Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sabeel (Episode 09)

Sabeel by Umme Umair

ابھی دستک دی تو کسی نے کمرے کے بجائے عقب سے مخاطب کیا ۔۔ سوری ۔ رانی نے یکدم پیچھے مڑ کر دیکھا تو گھبراہٹ سے سلام بھی گلے میں ہی پھنس گیا ۔ بمشکل خود پر قابو پایا اور زیاد کی طرف ایک نظر ڈال کر فورا جھکا لی ۔۔ رانی کا مکمل مشرقی حسن دوپٹے کے ہالے سے جھلک رہا تھا ، اس کے گھنگریالے بالوں کی چند لٹیں چوٹی کی قید سے نکل کر اسکے ماتھے کا طواف کر رہی تھیں،گھنی پلکوں کی جھالر مسلسل لرز رہی تھی، تیزی سے دھک دھک کرتا دل اس کی اندرونی حالت کو غیر کرنے پہ تلا تھا۔۔۔۔ یہ وہ رانی تھی جو انس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شیر کی طرح دھاڑنے والی ،، ولائتی سرتاج کے سامنے بھیگی بلی بنی ہوئی تھی ۔۔۔ چند لمحے تو سمجھ سے باہر تھے کے آخر بولے تو کیا بولے ۔ اپنے ہاتھوں کی لرزش کو قابو میں لانے کی ناکام کوشش کی، لیکن بےسود ۔۔۔ایک ہی حل سوجھا تو ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑنا شروع کر دیا ، گھبراہٹ سے ہتھیلیاں بھی ہلکے ہلکے پسینے سے بھیگنے لگیں ۔۔۔

زیاد سے اسکی یہ حالت پوشیدہ تو نہ تھی ، لیکن پھر بھی وہ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے گویا ہوا ، سوری تمھیں تکلیف دی اور تمھیں نیچے آنا پڑا ۔۔۔

ننن نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے، میں ٹھیک ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔ رانی نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری ۔۔۔۔۔

زیاد نے بغور رانی کا جائزہ سر سے پاوں تک لیا اور دھیمے اور خشک پھیکے انداز میں بولا ۔۔ تمھیں پراپر انگلش بولنی آتی ہے؟؟ اگر نہیں آتی تو سیکھنی ہے تاکہ ویزہ مل سکے ۔۔

میں تو ادھر جاکر بہت بزی ہو جاوءں گا لیکن موم ڈیڈ رابطے میں ہونگے ۔۔

تمھیں میری باتیں سمجھ آرہی ہیں ؟؟ ججججی آرہی ہیں، رانی نے جھکے سر کے ساتھ جواب دیا ۔ اور ہاں تمھیں وہاں آکر بہت کچھ سیکھنا ہوگا ۔ جی ان شاءاللہ سیکھ لوں گی ۔۔۔ جیسے آپ بولوں گے ویسا ہی ہو گا ۔۔۔

رانی کے دماغ میں ماں کی نصیحتیں مسلسل گردش کر رہیں تھیں ۔۔۔

ٹھیک ہے تم ابھی جا سکتی ہو ۔۔ اور ہاں انگلش صحیح طرح سے سیکھنی ہے ۔۔ جی ان شاءاللہ ۔ مجھے ابھی نکلنا ہے تو تم واپس اوپر چلی جاوء ۔ نہایت خشک اور کھردرا لہجہ نئی نئی منکوحہ کےلئے تکلیف دہ ثابت ہوا ۔۔۔۔ چھن سے کچھ ٹوٹ گیا ، شاید کے رانی کا دل جو بہت سارے سہانے خواب سجائے بیٹھا تھا یا پھر وہ توجہ جو گھر کا ہر فرد اسے دیتا تھا ۔۔

عجیب آدمی ہے یہ بھی ، بات تو کم از کم میٹھے لہجے میں کرو ، موصوف کا لہجہ انس کے لٹھے کے کپڑوں سے بھی ذیادہ خشک ہے ۔۔۔ یہ گیدڑ پھر آگیا ہے میری گفتگو میں ۔۔۔ رانی دل مسوس کر رہ گئی ۔۔

پورا خاندان تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے بہت شریف، مودب، سلجھا ہوا بچہ ۔۔ لیکن میرے ساتھ تو معاملہ ہی اور انداز کا ہے ۔۔ چل رانی پی جا آنسو اور نیوی نیوی ہو کر واپس اپنے والدین کے گوڈے( گھٹنے) کے پاس بیٹھ ۔۔

کچن کے پاس پہنچی تو خالہ نے آ لیا ۔ رانی میری بچی ہو گئی ملاقات زیاد سے ؟! جی خالہ ہو گئی ۔

رانی نے جان توڑ کوشش کر کے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائی ۔۔ ساتھ ہی تایا تائی بھی ڈرائینگ روم سے نکل آئے ۔۔ رانی تم ائیر پورٹ نہیں چل رہی کیا ؟! جی میں ؟!

ہاں ہاں تم اپنے دلہے کو چھوڑنے نہیں جاو گی؟! اس بندے نے تو سیدھے منہ بات نہیں کی اور مجھے ساتھ لے کر جائے گا ۔ رانی نے سوچا اور زبان دانتوں تلے دبا لی ۔۔۔

تمھیں چلنا چاہیے رانی ۔ جی جیسے آپ سب کی مرضی ہے ،اچھا جلدی سے تیار ہو جاوء اور دس منٹ میں واپس آو ۔مجھے دیر نہیں لگے گی میں نے صرف عبایا حجاب ہی تو لینا ہے تائی جی ۔

اچھا پھر جلدی کرو۔۔۔

زیاد نے سنا تو فورا آیا موم آپ کس لیئے اتنا تردد کر رہی ہیں ۔ رانی پھر واپسی پر اداس ہو گی جب اکیلی واپس گھر آئے گی، میں نہیں چاہتا اسکو پریشان کروں ۔۔۔

ماشااللہ ماشااللہ میرا بچہ کتنا کیرنگ اینڈ لونگ ہے ۔۔ اور کتنا سمجھدار بھی ہو گیا صرف دو ہی دنوں میں اپنی بیوی کا کتنا خیال ہے اسے ۔۔۔

زیاد نے بیزار نظروں سے رانی کو دیکھا جو سر جھکائے سوچ رہی تھی کہ یہ بندہ گرگٹ کی طرح کتنے رنگ بدلتا ہے ۔۔۔

چلو پھر رانی ادھر ہی الوداع کہہ دو زیاد کو پھر ، چلو بھئ ہم سب باہر گاڑی میں سوار ہو رہے ہیں ۔بڑی تائی نے رانی کو دیکھ کر آنکھ دبائی جو صرف ہونکوں کی طرح موجودہ صورتحال کو سمجھنے کی کوشش میں غلطاں تھی۔۔۔سب بڑے باہر نکل گئے جبکہ رانی حیران کن نظروں سے کھلے دروازے کی طرف متوجہ تھی ۔۔۔

میرے خیال میں مجھے بھی نکلنا چاہیے دیر ہو رہی ہے ۔۔ جی ٹھیک ۔۔۔ بائے ببائے زیاد نے 5 فٹ کے فاصلے سے ہی ہاتھ لہرایا ۔۔۔۔

رانی نے بھی ہاتھ لہرایا اور سلام کے لئیے منہ کھولا ہی تھا کہ زیاد صاحب یہ جا اور وہ جا ۔۔۔

ایک موتی بغیر کسی تگ و دو کے گلابی گالوں پر لڑھک آیا ۔۔۔۔

فورا چہرہ صاف کرکے صحن میں آئی جہاں سارا قریبی خاندان جمع زیاد سے بغل گیر ہو رہا تھا، رضیہ بیگم تو گلوگیر لہجے میں دعاوں میں مشغول تھیں ۔

زیاد نہایت سعادت سے سب سے مل رہا تھا ، اور چہرے پہ عاجزی سموئے گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا جو کہ اسکے ڈیڈ نے پاکستان پہنچنے پر خریدی تھی ۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

یار آج تو ان قصائیوں نے دڑا دڑا مارا ہے، ہائے او میرے ربا !! کب اس تندور سے نکلیں گے، ثوبان دوڑتے ہوئے مسلسل زبان بھی دوڑا رہا تھا ۔۔

ثوبی یار کوئی صبر کوئی شکر ہے تیرے میں ؟ ۔۔

یار ہر وقت دھوپ میں رہ رہ کر میرا حسن خراب ہو رہا ہے ۔ انس تیرا تو پھر کوئی منہ متھا ہے ، میں تو پہلے ہی درمیانے طبقے میں آتا ہوں ۔۔۔ یار انس اب میرے لیئے لڑکی ڈھونڈنے کی ذمہ داری بھی تیرے سر ہے ، تو تو جانتا ہے میں اس کام میں زیرو ہوں اور اوپر سے اس مویشی منڈی نے میرا حسن تہہ و بالا کر دیا ہے ۔ کیا پتا تھا ساتھ فئیر اینڈ لولی یا پھر تبت کریم ہی لے آتا ۔۔ انس نے بمشکل ہنسی روکی جو کہ ثوبان سے تھوڑا آگے دوڑ رہا تھا ۔۔۔

ثوبی یار لڑکی والی ذمہ داری میں صوبیدار صاحب کے حوالے کروں گا کیونکہ انہیں تم سے دلی محبت ہو چکی ہے، تیرا ہر وقت چوکس ہو کر انکے اشاروں پہ عمل کرنا اور اپنی قابلیت کے جوہر دکھانا ، شاید ہی آج تک انہوں نے ایسا قابل نوجوان دیکھا ہو ۔۔۔ انس نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے کھی کھی شروع کر دی ۔۔۔

آس پاس جوانوں کآ سفر بھی ثوبان کی پھلجڑیوں سے کافی خوشگوار گزر رہا تھا ۔۔ بے شک سب کا دوڑ دوڑ کر حال برا تھا لیکن ثوبان کی باتیں ہنسانے پر مجبور کر دیتیں ۔۔۔

پیارے !! اگر تو صوبیدار صاحب کے ہتھے چڑھ گیا تو باقی کا حسن وہ چمکا دیں گے ۔۔۔۔انس نے وارن کیا ۔۔

زور لگا اور تیز دوڑ ابھی ایک میل باقی ہے ۔۔۔

کونسی وہ گھڑی تھی جب میں نے ایلیٹ کے لئے حامی بھری تھی ۔۔۔ ثوبان اپنی فطرت سے مجبور دل۔کی بھڑاس نکال رہا تھا ۔

اور یہ کس افسر کی ایجاد تھی کے پولیس والے بھی آرمی کے ساتھ کھجل ہوں؟؟؟

مجھے وہ بندہ مل جائے، قسم سے ایک پل نہ لگاوں اسکو فنا کرنے میں ۔۔

بھلا یہ بھی کوئی بات ہے ، میلوں دڑاتے رہو، ابھی تو ان قصائیوں نے کلابازیاں بھی لگانی ہیں ۔۔۔ اوہ رسی پکڑ کر 10 فٹ کی دیوار پر کون چڑھے گا ، سوچ کر ہی ہاتھوں میں چھالے بننا شروع ہو گئے ہیں ۔۔۔

انس سمیت آس پاس کے جوان بھی ہنس رہے تھے ۔۔ ابھی جو بھی ہنس رہا ہے شام کو اسں نے میری ٹانگیں دبانی ہیں ۔۔ ثوبان نے سب کو وارن کیا۔۔

ثوبان آپ باتوں پہ نہیں دوڑنے پر توجہ دیں ، ہلکی ہلکی رفتار میں ساتھ چلتی گاڑی جوکہ جوانوں کے بائیں جانب سڑک پر رواں تھی، اس میں موجود نگران افسر نے تنبیہ کی ۔۔

جی سر میں تو ان سب کی ہمت بندھا رہا ہوں کہ ہمت نہیں ہارنی اور اپنا ٹارگٹ اچیو کرنا ہے ۔۔۔ پیارے نوجوانو !!! شیر جیسا دل اور ہرنی جیسی چال اپناو ۔

سب نے بمشکل ہنسی روکی ۔۔۔۔

بقول شاعر عرض کیا ہے !!!

“”میں حق پرستوں کی اک قبیل سے ہوں

جو حق پہ ڈٹ گیا اس لشکر قلیل سے ہوں

میں یوں ہی دست و گریباں نہیں زمانے سے

میں جس جگہ پر کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں

نعرہ تکبیر !!!

سارے بولوں اللہ اکبر ۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

زیاد کے جانے کے ایک ہفتے بعد تایا تائی بھی واپس۔لندن کے لئے روانہ ہو گئے اور رانی کو پورا اعتماد دلایا کہ جیسے ہی ویزہ ملا اسکو فورا بلا لیں گے ۔۔ بار بار یہی بولتے کہ وہاں کی زندگی مشینی ہے ،زیاد بہت مصروف رہتا ہے اپنے کام میں، شام کو تھکا ہارا آتا ہے اور یہاں پاکستان میں بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔ اور پھر چھٹی کے دن سو کر گزارتا ہے ۔۔۔۔۔ تایا تائی کے قیام کے دوران انہوں نے رانی کے ساتھ پر شفیق برتاو رکھا ، بالکل ایسے ہی لگ ریا تھا جیسے رانی انکی اپنی سگی بیٹی ہو ، یہی باتیں رضیہ بیگم اور مشتاق کے لئے تسلی بخش ثابت ہو رہی تھیں اور زیاد کا رانی کو فون پر رابطہ نہ رکھنا وقتی طور پر پس پشت چلا گیا ۔۔۔

انس میری جان، میرا بچہ کیسا ہے ؟؟ رضیہ بیگم تو واری صدقے جا رہی تھیں ۔۔ ارے واپسی کا کب تک ارادہ رکھتے ہو ؟ یہ کیا بات ہوئی بھلا؟ ہم تو تمھاری صورت کو ہی ترس گئے ہیں ۔۔۔۔ ابھی تو تمھارا کورس کٹھن مراحل میں ہو گا ۔۔۔ اچھا جاو اپنا بہت سارا خیال رکھنا ۔۔۔۔ رانی ماں کی انس کے لئے والہانہ محبت سے ہر وقت چڑتی ۔۔ فون بند کر کے جیسے ہی رضیہ بیگم پلٹیں ۔۔رانی صاحبہ کی ازلی دشمنی نے پھر سر اٹھایا تو رہا نہ گیا ۔۔ امی وہ اتنا قابل ہے نہیں ہے جتنا آپ اسکو سر پر بٹھاتی ہیں ۔۔

اے بس کر لڑکی !! انس تو میرے جگر کا ٹکڑا ہے ، میرا خوبرو بھانجا اور نیک بیٹا ماشااللہ ۔۔۔ماں کی گل افشانیوں پر رانی صرف سر جھٹک کر رہ گئی ۔۔۔

رانی کو تایا تائی نے لندن واپسی سے پہلے اسکے جیب خرچ کے لئے بڑی رقم اسکے ہاتھوں میں تھمائی اور بولے ادھر پہنچنے پر مذید رقم ارسال کرتے رہیں گے۔۔۔ کسی بھی قسم کی چیز کی ضرورت ہو بلا جھجھک ہمیں بتانا ۔۔۔ مجھے تو صرف آپکے بیٹے کی توجہ کی ضرورت ہے بڑے تایا جان ، رانی کے دل نے سرگوشی کی جو صرف وہی سن پائی ۔۔

زیاد کی طرف سے ہنوز خاموشی کو اسکی اردو میں کمزوری کو آڑ بنایا جاتا کہ بات چیت میں دقت ہوتی ہے اسی لیے فون نہیں کرتا ۔ ٹیکسٹ تو کر سکتا ہے ۔ رانی تلملا کر ہی رہ جاتی ۔۔۔ اسکو نہیں ہے تو میں کیوں اس کے لئے مر مر جاوءں، میں کونسا کوڑے کے ڈھیر سے اٹھائی گئی ہوں ۔۔۔۔ اسکو اردو نہیں آتی تو کیا ہوا انگلش میں بات کر لے ،میں اگر مکمل طور پر بول نہیں سکتی لیکن سمجھ تو ساری جاتی ہوں ۔۔

رانی اندر ہی اندر جلتی بنتی رہتی لیکن پھر بھی راہ فرار میسر نہ تھی ۔ دل پھر بھی اپنے کھڑوس دلہا کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ۔۔۔

دل کو تسلی دیتی کہ ایک دفعہ میںانکے پاس پہنچ گئی تو دیکھنا میں کیسے انہیں اپنا دیوانہ بنا لوں گی ، اپنی انگلیوں پر نہ نچایا تو دیکھنا ۔۔ زیاد میں چاہتی ہوں آپکو میرے علاوہ کچھ بھی اچھا نہ لگے ۔ رانی دل ہی دل میں خیالی پلاؤ پکا رہی تھی اور ویسے بھی اتنے عرصے میں میری انگلش بھی بہتر ہو جائے گی ان شاءاللہ ۔۔

ابھی تو صرف چند ہفتے ہی گزرے ہیں ۔۔۔۔۔

آنے والی فون کال نے رانی کو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *