Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 17)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 17)
Sabeel by Umme Umair
رانی نے کلمہ شہادت پڑھا اور آنکھیں موند لیں ،رانی ابھی اپنی موت کی گھڑیاں گن رہی تھی۔ اس کی طرف بڑھنے والے قدموں کی چاپ قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔ نڈھال جسم ابھی صبح والے کچوکے نہ بھول پایا تھا ، دوبارہ درندہ زیاد اپنے بازو وا کیئے اسے دنیا سے رخصت کرنے کے لئے رانی کے سر آن پہنچا ۔۔۔
رانی تم ٹھیک ہو ؟ رانی پلیز میری بات کا جواب دو ۔ زیاد رانی کے بستر کے پاس ہی اس کے سر کے قریب ہو کر بیٹھ گیا اور اسکا سر سہلانے لگا ۔
رانی آنکھیں کھولو ۔۔ رانی میں تم سے معافی چاہتا ہوں پلیز مجھے معاف کردو ۔ زیاد رانی کے ہاتھ پکڑے اس سے معافی تلافی کے لئے اس سے منتیں کیئے جا رہا تھا لیکن رانی تو اسکی آمد اور اسکے قدموں کی چاپ سن کر ہی بےہوش ہو گئی۔۔
رانی کا جواب نہ پاکر زیاد کو گھبراہٹ نے آ لیا ۔۔
ہر جتن کر لیا لیکن رانی کو ہوش نہ آیا ۔۔ اگر ہسپتال لے کر گیا تو گردن اور چہرے پر موجود نشان میرا جرم ثابت کر دیں گے۔۔ کیا کروں؟ کس مصیبت میں پڑ گیا ہوں ۔۔۔ فورا گوگل اور یو ٹیوب کا سہارا لیا ۔ ہوش میں لانے والے بعض طریقے تو کارآمد ثابت ہوئے ۔ رانی کے پپوٹوں نے ہلکی سی جنبش کی تو زیاد نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔ فورا پانی لے کر چمچ سے رانی کے منہ میں انڈیلنا شروع کر دیا ، جس میں سے کچھ پانی تو رانی کے منہ سے نکل کر اس کی گردن کو بھگونے لگا ۔۔ پھر پانی کے چھینٹوں سے ایک اور کوشش کر ڈالی جو پہلے کی نسبت کارگر ثابت ہوئی ۔۔۔
رانی نے پوری آنکھیں کھول دیں لیکن جیسے ہی نظر زیاد کی طرف گئی تو نفرت سے منہ موڑ لیا اور اس کا ہاتھ زور سے جھٹکنے کی کوشش کی، لیکن شدید نقاہت سے زور بھی باقی نہ بچا۔۔۔
زیاد نے آگے بڑھ کر اسکو بستر پر سے اٹھا کر بٹھایا، پیچھے کشن لا کر رکھے اور خود نیچے بیٹھ گیا اور وہی الفاظ دوہرانے لگا جو اپنی آمد پر بولے تھے ۔۔
رانی کی بیزارگی واضح طور پر جھلک رہی تھی لیکن طاقت نہیں تھی کے اس خبیث الظن کی باتوں پر کوئی جوابی کاروائی کرے ۔۔۔
☆لوٹا دیا ہم نے اپنا سب __حاصل زندگی
سکندر تھے ، فقیر ہوئے اک یار کی خاطر ☆
تقریبا ایک گھنٹہ رانی اسی جگہ پر بیٹھی آنسو بہاتی رہی اور زیاد اسکی دلجوئی میں مصروف رہا۔۔
رانی میں وعدہ کرتا ہوں آئیندہ میں کبھی بھی تم پر ہاتھ نہیں اٹھاوں گا صرف ایک دفعہ مجھے معاف کر دو اور کچھ کھا لو پلیز ۔۔ تم جو بولو گی میں وہی کروں گا ۔۔
رانی نے شکوہ کناں نظروں سے زیاد کو دیکھا اور منہ پھیر لیا ۔۔ اچھا چلو میں تمھیں خود ہی کچن میں لے جاتا ہوں ۔۔ فورا اپنی باہوں میں نازک سی جان سمو کر صوفے پر لا بٹھایا ۔۔ بس میں ابھی کھانا لاتا ہوں اور تمھیں اپنے ہاتھوں سے کھلاوں گا ۔۔
مجھے تمھارے ان گندے ہاتھوں سے نہیں کھانا ۔۔
شکر ہے تم کچھ تو بولی ہو ۔۔ میں گرم کر کے لے آتا ہوں خود ہی کھا لو ۔۔ پچھلے ڈیڈھ گھنٹے میں رانی نے یہ پہلا جملہ بولا جوکہ زیاد کے لئے خوش آئین بات تھی ۔۔۔
دو تین نوالے زہر مار کرکے رانی نے کھانے سے ہاتھ روک لیا ۔۔ اگر کچھ اور کھانا ہے تو باہر سے ابھی لے آتا ہوں ۔۔ رانی نے غصیلی نظروں سے دیکھا ۔۔
ابھی تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تم آرام کرو ۔ بہت کمزور لگ رہی ہو ۔۔ کہتے ساتھ ہی زیاد نے رانی کو اپنے بازوءں میں بھر لیا ۔۔اور واپس بستر پر آن لٹایا ۔۔
تم نے بالکل بھی نہیں گھبرانا میں ادھر ہی ہوں تمھارے پاس ۔ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتا سکتی ہو رانی ۔۔ آخر کار تم میری فرسٹ کزن بھی ہو ۔۔۔ رانی کی آنکھیں چھلک پڑیں ۔۔
فرسٹ کزن کے ساتھ کوئی ایسے کرتا ہے بھلا جو تم خباثت کر چکے ہو۔ رانی پھٹ پڑی۔۔۔
سوری رانی۔۔ دیکھو میرے ان ہاتھوں کی طرف، میں نے تم سے کتنی مرتبہ معافی مانگی ہے ۔ اب تو معاف کر دو ۔۔ میرا وعدہ ہے میں کبھی بھی تم پر ہاتھ نہیں اٹھاوں گا ۔۔ مجھے اس وقت شدید غصہ آ گیا تھا اور میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ پایا ۔۔۔
مجھے تمھارے ہاتھ اٹھانے سے زیادہ تمھارے کردار سے تکلیف پہنچی ہے مسٹر زیاد ۔۔تمھارے یہ لاف و گزاف سوائے شیطانیت کے اور کچھ بھی نہیں ہیں، کیونکہ یہ وحی الہی کے بالکل خلاف ہے ۔۔
رانی نے اپنے جسم میں طاقت نہ ہونے کے باوجود بھی گرم لوہے پر ضربیں جاری رکھیں ۔۔۔ لہجہ بہت دھیما لیکن غم سے چور تھا ۔۔
تمھیں پتا ہے اللہ سبحان و تعالی نے صرف انسانوں میں ہی نہیں ، جانوروں میں بھی مخالف جنس کے ساتھی کو جوڑا بنایا ہے ، ان “لبرلز ” نامی حیوانات سے تو وہ اصلی حیوانات بہتر ہیں جو اپنے خالق کی مقرر کردہ فطرت پر عمل پیرا رہتے ہیں ، اور سوائے “خنزیر” اور “گدھے” کے کوئی اور جانور اس کراہت زدہ گھن آلود فعل میں ملوث نہیں ہوتے ۔۔۔
زیاد مکمل خاموشی کے ساتھ رانی کی باتوں کو سن رہا تھا ۔۔
“”اور اللہ نے تم (انسانوں)کےلئے تمہاری ہی جنس میں سے بیویاں بنائیں اور تمہاری بیویوں میں سے تم لوگوں کے لئے بیٹے اور پوتے بنائے، اور تم لوگوں کو پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں، تو کیا تم لوگ (اس کے بعد بھی)باطل پر ایمان رکھتے ہو ، اور اللہ کی نعمت سے کفر کرتے ہو۔””(سورت النحل:72)
اللہ سبحان و تعالی نے ہم انسانوں کی افزائش نسل کا ذریعہ بیویوں کو بنایا ہے ، اور اسے اپنی ایک نعمت قرار دیا ہے، اور یقینا یہ حق ہے، اور یہ بھی یقینا حق ہے کہ میاں بیوی کے اس پاکیزہ تعلق کے علاوہ اپنی جنسی تسکین کی تکمیل کا کوئی بھی دوسرا ذریعہ اللہ کی نعمت کا کفر ہے ۔ مگر نہایت افسوس کے ساتھ ابلیس کی وحی پر عمل کرنے والوں کو رحمان کی وحی کی سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔
دیکھو رانی میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ میں اس دلدل سے باہر نکل آؤں ، میں مانتا ہوں میں نے تمھارے ساتھ زیادتی کی ہے لیکن پلیز ابھی تم میرا ساتھ دو ، میرے ساتھ ایک اچھے دوست کی طرح رہو پلیز ، میں نے بارہا کوشش کی کے تمھیں اپنی مجبوری بتا سکوں لیکن میری ہمت ہی نہ ہو پائی ۔۔ رانی مجھے عورت ذات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، مجھے تم میں بھی کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی ہے ۔۔۔
“”اور جب لوط نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ ایسی ہی بےحیائی کرتے ہو جو تم لوگوں سے پہلے دونوں ہی جہانوں(یعنی انسانوں اور جنوں)میں کسی نے بھی نہ کی(اور وہ یہ ہے کہ)تم لوگ اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لئے عورتوں کی بجائے مردوں کو استعمال کرتے ہو، تم لوگ تو بالکل ہی حد سے گزر گئے ہو””۔۔(سورت الاعراف:80_81)
زیاد تمھیں پتا ہے انسانی تاریخ کے سب سے پہلے ہم جنس پرستی کی اس وحی پر ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے والے ” لبرلز”کا اللہ سبحان و تعالی نے کیا انجام کیا ؟
زیاد خاموش اسکے پاس تو بولنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا ۔۔
تو پھر سنو زیاد اس انجام کی لپیٹ میں ہر “لبرل” آ گیا ، حتی کہ نبی لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اسکو بھی نہیں چھوڑا گیا تھا ۔۔۔
رانی اپنی رو میں بولے جا رہی تھی ۔
“”تو ہم نے لوط کو ، اور اس کے گھر والوں کو (اس عذاب سے) بچا لیا، سوائے لوط کی بیوی کے وہ پیچھے(ان ہم جنسوں)پر (مٹی کے کنکروں کی) بارش کر دی ، پس دیکھو کہ جرم کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔””(سورت الاعراف:83_84)۔
زیاد اس عذاب کا آغاز ایک چیخ نما آواز سے ہوا ۔۔
“”تو پھر صبح ہوتے ہی ایک چیخ نما آواز نے ان لوگوں کو آن پکڑا””(سورت الحجر:73)
زیاد اور پوری کی پوری بستی ہی الٹا دی گئی اور پھر اس پر پتھروں کی بارش کی گئی، یعنی اللہ سبحان و تعالی کی طرف سے ان ہم جنس پرست “لبرلز”کو رجم(سنگسار)کیا گیا۔۔۔
رانی کچھ دیر سانس لینے کو رکی اور پاس پڑا پانی کا گلاس لے کر سپ سپ پینے لگی ۔۔
“”پس ہم نے اس بستی کا اوپری حصہ اس کا نچلا حصہ بنا دیا (یعنی اسے زمین سے اکھاڑ کر ، پھر الٹا کر کے زمین پر مار دیا)اور ان لوگوں پر کنکروں کی بارش کی۔”” (سورت الحجر:74)
یہ بس میرے اختیار میں ہی نہیں ہے کہ میں عورت سے اپنی جنسی تسکین پوری کر سکوں ۔۔
مسٹر زیاد مت بولو کے یہ تمھارے اختیار میں نہیں ہے ، تم فطرت کو بدلنا چاہتے ہو ؟ نعوذ بااللہ من ذلک یعنی اللہ کا یہ نظام ٹھیک نہیں بنا ، اللہ سبحان و تعالی نے کوئی ایسا کام یا آزمائش انسان کے اوپر نہیں ڈالی جو اسکے اختیار سے باہر ہو ۔ تم نے یہ راستہ خود چنا اور اسکو چھوڑنا بھی تمھیں خود ہی ہو گا ۔۔۔
“”جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں گے اور جب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھود دی جائیں گی، اس وقت ہر شخص کو اس کا اگلا پچھلا کیا دھرا معلوم ہو جائے گا “”۔(سورت الانفطار:1_5)
زیاد اپنی آخرت بچا لو تمھیں نہیں پتا کس لمحے مالک الموت تمھاری سانس کی ڈوری کھینچ لے ۔۔ تم نے مجھے اپنا دوست بولا ہے تو میری بات کو غور سے سنو اور عمل بھی کرو پلیز ۔۔
زیاد میں تو پچھلے 2 مہینے سے صبر کر کے بیٹھی ہوں، کیونکہ تم نے ہی بولا تھا ، ہمارے اندر انڈرسٹینڈنگ کی ضرورت ہے اور اسکے لیئے وقت درکار ہے ۔۔ میں تمھیں مذید وقت دینے کے لئے تیار ہوں پلیز اس کبیرہ گناہ سے توبہ کر لو ۔۔
رانی سسکیاں لے رہی تھی جبکہ زیاد کے پاس بولنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا ۔۔
رانی یہ لو اپنا فون اور میرے ساتھ وعدہ کرو کسی کے ساتھ اس بات کا ذکر نہیں کرو گی اور میرا بھرپور ساتھ دو گی پلیز ۔۔۔۔
زیاد میں تمھیں وقت ضرور دیتی ہوں لیکن اگر تم اپنے الفاظ سے پیچھے ہٹے تو پھر میں حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کا پورا حق رکھتی ہوں ۔۔۔
دن گزر رہے تھے، زیاد کا رویہ ہمدردانہ تھا ، کام سے واپسی پر رانی کے ساتھ پاکستان اور اسکے بچپن پر بات چیت کرتا ، کسی حد تک آوارہ گردی کم کر دی ۔۔۔ کم از کم اب ناک بھوں چڑھائے بغیر رانی کی بات سن لیتا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماشااللہ میرے بچے آئے ہیں ۔ تائی تایا نہال ہوئے جارہے تھے ۔ کیسا رہا ٹرپ ؟؟ بہت اچھا ،بہت مزا آیا ۔ رانی نے زیاد کا پردہ رکھ لیا ۔۔ لیکن اندر سے دل برداشتہ تھی ۔۔ مم مجھے تو تھوڑی دیر میں کام کے لئے نکلنا ہے ، شام رانی کو میں خود ہی پک کر لوں گا ۔۔ چلو ٹھیک ہے میرے فرمانبدار بیٹے، کبھی بھی ہماری بات کو نہیں ٹالتا ہے ماشااللہ ۔۔ تائی تو بیٹے پر نہال ہوئی جا رہیں تھیں ۔۔۔ اور خوشی سے رانی کو بتا رہیں تھیں ۔۔۔
پاکستان بات ہوئی ہے رانی ؟ جی ہو گئی بس ہم لوگ اتنے مصروف رہے ہیں موقع ہی نہیں ملا ۔۔
ارے مریم( زیاد کی بڑی بہن) 8:30 صبح صبح فون کر رہی ہے اللہ خیر کرے ۔ تائی جی نے فون کان کے ساتھ لگایا اور ابھی 2 منٹ بھی نہ گزرے ہونگے ساتھ ہی رونا شروع کر دیا اور ۔۔۔۔۔
