Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 28)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 28)
Sabeel by Umme Umair
رانی اپنے دائیں بائیں سے بالکل بے خبر تھی کہ اچانک ایکسکیوز می کی آواز پر پلٹی ۔ زیاد کا ہم عمر اور قد کاٹھ بھی اس جیسا ہی لگ رہا تھا، رانی پر نظریں گاڑے کھڑا تھا ۔ رانی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔ محترمہ آپ میری سیٹ پر براجمان ہیں ۔ جی آپ کو کیسے پتا ہے؟ کیا آپ ائیر سٹوورڈ ہیں یہاں پر ؟ جی نہیں میرے خیال میں آپکو نمبر پڑھنے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔ جی نہیں بالکل بھی نہیں ۔ میرے تایا اور تائی نے مجھے سیٹ ڈھونڈ کر ادھر بٹھایا ہے ۔ میرے تایا ابھی ٹوئیلٹ گئے ہیں آپ ان سے ہی بات کر لینا۔ رانی نے جان چھڑاتے ہوئے اپنا چہرہ ونڈو کی طرف گھما لیا ۔ تائی جی وسطی سیٹ پر بیٹھتے ہی اونگھنے لگیں ۔ چونکہ جہاز میں سفر کے دوران انکا جی متلا جاتا تھا اس لیئے سر منہ لپیٹ کر سونے کو ترجیح دیتی تھیں ۔ دیکھیں محترمہ ابھی جہاز نے ٹیک اووف کرنا ہے لہذا میرے ساتھ تعاون کریں ۔ پتا نہیں آپکے تایا ٹوئیلٹ میں مذید کتنا وقت گزاریں گے ؟ تایا ٹوئیلٹ پیکنک منانے نہیں گئے ہیں، اگر صبر ہے تو انتظار فرمائیں ۔ورنہ کسی اور سے مدد مانگیں ۔۔ رانی نے روکھے لہجے میں جواب دیا ۔۔۔
ابھی وہ مجبور اجنبی بات سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اناوسمنٹ شروع ہو گئی ۔” مسافروں سے درخواست ہے کہ اپنے حفاظتی بیلٹ باندھ لیں ہم تھوڑی دیر میں پرواز کرنے والے ہیں”۔
رانی نے اپنی طرف آتے تایا کو دیکھ کر سکھ کا سانس لیا ۔ تایا جان یہ صاحب بول رہے ہیں میں انکی سیٹ پر بیٹھی ہوں ۔۔
ارے واہ بھئ کیسا حسین اتفاق ہے ؟ کیسے ہو عدیل بیٹا ؟ جی انکل میں خیریت سے ہوں ۔ آپ کیسے ہیں؟ اللہ کا شکر ہے ۔ پاس سے گزرتی ایئر ہوسٹس نے بیلٹ باندھنے کی یاد دھانی کروائی ۔۔ وہ انکل دراصل ٹریفک کی وجہ سے میں لیٹ ہو گیا تھا، شکر ہے جہاز نے اڑان نہیں بھری ورنہ میری فلائیٹ مس ہو جانی تھی ۔۔ عدیل نے اپنا چھوٹا سا سفری سوٹ کیس اوپر بنے ریک کے اوپر رکھا ۔۔ اور ملتجی نگاوں سے رانی کو دیکھا ، جو ہر چیز سے بےنیاز اپنے معصوم اور پاکیزہ حلیے سمیت عدیل کے دل کے تار چھیڑ چکی تھی ۔۔۔ وہ انکل دراصل میری سیٹ پر شاید آپکی بھتیجی غلطی سے بیٹھ گئی ہیں ۔ باقی سارا جہاز بھر چکا ہے صرف ایک سیٹ پیچھے خالی ہے میں ادھر ہی چلا جاتا ہوں ۔ بیٹا اسے میں نے ہی بٹھایا ہے ادھر ، ڈیسک پر ان لوگوں کو 3 سیٹیں اکھٹی بک کرنے کا بولا تھا لیکن تمھیں تو پتا ہے رش کی وجہ سے بعض اوقات گپلا کر دیتے ہیں ۔۔ کوئی بات نہیں انکل میں پیچھے انکی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہوں ۔ بہت شکریہ بیٹا۔۔ کوئی بات نہیں انکل ۔۔ جاتے جاتے عدیل رانی پر اچٹتی نگاہ ڈالنا نہ بھولا۔۔ رانی ہر چیز سے بے نیاز سفری دعاوں میں مشغول تھی۔ نا چاہتے ہوئے بھی زیاد یاد آ رہا تھا ۔ پتہ نہیں یہ شخص برزخی زندگی میں کس حال میں ہو گا ۔ کچھ موتی ٹوٹ کر گود میں جا گرے ۔ ساتھ بیٹھے تایا اپنے سیٹ بیلٹ کو باندھنے میں مصروف تھے ، شکر ہے تایا نے مجھے روتے نہیں دیکھا ورنہ خوامخواہ پریشان ہوتے ۔۔ جہاز کے انجن کی آواز ابھرتے ہی “رن وے” پر جہاز نے آہستہ آہستہ دوڑنا شروع کر دیا ۔ رفتار میں اضافے کے ساتھ ہی جہاز کی ناک آسمان کی طرف اٹھ گئی اور چند لمحوں میں جہاز بادلوں کے اندر اڑ رہا تھا ۔۔ انگلینڈ کی ہریالی زمین اور کالی سڑکیں نظروں سے اوجھل ہو گئیں ۔ وطن واپسی کی خوشی اور پیچھے رہ جانے والی تلخ یادیں رانی کے دل کو عجیب سی کیفیات سے دوچار کیئے ہوئے تھیں ۔۔ گزرے لمحات بار بار آنکھوں کو نم کیئے جا رہے تھے ۔
اللہ سبحان و تعالی کے فضل کے ساتھ جہاز کے عملے نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچنے کی نوید سنائی ۔ دور سے اپنی مٹی کی کشش کھینچ رہی تھی ۔ چند منٹ میں جہاز سرزمین پاکستان کو چھو چکا تھا ۔۔
سامان کے انتظار میں رانی اور تائی ایک کونے میں کھڑے ہو گئے ۔ تایا نے بولا میں خود سب کر لوں گا ۔ ابھی بہت رش ہے ، آپ لوگ ایک کونے میں جاو۔ کونے میں کھڑے رانی نے بارہا کسی کی نظروں کی تپش محسوس کی ۔ جیسے لگاتار کوئی گھور رہا ہو ۔۔ نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو وہی جہاز والا رنگیلا ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا ۔ رانی کے دیکھنے کے باوجود بھی ڈھیٹ پنے کی انتہاوں کو چھو رہا تھا ۔ گھٹیا انسان ۔ زہر لگتے ہیں ایسے تاڑو مرد ۔ چول سا ۔ رانی نے غصے سے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔
مشکل سے سارا سامان ملا اور خارجی گیٹ کی طرف بڑھ گئے ۔ تقریبا دوڑ لگاتا عدیل تایا کے سر پر جا پہنچا ۔ انکل اپنا اتا پتا دیتے جائیں میں ضرور آپ لوگوں کی طرف چکر لگاوں گا ۔۔یا پھر فون نمبر ہی دے دیں ۔۔ اچھا چلو بیٹا نوٹ کرو میرے بھائی کا نمبر بھی اور میرا بھی لے لو ۔ جس پر تمھارا رابطہ ہو گیا ۔ جی جی ضرور انکل ۔ مجھے بہت اچھا لگے گا آپکی طرف آنا اور ساتھ میں ممی پاپا کو بھی لاوں گا ۔۔ ہاں ہاں کیوں نہیں بیٹا ضرور ۔ تمھارے پاپا کے ساتھ پرانی یادیں تازہ کروں گا ۔۔
آمد والے ایریا میں رانی کا تقریبا سارا قریبی خاندان ان سب کو لینے آیا ہوا تھا ۔ سوائے انس اور ثوبان کے ، کیوں کہ وہ دونوں اپنی نوکری کی وجہ سے مصروف تھے۔۔
سب نے بہت گرمجوشی اور آنسوؤں سے استقبال کیا۔ سبھی خوشی کے ساتھ ساتھ رانی کے بیوہ ہونے اور لندن سے زیاد کے بغیر واپسی پر رنجیدہ تھے۔ ۔
رنگ برنگے کھانوں کی مہک سارے گھر میں پھیلی ہوئی تھی ۔ تایا تائی کا پڑاو نیچے تھا ، جبکہ رانی نیچے سارا دن گزار کر شام کو بالائی منزل پر اپنے والدین اور بہنوں کے پاس آگئی ۔۔ رات گئے تک باتوں کا سلسلہ جاری رہا ، رانی بار بار زینہ کو ساتھ لگا کر پیار کرتی اور اپنے دلی جذبات کا اظہار کر رہی تھی ۔۔
زینہ میں تمھاری طرف سے بہت مطمئن ہوں ماشااللہ ۔ انس نے زندگی میں کوئی پہلا ڈھنگ کا کام کیا ہے ۔ ارے نہیں آپی انس بھیا تو بہت ہی اچھے ہیں ۔ اتنے بڑے حادثے کے بعد سے لے کر اب تک ہماری بہت مدد کی ہے ۔ ادھر گھر سیٹ کروانے تک کی ساری ذمہ داری انکے کاندھوں پر تھی ۔ میں تو سارا سارا دن ثوبان کے ساتھ ہسپتال میں ہوتی تھی ۔ اور پھر جو بروقت خون دے کر انہوں نے میرے ثوبی کی جان بچائی اسکا تو احسان میں اور ثوبان پوری زندگی نہیں چکا سکتے ۔۔
اچھا واقعی انس اتنا سمجھدار ہو گیا ہے ۔ آپی وہ تو شروع سے ہی تھے صرف آپکو نہیں لگتے تھے ۔ رانی ہلکے سے مسکرا دی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاں بھائی کیا ارادہ ہے تیرا پھر ؟ ہم زلف بننے کی خواہش ابھی بھی ہے یا کوئی اور حسینہ تیرے دل میں گھر کر گئی ہے ۔ جی جی بالکل میں تھانے میں بیٹھ کر حسیناؤں کو ہی تو دیکھتا ہوں ۔۔ کبھی اتنی اتنی لمبی مونچھوں والی حسینہ تو کبھی زرد پیلے دانتوں والی تو کبھی گنجی حسینہ کے حسن سے فیض یاب ہوتا ہوں ۔۔ ہاہاہاہاہاہا ثوبان کے زوردار قہقہے انس کے آفس میں گونج رہے تھے ۔۔ انس یار ویسے تو قابل ایسی ہی حسیناؤں کے ہے ۔۔
ثوبی منہ اچھا نہ ہو تو بات تو اچھی کر لیا کر ۔۔
ویسے یار تو اس دن بھی 2 دن کی چھٹی پر گھر گیا تھا ، پر تو اس سے ملا تک نہیں ہے ۔ نیچے ہی اپنے پورشن میں 2 دن گزار کر واپس آ گیا ہے ۔۔
جب تک وہ محرم نہیں بن جاتی، میں اس سے نہیں ملوں گا ۔ تو پھر محرم بنانے کا ارادہ کب تک ہے تیرا ؟؟ یا پھر ابھی بھی کسی اور کا انتظار کرے گا کہ اسے لے اڑے ۔۔ یار ابھی تو ان لوگوں کو آئے ہوئے ایک مہینہ گزرا ہے، میرے خیال میں رانی کو مذید وقت درکار ہے وہ اتنے بڑے حادثے سے گزری ہے۔ ہمارا اس طرح ایک دم بات کرنا مناسب نہیں لگتا یار ۔۔ اور ویسے بھی وہ تایا کے بیٹے کی بیوہ ہے ۔ یار شاید انکو اچھا نہ لگے میرا اس سے بات چیت کرنا ۔ وہ شاید اپنے بیٹے کو یاد کر کے مذید غمگین ہوں ۔۔ غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔ یار انس بات تو تیری سولہ آنے ٹھیک ہے ۔ ویسے میں نے بھی سلام کھڑکی کی اوٹ سے ہی کیا تھا ۔ میرا بھی جی نہیں چاہا کے میں اپنی بڑی سالی کو شرمندہ یا پھر پریشان کروں ۔۔ ہاں تو تو شہزادہ ہے اپنا ۔ بنا سمجھائے ہر بات سمجھ جاتا ہے ۔ ویسے یہ تیری رن مریدی میں کمی تو نہیں آتی جا رہی ہے، وہ بھی میری وجہ سے ؟ نہیں یار ان دنوں زوجہ محترمہ اپنی ہمشیرہ کے ساتھ مصروف پائی جاتی ہیں ۔ مجھے صرف انکے دیدار کام کے بعد ہی نصیب ہوتے ہیں ۔اور دن میں فون کالز کا سلسلہ بھی کافی حد تک کم ہوا ہے ۔ ورنہ پہلے تو چھت سے فرش پر گرنے والی مکڑی پر بھی کال آتی تھی ۔ اب غالبا مکڑیاں بھی سمجھدار ہو چکی ہیں کہ مالکہ مکان مصروف ہیں تو انکے ساتھ چھیڑ خانیاں نہ کریں ، تو ہمارے حق میں بہتر ہے، یا پھر وہ زوجہ محترمہ کی توجہ نہ پاکر غمگین ہیں ۔۔ زوجہ زینہ جی کی ہمدرد مکڑیاں ۔ دونوں دوستوں کے قہقہے بلند ہوئے ۔۔
جی آپ کون بات کر رہے ہیں؟ اچھا اچھا بھائی جان سلیم کے ۔۔
