہیں تو یہ پتا نہیں کیا کے وہ کیا پسند کرتے ہیں؟
ارے پگلی مہندی کے علاوہ بھی اور بھی بہت ساری باتیں ہوتی ہیں ۔۔
رانی نے بمشکل اپنی اندرونی حالت پر قابو پایا ۔۔۔
سب نے چھت پھاڑنے والا زور دار اووووووو کیا ۔۔ دوبارہ سے سب کی کھی کھی شروع ہو گئی ۔۔۔
رانی بظاہر تو انکی باتوں پر کھلکھلا کر ہنس رہی تھی لیکن اندورنی لحاظ سے بہت ساری فکریں لاحق تھیں ۔۔
ایک دم انس کا خیال آیا تو سوچا اس گیدڑ نے ایک دفعہ بھی فون نہیں کیا ۔ چلو اچھا ہی ہے ، نہیں کیا ، ایسے ہی جاتے جاتے میرے سے کھری کھری سن لیتا ۔ چول نہ ہو تو ۔۔۔۔۔۔
سب کی آنکھیں اشکبار تھیں، گھر کی رونق رانی ہمیشہ کے لئے اس گھر کو چھوڑ رہی تھی۔ یہ وہ گھر تھا جس میں ہر وقت رانی اور انس کی آوازیں گونجتی تھیں ۔ انکی لڑائیاں اور ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ بازی سبھی تو آج چھوٹ رہا تھا ۔۔
خالہ نے رانی کو گلے لگا کر خوب پیار کیا اور بولیں رانی میری گڑیا اپنا بہت سارا خیال رکھنا ۔ ہمارے اس گھر کو بہت سونا کر کے جا رہی ہو۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
اور ہاں رات کو انس نے بڑے تایا کو فون کیا تھا اور ساتھ میں تمھیں ویزے کی مبارکباد دی ہے ۔ کہہ رہا تھا ادھر بہت مشکل سے وقت نکالنا پڑتا ہے ٹریننگ بہت سخت ہے ۔۔ کوئی بات نہیں خالہ ۔ اللہ اسے اسکے مقصد میں کامیاب کرے آمین ۔۔۔
آپی یہ آپ بول رہی ہو ؟ انس بھائی اگر سنتےتو 4 دن ہوش میں نہ آتے ۔ انکا نام اور وہ بھی بغیر گیدڑ کے کچھ جچتا نہیں ہے آپکے منہ سے ۔۔۔ چھوٹی سامیعہ نے ایک پھلجڑی چھوڑی ۔۔
سب رونا بھول کر ہنسنے پر مجبور ہو گئے ۔۔
اچھا خالہ انس گیدڑ کو میری دعا پہنچا دینا ۔۔۔ اب خوش؟ رانی نے سوالیہ نظروں سے چھوٹی بہن کو دیکھا اور اپنے سینے سے لپٹا لیا ۔۔ ہجر کی گھڑی آن پہنچی۔۔ سسکیوں اور دعاوں کا ملا جلا ماحول تھا ۔۔
ہوائی اڈے کے لئے گاڑی تیار کھڑی تھی تایا اور رانی کو لے کر دھول اڑاتی نظروں سے غائب ہو گئی
۔۔۔۔
وہ بچھڑا کچھ اس ادا سے کے رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ______ویران کر گیا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مسافروں سے گزارش ہے کہ اپنے حفاظتی بیلٹ باندھ لیں ہم کچھ ہی دیر میں لندن ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر اترنے والے ہیں۔۔ائیر ہوسٹیس کی آواز گونجتے ہی جہاز میں کلک کلک کی آوازیں آنے لگیں ۔۔
رانی کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی ۔۔۔ پتا نہیں زیاد آئے بھی ہونگے ائیرپورٹ یا نہیں؟ پتا نہیں کیسا رویہ رکھیں گے سب کے سامنے ۔۔۔
ایک جھٹکے سے جہاز نے رن وے کو چھوا اور برق رفتاری سے دوڑنے لگا۔۔۔۔
لندن کا موسم ابر آلود تھا ، آسمان گہرے بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی ۔۔۔ رانی نے جہاز کی کھڑکی سے باہر جھانکا جوکہ تایا کے پیچھے قطار میں کھڑی جہاز سے نکلنے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
رانی اپنے مخصوص انداز میں سر پہ ہلکے سلیٹی رنگ کا حجاب اور عبایہ زیب تن کئے ہوئے تھی ۔ معصوم گول چہرہ جسکے دائیں گال پر مسکراتے ہوئے ہلکا سا گڑھا پڑتا تھا اسکے معصوم چہرے کو چارچاند لگاتا تھا ۔۔۔۔ روشن آنکھیں ایک مخصوص چمک لیئے آنکھوں کی کالی سیاہ گھنی جھالر جو اسکے قدرتی حسن کو دوبالا کرتی تھی ۔۔۔
بڑے تایا بہت شفقت سے رانی کو اپنے ہمراہ سامان سے فارغ ہو کر خارجی گیٹ کی طرف لے آئے ۔۔ تایا نے سوٹ کیسوں کی ٹرالی تھام رکھی تھی جبکہ رانی کے پاس اپنا ہینڈ بیگ اور کچھ تحائف ہاتھ میں تھے۔۔۔
باہر نکلتے ہی متلاشی نظریں دائیں بائیں دیکھنے پر مجبور کرنے لگیں ۔۔۔لیکن ہر بار خالی لوٹ رہیں تھیں ۔۔ ایک دم سے بڑے تایا نے اشارہ کیا وہ دیکھو سبھی ہاتھ لہرا رہے ہیں ۔۔
بڑی تائی، دونوں نیندیں ہاتھ میں پھول پکڑے استقبال کے لئے کھڑی تھیں ۔۔سب نے رانی کا بہت گرم جوشی سے استقبال کیا ۔۔لیکن جس شخص کےلئے دل مچل رہا تھا وہ پتا نہیں کونسی وزارت سنبھالے بیٹھا تھا ۔ آنکھوں نے چغلی کھانے کا پروگرام بنا لیا ۔۔ زیاد کدھر ہے ؟؟ اس نے بولا تھا وہ لازمی آئے گا ۔۔۔ تایا نے بےچینی سے پوچھا ۔۔
وہ آیا ہے پارکنگ میں ہی ہو گا بس کام سے سیدھا ایئرپورٹ کے لئے نکلا ہے تو راستے میں ٹریفک کی وجہ سے تھوڑا لیٹ ہو گیا ہے ۔۔
چلو مریم اسکو فون کرو ادھر ہی رہے ہم بس پہنچ رہے ہیں ۔ جی ڈیڈی ٹھیک ہے ۔۔۔
رانی خاموشی سے ساری کاروائی دیکھ رہی تھی ۔۔ جبکہ تائی سب رشتہ داروں اور سفر کے بارے میں استفسار کر رہیں تھیں اور رانی اپنے دھیمے لہجے میں انکو جواب دے رہی تھی ۔۔۔
سامان کی ٹرالی سمیت پورا خاندان ایک بہت بڑی لفٹ میں کھڑا ہو گیا جوکہ جھٹکے سے سب کو ایک منٹ میں اوپر کھینچ لائی ۔۔۔ جیسے ہی لفٹ سے نکل کر پارکنگ کی طرف بڑھنے لگے ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے رانی کو تھر تھر کانپتے پر مجبور کر دیا ۔ تائی جی نے فورا مہرین کو بھیجا اور اسکی گاڑی میں جو کوٹ رانی کےلئے وہ لوگ خرید کر لائے تھے وہ نکال کر فورا لے آو ۔۔
مہرین ہم سب آپ کی گاڑی میں اور رانی زیاد کے ساتھ جائے ۔۔ میرے خیال میں پہلے انکو انکے اپارٹمنٹ میں جانے دو تھوڑا بہت آرام کر کے شام کو ہماری طرف آجائیں گے ۔۔۔ اور پھر سب مل کر ڈنر کریں گے ۔۔ کیا خیال ہے رانی بیٹی ؟؟ جی جیسے آپ سب بہتر سمجھتے ہیں ۔۔۔ باتیں کرتے کرتے وہ ساتھ ساتھ مطلوبہ گاڑیوں کو متلاشی نظروں سے ڈھونڈ رہے تھے ۔۔ سامنے بائیں جانب زیاد نے گاڑی کی ہیڈ لائیٹس کو فلش کیا اور گاڑی سے باہر نکل آیا ۔۔۔
( قارئین کرام کی معلومات کے لئے بتاتی جاوءں انگلینڈ میں لوگ بلاوجہ گاڑی کا ہارن نہیں بجاتے)۔۔۔
وہ رہا میرا زیاد ، تایا نے گرمجوشی سے باہیں پھیلا لیں اور دونوں باپ بیٹا بغل گیر ہوئے ۔۔ رانی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کے کس طرف دیکھے، سیدھا زیاد کی آنکھوں میں یا پھر نیچے ۔۔۔ اسی شش و پنج میں تایا نے اسکو سامنے آنے کا اشارہ کیا۔۔ جیسے ہی سامنے ہوئی سلام کےلئے ابھی لب واہ ہی کیئے تھے کہ زیاد نے ہائے بول کر جمود کو توڑا اور ڈیڈ سے سامان لے کر گاڑی میں رکھنے لگا ۔۔
تایا نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور مسافر سیٹ پر رانی کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
رانی دبک کر بیٹھ گئی ۔۔ دل دھک دھک کیئے جا رہا تھا ۔۔ وہ باآسانی اپنے دل کی دھڑکن کو سن سکتی تھی ۔۔۔ سامان کو گاڑیوں میں منتقل کرنے کے بعد زیاد نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اپنے ہاتھ مسلتا گاڑی میں آن بیٹھا ۔۔۔ فروری کی سردی اپنے عروج پر تھی ۔ یا پھر رانی کو بہت محسوس ہو رہی تھی ۔۔
گاڑی ایک جھٹکے کے ساتھ زن کر کے بالائی منزل سے اترائی کی طرف بڑھنے لگی ۔۔
گاڑی میں ہیٹر کے شور کے علاوہ مکمل خاموشی تھی ۔۔۔ رانی کا جسم ہلکا ہلکا کپکپا رہا تھا جبکہ گاڑی کا درجہ حرارت معتدل تھا ۔۔ ہیٹر اسکو ڈیش بورڈ سے لے کر گاڑی کی سیٹ سے بھی حرارت پہنچا رہا تھا ۔۔
ایک خوف تھا جو اسکے دل و دماغ پر طاری ہو چکا تھا ۔۔۔ سوچا خود ہی بات شروع کرے لیکن مخاطب کے کھڑوس رویئے کی بنا پر خاموشی میں ہی عافیت جانی ۔۔۔
صاف ستھری ہمورا کالی سڑکیں، جن کے کناروں پر جابجا سفید، پیلی اور سرخ لائنیں بنیں تھیں، جن سے رانی مکمل طور ہر ناواقف تھی۔۔ قطاروں میں چلتی گاڑیاں جن کے لئے صرف کھمبوں پہ ٹنگی بتیاں ہی کافی تھیں ۔۔ گاڑیاں ان بتیوں کے اشاروں پر رکتی اور چلتی تھیں ۔۔۔۔ دھیان ایک دم اپنے وطن عزیز کی طرف گیا تو آنکھیں برسنے کے لئے تیار ہونے لگیں ۔۔۔ بہت ضبط کے بعد بھی موتی ٹوٹ ٹوٹ کر رانی کے گالوں کو بگھونے لگے ۔۔۔
Are you ok Rani ?? Are you crying ?
تم ٹھیک ہو رانی؟ کیا تم رو رہی ہو ؟؟ جی میں ٹھیک ہوں ، بس ایسے ہی ۔۔ رانی نے فورا آنسو صاف کیئے اور گردن موڑ کر مسکرا کر زیاد کو دیکھا جو نظریں سڑک پر جمائے سٹیرنگ ویل کو تھامے برق رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔۔
Don’t worry we will be home soon , i think you are tired .
پریشان نہ ہو ،ہم جلد ہی گھر پہنچنے والے ہیں، میرے خیال میں تم تھک گئی ہو ۔۔ زیاد بغیر دیکھے رانی کو مخاطب کئے ہوئے تھا ۔۔ زیاد کی دو چار باتوں نے رانی کو تقویت بخشی ۔ رانی خود ہی ہلکا سا مسکرا دی ۔۔۔
گاڑی موٹر وے سے اتر کر ذیلی سڑک پر آگئی ۔ سڑک کے دونوں اطراف درختوں کے جھنڈ اور خالی شاخیں خزاں کی بکھیری ہوئی ویرانی کو ظاہر کر رہی تھیں ۔۔۔
گاڑی سے اترتے ہی زیاد نے رانی کا دروازہ کھولا اور اسے نکلنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
رانی جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلی ۔۔۔۔۔۔
