Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 08)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 08)
Sabeel by Umme Umair
اتنی دیر میں باہر شور اٹھا ، نکاح سے کچھ ہی دیر پہلے کہ دلہا بھائی کو تو شدید الٹیاں شروع ہو گئیں ہیں، ملی جلی آوازیں آرہی تھیں، کوئی اسکو آب و ہوا کی تبدیلی کا نام دے رہا تھا تو کوئی فوڈ پوائزننگ ۔۔ بچہ اس ملک میں عرصہ دراز بعد آیا ہے اس لیئے اسکا جسم ایک دم اتنی بڑی تبدیلی قبول نہیں کر رہا ہے ۔۔ چہ مگوئیاں اپنے عروج پر تھیں، بڑی بوڑھی عورتیں دعاوں کے ساتھ ساتھ اپنی تفتیش بھی جاری رکھے ہوئے تھیں ۔۔۔
ابھی کل ہی تو آیا ہے بیچارہ، پاکستان کی آب و ہوا میں ہم جیسے ہی گزارہ کر سکتے ہیں، وہ تو ادھر لندن کے صاف ستھرے ماحول سے آیا ہے، ہمارے ملک میں دیکھو ہر طرف دھول مٹی اڑی جاتی ہے ۔۔۔
اوپر سے ادھر کا موسمی تغیر وتبدل اچھوں اچھوں کو بیمار کر دیتا ہے ۔۔۔۔
اللہ کے فضل سے باقی مراحل تو طے ہو چکے ہیں اب صرف نکاح نامے پر دستخط کرنا باقی ہیں ۔۔۔
بس اللہ سے دعا ہے کہ اللہ بچے کو جلد صحت یاب کرے آمین ۔ پھپھو دعاوں کے ساتھ ساتھ سب کی ہمت بھی بندھا رہی تھیں ۔۔۔
رضیہ بیگم کے چہرے سے پریشانی واضح جھلک رہی تھی ۔۔۔
زیاد کو تھوڑا افاقہ ہوا تو بڑے تایا نے جلدی سے دستخط کروا لیئے ۔۔۔ رانی مشتاق کا نام اب زیاد سلیم کے ساتھ جڑ چکا تھا ۔۔۔
سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی ، جبکہ بڑے تایا تائی کے چہرے تو اس پرمسرت موقع پر دمک رہے تھے ۔۔
رانی کی سہیلیاں اور چھوٹی بہنوں کو تو اسکے کپڑوں ، جوتوں اور برانڈڈ میک اپ سے فرصت نہ تھی ۔۔۔ سبھی متاثر ہوئے جارہیں تھیں ۔۔۔ کیا کمال کی پسند ہے دلہا بھائی کی ، اگر انہوں نے ساتھ مل کر خریداری کی ہے تو ۔۔
ہائے ہائے ہماری بنو رانی تو شرما رہی ہے آج ۔۔۔ تصور کرو ادھر اگر انس آ جائے تو کیا سین ہو ؟ وردہ کی زبان میں پھر کھجلی ہوئی ۔۔
رانی پھر بھی تم اسکو گیدڑ کا لقب دو گی کیا ؟
باز آجاو وردہ تم کیوں انس کے لیئے مری جا رہی ہو ، رانی سے بھی رہا نہ گیا ۔۔۔۔
ہائے وہ ہے ہی ایسا کہ اس کے لئے مرا جائے ۔۔۔
وردہ کوئی شرم وحیا ہے، غیر محرم کے لئے ایسی باتیں کر رہی ہو ۔۔ دلہن صاحبہ میں نے کونسی اس سے محبت کی پینگیں بڑھائی ہیں ، میں تو اسے محرم بنانے کی تجویز پیش کر رہی ہوں آپکے دربار میں ۔۔۔
ذرا ہم پہ بھی نظر کرم کر دو ۔۔۔
فلک گیر قہقہوں سے رانی کا کمرہ گونج رہا تھا ۔۔۔
زینہ پھولی سانس کے ساتھ آئی ، آپی دلہا بھائی کو اوپر لایا جا رہا ہے ۔۔
اووووووو سب نے ایک ساتھ نعرہ لگایا ۔۔۔ رانی کے گال انار کی طرح دمکنے لگے ، رانی کی روشن آنکھیں کاجل کی دھار لئے غضب ڈھاتی جھک گئیں ۔۔۔
بڑے تایا تائی کی خوشی دیدنی تھی جبکہ دلہا میاں کے چہرے پہ بیزارگی واضح جھلک رہی تھی جوکہ پاکستانی رشتہ داروں کے لئے تھکاوٹ کے اثرات تھے ۔۔۔
انگلینڈ کا بچہ ہے پر بہت ہی شرمیلا ہے اور اوپر سے اتنا لمبا سفر کر کے آیا ہے ، پھر الٹیوں نے بھی نڈھال کر دیا ہے ۔۔۔ مجال ہے جو کسی کو نظر بھر کر دیکھا ہو ، بھئ بڑی اچھی تربیت کی ہے ہماری بڑی بھابھی نے ۔
سلطانہ بیگم اور رضیہ بیگم دونوں مسکراتے چہروں سے پھپھو بیگم کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھیں ۔۔۔
زیاد کو ابھی رانی کے ساتھ بیٹھے ہوئے صرف 5 منٹ ہی گزرے ہونگے کہ اس کی ہمت جواب دے گئی ۔۔
Mom and Dad I’m shattered !!
Can I rest for a bit ?
مم اور ڈیڈ میں تھکاوٹ سے چور ہوں ۔ کیا میں کچھ دیر کے لئے آرام کر سکتا ہوں؟
زیاد نے لاچارگی سے مم ڈیڈ کو دیکھا جوکہ باقی رشتہ داروں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔
رانی حیران ہو رہی تھی جو ایک دفعہ بھی زیاد نے اسکو دیکھنے کی جسارت کی ہو ، اور وہ تو قریب ہو کر بیٹھنے کے بجائے فاصلہ رکھے ہوئے تھا ، شاید طبیعت خراب ہے اس لیئے، رانی اپنے دل میں سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
یار انس اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔۔۔۔ کیوں میرے اکلوتے دل پہ اپنے اس غمگین چہرے سے وار کر رہا ہے، رات سے ایک لقمہ بھی تیرے حلق سے نیچے نہیں اترا ۔۔۔۔ اپنی آنکھیں دیکھ ذرا ، بھلا اتنا مضبوط مرد روتا ہوا اچھا لگتا ہے مجھے کیا خبر تھی کہ تو نے اس قدر سوگ منانا ہے اور تو محبت کے اتنے گہرے گڑھے میں گر چکا ہے ۔ میں خود تیرے چچا کے پاوں پکڑ لیتا۔۔۔ تیرے گھر کے باہر دھرنا دیتا۔۔ ایک آدھ چنگ چی کرائے پر لے لیتا ، رات ادھر ہی تیرے چچا کے گھر کے پچھواڑے میں گزارتا ۔۔۔ میرے جگری دوست ہوش کی دنیا میں واپس آ جا ۔۔ میرے ان ہاتھوں کی طرف دیکھ ورنہ میں نے تیرے گھر والوں کو فون کر دینا ہے ۔۔۔۔۔
انس نے جھکے سر اور لال انگارہ آنکھیں اوپر اٹھائیں ۔۔ تو کیوں پریشان ہوتا ہے ؟؟؟ میں ٹھیک ہوں۔۔ انس نے شکست خوردہ لہجے میں بولا اور خبردار جو تو نے میرے گھر والوں کو فون کیا ۔۔۔
اچھا چل منہ کھول میرے لعل میں خود تجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا ہوں ۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی انس کی ہنسی چھوٹ گئی ۔۔۔ یار ثوبی تو واقعی شہزادہ ہے ، ہمدرد غم گسار دوست ۔۔۔ اوئے ادھر ہی رک جا انس !! میں ذرا تیری آواز ریکارڈ کر لوں ، پھر یہ تاریخی تعریف میرے حصے میں کب آنی ہے !! کل کو جب میرا کہیں رشتہ وغیرہ ہوا تو تیرے یہ سنہری کلمات کو ثبوت کے طور پر لڑکی والوں کو بھیج دوں گا ۔۔۔۔ دونوں دوستوں کے قہقہے بلند ہوئے ۔۔۔کیا یاد کرے گا پیارے ، تیرے لئے آج تازہ نظم وارد ہوئی ہے ۔ پریڈ کے بعد سب کو سناوں گا ان شاءاللہ ۔۔۔
ثوبان اپنے مخصوص انداز کی وجہ سے میس میں بھی ہر دل عزیز بنا ہوا تھا ۔۔۔ اسکے چٹکلے اور شاعری سب کو مہزوز کرتی تھی۔۔بے پناہ اصرار پر اپنی شاعرانہ صلاحیتوں سے سب کو متاثر کرتا تھا ۔
یہ خاص الخاص نظم میرے جگری دوست انس کے نام اور جتنے بھی ادھر آدھے تیتر اور آدھے بٹیر اس محفل میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔۔ میرا مطلب ہے کہ جتنے بھی منیگتر ادھر موجود ہیں ان سب کے لیئے۔۔۔۔ عرض کیا ہے ۔۔۔
نا پچھ وے منگیتراں دا حال سجنڑاں
اے ہوندے نی حال و بے حال سجنڑاں
صبح صبح سانوں اے جگا لیندے نی
سیٹی مار سانوں اے بلا لیندے نی
اگے سی ڈی آئی بنائی ہوندی چال سجنڑاں
نا پچھ وے منگیتراں دا حال سجنڑاں
اے ہوندے نی حال و بے حال سجنڑاں
چار کلومیٹر دڑا لیندے نی
پچھے روے جیڑا لماں پا لیندے نی
مار مار کر دیندے چم رتا لال سجنڑاں
نا پچھ وے منگیتراں دا حال سجنڑاں اے
پندرہ منٹ ناشتے دا ٹائم دیندے نی
کرن جے گل فیر قائم رہندے نی
اگے میس اوتے پکی ہوندی دال سجنڑاں
نا پچھ وے منگیتراں دا حال سجنڑاں
تپ ساڑ دیندی اے جسمے دے وال سجنڑاں
نہ پچھ وے منگیتراں دا حال سجنڑاں (ماخوذ)۔
(شاعر نامعلوم)
افسران بالا سے لے کر چھوٹے رینک والے سبھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ۔۔۔۔
یار ثوبان آئی جی صاحب نے تجھے میس سے فارغ نہیں ہونے دینا ، ہتھ ذرا ہولا ہی رکھ ! کوئی نہیں انس یار جب آگ کے سمندر میں غوطہ زن ہو ہی چکا ہوں تو پھر اثرات بھی ہونے دے ، ویسے یہ سب تجھ کمینے کا آئیڈیا تھا ، ساتھ میں میری جوانی کو بھی زنگ لگوا رہا ہے، صرف اور صرف تیری وجہ سے میں بھی پولیس فورس میں کھجل( خوار) ہو رہا ہوں ۔۔۔
ویسے ثوبان ہے تو تو بڑا ذہین تھا ، آج دل کا سرجن بنا ہوتا، وہ تو میری وجہ سے تجھے میڈیکل کالج کو چھوڑنا پڑ گیا حالانکہ کالج کے ہیڈ نے تو تیرے پاوں پکڑ لیئے تھے کہ کالج نہ چھوڑ ہمیں تجھ جیسا ذہین طالب علم نہیں ملنا ۔۔۔۔انس نے زچ ہو کر بولا ۔۔۔
انس اب زیادہ ہیرو نہ بن !!! ہائے اگر ایلیٹ فورس میں کھجل نہ ہوتا تو اب تک والدہ ماجدہ نے میرے ہاتھ بھی پیلے کر دینے تھے اور شاید اب ایک عدد پپو یا منی کا ابو بھی ہوتا۔۔۔
دیکھتا رہ خواب پیارے جو تیرے حالات ہیں نا ہاتھ پیلے ہونے سے پہلے آئی جی صاحب نے نیلے کر دینے ہیں ۔۔۔ اب کھی کھی بند کر اور باقی سب کو بھی سونے دے چمگادڑ ۔۔۔۔
ویسے انس گیدڑ اور چمگادڑ کتنے سجتے ہیں ہم دونوں پر ۔۔۔ تو رانی باجی کا گیدڑ اور میں کس کا چمگادڑ ہوں؟ یہ بھی بتا دے؟؟
اوئے یہ تو نالائق خراٹے لے رہا ہے ۔ چل ثوبان پیارے نیند کی وادی میں اتر ورنہ صبح افسران بالا نے دڑا دڑا کر زمین میں ہی اتار دینا ہے ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
زیاد نے بہت مشکل سے نکاح کے بعد چند دن گزارے اور سیٹ تبدیل کروا کر واپسی کی ٹھان لی ، سب کا قیام نیچے تایا اشتیاق کے پورشن میں تھا ۔۔ رانی زیاد کے اس بےمروت رویئے پر حیران تھی ، لیکن کسی کو بھی یہ بات بتانے کی جرات نہ تھی ایسے ہی سب خوامخواہ پریشان ہونگے، ہوسکتا ہے یہ میرا وہم ہو ، یہ واقعی شرمیلا اور خاموش طبیعت انسان ہو ۔۔ تایا تائی تو کہتے ہیں بہت فرمانبدار ہے انکا بیٹا ، چلو وقت دیتے ہیں، دیکھتے ہیں کیا تبدیلی آتی ہے موصوف میں ۔۔۔ نکاح کے بعد صرف ایک دو دفعہ زیاد نے اچٹتی نظر ڈالی اور ہیلو ہائے کا تبادلہ کر کے رانی سے فاصلے پر بیٹھا رہا یا پھر زیادہ وقت اپنے موبائل پر ٹک ٹک میسج کرتا رہتا۔ ۔۔۔
ویزے کی شرائط وضوابط کے مطابق کاغذات بریٹش ایمبیسی میں جمع کروا دئیے گئے ۔۔۔۔۔ ہوائی اڈے پر روانگی سے قبل زیاد نے رانی سے تنہائی میں بات کرنے کی تجویز پیش کی جسکو سب نے من و عن قبول کر کے مذید ہمت بندھائی ۔۔۔ رضیہ بیگم نے رانی کو نیچے بلایا اور حکمت سے سمجھا دیا کہ یہ انس نہیں ہے تمھارا شوہر نامدار ہے تو ذرا ادب و اخلاق سے بات کرنا ، یہ نا ہو اسکو بھی انس والی تڑیاں لگاوء ۔۔ امی جان میں پاگل تھوڑی ہوں اور وہ گیدڑ ہر بات میں کیوں کود آتا ہے ؟!
آپ بس بےفکر ہو جائیں میں اچھے طریقے سے بات کروں گی ویسے امی ڈر بھی لگ رہا ہے پتا نہیں کیا بولیں گے؟! ارے بولنا کیا بس میاں بیوی کے درمیان سو باتیں ہوتی ہیں ۔۔ سنتے ساتھ ہی رانی کا چہرہ گلنار ہو گیا ۔۔۔ شرما گئی ہے پگلی ۔جلدی سے جا ۔ ابھی سب نے گھر سے نکلنا بھی ہے ۔۔۔
کانپتے ہاتھوں اور ٹانگوں سے نیچے آئی خالہ نے اشارہ کیا کے انس کے کمرے میں جاو ، زیاد ادھر تمھارا انتظار کر رہا ہے ۔۔
خشک ہوتے گلے میں تھوک نگلا اور آہستہ آہستہ انس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔
ابھی دستک دی تو کسی نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
