Sabeel by Umme Umair NovelR50653 Sabeel (Episode 23,24)
Rate this Novel
Sabeel (Episode 23,24)
Sabeel by Umme Umair
میں پولیس کی طرف سے آیا ہوں، آپکے گھر کے باہر کھڑا ہوں، بارہا دستک پر دروازہ نہیں کھولا جا رہا ہے ۔ بس ابھی کھولتے ہیں، رانی نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا، چہرے کا رنگ اڑ گیا ۔۔ یقینا اس زیاد نے ہی کچھ کیا ہے ، رانی نے دکھی دل کے ساتھ سوچا ۔۔ کیا بات ہے رانی ؟؟ تایا تائی نے بےچینی سے پوچھا؟ وہ باہر پولیس آئی ہے، ہم ادھر گارڈن میں تھے تو بیل کی آواز نہیں سن پاۓ ۔ اللہ خیر کرے پولیس کس لیئے آگئی ہے ؟ ۔ تم دونوں ادھر ہی بیٹھو میں خود دیکھتا ہوں ۔۔ لگتا ہے یہ جہانگیر نے کوئی نئی شرارت کی ہے ۔ خارجی دروازے پر پہنچنے تک تایا کی جان سولی پہ لٹکی ہوئی تھی ۔۔
جی فرمائیں! تایا دروازہ کھولتے ہی مستفسر ہوئے ۔ شدید گھبراہٹ کے باوجود خود کو کنٹرول کیا ۔ آپ مسٹر زیاد کے ڈیڈ ہیں؟ جی بالکل۔۔۔
ایم سوری سر آپ انکی وائف کو بھی بلا لیں ۔۔ نیکسٹ آف کن میں انکا بھی نام شامل ہے ۔۔ آپ اندر تشریف لے آئیں ۔۔
رانی بچے حجاب اوڑھ لو۔۔ وہ پولیس والے آپ سے بھی ملنا چاہتے ہیں، مجھے تو ابھی کچھ بتا بھی نہیں رہے ۔ جلدی سے تائی کو بھی ساتھ لے آو ۔ رانی کا دل کسی انہونی کا سندیسہ سنا رہا تھا ۔۔ فورا اپنے آپکو حجاب میں لپیٹ کر سیٹنگ روم میں آگئی ۔ ہیلو ہائے کے بعد پولیس والے بہت محتاط اور نرم لہجے میں گویا ہوئے ۔۔ مسز زیاد اینڈ فادر آف زیاد ہمیں بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کا بیٹا زیاد ابھی ہسپتال میں ہے ۔اور کافی سیریس کنڈیشن ہے ۔ سنتے ساتھ ہی سب کو کمرہ گھومتا ہوا محسوس ہوا ۔۔ زبان گنگ ہو کر رہ گئی ۔ تایا تائی تو غم سے نڈھال یک ٹک دیکھ رہے تھے لیکن بولنے کی ساری صلاحیتیں کھو دیں ۔۔ رانی نے ہمت کر کے پوچھا یہ سب کیسے ہوا ہے؟ ایکچولی مسٹر زیاد اپنے کولیگ ڈیوڈ کے ساتھ کنسٹرکشن سائٹ پر نامکمل بیلڈنگ میں تھے تو سکیفولڈنگ سمیت چھت انکے اوپر گر گئی ہے ۔ وہ ادھر کیوں گئے تھے ؟ یہ تو ہمیں ساری انویسٹیگیشن کے بعد ہی پتا چلے گا ۔ ویسے مسٹر زیاد کو اپنے آفس میں ہونا چاہیئے تھا ۔ وہ انکا بریک پیریڈ نہیں تھا ۔۔ رانی نے اپنی آنکھوں سے چھلکتے موتیوں کو ہتھیلیوں سے رگڑ کر صاف کیا ۔۔ وی آر ویری سوری فور یور لاس ۔۔ تایا تو بالکل گنگ ہو کر رہ گئے جبکہ تائی بھی کسی بےجان مجسمے سے کم نہیں لگ رہی تھیں ۔۔۔ابھی آپ لوگ ہمارے ساتھ ہوسپٹل چلیں ۔ کیوں کہ اس شدید غم میں ڈرائیو کرنا بالکل بھی سیف نہیں ہے ۔۔ ((کاش وطن عزیز پاکستان کی پولیسں بھی ایسی ہی ہو جائے ۔ انسانیت کی قدردان ۔۔ یہاں پر جب کسی کے ساتھ کوئی خطرناک حادثہ پیش آتا ہے تو پولیسں لواحقین کو فون کے بجائے گھر خود آ کر اطلاع دیتی ہے اور خاندان کے افراد کو اپنے ساتھ لے جا کر ہسپتال بھی پہنچاتی ہے ۔خاص طور پر ایسے حادثات جہاں زندگی اور موت کی کشمکش ہو)) ۔۔رانی کسی روبوٹ کی طرح خالی الذہن پولیس کی بتائی گئی ہدایات پر عمل پیرا ہو رہی تھی ۔۔
تایا تائی کا سکتہ اس وقت ٹوٹا جب اپنے بیٹے کو پٹیوں اور مختلف نالیوں میں جکڑے دیکھا ۔۔۔انتہائی نگہداشت کے کمرے میں جانے کی اجازت تو نہ تھی لیکن دروازے کے اوپر لگائے گئے شیشے سے دکھایا گیا ۔۔ جب رانی نے دیکھا تو دل میں ایک ہوک اٹھی ۔۔ میرے تایا زاد پتا نہیں تم کس حال میں تھے جب تم پر اللہ کا یہ عذاب نازل ہوا ہے۔۔میں نے کتنا چاہا کہ تم اللہ کے عذاب سے ڈر جاوء لیکن تم ہدایت لینا ہی نہیں چاہتے تھے ۔۔زیاد تم یقینا ڈیوڈ کے ساتھ بدفعلی کے لئے ہی نکلے ہو گے ورنہ تمھیں کیا پڑی تھی اپنا آفس چھوڑ کر ادھر جاتے ۔۔ زیاد میں تمھیں اچھی طرح جانتی ہوں،تم کس ضمیر کے انسان ہو ۔ کیوں تم نے ہمیشہ کی زندگی کو عارضی زندگی پر فوقیت دی ۔۔اب پتا نہیں تم کونسے عذاب سے گزر رہے ہو؟ سکرات الموت بھی تو ہو سکتا ہے ۔ تم نے اپنا آخری چانس بھی گنوا دیا زیاد ۔ پتا نہیں اللہ تمھیں دوبارہ توبہ کا موقع دے گا بھی یا نہیں ۔۔ دنیا و مافیا سے بے خبر زیاد اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا تھا ۔ شاید اسکے پاس گنتی کی سانسیں بچی ہیں ۔۔ رانی کے آنسو تواتر سے اسکے گال بھگو رہے تھے ۔
میرے تایا زاد !! کاش تم میری بات سن لیتے تو آج تمھاری آخرت داوء پر نہ لگی ہوتی۔
مریم ، مہرین سبھی غم سے نڈھال تھے ۔ ۔۔
زیاد میں تمھارا پردہ تمھارے والدین اور بہنوں کے سامنے کبھی فاش نہیں کروں گی ۔ تمھارا گناہ تمھارے ساتھ ہی قبر میں دفن ہو گا ۔ میں اپنے ان عزیزوں کو زندہ لاشیں نہیں بننے دوں گی ۔۔
زیاد معجزے بھی تو ہوتے ہیں، شاید تم اس جان لیوا حادثے سے سبق سیکھ لو اگر تم بچ پائے تو ۔۔ رانی دل ہی دل میں زیاد سے شکوہ کناں تھی۔۔
میرے نصیب کا لکھا مجھے مل گیا، اس میں بھی اللہ سبحان و تعالی کی کونسی حکمتیں پوشیدہ ہیں کہ جس کا مجھے اندازہ بھی نہیں ہے ۔ میں کیوں تمھارے اپنوں کا مان اور بھرم توڑو جو انکو تم پر تھا ۔۔ میرا ضمیر مجھے اجازت نہیں دے گا زیاد ۔۔
“”جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اسکے عیب چھپائے گا””۔(صحیح مسلم:6490)
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جان ثوبان ! اپنا بہت سارا خیال رکھنا، زندگی نے وفا کی تو دوبارہ بات ہو گی اور اگر سانس کی ڈوری ٹوٹ گئی تو وطن عزیز کی خاطر یہ سودا بھی گھاٹے کا نہیں ہو گا۔۔ میری “حبیبتی” زینہ ۔۔ مطلب مشن کے بعد بتاوں گا ان شاءاللہ ۔۔۔
رات 2 بجے موبائل کی وائبریشن سے زینہ کی آنکھ کھل گئی، فورا آنکھیں مسلتے ہوئے میسج کھول کر پڑھا تو دل میں عجیب سی گھبراہٹ ہوئی ۔ جی چاہا واپس کال کر لے لیکن ثوبان کی ہدایات کو یاد کر کے فورا ہاتھ روک لیئے ۔۔۔
ثوبان جی اب کس پاگل کو نیند آنی ہے ۔ زینہ نے بستر چھوڑا اور وضو کر کے نوافل شروع کر دیئے ۔ اپنے اتنے مخلص اور بےپناہ محبت کرنے والے خاوند کے لئے ہاتھ بے اختیار اوپر اٹھ گئے اور لب ثوبان کی کامیابی کے لئے ہلنے لگے ۔۔۔
میرے جوانو !! ہم یہ جنگ وطن عزیز میں امن و امان کی خاطر لڑ رپے ہیں، ہمیں یہ سر زمین ان درندہ صفت انسانوں سے پاک کرنی ہے۔۔۔ یہ درندے کتنی ماوں کی گودیں اجاڑ چکے ہیں، نجانے کتنے گھروں کے چراغ گل کرچکے ہیں ۔۔
میرے جوانو !! ہمیں جان کی بازی لگا کر ان کو زندہ گرفتار کرنا ہے ۔ اگر انہوں نے جوابی کروائی کی تو ساتھ ہی بھون دو ۔۔ انسپیکٹر انس آپکی رہنمائی کریں گے ۔ انس مجھے آپکے گزشتہ کارناموں سے یہی امید ہے کہ آپ خالی ہاتھ نہیں لوٹیں گے ۔
سر ان شاءاللہ ہمیں اگر جان بھی قربان بھی کرنا پڑ گئی تو دریغ نہیں کریں گے ان شاءاللہ ۔ سر آپکی شاگردی میں رہ کر ناکامی کی باتیں کرنا بیوقوفی ہے ۔ انس مجھے ریڈ سے پہلے تمام حقائق سے آگاہ رکھنا ۔ جی سر ۔ بس دعا کریں ۔۔
شہر کے وسط میں یہ گروہ بہت سارے جرائم میں ملوث گردہ فروشی، جسم فروشی سے لے منشیات کا اڈا جانا جاتا تھا ۔ انس ثوبان اور ان کی ساری ٹیم نے ان تھک محنت کر کے انکے ٹھکانوں کا سراغ لگایا۔۔
آپ سب نے ایک انچ بھی ادھر سے ادھر نہیں ہلنا جب تک میں نہ بولوں ۔رات کے آخری پہر میں اکا دکا گاڑی سڑک پر رینگتی دکھائی دے رہی تھی ۔ انس اور اسکی ٹیم اپنے مطلوبہ ہدف کی طرف پورے جوش و جذبے کے ساتھ رواں دواں تھے ۔ منزل مقصود پر پہنچ کر پہلے اس کوٹھی کو چاروں طرف سے اپنے گھیرے میں لیا۔ اور منصوبے کے مطابق انس نے 6 فٹ کی دیوار پھلانگ کر اندرونی حالات کا جائزہ لیا ۔ملگجے اندھیرے میں چند کمروں میں جلتی مدہم بتیاں اس بات کی شاہد تھیں کہ اہل خانہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔۔ ایک کونے میں نیند میں خراٹے لیتے چوکیدار کے منہ پر پٹی باندھ کر اسکو کرسی پر باندھ دیا اور خارجی گیٹ کو بہت احتیاط سے چوکیدار سے لی گئی چابی سے کھولا اور ٹیم کو اندر آنے کا عندیہ سنایا ۔ جوانوں نے کمروں کے پاس جاتے ہی دھاوا بھول دیا ۔ ہینڈز اپ، کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا ۔ نیند سے بیدار ہونے والوں کا حال قابل رحم تھا ۔ کتنے تو برہنہ حالت میں سرعام اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے تھے ۔۔ڈھانپوں ان سپولوں کو اور انکو ہتھ کڑیاں لگا کر ایک کمرے میں بند کرو ۔ انس کی گرج دار آواز پورے ہال نما کمرے میں گونجی جہاں پر شراب کی بدبو ناک کے نتھنوں کو جھلسا رہی تھی ۔۔ ثوبان اور بابر آپ دونوں نیچے تہہ خانے کی تلاشی لو اور سمیر تم دونوں گھر کی بالائی منزل کا رخ کرو ۔ کسی نے بھی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی تو اوپر پہنچانے میں دو سیکنڈ لگیں گے ۔۔۔ انس نے اوپر چھت کا رخ کیا ، جہاں پر صنف نازک کی توہین کرتی بازاری لڑکیاں غیر محرموں کی باہوں کا ہار بنی انکے ساتھ رنگ رلیاں مناتی اوندھی پڑی تھیں ۔۔ راجو ان سب ذلیلوں کو لگاو ہتھکڑیاں ۔۔ انس ابھی دوسری طرف مڑنے لگا تو کسی نے فائر کھول دیا ۔ ایسے ہی محسوس ہو رہا تھا کوئی ساری میگزین خالی کرنے پر تلا ہوا ہے ۔۔ انس نے فورا چھلانگ لگا کر ستون کی اوٹ میں ہو کر آواز کا تعاقب کرنے لگا کہ کس طرف سے آ رہی ہے ۔۔ رینگتے ہوئے ایک گولی اسکی ٹانگ میں ٹھوک دی ۔ سورما مچھلی کی طرح تڑپتا زمین بوس ہوا ۔۔ خون کی دھار دکھائی دی اور کانوں میں کراہیں گونجنے لگیں ۔۔تاڑ تاڑ مذید آوازیں انس کو پریشان کرنے لگیں ۔۔ آواز کے تعاقب میں نیچے لیٹ کر دوبارہ سے رینگنا شروع کر دیا ۔ بجری کی چھوٹی چھوٹی کنکریوں کی چبھں کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگا ۔۔ لیٹے لیٹے فائر کھول دیا، دوسرا سورما بھی سیڑھیوں پر ہی ڈھیر ہو گیا ۔2 منٹ بعد کھڑے ہو کر چاروں طرف کا جائزہ لیا اور باقیوں کی خبر گیری کے لئے نیچے تہہ خانے کا رخ کرنے سے پہلے بالائی منزل کے حالات سے مطمئن ہوتے ہوئے تہہ خانے کا رخ کیا ۔۔ بندوق تانے چاروں طرف سے چوکنا ہو کر نیچے جاتی لوہے کی سیڑھیاں اترنے لگا ۔۔ بابر ثوبی اوپر سب کنٹرول میں آ چکا ہے الحمداللہ ۔۔ثوبان بابر کدھر ہو یار ؟؟ زیادہ شوخے نہ بنو ۔ فرش پر نظر پڑتے ہی دل مٹھی میں آگیا ۔۔ تازے خون کے چھینٹے خطرے کی گھنٹیاں بجانے لگے ، اوندھے منہ پڑے ثوبان کو دیکھا جو گولی لگنے سے خون میں لت پت پڑا تھا ۔
لگانے آگ جو آئے تھے ______آشیانے کو
وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا دیئے تم نے
انس تڑپ کر بھاگا۔۔۔ ثوبی میرے یار آنکھیں کھول ۔۔ میرے یار ثوبی دیکھ تیری زینہ تیرا انتظار کر رہی ہے، میرے یار تیری امانت زینہ تیرے بغیر ٹوٹ جائے گی۔۔ ثوبی میرے بھائی ثوبی، میرے یار آنکھیں کھول !! انس شدت غم سے تڑپ کر ثوبان کو آوازیں دے رہا تھا ۔۔ اور مسلسل جھنجھوڑ رہا تھا ۔ ثوبی ثوبی ۔
Episode 24
“میں حق پرستوں کی ____اک قبیل سے ہوں
جو حق پر ڈٹ جائے اس__لشکر قلیل سے ہوں
میں یوں ہی دست و گریباں__ نہیں زمانے سے
میں جس جگہ پر کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں”
تھانیدار صاحب اللہ کا شکر ادا کریں گولی مریض کی ہڈی میں نہیں گئی ، ورنہ بہت نقصان ہو جانا تھا ۔ چونکہ مریض کو بروقت طبعی امداد نہ مل پائی جس کی بنا پر خون کا بہت ضیاع ہو چکا ہے۔ جو کہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ہمارے پاس انکے بلڈ گروپ کی شدید کمی ہے ، آپ سے جتنا جلدی ممکن ہو سکے ہمیں انکے بلڈ گروپ کا بلڈ مہیا کریں ۔مریض کو خون کی اشد ضرورت ہے ۔
ڈاکٹر صاحب میرے جسم سے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیں لیکن میرے دوست کی جان بچا لیں۔۔ میرے پاس اور دوست بھی موجود ہیں جوکہ ثوبان کو خون عطیہ کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں ۔۔
پلیز ڈاکٹر صاحب میرے دوست، میرے بھائی کو بچا لیں ۔۔ تھانیدار انس صاحب اس وقت مریض کو دعاوں کی اشد ضرورت ہے ۔ اگر مریض بچ گیا تو یہ اللہ کا خاص کرم ہو گا ۔۔۔۔
صبح کے پانچ بج رہے ہیں ، میں کیسے اتنی اذیت ناک خبر سب کو بتاوں؟ والدین کی دعاوں میں بہت اثر ہوتا ہے ۔۔یا پھر زینہ کو ٹیکسٹ کر دوں وہ سب کو بتا دے گی ۔۔ انس اسی شش و پنج میں مبتلا نرس کے پاس خون کے عطیے کے لئے پہنچ گیا۔۔۔ انس کے جسم سے نکلتا قطرہ قطرہ خون ثوبان کے جسم میں منتقل ہو رہا تھا ۔۔۔ مزید خون کے لئے باہر جوانوں کی لمبی قطار انتظار میں کھڑی تھی ۔ ہر دلعزیز ثوبان سب کو شدید صدمے میں مبتلا کر چکا تھا ۔۔
“”انس گھامڑ میرے بچے تیری گود میں قلقاریاں ماریں گے تو دیکھ لینا ان شاءاللہ ۔ یار مشن سے پہلے نکاح کے دو بول پڑھوا دے پھر دیکھیں تو اپنے یار کی پرفارمنس ۔ مجرموں کو ناکوں چنے نہ چبوائے تو میرا نام بھی ثوبان عرف ثوبی “نکاحی” نہیں ہے۔۔ اوہ کمینے یہ “ثوبی” تو سمجھ میں آتا ہے لیکن یہ “نکاحی” کا مطلب کیا ہے؟؟ جو پیدائشی نالائق ہوں انکو مخفف حروف کی سمجھ کہاں ۔۔حوالدار سے تھانیدار بن جانے تک بھی تیری ذہانت میں رتی برابر فرق نہیں پڑا۔۔۔ اچھا چل زیادہ پروفیسر نہ بن اور مجھے فورا بتا “نکاحی” کا کیا مطلب ہے؟ اوہ ناکام عاشق اسکا مطلب ہے نکاح شدہ وہ بھی نیا نیا ۔۔۔ ہر وقت لیلیں ہی گھولتے رہنا چول نہ ہو تو ۔۔ اوئے گھامڑ خود کسی پاسے نہیں لگتا تو مجھے بھی نہیں لگنے دے رہا ۔۔ میں تو تکمیل ایمان کے لئے کوشاں ہوں”” ۔ انس کے آنسو بلا روک ٹوک جاری تھے ۔۔ ثوبان کی باتیں ، شرارتیں انس کے دماغ میں گردش کر رہیں تھیں۔۔ میرے مالک میرے یار کو صحت مند لمبی زندگی دے آمین ۔۔۔ یااللہ اپنے والدین کے اکلوتے کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔۔۔۔۔۔۔
“” (ادھ کھلی کلی) زینہ جی اس کے ظاہری حلیے پر مت جایئے گا ! بس یہ سمجھیں کے ثوبان نے آپکو اپنا دل نکال کر ہی دے دیا ہے””۔۔۔”زوجتي أنا أحبك حبا شديدا”حبيبتي” مشن سے واپسی پر اس کا مطلب بتاوں گا ان شاءاللہ ۔۔
زینہ کا دل شدت غم سے چھلنی ہو رہا تھا ، چند دن پہلے بچھڑنے والا زندہ دل مرد مجاہد آج اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا تھا۔۔ ثوبان مجھے “مطلب” جاننا ہے پلیز ٹھیک ہو جائیں، میں آپکے بغیر نہیں رہ پاوں گی ۔۔ میری زندگی آپ کے بغیر ادھوری ہے۔ میں نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا جب سے آپ کا میسج موصول ہوا تھا ۔ اس وقت سے اب تک میری زبان چند لمحوں کے لئے بھی نہیں رکی، میں مسلسل اپنے رب سے آپکی زندگی اور کامیابی کے لئے دعا گو تھی ۔۔ پلیز واپس آ جائیں ثوبان ۔۔۔آپکا وہ تحفہ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے، میں تو ہر روز اس میں آپکی محبت اور خلوص کی خوشبو محسوس کرتی ہوں۔۔ زینہ تو صرف ثوبان کی ہے ۔ زوجہ زینہ تو صرف ثوبان کی ہے ۔۔۔آپکی زندگی میں آنے والی پہلی اور آخری لڑکی”” ۔۔۔۔
رانی آپی سب خیریت ہے آج صبح صبح فون کیا ہے ؟ ہاں علینہ امی یا بابا سے بات کرواو پلیز ۔۔ آپی آپ کو شاید نہیں معلوم کہ کل رات ثوبان بھیا کسی بڑے خطرناک گینگ کو پکڑنے گئے تو وہاں پر انکو گولی یا گولیاں لگ گئیں ہیں اور انکا خون بہت زیادہ بہہ گیا ہے۔ انس بھیا نے سب کو اطلاع دی ہے اور سبھی اسی وقت السلام آباد کےلیئے روانہ ہوگئے تھے ۔۔ ابھی تو ان سب کو پہنچے ہوئے بھی تین گھنٹے گزر چکے ہیں ۔ آپ زینہ آپی کے فون پر کال کر لیں انکا بھی رو رو کر حال برا ہوا ہے ۔۔آپی ثوبان بھیا کی امی تو بار بار غشی میں جا رہیں تھیں ۔ انکو دیکھ کر زینہ آپی نے تھوڑی بہت ہمت پکڑی ہے اور پھر انکو بھی دلاسے دینے میں لگ گئیں ۔۔ اللہ سبحان و تعالی ثوبان بھیا کو صحت دے آمین یا رب العالمین ۔۔ رانی جو خود کل دن سے زیاد کی وجہ سے بےحد پریشان تھی آج ثوبان کے بارے میں اتنی افسردہ خبر سن کر اسکے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔ رانی نے اسی وقت زیاد کے بارے میں نہ بتانے کا فیصلہ کر لیا ، کہ ابھی زیاد کا بتا کر سب کو مذید اذیت میں مبتلا کرنے والی بات ہے اور بابا تو ویسے بھی دل کے مریض ہیں، کیسے دونوں بیٹیوں کا غم برداشت کر پائیں گے ۔۔۔
آپی آپ کوشش کر لیں شاید کوئی فون رسیو کر لے ، میں نے تو بارہا کوشش کی ہے لیکن سوائے زینہ کے ایک ٹیکسٹ کے کوئی بھی فون نہیں اٹھا رہا۔۔
کیا بولا ہے زینہ نے ؟ بس یہی کہ ثوبان بھیا کو ہماری سب کی دعاوں کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔ اچھا علینہ میں زینہ کو فون ملاتی ہوں شاید رسیو کر ہی لے ۔۔۔ جی آپی ۔ “السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکتہ” ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تایا جان میں پاکستان ابھی زیاد کے بارے میں نہیں بتانا چاہتی کیوں کہ ثوبان کو گولی لگی ہے اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، گھر والے سارے اسلام آباد تھے تو میری بات صرف علینہ سے ہی ہو پائی ہے ۔۔اللہ رحم کرے بیٹی ! اللہ ثوبان کو صحت کاملہ عطا کرے آمین ۔ تایا جان میں نے علینہ کو بول دیا تھا کہ ہماری طرف سے صدقہ کریں ۔ مساکین، فقراء کے گھر کھانا پکا کر بجھوا دیں یا پھر سب میں صدقے کی رقم بانٹ دیں۔وہ جو پیسے آپ نے 2 ہفتے پہلے بھجوائے تھے وہ بابا کے اکاونٹ میں ہی پڑے ہیں ۔ اسلام آباد واپسی پہ بابا سب سنبھال لیں گے ان شاءاللہ ۔۔۔ بس بیٹی ثوبان بھی اپنا ہی بچا ہے اس کے لئے بھی دعا کرو ۔۔اللہ پتا نہیں ہماری کس نیکی کے بدلے میں ہمارے بیٹے پر اپنی رحمت کی بارش کر دے ۔۔
“”ایک مسلمان جب اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لئے دعا کرتا ہے تو وہ قبول ہوتی ہے ۔ اس آدمی کے پاس ایک نگران فرشتہ ہوتا ہے ۔ جب بھی آدمی اپنے بھائی کے حق میں دعا کرتا ہے تو نگران فرشتہ آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تجھے بھی ایسا ہی ملے””۔(صحیح مسلم : 2733)
تایا جان ہمیں اللہ سے پرامید رہنا چاہیئے۔۔۔ زیاد ٹھیک ہو جائیں گے ۔۔ ابھی انکے سی-ٹی سکین کی رپورٹ بھی نہیں آئی ہے اور ڈاکٹرز ایم-آر-آئی سکین بھی کرنا چاہتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے زیادہ نقصان نہ ہوا ہو ۔۔ بس دعا کرو بیٹی ایسا ہی ہو ۔۔ تایا کے آنسو تواتر سے جاری تھے ۔ چہرہ شدت غم سے زرد پڑ رہا تھا۔۔۔
رانی کو ایک ہی فکر کھائے جارہی تھی کہ اگر زیاد کا خاتمہ اس کبیرہ گناہ پر ہوگیا تو آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی میں سوائے عذاب کے کچھ بھی نہیں ملنے والا ، قبر کے عذاب کی شدت کا سوچ کر رانی کے آنسو زار و قطار نکل رہے تھے ۔۔
“”(لوگو)تمہارا رب کہتا ہے کہ تم سب مجھ سے دعا کرو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، جو لوگ میری عبادت(دعا) سے تکبر کرتے ہیں(یعنی نہیں مانگتے)وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہونگے۔”(سورہ مومن:60)۔۔۔
“اے لوگو، جو ایمان لائے ہو ! اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔”(سورہ احزاب:41)
“اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پاو۔”(سورہ جمعہ:10)
“”یاد رکھو ! سکون قلب تو اللہ کے ذکر سے ہی ملتا ہے۔””(سورہ رعد: 28)
“”اور جس نے میری یاد سے منہ موڑا اس کے لئے دنیا کی زندگی تنگ ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔””(سورہ طہ: 124)
رانی کے تیزی سے دعا مانگتے لب قریب آتے ڈاکٹر کو دیکھ کر کچھ دیر کے لئے تھم گئے ۔ بےچینی سے آگے بڑھ کر دریافت کرنا چاہا ۔۔ تایا تائی کی بیقراری بھی قابل رحم تھی ۔ ایک بیٹی کا گھر اجڑے 6 مہینے بھی نہ گزرے اور ابھی اکلوتا بیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا۔۔۔
ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ آپ کے بیٹے کو بچا سکیں، ہمارے پاس جتنیے بھی علاج معالجے کی سہولیات میسر ہیں، ہم انکو بروئے کار لائیں گے ۔ شدید چوٹیں چونکہ سر پہ آئیں ہیں جس کی وجہ سے دماغ میں خون کا بہاو بڑھ گیا ہے یا پھر خون کے لوتھڑے بننے کا بھی خطرہ ہے ۔۔ اور شاید پیلویک(کمر کے نیچے، پیڑو ) کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہیں ۔۔ قبل از وقت کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں ۔ فی الحال ہم نے مسٹر زیاد کو ہائی ڈوز(زیادہ مقدار) “مورفین” Morphine پہ رکھا ہوا ہے ۔((درد کش دوا جو سب سے زیادہ تکلیف میں مریضوں کو دی جاتی ہے)) ۔ مسٹر زیاد ابھی وینٹیلیٹر پر ہیں ۔۔ ((سانس لینے والی مشین))۔۔ جب تک تمام سکین کی رپورٹس نہیں آجاتی ہم کوئی رسک نہیں لینا چاہتے ۔۔
ڈاکٹر صاحب میرے بیٹے کو بچا لو ۔اگر دماغ کا آپریشن بہتر ہے تو وہ کر لیں ۔۔ مسٹر سلیم ہم آپکو کسی قسم کی جھوٹی تسلیاں نہیں دینا چاہتے ۔ابھی ایک دم سے آپریشن کرنا شاید زیادہ خطرناک ثابت ہو ، ہمیں جب تک دماغ کے سپیشل لسٹ سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ملتا ، ہم آپریشن نہیں کریں گے ۔۔ اگر آپکے بیٹے کے دماغ کو آکسیجن نہ ملی تو وہ کومہ میں بھی جاسکتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ انکے جسم کے باقی اعضاء کام کرنا چھوڑ دیں گے ۔۔۔
تایا تو بس ادھر ہی ڈھ گئے۔۔ تایا جان ہمت کریں اللہ غفور الرحیم ہے ۔ ہماری استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالے گا ۔ مصیبت کے وقت صبر کرنے پر ہی تو اجر عظیم ہے ۔۔۔ رانی مسلسل تسلیاں دے رہی تھی جب کہ اسکی اپنی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی ۔ یہ وہ رانی تھی جسکی ماں کمرے میں دس چکر لگا کر بھی اسکو نیند سے بیدار کرنے میں ناکام رہتی تھی۔۔ آج یہی رانی دوسروں کے زخموں پر پھاہے رکھنے کا کام سر انجام دے رہی تھی ۔ اب اس رانی کی آنکھ فجر کے لیئے بنا الارم سیٹ کیئے ہی کھل جاتی ہے ۔۔
آخر کار ڈاکٹرز نے قریبی رشتہ داروں کو زیاد کو دیکھنے کی اجازت دے دی ۔۔ رانی کا دھک دھک کرتا دل کچھ لمحوں کے لئے تھم گیا ، زیاد کے چہرے پر سوجن اور نیلاہٹ اس کے نقوش کو خوفناک بنا رہی تھی ۔ رانی چند لمحوں کے لئے خوفزدہ ہو گئی ۔۔ پھر ہمت کر کے آگے بڑھی ۔۔ مشینوں اور نالیوں میں جکڑے زیاد کو دیکھ کر نمکین پانی بے اختیار امڈنے لگا ۔۔۔
زیاد پتا نہیں مجھے رانی کو سن سکتے ہو یا نہیں۔ پلیز زیاد اپنے گناہوں سے توبہ کر لو۔۔۔ میں نہیں چاہتی زیاد کا خاتمہ شر والا ہو ۔۔ زیاد کلمہ توحید پڑھو ۔”لا الہ الا اللہ” ۔۔۔ ((قارئین کرام کی معلومات کے لئے یہ کلمہ ایسا ہے کہ آپ کو اپنے ہونٹوں کو جنبش دینے کی ضرورت نہیں پڑتی چونکہ قریب المرگ انسان اپنے ہونٹ ہلانے کی صلاحیت کھو دیتا ہے لیکن زبان ہلانے کی صلاحیت باقی رہتی ہے۔الحمداللہ))
“”تم میں سے جو مر رہا ہو اسے “لا الہ الا اللہ” کی تلقین کیا کرو ۔ جس نے مرتے وقت “لا الہ الا اللہ” کہا وہ بالاخر جنت میں چلا جائے گا، خواہ اس سے پہلے کتنی ہی سزا ملے۔””(صحیح ابن حبان:3004)
رانی زیاد کے دائیں کان کے قریب دھیمے لہجے میں اپنی اس آخری کاوش کو کامیاب بنانے میں کوشاں تھی ۔۔ رانی کی استغفار اور کلمے کی تکرار جاری تھی کہ ایک دم زیاد کی سانس اکھڑنا شروع ہو گئی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
