Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sabeel (Episode 21)

Sabeel by Umme Umair

اتنی دیر میں باہر ہلکے پھلکے شور کے ساتھ انس کمرے میں داخل ہوا ۔ سب بزرگ حضرات بھی مستفسر دکھائی دے رہے تھے ۔ انس نے اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے ثوبان کو انگوٹھے کے اشارے سے نوید سنائی ۔۔اور سب کے سامنے کھانا پیش کرنے میں مصروف ہو گیا۔ کھانے کے بعد مہمان واپسی کے لئے پر تولنے لگے ۔۔ ثوبان شدید بیقراری کی حالت میں پہلو بدل رہا تھا جبکہ انس اسکی حالت سے محفوظ ہوتے ہوئے مسکرا رہا تھا ۔۔۔ انس پتر تو واپس آن ڈیوٹی ہو پھر دیکھنا ذرا !! میں تھانے میں تیری کیسے چھترول کرواتا ہوں ۔۔ ثوبی نے منہ پہ ہاتھ پھیرا ۔۔ انس کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔ اوہ بےصبرے دلہے تیری ہی سفارش کے لئے اوپر چچی کے پاس گیا تھا ۔۔ سموسہ چاٹ اگلی چھٹی تک ملتوی سمجھ پر اوپر جا کر تجھے زینہ کے پاس بیٹھ کر بات چیت کرنے کا اجازت نامہ لے کر آیا ہوں ۔۔ چچی جان کا کہنا ہے کہ ثوبان نے کل واپس جانا ہے تو اسے آج رات آرام کی ضرورت ہے تاکہ کل بآسانی لمبا سفر طے کر سکے ۔۔

ثوبان کی خوشی سے باچھیں کھل گئیں ۔ یار انس تو واقعی خالص قسم کا شہزادہ ہے ، ادھر آ میں تیرا ماتھا چوموں ۔۔

اوہ بس بس زیادہ جذباتی نہ ہو ۔ کوئی رومینٹک غزل فورا سوچ لے ، یہ نا ہو زینہ کو ایلیٹ والی نظمیں سنا کر اس کا دل خراب کرتا رہے ۔۔

یار انس ابو جی کو کون بتائے گا کہ وہ گھر واپس چلے جائیں اور میں بعد میں گھر آوں گا ۔۔

تو نے ابو جی کو سر پر اٹھایا ہوا ہے، بیٹھنے دے انکو بھی، جب انکا جی چاہے گا واپس چلیں جائیں گے ۔۔ پر یار پھر بھی مشرقی لڑکے بزرگوں کے سامنے ایسے کر تے اچھے نہیں لگتے ہیں ۔۔

ہاہاہاہاہاہا ۔ ثوبان تو آم کھا ! پیڑوں کو نہ گن پیارے۔۔

اچھا چل ابھی تو بتا ابو جی کو کے تو مجھے منزل محبوب کی طرف لے کر جا رہا ہے۔۔۔

ابھی صبر کر اور کوئی خوبصورت رومینٹک اشعار سوچ ۔۔ یار انس جی چاہ رہا ہے دیدار یار کے وقت بھی تجھے ساتھ ہی رکھوں۔۔ اوہ باگڑ بلے ہوش کے ناخن لے ، پہلے نکاح نکاح کا رولا(شور) ڈالا ہوا تھا اور اب نکاح ہو گیا تو میری جان کے لئے نئے سیاپے، وہ بھی ایک ہی گھر میں ۔۔ یا اللہ اس نئی آزمائش میں مجھے آسانی سے پار لگانا آمین ۔۔ ثوبان نے ماتھے پہ آئے پسینے کے قطروں کو جیب سے رومال نکال کر صاف کیا ۔۔ انس کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا ۔۔ گھبرا نہیں ثوبی میری کزن بہت نیک اور شریف ہے ماشااللہ، تو ویسے ہی گھبرا رہا ہے ۔۔۔

یار زینہ سے ملنے سے پہلے میں امی جی کی دعائیں سمیٹنا چاہتا ہوں ۔ تیری امی جی ادھر ہی زینہ کے ساتھ والے کمرے میں موجود ہیں لہذا پہلے تو امی سے مل لینا اور پھر زینہ سے تفصیلی جو بھی بات کرنی ہے، کر لینا تیرے پاس 20 منٹ کا وقت موجود ہے ۔ انس نے گھڑی دیکھ کر وقت بتایا ۔ انس تو کدھر جائے گا؟ میں باہر کھڑا پہرا دوں گا ۔۔ ابھی اگر تو نے کوئی چول ماری تو میرے سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔۔ انس پیار سے بات کر آخر کار میں نوبیاہتا دلہا ہوں ۔۔۔ جلدی سے زینے پھلانگ تیرے لئیے ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے ۔۔۔

زینہ اپنے کمرے میں اپنے حسن کے جلوے بکھیر رہی تھی۔۔ دھڑکتے دل سے اپنے دلہا صاحب کی منتظر تھی ، جنکی خوش مزاجی کے چرچے آجکل انکے گھر میں مسلسل زیر بحث تھے ۔۔۔

ہلکی سی دستک کے بعد زینہ کے کمرے کا دروازہ اسکے جواب دینے سے پہلے ہی کھل چکا تھا ۔ داخل ہونے والی شخصیت اپنے پیچھے کنڈی چڑھانا نہ بھولی ۔ زینہ کا چہرہ شرم سے جھک گیا ۔

گلا کھنکار کر سلام بولا گیا ۔ زینہ نے گردن ہلا کر جواب کی نشاندہی کی ۔۔ گھبراہٹ سے گلے میں سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی ۔۔

ثوبان زینہ سے کچھ فاصلے پر پڑی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔ کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہو گئے ، دونوں فریقین ناتجربہ کار ہونے کے ساتھ ساتھ شرمیلے بھی ثابت ہوئے ۔ ثوبان نے دوبارہ گلا کھنکارا اور مخاطب ہوا ۔۔ وہ زوجہ محترمہ بات دراصل ایسے ہے کہ میں صنف نازک سے بات چیت کرنے کے معاملے میں کافی اناڑی ہوں۔۔ پڑھائی کے بعد نوکری اور اچھے دوستوں کے ساتھ سے اللہ نے صنف نازک سے بھی محفوظ رکھا ہے، ابھی بہت منت ترلے کے بعد دلی مراد بھر آئی ہے۔۔ اللہ کے فضل سے میری زندگی میں آنے والی آپ پہلی لڑکی ہیں اور امید ہے آخری ہی ہونگیں ۔۔۔ مجھے جھانکا تانکی سے شدید نفرت ہے ۔۔ انس نے تو بولا تھا رومینٹک غزل بولنا ۔۔میسج کرتا ہوں فیس بک سے کوئی ڈھونڈ کر بھیج ۔۔ ثوبان نے میسج ٹائپ کرنا شروع کر دیا ۔ زینہ نے اسکو گردن اٹھا کر دیکھا اور پھر ثوبان کے مسکرا کر دیکھنے پر فورا جھکا لی ۔۔

وہ زینہ جی آپ سے کیا چھپانا میں انس گیدڑ بقول رانی آپا کے ، اسی کو ٹیکسٹ کر رہا تھا ۔۔۔

زینہ کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی ۔۔

ماشااللہ زوجہ محترمہ کی ہنسی کی کھنک ناچیز کا ۔دل چیر گئی ہے ۔۔ آپ بھی کچھ بولیں اور سب سے پہلے اپنا نمبر نوٹ کروائیں تاکہ روابط میں پختگی پیدا ہو ۔۔ میں چھٹی کے بعد آپکو روزانہ فون کیا کروں گا ان شاءاللہ ۔۔

جی ٹھیک ہے ۔۔ ہائے سو شکر ۔ آپکے اس ٹھیک نے میرے کلیجے میں ٹھنڈ ڈال دی ہے ۔۔ ثوبان نے سینے پر ہاتھ مارا ۔۔زینہ کی بے اختیار ہنسی نے ہر طرف جلترنگ بجا دیئے ۔۔ ثوبان کا جی چاہا وقت ادھر ہی تھم جائے اور وہ اس قدرتی حسن سے فیض یاب ہوتا رہے ۔ اگر آپ اجازت دیں تو کیا میں ادھر آپکے پاس بیٹھ سکتا ہوں ۔ ثوبان نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا ۔ زینہ صرف گردن ہلا پائی ۔ زوجہ زینہ جی گردن کا استعمال کم کر دیں ، یہ نا ہو کہ رخصتی کے وقت گردن میں بل پڑ جائیں ۔۔ زینہ نے مسکراہٹ کو دبا کر گردن اوپر اٹھائی لیکن ثوبان کی لو دیتی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے فورا جھکا لیں ۔۔ زوجہ جی میرے تو کان ترس گئے ہیں کچھ تو ارشاد فرمائیں ابھی ظالم سماجوں نے ہمیں جدا کر دینا ہے خاص کر انس ، جس نے میرے داخلے پر الارم سیٹ کیا ہوا ہے ۔۔ اوہ تیری خیر، ایک دم سے ماتھے پر ہاتھ مار کر ثوبان نے جیبیں ٹٹولنا شروع کر دیں ۔۔

ادھ کھلی گلاب کی کلی نکال کر زینہ کو پیش کی، جس کا ظاہر کافی حد تک خراب ہو چکا تھا ، غالبا ثوبان کی جیب میں پڑے رہ رہ کر ادھ کھلی کلی بھی پناہ مانگنے پر مجبور ہو گئی تھی ۔۔ زینہ جی اسکے ظاہری حلیے پہ مت جایئے گا بس یہ سمجھیں کے ثوبان نے آپکو اپنا دل نکال کر ہی دیا ہے ۔۔ میں جب دوبارہ چھٹی پہ آوں گا تو آپکو اپنے ساتھ لے جا کر آپکی پسند کی شاپنگ کرواوں گا۔ ابھی آپ میری ذمہ داری ہیں ۔۔ میرا بس چلے تو آپکو ابھی رخصت کروا کر ساتھ ہی اسلام آباد لے جاوءں لیکن ظالم سماج کسی پاسے نہیں لگنے دیتے ۔۔ زینہ کا اپنے اوپر قابو رکھنا مشکل ہو رہا تھا ، ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی ۔۔ آپ اتنے مزاحیہ ہیں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔

مزاح چھلک پڑا تو میری لاج رہ گئی

اظہار محبت کا___ سلیقہ نہ تھا مجھے

زینہ کھکھلا کر ہنس رہی تھی، اس شعر کا تو آپ نے بیڑا غرق کر دیا ہے ۔۔ شکر ہے میرے مولا زوجہ محترمہ بولیں تو سہی ۔۔۔ اب تو ہر روز تازہ اشعار سننے کو ملیں گے ۔۔ زینہ اب ذرا سنجیدگی اختیار کر لی جائے تو کیا ہی کہنے ۔ جی جی ضرور ۔ ارشاد !! ماں صدقے ماں واری آپکی اپنی ۔۔ ثوبان نے بلائیں لے ڈالیں ۔تو زوجہ زینہ جی میرے یہاں سے رخصت ہونے میں صرف پانچ منٹ باقی ہیں، ثوبان نے پہلو بدلتے ہوئے بات شروع کی۔۔ زینہ آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں ماشااللہ، میرا جی نہیں چاہ رہا یہاں سے نہ اٹھوں لیکن وطن عزیز کے بھی کچھ حقوق و واجبات ہیں ہم پر ۔۔حکومت وقت نے ہزاروں روپے خرچ کر کے مجھے تربیت دی ہے ۔ میرا یہ مشن بہت گھمبیر ہے آپ نے میرے لیئے بہت دعا کرنی ہے کہ اللہ مجھے اس مشن میں کامیاب کرے اور میں جلد از جلد واپس آکر آپکو بھی اپنے ساتھ لے اڑوں ۔۔ آمین۔ زینہ نے دھیمے لہجے میں بولا۔۔ دیکھا ہے نا ظالم سماجوں نے دروازہ بجانا شروع کر دیا ہے ۔ بچھڑنے کی گھڑیاں قریب آگئیں ہیں ۔ اب اجازت دیں۔ زینہ نے گردن کو جنبش دی ۔ زوجہ جی ذرا کھڑی ہوں۔ زینہ نے فورا حکم کی تعمیل کی ، آپ کو یہ لباس بہت جچ رہا ہے، ثوبان نے محبت پاش نظروں سے زینہ کو دیکھا اور فورا آگے بڑھ کر زینہ کے ہاتھ پکڑ کر اپنے پاکیزہ بندھن کی پہلی مہر ثبت کر دی۔۔ چلتا ہوں دعاوں میں یاد رکھنا ۔۔ زینہ نے دھڑکتے دل کو قابو کرتے ہوئے الوداعی نظروں سے ثوبان کو دیکھا ۔ طویل قامت ثوبان چند لمحوں میں زینہ کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

رانی زیاد چلا گیا ہے کام پر ؟؟ جی تائی جان ۔ اسکا پرانا سوٹ پڑا ہوا تھا الماری میں ؟ ۔۔ جی تائی جان وہی پہنا ہے آج (خبیث نے) ۔۔ رانی نے دل ہی دل میں زیاد کو صلواتیں سنائیں ۔۔ زہر سے بھی برا لگتا ہے غلیظ انسان ۔۔ یا اللہ میری اس تکلیف کو آسان کر اور میرے دل میں صبر بھر دے ۔۔ یا اللہ میرے تایا کو صحت تندرستی دے تاکہ میں ان سے بات کر سکوں اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکوں ۔آمین ۔

رانی کا دماغ ہر وقت الجھا رہتا، دن کا شاید ہی کوئی حصہ ایسا ہو گاجب اس نے کوئی دعا نہ مانگی ہو ۔۔ سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے ہر وقت ایک ہی بات اس کو اندر ہی اندر چاٹ رہی تھی ۔۔

رانی مریم نے پکارا ۔ جی آپی ۔۔ رانی میں دیکھ رہی ہوں تم ہر وقت کسی سوچ میں گم ہوتی ہو ۔سب خیریت ہے نا ؟ ارے نہیں آپی سب خیریت ہے الحمداللہ ۔ آپ تو جانتی ہیں زینہ کا کل نکاح ہوا ہے تو بس سارے یاد آ رہے تھے ، حالانکہ علینہ نے لائیو ویڈیو کال بھی کروائی ہے ، میں نے سب سے بات بھی کی اور سب کی تیاری بھی دیکھ لی ۔۔ صرف تایا جان اور بابا جان سے بات نہیں کر پائی کیوں کہ وہ نیچے مردوں کے ساتھ مصروف تھے۔۔

رانی تم ٹھیک کہہ رہی ہو کوئی بات نہیں ہے؟ تمھاری بجھی بجھی آنکھیں کچھ اور ہی کہانی سناتی ہیں ۔۔ رانی کو اپنا دل رکتا ہوا محسوس ہوا ۔ خود پر جبر کر کے بولی ۔۔ آپی آپ تو جانتی ہے تایا جانی کی صحت کی کتنی پریشانی رہی ہے اور پھر سب نے کتنے رتجگے کاٹے ہیں ۔۔

ہاں یہ بات تو ہے ، لیکن اگر کوئی مسئلہ ہے تو پلیز ضرور بتانا بالکل بھی جھجھکنا نہیں ہے، ہمارے والدین نے ہماری تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، اپنی استطاعت کے مطابق دینی اور دنیاوی تعلیم دلائی ہے ۔۔ اور ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ساری زندگی اپنے والدین کو نماز کی پابندی کی تلقین کرتے اور عمل کرتے دیکھا ہے الحمداللہ ۔۔۔ جی ماشااللہ آپ سبھی بہت اچھے ہو، سوائے اس خبیث زیاد کے ۔ رانی نے دل میں زیاد کو کوسا۔۔۔ میرا ضمیر ہی نہیں مانتا کہ میں آپ سب کو یہ بات بتا کر غم سے نڈھال کروں، مجھے یقین ہے یہ اذیت میرے صبر پر میرے درجات کو بلند کرے گی اور مجھے اس زیاد غلیظ کے چنگل سے نجات دلائے گی ان شاءاللہ ۔۔۔ رانی دوبارہ اپنے خیالات میں کھو سی گئی اور میز پر پڑی گوبھی کو کاٹنا شروع کر دیا ۔۔وقت کا پہیہ اپنی مقررہ رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا، تایا ابھی پہلے سے کافی حد تک بہتر محسوس کر رہے تھے ۔ پرہیزی کھانوں کے ساتھ ساتھ رانی کی پر خلوص کمپنی نے سب گھر والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔۔ کچن کا سارا نظام رانی کے ہاتھ میں تھا ، روزانہ شام کو سبھی زیاد کی گھر واپسی پر ہی کھانا کھاتے تھے ۔۔ آج بھی سارے گھر والے زیاد کے سر ہو رہے تھے، بیٹا میرے خیال میں ابھی تم دونوں کو ڈاکٹر سے کچھ ٹیسٹس کروانے چاہیئے ۔۔ مم ٹیسٹس کس لیئے؟؟ ۔۔ ارے بھئی ایک سال سے اوپر کا عرصہ بیت گیا ہے، کوئی کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے ۔۔ کوئی خوشخبری نہیں مل رہی ہے ۔۔ سنتے ساتھ ہی رانی کو ڈسکا لگا اور کھانس کھانس کر برا حال ہو رہا تھا ۔۔ زیاد نے اپنی ظاہری حالت پر قابو پایا اور آگے بڑھ کر رانی کی کمر مسلنے لگا ۔۔ رانی آرام سے پانی پیا کرو ۔ دیکھو کیا حالت بنا لی اپنی؟ سوکھ کر کانٹا بنتی جا رہی ہو ۔۔ خود دیکھی ہے اپنی شکل کتنی لعنتیں برس رہی ہیں ۔۔۔ اپنے غلیظ ہاتھ دور کرو رانی نے دھیمے لہجے سے زیاد کو باور کروایا ۔۔ سبھی خوشخبری والے موضوع کو بھول کر رانی کی کھانسی سے پریشان ہونے لگے ۔۔

کمرے میں آتے ساتھ رانی کی ہمت جواب دے گئی ۔ اگر میں صرف تایا اور بابا جان کی وجہ سے تمھیں برداشت کر رہی ہوں تو اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ پوری عمر میں تمھارے ساتھ بندھی رہوں گی ۔ کچھ دن یا پھر کچھ ہفتے ہیں تمھارے پاس پھر تمھیں خود جواب دہ ہونا ہے اپنے گھر والوں کے سامنے ۔۔ میں الف سے ی تک ساری تفصیلات تمھارے گھر والوں کو بتاوں گی ان شاءاللہ ۔ میرا اللہ میرا حامی و ناصر ہے ۔۔ تم زندہ بچو گی تو بتاو گی نا ۔۔ مسٹر زیاد تم اس کوشش میں پہلے بھی بری طرح ناکام ہو چکے ہو ۔۔ میری سانس کی ڈوری میرے رب کے حکم سے بندھی ہے اور اسکے حکم سے ہی ٹوٹے گی ، تم چاہے جتنا مرضی زور لگا لو ۔۔۔کتنے عرصے تک خنزیروں والے فعل کو چھپاو گے ؟

زیاد نے قہقہہ لگایا ۔ میرا جسم ہے ، میری مرضی ہے ۔ تمھارا جسم کیسے ہے ؟ یہ جسم جس رب نے بنایا ہے ، اس نے اسکو استعمال کرنے کے طریقے بھی سکھائے ہیں ۔ تمھارا یہ جسم جس پر تم اترا رہے ہو، تمھاری روح پرواز ہونے کے بعد اور قبر کی مٹی کے حوالے ہوتے ہی چند دنوں میں کیڑوں کی خوراک بن جائے گا ۔۔ اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے بھٹکنے والے شیطان کے چیلے قبر کا عذاب بہت شدید ہے ۔

زمین اس قدر تنگ ہو جاتی ہے کہ انسان کی پسلیاں ایک دوسرے کے آر پار ہو جاتی ہیں۔۔۔ زیاد مت کرو ظلم اپنی جان پر ۔۔ اللہ سبحان و تعالی بار بار اپنی کتاب میں ہماری رہنمائی فرما رہا ہے ۔

“اے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)کہہ دیں کون ہے وہ ذات جو تمھیں رزق عطا کرتی کہ آسمان اور زمین سے یہ وہی ذات جو مالک ہے سننے کا اور دیکھنے کا اور وہ جو نکالے زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو ۔ اور جو تدبر کرتا ہے ۔ وہ یہی کہیں گے کہ اللہ تعالی، ان سے کہہ دیں کہ کیا تم اپنے رب سے ڈرتے نہیں ہو ۔ کیا تم تقوی اختیار نہیں کرتے ۔(سورت یونس:31)

اور مسٹر زیاد تم جس جس شے پر اترا رہے ہو وہ سب میرے رب کی عطا کردہ ہیں جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔۔ تم فطری عمل کو چھوڑ کر ابلیس کے شر میں غوطہ زن ہو۔۔

“جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور وہ لوگ کبھی بھی جنت میں نہیں جائیں گے جب تک کہ اونٹ ناکہ کے اندر سے نہ چلا جائے اور ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔”(سورت الاعراف:40)

مسٹر زیاد اونٹ کو سوئی کے ناکے سے گزارنا کیسا ہے ؟ ذرا سوچو، اس پر غور وفکر کرو ۔ اگر نہیں تو

جاو جو کرنا ہے کر لو میری جوتی بھی نہیں ڈرتی تمھارے ان شیطانی نظریات سے ۔۔ زیاد جو پچھلے 5 منٹ سے خاموشی سے سب سن رہا تھا ایک دم آگے بڑھ کر ۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *