Ramaad Al Hubb by Sara Shah readelle50009 Episode 25
Rate this Novel
Episode 25
اسے ہوش آیا تو اسنے خود کو ہسپتال کے بیڈ پر پایا۔۔۔۔دائیں ہاتھ کی پشت پر کنولہ لگا ہوا تھا۔۔۔نظریں چاروں طرف دوڑائیں تو جھماکے سے وہ دردناک منظر ذہن کے پردے پر ابھرا۔۔۔۔جہاں اسکی زندگی اسکی آنکھوں کے سامنے موت کی آغوش میں گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
کانوں میں گونجتی چیخوں کی آواز پر وہ کرنٹ کھا کر اٹھ بیٹھا۔۔۔۔سر میں درد کی ٹیسیں اٹھیں جس نے اسے لب بھینچنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔سوئی کھینچ کر نکالتے وہ سرعت سے بیڈ سے اترا۔۔۔خون بھل بھل ہاتھ سے بہا۔۔۔۔۔۔جوتے ڈھونڈنے کے بجائے وہ ننگے پائوں باہر کی طرف لپکا۔۔لیکن اس سے پہلے دروازہ کھولتا رجب صاحب اندر داخل ہوئے۔۔۔۔۔وہ بے ساختہ ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
اسے یوں ہراساں دیکھ کر وہ چونک گئے۔۔۔۔اسکے چہرے پر اتنی وخشت چھائی ہوئی تھی کہ ایک پل کے لیے انکا دل بھی رکا۔۔۔۔۔
” اسامہ؟؟۔۔۔کیا بات ہے؟؟ ایسے کیوں کھڑے ہو؟؟۔۔اور یہ ہاتھ کو کیا کیا ہے۔۔۔؟؟؟۔”
اسکے قریب آتے وہ فکرمندی سے بولے۔۔۔۔۔
” چاچو۔۔۔۔چاچو زری ۔۔۔زری تھی وہاں ۔۔۔وہا۔۔۔وہاں جو ایکسیڈنٹ ہوا۔۔۔۔تھا وہ وہیں تھی۔۔۔۔ککک۔۔کہاں ہے وہ؟؟۔۔۔۔”
انکا ہاتھ تھامتے وہ بے چینی سے بولا۔۔۔چہرے پر ہوائیاں اڑ رہیں تھیں۔۔۔۔اور وہ تو اسکے منہ برسوں بعد چاچو سن کر ہی ساکت ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔اسکے زرد چہرے کو دیکھتے انکی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔
” آ۔۔۔آپ آپ سن نہیں رہے۔۔۔ممم۔میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔۔۔وہ وہیں تھی۔۔۔اب کک۔۔کہاں ہے۔۔۔مم۔۔مجھے دیکھنا ہے اسے۔۔۔۔۔”
انکے ہاتھ جھنجھوڑنے وہ بپھر کر چیخا۔۔۔دل کسی انہونی کا پتا دے رہا تھا۔۔۔۔۔تبھی تو سیاہ آنکھوں میں اضطراب تھا۔۔۔۔۔۔اسکی بے چینی اور بد حواسی پر وہ چونک گئے۔۔۔۔۔۔
” وہاں جو ایکسیڈنٹ ہوا تھا اسکا شکار ہونے والی لڑکی موقع پر ہی جان بحق ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
” نووووو۔۔۔انف چاچو۔۔۔انف۔۔۔۔ “
انھیں جو اطلاع ملی تھی وہ وہی کہہ رہے تھے کہ انکی بات سن کر وہ کسی آتش فشاں کی طرح پھٹا ۔۔۔۔خلق کے بل غراتے وہ انکے ہاتھ جھٹکتا پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔۔۔سیاہ آنکھوں میں طوفان سا اٹھا۔۔۔اور دل وہ سینے کی دیواریں توڑتا خلق میں آ پھنسا تھا۔۔۔۔۔پسینہ ہر مسام سے پھوٹتا اسے پل میں پانی کر گیا۔۔۔۔۔۔اور سانسیں ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی اسکا گلا دبا رہا ہو۔۔۔رکتی سانسوں سمیت وہ ساکت نظروں سے انھیں دیکھ رہا تھا۔۔آنکھیں پل میں لال انگارہ ہوئیں۔۔۔۔ہاتھ سے بہتا جون فرش رنگ رہا تھا لیکن وہ اس سب سے بے نیاز تھا۔۔۔۔
” اسامہ؟؟؟ واٹس رونگ مائی سن؟؟ کیوں ایسے بیہیو کر رہے ہو؟؟ ۔۔”
اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے وہ فکرمند ہوئے۔۔اسکی حالت تھی ہی ایسی کہ انکا دل بھی انہونی کے احساس تلے دبا دھڑک اٹھا۔۔۔۔۔۔وہ آفس میں تھے جب انھیں اسکے ایکسیڈنٹ کی خبر ملی۔۔۔لیکن جب وہ ہوسپٹل پہنچے تب پتا چلا کہ وہ ایکسیڈنٹ کا شکار نہیں ہوا تھا بلکہ وہ جائے وقوع سے بہت پیچھے تھا۔۔۔۔۔۔اور یہ بھی پتا چلا کہ ایکسیڈنٹ کا شکار ہونے والی لڑکی مر چکی تھی۔۔۔۔۔۔اب اسکا اس لڑکی کے لیے تڑپنا انھیں چونکا رہا تھا۔۔۔۔۔
” نن۔۔نہیں کہہ دیں۔۔۔وہ۔۔وہ زندہ ہے۔۔۔وہ مر کیسے سکتی ہے؟؟؟۔۔۔۔۔وہ مجھے چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہے چاچو؟۔۔۔ ۔۔۔۔”
لرزتے وجود اور کپکپاتے لہجے میں وہ بے یقینی سے بولا۔۔۔ امید بھری سرخ آنکھوں سے انھیں دیکھتے وہ سوالیہ ہوا۔۔جیسے وہ کہہ دیں گے کہ وہ زندہ ہے۔۔اسکی تڑپ دیکھتے وہ چپ رہ گئے ۔۔۔۔کیا جواب دیتے؟؟؟۔۔۔ انکا خاموش چہرہ دیکھتے اسکا دل بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔ساکت نظروں سے انھیں دیکھتے اسنے بے ساختہ سر نفی میں ہلایا۔۔۔
” کک۔۔۔کہاں لے کر گئے تھے وہ اسے؟؟؟۔مم۔۔مجھے وہاں جانا ہے ابھی۔۔۔چلیں۔۔۔۔۔”
بے یقینی سے بولتے وہ باہر کی طرف لپکا۔۔خون بہاتے ہاتھ کو اپنی شرٹ سے رگڑتے اسنے اپنی رفتار تیز کی۔۔سانس سینے میں اٹک رہی تھی۔۔اور آنکھوں میں وہ معصوم چہرہ رقص کر رہا تھا۔۔۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے جان ٹانگوں سے ختم ہو رہی تھی۔۔۔تبھی تو اسکی چال لڑکھڑاہٹ کا شکار تھی۔۔۔۔۔اور پیچھے اسے یوں بےحال ہو کر بھاگتے دیکھ رجب صاحب بھی نکلے۔۔۔۔۔وہ ننگے پائوں تیزی سے بھاگتا پارکنگ ایریا میں پہنچا ۔۔۔بے چینی نظریں دوڑاتے اسنے اپنی کار تلاشنی چاہی مگر ناکامی ہوئی۔۔۔۔اسے تو یہ بھی یاد نہیں آرہا تھا کہ اسکی گاڑی تھی کہاں؟؟؟۔۔۔
” اسامہ؟؟ بیٹا کہاں جا رہے ہو؟؟۔۔۔”
اسکے پیچھے آتے رجب صاحب پھولی سانسوں سے بولے۔۔۔انکی آواز سن کر وہ سرعت سے پلٹا۔۔۔۔۔
” چاچو۔۔۔وہ زری۔۔زری جہاں ہے وہیں۔۔۔وہیں جانا ہے۔۔۔مم۔۔مجھے جانا ہے۔۔۔۔”
سفید ہوتے چہرے سمیت وہ تیزی سے بولا۔۔۔اسکی آنکھوں میں چھائی مردنی اور وحشت رجب صاحب کو بہت کچھ سمجھا گئی۔۔
” رکیں۔۔۔۔میں لے چلتا ہوں آپکو۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ دائیں طرف بھاگتا وہ تیزی سے بولتے ایک نظر اسکے ننگے پائوں دیکھتے اپنی کار کی طرف بڑھے۔۔۔۔ اسے جوتوں کا کہنا بے کار تھا کہ وہ اس وقت کچھ بھی سننے کی کنڈیشن میں نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
اسکے بیٹھتے ہی انکا رخ سرکاری ہسپتال کی طرف تھا۔۔گارڈز کا دو گاڑیاں انکے پیچھے ہی تھیں۔۔۔ایک نظر اسے دیکھتے انھوں نے رفتار بڑھائی کیونکہ وہ لڑکی وہیں لے جائی گئی تھی۔۔۔فرنٹ سیٹ پر بیٹھے اسامہ کا دل رک رک کر چل رہا تھا۔۔۔۔۔۔کپکپاتے بدن سمیت لرزتے لبوں پر فریاد تھی تو بس یہی کہ وہ زندہ ہو۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے جو اطلاع دی تھی اسنے ابیہا کے پیروں تلے زمین کھینچ لی۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا تھا؟؟۔۔وہ بھلا کیسے انھیں چھوڑ کر جا سکتیں تھیں؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔ابھی تو زاہدہ بیگم کا زخم ہرا تھا کہ زری نیا درد دے گئی۔۔۔ولید الگ بے حال وقاص کے سینے سے لگ رو رہا تھا۔۔۔اس معصوم پر تو دہری قیامتیں ٹوٹیں تھیں۔۔۔۔۔۔
ماموں مامی اور فاریہ بھی پہنچ چکے تھے۔۔لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ایکسیڈنٹ اتنی شدت سے ہوا تھا کہ زری کا چہرہ ناقابل شناخت ہو چکا تھا۔۔۔۔۔اسکی چادر اور پرس سب اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ مرنے والی زرنین ریحان تھی۔۔۔۔۔مگر ابیہا کا دل اب بھی یہ سب ماننے سے انکاری تھا۔۔۔۔۔۔وہاں ایکسیڈنٹ میں ایک لڑکی اور ایک لڑکا بھی زخمی ہوئے تھے مگر وہ کسی اور ہسپتال میں ایڈمٹ تھے۔۔۔اور اگر یہاں تھے بھی تو اسے اس سب سے غرض نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اسی کی تو دنیا اندھیر ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔
چیخ چیخ کر روتے وہ اپنے نقصان پر ماتم کر رہی تھی۔۔۔کہ اب مداوہ ممکن ہی کہاں تھا۔۔۔۔۔اب کہاں ممکن تھا ان پرشفیق چہروں کو دیکھنا جو کبھی زیست کا حاصل ہوا کرتے تھے۔۔۔۔
” بیا۔۔۔ہئے بس صبر کرو۔۔۔۔”
ولید کو رابعہ بیگم کے حوالے کرتے وہ اسکی طرف بڑھا جو تڑپ تڑپ کر روتی اسے عجیب سے احساس سے دوچار کر گئی تھی۔۔۔۔۔اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے وہ دھیرے سے بولا لیکن وہ مڑ کر اسی کے سینے سے لگتی بکھرتی چلی گئی۔۔۔۔ نرم گرم وجود کا لمس بلکل نیا تھا وقاص کے لیے تبھی وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں کھڑا رہ گیا۔۔۔اپنے سینے پر پھیلتی نمی اسے بے چین کر گئی۔۔ اسکے گرد اپنے مضبوط ہاتھوں کا حصار کھینچتے وہ اسے خود میں بھینچ گیا۔۔۔۔۔۔
” بس چپ کر جائو۔۔۔صبر رکھو ۔۔۔زری کو تکلیف ہو گی۔۔۔۔۔۔”
اسکی کمر سہلاتے وہ دھیرے سے بولا۔۔لہجہ گھمبیر اور نرم تھا ۔۔۔اور ایسا پہلی بار ہوا تھاکہ اسے کسی کی تکلیف سے اذیت محسوس ہو۔۔۔۔ٹھوڑی اسکے سر پر ٹکاتے ایک پل کے لیے زری کا چہرہ ذہن کے پردے پر ابھرا۔۔۔جس پر اسکی آنکھوں میں تاسف سا ابھرا۔۔۔۔۔۔ ابیہا کی اذیت محسوس کرتے وہ سختی سے لب بھینچ گیا۔۔۔۔۔
” زری۔۔۔آئی میں زرنین ریحان کس وارڈ میں ہیں؟؟؟۔۔۔۔وہ ۔۔وہ ایکسیڈنٹ پیشنٹ تھی۔۔۔کک۔۔۔کہاں ہیں۔۔؟؟۔”
گاڑی کے رکتے ہی وہ ہوا کے دوش پر اڑتا ریسپشن پر پہنچا۔۔۔۔اسکی بات اور اسکے خلیے کو دیکھتے ریسپشنسٹ نے اسکے پیچھے دیکھا جہاں رجب صاحب موجود تھے۔۔۔تبھی سرعت سے اسے روم نمبر بتایا۔۔۔۔۔وہ بنا پیچھے دیکھے تیزی سے اوپر بھاگا۔۔۔ اسکی بد حواسی پر رجب صاحب نے بخش اور گارڈز کو اشارہ کیا جو سرعت سے اسکے پیچھے لپکے۔۔۔۔
وہ پاگلوں کی طرح ہر وارڈ کا نمبر دیکھتا اسے سے پہلے روم نمبر 64 تک پہنچتا پیچھے سے آتے بخش نے اسے تھام لیا۔۔۔
” واٹ دا ہیل۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔”
بل کھا کر مڑتے وہ طیش سے غرایا۔۔۔جھٹپٹا کر خود کو چھڑوانا چاہا لیکن اسکے اور دو گاڑڈز کی مضبوط گرفت سے خود کو آزاد نہیں کر پایا۔۔۔۔۔
” بخش۔۔۔چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔لیو می۔۔یو ڈیم فول ۔۔۔چھوڑوووو۔۔۔۔”
خلق کے بل چیختے وہ کاریڈور میں موجود کئی لوگوں کو متوجہ کر گیا ۔۔۔۔۔اسکے خلیے اور دگرگوں حالت کو سب نے ترحم بھری نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔۔لیکن بخش رجب صاحب کو دیکھتے اسے چھوڑنے کی جرات نہیں کر پایا۔۔جو انکے قریب آکر رکے تھے۔۔۔۔
” ریلیکس اسامہ۔۔۔تمہارا وہاں جانا مناسب نہیں ہے۔۔۔اور اس حال میں تو بلکل نہیں اسلیے چپ چاپ یہیں رکو میں ابھی آتا ہوں۔۔۔۔۔”
وہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے رسانیت سے بولتے اسامہ کا پارا ہائی کر گئے۔۔۔وہ خونخوار نظروں سے انھیں دیکھتے غرا اٹھا۔۔۔۔
” آپ مجھے روک نہیں سکتے چاچو۔۔۔۔کوئی بھی مجھے اس تک پہنچنے سے روک نہیں سکتا۔۔۔سنا آپ نے!!!!۔۔سنا!!۔۔۔۔۔ذوالنون اسامہ کو دنیا کی کوئی بھی طاقت میری نیناں سے مجھے دور نہیں کر سکتی۔۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔”
وہ سرخ آنکھوں سے غراتا پوری جان لگا کر خود کو آزاد کرواتا تیزی سے آگے بھاگا۔۔۔ گارڈز اس سے پہلے اسکے پیچھے لپکتے رجب صاحب کے اشارے پر تھم گئے۔۔۔۔۔۔وہ بخش کو اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر اس طرف بڑھے جہاں اسامہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
” آصف اب آپ اپنی بھانجی کی باڈی لے جا سکتے ہیں۔۔۔”
ڈاکٹر خلیل باہر آئے اور آصف صاحب سے بولے جو خاموشی سے سر ہلا گئے تھے۔۔۔۔خلیل صاحب انکے دوست تھے تبھی معاملہ نمٹ گیا تھا۔۔ورنہ پولیس کیس بن جاتا اور رابعہ نہیں چاہتیں تھیں کہ کوئی ایشو ہو۔۔اسلیے وہ خاموشی سے سارا معامہ ختم کر چکے تھے۔۔۔۔۔۔باقی گھر والے جا چکے تھے صرف وہی وہاں موجود تھے تاکہ باڈی لے جا سکیں۔۔۔وقاص کو انھوں نے گھر بھیجا تھا تاکہ سارے معاملات سنبھال لے۔۔۔۔۔
ان کی بات نے جہاں آصف صاحب کو گہرا سانس لینے پر مجبور کیا وہیں انکی طرف آتا اسامہ ابراہیم کھڑے قد سے گرا تھا۔۔۔دل کی دھڑکن رک سی گئی۔۔۔۔گھٹنوں کے بل گرتے وہ ساکت نظروں سے آصف صاحب کو دیکھتا رہ گیا جو اندر وارڈ میں گئے تھے۔۔۔۔۔
اسکے پیچھے آتے رجب صاحب اسے یوں بے جان ہوتا دیکھ سرعت سے اسکی طرف بڑھے۔۔جو سامنے موجود دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” اسامہ۔۔۔کیا ہوا بیٹا؟؟۔۔۔ہوش کرو کیا ہوا ہے؟؟۔۔۔”
وہ اسکی حالت پر تڑپ اٹھے۔۔۔۔انکے سوال پر اسنے انکی طرف دیکھا۔۔۔۔اسکی نظروں میں اتنی وحشت تھی جس نے انکا دل چیر دیا۔۔۔۔۔۔۔
” اسامہ؟؟؟؟۔۔۔۔۔”
وہ اسکے خطرناک حد تک سفید ہوتے چہرے کو دیکھتے بمشکل بول پائے۔۔۔۔۔بخش بھی اپنے صاحب کی ایسی حالت دیکھتا ساکت تھا۔۔۔۔۔۔
” وہ چلی گئی چاچو!!۔۔۔۔۔”
اسکے لب دھیرے سے پھڑپھڑائے۔۔۔۔لہجہ کھوکھلا اور بے جان تھا۔۔۔اور دل وہ سینے کی دیواروں سے ٹکراتا بے جان ہوتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔اسکی سرخ نم آنکھوں میں دیکھتے رجب صاحب سن رہ گئے۔۔۔کتنی اذیت اور تڑپ تھی اسکی آنکھوں میں جس نے انکا دل کاٹ دیا۔۔۔۔۔۔
فرش پر لٹی پٹی حالت میں بیٹھا وہ ذوالنون اسامہ تھا جو چٹان کی مانند مضبوط تھا ۔۔۔لیکن آج بھربھری مٹی کی مانند بکھرا پڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔آنکھوں میں خالی پن تھا جیسے سب کچھ ختم ہو گیا ہو۔۔اور اسامہ ابراپیم کے لیے سب ختم ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
اسکی بے قراری اور تڑپ اس مقام پر آکر ختم ہو گئی تھی جہاں اسکا اپنا دل نوچ کر نکال لیا گیا تھا۔۔۔۔اور نکالنے والا ہاتھ اسکا اپنا تھا۔۔۔۔۔۔یہی اذیت اسے خاک کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اسے سے پہلے کچھ بول پاتے سٹریچر کی پہیوں کی آواز پر وہ تڑپ کر سیدھا ہوا۔۔۔۔سرعت سے اٹھتے وہ آگے بڑھتا کہ وہ اسے تھام گئے۔۔۔۔۔
” نہیں بیٹا۔۔۔۔یہ مناسب نہیں ہے۔۔۔۔۔اسکے ساتھ اسکے والد موجود ہیں۔۔۔۔رک جائو۔۔۔”
آصف صاحب کو سٹریچر کے ساتھ چلتا دیکھ وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولے۔۔۔انکی بات نے اسامہ کے تڑپتے وجود کو سن کر دیا۔۔۔۔
” سب کچھ ختم ہو گیا صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔تمہاری وجہ سے میری جنت اجڑ گئی ذوالنون اسامہ۔۔۔۔۔”
ایک روتی چیختی آواز اسکی سماعتوں میں گونجتی اسے پتھر کے مجسمے میں ڈھال گئی۔۔۔۔۔وہ ساکت نظروں سے سٹریچر پر موجود سفید چادر میں ڈھکے وجود کو دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔جو اسکے سامنے سے ہوتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔۔۔۔۔۔اور “ذوالنون اسامہ ابراہیم جبیل “زندگی کے اس مقام پر ہارتا خاک ہو گیا۔۔۔۔
کیا تھا اس سے بڑھ کوئی بد نصیب؟؟؟؟جس نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا عشق لاحاصل بنا دیا۔۔۔۔
اب تمام عمر اس چہرے کو دیکھنا ناممکن تھا جو اسکی زیست کا حاصل تھا۔۔سیاہ آنکھیں پل میں بھیگی تھیں۔۔۔۔کیونکہ ایسا اسنے خود کیا تھا۔۔۔۔کیوں؟؟؟؟صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے۔۔۔۔۔احساس زیاں اسکی رگیں کاٹتا اسے کھوکھلا کرتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔تبھی تو ذہن نے ساتھ دینے سے انکار کیا اور حواس اسکا ساتھ چھوڑتے اسے بے جان کرگئے۔۔۔۔۔رجب صاحب کے ہاتھوں سے پھسلتا اسکا مضبوط توانا وجود گویا بلندی سے گرتا پاش پاش ہوتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔اتنے ٹکڑوں میں بٹا جسے سمیٹنے میں اسکی انگلیاں زخمی ہو جاتیں لیکن سمٹنا ممکن نا تھا اور ان کرچیوں کو سمیٹنے میں اسے عمر لگ جاتی۔۔۔۔۔
عالیشان کمرے کی ہر چیز تہس نہس تھی بیڈ شیٹ فرش پر پڑی تھی کشنز جگہ جگہ پھیلے تھے ڈریسنگ کا سامان بکھرا پڑا تھا اور شیشہ بری طرح ٹوٹا ہوا تھا۔۔غرضیکہ ہر چیز اپنی جگہ سے ہلی ہوئی تھی ایسا لگ رہا تھا کمرے میں کوئی طوفان آیا ہو۔اور جس نے وہ طوفان اٹھایا تھا وہ ڈریسنگ سے ٹیک لگائے نیچے زمین پر اکڑوں بیٹھا تھا۔۔۔
سر جھکا ہوا تھا جس سے اسکے سیاہ بال ماتھے پر بندھی پٹی میں چھپے ہوئے تھے۔۔گھٹنوں کے گرد لپٹے ہاتھوں میں ایک بری طرح زخمی تھا خون بھل بھل بہتا فرش پر گر رہا تھا۔۔۔مگر وہ اس زخم سے بے نیاز تھا چہرے پر اذیت کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔۔۔ سر جھکائے یک ٹک وہ فرش پر نقش ونگار بناتے اپنے ہی خون کو گھور رہا تھا۔۔۔
سیاہ آنکھوں میں غضب کی سرخیاں تھیں۔۔ایک جنون سا ان میں ہلکورے لے رہا تھا۔۔بے تحاشہ سرخ و سفید رنگ،خوبصورت سیاہ آنکھیں جن کی سیاہی رات کے اندھیرے کو مات دے رہی تھی،کھڑی مغرور ناک،ہلکی شیو اور گھنی مونچھوں تلے دبے عنابی لب بھینچے ہوئے تھے۔۔۔جبڑے کسے وہ گہرے سانس لیتا کسی ان دیکھی اذیت کے حصار میں تھا۔۔گرے شرٹ کے ایک دو کے سوا تمام بٹن کھلے یا ٹوٹے ہوئے تھے اور اس سے جھانکتا مضبوط سینہ اور وہاں گندھا وہ ٹیٹو جو بائیں کان کے پیچھے سے شروع ہوتا سینے کے نیچے تک پھیلا ایک الگ ہی منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔سیاہ جینز ٹحنوں تک فولڈ تھی جس سے اسکے سپید ننگے پائوں واضح تھے۔۔۔
اس پورے بکھرے کمرے میں واحد وہ وجود تھا جو خدا کا شاہکار معلوم ہو رہا تھا۔۔رب نے بےشک اسے فرصت سے بنایا تھا کہ دیکھنے والی آنکھ ٹھٹھک کر رک ضرور جاتی تھی۔۔۔اور ایک زمانے میں اپنی اس وجاہت پر اسے غرور بھی تھا مگر آج وہ اپنی ہستی کے غرور سمیت زمین بوس ہوا تھا کہ اٹھنے کی طاقت بچی ہی نہیں تھی۔۔۔۔
اپنے خون کو دیکھتے اشتعال کا ایک ابال تھا جو اسکی رگ و پے میں اٹھا تھا۔۔۔جھٹکے سے اٹھتے اسنے زور سے ایک اور مکہ ٹوٹے شیشہ پر دے مارا کرچیاں بکھریں تھیں اور اسکا زخمی ہاتھ مزید زخمی کر گئیں۔۔۔خون پوری رفتار سے بہا تھا مگر وہ رکے بغیر پے در پے وار کرتا چلا گیا۔۔۔۔
” نہیںںںںں۔۔۔۔۔۔ نہیں جا سکتی وہ۔۔مجھے چھوڑ کر وہ کیسے جا سکتی ہے۔۔۔۔۔؟؟۔۔۔نوووووو۔۔۔۔”
ٹوٹی کرچیوں میں اپنا عکس دیکھتے وہ پوری طاقت سے چلایا کہ دیواریں جھنجھنا اٹھیں ۔۔۔۔سیاہ پلکیں بے اختیار نم ہوئیں جھنوں نے اسکا فشار خون مزید بڑھا دیا ۔۔۔
” کیسے جا سکتی ہے وہ مجھ سے دور۔۔۔؟؟ کیسے۔۔۔۔؟؟ میں جانے ہی نہیں دوں گا۔۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔نیوررر۔”
بلند آواز میں چیختے کئی آنسو اسکی سیاہ آنکھوں سے بہتے گالوں پر لڑک آئے اور یہ تھی اسکی بے بسی کی انتہا۔۔۔۔گھٹنوں کے بل گرتے وہ چیخ چیخ کر روتا چلا گیا۔۔۔کیسی اذیت تھی یہ۔۔۔۔جس سے رہائی اب تمام عمر ممکن نہیں تھی۔۔۔ وہ کیسے جہنم میں پھینک گئی تھی۔۔۔؟؟؟ جس کی دہک سے اسکا پور پور جل رہا تھا۔۔
ہوش میں آتے ہی اسے پتا چلا کہ اسکی ہستی اجڑے دو دن بیت چکے تھے اسکی نیناں کو اسے چھوڑے دو دن بیت چکے تھے۔۔۔۔۔۔دل زخمی ہوتا ساکت ہو چکا تھا۔۔۔۔۔تبھی تو تب سے وہ بن پانی کی مچھلی کی مانند تڑپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔مگر اذیت تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
” تم دہکتے صحرا میں ننگے پائوں بھی سفر کرو گے نا تب مجھے پا نہیں سکو گے۔۔۔۔بے مراد رہو گے تڑپو گے تمممم۔۔۔۔۔۔۔”
ایک روتی چیختی آواز نے اسکی سماعتوں میں سیسہ انڈیلا تھا جس کی تپش نے اسکا پورا وجود جلا کر راکھ کر دیا ۔۔۔۔
” نہیں پلیز نہیں۔۔۔۔۔یہ مت کرو لوٹ آئو پلیز۔۔۔۔۔۔ورنہ میں مر جائوں گا ۔۔۔۔مت دو اتنی بڑی سزا لوٹ آئو پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔”
کانوں پر ہاتھ رکھتے وہ اذیت سے چیخا تھا لہجے میں ٹوٹے کانچ کی چھبن تھی۔۔۔۔۔
” میں مر جائوں گا تمہارے بنا نیناں ۔۔۔۔میں زندہ نہیں رہ سکتا پلیز لوٹ آئو۔۔۔آئی کانٹ لیو ود آئوٹ یو پلیز کم بیک۔۔۔۔”
مدھم آواز میں بڑبڑاتے اسکی اذیت عروج پر تھی۔۔۔سیاہ آنکھوں کی نمی بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔۔لہجے میں پچھتاووں کے ناگ تھے جو پل پل ڈستے اسے موت کے گھاٹ اتار گئے۔۔۔۔۔
” پلیز نیناں واپس آ جائو ۔۔۔اسامہ مر جائے گا جاناں۔۔۔پلیز۔۔ “
چیخ چیخ کر روتے وہ اپنی محبت پر ماتم کر رہا تھا جو لاحاصل ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
” مم۔۔مجھے اس سے ملنا ہے ہاں۔۔۔ابھی ۔۔ابھی جانا ہے۔۔۔۔”
یکلخت وہ ساکت ہوتا عجیب سے لہجے میں بولتا اپنا چہرہ صاف کرتا اٹھا۔۔۔۔بنا اپنے زخموں کی پرواہ کیے وہ سرعت سے پورچ کی طرف بڑھا۔۔۔جہاں گارڈز اور ڈرائیور مستعد تھے۔۔۔۔۔
” گاڑی کی چابی دو مجھے ۔۔۔”
وہ آتے ہی سختی سے بولا کہ وہ چونک گئے۔۔۔رجب صاحب نے اسکے کہیں بھی آنے جانے سے سختی سے منع کیا تھا۔۔تبھی بخش آگے بڑھا۔۔۔۔
” سر بڑے سر کا آرڈر ہے آپ کہیں نہیں جا سکتے۔۔۔۔۔”
وہ رسانیت سے بولا مگر اسامہ کا پارہ منٹوں میں ہائی ہوا۔۔۔۔۔اسے گریبان سے پکڑتے وہ خلق کے بل غراتا ان سب کو ساکت کر گیا۔۔۔۔۔۔
” تم روکو گے مجھے؟؟۔۔۔ہاں تم روکو گے روک کر دیکھائو۔۔۔۔۔میں اپنی جان لے لوں گا بخش ۔۔۔مجھے جانے دو۔۔۔”
اسکے ہولسٹر سے پسٹل نکال کر خود پر تانتے وہ جنونی ہو کر غرایا۔۔۔۔سبھی اسکے ہاتھ میں گن دیکھ کر پسپا ہوئے۔۔۔۔۔۔سرعت سے پیچھے ہٹتے وہ اسے جاتا دیکھتے رہ گئے ۔۔۔۔جو گاڑی ہوا میں اڑاتا پیچھے دھول چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔۔
ٹرین وہ سب پیچھے چھوڑ رہی تھی جو اسکا سب کچھ تھا۔۔جہاں اسکی یادیں اسکی جنت بستی تھی۔۔۔۔۔اب وہاں اسکے لیے بس صرف خاک تھی۔۔۔۔اور جو بچے تھے ان کے لیے وہ مر چکی تھی۔۔۔۔۔۔آنکھوں سے اشک رواں ہوتے اسکا چہرہ بھگو رہے تھے۔۔۔تبھی اسکے کندھے پر ایک شفیق لمس ابھرا۔۔۔۔وہ تڑپ کر پلٹتے ان کے سینے سے لگتی روتی چلی گئی۔۔۔۔۔اس سب کے لیے جو اسکی بربادی کے زمہدار تھے۔۔۔۔۔
دور کہیں اسکا مجرم بے قرار سا اسے ملنے کے مچل رہا تھا۔۔۔لیکن اب جدائی لکھی جا چکی تھی۔۔۔۔۔اور اسکا اپنا دل اس چیز کی گواہی دیتا اسے تڑپا رہا تھا۔۔۔آنکھوں میں اترتی دھند نے اسکی بصارت کمزور کی۔۔۔۔اور یہی غفلت کا وہ لمحہ تھا جس نے اسامہ ابراہیم کی زندگی کو نگل لیا۔۔۔۔اندھیرے اسکی زندگی پر چھاتے اسے بینائی سے محروم کر گئے۔۔۔۔۔
میں وہ بے یارومدگار پڑا تھا ۔۔۔۔خون اسکے وجود سے بہتا سڑک رنگ رہا تھا۔۔۔لیکن وہ نیلے آسامن پر نظریں ٹکائے اسکی دید کے لیے تڑپ رہا تھا جو دور بہت دور چلی گئی تھی۔۔۔۔درد تھا کہ جان نکال رہا تھا لیکن بہتی آنکھوں ایک ہی تڑپ تھی۔۔۔۔ صرف اسے دیکھنے کی طلب تھی جسے اسنے اپنے ہاتھوں سے زندہ زمین میں گاڑا تھا۔۔۔۔۔۔
” نیناں۔۔۔۔۔ آہ!!!۔۔۔”
رکتی سانسوں سمیت وہ بمشکل بولا۔۔۔اور پھر خاموشی چھا گئی۔۔بند ہوتی سیاہ آنکھوں میں اسکا عکس پانی بن کر بہتا اسکی کنپٹی میں جذب ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی خاموشی جانے اسکی زندگی کی تمام خوشیوں کو نگل لیا۔۔۔۔اور اسے ایسے دہکتے صحرا میں لا پھینکا جہاں سے سے نکلنے میں صدیاں لگ جانی تھیں۔۔۔۔۔ٹریفک کے قیامت خیز شور م
