Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 10)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 10)
Sabeel by Umme Umair
آنے والی فون کال نے تو رانی کو مکمل طور پر حیران کر دیا ۔۔ جی میں آیا کال نہ ہی اٹھاوں تو بہتر ہے خود جو یہ شخص سب بزرگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر گیا ہے وہ کس کھاتے میں آتا ہے ؟؟ لیکن پھر مروت برتتے ہوئے تایا تائی کا خلوص یاد آیا اورجلدی سے سلام بولا جوکہ رانی کو بچپن سے سکھایا گیا تھا ۔۔۔
“إن أولى الناس بالله من بدأ بالسلام”
(سنن ابی داود:5197)
*اللہ کے نزدیک سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔*
سامع کو شاید سلام کا جواب نہیں تھا پتا یا پھر پسند نہیں تھا ، بہرحال کانوں میں ہیلو کی بھاری آواز ابھری جو کہ رانی تھوڑی دیر کے لئے پہچان نہ پائی، نمبر چونکہ بریطانیہ کا تھا تو اس لیئے اندازہ تو تھا کہ فون کرنے والی شخصیت کون ہے ۔۔۔ اوپر سے فون نمبر بھی موصوف نے جسارت نہ کی کے منکوحہ صاحبہ کو دے دوں اور نہ ہی منکوحہ کا نمبر لینے میں کوئی دلچسپی ظاہر کی ۔۔
جی چاہا بہت سارے شکوے کر ڈالے لیکن فرمانبداری اور زبان کی حفاظت کا سبق جو آئے روز ملتا تھا ، رانی کو صبر کرنےپر مجبور کر گیا ۔۔۔
گھمبیر آواز ابھری
“”Just a quick call, I’m busy right now I have got to do other things so listen to me carefully… If I ever hear you complaining to my parents about me not calling you, then you will be in major trouble. I hope you have got my point right! “”
“تھوڑی دیر کے لئے فون کر رہا ہوں، میں اس وقت مصروف ہوں کیونکہ مجھے اور بھی کام کرنے ہیں ۔ اگر میں نے کبھی بھی سنا کہ تم نے میرے والدین کے ساتھ میرے بارے میں شکایت کی ہے کہ میں تمھیں فون نہیں کرتا تو پھر تم اپنے آپکو بہت بڑی مشکل میں خود ہی ڈالو گی ۔۔ مجھے امید ہے تمھیں میری بات سمجھ آگئی ہے” ۔۔۔۔
رانی نے جواب کےلئے ابھی منہ ہی کھولا تو دوسری طرف سے فون کی لائن کاٹ دی گئی ۔۔۔ سکرین کان سے ہٹاکر دیکھا تو فون کی سکرین منہ چڑا رہی تھی ۔۔۔
اللہ کا شکر ادا کیا کے ابھی اپنے کمرے میں اکیلی تھی ، فورا بھاگ کر دروازہ کنڈی کیا اور ادھر ہی فرش پر بیٹھ گئی اور آنسوؤں کی جھڑی بلا روک ٹوک جاری ہو گئی ، سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس شخص کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔ اگر میرے ساتھ شادی کے لئے مرضی نہیں تھی تو والدین کو بتا دیتے لیکن اس طرح کا رویہ وہ بھی نئی نویلی منکوحہ کے ساتھ بالکل بھی زیب نہیں دیتا۔۔۔
ایسے لگ رہا تھا کہ کسی نے دل مٹھی میں لے لیا ہو اور سانس رکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی ۔۔ سارے خواب کرچی کرچی ہو کر بکھر گئے ۔۔
“خواب بھی شاید کانچ سے کمزور ہوتے ہیں وصی
ہر روز بکھر جاتے ہیں فقط اک آنکھ کے کھلنے سے”
دل و دماغ پر چھایا ہوا یہ شخص اسکو اتنا کمتر سمجھتا ہے، جیسے میں اسکے سر پر زبردستی مسلط کر دی گئی ہوں۔۔۔ بے آواز رو رو کر گلے میں کانٹے چبھتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔
کیا میں اتنی بدصورت ہوں جو یہ شخص مجھے اس حد تک نظر انداز کر رہا ہے یا پھر کوئی اور لڑکی ہے اس شخص کی زندگی میں ۔۔۔ دل میں طرح طرح کے خدشات سر اٹھا رہے تھے لیکن سوائے جی جلانے کے باقی کچھ نہیں بچا تھا رانی مشتاق کے پاس ۔۔
“”تراش کر میرے بازو اڑان چھوڑ گیا
ہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا
رفاقتوں کا میری اسکو دھیان کتنا تھا
زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا””
گھر والوں کے سامنے بھی بہانے بنا بنا کر تھک گئی ہوں کہ زیاد میرے ساتھ میسج پہ رابطہ کرتے ہیں
میرے مالک میرے لیئے آسانی پیدا فرما ۔ جب رو رو کر خود کو ہلکان کر لیا تو وضو کیا اور اللہ کے حضور سجدے میں گر گئی ۔۔۔ نوافل کی ادائیگی کے بعد خالی ہاتھ اپنے رب العزت کے سامنے پھیلا لیئے ۔۔۔
*ألحمد لله على كل حال ۔(سنن ابن ماجه:3803)
“ہر حال میں اللہ کے لئے ہی تمام تعریفیں ہیں “
خوب دل کھول کر اللہ سبحان و تعالی کے ہاں گریہ زاری کی ۔۔ اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں جو بھی خدشات سر اٹھا رہے تھے انکو اپنے رب پر توکل کر کے دل کی بےکلی پر کسی حد تک قابو پا لیا ۔
ہو سکتا ہے یہ سب میرا وہم ہو جب میں ادھر جاوءں گی اور ساتھ اکھٹے رہیں گے تو سارے شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے ۔۔ پتا نہیں ادھر کتنا مشکل کام کرتے ہیں، کتنا سارا بوجھ ہے کندھوں پر ۔اور پھر زبان کا بھی مسئلہ ہے انکو صحیح سے اردو، پنجابی نہیں آتی اور مجھے صحیح طرح سے انگلش ۔۔۔۔
وقت کا پہیہ تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا ، سب مسافر اپنی اپنی منزل کی تلاش میں وقت کی ڈور تھامے اس کے پیچھے بھاگے چلے جا رہے تھے ۔کچھ تو بے یار و مدد گار ، کچھ بے بسی سے اور کچھ اپنی ہی سجائی گئی محفلوں سمیت گردش وقت کے شکنجے میں تھے ۔۔۔ رانی کا شمار بھی شاید بے بس لوگوں میں تھا ۔۔ اگر والدین کو بتاتی تو بھی انکی پریشانیوں میں اضافے کے علاوہ کچھ حاصل نہ تھا ۔
بوڑھے باپ کی صحت کی فکر اور چھوٹی بہنوں کی تعلیم سے لے کر انکی شادیوں تک کے کتنے مسائل منہ کھولے کھڑے تھے۔ اور اگر چھپاتی تو بھی سمجھ سے باہر تھا کہ زیاد کی بابت آخر کیا کر سکتی ہے ؟
“عقاب کو تھی غرض فاختہ پکڑنے سے
جو گر گئی تو یونہی نیم جان چھوڑ گیا”
لمبی تان کر خواب خرگوش کے مزے لینے والی رانی جسکا کمبل رات میں نجانے کتنی مرتبہ بستر سے نیچے لڑھک جاتا تھا ، جس کی ہنسی کی کھنک جلترنگ بجاتی، جسکی اڑیل طبیعت انس کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیتی تھی ، آج وہی رانی چند ہفتوں، چند مہینوں میں ہی مسلسل اندورنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی ۔ جسکی راتوں کی نیند اڑ گئی۔ جسکی شرارتوں سے سارے گھر میں شور برپا رہتا تھا، آج وہی رانی خاموشی کی چادر اوڑھے نصیب کے لکھے پر حیران تھی۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رانی اے رانی کیا سارا سارا دن کمرے میں پڑی رہتی ہے ، مانا کے زیاد تمھیں آدھی آدھی رات تک ٹک ٹک پر ہی لگائے رکھتا ہے ، پر ماں صدقے کرے دیکھ تو سہی کیسے گلابوں جیسی رنگت کملا کر رہ گئی ہے ۔ نہ تو نیچے خالہ کے گئی ہے اور نہ ان سے آنے ہوا ہے ۔ جا میری بچی ذرا خالہ کی خیر خیریت پوچھ اور کام کاج میں ہاتھ بٹا ۔۔
جب سے انس گیا ہے دونوں بالکل ہی اکیلے ہو گئے ہیں، فارس بھی تو بہت مجبور ہے بیچارا ، بارہا کوشش کے باوجود تیرے نکاح پر نہیں آ سکا ۔۔۔
چل اٹھ بھی جا میری گڑیا ۔۔۔
جی امی بس رات کو نیند پوری ہی نہیں ہوتی زیاد اپنے بچپن اور جوانی کے قصے سنا سنا کر مجھے بہت ہنساتے ہیں ۔۔ پورا دن تو کام پہ ہوتے ہیں ۔۔۔
ارے اگر وہ بات لمبی کرتا ہے تو تم کچھ خیال کر لیا کرو ، سارے دن کا تھکا ہارا شام کو تمھارے ساتھ ٹک ٹک پہ گھنٹے ضائع کرتا ہے، اسکو بولو آرام بھی کیا کرے ۔۔ یہ ٹک ٹک تو آج کی نسل کی انگلیاں ہی گھسا دے گی ۔۔۔ جب دیکھو ٹک ٹک ۔۔۔۔
رانی نے مسکرا کر ماں کی طرف دیکھا اور جمپ لگا کر اٹھی ، آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ٹریسمے کے ہیر برش سے اپنے گھنگریالے بالوں کے گچھے کو سنوارنا شروع کیا ۔۔ امی جان آپ چلیں میں بس ابھی آئی ۔۔۔
اب تو رانی کا سنگار میز طرح طرح کی قیمتی اشیاء زیب و زینت سے بھرا پڑا تھا ۔۔جس سے چھوٹی بہنیں ہر روز مستفید ہوتیں تھیں ۔۔بڑی بڑی برینڈز کی پرفیومز ، شیمپو کنڈیشنر حتی کہ ٹوتھ پیسٹ ، ٹوتھ برش بھی بریطانیہ کا ۔۔تایا تائی نے ہر چھوٹی موٹی چیز خرید ڈالی اور سب کچھ رانی کی جھولی میں ڈال دیا ۔۔ لیکن یہ سب آسائیشیں رانی کے دل کو رتی برابر بھی قرار نہ دے پائیں ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آتے ساتھ ہی خالہ کے گلے سے چمٹ کر رانی نے خالہ کو گول گول گھمانا شروع کر دیا ۔۔ اے لڑکی باوءلی ہو گئی ہے ابھی چکر کھا کر گر جاوءں گی ۔۔ ارے نہیں خالہ میں ہوں نہ آپکو تھام لوں گی ۔۔۔
ارے چل نکمی نا ہو تو کتنے دنوں بعد تو اپنی شکل دکھا رہی ہے ۔۔۔ ہمیں تو ایسے ہی محسوس ہو رہا ہے زیاد تجھے ساتھ ہی رخصت کر کے لے اڑا ۔۔۔رانی نے صوفے پہ گرنے والے انداز میں دراز ہوتے ہی انگڑائی لی ۔۔ اور مسکرا دی ۔۔۔
اچھا رانی ذرا ادھر آ !! انس کے کمرے میں زیاد کچھ سامان چھوڑ گیا ہے تو وہ تو ذرا لیتی جا ساتھ ۔۔
ارے خالہ پڑا رہنے دیں انس استعمال کر لے گا ۔۔۔
انس میرا بچہ پتا نہیں کب لوٹے گا ؟ ہو سکتا ہے ٹریننگ کے بعد سیدھا اپنی ڈیوٹی ہی سنبھال لے ، کہہ رہا تھا شاید واپسی ابھی نہ ہو ۔۔۔
رانی نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا ۔۔۔
یہ دیکھ کچھ کریمیں وغیرہ ہیں پڑی پڑی خراب ہی نہ ہو جائیں تو ایسا کر الماری میں بھی کوئی شرٹیں پڑی رہ گئی ہیں تو کسی ضرورت مند کو دے دینا ، دعائیں دے گا ۔ جی خالہ جان ۔۔
خالہ ہدایات دے کر کمرے سے نکل کر ہال میں گونجتے فون پر مصروف ہو گئیں ۔۔ جبکہ رانی الماری کے پٹ کھول کر اس کاتفصیل سے اندرونی جائزہ لینے لگی ۔ ایک دم سے یاد آیا کہ انس کسی کو بھی اپنی الماری کی طرف پھٹکنے نہ دیتا تھا، اور آج رانی اسکو کھولے مسکرا رہی تھی کے کوئی ایسی چیز ہاتھ لگے جس پر وہ انس کا جینا حرام کر سکے ۔۔ دل کرتا ہے اس گیدڑ کو اسکی کھلی الماری کی تصویر کھینچ کر بھیج دوں، خوب جلے اور اتنی دور سے کچھ بھی نہیں کر پائے گا ۔۔ نہیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مجھے تو اس نے فون کر کے نکاح کی مبارکباد تک نہ دی ۔۔۔ لیکن چلو جانے سے پہلے تو بول گیا تھا مبارک ، اسکے اس گناہ میں تخصیص کر دیتی ہوں ۔۔۔۔
رانی نے تمام کپڑوں کی تہہ لگانے کے لئے سب کو نکال کر باہر بستر پر رکھا اور پھر الماری کے اوپر والے حصے کو مرتب کرنے میں لگ گئی ۔۔
بہت ساری چیزیں الٹ پلٹ پڑیں تھیں ، یہ شاید زیاد نے کیا ہے جبکہ انس تو اس معاملے میں بہت محتاط تھا کے کسی بھی چیز کی ترتیب خراب نہ ہو ۔جب ہاتھ اوپر کے خانے کی طرف صحیح سے نا پہنچ پایا تو کمرے میں موجود کرسی کھینچ کر اس کے اوپر کھڑی ہو گئی ۔۔۔ کچھ کتابیں تھیں جوکہ نہایت ہی نفاست سے ایک ڈبے میں پڑی تھیں ۔ ہائے اللہ کتنا خوبصورت ڈبہ ہے کہیں زیاد ہی تو نہیں چھوڑ گئے ۔
رانی نے بیقراری سے اس ڈبے کو کھنگالنا شروع کر دیا اور اس میں سے ایک ڈائری نکال لی ، اوہ ہو یہ تو سارا مال اس گیدڑ کا ہے پھر منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا ، انس جی اب آیا نا اونٹ پہاڑ کے نیچے ۔۔۔
نیچے اتر کر ڈائری کو کھولا اور بستر پر بیٹھ گئی ۔۔ پہلا صفحہ کھولتے ہی بے تابی سے پڑھنا شروع کر دیا ۔۔ میری زندگی میں آنے والی ایسی ہستی جس نے مجھ کھلنڈر کو ڈائری لکھنے پر مجبور کر دیا ۔ “”تم کھلنڈر سے بھی گئے گزرے ہو گیدڑ ۔ رانی نے سوچا اور مسکراتے ہوئے آگے پڑھنے لگی ۔اب دیکھنا میں تمھارا پول کیسے کھولوں گی۔۔ ذرا پتا تو چلے انس گیدڑ کس کے عشق میں گوڈے گوڈے گرفتار ہو چکا ہے ۔
“”وہ میری سانسوں میں خوشبو کی طرح رہتی ہے
جیسے میری سانسوں کی ڈور اس سے جڑی ہو
وہ تتلیوں کی طرح میری زندگی میں رنگ بکھیرتی ہے ،جلترنگ بجاتی اسکی ہنسی کی کھنک
بےکیف لمحوں میں قرار، وہ تو اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے ، وہ تو میری زندگی کا حاصل، میرا پیار ہے ۔۔
اچھا جی انس گیدڑ بات یہاں تک پہنچی ہوئی ہے، رانی نے آنکھوں کو سکیڑا اور تجسس سے گردن ہلانے لگی ۔ابھی میں تمھارا کٹھا چھٹا خالہ کو بتاتی ہوں ۔۔ انس گیدڑ کی محبوب ہستی کونسی ہے؟ ۔۔۔ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ ناچ رہی تھی ۔۔
دوسرا صفحہ پلٹتے ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
